Articles by "Coronavirus"
Showing posts with label Coronavirus. Show all posts

کلب کے دیگر تین کھلاڑی بھی کرونا سے متاثر، ٹیسٹ منفی آنے کے بعد فرانس واپسی متوقع

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق میسی کے کلب پیرس سینٹر جرمین نے فرنچ کپ میں وینز کے خلاف میچ سے قبل سپراسٹار سمیت چار کھلاڑیوں کے کرونا وائرس کا شکار ہونے کی تصدیق کی۔میسی ان دنوں ارجنٹینا میں اپنے آبائی علاقے میں چھٹیاں منارہے ہیں اور اسی دوران ان کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔دنیا کی سابق سب سے پستہ قد خاتون کی موت

پی ایس جی کے کوچ ماریشیو پوچٹینو نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ میسی مستقل ہماری میڈیکل سروس سے رابطے میں ہیں اور جب ان کا ٹیسٹ منفی آ جائے گا تو وہ فرانس واپس آ جائیں گے۔میسی کو بارسلونا چھوڑ کر پی ایس جی آنے کے بعد سے مستقل مشکلات کا سامنا ہے اور وہ اپنے نئے کلب میں 11 میچوں میں صرف ایک گول اسکور کر سکے ہیں البتہ چیمپیئنز لیگ میں انہوں نے پانچ بار گیند کو گول کی راہ دکھائی ہے۔

وائرس کا شکار ہونے کی وجہ سے میسی پیر کو ہونے والے میچ میں شرکت نہیں کر سکیں گے جبکہ اتوار کو ہونے والے میچ میں بھی ان کی شرکت مشکوک ہے۔ وائرس کا شکار ہونے والے پی ایس جی کے بقیہ تین کھلاڑیوں میں جوآن برنیٹ، متبادل گول کیپر سرجیو ریکو اور مڈفیلڈر نیتھن بیٹومزالا شامل ہیں۔پی ایس جی کے کوچ کے مطابق یہ تین کھلاڑیوں اس وقت آئسولیشن میں ہیں اور ٹیسٹ منفی آنے تک آئسولیشن میں ہی رہیں گے۔

ماریشیو پوچٹینو نے کہا کہ ہم دو سال سے وائرس کے ساتھ جی رہے ہیں اور ہر کوئی جانتا ہے کہ وائرس کا شکار نہ ہونے کے لیے کیا کرنا چاہیے لیکن اگر پھر بھی ہم اس کا شکار ہو جائیں تو ہم اس کو کنٹرول نہیں کر سکتے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم عالمی سطح پر اس خطرے کے ساتھ جی رہے ہیں اور فٹبال میں ہمارا رابطہ ہونا ناگزیر ہیں کیونکہ ہم ایک ہی ڈریسنگ روم شیئر کرتے ہیں۔واضح رہے کہ فرانس میں کرونا وائرس کے کیسز اس ہفتے یومیہ 2لاکھ تک پہنچ چکے ہیں۔

ملک بھر میں اومیکرون متاثرین کی تعداد بڑھ کر 396 ہوئی، مہاراشٹر میں آج رات سے پابندیاں سخت

آج مہاراشٹر میں اومیکرون کے 20 نئے معاملات سامنے آئے اسی کے ساتھ مہاراشٹر 100 اومیکرون مریضوں والی پہلی ریاست بن گئی ہے۔ مہاراشٹر میں اومیکرون مریضوں کی مجموعی تعداد 108 ہوگئی ہے۔ اس کے علاوہ مغربی بنگال میں آئرلینڈ سے لوٹا 27 سالہ نوجوان اور گجرات میں 13 افراد اومیکرون سے متاثر پائے گئے ہیں۔ملک میں کرونا کے نئے ویرئینٹ سے متاثرین کی تعداد بڑھ کر 396 ہوگئی ہے۔ مہاراشٹر وزارتِ صحت کے مطابق جمعہ کے روز اومیکرون سے متاثر پائے گئے مریضوں میں 11 مریض ممبئی کے ہیں جبکہ 6 مریض پونے کے ہیں۔اس کے علاوہ 2 مریض ستارا ضلع کے اور ایک مریض احمد نگر کا ہے۔ 

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔صحافت کا انسائیکلوپیڈیا صحیفئہ صحافت اردو کتاب میلہ میں دستیابeficial-Book-For-All.html

اومیکرون کے بڑھتے ہوئے معاملات کو مدنظر رکھتے ہوئے مہاراشٹر حکومت نے دبئی سے ممبئی لوٹنے والے تمام مسافروں کو سات دنوں کیلئے ہوم کورنٹائن کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کے علاوہ آج رات سے ریاست بھر میں کرونا گائیڈ لائن کا نفاذ بھی عمل میں آئے گا، ایک مقام پر پانچ لوگوں کے جمع ہونے پر بھی پابندی ہوگی۔


پیڈیاٹرک ٹاسک فورس کی سفارشات پر آج کابینی میٹنگ میں اہم فیصلے کا امکان، دسمبر میں کرونا کی تیسری لہر متوقع
کے جی سے ساتویں جماعت تک آف کلاسیں شروع کئے جانے سے متعلق پیڈیاٹرک ٹاسک فورس کی سفارشات پر عمل آوری کرتے ہوئے ریاستی وزیرِ صحت راجیش ٹوپے نے بدھ کے روز کہا کہ اول تا چہارم جماعت کیلئے جلد ہی آف لائن کلاسیس کا آغاز کیا جائے گا۔آج بروز جمعرات ریاستی کابینہ کی متوقع میٹنگ میں تجاویز پر فیصلہ لئے جانے کا امکان ہے۔
حالانکہ راجیش ٹوپے نے 12 سے 18 سال کی عمر کے بچوں کے ویکسینیشن پر زور دیا۔ انہوں نے صحت کارکنان اور فرنٹ لائن ورکرس کو بوسٹر ڈوز دینے سے متعلق مرکزی حکومت سے اپیل بھی کی۔حال ہی میں انہوں نے یونین ہیلتھ منسٹر منسکھ مندیویا اور دیگر افسران کے سامنے اس معاملہ کو اٹھایا تھا۔راجیش ٹوپے نے کہا کہ انہوں نے مجھے مطلع کیا تھا کہ وہ اس معاملے پر غور وخوض کررہے ہیں۔یہ مرکزی حکومت کا حکم ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے میں جلد ہی کوئی فیصلہ لیں گے۔
راجیش ٹوپے نے کہا کہ میں نے منگل کے روز ڈاکٹر سہاس پربھو کی زیرِ قیادت ریاستی پیڈیاٹرک ٹاسک فورس کے ساتھ میٹنگ کی تھی۔انہوں نے سفارش پیش کی کہ سوشل ڈسٹنسنگ اور دیگر احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے ہوئے اول تا چہارم جماعت کیلئے دوبارہ اسکولیں کھولی جاسکتی ہیں۔اس معاملے میں ڈاکٹر پربھو نے کہا کہ ٹاسک فورس نے تمام سخت پروٹوکول کی پاسداری کے ساتھ اسکولیں کھولنے کی سفارش پیش کی تھی۔ سفارشات محکمہ صحت اور محکمہ تعلیم میں داخل کردی گئی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں راجیش ٹوپے سے تفصیلی بات چیت ہوئی تھی۔ 18 سال سے کم عمر بچوں کو ویکسن لگانے سے متعلق ڈاکٹر پربھو نے کہا کہ ایسا اس وقت کیا جاسکتا ہے جب ویکسن کی قلت نہ ہو۔ حالانکہ انہوں نے واضح کیا کہ اسکولیں دوبارہ کھولنے کیلئے ویکسینیشن لازمی نہیں ہے۔ انہوں نے بچوں میں قوت مدافعت تیزی سے بڑھانے پر زور دیا۔
تیسری لہر:
راجیش ٹوپے نے حالانکہ کرونا کے نئے معاملات کافی کم ہوئے ہیں لیکن خطرہ اب بھی قائم ہے۔ دسمبر میں مہاراشٹر میں کرونا کی تیسری ہلکی لہر ہوگی۔راجیش ٹوپے نے کہا کہ مہاراشٹر میں 80 فیصد سے زائد لوگوں نے ویکسین لگوایا لیا ہے جو وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔انفیکشن کی شرح کافی کم ہوئی ہے جبکہ اموات تقریبا صفر کے قریب ہیں۔ دسمبر میں تیسری لہر کے امکانات ہیں لیکن ویکسینیشن کے سبب قوت مدافعت میں اضافہ ہوا ہے، اس بات کا یقین ہے کہ انفیکشن ہلکا ہوگا اور آئی سی یو اور آکسیجن کی ضرورت کم پڑے گی۔
کرونا عفریت کے دوران 2021ء میں راج ٹھاکرے نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ میں ماسک نہیں پہنتا
مہاراشٹر نونرمان سینا سربراہ راج ٹھاکرے کی کرونا رپورٹ مثبت آئی ہے۔ ان میں کرونا کی معمولی علامات ظاہر ہوئی ہیں۔ واضح رہے کہ راج ٹھاکرے کی ماں بھی کرونا سے متاثر ہیں۔ فی الحال راج ٹھاکرے نے اپنے آپ کو ہوم کورنٹائن کرلیا ہے۔ انہوں نے ٹوئیٹر کے ذریعے گذشتہ ایک ہفتے کے دوران ان کے رابطے میں آنے والے افراد سے کرونا ٹیسٹ کروانے کی اپیل کی ہے۔
راج ٹھاکرے گذشتہ کئی روز سے ناسک اور پونے سمیت کئی دیگر شہروں کے دورے پر تھے۔ اس دوران پارٹی کے عہدیداران کے ساتھ میٹنگ بھی ہوئی۔واضح رہے کہ کرونا عفریت کے دور میں بھی راج ٹھاکرے کبھی ماسک لگائے نظر نہیں آئے۔ وہ اپنی رہائش کرشنا کنج پر بھی کوگوں سے بنا ماسک پہنے ملاقات کرتے ہیں۔بی ایم سی افسران کے مطابق راج ٹھاکرے اور ان کی ماں کو کرونا کے دونوں ڈوز لگ چکے ہیں۔اطلاعات کے مطابق راج ٹھاکرے اور ان کی ماں کو لیلاوتی اسپتال لے جایا گیا ہے جہاں انہیں مونو کلونل اینٹی باڈی کاکٹیل دیا جائے گا۔اینٹی باڈی دیئے جانے کےبعد تین گھنٹے میں دونوں کو گھر روانہ کردیا جائے گا۔کرونا سے متاثر ہونے کی تصدیق کے بعد راج ٹھاکرے نے تمام تقریبات ملتوی کردی ہیں۔
کرونا کی دوسری لہر کی ابتداء سے قبل فروری 2021 میں ایک پریس کانفرنس کے دوران جب میڈیا نمائندوں سے راج ٹھاکرے سے ماسک نا پہننے پر سوال کیا تو انہوں نے کہا تھا کہ میں ماسک نہیں پہنتا۔اگر ریاست میں کرونا تیزی سے بڑھ رہا ہے اور لوگوں کی جان کو خطرہ ہے تو کارپوریشن انتخابات کو ملتوی کیا جانا چاہیے۔ اس سے قبل 2020 میں ماسک نا پہننے پر راج ٹھاکرے پر ایک ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔


جمعرات کو صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند سے ملاقات طے، ویکسن کی ڈبل ڈوز لینے کے باوجود ممتا بنرجی کو کرونا ٹیسٹ کروانے کی ہدایت

مغربی بنگال میں شاندار کامیابی حاصل کرنے اور تیسری مرتبہ وزیراعلی بننے کے بعد ممتا بنرجی پہلی مرتبہ دہلی پہنچیں اور انہوں وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔وزیراعظم سے ملاقات کے دوران ممتا بنرجی نے بنگال کا نام تبدیل کرنے، ویکسن کی فراہمی اور دیگر مدعوں پر گفتگو کی۔نریندر مودی سے ملاقات کے بعد ممتا بنرجی نے میڈیا نمائندوں سے بات چیت کے دوران کہا کہ آج وزیراعظم سے ملاقات ہوئی، دیگر ریاستوں کے مقابلے آبادی کے تناسب سے ہمیں کم ویکسن فراہم کی گئی ہے اسلئے مزید ویکسن فراہم کرنے پر وزیراعظم سے بات ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔کسمبا روڈ ملن ہوٹل کے قریب قاتلانہ حملہ میں نوجوان کی موت

ممتا نے کہا کہ بنگال کا نام تبدیل کرنے سے متعلق بھی وزیراعظم سے بات کی گئی ہے اس پر وزیراعظم نے غور کرنے کا تیقن دیا ہے۔بنگال کی وزیراعلی نے پیگاسس معاملے پر کہا کہ میں چاہتی ہوں کہ پیگاسس معاملے پر وزیراعظم آل پارٹی میٹنگ بلائیں اور سپریم کورٹ کے ذریعے اس معاملے کی جانچ کروائیں۔ اب جمعرات کے روز ممتا بنرجی صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند سے ملاقات کریں گی، اس سے قبل انہیں دہلی میں کرونا ٹیسٹ کروانے کی ہدایت دی گئی ہے۔اس تعلق سے ممتا نے کہا کہ صدر جمہوریہ سے ملاقات کیلئے جمعرات کا وقت دیا گیا ہے، ۔ملاقات سے قبل کرونا ٹیسٹ کروانے کی ہدایت دی گئی ہے جبکہ میں نے ویکسن کی ڈبل ڈوز لی ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔بنیادی سہولیات سے محروم رمضان پورہ کے عوام کا کارپوریشن میں ہنگامہ

واضح رہے کہ ممتا نے طویل عرصے بعد دہلی کا دورہ کیا ہے۔ اس پانچ روزہ دورے سے متعلق ایسی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ ممتا تمام اپوزیشن لیڈران کو متحد کرکے بی جے پی مخالف محاذ بنانا چاہتی ہیں۔اس دورہ پر وہ کانگریس صدر سونیا گاندھی، دہلی کے وزیراعلی اروند کیجریوال اور این سی پی سربراہ شرد پوار سے بھی ملاقات کریں گی۔

دنیا کرونا کی تیسری لہر کی سمت تیزی سے بڑھ رہی ہے، ہندوستان کیلئے آئندہ 125 دن نہایت اہم، تیسری لہر ایک بڑا چیلنج ثابت ہوسکتی ہے

کرونا کے نئے معاملات میں تیزی کے ساتھ کمی ہونے کے باعث لوگوں میں لاپرواہی بڑھتی جارہی ہے۔اس درمیان جمعہ کے روز مرکزی حکومت نے کہا کہ ہندوستان اب تک کووڈ-19 کے خلاف ہرڈ امیونٹی حاصل نہیں کرسکا ہے اس لئے وائرل انفیکشن اور کرونا کی تیسری لہر کے امکانات سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔اس وباء پر قابو پانے کیلئے آئندہ 125 روز بہت اہم ہیں۔نیتی آیوگ کے رکن ڈاکٹر وی کے پال نے کہا کہ ہمیں اب وائرس کو پھیلنے سے روکنے کی ضرورت ہے، اور یہ کووڈ کے خلاف احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کرکے ہی ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم اب تک کرونا کے خلاف ہرڈ امیونٹی تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔ہم اس وائرس کے پھیلاؤ کی نئی شکل کے طور پر اس کی تباہ کاریاں دیکھ سکتے ہیں لیکن اب اس کے پھیلاؤ کو روکنا ہوگا اور یہ تب ہی ممکن ہے جب ہم محفوظ زون میں رہنے کیلئے کرونا کے خلاف گائیڈ لائن پر سختی سے عمل پیرا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ کرونا کے خلاف لڑائی میں آئندہ 125 دن نہایت اہم ہوں گے۔تیسری لہر سے متعلق ڈاکٹر وی کے پال نے کہا کہ اکثر علاقوں میں صورتحال بد سے بدتر ہوگئی ہے۔کل ملاکر دنیا تیسری لہر کی طرف بڑھ رہی ہے۔ڈبلیو ایچ او نے کرونا کی تیسری لہر سے متعلق انتباہ دیا ہے کہ اسے غیر سنجیدگی سے نہیں لیا جاسکتا، تیسری لہر ایک بڑا چیلنج ہوگی۔کرونا معاملات میں کمی کے بعد کئی طرح کی راحت دی گئی ہے، عام زندگی کو دوبارہ معمول پر لانے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن ان لاک کے دوران بڑی تعداد میں لوگ کرونا اصولوں اور قوانین کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔ماسک کے استعمال میں کمی آئی ہے۔مرکزی محکمہ صحت کے سکریٹری لو اگروال نے کہا کہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ زندگی معمول پر آنے اور بہت سے سرگرمیاں جاری ہونے کے بعد لوگوں نے ماسک کا استعمال ترک کردیا ہے۔ہمیں اپنی روزمرہ زندگی میں ماسک کے استعمال کو لازمی طور پر شامل کرلینا چاہیے۔لو اگروال نے کہا کہ کرونا کے معاملات میں دوبارہ اضافہ ہورہا ہے۔ میانمار، انڈونیشیا، ملیشیا اور بنگلہ دیش میں کرونا کی تیسری لہر کا انتباہ جاری کردیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاورلوم صنعت سے متعلق مفتی اسمعیل کی نمائندگی پر سوال، رکن اسمبلی کی وضاحت

وزارت صحت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نے آج 6 ریاستوں (کیرالہ، کرناٹک، مہاراشٹر، آندھراپردیش، تمل ناڈو اور اڈیشہ) کے وزرائے اعلی سے بات کی۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ ابھی بھی کچھ ریاستوں میں مزید نئے معاملات درج کئے جارہے ہیں۔ وزیر اعظم نے کوویڈ کی حکمت عملی پر زور دیا ہے۔پی ایم مودی نے ان ریاستوں کو بتایا ہے کہ پی ایم کیئرز نے پی ایس اے پلانٹس کو منظوری دے دی ہے۔ اس کام کی نگرانی کے لئے نوڈل آفیسر مقرر کئے جائیں گے اور انہیں اگلے 15 دن میں مقرر کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ بچے بھی تیسری لہر میں متاثر ہوسکتے ہیں، ان کی حفاظت کے لئے مناسب منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر وی کے پال نے کہا کہ ویکسین کی خوراک سے اموات کی شرح میں 82 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔جبکہ دوسری لہر کے دوران ویکسین کی دو خوراک سے کرونا کی وجہ سے ہونے والی 95فیصد اموات کو روکنے میں کامیاب ملی ہے۔

لوگوں کو متوجہ کرنے اور ویکسن لگوانے پر راضی کرنے کیلئے انوکھی اسکیم، 50 خاندانوان کو سال بھر مفت گوشت فراہم کرنے کا اعلان

واشنگٹن: کرونا ویکسینیشن کا کام پوری دنیا میں زور و شور سے جاری ہے۔لوگوں کو ویکسن لگوانے پر راضی کرنے کیلئے مختلف حربے استعمال کئے جارہے ہیں۔ ایک امریکی کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ ویکسین لگوانے والے افراد کو پورا سال مفت گوشت فراہم کیا جائے گا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دنیا بھر میں کورونا وباء سے محفوظ رہنے کے لیے کورونا ویکسین لگوانے پر زور دیا جا رہا ہے جس کے لیے مختلف ممالک میں لوگوں کو متوجہ کرنے کے لیے ویکسین لگوانے والوں کے لیے اسکیموں کا اعلان بھی کیا جا رہا ہے۔اسی طرح اب امریکہ میں ایک گوشت فراہم کرنے والے مشہور کمپنی جے بی ایس ایس اے نے اعلان کیا ہے کہ ویکسین لگوانے والے 50 خاندانوں کو ایک سال تک مفت گوشت فراہم کیا جائے گا۔واضح ہے کہ یہ وہی کمپنی ہے جس کے اکثر ملازمین کورونا کی وجہ سے بیمار ہوئے تھے جس کی وجہ سے اس کمپنی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ جس کے بعد اس کمپنی کی ذیلی شاخ پلگرمز پرائیڈ کو بھی بند کرنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔ جس کی وجہ سے گوشت کی فراہمی متاثر ہوئی اور گوشت مہنگا بھی ہوا تھا۔

تاہم اب کمپنی نے اعلان کیا کہ اس کے 66 ہزار کارکنوں کی 70 فیصد تعداد کو ویکسین لگادی گئی ہے لیکن ساتھ ہی غریب، دیہی اور پسماندہ علاقوں کے افراد کو بھی ویکسین لگوانے کی ترغیب کے طور پر مفت گوشت فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔دوسری جانب امریکی صدر جو بائیڈن نے اعلان کیا تھا کہ اس سال چار جولائی یومِ آزادی تک امریکہ کی 70 فیصد بالغ آبادی کو کم ازکم ایک خوراک فراہم کردی جائے گی۔ تاہم ماہرین نے کہا ہے کہ یہ ہدف بظاہرناممکن نظر آرہا ہے۔

پوپی میں انتظامیہ کی لاپروائی کی حد! کچھ عرصے قبل کرونا سے متاثر ہوکر مرنے والے ٹیچر کی الیکشن ڈیوٹی لگا دی گئی

یوپی کے جھانسی سے انتظامیہ کی بے حسی اور لاپروائی کا ایک عجیب واقعہ سامنے آیا ہے۔جھانسی میں پنچایتی انتخابات میں ایک ایسے ٹیچر کی ڈیوٹی لگا دی گئی جس کا کچھ عرصے قبل الیکشن ڈیوٹی کے دوران کرونا سے انتقال ہوچکا ہے۔بے حس انتظامیہ نے مر چکے ٹیچر کی الیکشن ڈیوٹی کے نام کی سلپ جاری کی اور اسے تربیتی کیمپ میں شامل ہونے کا حکم دیا۔انتظامیہ کی اس حرکت سے مرحوم ٹیچر کے اہل خانہ کافی ناراض ہیں۔اس کے علاوہ انتظامیہ نے ایسے بھی کچھ ٹیچروں کی الیکشن ڈیوٹی لگائی ہے جو کرونا پازیٹیو ہیں۔واضح رہے کہ گرام پردھان سمیت گرام پنچایت اراکین کے انتخاب کیلئے ضمنی انتخابات کرائے جارہے ہیں۔اس لئے ٹیچروں کو ڈیوٹی پر مامور کیا جارہا ہے۔لیکن جھانسی میں پچھلے دنوں کرونا سے مرنے والے سورو کمار نامی ٹیچر کی بھی ڈیوٹی لگا دی گئی اور اسے حاضر ہونے کا فرمان جاری کردیا گیا۔

اس حکم کے بعد متوفی کے اہل خانہ کے زخم ہرے ہوگئے ہیں۔ضلع ادھیکاری کے ذریعے جاری اس نوٹس میں متوفی سورو کمار کو جھانسی ضلع کے وکاس کھنڈ کے پولنگ بوتھ نمبر 81 پر بحیثیت افسر تعینات کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔انہیں 10 جون کو تربیتی کیمپ میں حاضر ہونے کا حکم دیا تھا لیکن غیر حاضر رہنے کی صورت میں سخت کارروائی کا نوٹس بھی دیا گیا۔ان کے اہل خانہ کو جب اس کا علم ہوا تو انہیں شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ممکن ہے کہ کرونا سے مرنے والے دیگر اساتذہ کو بھی ڈیوٹی پر تعینات کیا گیا ہوگا۔

 

 

لاک ڈاؤن مرحلہ وار ختم کرنے کو اصولی طور پر منظوری لیکن حتمی فیصلہ وزیراعلی ادھو ٹھاکرے کریں گے: ویٹیوار کی وضاحت

مہاراشٹر: جمعرات کے روز مہاراشٹر حکومت کے وزیر برائے ریلیف اینڈ ری ہیبیلیٹیشن وجئے ویٹیوار کے ذریعے مہاراشٹر میں ان لاک کے مرحلہ وار لائحہ عمل کا اعلان کرنے کے کچھ ہی دیر بعد شیوسینا کی زیرقیادت مہا وکاس اگھاڑی حکومت نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں لاک ڈاؤن جاری رہے گا۔جمعہ کے روز سے 36 اضلاع میں سے 18 اضلاع میں لاک ڈاؤن کی پابندیاں ختم نہیں ہوں گی۔حکومت نے کہا کہ لاک ڈاؤن ختم نہیں کیا گیا ہے بلکہ تجویز پر غوروخوص جاری ہے۔مہاراشٹر اس تعلق سے آئندہ ایک دو روز میں تفصیلی ہدایات جاری کرے گی۔حکومت نے ان لاک سے متعلق وضاحت میں کہا کہ ہم نے اب تک کووڈ پر مکمل طور پر قابو نہیں پایا ہے، کچھ دیہی علاقوں میں وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔وائرس کی نئی اشکال اور خطرات کو مد نظر رکھتے ہوئے اس بات پر غور کرنا اہمیت کا حامل ہے کہ پابندیاں ختم کی جانی چاہیے یا نہیں۔فی الوقت ریاست میں پابندیاں ختم نہیں کی گئی ہیں۔بریک دی چین کے تحت حکومت نے کچھ راحت دینے کا آغاز کیا ہے۔اسٹیٹ ڈزاسٹر مینجمینٹ(SDMA) ہفتے وار پازیٹیوویٹی ریٹ اور آکیسجن بیڈ کی دستیابی کی بنیاد پر پانچ مراحل میں ان لاک کے لائحۂ عمل پر غور کررہی ہے۔ پابندیاں ختم کرنی ہیں یا سخت کرنی ہیں اس تعلق سے جلد ہی حکومت رہنما ہدایات جاری کرے گی۔وزیراعلی ادھو ٹھاکرے کی سربراہی میں منعقد ڈزاسٹر مینجمینٹ کی میٹنگ میں شرکت کرنے والے وجئے ویٹیوار نے اعلان کیا تھا کہ ریاست کے 36 اضلاع میں سے 18 اضلاع میں تمام سرگرمیاں جاری کی جائیں گی۔انہوں نے کہا تھا کہ حکومت نے ان لاک کیلئے پانچ مراحل میں درجہ بندی کی ہے۔پہلے مرحلے میں کووڈ-19 پازیٹیوویٹی ریٹ 5 فیصد اور آکیسجن کی دستیابی 25 فیصد ہونے پر ان لاک کیا جائے گا۔

پہلے مرحلے میں وہ اضلاع جہاں کووڈ-19 پازیٹیوویٹی کی شرح 5 فیصد ہے اور آکسیجن کی دستیابی 25 فیصد کے اندر ہے انلاک ہوجائے گا۔ ان اضلاع میں تھانہ، اورنگ آباد، لاتور، ناندیڑ، جالنہ، پربھنی، بلڈانہ، ناسک، جلگاؤں دھولیہ، ناگپور، بھنڈارا، گڈچرولی، چندر پور، گونڈیا، وردھا، واشم اور ایوت محل ان 18 اضلاع میں جم، سیلون، باغات، واکنگ ٹریک، ریستوران، مالز اور تھیٹر کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔ نجی، سرکاری دفاتر 100 فیصد حاضری کے ساتھ شروع ہوں گے۔عوامی تقریبات ، شادی کی تقریبات میں بھی 100 فی صد حاضری کی اجازت ہوگی۔اس کے علاوہ بسیں 100 فیصد کیپیسٹی کے ساتھ چل سکتی ہیں اور بین ضلعی سفر کی بھی اجازت دی گئی ہے۔  وزراء کے مطابق ای کامرس کمپنیاں فعال رہیں گی۔ نجی اور سرکاری دفاتر میں صدفیصد عملے کی موجودگی کے ساتھ کام کرنے کی اجازت ہوگی۔دفعہ 144 کے تحت کرفیو اور ممنوعہ آرڈر ختم کردیا گیا ہے۔ بین ضلعی سفر کی اجازت ہے لیکن دوسری ریاستوں سے آنے والے لوگوں پر پابندی ہوگی۔تاہم حکومت نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ریاست کو ان لاک کرنے کی تجویز ابھی زیر غور ہے اور اضلاع کے متعلقہ انتظامی یونٹوں کی طرف سے مکمل جائزہ لینے کے بعد اس پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ سی ایم او کی جانب سے وضاحت جاری کرنے کے بعد ویٹیوار نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ مثبت شرح اور آکسیجن بستروں کی دستیابی کی بنیاد پر لاک ڈاؤن مرحلہ وار ختم کرنے کو اصولی طور پر منظوری دی گئی تھی لیکن کوئی حتمی فیصلہ نہیں لیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس میٹنگ میں وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے اور نائب وزیر اعلی اجیت پوار بھی موجود تھے۔  ویٹیوار کے مطابق ان لاک سے متعلق حتمی فیصلہ وزیراعلی کریں گے۔

 

ملک میں کرونا کے حالات پر اویسی حکومت اور مودی پر برہم، مودی حقیقت سے دور ہیں، کرونا کو شکست دینے کے دعوے کی قلعی کھل گئی، دسمبر تک 75 کروڑ ویکسن کہاں سے لائیں گے مودی؟

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین سربراہ اسدالدین اویسی نے ملک میں کرونا کے سنگین حالات کے پیش نظر بی جے پی حکومت اور خاص طور پر وزیراعظم نریندر مودی پر سنگین الزامات عائد کئے ہیں۔ایک انٹرویو میں اویسی نے مودی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ جو شخص زمین سے اٹھ کر وزیراعظم بنا ہے اسے کے علاقے وارانسی میں گنگا ندی میں لاشیں تیر رہی ہیں اس سے برا اور کیا ہوسکتا ہے۔ایک ٹی وی چینل کے ساتھ بات چیت کے دوران حہدرآباد کے رکن پارلیمان اسدالدین اویسی نے حکومت پر کرونا کی دوسری لہر کیلئے تیاری نہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔اویسی نے کہا کہ حکومت کو پتہ تھا کہ کرونا کی دوسری لہر آئے گی لیکن حکومت نے اس کی تیاری نہیں کی اور اب حکومت جھوٹ پر جھوٹ بول رہی ہے۔جبکہ ملک میں لاشوں کا ڈھیر لگتا جارہا ہے۔انہوں نے کووڈ سے ہقنے والے اموات کے اعداد وشمار کو بھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق ملک بھر میں چار سے پانچ لاکھ اموات ہوئی ہیں۔یہ بات تو ان کے اخباروں نے لکھی ہے کہ صرف دو ہزار لاشیں تو اترپردیش میں ملی ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت پہلے تو سوتی رہی اور یہ کہتی رہی کہ ہم نے کرونا کو شکست دے دی ہے۔حتی کہ وزیراعظم نریندر مودی نے پارلیمنٹ میں خود یہ دعوی کیا تھا کہ حکومت کووڈ کے خلاف جنگ میں کامیاب ہوگئی ہے۔یہ کیسی کامیابی کا دعوی تھا۔حکومت نے بروقت ویکسن کی تیاری کا آرڈر بھی نہیں دیا تھا۔اسی لئے آج ملک میں ویکسن آسانی سے دستیاب نہیں ہے۔حد تو یہ ہے کہ حکومت نے سپریم کورٹ میں یہ کہہ دیا کہ امسال دسمبر تک ملک میں ویکسن کے 75 کروڑ ڈوز دستیاب ہوجائیں گے۔اویسی نے سوال کیا کہ حکومت یہ 75 کروڑ ڈوز کہاں سے لائے گی۔اویسی نے مزید کہا کہ حالات تشویشناک ہیں، ہمیں سنجیدگی سے غور وفکر کرنا ہوگا کہ اس وقت کیا اقدامات کئے جائیں۔حکومت کے ذریعے مثبت سوچ رکھنے کی اپیل پر اویسی نے کہا کہ حکومت ہمیں بتادے کہ ہم مثبت سوچ کہاں سے لائیں، جن لوگوں نے اپنوں کو کھویا ہے وہ کیوں کر مثبت رویہ اپنا پائیں گے۔آکسیجن ملتی نہیں، بلیک فنگس کی دوا دستیاب نہیں ہے،لوگ مر رہے ہیں۔حکو۔ت نے ہر چیز کو مزاق بنا دیا ہے۔اسدالدین اویسی نے مزید کہا کہ وزیراعظم حقیقت سے دور رہتے ہیں، ملک کے ساتھ اتنا بے ربط کسی کو نہیں دیکھا۔جس گنگا کی صفائی کیلئے پلانٹ لگائے ہیں اسی گنگا میں لاشیں بہہ رہی ہیں۔اویسی لاک ڈاؤن کے مخالف رہے ہیں اس سوال کے جواب میں اویسی نے کہا کہ لاک ڈاؤن سے ویکسن پیدا نہیں ہوسکتی اور نہ ہی آکسیجن مل سکتی ہے اور نہ بیڈ۔پھر لاک ڈاؤن سے کیا فائدہ؟ اویسی نے بتایا کہ سینٹر فار مانیٹرنگ آف انڈین ایکونومی کے مطابق لاک ڈاؤن کے سبب 2 کروڑ 70 لاکھ روزگار گھٹ گئے ہیں۔حکومت بار بار روپے کی دستیابی کی بات کرتی ہے تو غریبوں کے اکاؤنٹ میں دس دس ہزار روپے کیوں نہیں ڈال دیتی۔

 

ریاست میں ان لاک کیلئے 5 مراحل پر مشتمل پروگرام تیار، ناسک سمیت 18 اضلاع کو لاک ڈاؤن سے راحت

مہاراشٹر: مہاراشٹر کے وزیر وجئے ویٹیوار نے اعلان کیا کہ جمعہ 4 جون سے میاراشٹر کے 36 میں 18 اضلاع میں لاک ڈاؤن مکمل طور پر ختم کردیا جائے گا۔ویٹیوار نے کہا کہ ادھو ٹھاکرے کی زیرقیادت مہا وکاس اگھاڑی حکومت نے کرونا معاملات کے مثبت معاملات کی شرح اور آکیسجن فراہمی کی بنیاد پر ایک ان لاک پروگرام ترتیب فیا ہے جو 5 مراحل پر مبنی ہے۔جن اضلاع میں مثبت مریضوں کی تعداد کم ہے ان اضلاع میں کوئی پابندیاں نہیں ہوں گی۔پہلے مرحلے میں جن اضلاع میں پازیٹیوویٹی ریٹ 5 فیصد اور آکیسجن کی دستیابی 25 فیصد تک ہوگی وہ علاقے ان لاک ہوں گے۔ان اضلاع میں تھانے، اورنگ آباد، لاتور، ناندیڑ، جالنہ، پربھنی، بلڈانہ، ناسک، جلگاؤں، دھولیہ، ناگپور، بھنڈارا، گڈچرولی، چندرپور، گونڈیا، وردھا، واشم اور ایوت محل شامل ہیں۔

ممبئی میں ان لاک سے متعلق وجئے ویٹیوار نے کہا کہ ابھی ممبئی میں ان لاک نہیں ہوگا۔دوسرے مرحلے میں ممبئی کو ان لاک کیا جائے گا۔ اگر ممبئی میں پازیٹیوویٹی ریٹ کم ہوتا ہے تو لوکل ٹرین شروع کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ممبئی لیول 2 پر ہے اگر لیول 1 پر آتا ہے تو لوکل ٹرین سروس کا آغاز کیا جائے گا۔

 

اساتذہ کو کرونا وارئیرس کی فہرست میں شامل کرنے، موت ہوجانے کی صورت میں مالی اعانت، تمام اسپتالوں میں بیڈ مختص کرنے اور طبی سہولیات دینے کا مطالبہ

راجدھانی دہلی میں کرونا کے نئے معاملات میں کمی آئی ہے لیکن اموات کا سلسلہ جاری ہے۔مختلف اسپتالوں میں لاشوں کے بہتر مینجمنٹ کیلئے دہلی حکومت نےایک حکم نامہ جاری کرتے ہوئے اسپتالوں کے مردہ گھروں میں اساتذہ کی ڈیوٹی لگا دی ہے۔دہلی نگر نگم شکشک سنگھ نے مردہ گھروں میں اساتذہ کی ڈیوٹی لگائے جانے کی مخالفت کی ہے۔دہلی نگر نگم شکشک سنگھ نے حکومت کے اس اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے وزیراعلی، نائب وزیراعلی، ہیلتھ منسٹر، ڈپیٹی گورنر اور پرائم منسٹر آفس کو ٹیگ بھی کیا ہے۔شکشک سنگھ نے ٹوئیٹ میں لکھا کہ اساتذہ کی ڈیوٹی مردہ گھروں میں لگا دی گئی ہے اور وہ بھی رات میں، جہاں اساتذہ کی حالت قابل رحم ہوگئی ہے۔کبھی بھی ڈر اور خوف کے سبب کسی کو دل کا دورہ پڑ سکتا ہے۔اساتذہ کو ایسے مقامات پر خدمات پر مامور نہیں کرنے دیا جانا چاہیے۔کھانے اور راشن کی تقسیم، ڈسپنسری،آئسولیشن سینٹر،ویکسینیشن سینٹر، آئی ٹی-پی سی آر ٹیسٹ کرنا،شمان گھاٹ، ماسک نہ لگانے پر جرمانہ وصول کرنا جیسی خدمات انجام دینے کے بعد بھی اساتذہ کو مردہ گھروں میں ڈیوٹی پر لگایا گیا ہے جس سے انہیں شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔نگر نگم شکشک سنگھ نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام اسپتالوں میں اساتذہ کیلئے کچھ بیڈ مختص کئے جائیں، انہیں کرونا یودھا تسلیم کرتے ہوئے موت ہوجانے کی صورت میں تمام سہولیات فراہم کی جائیں۔گذشتہ سال کرونا کے وقت موت ہونے پر دہلی حکومت نے کچھ اساتذہ کو مالی اعانت فراہم کی تھی لیکن اس مرتبہ ایسا کچھ بھی نہیں کیا گیا۔

نگر نگم شکشک سنگھ کے سینئر نائب صدر ویبھا سنگھ نے کہا کہ اساتذہ دیڑھ سال سے بطور کرونا وارئیرس کووڈ کیلئے مختلف خدمات انجام دے رہے ہیں۔حالانکہ کسی قسم کی کوئی سہولیت فراہم نہیں کی گئی۔اسکے علاوہ انہیں روٹیشن بھی نہیں دیا جارہا ہے۔ویبھا نے مزید کہا کہ دہلی حکومت، میونسپل کارپوریشن اور مرکزی حکومت سے درخواست ہے کہ اساتذہ کو بھی کرونا وارئیرس کی فہرست میں شامل کیا جائے۔جس طرح کرونا یودھاؤں کو وقفہ وقفہ سے روٹیشن دیا جاتا ہے، ایک ماہ کام کرنے کے بعد ایک ماہ چھٹی دی جاتی ہے اسی طرح اساتذہ کو بھی سہولت دی جائے۔ایک ڈیوٹی سے ہٹا کر فوری طور پر دوسری ڈیوٹی پر مامور نہ کیا جائے۔جب کہ اساتذہ کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا جارہا ہے۔

 

گائے کا پیشاب پینے سے متعلق بیان پر سادھوی کو سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا، یوزرس کا نے دیئے مشورے

کرونا وباء کےدوران برسراقتدار بی جے پی کے کچھ لیڈران کے ایسے بیانات سامنے آئے جن کے سبب انہیں سوشل میڈیا پر زبردست تنقیدوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔بی جے پی رکن پارلیمنٹ سادھوی پرگیہ نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ وہ روز گائے کا پیشاب پیتی ہیں اسلئے کرونا سے بچنے کیلئے انہیں کسی دوا کی ضرورت نہیں پڑی اور نہ ہی وہ کرونا سے متاثر ہوئی۔فلم اداکارہ سوارا بھاسکرنے سادھوی کے اس بیان پر طنز کستے ہوئے کہا کہ جس کے دماغ میں گوبر بھرا ہو وہ ملک کو اس حالت میں ہی لائیں گے۔سوارا بھاسکر نے این ڈی ٹی وی کا ایک ٹوئیٹ ری ٹوئیٹ کیا ہے جس میں سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کسی پروگرام میں عوام سےخطاب کرتے ہوئے گائے کے پیشاب کے فائدے بتا رہی ہیں۔سوارا نے کہا کہ بھائی  صاحب گوبر اور پیشاب کے علاوہ کچھ سوجھتا ہے ان کو؟ خیر جن کے دماغ میں گوبر بھرا ہو وہ ملک کا گڑ گوبر کریں ہی۔ویڈیو میں سادھوی کہہ رہی ہے کہ دیسی گائے کا پیشاب پینے سے ہماری بیماری دور ہوتی ہے، میں ہر روز گائے کا پیشاب پیتی ہوں اسلئے مجھے کرونا سے بچاؤ کیلئے کسی دوا کی ضرورت نہیں پڑی۔سادھوی کے اس بیان پر لوگوں کے ردعمل کا سلسلہ چل پڑا۔سید زبیر نام کے ایک یوزر نے کہا کہ پردھان منتری جی سواستھ منترالیہ کا نام بدل کر گئو متر منترالیہ کردیں اور سادھوی کو گئو متر منتری بنا دیں۔پیوش گوئل کو گئو متر ایکسپریس چلا کر ملک کے اسپتالوں میں گئو متر فراہم کرنے کی ذمہ داری دے دیں۔عمیق انصاری نامی ایک یوزر نے لکھا کہ  گائے کا پیشاب ہی استعمال کیا جائے ویکسن کیوں برباد کی جارہی ہے؟راہل شکلا نے بھوپال کی رکن پارلیمان کے بیان پر سوارا کے ٹوئیٹ کے جواب میں لکھا کہ بھوپال کی ذہین عوام پر لعنت بھیجئے۔ایک یوزر نے یہ بھی لکھا کہ اگر سادھوی کو گئو متر والے تجربے پر اتنا ہی یقین ہے تو سیدھے وزیراعظم کو ہی کیوں نہیں سمجھا دیتیں۔پھر وزیراعظم خود لوگوں سے گائے کا پیشاب پینے کی اپیل کریں گے۔ایک رکن پارلیمان کو زیب نہیں دیتا کہ وہ ہوا میں باتیں کریں، حکومت ان کی پارٹی کی ہے۔واضح رہے کہ کچھ روز قبل اتراکھنڈ کے وزیراعلی تیرتھ سنگھ راوت نے بیان دیا تھا کہ کرونا بھی ایک جاندار ہے جسے جینے کا حق ہے۔

 

کرونا گائیڈ لائن کی پاسداری نہایت ضروری، لاپروائی پورے سماج کو پریشانی میں مبتلا کرسکتی ہے

ڈر اور خوف میں مبتلاء ہوکر گھروں میں آکسیجن سلینڈر اور ریمیڈی سیور کا ذخیرہ نہ کریں: محکمہ صحت کے جوائنٹ سکریٹری لو اگروال کی اپیل

کرونا کی دوسری لہر اور مریضوں کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ کے درمیان محکمہ صحت نے لوگوں کے جھوٹی بہادری دکھانے پر انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ کرونا گائیڈ لائن اور رہنما ہدایات پر عمل کریں۔منترالیہ نے کہا کہ ہم تھک سکتے ہیں لیکن وائرس نہیں تھکے گا۔حالات سے نمٹنے کیلئے سبھی کی حصے داری اور تعاون پر زور دیتے ہوئے مرکزی محکمہ صحت کے جوائنٹ سکریٹری لو اگروال نے لوگوں سے اپیل کہ وہ اپنے گھروں میں آکیسجن سلینڈر کا ذخیرہ نہ کریں۔پریس کانفرنس کے دوران اگروال نے کہا کہ ہم اس جھوٹی بہادری کو بھی محسوس کررہے ہیں کرونا کچھ نہیں ہے یہ ایک گھوٹالہ ہے۔مجھے ماسک پہننے کی ضرورت نہیں ہے، آؤ پارٹی کرتے ہیں، کرونا کے وائرس سے پریشان ہونے کے علاوہ آگے بھی ایک دنیا ہے۔حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ہمارے آس پاس کرونا وائرس موجود ہے ہماری ایک غلطی اور لاپروائی ہمارے آس پاس موجود لوگوں کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔اگروال نے مزید کہا کہ ہم لوگوں میں یہ خوف بھی دیکھ رہے ہیں کہ میں ایک متاثر کے رابطہ میں آیا اب میں بھی وائرس سے متاثر ہوں اور اب میں یقینی طور پر مر جاتا ہے۔اگر ۔یں وائرس سے متاثر ہوا تو مجھے ریمیڈی سیور کی ضرورت پڑے گی۔گھر پر ایک آکسیجن سلینڈر پہلے ہی لے آتے ہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کے ڈر اور خوف سے پریشانیوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔لو اگروال نے لوگوں سے کرونا رہنما ہدایات کی پاسداری کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وائرس تھکے گا نہیں ہم تھک سکتے ہیں۔کسی بھی سطح پر معمولی سے لاپروائی پورے سماج کو پریشانی میں مبتلا کرسکتی ہے۔ان حالات سے نمٹنے کیلئے ہمیں تمام لوگوں کے تعاون کی ضرورت ہے۔ایمس ڈائریکٹر رندیپ گلیریا نے کہا کہ وباء کی دوسری لہر کے دوران مریضوں کی تعداد میں اضافہ درج کیا گیا ہے۔جس کے سبب محکمہ صحت پر کافی دباؤ بڑھ گیا ہے۔