Articles by "Sharad Pawar"
Showing posts with label Sharad Pawar. Show all posts

کیا NCP کے فیصلے سے شرد پوار ناراض ہیں؟ کیا این سی پی اندرونی خلفشار کا شکار؟؟

مہاراشٹر کی سیاست میں ایک بار پھر ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (NCP) کی اہم میٹنگ سے قبل ہی سنیترہ پوار کے نائب وزیر اعلیٰ بننے کی قیاس آرائیوں نے زور پکڑ لیا ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ تاثر گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ پارٹی کے اندر فیصلہ تقریباً طے ہو چکا ہے اور محض باضابطہ اعلان باقی ہے۔

اس پیش رفت کے درمیان سب سے بڑا سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ کیا اس فیصلے سے NCP کے سینئر رہنما اور پارٹی کے بانی شرد پوار ناخوش ہیں؟ ذرائع کے مطابق، سنیترہ پوار کے نام پر پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پارٹی کی اعلیٰ سطحی میٹنگ ابھی ہونا باقی ہے، جسے اندرونی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق، اجیت پوار کے انتقال کے بعد پارٹی اور حکومت دونوں سطحوں پر قیادت کے خلا کو پُر کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اسی سلسلے میں سنیترہ پوار کو نائب وزیر اعلیٰ کی ذمہ داری سونپنے پر غور کیا گیا اور مبینہ طور پر میٹنگ سے پہلے ہی اس پر اتفاق رائے قائم کر لیا گیا۔

دوسری جانب، شرد پوار کی خاموشی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر شرد پوار واقعی اس فیصلے سے متفق نہیں ہیں تو آنے والے دنوں میں NCP کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آ سکتے ہیں۔ فی الحال پارٹی کی آئندہ میٹنگ اور قیادت سے متعلق باضابطہ اعلان پر سب کی نظریں ٹکی ہوئی ہیں۔

مہایوتی کو برتری، ایم وی اے 45 سے بھی کم پر سمٹی

مہاراشٹر میں منعقدہ نگر پریشد (میونسپل کونسل) انتخابات کے نتائج سامنے آ گئے ہیں، جن میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے۔ نتائج کے مطابق حکمراں اتحاد مہایوتی نے مجموعی طور پر واضح برتری حاصل کی ہے، جبکہ اپوزیشن اتحاد مہا وکاس اگھاڑی (MVA) کی کارکردگی توقعات سے کم رہی اور اس کی نشستیں 45 کے ہندسے سے بھی نیچے رہیں۔

یہ بھی پڑھیں:..........مالیگاؤں کارپوریشن الیکشن: سماجوادی امیدواروں کی پہلی لسٹ جاریce.html

انتخابی نتائج بتاتے ہیں کہ شہری علاقوں میں ووٹروں نے ایک بار پھر بی جے پی اور اس کے اتحادیوں پر اعتماد ظاہر کیا ہے۔ کئی نگر پریشدوں میں بی جے پی نے نہ صرف سب سے زیادہ نشستیں حاصل کیں بلکہ بعض مقامات پر آزاد اور مقامی جماعتوں کی حمایت سے حکومت بنانے کی پوزیشن بھی مضبوط کر لی ہے۔

دوسری جانب ایم وی اے، جس میں کانگریس، شیو سینا (ادھو ٹھاکرے گروپ) اور این سی پی شامل ہیں، کو اس بار خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی۔ متعدد شہروں میں اتحاد کو نقصان اٹھانا پڑا، جس سے ریاستی سیاست میں اپوزیشن کی حکمتِ عملی پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ نتائج آنے والے بلدیاتی اور ریاستی انتخابات کے لیے اہم اشارہ ہیں۔ مہایوتی کی برتری سے واضح ہوتا ہے کہ عوامی سطح پر حکومتی اتحاد کی گرفت مضبوط ہے، جبکہ ایم وی اے کو اپنی تنظیم اور زمینی سطح کی تیاریوں پر دوبارہ غور کرنا ہوگا۔

انتخابی نتائج کے بعد بی جے پی اور مہایوتی کے قائدین نے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے ترقی اور استحکام کے حق میں ووٹ قرار دیا ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے نتائج کا تجزیہ کر کے آئندہ کے لیے بہتر حکمتِ عملی بنانے کی بات کہی ہے۔

سانگلی اسلام پور میں عوامی ریلی سے شرد پوار نے واضح اشارہ دیا، ریاست کی تعمیر نو کا کام اپنے ہاتھ میں لینا ہوگا

مہاراشٹر: آئندہ اسمبلی انتخابات میں راشٹریہ وادی پارٹی(شرد چندر پوار) کی جانب سے وزیراعلیٰ کا چہرہ کون ہوگا اس تعلق سے بات چیت کے درمیان پارٹی سربراہ شرد پوار نے ریاست کے مستقبل کی تشکیل میں مہاراشٹر این سی پی-ایس سی پی کے صدر جینت پاٹل کے اہم کردار کا اشارہ دیا ہے۔

پوار نے اس بات پر زور دیا کہ ترقی یافتہ مہاراشٹر کی تعمیر نو کا سفر سانگلی کے اسلام پور سے شروع ہوگا اور جینت پاٹل کو ذمہ داری اپنے کندھوں پر لینی چاہئے اور پارٹی اور ان کے تمام ساتھی ان کی حمایت کریں گے۔ اس بیان سے اشارہ ملتا ہے کہ پاٹل آنے والے انتخابات میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ بدھ کے روز مہاراشٹر کے سانگلی ضلع کے اسلام پور اسمبلی حلقہ میں ایک عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے شرد پوار نے کہا کہ مہاراشٹر کی خراب تصویر کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ ہم ایک الگ مہاراشٹر چاہتے ہیں۔ اگر میں مختلف مہاراشٹر کہوں تو اس کا مطلب ہے کہ پہلے وزیر اعلی یشونت راؤ چوہان کے وژن کی طرح اور ایسا کرنے کے لئے وسنت نائک، راجا رام باپو وغیرہ جیسے بہت سے لوگوں نے قربانیاں دی ہیں۔ وہ سب ایک طاقتور اور مضبوط ترقی پسند ریاست چاہتے تھے۔ لیکن جو لوگ فی الحال اقتدار میں ہیں وہ مہاراشٹر کے مفاد میں بھی نہیں سوچتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ آج صورتحال ایسی ہے کہ ریاست تمام شعبوں میں نچلی سطح پر  ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب مہاراشٹر ملک کی تمام ریاستوں میں سب سے اوپر تھا، اس لیے ہمیں ریاست کو دوبارہ ترقی یافتہ بنانے اور تعمیر نو کا کام اپنے ہاتھ میں لینا ہوگا۔

شرد پوار نے مزید کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ یہ کام اسلام پور سانگلی سے شروع ہو رہا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ جینت پاٹل ریاست کے کونے کونے میں جا رہے ہیں۔ وہ لوگوں سے مل رہے ہیں، انہیں اعتماد دے رہے ہیں اور ہمارے نظریے کے بارے میں بتا رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ریاست کے نوجوان ان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہوں گے اور مہاراشٹر کے بارے میں ہمارے جو خواب ہیں وہ پورے ہوں گے۔ آپ، میں اور مہاراشٹر کے سبھی لوگ توقع کرتے ہیں کہ وہ یہ ذمہ داری اپنے کندھوں پر لیں گے۔ ہمیں جینت پاٹل کی بھرپور حمایت کرنے کی ضرورت ہے۔

مہاوکاس اگھاڑی اور برسراقتدار مہایوتی مقابلے کیلئے تیار، ونچت بہوجن اگھاڑی نے بھی مزید 30 امیدواروں کی فہرست جاری کی

نئی دہلی: مہاراشٹر اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کے لئے کانگریس 20 اکتوبر کو مرکزی الیکشن کمیٹی کا اجلاس منعقد کرے گی تاکہ ریاست کے لئے امیدواروں کی فہرست کو حتمی شکل دی جاسکے۔ پارٹی کی مہاراشٹر الیکشن اسکریننگ کمیٹی نے بدھ کے روز دہلی کے ہماچل بھون میں ایک میٹنگ کی۔ پارٹی کے ریاستی انچارج رمیش چنی تھلا، مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے، بالا صاحب تھورات، قائد حزب اختلاف وجے وڈیٹیوار اور ستیج پاٹل نے اجلاس میں شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں:.... مہاراشٹر اسمبلی الیکش کی تاریخ کا اعلان

کل اسکریننگ میٹنگ کے اختتام کے بعد اسمبلی انتخابات کے لئے پارٹی کے انچارج رمیش چنی تھلا نے کہا کہ 'ہم 20 اکتوبر کو ایک اور میٹنگ کریں گے اور ہر چیز کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔ سی ای سی کا اجلاس 20 اکتوبر کو ہے۔ پارٹی کی ممبئی صدر ورشا گائیکواڑ نے بھی کہا کہ 20 اکتوبر کو حتمی فیصلہ لیا جائے گا. اس سے قبل بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بھی قومی راجدھانی میں اپنی مرکزی کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا اور 100 سے زیادہ نشستوں پر تبادلہ خیال کیا۔ ذرائع نے بتایا کہ پارٹی اجیت پوار کی زیر قیادت نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) اور ایکناتھ شندے کی زیر قیادت شیوسینا سمیت مہایوتی اتحاد کے شراکت داروں کے ساتھ نشستوں کی تقسیم پر بات چیت کے بعد 288 رکنی مہاراشٹر اسمبلی انتخابات کے لئے اپنے بقیہ امیدواروں کے ناموں کا فیصلہ کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں:.... بابا صدیقی فائرنگ میں ہلاک

اس کے علاوہ ونچت بہوجن آگھاڑی نے ریاست کے اسمبلی انتخابات کے لئے اپنے امیدواروں کی تیسری فہرست کا بھی اعلان کیا۔ وی بی اے نے اپنی تیسری فہرست میں مزید 30 امیدواروں کا اعلان کیا۔

اس سے قبل الیکشن کمیشن آف انڈیا نے مہاراشٹر اور جھارکھنڈ اسمبلی انتخابات کے شیڈول کا اعلان کیا تھا۔ مہاراشٹر کی 288 رکنی قانون ساز اسمبلی کے لئے انتخابات 20 نومبر کو ایک ہی مرحلے میں ہوں گے اور ووٹوں کی گنتی 23 نومبر کو ہوگی۔

अधिक समय से जारी जातीय हिंसा को नियंत्रित करने में विफल रहने के लिए केंद्र सरकार और प्रधान मंत्री नरेंद्र मोदी की आलोचना की

मुंबई: राष्ट्रवादी कांग्रेस पार्टी - शरदचंद्र पवार (एनसीपी-एसपी) प्रमुख शरद पवार ने रविवार को मणिपुर में अशांति के समान महाराष्ट्र में संभावित हिंसा के बारे में चिंता व्यक्त की।  नवी मुंबई में एक सार्वजनिक कार्यक्रम में बोलते हुए, पवार ने कथित तौर पर मणिपुर में कुकी और मैतेई समुदायों के बीच एक साल से अधिक समय से जारी जातीय हिंसा को नियंत्रित करने में विफल रहने के लिए केंद्र सरकार और प्रधान मंत्री नरेंद्र मोदी की आलोचना की।

شرد پوار نے منی پور کی طرح مہاراشٹر میں بھی ممکنہ تشدد پر تشویش ظاہر کی

पवार ने कथित तौर पर कहा, "यह मणिपुर में हुआ। यह पड़ोसी राज्यों में भी हुआ। यह कर्नाटक में भी हुआ। और हाल के दिनों में, चिंता है कि यह महाराष्ट्र में भी होगा। सौभाग्य से, महाराष्ट्र में कई दिग्गजों की विरासत है  सद्भाव और समानता को बढ़ावा दिया।”  इंडिया टुडे की एक रिपोर्ट के अनुसार, उन्होंने अपने प्रभावशाली नेताओं को धन्यवाद देते हुए एकता और शांति को बढ़ावा देने के लिए महाराष्ट्र की ऐतिहासिक प्रतिबद्धता पर जोर दिया।

अपनी चर्चाओं पर विचार करते हुए, पवार ने साझा किया, “मेरे साथ किसी की बातचीत में मणिपुर का उल्लेख किया गया था।  देश की संसद में इस पर चर्चा हुई.  मणिपुर की विभिन्न जातियों, धर्मों और भाषाओं के लोग हमसे मिलने दिल्ली आये।  और जो तस्वीर उन्होंने हमें दिखाई, उससे क्या पता चलता है?”  उन्होंने हिंसा पर गहरी चिंता व्यक्त की, यह देखते हुए कि मणिपुर में जो समुदाय पीढ़ियों से शांतिपूर्वक सह-अस्तित्व में थे, वे अब एक-दूसरे के साथ संवाद करने के लिए तैयार नहीं हैं।

राज्य के कर्तव्य पर प्रकाश डालते हुए, पवार ने कथित तौर पर कहा कि राज्य को इस मुद्दे का समाधान करना चाहिए, लोगों को विश्वास दिलाना चाहिए, एकता बनानी चाहिए और कानून-व्यवस्था बनाए रखनी चाहिए।  उन्होंने आगे केंद्र पर निशाना साधते हुए कहा कि दुर्भाग्य से आज के शासकों ने इस पर नजर तक नहीं डाली.  इतना कुछ होने के बाद भी उन्होंने कभी नहीं सोचा कि देश के प्रधानमंत्री को वहां जाना चाहिए और लोगों को राहत देनी चाहिए।''

आरक्षण विरोध को लेकर महाराष्ट्र में मराठों और ओबीसी के बीच बढ़ते तनाव के बीच पवार की टिप्पणी आई है, हालांकि उन्होंने इस मुद्दे का विशेष रूप से उल्लेख नहीं किया।  शनिवार को उन्होंने आरक्षण को लेकर समुदायों के बीच बढ़ते विभाजन पर चिंता व्यक्त की और महाराष्ट्र सरकार से हितधारकों के साथ अधिक बातचीत करने का आग्रह किया।

 उन्होंने चर्चा के खंडित दृष्टिकोण की आलोचना करते हुए कहा, “कोटे को लेकर हितधारकों के साथ जो बातचीत होनी चाहिए थी, वह नहीं हुई है।  मुख्यमंत्री लोगों के एक समूह के साथ बातचीत करते हैं, जबकि सरकार में अन्य लोग विभिन्न समूहों के साथ बातचीत करते हैं।  इससे गलतफहमी पैदा होती है।”  पिछले हफ्ते, पवार ने मराठा और ओबीसी समुदायों के बीच तनाव पर चर्चा करने के लिए मुख्यमंत्री एकनाथ शिंदे से मुलाकात की थी।

 

منی پور میں طویل عرصے سے جاری تشدد پر قابو پانے میں ناکامی پر مرکزی حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی پر تنقید

 ممبئی: نیشنلسٹ کانگریس پارٹی - شرد چندر پوار (این سی پی-ایس پی) کے سربراہ شرد پوار نے اتوار کو منی پور میں بدامنی کی طرح مہاراشٹر میں ممکنہ تشدد پر تشویش کا اظہار کیا۔   نئی ممبئی میں ایک عوامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، پوار نے مرکزی حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی پر تنقید کی کہ وہ منی پور میں کوکی اور میتی برادریوں کے درمیان ایک سال سے زیادہ عرصے سے جاری ذات پات کے تشدد کو قابو کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

اروند کیجریوال کو تین دنوں کی سی بی آئی تحویل

 پوار نے مبینہ طور پر کہاکہ "یہ منی پور میں ہوا ہے۔ یہ پڑوسی ریاستوں میں بھی ہوا ہے۔ کرناٹک میں بھی ہوا ہے اور حالیہ دنوں میں، یہ تشویش ہے کہ مہاراشٹر میں بھی ایسا ہو گا۔ خوش قسمتی سے، مہاراشٹر کے پاس بہت سے سابق قدآور رہنماؤں کی میراث ہے جس نے ہم آہنگی اور مساوات کو فروغ دیا۔"   انڈیا ٹوڈے کی ایک رپورٹ کے مطابق، انھوں نے اپنے بااثر رہنماؤں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اتحاد اور امن کو فروغ دینے کے لیے مہاراشٹر کے تاریخی عزم پر زور دیا۔

 ان کی بات چیت پر غور کرتے ہوئے، پوار نے کہا کہ، "میرے ساتھ کسی کی گفتگو میں منی پور کا ذکر کیا گیا تھا۔   اس پر ملک کی پارلیمنٹ میں بحث ہوئی۔ منی پور کے مختلف ذاتوں، مذاہب اور زبانوں کے لوگ ہم سے ملنے دہلی آئے۔   اور جو تصویر انہوں نے ہمیں دکھائی اس سے کیا پتہ چلتا ہے؟ انہوں نے تشدد پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ منی پور میں وہ کمیونٹیز جو کئی نسلوں سے پرامن طور پر ساتھ رہی ہیں اب ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

 ریاست کے فرائض پر روشنی ڈالتے ہوئے، پوار نے مبینہ طور پر کہا کہ ریاست کو اس مسئلے کو حل کرنا چاہئے، لوگوں کو اعتماد دلانا چاہئے، اتحاد پیدا کرنا چاہئے اور امن و امان برقرار رکھنا چاہئے۔ انہوں نے مرکز کو مزید نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے آج کے حکمرانوں نے اس طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔   اس سب کے باوجود انہوں نے کبھی نہیں سوچا کہ ملک کے وزیر اعظم کو وہاں جا کر عوام کو راحت دینا چاہیے۔

 پوار کے تبصرے مہاراشٹر میں ریزرویشن کے احتجاج کو لے کر مراٹھوں اور او بی سی کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کے درمیان آئے ہیں، حالانکہ انہوں نے اس مسئلہ کا خاص طور پر ذکر نہیں کیا۔ ہفتہ کے روز، انہوں نے ریزرویشن پر برادریوں کے درمیان بڑھتی ہوئی تقسیم پر تشویش کا اظہار کیا اور مہاراشٹر حکومت پر زور دیا کہ وہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مزید بات چیت کرے۔

  بات چیت کے بکھرے ہوئے نقطہ نظر پر تنقید کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ "کوٹہ پر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ جو بات چیت ہونی چاہیے تھی وہ نہیں ہوئی۔ وزیراعلیٰ لوگوں کے ایک گروہ کے ساتھ بات چیت کرتے ہیں، جب کہ حکومت میں موجود دوسرے لوگ مختلف گروہوں سے بات چیت کرتے ہیں۔ یہ غلط فہمی کا باعث بنتا ہے۔" گزشتہ ہفتے، پوار نے مراٹھا اور او بی سی برادریوں کے درمیان کشیدگی پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے وزیر اعلی ایکناتھ شندے سے ملاقات کی تھی۔


 شردپوار کا ڈرامہ اور عدالت کا فیصلہ

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی

(نائب ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف)

 ہندوستانی سیاست میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے صدر شرد پوار کی شخصیت ایک معمہ رہی ہے، وہ کب، کس وقت کیا فیصلہ لیں گے اور اس کے اثرات ملکی سیاست پر کیا پڑیں گے، وہ خود ہی جانتے ہیں، فیصلہ سامنے آتا ہے تو لوگ دنگ رہ جاتے ہیں اور جب اس کے نتائج سے لوگ واقف ہوتے ہیں تو حیرت میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:... کرناٹک میں بی جے پی کی شکست تکبّر کا نتیجہ: راج ٹھاکرے

 شرد پوار نے سونیا گاندھی کے غیر ملکی ہونے کا کہہ کر انہیں نہ صرف اقتدار سے دور کر دیا تھا ، بلکہ کانگریس کو ایک اور تقسیم کا سامنا کرنا پڑا تھا، نیشنلسٹ کانگریس اسی دور کی یاد گار ہے، اس معاملہ میں سنگما اور طارق انور پیش پیش تھے، طارق انور کانگریس میں لوٹ آئے، سنگما بھی اپنی موت آپ مر گیے، لیکن شرد پوار نے مہاراشٹر میں اسے مضبوط کیا اور چانکیہ کے انداز میں آگے بڑھے، شیو سینا اور بی جے پی کے جھگڑے میں ان کے محیر العقول کردار نے انہیں اقتدار تک پہونچا دیا اور مہاوکاس اگھاری کی حکومت قائم ہو گئی ، یاد کیجئے وہ رات جب مہاراشٹر کے گورنر نے صدر راج ختم کرکے اجیت پوار کی حمایت سے بی جے پی کو حلف دلادیا تھا اور چند گھنٹے کے بعد ہی اجیت پوار نے منحرف ہو کر بی جے پی حکومت کو مٹی میں ملا دیا تھا، یہ بھی شرد پوار کی ایک چال تھی، اگر وہ اپنے بھتیجہ اجیت پوار کو اس کام پر نہیں لگاتے تو راتوں رات صدر راج ختم ہی نہیں ہوتا اور نئی حکومت بننے کے لیے راستہ ہموار نہیں ہوتا ، اجیت پوار نے اپنے اس اقدام سے سارے سیاست دانوں کو حیرت زدہ کر دیا تھا۔

 مہاوکاس اگھاڑی حکومت کے گرنے کے بعدشنڈے اور بی جے پی کی مخلوط حکومت قائم ہوئی ادھر خبر ہی آ رہی تھی کہ اجیت پوار وزیر اعلیٰ کی کرسی تک پہونچنے کے لیے ہاتھ پیر مار رہے ہیں اور بی جے پی سے ہاتھ ملانے سے انہیں گریز نہیں، اس کا سیدھا مطلب یہ تھا کہ پارٹی ٹوٹ رہی ہے ، شرد پوار نے پھر ایک چھکا لگا یا اور پارٹی صدر سے استعفیٰ کا اعلان کر دیا، اس اعلان نے شرد پوار کے مخالفین کو ہکا بکا کر دیا اورپارٹی میں ان کے استعفیٰ واپس لینے کے لیے تحریک چلنے لگی، کئی عہدیداروں نے بھی استعفیٰ دے دیا، ایک کمیٹی بنائی گئی جو پوار کے استعفیٰ پر غور کرے، کمیٹی نے ان کا استعفیٰ نا منظور کر دیا تو انہوں نے چوتھے دن اپنا استعفیٰ واپس لے لیا اور شرد پوار کا ڈرامہ اختتام کو پہونچا ، اس ڈرامہ نے پارٹی کو یک جٹ کیا اور اجیت پوار کے ا چھل کود کو ختم کر دیا، شرد پوار نے ثابت کر دیا کہ وہ ایک شاطر سیاست داں ہیں اور ان کے چھ دہائی سے زیادہ سیاسی تجربات کسی کو بھی دھول چٹانے کے لیے کافی ہیں، چاہے ان کے بھتیجا اور رازداں اجیت پوار ہی کیوں نہ ہوں۔ادھر عدالت نے بھی شنڈے حکومت کے قیام  میں گورنر کے کردار پر سخت تبصرہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر ادھو ٹھاکرے نے اسمبلی میں عدم اعتماد کی تحریک سے پہلے استعفیٰ نہیں دیا ہوتا تو ہم ٹھاکرے کی حکومت کو بحال کر دیتے، مگر ان کے استعفیٰ دینے کی وجہ سے حکومت کی بحالی ممکن نہیں، اس فیصلے کے بعد دیکھیے شرد پوار مہا وکاس اگھاڑی کی حکومت واپس لانے کے لیے کیا کچھ کرتے ہیں۔

2024 عام انتخابات کے پیش نظر شرد پوار کی قیادت میں آج اپوزیشن پارٹیوں کی اہم میٹنگ

گزشتہ روز کرناٹک اسمبلی انتخابات کے نتائج  کا اعلان ہوا جس میں کانگریس نے 224 میں سے 136 سیٹیں حاصل کرکے شاندار کامیابی حاصل کی، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) صرف 65 سیٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی۔  اس جیت نے بی جے پی کو واحد جنوبی ریاست میں بھی اقتدار سے باہر کر دیا ہے جس پر اس کی حکومت تھی. کرناٹک میں کانگریس کی اس کامیابی نے مستقبل میں اس کی کامیابی کے امکانات کو بڑھا دیا ہے۔یہ بھی پڑھیں:....

لیور ٹرانسپلانٹ کے باوجود دسویں میں-95 فیصد مارکس-Secondary-Education-CBSE-Class-10-Results-In-2023.html

شیوسینا (یو بی ٹی) ایم پی سنجے راوت نے ایک بار پھر بی جے پی پر حملہ کیا۔ انتخابی نتائج پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے شیو سینا (یو بی ٹی) کے ایم پی سنجے راوت نے کہا کہ کرناٹک نے دکھایا ہے کہ لوگ آمریت کو شکست دے سکتے ہیں۔ کانگریس جیت گئی جس کا مطلب ہے کہ بجرنگ بلی کانگریس کے ساتھ ہے نہ کہ بی جے پی کے ساتھ۔ ہمارے وزیر داخلہ (امیت شاہ) کہہ رہے تھے کہ اگر بی جے پی ہار جاتی ہے تو کرناٹک میں فسادات ہوں گے۔ کرناٹک پرسکون اور خوشحال ہے، فسادات کہاں ہیں؟ راؤت کے تبصروں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کرناٹک میں بی جے پی کی شکست پرامن رہی ہے، امت شاہ کی پیشین گوئی بھی غلط ثابت ہوئی کہ اگر بی جے پی ہار گئی تو فسادات ہوں گے۔

راوت نے 2024 کے عام انتخابات کی تیاریوں کے بارے میں بھی بات کی۔راوت نے مزید کہا کہ مودی لہر ختم ہو چکی ہے اور اب ہماری لہر پورے ملک میں آرہی ہے۔ 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے لیے ہماری تیاری شروع ہو گئی ہے اور آج شرد پوار کی صدارت میں ایک میٹنگ بلائی گئی ہے، ہم اس بارے میں بات کریں گے۔ اس میٹنگ میں 2024 کے الیکشن اور اس کی تیاری سے متعلق تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

راؤت کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپوزیشن پارٹیاں 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے لیے پہلے سے ہی تیاری کر رہی ہیں، اس پر بات کرنے کے لیے شرد پوار کو میٹنگ کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔کرناٹک میں چیف منسٹر کا انتخاب کرنا کانگریس کے لیے مشکل کام ہے۔ اس عہدے کے لیے دو مضبوط دعویدار ہیں - سابق وزیر اعلیٰ سدرامیا اور کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے سربراہ ڈی کے شیوکمار. پارٹی ہائی کمان نے اتوار کو تمام جیتنے والے امیدواروں کی میٹنگ طلب کی ہے تاکہ یہ فیصلہ کیا جاسکے کہ قانون ساز پارٹی کا لیڈر کون ہوگا۔ تاہم حتمی فیصلہ پارٹی ہائی کمان کرے گی۔

کارکنان نے آتش بازی کی اور جشن منایا، پوار نے اپنے فیصلے پر نظرثانی کیلئے وقت مانگا

ممبئی: نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے سربراہ کے طور پر شرد پوار کا استعفیٰ متفقہ طور پر مسترد کر دیا گیا. پارٹی کے سرکردہ رہنماؤں نے آج ممبئی میں پارٹی کارکنان کے جذباتی احتجاج کے پس منظر میں میٹنگ کی۔

 ایک بار پھر، 82 سالہ این سی پی لیڈر شرد پوار نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ انہیں پارٹی کے سربراہ کے طور پر اپنی خدمات جاری رکھنے سے متعلق سوچنے کے لیے وقت درکار ہے. واضح رہے کہ 1999 میں شرد پوار نے راشٹروادی کانگریس پارٹی کی بنیاد رکھی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:... این سی پی کا اگلا صدر کون؟؟؟ اجیت پوار،سپریا سولے یا پرفل پٹیل؟؟؟؟

 شرد پوار کی بیٹی سپریا سولے اور بھتیجے اجیت پوار اس میٹنگ میں موجود تھے جس میں سینئر این سی پی لیڈر پرفل پٹیل کی قیادت میں پینل نے جانشینی کے کسی بھی منصوبے کو ابھی کے لیے روک دیا۔

کمیٹی نے آج کے اجلاس میں متفقہ طور پر قرارداد منظور کی ہے۔  قرارداد میں کہا گیا ہے کہ شرد پوار کی صدارت برقرار رہنا چاہیے۔ پرفل پٹیل نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ صدر کے عہدے سے دستبردار ہونے کے شرد پوار کے فیصلے کی سبھی نے متفقہ طور پر مخالفت کی ہے۔ہم سب چاہتے ہیں کہ شرد پوار پارٹی صدر کے طور پر برقرار رہیں۔ انہیں ہم جیسے لاکھوں لوگوں کے جذبات کا احترام کرنا چاہئے اور انہیں بحیثیت صدر اپنی خدمات جاری رکھنا چاہئے۔

 انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے شرد پوار کو کمیٹی کے فیصلے سے آگاہ کیا، انہوں نے کہا کہ انہیں اس فیصلے پر غور کرنے کیلئے کچھ وقت درکار ہے۔

تین دنوں میں جب سے شرد پوار نے اپنے استعفیٰ کا اعلان کیا ہے تب سے قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ سپریا سولے صدر کا عہدہ سنبھالیں گی اور اجیت پوار مہاراشٹر میں پارٹی کا چہرہ ہوں گے۔  تاہم، اجیت پوار کے لیے واضح کردار کے بارے میں کوئی بات نہیں کی گئی، جن کی بی جے پی کے ساتھ گٹھ جوڑ کو شرد پوار کے حیران کن اقدام کے پیچھے ایک اہم عنصر سمجھا جاتا تھا۔  بہت سے لوگوں نے کہا کہ شرد پوار اجیت پوار اور پارٹی میں پھوٹ کو روکنا چاہتے ہیں جو اس کے بعد ہو سکتا ہے۔

آج کا فیصلہ مسٹر پوار کے اپنی پارٹی پر غلبہ کی تصدیق کرتا ہے اور اب گیند پوار کے پالے میں ہے۔

کمیٹی کے مذکورہ فیصلے کے بعد این سی پی کارکنوں کی طرف سے آتش بازی کی گئی اور جشن منایا گیا جنہوں نے اپنے شرد پوار سے استعفیٰ واپس لینے کی درخواست کی تھی۔

پرفل پٹیل نے کہا کہ اس دن شرد پوار نے جو کچھ بھی کہا وہ ہم سب کے لیے چونکا دینے والا تھا۔  ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ شرد پوار اس پروگرام میں ایسے کسی فیصلے کا اعلان کریں گے۔  آپ سب نے دیکھا کہ ان کے اعلان کے بعد کیا ہوا، لوگوں نے کس طرح اپنے جذبات کا اظہار کرنے کی کوشش کی۔  پروگرام کے بعد بھی، پارٹی کے کئی سینئر لیڈروں نے شرد پوار سے کئی بار ملاقات کی اور ہم ان سے مسلسل درخواست کرتے رہے ہیں کہ ملک، ریاست اور پارٹی سب یہ چاہتے ہیں کہ آپ صدارت پر برقرار رہیں اور آپ ہی ہماری رہنمائی کر سکتے ہیں.

جتیندر اوہاڑنے بھی جنرل سکریٹری کے عہدے سے استعفیٰ دیا، نئے صدر کے انتخاب کیلئے یشونت راؤ چوہان سینٹر میں 15 رکنی کمیٹی کی میٹنگ جاری

بدھ کو شرد پوار کے این سی پی صدر کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے اعلان کے ایک دن بعد، جتیندر اوہاڑنے بھی جنرل سکریٹری کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔  ذرائع کے مطابق مزید کئی عہدیدار استعفیٰ دےسکتے ہیں۔  82 سالہ این سی پی سربراہ شرد پوار نے منگل کو اپنے استعفیٰ کا اعلان کیا تھا اور ان کے بھتیجے اجیت پوار نے کہا تھا کہ شرد پوار کا فیصلہ بدلنے والا نہیں ہے۔ اس پریس کانفرنس کے دوران ہی پارٹی لیڈران اور کارکنوں نے فیصلے کے خلاف احتجاج کیا اور استعفیٰ واپس لینے کا مطالبہ کیا۔  شرد پوار نے آج صبح کہا کہ ان پر استعفیٰ واپس لینے کے لیے بہت دباؤ ہے۔ ممبئی کے یشونت راؤ چوہان سینٹر میں 15 رکنی کمیٹی کی میٹنگ جاری ہے، جسے نئے صدر کے انتخاب کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔  صدارت کی دوڑ میں اجیت پوار، سپریا سولے اور پرفل پٹیل کے نام سب سے آگے ہیں۔

بدھ کی صبح اجیت پوار کے گھر پر پارٹی ایم ایل ایز کی میٹنگ ہوئی۔  دوسری طرف راجندر سنگھانے، امیش پاٹل اور پراجکت کانپورے شرد پوار سے ملنے ان کی رہائش سلور اوک پہنچے۔  شرد پوار آج صبح 10:30 بجے پارٹی دفتر پہنچے۔ انہوں نے دوپہر ایک بجے تک یہاں پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں سے ملاقات کی۔ اسی دوران اجیت پوار، سپریا اور پرفل پٹیل بھی پارٹی دفتر پہنچے۔ پارٹی کے ترجمان امیش پاٹل نے کہا کہ میں پوار صاحب سے مل کر آیا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ بہت غور و فکر کے بعد کیا گیا ہے۔ قیادت اور صدارت دو الگ چیزیں ہیں۔ پارٹی کا صدر کوئی بھی ہو قیادت ہمیشہ میری ہی رہے گی۔ این سی پی لیڈر چھگن بھجبل نے کہا ہے کہ شرد پوار کی تشکیل کردہ کمیٹی نئے صدر کے بارے میں فیصلہ کرے گی۔

این سی پی میں جاری کشمکش پر مہاراشٹر کانگریس کے صدر نانا پٹولے نے کہا کہ این سی پی صدر کے طور پر شرد پوار کے استعفیٰ سے مہاوکاس اگھاڑی اتحاد پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ یہ این سی پی کا اندرونی معاملہ ہے۔ شیوسینا (ادھو ٹھاکرے) رہنما سنجے راؤت نے شرد پوار کے استعفیٰ پر کہا کہ ان کا استعفیٰ ملک کی سیاست کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ اگر انہوں نے یہ فیصلہ لیا ہے تو ملک اور مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل مچ جانا فطری ہے۔ آنے والے دنوں میں ہمیں کیا کرنا ہے اس پر جلد فیصلہ کیا جائے گا۔ ہم حالات پرنظر رکھے ہوئے ہیں۔

انتخابات کیلئے این سی پی کی حکمت عملی اور نیشنل ہائی وے نمبر 3 سے متعلق مسائل پر تبادلہ خیال

نئی دہلی  (پریس ریلیز) آئندہ سال ہونے جارہے لوک سبھا اور اسمبلی چناؤ میں راشٹروادی کانگریس پارٹی کی حکمت عملی اور کامیابی کیلئے جہاں شرد پوار سرگرم ہیں وہیں انہوں نے این سی پی لیڈران کو بھی اس چناؤ کیلئے تیار رہنے کا حکم دیا ہے ۔اس کے علاوہ دھولیہ مالیگاؤں لوک سبھا چناؤ میں راشٹروادی کانگریس پارٹی کی حکومت عملی کیا رہے گی اس پر آج دہلی میں راشٹروادی کانگریس پارٹی کے قومی صدر شردپوار سے سابق رکن اسمبلی و مالیگاؤں شہر ضلع راشٹروادی کانگریس پارٹی کے صدر آصف شیخ رشید نے ملاقات کرتے ہوئے تبادلہ خیال کیا. انہوں نے دھولیہ مالیگاؤں لوک سبھا چناؤ کے متعلق امیدوار کے انتخاب اور چناؤ پر بات چیت کی وہیں آصف شیخ نے مالیگاؤں سینٹرل اسمبلی کے ساتھ ساتھ مالیگاؤں آؤٹر حلقہ اسمبلی کے متعلق بھی تبادلہ خیال کیا اور کئی دیگر امور پر گفتگو کی ۔اس درمیان شرد پوار نے کہا کہ مہاراشٹر کے تمام اضلاع کے این سی پی مائناریٹی صدور نے آصف شیخ کو مہاراشٹر کا مائناریٹی صدر نامزد کرنے کی تجویز پیش کی ہے لہذا آپ مائناریٹی کے ریاستی صدر کا عہدہ سنبھالیں ۔اس پر آصف شیخ رشید نے کہا کہ لوک سبھا، اسمبلی اور کارپوریشن چناؤ کے سبب مصروفیات زیادہ رہیں گی اس لئے فی الحال یہ عہدہ کسی اور کو دیا جائے یا آئندہ انتخابات تک روک دیا جائے ۔اس موقع پر شرد پوار اور آصف شیخ کے بیچ مالیگاؤں کے سیاسی،سماجی، مذہبی،تعلیمی اور کاروباری شخصیات، تنظیموں کے خیالات و کارکردگی پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی ۔اس موقع پر آصف شیخ نے شرد پوار کو مالیگاؤں سے گزرنے والی نیشنل ہائی وے نمبر 3 کے مسائل بھی پیش کئے جسے شرد پوار نے نتن گڈکری سے پارلیمنٹ میں ملاقات کرتے ہوئے حل کروانے کا تیقن دیا ۔

مہاراشٹر کے بلدیاتی انتخابات سمیت قومی سیاست پر تبادلہ خیال

ممبئی (پریس ریلیز) اندھیری ایسٹ ضمنی انتخاب کیلئے راشٹروادی کانگریس پارٹی کے اسٹار پرچارک لیڈران کی فہرست میں نام شامل کرنے پر مالیگاؤں شہر کے سابق رکن اسمبلی و راشٹروادی کانگریس کے ضلعی صدر آصف شیخ رشید نے این سی پی کے قومی صدر شرد پوار سے ملاقات کرتے ہوئے خصوصی طور شکریہ ادا کیا ۔آصف شیخ نے آج ممبئی کے یشونت راؤ چوہان پرتشٹھان میں شرد پوار سے انکی آفس میں ملاقات کی ۔ انتہائی گرم جوشی سے شرد پوار نے آصف شیخ کا استقبال کیا ۔ شرد پوار اور آصف شیخ کے درمیان مہاراشٹر کے سیاسی حالات پر تبادلہ خیال ہوا ۔آصف شیخ نے شرد پوار سے کہا کہ آئندہ ہونے جارہے مہاراشٹر کے میونسپل کارپوریشن چناؤ اور ضلع پریشد چناؤ میں مہاراشٹر کے مسلمان اپنی ووٹ مہا وکاس اگھاڑی کو دینے کیلئے اپنا من بنا چکے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ اس مرتبہ ووٹوں کی تقسیم کا گراف کم ہوگا ۔شرد پوار نے بھی کہا کہ مہا وکاس اگھاڑی سرکار نے اپنا دو ڈھائی سالہ اقتدار انتہائی کامیابی سے گزارا اور سب کو ساتھ لیکر بہتر کام کیا ۔شرد پوار نے یہ بھی کہا کہ ملائم سنگھ یادو کے انتقال پر انکی آخری رسومات میں جب میں یوپی گیا تو وہاں ملائم سنگھ کی آخری رسومات میں بھی مسلمانوں کی تعداد زیادہ دیکھی ۔اس سے مجھے ایسا لگا کہ ہندوستان کا مسلمان بی جے پی کے خلاف من بنا چکا ہے اور سیکولر پارٹیوں کیساتھ رہیگا ۔شرد پوار اور آصف شیخ کی سیاسی حالات پر بھی تبادلہ خیال ہوا ۔اسی طرح شرد پوار نے شیخ رشید کی 40 سالہ سیاسی و تعمیری خدمات کے اعتراف میں منعقد ہوئے استقبالیہ اجلاس کی کامیابی پر اہلیان مالیگاؤں کا شکریہ ادا کیا اور شیخ رشید و آصف شیخ کو مبارکباد بھی پیش کی۔ اس کے علاوہ آصف شیخ نے راشٹروادی کانگریس پارٹی کے قومی صدر شرد پوار کو دیوالی کی پیشگی مبارکباد بھی دی ۔شرد پوار سے کی گئی ملاقات میں آصف شیخ کے ساتھ زاہد سر بھی موجود تھے ۔

اپوزیشن کی مشترکہ امیدوار ماگریٹ الوا کو شکست، وزیراعظم نریندر مودی، راہل گاندھی، شرد پوار سمیت دیگر لیڈران نے مبارکباد پیش کی

این ڈی اے امیدوار جگدیپ دھنکھر اپوزیشن کی مشترکہ امیدوار ماگریٹ الوا کو شکست دے کر ملک کے 14 ویں نائب صدر جمہوریہ منتخب ہوئے. مغربی بنگال کے سابق گورنر دھنکھر نے 528 ووٹ حاصل کیے جبکہ الوا کو 182 ووٹ ملے۔

تقریباً 725 ایم پیز نے رائے شماری میں حصہ لیا، جو کہ کل ووٹوں کا 92.94 فیصد ہے. صدر دروپدی مرمو، کانگریس لیڈر راہل گاندھی، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) سربراہ شرد پوار، مرکزی داخلہ امت شاہ، مرکزی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور دیگر لوگوں نے جیت کے بعد دھنکھر کو مبارکباد پیش کی۔

صدر مرمو نے ٹوئیٹ کے ذریعے جگدیپ دھنکھر کو ہندوستان کا نائب صدر منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ قوم آپ کی عوامی زندگی کے طویل اور بھرپور تجربے سے مستفید ہوگی۔ راہل گاندھی نے ٹوئیٹ کر کے کہا کہ جگدیپ دھنکھر جی کو ہندوستان کا 14 واں نائب صدر منتخب ہونے پر مبارک باد. راہل نے اپوزیشن کی نمائندگی کرنے والی امیدوار ماگریٹ الوا کا بھی شکریہ ادا کیا. این سی پی سربراہ شرد پوار نے ٹوئیٹ میں کہا کہ جگدیپ دھنکھر کو ہندوستان کا نائب صدر منتخب ہونے پر مبارکباد۔  نائب صدر کے طور پر آپ کے دور میں کامیابی کی خواہش کرتا ہوں. راجناتھ سنگھ نے بھی ٹوئیٹ کرکے جگدیپ دھنکھر کو نائب صدر کے انتخابات جیتنے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی طویل عوامی زندگی، وسیع تجربہ اور لوگوں کے مسائل کی گہری سمجھ سے یقیناً قوم کو فائدہ پہنچے گا۔ دریں اثنا، وزیر اعظم نریندر مودی نے انتخاب کے فوراً بعد جگدیپ دھنکھر سے دہلی میں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور انہیں مبارکباد پیش کی۔

ایکناتھ شندے نے ٹوئیٹ کرکے پوار سے ملاقات کی تردید کی، تصویر کو پرانی بتاتے ہوئے افواہوں پر توجہ نہ دینے کی اپیل کی

مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے کی راشٹریہ وادی کانگریس پارٹی سربراہ شرد پوار کو گلدستہ پیش کرتے ہوئے ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے. ایکناتھ شندے نے اس معاملے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ تصویر کو جعلی قرار دیا اور منگل کے روز شرد پوار سے ملاقات کی تردید کی ہے.

یہ بھی پڑھیں:.... وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے کابینہ سے استعفیٰ دیا
ایکناتھ شندے نے ٹوئیٹ کرکے کہا کہ فی الحال راشٹریہ وادی کانگریس سربراہ شرد پوار کے ساتھ ملاقات کی ایک تصویر وائرل ہورہی ہے، ایسی کوئی ملاقات ہی نہیں ہوئی، افواہوں پر توجہ نہ دیں.
سوشل میڈیا پر تصویر وائرل ہونے کے بعد چہ میگوئیاں شروع ہوگئی کہ ایکناتھ شندے نے اپنے سابق قائد اور سابق وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے سے آشیرواد لینے کی بجائے شرد پوار کا آشیرواد لینے کو ترجیح دی.
بعد ازاں وزیراعلیٰ کے دفتر سے وضاحت کی گئی کہ تصویر پرانی ہے. شرد پوار کی سالگرہ پر ایکناتھ شندے نے جب انہیں مبارکباد پیش کی تھی اس وقت کی تصویر ہے.
 وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے ممبئی اور مہاراشٹر کے دیگر علاقوں میں بارش اور حالات کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں. اسلئے شرد پوار سے ملاقات کی خبریں محض افواہ ہیں.


 

شرد پوار نے شندے-فڑنویس حکومت کی بقا سے متعلق شکوک و شبہات ظاہر کئے، اپنے لیڈران کو وسط مدتی انتخابات کیلئے تیار رہنے کی ہدایت دی

مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے نے آج راشٹریہ وادی کانگریس سربراہ شرد پوار پر جوابی حملہ کیا. واضح رہے کہ شرد پوار نے شندے-فڑنویس حکومت کی بقا سے متعلق شکوک و شبہات ظاہر کئے اور اپنی پارٹی کے اراکین اسمبلی کو اپنے انتجابی حلقوں میں زیادہ توجہ دینے اور وسط مدتی انتخابات کیلئے تیار رہنے کو کہا تھا.

یہ بھی پڑھیں :...... مہاراشٹر: باغی اراکین اسمبلی کو پیسے کے علاوہ اور کچھ دیا گیا: ممتا بنرجی
ایوان کے دو روزہ خصوصی اجلاس کے آخری دن ریاستی اسمبلی میں اہم فلور ٹیسٹ جیتنے کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایکناتھ شندے نے کہا کہ شرد پوار ایک قدآور لیڈر ہیں لیکن وہ جو کچھ بھی کہتے ہیں وہ حقیقت کے برعکس ہے. ہم حکومت کے ڈھائی سال مکمل کریں گے اور آئندہ انتخابات میں ہمارے پاس 200 ایم ایل ایز ہوں، 100 ہمارے اور 100 بی جے پی کے.
اس سے پہلے اتوار کے روز پوار نے مہاراشٹر میں وسط مدتی اسمبلی انتخابات کا اشارہ دیا تھا کیونکہ مبینہ طور پر ٹریژری بنچ کے درمیان بے چینی کی وجہ سے نئی حکومت میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔  پوار نے پارٹی ایم ایل ایز کے ساتھ میٹنگ میں ان سے کہا کہ وہ اپنے متعلقہ حلقوں پر زیادہ توجہ دیں اور وسط مدتی انتخابات کے لیے تیار ہوجائیں۔  این سی پی کے اندرونی ذرائع نے اشارہ کیا کہ وسط مدتی انتخابات دسمبر کے آخر تک گجرات کے ساتھ یا اگلے سال کے شروع میں کرناٹک کے ساتھ ہو سکتے ہیں۔ پوار نے 2024 تک شندے-فڑنویس حکومت کے قائم رہنے سے متعلق شبہ ظاہر کرتے ہوئے حکومت میں شامل افراد کی ناراضگی کا حوالہ دیا اور کہا کہ یہ حکومت پانچ سے چھ ماہ ہی قائم رہے گی. آپسی رنجش مجوزہ کابینہ کی توسیع کے بعد منظر عام پر آئے گی. انہوں نے مزید کہا کہ قوی امکان ہے کہ شیوسینا کے باغی لیڈران کی گھر واپسی ہوگی.

یوگی حکومت کے کابینی وزیر سوامی پرساد موریہ سماجوادی میں شامل، مزید 13 اراکین اسمبلی سماجوادی میں شامل ہوں گے

راشٹر وادی کانگریس پارٹی نے پانچ ریاستوں میں سے تین ریاستوں میں آئندہ اسمبلی انتخابات لڑنے کا اعلان کیا ہے، پارٹی سربراہ شرد پوار نے آج خود اس بات اطلاع دی۔ شرد پوار نے یہ بھی بتایا کہ ان کی پارٹی اترپردیش میں اکھلیش یادو کی پارٹی سماجوادی کے ساتھ متحدہ طور پر الیکشن لڑے گی۔ پوار نے کہا کہ اترپردیش میں تبدیلی آنے والی ہے۔ آج سوامی پرساد موریہ نے استعفی دے کر سماجوادی پارٹی کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ مزید 13 اراکین اسمبلی سماجوادی پارٹی میں شامل ہونے والے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔خادمینِ امت ٹرسٹ کی جانب سے مثالی معلم اور آفتابِ صحافت ایوارڈ تقسیم

یوگی حکومت میں کابینی وزیر سوامی پرساد نے بی جے پی سے استعفی دے کر سماجوادی پارٹی کا دامن تھام لیا ہے۔ موریہ کے استعفی کے بعد اکھلیش یادو نے ان کے ساتھ ایک تصویر بھی شیئر کی۔ اکھلیش نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ سماجی انصاف اور یک جہتی کی لڑائی لڑنے والے سوامی پرساد موریہ اور ان کے ساتھ آنے والے تمام لیڈران، کارکنان اور حامیوں کا سماجوادی پارٹی میں پر تپاک استقبال کرتے ہیں۔ موریہ نے دلتوں ، پسماندہ طبقات، بے روزگار نوجوانوں اور چھوٹے چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں کے ساتھ شدید لاپرواہی کو اپنے استعفی کی اہم وجہ بتایا ہے۔


مالیگاؤں تشدد معاملہ میں پولیس کی کارروائی غیر قانونی، پانچ ایف آئی آر کے خلاف ممبئی ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کرنے کا عندیہ، وکلاء سے مشورہ

مالیگاؤں: آج 12 دسمبر راشٹر وادی کانگریس پارٹی کے قومی سربراہ شرد پوار کے 81 ویں جنم دن کے موقع ریاست بھر میں این سی پی کے ذریعے مختلف تقاریب کا انعقاد عمل آیا۔ اسی سلسلے میں مالیگاؤں راشٹریہ وادی کانگریس پارٹی کے آج صبح 11 بجے حبیب لانس میں ایک تقریب منعقد کی۔ جس میں شرد پوار نے لائیو خطاب کے دوران کہا کہ راشٹریہ وادی کانگریس پارٹی کے کارکنان کو سماج میں فلاحی کام کرنے کی اہمیت پر توجہ دینا چاہیے۔ملک کے غریبوں اور پسماندہ طبقات کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے۔سیکولرازم پر خصوصی توجہ دینی چاہیے تاکہ ملک کا جمہوری ڈھانچہ مضبوط ہو اور ملک ترقی کرسکے۔
اس موقع پر راشٹریہ وادی کانگریس پارٹی کے ضلعی صدر شیخ آصف نے شرد پوار ہی بی جے پی کو ٹکر دے سکتے ہیں، آج ملک کی سیکولر عوام اور سیاسی جماعتیں شرد پوار کی جانب امید بھری نظروں سے دیکھ رہی ہیں۔اس کی اہم وجہ شرد پوار کی سیکولر شبیہ اور اقلیتوں کو ساتھ لے کر چلنے کی پالیسی ہے۔آصف شیخ نے مزید کہا کہ مہاراشٹر میں اقلیتوں، کسانوں، دلتوں اور دیگر پچھڑے طبقات کو قومی دھارے میں شامل کیا گیا ہے۔
آج شرد پوار کے جنم دن کے موقع پر مالیگاؤں شہر راشٹریہ وادی کانگریس پارٹی کے ضلعی صدر شیخ آصف نے شرد پوار کو 81 ویں جنم دن کی مبارکباد پیش کی۔ شیخ آصف نے کہا کہ ہمیں مثبت سوچ وفکر کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایک دن اس سیاہ رات کی سحر ہوگی۔ راشٹریہ وادی کانگریس پارٹی کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے شیخ آصف نے کہا کہ ہمارے مخالفین ہماری کارکردگی سے خوفزدہ ہیں،  راتوں کو جاگ کر ہمارے خلاف منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔لیکن اگر ہم متحد رہے تو کامیابی ہمارا مقدر ہوگی۔
شہر سمیت قومی سیاست سے متعلق انہوں نے کہا کہ آج عوام کے بنیادی مسائل اور تعمیر وترقی کے عنوان کو بالائے طاق رکھ کر مذہب کے نام پر جذباتی سیاست کی جارہی ہے۔ مجلس اتحاد المسلمین کی مسلم ریزرویشن تحریک سے متعلق شیخ آصف نے کہا کہ دو سال سے اویسی صاحب کہاں تھے؟ مہاراشٹر کی عوام کو آپ اس بات کا جواب دیں۔ آج جب مہاراشٹر میں انتخابات ہونے جارہے ہیں تو مجلس نے ریزرویشن کا شوشہ چھوڑا ہے۔ مجلس کے دونوں اراکین اسمبلی نے کوئی کام نہیں کیا۔ اویسی پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کہ آپ مسلمانوں کا لیڈر بننے کی کوشش نہ کریں، کیونکہ الیکشن کے ایام میں مہاراشٹر کا دورہ کرتے ہیں اور ریاست کا ماحول خراب کرکے ووٹوں کی سیاست کرتے ہیں۔ 
شیخ آصف نے کہا کہ ہم نے گذشتہ سات سال سے مسلم ریزرویشن پر ایوان کے اندر اور باہر مسلسل نمائندگی کی ہے، جس کا ثبوت خود اویسی کے مسلم ریزرویشن کے اجلاس میں ویڈیو بتاکر دیا گیا، یہ اس بات کی مثال ہے کہ سچائی اپنے آپ کو منوا لیتی ہے۔ واضح رہے کہ گذشتہ روز مجلس کے ریزرویشن اجلاس میں شیخ آصف اور امین پٹیل کی ریزرویشن سے متعلق تقریر کا ویڈیو بتایا گیا تھا۔
این سی پی ضلع صدر نے کہا کہ اویسی صاحب کو مہاوکاس اگھاڑی سے اتنی تکلیف کیوں ہے؟ آج مہاراشٹر میں مسلمان پرسکون زندگی گزار رہے ہیں شاید یہ اویسی صاحب کو کھٹک رہا ہے۔ گذشتہ دو برسوں میں مہاراشٹر میں ماب لنچنگ نہیں ہوئی، فسادات نہیں ہوئے، امن وامان قائم رہا۔ بار بار مہاوکاس اگھاڑی حکومت پر انگشت نمائی کرکے کیا اویسی صاحب ماحول خراب کرنا اور بی جے پی کو اقتدار میں لانا چاہتے ہیں؟
شیخ آصف نے 12 نومبر تشدد معاملہ سے متعلق امن اجلاس کے اپ ے مطالبہ کا اعادہ کیا اور کہاکہ ابھی معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ اجازت ملے تب مشاورت چوک میں ہی جلسہ لیا جائے گا۔ انہوں نے پولیس انتظامیہ پر الزام عائد کیا کہ پولیس کی کارروائی غیر قانونی ہے۔ پولیس نے ایک معاملے میں پانچ ایف آئی آر درج کرکے سپریم کورٹ کی توہین کی ہے۔ پولیس اپنا گریبان جھانکے شہر کے نوجوانوں پر کارروائی نہ کرے۔
شیخ آصف نے مزید کہا کہ وکلاء سے بات چیت کے بعد پولیس کی پانچ ایف آئی آر کے خلاف ممبئی ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی جائے اور پولیس کیس کو چلینج کیا جائے گا۔ پولیس اس غلط فہمی کو دور کرلے، راشٹریہ وادی کانگریس پارٹی کا ورکر ڈرنے والا نہیں ہے، ہم اس ملک کے قانون کو مانتے ہیں اور قانون ہمیں بہت ساری آزادی دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے پاس ایسے ایسے ثبوت ہیں جو پولیس انتظامیہ کے پاس بھی نہیں ہیں۔ اگر کورٹ نے اجازت دی تو مشاورت چوک پر جلسہ لیں گے ورنہ ایک پریس کانفرنس لیکر عوام کے سامنے پورا واقعہ پیش کریں گے۔ شیخ آصف نے کہا کہ شہر کے کچھ لیڈران ہم پر الزام لگا رہے ہیں لیکن وہ انہیں مبارک ہو۔ ہم کسی پر الزام نہیں لگائیں گے بلکہ ہم شہر کے نوجوانوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کا کام کریں گے۔ہم شہر کے نوجوانوں کا ہر طرح سے ساتھ دیں گے۔ اس کے علاوہ بیوہ، بزرگ اور معذور فنڈ تین ماہ میں جاری کرنے کی کوشش کریں گے۔
راشٹروادی کانگریس پارٹی کے ورکروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج سے ہر گلی، ہر وارڈ میں محنت کریں، کارپوریشن چناؤ میں راشٹروادی کانگریس پارٹی کا میئر بنانا ضروری ہے ۔کیونکہ آج شہر راشٹروادی کی طرف امیدوار بھری نظروں سے دیکھ رہا ہے ۔اس پروگرام میں  ایم ڈی ایف کو چھوڑ کر راشٹروادی کانگریس پارٹی میں شامل ہوئے رئیس عثمانی نے کہا کہ ہمیں غریبوں کی زبان بولنے والے لیڈر کی ضرورت ہے اور وہ شیخ آصف کی شکل میں ہمیں ملا ہے ۔ہمیں ایسے لیڈروں کی ضرورت نہیں جو صرف امیروں کی چوکھٹ پر حاضری دے ۔شرد پوار کے مکان اجلاس پر منعقدہ تقریب میں حبیب لانس میں ہزاروں مرد و خواتین ورکروں نے جوش و خروش سے اپنی سیاسی بیداری کا ثبوت دیتے ہوئے شرکت درج کروائی ۔اس موقع پر ممبئی سے ورچول ریلی میں ریاست کے صدر جینت پاٹل، اجیت پوار ،چھگن بھجبل ،امول کولہے، پرفل پٹیل وغیرہ نے شرد پوار پر اپنے تاثرات کا اظہار کر انہیں نیک خواہشات و مبارک باد پیش کی ۔

کانگریس کو باہر رکھ کر بی جے پی کے خلاف تیسرے محاذ کی تشکیل ناممکن ہے: نواب ملک

مغربی بنگال کی وزیر اعلی اور ترنمول کانگریس سربراہ ممتا بنرجی آج سے دو روزہ ممبئی دورے پر ہیں۔ ممتا کے اس دورے کے بعد ایک مرتبہ پھر بی جے پی مخالف تیسرے محاذ کی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔ آج ممتا بنرجی ممبئی میں شرد پوار سے ملاقات کریں گی۔ شرد پوار سے ملاقات کو لے کر سیاسی حلقوں میں ایسی خبریں بھی گشت کررہی ہیں کہ ممتا بنرجی کانگریس سے دوری بناتے ہوئے مقامی جماعتوں کو متحد کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔کنگنا رناوت کو جان سے مارنے کی دھمکی، ایف آئی آر درج-Registered.html

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق مہاراشٹر کے وزیر برائے اقلیتی امور نواب ملک نے منگل کے روز اس بات کی تصدیق کی کہ ممتا بنرجی بدھ کے روز این سی پی سربراہ شرد پوار سے ملاقات کریں گی۔رپورٹ کے مطابق ملک نے کہا کہ ممتا دیدی مہاراشٹر کے دورے پر ہیں اور کل دوپہر(بدھ) 3 بجے پوار صاحب سے ملاقات کریں گی۔حالانکہ ملک نے ممتا کے اس دورے سے متعلق کہا کہ وہ شرد پوار سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کریں گی اور میٹنگ سے متعلق گفتگو کریں گی۔

ایک سوال کے جواب میں ملک نے کہا کہ ہر پارٹی کو اپنی ساکھ بحال کرنے کی کوشش کرنی چاہیے لیکن کانگریس کو باہر رکھ کر بی جے پی کے حریفوں کو متحد کرپانا ناممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال کے باہر بھی ترنمول کانگریس وسعت پارہی ہے اور یہ ہر سیاسی جماعت کا حق ہے۔حالانکہ ہم مانتے ہیں کہ کانگتیس کو چھوڑ کر ایک متحدہ اپوزیشن محاذ بنانا ممکن نہیں ہے۔پوار صاحب بھی کئی مرتبہ اس کی وضاحت کرچکے ہیں۔

شہر کی عوام حیدرآباد کا پارسل واپس حیدرآباد بھیجنے کیلئے تیار، کارپوریشن کا اگلا میئر بھی این سی پی کا ہوگا: شیخ آصف

مالیگاؤں :مالیگاؤں شہر میں راشٹروادی کانگریس پارٹی کی زمینی کارکردگی بہتر اور مضبوط ہوتی جارہی ہیں اور جس طرح مالیگاؤں شہر کی عوام کے حوالے سے شیخ آصف نے ہم سے وعدہ کیا ہے کہ مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن پر آئندہ میئر راشٹروادی کانگریس پارٹی کا بنائیں گے تو پھر ایسی بات پر میں بھی عوام کے بیچ وعدہ کرتا ہوں کہ اگر مالیگاؤں شہر میں راشٹروادی کانگریس پارٹی کا میئر بنتا ہے تو پھر ہم بھی مالیگاؤں شہر کی تعمیر و ترقی کیلئے 100 کروڑ روپیہ کا تحفہ دینگے۔اسطرح کا اظہار مہاراشٹر پردیش راشٹروادی کانگریس پارٹی کے صدر و ریاست کے وزیر آبپاشی جینت پاٹل نے اے ٹی ٹی ہائی اسکول میں دو اکتوبر کے موقع پر راشٹروادی کانگریس پارٹی کے زیر اہتمام منعقدہ راشٹروادی پریوار سنواد یاترا کے اجلاس سے کیا ۔
صوبائی وزیر جینت پاٹل نے پارٹی لیڈران و عہدیداران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پریوار سنواد یاترا کے دوران انہوں نے ریاست کے 150 مختلف اسمبلی حلقوں کا دورہ کیا، ہر حلقے کے جائزہ اجلاس میں کارگزاری سنی لیکن مالیگاؤں شہر ضلع راشٹروادی کانگریس پارٹی جس سطح پر کام کررہی ہیں  وہ قابل تعریف ہے۔ انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ شیخ آصف سب سے کامیاب، مضبوط اور تمام ضلع صدور میں سب سے اہم ہیں۔کہ اتنے کم عرصہ میں انہوں نے شہر میں این سی پی کو جو استحکام بخشا ہے وہ قابل تعریف ہے۔جینت پاٹل نے کہا کہ عوام 2024ء کے اسمبلی انتخابات میں شیخ آصف کو رکن اسمبلی منتخب کریں۔راشٹروادی کانگریس پارٹی ہر ممکن طور پر راشٹروادی کے ورکروں کے ساتھ کھڑی ہے۔موصوف نے مرکزی حکومت کی پالیسیوں پر جم کر تنقید کی اور کہا کہ آج ملک کی معیشت سنگین بحران کا شکار ہے اور مودی جی امریکہ و مغربی ممالک کے دلدادہ بنے گھوم رہے ہیں ۔انہوں نے بی جے پی حکومت کی انتقامی کارروائی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آج ملک میں عجیب طرح کی سیاست کی جارہی ہیں ۔سیکولر پارٹیوں کے لیڈران اور اقلیتی نوجوانوں کو اے ٹی ایس ATS، ای ڈی ED اور سی بی آئی CBI کے ذریعے حراساں کیا جارہا ہے ۔جیل میں ٹھونس دیا جارہا ہے اور پتہ ہی نہیں چل رہا ہے کون گرفتار کرکے لے گیا ہے۔ جینت پاٹل نے کہا کہ آج سے پہلے مہاراشٹر میں ایسی سیاست میں نے کبھی نہیں دیکھی ۔انہوں نے کہا کہ آج ملک میں مہنگائی آسمان چھو رہی ہیں اور مودی جی بھارتیہ کمپنیوں کو پرائیویٹ لمیٹڈ بنا رہے ہیں ۔موصوف نے مالیگاؤں کی عوام سے اپیل کی کہ آج بی جے پی سے مقابلے کرنے کیلئے جو مہا اتحاد کیا جارہا ہے اسے مضبوط بنانے کیلئے سیکولر پارٹیوں کا ساتھ دینا چاہیے۔اس سے قبل مقامی این سی پی کے صدر شیخ آصف نے راشٹریہ وادی کانگریس پارٹی کے عہدیداران وکارکنان کے جائزہ اجلاس میں پارٹی کی کارکردگی پیش کی۔موصوف نے کہا کہ مالیگاؤں شہر میں این سی پی شہر کاگزار صدور ،یوا اکائی،اقلیتی سیل، سیوا دل سیل، خواتین ونگ، بلاک صدور، کے عہدیداران و اہم ذمہ داران کی ایک جمبو جیٹ باڈی تشکیل دی گئی ۔موصوف نے  پارٹی میں اپنے چار ماہ کے سفر کی روداد بیان کی۔انہوں نے کہا کہ پارٹی نے جس امید اور بھروسے پر انہیں ضلعی صدر کا عہدہ دیا ہے انہوں نے حتی الامکان اس امید پر پورا اترنے کی کوشش کی ہے۔شیخ آصف نے جینت پاٹل کو یقین دلایا کہ وہ آئندہ بھی اسی تیزی و تندہی کے ساتھ پارٹی کو مستحکم کرنے کیلئے کام کریں گے۔انہوں نے عوام کی ایما پر جینت پاٹل سے وعدہ کیا کہ وہ آئندہ کارپوریشن انتخابات میں مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن پر این سی پی کا پرچم لہرایں گے۔اور انشا اللہ میونسپل میئر بھی راشٹروادی کانگریس پارٹی کا ہی بنائیں گے ۔شیخ آصف نے قومی و ریاستی سیاسی منظرنامہ پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ آج ملک کو دو فرقہ پرست جماعتوں سے پاک کرنا ضروری ہے ۔ایک پارسل جو حیدرآباد سے آیا ہے اسے واپس بھیجنا ہے اور دوسرا گجرات کے پارسل کو ۔شیخ آصف نے کہا کہ آئندہ کارپوریشن اور اسمبلی چناؤ میں مالیگاؤں سے مجلس کا پارسل حیدرآباد روانہ کرنے کا آغاز ہوگا تو ملک بھر سے مجلس کو حیدرآباد میں سمٹ کر رہنا پڑے گا ۔کیونکہ مالیگاؤں سمیت ملک کے مسلمان اب جذبات میں بہنے والے نہیں ہیں اور دھوکہ کھانے والے نہیں ۔اس اجلاس میں ممبئی سے تشریف لائے این سی پی سنواد یاترا کے لیڈران نے شہر این سی پی کے عہدیداران سے کارگزاری سنی اور ان کے احوال کے جائزہ لیا اور اس بات کا اعتراف کیا کہ قلیل مدت میں شیخ آصف نے مالیگاؤں میں پارٹی کو استحکام بخشا ہے۔ان کی امید سے بڑھ کر کارکردگی انجام دی گئی ہے۔اس موقع پر مالیگاؤں این سی پی سیوا دل ۔یوتھ ونگ ،لیڈیز ونگ ،مایناریٹی سیل وغیرہ نے آپکی کارگزاری پیش کی جس پر ذمہ داران نے اطمینان کا اظہار کیا ۔اس پروگرام میں راشٹروادی مہیلا سیل کی ریاستی صدر روپالی تائی ،ستش گنوانے، صوفی انیس قادری، شاہد ریشم والا، شفیق رانا، ایڈوکیٹ ہدایت اللہ ،سلیم رضوی، چراغ کانڈی والا ،جابر شاہ وغیرہ نے اپنے خیالات کا کیا ۔اس موقع پر جنتا دل، شیو سینا، آر پی آئی اور مجلس کو چھوڑ کر راشٹروادی کانگریس پارٹی میں شامل ہونے والے درجنوں افراد کا استقبال جنت پاٹل کے ہاتھوں کیا گیا ۔شکیل جانی بیگ اور ارشاد انجم نے پروگرام کی نظامت سنبھالی جبکہ راشٹروادی پریوار سنواد یاترا میں معروف شاعر عبدالواحد انصاری نے نظم، گیت اور اشعار پیش کر پروگرام کو چار چاند لگا دیااور سامعین میں جوش بھردیا ۔اس کامیاب پروگرام آور عوام کی بے پناہ محبتوں کا شیخ آصف اور جینت پاٹل نے شکریہ ادا کیا۔
 


جمعرات کو صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند سے ملاقات طے، ویکسن کی ڈبل ڈوز لینے کے باوجود ممتا بنرجی کو کرونا ٹیسٹ کروانے کی ہدایت

مغربی بنگال میں شاندار کامیابی حاصل کرنے اور تیسری مرتبہ وزیراعلی بننے کے بعد ممتا بنرجی پہلی مرتبہ دہلی پہنچیں اور انہوں وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔وزیراعظم سے ملاقات کے دوران ممتا بنرجی نے بنگال کا نام تبدیل کرنے، ویکسن کی فراہمی اور دیگر مدعوں پر گفتگو کی۔نریندر مودی سے ملاقات کے بعد ممتا بنرجی نے میڈیا نمائندوں سے بات چیت کے دوران کہا کہ آج وزیراعظم سے ملاقات ہوئی، دیگر ریاستوں کے مقابلے آبادی کے تناسب سے ہمیں کم ویکسن فراہم کی گئی ہے اسلئے مزید ویکسن فراہم کرنے پر وزیراعظم سے بات ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔کسمبا روڈ ملن ہوٹل کے قریب قاتلانہ حملہ میں نوجوان کی موت

ممتا نے کہا کہ بنگال کا نام تبدیل کرنے سے متعلق بھی وزیراعظم سے بات کی گئی ہے اس پر وزیراعظم نے غور کرنے کا تیقن دیا ہے۔بنگال کی وزیراعلی نے پیگاسس معاملے پر کہا کہ میں چاہتی ہوں کہ پیگاسس معاملے پر وزیراعظم آل پارٹی میٹنگ بلائیں اور سپریم کورٹ کے ذریعے اس معاملے کی جانچ کروائیں۔ اب جمعرات کے روز ممتا بنرجی صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند سے ملاقات کریں گی، اس سے قبل انہیں دہلی میں کرونا ٹیسٹ کروانے کی ہدایت دی گئی ہے۔اس تعلق سے ممتا نے کہا کہ صدر جمہوریہ سے ملاقات کیلئے جمعرات کا وقت دیا گیا ہے، ۔ملاقات سے قبل کرونا ٹیسٹ کروانے کی ہدایت دی گئی ہے جبکہ میں نے ویکسن کی ڈبل ڈوز لی ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔بنیادی سہولیات سے محروم رمضان پورہ کے عوام کا کارپوریشن میں ہنگامہ

واضح رہے کہ ممتا نے طویل عرصے بعد دہلی کا دورہ کیا ہے۔ اس پانچ روزہ دورے سے متعلق ایسی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ ممتا تمام اپوزیشن لیڈران کو متحد کرکے بی جے پی مخالف محاذ بنانا چاہتی ہیں۔اس دورہ پر وہ کانگریس صدر سونیا گاندھی، دہلی کے وزیراعلی اروند کیجریوال اور این سی پی سربراہ شرد پوار سے بھی ملاقات کریں گی۔