Articles by "vaccine"
Showing posts with label vaccine. Show all posts


جمعرات کو صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند سے ملاقات طے، ویکسن کی ڈبل ڈوز لینے کے باوجود ممتا بنرجی کو کرونا ٹیسٹ کروانے کی ہدایت

مغربی بنگال میں شاندار کامیابی حاصل کرنے اور تیسری مرتبہ وزیراعلی بننے کے بعد ممتا بنرجی پہلی مرتبہ دہلی پہنچیں اور انہوں وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔وزیراعظم سے ملاقات کے دوران ممتا بنرجی نے بنگال کا نام تبدیل کرنے، ویکسن کی فراہمی اور دیگر مدعوں پر گفتگو کی۔نریندر مودی سے ملاقات کے بعد ممتا بنرجی نے میڈیا نمائندوں سے بات چیت کے دوران کہا کہ آج وزیراعظم سے ملاقات ہوئی، دیگر ریاستوں کے مقابلے آبادی کے تناسب سے ہمیں کم ویکسن فراہم کی گئی ہے اسلئے مزید ویکسن فراہم کرنے پر وزیراعظم سے بات ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔کسمبا روڈ ملن ہوٹل کے قریب قاتلانہ حملہ میں نوجوان کی موت

ممتا نے کہا کہ بنگال کا نام تبدیل کرنے سے متعلق بھی وزیراعظم سے بات کی گئی ہے اس پر وزیراعظم نے غور کرنے کا تیقن دیا ہے۔بنگال کی وزیراعلی نے پیگاسس معاملے پر کہا کہ میں چاہتی ہوں کہ پیگاسس معاملے پر وزیراعظم آل پارٹی میٹنگ بلائیں اور سپریم کورٹ کے ذریعے اس معاملے کی جانچ کروائیں۔ اب جمعرات کے روز ممتا بنرجی صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند سے ملاقات کریں گی، اس سے قبل انہیں دہلی میں کرونا ٹیسٹ کروانے کی ہدایت دی گئی ہے۔اس تعلق سے ممتا نے کہا کہ صدر جمہوریہ سے ملاقات کیلئے جمعرات کا وقت دیا گیا ہے، ۔ملاقات سے قبل کرونا ٹیسٹ کروانے کی ہدایت دی گئی ہے جبکہ میں نے ویکسن کی ڈبل ڈوز لی ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔بنیادی سہولیات سے محروم رمضان پورہ کے عوام کا کارپوریشن میں ہنگامہ

واضح رہے کہ ممتا نے طویل عرصے بعد دہلی کا دورہ کیا ہے۔ اس پانچ روزہ دورے سے متعلق ایسی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ ممتا تمام اپوزیشن لیڈران کو متحد کرکے بی جے پی مخالف محاذ بنانا چاہتی ہیں۔اس دورہ پر وہ کانگریس صدر سونیا گاندھی، دہلی کے وزیراعلی اروند کیجریوال اور این سی پی سربراہ شرد پوار سے بھی ملاقات کریں گی۔

 


کرونا ویکسن میں سور کے گوشت کی آمیزش کی افواہ! رضااکیڈمی ممبئی نے عالمی ادارۂ صحت کے صدر کو مکتوب روانہ کر ویکسن کی تیاری میں استعمال ہونے والی اجزاء کی تفصیل طلب کی

کرونا ویکسن کے حلال یا حرام ہونے پر ابتداء سے ہی بحث جاری ہے، اب اس معاملے میں پیش رفت کرتے ہوئے ممبئی کے علمائے کرام نے عالمی ادارۂ صحت(WHO) سے ویکسن کی تیاری میں استعمال ہونے والے اجزاء کی تفصیل طلب کی ہے۔اا کے لئے مولانا معین الدین اشرفی کی ہدایت پر رضااکیڈمی نے عالمی ادارۂ صحت کے صدر کو مکتوب روانہ کیا ہے۔رضا اکیڈمی یہ جاننا چاہتی ہے کہ کرونا ویکسن بنانے کیلئے سور کی چربی تو استعمال نہیں کی گئی۔واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے ممبئی کی بلال مسجد میں رضا اکیڈمی کے بینر تلے کرونا ویکسن سے متعلق 9 مسلم تنظیموں کی ایک مشترکہ میٹنگ کا انعقاد کیا گیا تھا۔اس میٹنگ میں کرونا ویکسن کی تیاری میں سور کا گوشت ملائے جانے سے متعلق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی خبروں سے متعلق غور وفکر اور بحث کی گئی تھی۔

 


ایسی جعلی جماعتیں سبزی فروش کی طرح فتویٰ‌ لے لو، فتویٰ‌ لے لو ،کرکے فتویٰ‌ بیچ رہی ہیں، کرونا ویکسن آئے گی تویہ لوگ پہلے خود ویکسن لے لیں گے اور پھر فتویٰ‌ جاری کر کے لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیں گے

نئی دہلی: مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے جمعرات کے روز کہا کہ فتویٰ‌ دینے والی جعلی جماعتیں عوام کی فلاح کے برخلاف کام کررہی ہیں اور وہ انسانیت کی دشمن ہیں۔خبر رساں ایجنسی ANI سے گفتگو کے دوران نقوی نے کہا کہ ایسی جعلی جماعتوں نے فتویٰ‌ کی دکانیں کھول رکھی ہیں اور ایک سبزی فروش جس طرح اپنے ٹھیلے پر سبزیاں فروخت کرتا ہے، اسی طرح یہ بھی فتویٰ‌ لے لو ،فتویٰ‌ لے لو، کے مصداق فتویٰ‌ بیچ رہے ہیں۔جب کرونا ویکسن آجائے گی تو یہ ان لوگوں میں سے ہوں جو خود پہلے ویکسن لے لیں گے اور پھر فتویٰ‌ جاری کرکے دوسروں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیں گے۔قبل ازیں وہ لوگ اس ویکسن پر فتویٰ‌ جاری کرتے تھے جو عازمین حج کو محفوظ رکھنے کیلئے دی جاتی تھی۔ اب وہ لوگ کرونا ویکسن سے متعلق ویسا ہی کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔یہ ان کی عادت ہے، وہ عوام کی صحت اور ان کی فلاح و بہبود کے ساتھ کھلواڑ کرنا چاہتے ہیں۔اس سے قبل ان لوگوں نے ڈینگو کی ویکسن پر بھی سوالات اٹھائے تھے۔وہ مکمل طور پر عوام کی فلاح اور انسانیت کے برخلاف کام کررہے ہیں۔نقوی نے کہا کہ جو لوگ شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت کررہے ہیں انہیں سمجھنا چاہیے کہ حکومت ہمارے پڑوسی ممالک میں ظلم کا شکار ہونے والے عوام کو انصاف دینے کیلئے یہ قانون لاگو کررہی ہے۔نقوی نے خاص طور پر پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اقلیتوں پر کئے جانے والا ظلم کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔جو لوگ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف سوالات اٹھا رہے ہیں انہیں سمجھنا چاہیے کہ حکومت ظلم کے شکار عوام کو انصاف دلانے کیلئے مذکورہ قانون لارہی ہے۔پاکستان میں عورتوں اور بچوں کو بے رحمی سے قتل کیا جارہا ہے۔جن لوگوں کو بھارت فوبیا(Bharat Phobia ) ہے وہ ہندوستان میں اقلیتوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں۔انہیں پڑوسی ملک کے حالات دیکھنا اور پڑھنا چاہیے۔وہاں ظلم کی تمام حدیں پار کر دی گئی ہیں۔نقوی نے مزید کہا کہ دنیا کو دیکھنا چاہیے کہ پاکستان میں کس طرح اقلیتوں کو قتل کیا جارہا ہے۔نقوی نے پاکستان کے حالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس ملک میں جہاں آزادی کے وقت اقلیتوں کی آبادی کا تناسب 25 سے 26 فیصدی تھا آج 2 فیصدی سے بھی کم ہے، اور ہندوستان جہاں آزادی کے وقت اقلیتوں کی آبادی کا تناسب 9 فیصدی تھا آج 20 فیصدی ہے۔