Articles by "Eknath Shinde"
Showing posts with label Eknath Shinde. Show all posts

آدتیہ ٹھاکرے نے باغیوں کو غدار اور بکاؤ قرار دیا، آئین میں تبدیلی کی منشا سے دیگر پارٹیوں کو توڑنے کا الزام

ممبئی: شیو سینا (یو بی ٹی) کے باغی ارکانِ پارلیمنٹ نے پیر کے روز مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی زیر قیادت  شیوسینا میں شمولیت اختیار کر لی۔ شامل ہونے والے ارکان میں اومراجے نمبالکر، ناگیش پاٹل اشٹیکار، سنجے دیشمکھ، سنجے جادھو، سنجے دینا پاٹل اور بھاؤ صاحب واکچورے شامل ہیں۔ یہ شمولیت ایکناتھ شندے، رکن پارلیمنٹ شری کانت شندے، وزیر پرتاپ سرنائک اور دیگر سینئر رہنماؤں کی موجودگی میں عمل میں آئی۔

مہاراشٹر کے وزیر اور شیوسینا کے رکن اسمبلی پرتاپ سرنائک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان چھ ارکانِ پارلیمنٹ کی شمولیت سے پارٹی کے ایم پیز کی تعداد 7 سے بڑھ کر 13 ہو جائے گی، جس سے شیوسینا کی طاقت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

خبروں کے مطابق ان ارکان نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو شندے گروہ میں اپنی شمولیت کا خط بھی سونپ دیا ہے۔ پرتاپ سرنائک نے ’آپریشن ٹائیگر‘ کی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ آپریشن سال کے 365 دن جاری رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بالاصاحب ٹھاکرے کے نظریے پر عمل کرنے والے یہ ارکان آج سہ پہر 3 بجے باضابطہ طور پر پارٹی میں شامل ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر سنجے راؤت کا شکریہ بھی ادا کیا اور کہا کہ ان کی وجہ سے پہلے اراکین اسمبلی اور اب ارکان پارلیمنٹ پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں۔

سینا (یو بی ٹی) کا بغاوت کا الزام

دوسری جانب، باغی ارکان کی شمولیت پر شیوسینا (یو بی ٹی) نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہیں پارٹی کے اعتماد سے غداری قرار دیا ہے۔

شیوسینا (یو بی ٹی) کے رہنما آدتیہ ٹھاکرے نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا، "آج ہمارے ارکان پارلیمنٹ اور اراکین اسمبلی کو توڑا جا رہا ہے کیونکہ یہ لوگ باباصاحب امبیڈکر کے آئین کو بدلنا چاہتے ہیں۔ عوام نے 2024 میں انہیں روک دیا تھا اور انہیں صرف 240 سیٹیں ملی تھیں، اب وہ سیاسی جماعتوں کو توڑ کر اپنے مقصد کو حاصل کرنا چاہتے ہیں۔"

آدتیہ ٹھاکرے نے ان ارکان کو ’ڈرپوک اور بکاؤ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ ادھو بالا صاحب ٹھاکرے اور مہاوکاس اگھاڑی کے نام پر منتخب ہوئے تھے، لیکن اب بی جے پی انہیں اپنے مفاد کے لیے شامل کر رہی ہے تاکہ لوک سبھا میں دو تہائی اکثریت حاصل کر کے آئین میں تبدیلی کی جا سکے۔

بی جے پی پر تنقید

پارٹی میں تقسیم کے حوالے سے بی جے پی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے آدتیہ ٹھاکرے نے کہا کہ جس طرح شیو سینا کو تقسیم کیا گیا، اسی طرح ٹی ایم سی اور عام آدمی پارٹی کو بھی توڑا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں قانون اور آئین کی بالادستی ہے تو انصاف کی امید کی جاسکتی ہے۔

مہاراشٹر بلدیاتی انتخابات: 22 سالہ سدھی وسترے ریاست کی سب سے کم عمر صدر بلدیہ بن گئیں، شندے سینا نے بی جے پی کو چونکا دیا

سولاپور ضلع کی سیاست میں ایک بڑی اور غیر متوقع تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے۔ موہول میونسپل کونسل کے انتخابات میں شیوسینا (شندے گروپ) نے بی جے پی کو بڑا جھٹکا دیتے ہوئے اہم کامیابی حاصل کی ہے۔ اس انتخاب میں شیو سینا کی امیدوار سدھی وسترے نے بی جے پی کی امیدوار شیتل کھیرساگر کو شکست دے کر میونسپل صدر کا عہدہ اپنے نام کر لیا۔

یہ بھی پڑھیں:..مہاراشٹر سیاست میں طوفان! کانگریس ناراض، سنجے راوت نے کر دیا بڑا اشارہ

یہ کامیابی اس لیے بھی خاص مانی جا رہی ہے کیونکہ سدھی وسترے کی عمر صرف 22 سال ہے اور وہ مہاراشٹر کی تاریخ کی سب سے کم عمر میونسپل صدر بن گئی ہیں۔ موہول کو طویل عرصے سے بی جے پی کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا رہا ہے، جہاں سابق ایم ایل اے راجن پاٹل کا خاص اثر و رسوخ رہا ہے۔ ایسے میں شیو سینا کی یہ جیت بی جے پی کے لیے بڑا سیاسی دھچکا سمجھی جا رہی ہے۔

سرکاری نتائج کے مطابق سدھی وسترے نے یہ مقابلہ 170 ووٹوں کے فرق سے جیتا، جس کے بعد سولاپور ضلع میں بی جے پی حلقوں میں بے چینی دیکھی جا رہی ہے۔ دوسری جانب اس نتیجے سے شیو سینا کارکنوں اور قیادت کا حوصلہ کافی بلند ہوا ہے۔ 20 رکنی موہول میونسپل کونسل میں شیو سینا نے 9 نشستیں جیت کر سب سے بڑی پارٹی ہونے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔

سدھی وسترے کا تعلق موہول کے ایک متوسط طبقے کے سیاسی خاندان سے ہے۔ ان کے دادا، انجہانی وشوناتھ شِوراج وسترے، اپنے وقت کے معزز سماجی و سیاسی شخصیت تھے اور تقریباً 30 سال قبل موہول گرام پنچایت کے سرپنچ رہ چکے تھے۔ ان کا جھکاؤ کانگریس نظریے کی طرف تھا اور وہ کئی بار گرام پنچایت کے رکن منتخب ہوئے۔ سدھی کے والد راجو وسترے پہلے ایک نجی کوآپریٹو ادارے میں کام کر چکے ہیں اور اب کھیتی باڑی کرتے ہیں، جبکہ والدہ تیجشری گھریلو خاتون ہیں۔

تعلیم کے میدان میں بھی سدھی وسترے سرگرم رہی ہیں۔ انہوں نے بی کام کی تعلیم مکمل کی ہے اور اس وقت گراڈ کالج سے ایم کام کی پڑھائی کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ فرم میں بھی کام کر چکی ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سدھی کا شروع میں سیاست میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، لیکن میونسپل صدر کے عہدے پر ریزرویشن کے اعلان کے بعد خاندان اور مقامی شیوسینا لیڈروں کے مشورے سے ان کا نام سامنے آیا۔ سابق میونسپل صدر رمیش براسکر اور سینئر لیڈر پدم دیشمکھ کی رہنمائی میں ایک مضبوط انتخابی مہم چلائی گئی، جس کا عوام پر گہرا اثر پڑا۔

فتح کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے سدھی وسترے جذباتی ہو گئیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ جیت عوام کے اعتماد کی علامت ہے۔ انتخابی مہم کے دوران ان کی کم عمری پر سوال اٹھائے گئے، لیکن عوام نے ووٹ دے کر اس کا جواب دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی ترجیح موہول شہر کی بنیادی سہولتوں جیسے سڑکیں، پانی، بجلی، صحت اور مجموعی ترقی پر ہوگی اور وہ سب کو ساتھ لے کر کام کریں گی۔

مہایوتی کو برتری، ایم وی اے 45 سے بھی کم پر سمٹی

مہاراشٹر میں منعقدہ نگر پریشد (میونسپل کونسل) انتخابات کے نتائج سامنے آ گئے ہیں، جن میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے۔ نتائج کے مطابق حکمراں اتحاد مہایوتی نے مجموعی طور پر واضح برتری حاصل کی ہے، جبکہ اپوزیشن اتحاد مہا وکاس اگھاڑی (MVA) کی کارکردگی توقعات سے کم رہی اور اس کی نشستیں 45 کے ہندسے سے بھی نیچے رہیں۔

یہ بھی پڑھیں:..........مالیگاؤں کارپوریشن الیکشن: سماجوادی امیدواروں کی پہلی لسٹ جاریce.html

انتخابی نتائج بتاتے ہیں کہ شہری علاقوں میں ووٹروں نے ایک بار پھر بی جے پی اور اس کے اتحادیوں پر اعتماد ظاہر کیا ہے۔ کئی نگر پریشدوں میں بی جے پی نے نہ صرف سب سے زیادہ نشستیں حاصل کیں بلکہ بعض مقامات پر آزاد اور مقامی جماعتوں کی حمایت سے حکومت بنانے کی پوزیشن بھی مضبوط کر لی ہے۔

دوسری جانب ایم وی اے، جس میں کانگریس، شیو سینا (ادھو ٹھاکرے گروپ) اور این سی پی شامل ہیں، کو اس بار خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی۔ متعدد شہروں میں اتحاد کو نقصان اٹھانا پڑا، جس سے ریاستی سیاست میں اپوزیشن کی حکمتِ عملی پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ نتائج آنے والے بلدیاتی اور ریاستی انتخابات کے لیے اہم اشارہ ہیں۔ مہایوتی کی برتری سے واضح ہوتا ہے کہ عوامی سطح پر حکومتی اتحاد کی گرفت مضبوط ہے، جبکہ ایم وی اے کو اپنی تنظیم اور زمینی سطح کی تیاریوں پر دوبارہ غور کرنا ہوگا۔

انتخابی نتائج کے بعد بی جے پی اور مہایوتی کے قائدین نے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے ترقی اور استحکام کے حق میں ووٹ قرار دیا ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے نتائج کا تجزیہ کر کے آئندہ کے لیے بہتر حکمتِ عملی بنانے کی بات کہی ہے۔

مضبوط امیدوار نہیں ملا تو سیٹ بی جے پی کے پاس جاسکتی، لیکن شندے ایسا نہیں چاہتے

ممبئی: آئندہ اسمبلی انتخابات میں ورلی ریاست کے سب سے زیادہ زیر بحث حلقوں میں سے ایک بننے جا رہا ہے۔ آدتیہ ٹھاکرے، ٹھاکرے خاندان کے پہلے رکن ہیں، جنہوں نے 2014 میں اس حلقے سے کامیابی حاصل کی تھی۔ تاہم شیوسینا میں پھوٹ پڑنے کے بعد شیوسینا کے شندے گٹ اور بی جے پی دونوں کو ورلی میں ان کے خلاف سخت مقابلہ کرنے کی امید ہے۔ 2019 میں ایم این ایس نے آدتیہ کے خلاف کوئی امیدوار کھڑا نہیں کیا تھا، لیکن اس بار وہ ورلی سیٹ کے لئے بھی امیدواروں پر غور کر رہے ہیں۔ نتیجتاً، ورلی حلقہ میں ہائی وولٹیج مقابلہ ہوگا۔

پاپولر فرنٹ آف انڈیا سے منسلک 56.56 کروڑ روپے مالیت کی 35 غیر منقولہ جائیدادیں ضبط

ورلی میں ایم این ایس سندیپ دیش پانڈے کو ممکنہ امیدوار بنانے پر غور کر رہی ہے جبکہ بی جے پی کی شائنا این سی پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ کچھ ایم این ایس کارکنان نے امیت ٹھاکرے سے ورلی سے انتخاب لڑنے پر غور کرنے کی درخواست بھی کی تھی۔ توقع ہے کہ یہ انتخاب ٹھاکرے اور شندے کے درمیان مقابلہ ہوگا، حالانکہ آدتیہ ٹھاکرے کو چیلنج کرنے کے لئے شندے گٹ کی طرف سے ابھی تک کسی مضبوط امیدوار کو نامزد نہیں کیا گیا ہے۔ نتیجتاً بی جے پی امیدواروں پر بھی غور کیا جارہا ہے۔ ذرائع کے مطابق شندے گٹ نے ورلی میں ٹھاکرے کی پارٹی کے ایک اہم لیڈر کو ٹکٹ کی پیش کش کی تھی ، لیکن اس نے ٹھاکرے کیمپ چھوڑنے سے انکار کردیا تھا۔ اس سے شندے کے لئے آدتیہ ٹھاکرے کے خلاف مناسب امیدوار تلاش کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ 2014 میں شیوسینا کے سنیل شندے نے ورلی حلقہ سے کامیابی حاصل کی تھی۔ آدتیہ ٹھاکرے نے 2019 میں یہاں سے الیکشن لڑا تھا اور 89248 ووٹ حاصل کیے تھے۔ ورلی حلقہ متنوع ہے، جس میں بڑی چالوں کے ساتھ ساتھ اونچی اونچی عمارتیں بھی ہیں، اس میں متوسط طبقے اور محنت کش طبقے کی ایک بڑی آبادی شامل ہے۔ یہ ریس کورس، آرتھر روڈ جیل اور ممبئی کے سب سے بڑے دھوبی گھاٹ جیسے علاقوں کا احاطہ کرتا ہے۔ مہاراشٹر کے سبھی حصوں کے لوگ یہاں رہتے ہیں، جن کی بڑی تعداد گجراتی آبادی پر مشتمل ہے۔ بی ڈی ڈی چالوں کی تعمیر نو کا مسئلہ بحث کا ایک اہم موضوع رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایکناتھ شندے یہ سیٹ بی جے پی کو دینے سے ہچکچا رہے ہیں لیکن قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ اگر شندے سینا کا مضبوط امیدوار نہیں ملا تو یہ سیٹ بی جے پی کے پاس جاسکتی ہے۔

مہاوکاس اگھاڑی اور برسراقتدار مہایوتی مقابلے کیلئے تیار، ونچت بہوجن اگھاڑی نے بھی مزید 30 امیدواروں کی فہرست جاری کی

نئی دہلی: مہاراشٹر اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کے لئے کانگریس 20 اکتوبر کو مرکزی الیکشن کمیٹی کا اجلاس منعقد کرے گی تاکہ ریاست کے لئے امیدواروں کی فہرست کو حتمی شکل دی جاسکے۔ پارٹی کی مہاراشٹر الیکشن اسکریننگ کمیٹی نے بدھ کے روز دہلی کے ہماچل بھون میں ایک میٹنگ کی۔ پارٹی کے ریاستی انچارج رمیش چنی تھلا، مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے، بالا صاحب تھورات، قائد حزب اختلاف وجے وڈیٹیوار اور ستیج پاٹل نے اجلاس میں شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں:.... مہاراشٹر اسمبلی الیکش کی تاریخ کا اعلان

کل اسکریننگ میٹنگ کے اختتام کے بعد اسمبلی انتخابات کے لئے پارٹی کے انچارج رمیش چنی تھلا نے کہا کہ 'ہم 20 اکتوبر کو ایک اور میٹنگ کریں گے اور ہر چیز کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔ سی ای سی کا اجلاس 20 اکتوبر کو ہے۔ پارٹی کی ممبئی صدر ورشا گائیکواڑ نے بھی کہا کہ 20 اکتوبر کو حتمی فیصلہ لیا جائے گا. اس سے قبل بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بھی قومی راجدھانی میں اپنی مرکزی کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا اور 100 سے زیادہ نشستوں پر تبادلہ خیال کیا۔ ذرائع نے بتایا کہ پارٹی اجیت پوار کی زیر قیادت نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) اور ایکناتھ شندے کی زیر قیادت شیوسینا سمیت مہایوتی اتحاد کے شراکت داروں کے ساتھ نشستوں کی تقسیم پر بات چیت کے بعد 288 رکنی مہاراشٹر اسمبلی انتخابات کے لئے اپنے بقیہ امیدواروں کے ناموں کا فیصلہ کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں:.... بابا صدیقی فائرنگ میں ہلاک

اس کے علاوہ ونچت بہوجن آگھاڑی نے ریاست کے اسمبلی انتخابات کے لئے اپنے امیدواروں کی تیسری فہرست کا بھی اعلان کیا۔ وی بی اے نے اپنی تیسری فہرست میں مزید 30 امیدواروں کا اعلان کیا۔

اس سے قبل الیکشن کمیشن آف انڈیا نے مہاراشٹر اور جھارکھنڈ اسمبلی انتخابات کے شیڈول کا اعلان کیا تھا۔ مہاراشٹر کی 288 رکنی قانون ساز اسمبلی کے لئے انتخابات 20 نومبر کو ایک ہی مرحلے میں ہوں گے اور ووٹوں کی گنتی 23 نومبر کو ہوگی۔

راج ٹھاکرے اور دادا بھسے نے فیصلے کا خیر مقدم کیا، ممبئ کے پانچ داخلی راستوں پر آج رات سے ٹول وصولی بند

ممبئی: مہاراشٹر کابینہ نے آج رات 12 بجے سے ممبئی میں داخل ہونے والی چھوٹی موٹر گاڑیوں کے لئے تمام پانچ انٹری پوائنٹس سے ٹول معاف کرنے کے اپنے فیصلے سے ممبئی والوں کو حیران کردیا۔ مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) کے سربراہ راج ٹھاکرے نے کابینہ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ دیرینہ مطالبہ بالآخر پورا ہوگیا ہے۔ راج ٹھاکرے 2013 سے ممبئی کو ٹول فری بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :... بابا صدیقی فائرنگ میں ہلاک

انہوں نے کہا کہ طویل لڑائی کے بعد، ممبئی والوں کو بالآخر اب راحت ملے گی۔ مجھے امید ہے کہ یہ فیصلہ مستقل ہوگا اور نئی حکومت انتخابات کے بعد ٹول وصولی دوبارہ شروع نہیں کرے گی۔ راج ٹھاکرے کئی سالوں سے ممبئی میں ٹول وصولی کا مسئلہ اٹھارہے ہیں۔ کئی واقعات پر ایم این ایس کارکنوں نے بھی ٹول پلازوں پر ہنگامہ برپا کیا۔

ایم این ایس لیڈر اویناش جادھو نے کہا کہ یہ پورے مہاراشٹر میں ہمارے ایم این ایس کارکنان کی جیت ہے، جنہوں نے ٹول وصولی کو روکنے کے لئے جدوجہد کی ہے، ان میں سے کئی کے خلاف مقدمات درج ہیں اور کچھ جیل بھی جا چکے ہیں۔ انہوں نے لوگوں کے لئے لڑائی لڑی اور میں انہیں مبارکباد دیتا ہوں۔

مہاراشٹر اسمبلی انتخابات سے قبل ٹول معافی مہایوتی حکومت کا ایک اور بڑا فیصلہ ہے جس نے رائے دہندگان کو متاثر کیا ہے۔ ٹول معافی ممبئی والوں کا دیرینہ مطالبہ رہا ہے۔ ممبئی کے داخلی راستوں پر جن پانچ ٹول ناکوں پر آج رات سے کوئی ٹول وصول نہیں کیا جائے گا، ان میں ملنڈ ایسٹرن ایکسپریس وے، ملنڈ ایل بی ایس روڈ، دہیسر، ایرولی اور واشی شامل ہیں۔

اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیر دادا بھسے نے کہا کہ 'یہ ممبئی والوں کے لیے ایک بڑی راحت ہے۔ 45 روپے اور 75 روپے کا ٹول اکٹھا کیا گیا تھا۔ ٹول وصولی کی آخری تاریخ 2026 تک تھی اور اس میں توسیع کا امکان تھا۔ اس فیصلے سے 2 لاکھ 80 ہزار گاڑیوں کو فائدہ ہوا ہے۔ حکومت نے اس شیڈول کو بناتے وقت ٹول معافی سے آنے والے مالی بوجھ پر بھی غور کیا ہے۔

2024 عام انتخابات کے پیش نظر شرد پوار کی قیادت میں آج اپوزیشن پارٹیوں کی اہم میٹنگ

گزشتہ روز کرناٹک اسمبلی انتخابات کے نتائج  کا اعلان ہوا جس میں کانگریس نے 224 میں سے 136 سیٹیں حاصل کرکے شاندار کامیابی حاصل کی، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) صرف 65 سیٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی۔  اس جیت نے بی جے پی کو واحد جنوبی ریاست میں بھی اقتدار سے باہر کر دیا ہے جس پر اس کی حکومت تھی. کرناٹک میں کانگریس کی اس کامیابی نے مستقبل میں اس کی کامیابی کے امکانات کو بڑھا دیا ہے۔یہ بھی پڑھیں:....

لیور ٹرانسپلانٹ کے باوجود دسویں میں-95 فیصد مارکس-Secondary-Education-CBSE-Class-10-Results-In-2023.html

شیوسینا (یو بی ٹی) ایم پی سنجے راوت نے ایک بار پھر بی جے پی پر حملہ کیا۔ انتخابی نتائج پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے شیو سینا (یو بی ٹی) کے ایم پی سنجے راوت نے کہا کہ کرناٹک نے دکھایا ہے کہ لوگ آمریت کو شکست دے سکتے ہیں۔ کانگریس جیت گئی جس کا مطلب ہے کہ بجرنگ بلی کانگریس کے ساتھ ہے نہ کہ بی جے پی کے ساتھ۔ ہمارے وزیر داخلہ (امیت شاہ) کہہ رہے تھے کہ اگر بی جے پی ہار جاتی ہے تو کرناٹک میں فسادات ہوں گے۔ کرناٹک پرسکون اور خوشحال ہے، فسادات کہاں ہیں؟ راؤت کے تبصروں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کرناٹک میں بی جے پی کی شکست پرامن رہی ہے، امت شاہ کی پیشین گوئی بھی غلط ثابت ہوئی کہ اگر بی جے پی ہار گئی تو فسادات ہوں گے۔

راوت نے 2024 کے عام انتخابات کی تیاریوں کے بارے میں بھی بات کی۔راوت نے مزید کہا کہ مودی لہر ختم ہو چکی ہے اور اب ہماری لہر پورے ملک میں آرہی ہے۔ 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے لیے ہماری تیاری شروع ہو گئی ہے اور آج شرد پوار کی صدارت میں ایک میٹنگ بلائی گئی ہے، ہم اس بارے میں بات کریں گے۔ اس میٹنگ میں 2024 کے الیکشن اور اس کی تیاری سے متعلق تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

راؤت کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپوزیشن پارٹیاں 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے لیے پہلے سے ہی تیاری کر رہی ہیں، اس پر بات کرنے کے لیے شرد پوار کو میٹنگ کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔کرناٹک میں چیف منسٹر کا انتخاب کرنا کانگریس کے لیے مشکل کام ہے۔ اس عہدے کے لیے دو مضبوط دعویدار ہیں - سابق وزیر اعلیٰ سدرامیا اور کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے سربراہ ڈی کے شیوکمار. پارٹی ہائی کمان نے اتوار کو تمام جیتنے والے امیدواروں کی میٹنگ طلب کی ہے تاکہ یہ فیصلہ کیا جاسکے کہ قانون ساز پارٹی کا لیڈر کون ہوگا۔ تاہم حتمی فیصلہ پارٹی ہائی کمان کرے گی۔

बीजेपी शिवसेना को क्रूर तरीके से खत्म करने की कोशिश कर रही है, लेकिन सफल नहीं होगी:ठाकरे

शिवसेना (यूबीटी) के नेता उद्धव ठाकरे ने बागी धड़े को पार्टी का नाम और चुनाव चिह्न आवंटित करने को लेकर रविवार को चुनाव आयोग पर निशाना साधा और चुनाव आयोग को सत्ता में बैठे लोगों का 'गुलाम' करार दिया।

मुख्यमंत्री एकनाथ शिंदे के नेतृत्व वाले गुट के हाथों पार्टी का नाम और चुनाव चिह्न 'तीर कमान' गंवाने के हफ्तों बाद चुनाव आयोग को 'चुना लगाओ' आयोग करार देते हुए ठाकरे ने कहा कि चुनाव आयोग पार्टी को कभी नहीं छीन सकता, जिसकी स्थापना उनके दिवंगत पिता ने की थी।

उन्होंने कहा कि यह बाल ठाकरे ही थे, जो भारतीय जनता पार्टी के साथ खड़े थे, जब वह राजनीतिक रूप से "अछूत" थी, और पूर्व सहयोगी को महाराष्ट्र में बिना बाल ठाकरे का आह्वान किए केवल प्रधान मंत्री नरेंद्र मोदी के नाम पर वोट मांगने की चुनौती दी।

पूर्व मुख्यमंत्री ने एक रैली में इशारा करते हुए कहा, "आपने (चुनाव आयोग) हमसे पार्टी का नाम और चुनाव चिन्ह छीन लिया है, लेकिन आप शिवसेना को मुझसे नहीं छीन सकते।"आपके पास देने के लिए कुछ नहीं है। उन्होंने सभा को बताय मैं आपका आशीर्वाद और समर्थन लेने आया हूं," 

तटीय कोंकण क्षेत्र के रत्नागिरी जिले में खेड़ निर्वाचन क्षेत्र ठाकरे के पूर्व वफादार रामदास कदम का गृह क्षेत्र है, जिन्होंने शिंदे के नेतृत्व वाले गुट के प्रति निष्ठा बदल ली है।

उद्धव ठाकरे को एक बड़ा झटका देते हुए, चुनाव आयोग ने पिछले महीने शिंदे के नेतृत्व वाले समूह को 'शिवसेना' नाम और उसका चुनाव चिन्ह आवंटित किया था, जिसे शिवसेना के अधिकांश विधायकों का समर्थन प्राप्त है।

ठाकरे ने कहा कि उन्होंने चुनाव आयोग के फैसले को स्वीकार नहीं किया। अगर चुनाव आयोग मोतियाबिंद से पीड़ित नहीं है तो उसे आकर जमीनी स्थिति देखनी चाहिए। चुनाव आयोग एक 'चुना लगाव' आयोग है और सत्ता में बैठे लोगों का गुलाम है।  जिस सिद्धांत के आधार पर चुनाव आयोग ने यह फैसला लिया, वह गलत है।'ठाकरे ने कहा कि पार्टी ने उच्चतम न्यायालय में अपील की है।

उन्होंने कहा कि बीजेपी शिवसेना को क्रूर तरीके से खत्म करने की कोशिश कर रही है, लेकिन सफल नहीं होगी।उन्होंने कहा कि शिवसेना को नष्ट करने का कदम मराठी लोगों के साथ-साथ हिंदुओं की एकता पर हमले के समान है।जब बीजेपी राजनीति में अछूत थी, तब बालासाहेब ठाकरे उस पार्टी के साथ खड़े थे.

उन्होंने कहा कि पहले साधु-संत भाजपा का हिस्सा हुआ करते थे लेकिन अब पार्टी अवसरवादियों से भर गई है।उन्होंने कहा, "भ्रष्ट लोगों की सबसे बड़ी संख्या भाजपा में है। पहले, वे (भाजपा) विपक्ष के लोगों पर भ्रष्टाचार का आरोप लगाते हैं , फिर भ्रष्टाचार के आरोपी लोगों कोभाजपा में शामिल किया जाता है।"

इस आलोचना को खारिज करते हुए कि जब वह मुख्यमंत्री थे (नवंबर 2019-जून 2022) अपने घर से बाहर नहीं निकले थे, ठाकरे ने कहा, "मैं COVID महामारी के कारण बाहर नहीं गया था, लेकिन मैंने घर से काम किया, और महामारी के दौरान मेरे काम की सराहना की गई थी"।

उन्होंने कहा कि उनके समर्थक तय करेंगे कि वे उन्हें पार्टी अध्यक्ष बनाना चाहते हैं न कि चुनाव आयोग। "लोगों को यह तय करना होगा कि वे मुझे चाहते हैं या एकनाथ शिंदे। मैं लोगों के फैसले को स्वीकार करूंगा, लेकिन चुनाव आयोग के नहीं। अगर लोग कहते हैं कि वे मुझे नहीं चाहते हैं, तो मैं वैसे ही छोड़ दूंगा जैसे मैंने 'वर्षा' (मुख्यमंत्री का आधिकारिक निवास) को छोड़ा था।"

भाजपा पर निशाना साधते हुए उन्होंने कहा कि जिस तरह एकनाथ शिंदे ने मेरे (उद्धव ठाकरे के) पिता को ''चुरा लिया'', भाजपा ने ''सरदार वल्लभ भाई पटेल और सुभाष चंद्र बोस को चुरा लिया क्योंकि उस पार्टी के पास भरोसा करने के लिए कोई प्रतीक नहीं है।''क्या आप उन्हें (शिंदे के संदर्भ में) वोट देंगे?" उन्होंने दर्शकों से पूछा।

ठाकरे ने कहा, "पहले भाजपा का मंच साधुओं और संतों से भरा हुआ करता था, लेकिन अब यह अवसरवादियों से भरा हुआ है। मैं भाजपा को चुनौती देता हूं कि वह महाराष्ट्र में केवल प्रधानमंत्री नरेंद्र मोदी के नाम पर वोट मांगे न कि बालासाहेब ठाकरे के नाम पर।"उन्होंने अपने समर्थकों से महाराष्ट्र चुनाव में बीजेपी को धूल चटाने की अपील की.

ادھو گروہ کے اراکین اسمبلی نے" 50 کھوکے..... ایکدم اوکے" کے نعرے لگا کر شندے کیمپ اراکین اسمبلی پر 50 کروڑ میں فروخت ہونے کا الزام لگایا

مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی میں مانسون اجلاس کے پانچواں دن کا آغاز برسراقتدار اور اپوزیشن کے درمیان ہنگامہ آرائی سے ہوا۔ ادھو کیمپ اور شندے کیمپ کے اراکین اسمبلی آپس میں لڑ پڑے۔ دونوں گروپوں کے درمیان اسمبلی کی سیڑھیوں پر بھی دھکا مکی ہوئی. اپوزیشن نے برسراقتدار کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ ادھو گروہ کے اراکین اسمبلی نے شنڈے گروہ کے لیے '50 کھوکے...ایکدم اوکے' کا نعرہ لگایا۔ اس نعرے کی آڑ میں شندے گروہ کے اراکین اسمبلی پر 50 کروڑ میں فروخت ہونے کا الزام تھا۔  مہنگائی اور کسانوں کا مسئلہ اٹھانے اور حکومت سے جواب مانگنے کے لیے این سی پی رکن اسمبلی گاجر لے کر پہنچے۔ گاجر کو لے کر دونوں گروپوں میں ہاتھا پائی بھی ہوئی۔ دونوں پارٹیوں کے سینئر لیڈروں نے آگے آکر معاملہ رفع دفع کیا۔  اس کے بعد ایوان کی کارروائی کا آغاز ہوسکا۔

بی جے پی اراکین اسمبلی نتیش رانے نے آج ایوان میں کہا کہ ریاست کے احمد نگر میں ایک نابالغ لڑکی کو تبدیلی مذہب کے نام پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ریاست میں اس طرح کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔  رانے نے کہا کہ ہندو لڑکیوں کو لالچ دینے کے لیے لڑکوں کو ریٹ کارڈ دیا گیا ہے، جس کے تحت ان لڑکوں کو پیسے ملتے ہیں۔ رانے کا کہنا ہے کہ ریاست میں ہندو لڑکیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اسی لیے دیگر ریاستوں کی طرح مہاراشٹر میں بھی تبدیلی مذہب کے خلاف قانون بنایا جانا چاہیے۔

ایکناتھ شندے نے ٹوئیٹ کرکے پوار سے ملاقات کی تردید کی، تصویر کو پرانی بتاتے ہوئے افواہوں پر توجہ نہ دینے کی اپیل کی

مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے کی راشٹریہ وادی کانگریس پارٹی سربراہ شرد پوار کو گلدستہ پیش کرتے ہوئے ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے. ایکناتھ شندے نے اس معاملے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ تصویر کو جعلی قرار دیا اور منگل کے روز شرد پوار سے ملاقات کی تردید کی ہے.

یہ بھی پڑھیں:.... وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے کابینہ سے استعفیٰ دیا
ایکناتھ شندے نے ٹوئیٹ کرکے کہا کہ فی الحال راشٹریہ وادی کانگریس سربراہ شرد پوار کے ساتھ ملاقات کی ایک تصویر وائرل ہورہی ہے، ایسی کوئی ملاقات ہی نہیں ہوئی، افواہوں پر توجہ نہ دیں.
سوشل میڈیا پر تصویر وائرل ہونے کے بعد چہ میگوئیاں شروع ہوگئی کہ ایکناتھ شندے نے اپنے سابق قائد اور سابق وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے سے آشیرواد لینے کی بجائے شرد پوار کا آشیرواد لینے کو ترجیح دی.
بعد ازاں وزیراعلیٰ کے دفتر سے وضاحت کی گئی کہ تصویر پرانی ہے. شرد پوار کی سالگرہ پر ایکناتھ شندے نے جب انہیں مبارکباد پیش کی تھی اس وقت کی تصویر ہے.
 وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے ممبئی اور مہاراشٹر کے دیگر علاقوں میں بارش اور حالات کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں. اسلئے شرد پوار سے ملاقات کی خبریں محض افواہ ہیں.



میں واپس آؤں گا(می پُنہا ینار) بیان کو یاد کرتے ہوئے فڑنویس نے کہا، میں دوبارہ آگیا اور انہیں کو اپنے ساتھ لے آیا

مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے کہا کہ 2019 مہاراشٹر اسمبلی انتخابات میں ہمارے اتحاد کو اکثریت ملی لیکن جان بوجھ ہم سے اکثریت چھین لی گئی. لیکن ایکناتھ شندے کے ساتھ ہم نے ایک بار پھر شیوسینا کے ساتھ اپنی حکومت بنائی ہے۔ ایک سچے شیوسینک کو وزیراعلیٰ بنایا گیا ہے۔  میں اپنی پارٹی کے حکم کے مطابق نائب وزیر اعلیٰ بنا.

یہ بھی پڑھیں:... خطبہ حج براہ راست 14 زبانوں میں نشر ہوگا: حج انتظامیہ
فڑنویس نے مزید کہا کہ میں نے ایک بار کہا تھا کہ میں واپس آؤں گا۔  لیکن جب میں نے یہ کہا تو کئی لوگوں نے میرا مذاق اڑایا۔  میں آج واپس آیا ہوں اور انہیں (ایکناتھ شندے) کو اپنے ساتھ لے آیا ہوں۔  میں ان لوگوں سے بدلہ نہیں لوں گا جنہوں نے میرا مذاق اڑایا۔ میں انہیں معاف کردوں گا، سیاست میں ہر چیز کو دل پر نہیں لیا جاتا. سیاست میں ہر کسی کو مخالفین کی مخالفت کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔  ہم نے دیکھا ہے کہ لوگوں کو بیانات دینے اور سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے پر جیل بھیج دیا گیا۔ ہمیں اپنے خلاف بولنے والوں کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ہمیں تنقید کا جواب دینا چاہیے لیکن مناسب طریقے سے.

 

ایکناتھ شندے نے سنجے شیرساٹ کا لکھا ہوا خط شیئر کیا، شیوسینا اراکین اسمبلی کے احساسات اور جذبات کی عکاسی

مہاراشٹر میں جاری سیاسی اتھل پتھل کے درمیان اب باغی اراکین اسمبلی اور ادھو ٹھاکرے کے درمیان نوک جھونک شروع ہوگئی ہے. ادھو ٹھاکرے کے فیس لائیو کے بعد آج ایکناتھ شندے نے ایک مکتوب شیئر کیا ہے جو سنجے شیرساٹ نے لکھا ہے مگر اس میں تمام اراکین اسمبلی کے احساسات کی عکاسی کی گئی ہے. 

یہ بھی پڑھیں :.... ادھو ٹھاکرے نے سی ایم ہاؤس چھوڑ دیا
سنجے شیرساٹ نے لکھا کہ شیوسینا اراکین اسمبلی کیلئے آپ کا دروازہ ہمیشہ بند رہتا تھا، آپ ان اراکین اسمبلی کی کبھی سنتے نہیں تھے جبکہ ایکناتھ شندے نے ہمیشہ اپنے اراکین اسمبلی کی باتوں کو سنا اور آئندہ بھی سنتے رہیں گے. کل ورشا بنگلے کے دروازے سچ مچ عوام کیلئے کھول دیئے گئے بنگلے پر ہجوم دیکھ کر خوشی ہوئی. گزشتہ ڈھائی سال سے بطور شیوسینا رکن اسمبلی ہمارے لئے یہ دروازے بند تھے. ہمیں ایسے لوگ چلا رہے تھے جنہیں عوام نے نہیں منتخب کیا تھا وہ ودھان سبھا یا راجیہ سبھا کے ذریعے آئے تھے. وہ ہمیں شکست دینے اور راجیہ سبھا اور ودھان پریشد انتخابات کی حکمت عملی طے کرنے کا کام کررہے تھے. اس کا نتیجہ صرف مہاراشٹر نے دیکھا ہے.
بطور شیوسینا رکن اسمبلی ہمیں ورشا بنگلے تک براہ راست رسائی حاصل نہیں ہوئی. وزیراعلیٰ منترالیہ کی چھٹی منزل پر سب سے ملاقات کرتے تھے لیکن ہمارے لیے کوئی جگہ نہیں تھی، کیونکہ آپ کبھی منترالیہ میں نہیں گئے۔ کئی بار حلقے کے کاموں، دیگر مسائل، ذاتی مسائل کے لیے وزیراعلیٰ صاحب سے ملنے کی درخواست کرنے کے بعد ہمیں بلایا جاتا اور گھنٹوں بنگلے کے گیٹ پر کھڑا رکھا جاتا۔  میں نے وزیراعلیٰ کو کئی بار فون کیا لیکن فون ریسیو نہیں کیا جاتا تھا۔ آخر کار ہم تھک ہار کر واپس چلے جاتے۔ ہمارا سوال یہ ہے کہ ہمارے اپنے اراکین اسمبلی کے ساتھ ایسا ناروا سلوک کیوں؟ 3-4 لاکھ رائے دہندگان نے جنہیں منتخب کیا ہے ان نمائندوں کے ساتھ یہ سلوک؟