Articles by "Rahul Gandhi"
Showing posts with label Rahul Gandhi. Show all posts

سورت کی ایک عدالت نے 2019 ہتک عزت معاملہ میں قصوروار ٹھہرایا، کیا لوک سبھا رکنیت رد ہوگی؟ 

سورت کی ایک عدالت نے آج کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہول گاندھی کو 2019 کے ہتک عزت کیس میں قصوروار ٹھہرایا اور انہیں دو سال قید کی سزا سنائی۔  عدالت نے 15000 روپے کی ضمانت پر راہل گاندھی کی ضمانت منظور کی اور انہیں اپیل کرنے کی اجازت کیلئے سزا کو 30 دن کے لیے روک دیا۔

 گجرات کے سابق وزیر اور سورت ویسٹ سے بی جے پی ایم ایل اے پرنیش مودی کی جانب سے مقدمہ دائر کیا گیا تھا. جو گاندھی کے 13 اپریل 2019 کو کرناٹک کے کولار میں لوک سبھا انتخابی ریلی میں دیئے گئے مبینہ ریمارکس سے متعلق ہے جہاں انہوں نے کہا تھا، "کیوں تمام چوروں کے نام میں مودی ہے؟  چاہے نیرو مودی، للت مودی اور نریندر مودی ہوں؟

مذکورہ حکم چیف جوڈیشل مجسٹریٹ ایچ ایچ ورما نے سنایا۔ راہل گاندھی کے ساتھ جمعرات کی سہ پہر کمرہ عدالت میں کئی قومی اور ریاستی کانگریس لیڈر بھی موجود تھے۔ سورت پولیس نے ناخوشگوار واقعات کو روکنے کے لیے عدالت کے احاطے میں حفاظتی انتظامات بڑھا دیے تھے۔

دفاغی وکیل کریٹ پوالا نے کہا کہ ہم عدالت کے فیصلے سے مطمئن نہیں ہیں کیونکہ ہمارے کچھ دلائل کو مدنظر نہیں رکھا گیا. ہم نے جو دلیل پیش کی وہ یہ تھی کہ مودی نام کی کوئی برادری نہیں ہے، شکایت کنندہ بھی مودی نہیں ہے اس کا سابقہ سرنیم بھوت والا تھا اس نے سرنیم تبدیل کیا ہے. ہم آئندہ دنوں میں اعلیٰ عدالتوں میں سوال اٹھائیں گے. استغاثہ کے وکیل ریشم والا اور ایم ایل اے پورنیش مودی نے کہا کہ وہ عدالتی حکم سے مطمئن ہیں۔  انڈین ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے، بی جے پی ایم ایل اے نے کہا، "میرا تعلق مودھوانک گھانچی برادری سے ہے جو مودی کنیت(سرنیم) رکھتا ہے۔  راہول گاندھی کے ہتک آمیز بیانات سے ہمارے جذبات مجروح ہوئے ہیں اور اس کے لیے ہم نے ان کے خلاف شکایت درج کرائی ہے۔  آج ہم عدالت کے حکم سے مطمئن ہیں۔  کمرہ عدالت کے باہر موجود ایم ایل اے کے حامیوں نے ان کی حمایت میں نعرے لگائے۔

پرنیش مودی کے سابق وکیل، ایڈوکیٹ ہس مکھ لال والا نے کہا، "شروع میں، شکایت کا مسودہ تیار کرتے وقت، ہمیں یقین تھا کہ راہول گاندھی کے ہتک آمیز بیانات کے مطابق یہ کیس سزا کے لیے ایک مضبوط کیس ہے۔"

بھارت جوڑو یاترا سیاست سے پرے ہے اس کا تعلق ہندوستان کے بنیادی نظریات سے ہے:آدتیہ ٹھاکرے

کانگریس کی بھارت جوڑو یاترا کے 65 ویں دن آج مہاراشٹر کے ہنگولی ضلع میں شیوسینا لیڈر آدتیہ ٹھاکرے نے یاترا میں شرکت کی. انہوں نے تقریباً دو گھنٹے راہل گاندھی کے ساتھ پیدل سفر کیا. اس کے بعد میڈیا کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے آدتیہ ٹھاکرے نے کہا کہ ہم دستور اور جمہوریت کیلئے ساتھ چلے ہیں اور اس کے لئے مل کر لڑیں گے. بھارت جوڑو یاترا سیاست سے پرے ہے اس کا تعلق ہندوستان کے بنیادی نظریات سے ہے. منفرد نظریات کی حامل دو سیاسی جماعتوں کے ساتھ آنے سے متعلق میڈیا کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے آدتیہ ٹھاکرے نے کہا کہ یہ جمہوریت کی خوبصورتی ہے کہ دو منفرد نظریات رکھنے والے ساتھ آجاتے ہیں.

بھارت جوڑو یاترا میں آج آدتیہ ٹھاکرے کے ساتھ مہاراشٹر اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر امباداس دانوے اور شیوسینا رکن اسمبلی سچن آہیر نے بھی شرکت کی. گزشتہ روز راشٹریہ وادی کانگریس کے ریاستی صدر جینت پاٹل، جتیندر آہواڑ اور سپریا سولے نے بھی بھارت جوڑو یاترا میں شرکت کی تھی. جینت پاٹل نے کہا کہ ہم بھارت جوڑو یاترا کی ابتداء سے راہل گاندھی کو دوڑتے ہوئے دیکھ رہے ہیں، ہم کہہ سکتے ہیں کہ جلد ہی ہماری قسمت بھی دوڑنے لگے گی.

سونیا اور راہل گاندھی سے متعلق بیباک تبصرہ، سونیا برائے نام صدر، راہل کے سیکورٹی اہلکار اور پی اے پارٹی کے فیصلے لے رہے ہیں: آزاد

کانگریس کے قدآور لیڈر غلام نبی آزاد نے آج بروز جمعہ کانگریس کی رکنیت اور تمام عہدوں سے استعفیٰ دے دیا. انہوں نے 5 صفحات پر مشتمل اپنا استعفیٰ نامہ عبوری صدر سونیا گاندھی کو بھیج دیا ہے. اس خط میں کئی حالات اور معاملات کا ذکر کیا گیا ہے جس میں راہل گاندھی سے متعلق سخت تبصرہ بھی شامل ہے. آزاد نے راہل کو کانگریس کی تباہی کی وجہ بتایا ہے.

آزاد نے سونیا سے متعلق کہا کہ بے شک بطور صدر آپ نے یو پی اے-1 اور یو پی اے-2 کی تشکیل میں اچھا کام کیا، اس کامیابی کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ آپ نے بطور صدر دانشمند مشیروں اور سینئر لیڈروں کے فیصلوں پر بھروسہ کیا، انہیں بااختیار بنایا اور ان کا خیال رکھا۔ بدقسمتی سے راہول گاندھی کی سیاست میں انٹری اور خاص طور پر جب آپ نے جنوری 2013 میں انہیں نائب صدر بنایا پھر راہل نے پارٹی کا طریقہ کار تبدیل کردیا. تمام سینئر اور تجربہ کار سیاستدان کو سائیڈ لائن کردیا گیا اور ناتجربہ کاروں کا ایک گروہ بنایا گیا جس نے پارٹی چلانا شروع کی.

غلام نبی آزاد نے مزید کہا کہ میں مسلسل 4 دہائیوں تک کانگریس ورکنگ کمیٹی کا رکن رہا۔ 35 سال تک میں ملک کی ہر ریاست اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں پارٹی کا جنرل سکریٹری انچارج بھی رہا۔  مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ کانگریس نے 90 فیصد ریاستوں میں کامیابی حاصل کی جہاں میں انچارج تھا۔ اب یو پی اے حکومت کی سالمیت کو تباہ کرنے والا ریموٹ کنٹرول سسٹم کانگریس پر لاگو کیا جا رہا ہے۔ تم صرف برائے نام اس پوزیشن پر بیٹھے ہو۔ راہل گاندھی تمام ضروری فیصلے لے رہے ہیں، اس سے بھی بری بات یہ ہے کہ ان کے سیکورٹی اہلکار اور پی اے یہ فیصلے لے رہے ہیں۔

گجرات عصمت دری ملزمین کو یوم آزادی پر رہا کئے جانے پر راہل نے حکومت کو نشانہ بنایا، کہا ایسی سیاست پر شرمندگی نہیں ہوتی، وزیراعظم جی؟ 

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت خواتین مخالف ہے اور ظالموں اور عصمت دری کے ملزمان کا دفاع کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں بی جے پی کی اتر پردیش حکومت عصمت دری کے ملزمان کو تحفظ فراہم کرتی ہے وہیں گجرات کی بی جے پی حکومت عصمت دری اور قتل کے ملزمان کو یوم آزادی پر معافی دے کر رہا کرتی ہے۔

انہوں نے اسے شرمناک سیاست کے ساتھ ساتھ چھوٹی ذہنیت کی سیاست بھی قرار دیا ہے۔ راہل گاندھی نے ٹوئیٹ کرکے کہا کہ اُناؤ – بی جے پی ایم ایل اے کو بچانے کا کام۔ کٹھوعہ: عصمت دری کرنے والوں کی حمایت میں ریلی۔ ہاتھرس- حکومت عصمت دری کرنے والوں کے حق میں۔ گجرات – عصمت دری کرنے والوں کی رہائی اور اعزاز۔ مجرموں کی حمایت خواتین کے تئیں بی جے پی کی چھوٹی ذہنیت کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا ایسی سیاست پر شرمندگی نہیں ہوتی، وزیراعظم جی؟

اپوزیشن کی مشترکہ امیدوار ماگریٹ الوا کو شکست، وزیراعظم نریندر مودی، راہل گاندھی، شرد پوار سمیت دیگر لیڈران نے مبارکباد پیش کی

این ڈی اے امیدوار جگدیپ دھنکھر اپوزیشن کی مشترکہ امیدوار ماگریٹ الوا کو شکست دے کر ملک کے 14 ویں نائب صدر جمہوریہ منتخب ہوئے. مغربی بنگال کے سابق گورنر دھنکھر نے 528 ووٹ حاصل کیے جبکہ الوا کو 182 ووٹ ملے۔

تقریباً 725 ایم پیز نے رائے شماری میں حصہ لیا، جو کہ کل ووٹوں کا 92.94 فیصد ہے. صدر دروپدی مرمو، کانگریس لیڈر راہل گاندھی، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) سربراہ شرد پوار، مرکزی داخلہ امت شاہ، مرکزی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور دیگر لوگوں نے جیت کے بعد دھنکھر کو مبارکباد پیش کی۔

صدر مرمو نے ٹوئیٹ کے ذریعے جگدیپ دھنکھر کو ہندوستان کا نائب صدر منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ قوم آپ کی عوامی زندگی کے طویل اور بھرپور تجربے سے مستفید ہوگی۔ راہل گاندھی نے ٹوئیٹ کر کے کہا کہ جگدیپ دھنکھر جی کو ہندوستان کا 14 واں نائب صدر منتخب ہونے پر مبارک باد. راہل نے اپوزیشن کی نمائندگی کرنے والی امیدوار ماگریٹ الوا کا بھی شکریہ ادا کیا. این سی پی سربراہ شرد پوار نے ٹوئیٹ میں کہا کہ جگدیپ دھنکھر کو ہندوستان کا نائب صدر منتخب ہونے پر مبارکباد۔  نائب صدر کے طور پر آپ کے دور میں کامیابی کی خواہش کرتا ہوں. راجناتھ سنگھ نے بھی ٹوئیٹ کرکے جگدیپ دھنکھر کو نائب صدر کے انتخابات جیتنے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی طویل عوامی زندگی، وسیع تجربہ اور لوگوں کے مسائل کی گہری سمجھ سے یقیناً قوم کو فائدہ پہنچے گا۔ دریں اثنا، وزیر اعظم نریندر مودی نے انتخاب کے فوراً بعد جگدیپ دھنکھر سے دہلی میں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور انہیں مبارکباد پیش کی۔

 دہلی کی 9 سالہ عصمت دری متاثرہ کے والدین کی تصاویر ٹوئیٹر پر شیئر کرنے کے خلاف قومی کمیشن برائے تحفظِ اطفال نے دہلی پولیس اور ٹوئیٹر سے کارروائی کا مطالبہ کیا تھا

کانگریس نے دعوی کیا ہے کہ مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئیٹر نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی کا ٹوئیٹر اکاؤنٹ عارضی مدت کیلئے سسپینڈ کردیا ہے۔کانگریس پارٹی کے آفیشل ٹوئیٹر ہینڈل کے ذریعے اس کی اطلاع دی گئی ہے۔کانگریس پارٹی ذرائع نے کہا کہ راہل گاندھی کے ٹوئیٹر اکاؤنٹ کو بحال کرنے کیلئے ضروری کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔

حالانکہ اب تک یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ راہل گاندھی کا ٹوئیٹر اکاؤنٹ کس وجوہات کی بنا پر بند کیا گیا ہے۔حالانکہ ٹوئیٹر نے کانگریس پارٹی کے دعوے کو مسترد کردیا ہے۔کانگریس نے ٹوئیٹر ہینڈل پر کہا کہ راہل گاندھی کا ٹوئیٹر اکاؤنٹ عارضی مدت کیلئے بند کیا گیا ہے اسلئے جب تک ان کا اکاؤنٹ بحال نہیں ہوجاتا وہ دیگر سوشل میڈیا ذرائع سے لوگوں سے رابطہ میں رہیں اور لوگوں کے مسائل اٹھاتے رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔گرل فرینڈ کے شادی سے انکار کے بعد نوجوان نے خودکشی کرلی

ٹوئیٹر ترجمان نے این ڈی ٹی وی سے بات چیت کے دوران کہا کہ راہل گاندھی کا ٹوئیٹر اکاؤنٹ بند نہیں کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی اکاؤنٹ کو بند کیا جاتا ہے تو اسے دیکھا نہیں جاسکتا۔ایسی قیاس آرائی کی جارہی ہے کہ ماضی قریب میں راہل گاندھی کے ذریعے کئے گئے ایک ٹوئیٹ کی بنا پر مذکورہ کارروائی کی گئی ہے۔دراصل کچھ روز قبل راہل گاندھی نے عصمت دری کی شکار دہلی کی ایک 9 سالہ بچی کے والدین سے ملاقات کی تھی اور اس کی تصاویر اپنے ٹوئیٹر اکاؤنٹ پر شیئر کی تھی۔اس ٹوئیٹ میں متاثرہ کے والدین کی شناخت اجاگر ہورہی تھی، جس کے بعد قومی کمیشن برائے تحفظِ اطفال نے دہلی پولیس اور ٹوئیٹر سے اس کی شکایت کی تھی۔قومی کمیشن برائے تحفظِ اطفال نے دہلی پولیس کو خط لکھ کر اس معاملے میں پوسکو ایکٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔جس کے بعد سنیچر کی رات ٹوئیٹر نے اس پوسٹ کو حذف کردیا تھا۔

 

راہل گاندھی اور کیجریوال کی متاثرہ کے اہل خانہ سے ملاقات، بی جے پی لیڈران کی مجرمانہ خموشی؟

دہلی کینٹ علاقے کے نانگل گاؤں میں ایک نو سالہ بچی کے ساتھ اجتماعی آبروریزی کے بعد بچی کو قتل کیا گیا اور بے رحمی کی انتہا کرتے ہوئے کاش کو نذرآتش کردیا گیا۔اس معاملے کی تفتیش جاری ہے۔اس معاملے میں کرائم برانچ کی فارینسک ماہرین کی ایک ٹیم آج جائے واردات پر پہنچے گی۔اسکے علاوہ کرائم برانچ افسران بھی ساتھ جائیں گے۔فارینسک ماہرین کی ٹیم شمشان گھاٹ پہنچ کر ثبوت جمع کرے گی۔واضح رہے کہ اس معاملے کے ملزمین نے دعوی کیا تھا کہ شمشان گھاٹ پر کرنٹ لگنے سے بچی کی موت واقع ہوگئی تھی۔جس کے بعد اسی شمشان گھاٹ پر بچی کی لاش کو جلایا گیا تھا۔

دہلی پولیس کی کرائم برانچ ٹیم آج بچی کے گھر سے شمشان گھاٹ تک کے راستے پر ثبوت تلاش کرے گی۔اس کے علاوہ اس معاملے سے منسلک لوگوں سے تفتیش کی جائے گی۔واضح رہے کہ اس معاملے میں جب ملزمین نے بچی کی لاش کو جلا دیا تھا تب بچی کے اہل خانہ پولیس کو فون کرکے اس کی اطلاع دی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔مالیگاؤں: دو نوزائیدہ جڑواں بچوں کی پراسرار موت، حادثاتی موت کا اندراج

پولیس کے جائے واردات پر پہنچنے اور لاش کو آگ سے نکالنے تک نصف سے زائد جسم جل چکا تھا۔پولیس کو بچی کے پیروں کے کچھ حصے برآمد ہوئے ہیں۔اسی کی بنا پر پولیس ثبوت جمع کرکے اور تفتیش کررہی ہے۔تفتیشی ٹیم کے لئے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ انہیں سب سے پہلے بچی کی موت کا سبب معلوم کرنا ہے۔جبکہ الزام یہ عائد کیا گیا ہے کہ بچی کی عصمت دری کی گئی ہے،  لیکن بچی کا جسم جل جانے کے بعد عصمت دری کئے جانے کی تصدیق کس طرح کی جائے گی، یہ ایک بڑا سوال ہے۔

واضح رہے کہ 9 سالہ دلت بچی کے ساتھ ہوئی عصمت دری اور قتل کے معاملے پر بی جے پی لیڈران کی خاموشی پر سوال اٹھ رہے ہیں۔دہلی کے وزیراعلی اروند کیجریوال نے متاثرہ کے اہل خانہ سے ملاقات کرکے معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے۔کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے اس معاملے کی مذمت کرتے ہوئے ٹوئیٹ کیا اور متاثرہ کے اہل خانہ سے ملاقات کرکے انہیں انصاف دلانےکی بات کی ہے۔انہوں ٹوئیٹ میں لکھا کہ دلت کی بیٹی بھی دیش کی بیٹی ہے۔بھیم آرمی چیف چندرشیکھر آزاد نے مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر ملک کی راجدھانی دہلی میں بچے اور خواتین محفوظ نہیں ہیں تو ملک کے دیگر علاقوں کے حالات کا اندازہ آسانی سے لگایا جاسکتا ہے۔اسی دوران بی جے پی رکن پارلیمان ہیما مالنی کا ایک ویڈیو سامنے آیا ہے۔جس میں میڈیا کے ذریعے ان سے اس مدعے کو ایوان میں اٹھانے سے متعلق سوال کیا گیا تھا۔اس معاملے میں حزب اختلاف لیڈران روزوشور سے آواز اٹھا رہے ہیں۔لیکن ایوان میں اس معاملے خاموشی کیوں ہے؟اس کے جواب میں ہیما مالنی نے کہا کہ یہ سوال اوم برلا سے پوچھیں اور وہ اتنا کہنے کے بعد وہاں سے چلی گئیں۔

 

مہاراشٹر بی جےپی کے ترجمان رام کدم کا طنز، چوہان یہ بھول گئے کہ ان کے لیڈر راہل گاندھی بھی وزیراعظم بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں

گذشتہ کچھ دنوں میں مہاراشٹر میں برسراقتدار مہاوکاس اگھاڑی حکومت میں شامل حلیف جماعتوں کے درمیان آپسی چپقلش کی خبریں منظر عام پر آئی تھیں۔مہاراشٹر لانگریس کے صدر نانا پٹولے کا آئندہ انتخابات میں کانگریس کے اکیلے انتخاب لڑنے سے متعلق بیان بھی سامنے آیا تھا۔نانا پٹولے کے اس بیان سے ناراض این سی پی سربراہ شرد پوار نے کانگریس اعلی کمان سے نانا پٹولے کی شکایت بھی کی تھی۔اسی درمیان کانگریس کے سینئر لیڈر پرتھوی راج چوہان نے کہا کہ ملک بھر میں ادھو ٹھاکرے کی مقبولیت میں اضافہ ہورہا ہے۔انہیں ملک کا وزیراعظم بننا چاہیے۔کانگریس لیڈر پرتھوی راج چوہان نے ادھو ٹھاکرے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ حال میں ایک سروے میں وزیراعلی ادھو ٹھاکرے کو ملک کا پسندیدہ وزیراعلی قرار دیا گیا تھا۔اسلئے ادھو کو ملک کا وزیراعظم بننا چاہیے۔اگر مہاراشٹر کا کوئی لیڈر ملک کا وزیراعظم بنتا ہے تو اس سے اچھی اور کیا بات ہوسکتی ہے؟ادھو ٹھاکرے نا صرف مہاراشٹر بلکہ پورے ملک میں مقبول ہیں۔ان کی انتظامی صلاحیت اور ان کے طریقہ کار کی بھی تعریف کی جاتی ہے۔پرتھوی راج چوہان نے ادھو ٹھاکرے کی ےعریف کرتے کرتے وزیراعظم نریندر مودی پر تنقید بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کی پوری توجہ تشہیر پر ہوتی ہے۔ویکسینیشن مہم سے متعلق انہوں نے کہا کہ مرکزی حکو۔ت نے مہاراشٹر کے ساتھ سوتیلا سلوک کیا ہے۔لیکن مہاراشٹر حکومت نے اپنی سطح پر ویکسینیشن مہم بحسن خوبی چلائی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔۔راج کندرا کی گرفتاری پر کنگنا کا ردعمل، میں نے کہا تھا فلم انڈسٹری گٹر ہے

پرتھوی راج چوہان نے یہ بھی کہا کہ نریندر مودی کا دھیان صرف ریکارڈ بنانے میں رہتا ہے۔ریکارڈ بنانے کیلئے 4 روز تک ویکسینیشن مہم کو روک دیا گیا اور 5 ویں دن ویکسینیشن کا ریکارڈ بنایا گیا۔کرونا وباء کے سبب متعدد لوگوں نے اپنی جانیں گنوائی لیکن مرکزی حکومت اب تک مہلوکین کے صحیح اعدادوشمار پیش نہیں کرسکی ہے۔کانگریس لیڈر کے مذکورہ بیان پر بی جے پی نے طنز کرتے ہوئے راہل گاندھی کو نشانہ بنایا۔مہاراشٹر بی جے پی کے ترجمان رام کدم نے کہا کہ پرتھوی راج چوہان یہ بھول گئے کہ ان کے لیڈر راہل گاندھی بھی وزیراعظم بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔اسلئے ادھو ٹھاکرے کو وزیراعظم کے عہدے کا دعویدار بنانا ان کی بھول ہے۔

 

اگر وزیراعظم کہتے ہیں کہ یوگی حکومت نے اترپردیش میں کرونا وباء کو قابو کرنے کیلئے اچھا کام کیا ہے تو ہنسو، اگر وہ کہتے ہیں کہ چین نے دراندازی نہیں کی تو ہنسو

کانگریس سوشل میڈیا سیل کے لئے مقرر کردہ کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ جو بے خوف ہیں انہیں کانگریس میں شامل کروایا جائے، جو ڈرنے والے لوگ ہیں انہیں پارٹی سے باہر نکال دیا جائے۔کانگریس لیڈر نے کہا کہ جنہیں ڈر لگتا ہے وہ جاسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی جعلی اور جھوٹی خبروں سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایس ایس سی نتائج: مہاراشٹر میں شاندار مجموعی نتائج

وزیر اعظم پر تنقید کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ اگر وزیراعظم کہتے ہیں کہ یوگی حکومت نے اترپردیش میں کرونا وباء کو قابو کرنے کیلئے بہتر کام کیا ہے تو ان پر ہنسنا چاہیے، وزیراعظم اگر کہتے ہیں کہ چین ہندوستان کی سرحد میں داخل نہیں ہوا تو ان پر ہنسو۔انہوں نے سوشل میڈیا سیل کارکنان سے کہاکہ خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ واضح رہے کہ گذشتہ کچھ عرصہ سے راہل گاندھی مودی حکومت پر مسلسل تنقید کررہے ہیں۔حال ہی میں کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے سلامتی کونسل کی میٹنگ میں پاکستان، سرحد پر چین کے جارحانہ رویہ اور افغانستان کے متعدد علاقوں میں طالبان کے قبضے سے متعلق موضوعات اٹھائے تھے۔

 یہ بھی پڑھیں: ایس ایس سی نتائج: ویب سائٹ کریش، طلباء کو دقتوں کا سامنا

انہوں نے ان موضوعات پر بھی بحث کئے جانے کی بات کہی تھی۔لیکن کمیٹی کے سربراہ نے ان موضوعات پر بحث سے انکار کردیا تھا، جس کے بعد میٹنگ ختم ہونے سے قبل ہی راہل گاندھی میٹنگ چھوڑ کر باہر نکل گئے تھے۔

 

کانگریس لیڈران سے ملاقات کے بعد قیاس آرائیوں کا بازار گرم، سونیا کو کانگریس صدر بنائے جانے کا امکان،2024 انتخابات میں پرشانت اہم کردار ادا کرسکتے ہیں

انتخابی حکمت عملی ساز پرشانت کشور کی کانگریس لیڈران سے ملاقات کے بعد سیاسی حلقوں میں ایسی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ پی کے کانگریس میں شامل ہوں گے۔وہیں کانگریس ذرائع سے ایسے اشارے بھی مل رہے ہیں کہ سونیا گاندھی پارٹی کی مستقل صدر بھی بن سکتی ہیں۔منگل کے روز راہل گاندھی اور پرشانت کشور کی ملاقات ہوئی تھی، اس ملاقات میں پرینکا گاندھی بھی موجود تھیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اس میٹنگ میں آن لائن شرکت کی تھی۔حالانکہ دیڑھ گھنٹے تک جاری رہنے والی اس میٹنگ سے متعلق کانگریس کی جانب سے کوئی وضاحت نہیں دی گئی ہے۔اس ملاقات کو اس نظریہ سے بھی کافی اہم مانا جارہا ہے کہ راشٹر وادی کانگریس سربراہ شرد پوار قومی سطح پر بی جے پی مخالف اتحاد بنانے کی کوشش کررہے ہیں، اسی سلسلے میں انہوں نے گذشتہ ہفتے پرشانت کشور سے ملاقات کی تھی۔سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ مذکورہ میٹنگ پنجاب اور اترپردیش اسمبلی انتخابات کے سلسلے میں نہیں تھی۔بلکہ اس میٹنگ کا مقصد اس سے کہیں بڑا تھا۔ایسے امکانات بھی ہیں کہ 2024 لوک سبھا انتخابات میں پرشانت کانگریس کی سیاسی حکمت عملی بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ذرائع کے مطابق راہل گاندھی کو 2024 اسمبلی انتخابات میں اپوزیشن لیڈر بنائے جانے کے قوی امکانات ہیں۔جمعرات کو اس سلسلے میں سونیا گاندھی کی جانب سے ایک اہم میٹنگ منعقد کی جائے گی۔


الٹ نیوز کے شریک بانی پرتیک سنہا، راج دیپ سردیسائی اور برکھا دت جیسے صحافیوں کے نام بھی شامل

اس خبر پر ہنسی آگئی، بحیثیت صحافی یہ میرے لئے ایک Complement 

ہے کہ کانگریس اور بی جے پی دونوں مجھے پسند نہیں کرتے: برکھا دت

کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے ٹوئٹر پر 50 لوگوں کو ان فالو کردیا ہے۔ان میں الٹ نیوز کے شریک بانی پرتیک سنہا، راجدیپ سردیسائی اور برکھا دت جیسے صحافیوں کے علاوہ راہل کے اسٹاف ممبر نکھل الوا بھی شامل ہیں۔راہل نے حیرت انگیز طور پر کانگریس بیٹ رپورٹنگ کور کرنے والے کئی صحافیوں کو بھی ان فالو کردیا ہے۔راہل کے اس عمل کو Purge کہا جاتا ہے جس کے معنی ہیں صفائی کرنا ہے۔اس صفائی کی جو بھی وجوہات ہوں بہرحال راہل کے فالو لسٹ میں احمد پٹیل، ترون گگوئی اور راجو ساتو کے نام اب بھی برقرار ہیں، جبکہ ان تینوں کی موت واقع ہوچکی ہے۔بدھ کی شام تک راہل کے ٹوئٹر اسٹیٹس کے مطابق وہ 220 لوگوں کو فالو کرتے ہیں۔جبکہ ان کے فالوورز کی تعداد ایک کروڑ 80 لاکھ 80 ہزار ہے۔کانگریس پارٹی نے اپنے لیڈر کے ذریعے ٹوئٹر اکاؤنٹ کی صفائی سے متعلق کسی بھی طرح کی رائے دینے سے انکار کیا ہے۔برکھا دت نے راہل کے اس اقدام سے متعلق کہا کہ خبر پر انہیں ہنسی آگئی، ایک صحافی ہونے کے ناطے یہ میرے لئےایک

Complement 

ہے کہ کانگریس اور بی جے پی دونوں ہی مجھے پسند نہیں کرتے۔الٹ نیوز کے پرتیک سنہا نے اقرار کیا کہ راہل نے انہیں ان فالو کردیا ہے۔لیکن ان فالو کرنے پر اتنا واویلا کیوں؟یہ بات قابل بحث بھی نہیں ہے۔اسی دوران ایسی اطلاعات بھی سامنے آرہی ہیں کہ پرتیک نے سنہا نے اپنے کسی پرانے ٹوئیٹ میں راہل کو ڈمب کہا تھا۔غور طلب ہے کہ راہل نے جن لوگوں کو ان فالو کیا ہے ان میں نکھل الوا، کیلاش ودیارتھی اور بیجو بھی شامل ہیں جو راہل کے اسٹاف ممبر ہیں۔اس تعلق سے کانگریس ذرائع کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ لوگ راہل سے قریب رہتے ہیں اسلئے ان کو فالو کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔واضح رہے کہ نکھل الوا پہلے راہل کے ٹوئٹر ہینڈل کو سنھبالتے تھے۔اب النکار سوائی یہ ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔

 

حکومت پی آر اور دیگر غیر ضروری منصوبوں پر خرچ کرنے کی بجائے ویکسن، آکسیجن اور دیگر طبی سہولیات پر توجہ مرکوز کرے: راہل گاندھی کی اپیل

کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے مرکزی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ پی آر اور دیگر غیر ضروری منصوبوں پر خرچ کرنے کی بجائے کرونا وباء کے دوران ٹیکہ، آکسیجن اور دیگر طبی سہولیات پر خرچ کرے۔راہل گاندھی نے گذشتہ روز سینٹرل وسٹا منصوبہ سے متعلق حکومت کی ترجیحات پر سوال اٹھایا تھا۔انہوں نے کرونا وباء کے دوران سینٹرل وسٹا منصوبہ میں پیش رفت سے متعلق حکومت سے کیا تھا اور حکومت پر الزام عائد کیا کہ یہ سب اس وقت کیا جارہا ہے جب کرونا ٹیسٹ نہیں ہورہے ہیں،ٹیکہ دستیاب نہیں ہے، ملک بھر میں آکسیجن اور آئی سی یو بیڈ کی شدید قلت ہے۔راہل گاندھی نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سے عاجزانہ اپیل ہے کہ پی آر اور غیر ضروری منصوبوں پر خرچ کرنے کی بجائے ویکسن، آکسیجن اور دیگر طبی سہولیات پر توجہ مرکوز کی جائے۔آئندہ دنوں میں حالات مزید سنگین ہوسکتے ہیں۔اس سے نمٹنے کیلئے ملک کو تیار رہنا ہوگا۔ایک ٹوئٹ میں راہل گاندھی نے ٹیکہ مہم کا گراف شیئر کرتے ہوئے کہا کہ جھوٹ بولنے والی مشین ملک میں ٹیکہ مہم پر توجہ دیں۔واضح رہے کہ گزشتہ روز جاری کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں کرونا کے 3 لاکھ 46 ہزار 786 نئے معاملات درج کئے گئے ہیں۔ملک میں کرونا کے کل مریضوں کی تعداد 1،66،10،481 تک پہنچ گئی ہے۔دوسری جانب کرونا کے بڑھتے ہوئے معاملات کے پیش نظر مرکزی حکومت نے آئندہ تین ماہ کیلئے آکسیجن اور دیگر طبی لوازمات اور ادویات پر ہیلتھ سیس اور کسٹم ڈیوٹی معاف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔