Articles by "Deputy CM"
Showing posts with label Deputy CM. Show all posts

اقلیتی طلبہ کیلئے اسکالرشپ اور مالیگاؤں حج ہاؤس کی تعمیر کیلئے ممبئی میں نمائندگی

مالیگاؤں: مالیگاؤں کے سابق رکن اسمبلی، اسلام پارٹی کے بانی و قائد آصف شیخ رشید نے آج ممبئی میں مہاراشٹر کی نائب وزیر اعلیٰ و وزیر اقلیت سنیترا تائی پوار سے ملاقات کی اور مالیگاؤں شہر کے مختلف اہم مسائل کے حل، بنیادی سہولیات کی ترقی اور اقلیتی طلبہ کے تعلیمی مستقبل کے حوالے سے اہم مطالبات پیش کیے۔ملاقات کے دوران آصف شیخ رشید نے کہا کہ مالیگاؤں ایک اہم اقلیتی شہر ہے، جہاں بڑی تعداد میں غریب اور متوسط طبقے کے افراد زندگی بسر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں روزگار اور آمدنی کے محدود ذرائع کے باعث شہریوں کی معاشی حالت انتہائی کمزور ہے اور مالیگاؤں کی ترقی کا بڑا انحصار سرکاری امداد اور خصوصی گرانٹس پر ہے۔انہوں نے نائب وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ مالیگاؤں شہر کے بنیادی مسائل، سڑکوں، پانی، صفائی، صحت، تعلیم اور دیگر ضروری شہری سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے کی خصوصی ترقیاتی گرانٹ منظور کی جائے، تاکہ شہر میں جاری ترقیاتی کاموں کو رفتار دی جاسکے اور عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کی جاسکیں۔

آصف شیخ نے مالیگاؤں میں ریجنل حج ہاؤس کی تعمیر کا مطالبہ بھی نائب وزیر اعلیٰ سنیترا پوار کے سامنے رکھا۔ انہوں نے کہا کہ مالیگاؤں نہ صرف ناسک ضلع بلکہ جلگاؤں، دھولیہ اور نندوربار سمیت اطراف کے علاقوں کے لیے بھی ایک اہم مرکزی شہر ہے، جہاں بڑی تعداد میں مسلم آبادی آباد ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان علاقوں سے ہر سال بڑی تعداد میں عازمینِ حج سفرِ حج پر روانہ ہوتے ہیں، لیکن حج سے متعلق ضروری سہولیات کے لیے انہیں دور دراز مقامات کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ اگر مالیگاؤں میں ریجنل حج ہاؤس قائم کیا جاتا ہے تو مالیگاؤں کے ساتھ ساتھ اطراف کے اضلاع کے عازمینِ حج کو بھی بڑی سہولت حاصل ہوگی۔

آصف شیخ نے مطالبہ کیا کہ حکومت مالیگاؤں میں حج ہاؤس کی تعمیر کے لیے ضروری منظوری اور فنڈز فراہم کرتے ہوئے اس منصوبے کو جلد عملی شکل دے۔

ملاقات میں آصف شیخ نے اقلیتی طلبہ کی تعلیمی مشکلات کا مسئلہ بھی تفصیل سے پیش کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مہاراشٹر حکومت اقلیتی طلبہ کے لیے اسکالرشپ کا دائرہ وسیع کرے، خصوصاً ہائر ایجوکیشن حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے خصوصی مالی امداد کا انتظام کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ مالی مشکلات کے باعث کئی باصلاحیت طلبہ اعلیٰ تعلیم جاری رکھنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ایسے طلبہ کو حکومت کی جانب سے لاکھوں روپے تک کی اسکالرشپ فراہم کی جائے تو وہ اپنی تعلیم مکمل کرکے بہتر مستقبل کی جانب گامزن ہوسکتے ہیں اور ملک و ریاست کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔ملاقات کے دوران نائب وزیر اعلیٰ و وزیر اقلیت سنیترا تائی پوار نے آصف شیخ رشید کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات پر مثبت تیقن دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ان معاملات کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے اور متعلقہ امور پر ضروری کارروائی کی جائے گی۔

آصف شیخ رشید نے امید ظاہر کی کہ نائب وزیر اعلیٰ کی مثبت یقین دہانی کے بعد مالیگاؤں کے لیے خصوصی ترقیاتی گرانٹ، ریجنل حج ہاؤس کی تعمیر اور اقلیتی طلبہ کے لیے اعلیٰ تعلیمی اسکالرشپ کے مطالبات پر جلد عملی پیش رفت ہوگی۔

کیا NCP کے فیصلے سے شرد پوار ناراض ہیں؟ کیا این سی پی اندرونی خلفشار کا شکار؟؟

مہاراشٹر کی سیاست میں ایک بار پھر ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (NCP) کی اہم میٹنگ سے قبل ہی سنیترہ پوار کے نائب وزیر اعلیٰ بننے کی قیاس آرائیوں نے زور پکڑ لیا ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ تاثر گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ پارٹی کے اندر فیصلہ تقریباً طے ہو چکا ہے اور محض باضابطہ اعلان باقی ہے۔

اس پیش رفت کے درمیان سب سے بڑا سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ کیا اس فیصلے سے NCP کے سینئر رہنما اور پارٹی کے بانی شرد پوار ناخوش ہیں؟ ذرائع کے مطابق، سنیترہ پوار کے نام پر پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پارٹی کی اعلیٰ سطحی میٹنگ ابھی ہونا باقی ہے، جسے اندرونی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق، اجیت پوار کے انتقال کے بعد پارٹی اور حکومت دونوں سطحوں پر قیادت کے خلا کو پُر کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اسی سلسلے میں سنیترہ پوار کو نائب وزیر اعلیٰ کی ذمہ داری سونپنے پر غور کیا گیا اور مبینہ طور پر میٹنگ سے پہلے ہی اس پر اتفاق رائے قائم کر لیا گیا۔

دوسری جانب، شرد پوار کی خاموشی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر شرد پوار واقعی اس فیصلے سے متفق نہیں ہیں تو آنے والے دنوں میں NCP کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آ سکتے ہیں۔ فی الحال پارٹی کی آئندہ میٹنگ اور قیادت سے متعلق باضابطہ اعلان پر سب کی نظریں ٹکی ہوئی ہیں۔

اجیت پوار کی اہلیہ سنیترہ پوار کل شام 5 بجے مہاراشٹر کی نائب وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیں گی

ممبئی: نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے مرحوم سینئر رہنما اور سابق نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کی اہلیہ سنیترہ پوار نے مبینہ طور پر پارٹی کی جانب سے پیش کی گئی مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ کے عہدے کی پیشکش قبول کر لی ہے۔ اگر وہ حلف لیتی ہیں تو سنیترہ پوار ریاست کی پہلی خاتون نائب وزیر اعلیٰ ہوں گی۔

ذرائع کے مطابق، این سی پی نے ہفتہ کے روز صبح 11 بجے اپنی قانون ساز پارٹی کی میٹنگ طلب کی ہے۔ اس کے بعد دوپہر 2 بجے ودھان بھون میں این سی پی کے اراکین اسمبلی کی نشست منعقد ہوگی، جس میں پارٹی کے قانون ساز لیڈر کا باضابطہ انتخاب کیا جائے گا۔ توقع ہے کہ سنیترہ پوار کو متفقہ طور پر اس عہدے کے لیے منتخب کر لیا جائے گا، جس کے بعد ان کی ریاستی کابینہ میں شمولیت کی راہ ہموار ہو جائے گی۔

قانون ساز پارٹی لیڈر منتخب ہونے کے بعد سنیترہ پوار کے اسی شام نائب وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لینے کا امکان ہے۔ حلف برداری کی تقریب کی تیاریاں جاری بتائی جا رہی ہیں۔

اس سے قبل دن میں این سی پی کے سینئر رہنما چھگن بھجبل نے وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس سے ملاقات کر کے حلف برداری اور اس سے متعلق رسمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ میڈیا سے گفتگو میں بھجبل نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کو تقریب کے انعقاد پر کوئی اعتراض نہیں ہے، تاہم کسی کے گزرنے کے بعد رائج روایتی پہلوؤں کو بھی مدنظر رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سینئر رہنما سنیل تٹکرے اور پرفُل پٹیل بھی اپنی آرا پیش کر رہے ہیں اور حتمی فیصلہ چند گھنٹوں میں متوقع ہے۔

واضح رہے کہ اجیت پوار، جو مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے، بدھ کے روز ضلع بارامتی میں پیش آئے ایک طیارہ حادثے میں چار دیگر افراد کے ساتھ ہلاک ہو گئے تھے۔ ان کی اچانک موت کے بعد این سی پی کی قیادت اور ریاستی حکومت میں پارٹی کے مستقبل کے کردار پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔


سی بی آئی کا چھاپہ سسوڈیا کی اچھی کارکردگی کا نتیجہ ہے جس کی عالمی سطح پر تعریف ہورہی ہے: اروند کیجریوال 

دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسوڈیا کی رہائش گاہ پر سی بی آئی کے چھاپے کے بعد وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے کہا کہ سی بی آئی کا چھاپہ سسوڈیا کی اچھی کارکردگی کا نتیجہ ہے جس کی عالمی سطح پر تعریف ہورہی ہے. انہوں نے کہا کہ اس قبل بھی سی بی آئی کے چھاپے پڑتے تھے، سابقہ کی طرح اس بار بھی کچھ نہیں ملے گا.

واضح رہے کہ آج جمعہ کی صبح دہلی ایکسائز پالیسی کے سلسلے میں سی بی آئی نے دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسوڈیا کی رہائش گاہ سمیت 10 سے زائد مقامات پر چھاپے مارے۔

غورطلب ہے کہ جس دن دہلی کے تعلیمی ماڈل کو سراہا گیا اور منیش سسوڈیا کی تصویر امریکہ کے سب سے بڑے اخبار دی نیویارک ٹائمز کے صفحہ اول پر شائع ہوئی، مرکز نے منیش کی رہائش گاہ پر سی بی آئی بھیج دی. اروند کیجریوال نے ٹوئیٹ کرکے کہا کہ سی بی آئی کا خیرمقدم ہے، تفتیش میں مکمل تعاون کریں گے. اس سے قبل بھی چھاپے مارے گئے اور تفیش ہوئی لیکن کچھ نہیں ملا. اس مرتبہ بھی کچھ نہیں ملے گا.

بدقسمتی کی بات ہے کہ ہمارے ملک میں اچھے کام کرنے والوں کو اس طرح ہراساں کیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمارا ملک ابھی تک نمبر ون نہیں بن سکا: منیش سسوڈیا

آج بروز جمعہ سی بی آئی ٹیم دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسوڈیا کے گھر پہنچی۔ منیش سسوڈیا نے ٹویٹ کر کے کہا آپ کا استقبال ہے۔  انہوں نے کہا کہ اچھا کام کرنے والوں کو ہراساں کیا جاتا ہے۔ ہم ایماندار ہیں، تحقیقات میں مکمل تعاون کریں گے۔ غور طلب ہے کہ گزشتہ ماہ دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے دہلی میں نئی ​​ایکسائز پالیسی کی سی بی آئی انکوائری کی سفارش کی تھی۔ اس کے بعد ہی یہ کارروائی ہو رہی ہے۔ سسوڈیا نے ٹوئیٹ کیا کہ سی بی آئی آگئی ہے۔ ان کا استقبال ہے. ہم ایماندار ہیں. لاکھوں بچوں کا مستقبل بنانا۔ یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے کہ ہمارے ملک میں اچھے کام کرنے والوں کو اس طرح ہراساں کیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمارا ملک ابھی تک نمبر ون نہیں بن سکا۔ ہم سی بی آئی کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ تحقیقات میں مکمل تعاون کریں گے تاکہ جلد حقیقت سامنے آسکے۔ اب تک میرے خلاف کئی مقدمات درج ہوئے لیکن کچھ نہیں نکلا۔ اس سے بھی کچھ نہیں نکلے گا۔ ملک میں اچھی تعلیم کے لیے میرا کام نہیں روکا جا سکتا۔  یہ لوگ دہلی کی تعلیم اور صحت کے شاندار کام سے پریشان ہیں۔ اسی لیے دہلی کے وزیر صحت اور وزیر تعلیم کو گرفتار کیا گیا ہے تاکہ تعلیم اور صحت کے میدان میں اچھے کام کو روکا جا سکے۔ ہم دونوں پر جھوٹے الزامات ہیں۔ عدالت میں سچ سامنے آجائے گا۔


 دہلی حکومت کا اہم اعلان، تمام نجی اسکولوں کو حکم جاری، سرپرست کتنے مطمئن یہ تو وقت ہی بتائے گا

دہلی: اروند کیجریوال حکومت نے پرائیوٹ اسکولوں کی من مانی فیس وصولی کے معاملے ایک بڑا اعلان کیا ہے۔جمعرات کے روز دہلی حکومت نے حکم جاری کیا کہ راجدھانی میں جاری تمام پرائیوٹ اسکول اپنی فیس میں 15 فیصد کی تخیف کریں گی۔یہ حکم گذشتہ سال کے تعلیمی سال 2020 اور 2021 کیلئے لاگو کئے گئے ہیں۔حکومت نے اپنے حکمانہ میں یہ بھی کہا کہ اگر اسکولوں نے سرپرستوں سے زیادہ فیس وصول کی ہے تو انہیں لوٹانا ہوگا یا آئندہ سال میں اسے ایڈجسٹ کرنا ہوگا۔کرونا وباء کے سبب اروند کیجریوال حکومت کے اس فیصلے سے سرپرستوں کو کچھ راحت ضرور حاصل ہوگی۔جمعرات کے روز نائب وزیراعلی منیش سسوڈیا نے کہا کہ کرونا کے اس دور میں سرپرست معاشی تنگی کا شکار ہیں، ایسے میں اسکول فیس میں 15 فیصدی کی تخفیف سے سرپرستوں کو بڑی راحت ملے گی۔مثال کے طور پر اگر 2020-2021 میں اسکول کی ماہانہ فیس 3 ہزار روپے تھی تو 15 فیصد تخفیف کے بعد اسکول سرپرستوں سے 2550 روپے ہی وصول کرسکتے ہیں۔حکومت کے اعلان کے مطابق اگر اسکولوں نے زیادہ فیس وصول کی ہے تو انہیں لوٹانا ہوگا یا آئندہ سال میں ایڈجسٹ کرنا ہوگا۔اسکے علاوہ اسکول انتظامیہ سرپرستوں کی معاشی تنگی کے سبب بقایا فیس کی ادائیگی نہیں کرنے پر کسی بھی اسکولی سرگرمی میں بچوں کو حصہ لینے سے نہیں روک سکتی۔حکومت کا یہ حکم ان تمام 460 اسکولوں پر لاگو ہوگا جنہوں نے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔باقی تمام اسکولوں کو دہلی حکومت کی جانب سے 18 اپریل 2020 اور 28 اپریل 2020  کو جاری کئے گئے حکم پر عمل کرنا ہوگا۔حالانکہ فیس میں صرف 15 فیصد تخفیف سے سرپرست کتنے مطمئن ہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔