Articles by "Ajit Pawar"
Showing posts with label Ajit Pawar. Show all posts

کیا NCP کے فیصلے سے شرد پوار ناراض ہیں؟ کیا این سی پی اندرونی خلفشار کا شکار؟؟

مہاراشٹر کی سیاست میں ایک بار پھر ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (NCP) کی اہم میٹنگ سے قبل ہی سنیترہ پوار کے نائب وزیر اعلیٰ بننے کی قیاس آرائیوں نے زور پکڑ لیا ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ تاثر گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ پارٹی کے اندر فیصلہ تقریباً طے ہو چکا ہے اور محض باضابطہ اعلان باقی ہے۔

اس پیش رفت کے درمیان سب سے بڑا سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ کیا اس فیصلے سے NCP کے سینئر رہنما اور پارٹی کے بانی شرد پوار ناخوش ہیں؟ ذرائع کے مطابق، سنیترہ پوار کے نام پر پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پارٹی کی اعلیٰ سطحی میٹنگ ابھی ہونا باقی ہے، جسے اندرونی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق، اجیت پوار کے انتقال کے بعد پارٹی اور حکومت دونوں سطحوں پر قیادت کے خلا کو پُر کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اسی سلسلے میں سنیترہ پوار کو نائب وزیر اعلیٰ کی ذمہ داری سونپنے پر غور کیا گیا اور مبینہ طور پر میٹنگ سے پہلے ہی اس پر اتفاق رائے قائم کر لیا گیا۔

دوسری جانب، شرد پوار کی خاموشی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر شرد پوار واقعی اس فیصلے سے متفق نہیں ہیں تو آنے والے دنوں میں NCP کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آ سکتے ہیں۔ فی الحال پارٹی کی آئندہ میٹنگ اور قیادت سے متعلق باضابطہ اعلان پر سب کی نظریں ٹکی ہوئی ہیں۔

اجیت پوار کی اہلیہ سنیترہ پوار کل شام 5 بجے مہاراشٹر کی نائب وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیں گی

ممبئی: نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے مرحوم سینئر رہنما اور سابق نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کی اہلیہ سنیترہ پوار نے مبینہ طور پر پارٹی کی جانب سے پیش کی گئی مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ کے عہدے کی پیشکش قبول کر لی ہے۔ اگر وہ حلف لیتی ہیں تو سنیترہ پوار ریاست کی پہلی خاتون نائب وزیر اعلیٰ ہوں گی۔

ذرائع کے مطابق، این سی پی نے ہفتہ کے روز صبح 11 بجے اپنی قانون ساز پارٹی کی میٹنگ طلب کی ہے۔ اس کے بعد دوپہر 2 بجے ودھان بھون میں این سی پی کے اراکین اسمبلی کی نشست منعقد ہوگی، جس میں پارٹی کے قانون ساز لیڈر کا باضابطہ انتخاب کیا جائے گا۔ توقع ہے کہ سنیترہ پوار کو متفقہ طور پر اس عہدے کے لیے منتخب کر لیا جائے گا، جس کے بعد ان کی ریاستی کابینہ میں شمولیت کی راہ ہموار ہو جائے گی۔

قانون ساز پارٹی لیڈر منتخب ہونے کے بعد سنیترہ پوار کے اسی شام نائب وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لینے کا امکان ہے۔ حلف برداری کی تقریب کی تیاریاں جاری بتائی جا رہی ہیں۔

اس سے قبل دن میں این سی پی کے سینئر رہنما چھگن بھجبل نے وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس سے ملاقات کر کے حلف برداری اور اس سے متعلق رسمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ میڈیا سے گفتگو میں بھجبل نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کو تقریب کے انعقاد پر کوئی اعتراض نہیں ہے، تاہم کسی کے گزرنے کے بعد رائج روایتی پہلوؤں کو بھی مدنظر رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سینئر رہنما سنیل تٹکرے اور پرفُل پٹیل بھی اپنی آرا پیش کر رہے ہیں اور حتمی فیصلہ چند گھنٹوں میں متوقع ہے۔

واضح رہے کہ اجیت پوار، جو مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے، بدھ کے روز ضلع بارامتی میں پیش آئے ایک طیارہ حادثے میں چار دیگر افراد کے ساتھ ہلاک ہو گئے تھے۔ ان کی اچانک موت کے بعد این سی پی کی قیادت اور ریاستی حکومت میں پارٹی کے مستقبل کے کردار پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار طیارہ حادثے میں جاں بحق

مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے سینئر رہنما اجیت پوار بدھ، 28 جنوری کو ضلع بارامتی میں طیارہ حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔ یہ افسوسناک حادثہ اس وقت پیش آیا جب ان کا طیارہ بارامتی ایئر اسٹرپ پر لینڈنگ کے دوران حادثے کا شکار ہو گیا۔

اطلاعات کے مطابق اجیت پوار آج بارامتی میں متعدد سیاسی تقاریب میں شرکت کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ ابتدائی جانچ میں بتایا گیا ہے کہ لینڈنگ کے دوران طیارے کو تکنیکی خرابی کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں طیارہ رن وے کے قریب 8 بج کر 48 منٹ پر گر کر تباہ ہو گیا۔

حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ VT-SSK لئیر جیٹ 45 تھا۔ طیارے میں کل پانچ افراد سوار تھے، جن میں تین مسافر، ایک پائلٹ اور ایک کریو ممبر شامل تھے۔ حادثے کے فوراً بعد طیارے میں آگ بھڑک اٹھی، جس کے باعث کوئی بھی مسافر زندہ نہیں بچ سکا۔

بارامتی کے اے ٹی سی انسٹرکٹر کاروار ایوی ایشن کے مطابق طیارہ رن وے 11 کے تھریش ہولڈ پر حادثے کا شکار ہوا، جس کے بعد اس میں شدید آگ لگ گئی۔ تمام افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔

مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے اس افسوسناک واقعے کے بعد اپنا کونکن دورہ منسوخ کر دیا۔

حکام نے تصدیق کی کہ طیارے میں پانچ افراد سوار تھے، جن میں تین مسافر، ایک پائلٹ اور ایک کریو ممبر شامل تھے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق اجیت پوار کے ساتھ ایک پی ایس او، ایک اٹینڈنٹ اور دو کریو ممبران (پائلٹ اِن کمانڈ اور فرسٹ آفیسر) موجود تھے۔ حادثے میں کوئی بھی شخص زندہ نہیں بچا۔

اجیت پوار آج بارامتی میں مختلف سیاسی پروگراموں میں شرکت کرنے والے تھے۔ لینڈنگ کے دوران طیارے کو پیش آنے والی خرابی حادثے کی ممکنہ وجہ بتائی جا رہی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کی مکمل وجوہات جاننے کے لیے تکنیکی جانچ جاری ہے، جبکہ مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

مہایوتی کو برتری، ایم وی اے 45 سے بھی کم پر سمٹی

مہاراشٹر میں منعقدہ نگر پریشد (میونسپل کونسل) انتخابات کے نتائج سامنے آ گئے ہیں، جن میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے۔ نتائج کے مطابق حکمراں اتحاد مہایوتی نے مجموعی طور پر واضح برتری حاصل کی ہے، جبکہ اپوزیشن اتحاد مہا وکاس اگھاڑی (MVA) کی کارکردگی توقعات سے کم رہی اور اس کی نشستیں 45 کے ہندسے سے بھی نیچے رہیں۔

یہ بھی پڑھیں:..........مالیگاؤں کارپوریشن الیکشن: سماجوادی امیدواروں کی پہلی لسٹ جاریce.html

انتخابی نتائج بتاتے ہیں کہ شہری علاقوں میں ووٹروں نے ایک بار پھر بی جے پی اور اس کے اتحادیوں پر اعتماد ظاہر کیا ہے۔ کئی نگر پریشدوں میں بی جے پی نے نہ صرف سب سے زیادہ نشستیں حاصل کیں بلکہ بعض مقامات پر آزاد اور مقامی جماعتوں کی حمایت سے حکومت بنانے کی پوزیشن بھی مضبوط کر لی ہے۔

دوسری جانب ایم وی اے، جس میں کانگریس، شیو سینا (ادھو ٹھاکرے گروپ) اور این سی پی شامل ہیں، کو اس بار خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی۔ متعدد شہروں میں اتحاد کو نقصان اٹھانا پڑا، جس سے ریاستی سیاست میں اپوزیشن کی حکمتِ عملی پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ نتائج آنے والے بلدیاتی اور ریاستی انتخابات کے لیے اہم اشارہ ہیں۔ مہایوتی کی برتری سے واضح ہوتا ہے کہ عوامی سطح پر حکومتی اتحاد کی گرفت مضبوط ہے، جبکہ ایم وی اے کو اپنی تنظیم اور زمینی سطح کی تیاریوں پر دوبارہ غور کرنا ہوگا۔

انتخابی نتائج کے بعد بی جے پی اور مہایوتی کے قائدین نے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے ترقی اور استحکام کے حق میں ووٹ قرار دیا ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے نتائج کا تجزیہ کر کے آئندہ کے لیے بہتر حکمتِ عملی بنانے کی بات کہی ہے۔

صبح 10 بجے تقریب حلف برداری، مہایوتی حکومت یا این سی پی کی جانب سے باقاعدہ تصدیق نہیں

ممبئی: آج 20 مئی بروز منگل راشٹریہ کانگریس پارٹی (این سی پی اجیت پوار) لیڈر چھگن بھجبل وزارت کا حلف لیں گے. خبروں کے مطابق صبح 10 بجے راج بھون میں حلف برداری کی تقریب

منعقد ہوگی. حلف برداری کی تقریب کیلئے سخت حفاظتی بندوبست کئے جاچکے ہیں.

وزیر خوراک و شہری سپلائی دھننجے منڈے کے استعفیٰ کی قیاس آرائیوں کے درمیان بھجبل کو کابینہ میں شامل کیا جارہا ہے. بھجبل کی مہایوتی اتحاد کے حلیف اجیت پوار کے کوٹہ سے تقرری کی جارہی ہے. دریں اثناء دیویندر فڑنویس کی زیر قیادت مہایوتی مہاراشٹر حکومت اور این سی پی کی جانب سے باقاعدہ تصدیق نہیں ہوئی ہے. حالانکہ بھجبل کی کابینہ میں واپسی کی توقع کی جارہی ہے. اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ بھجبل کیلئے ایک اہم سیاسی واپسی ہوگی.

دیویندر فڑنویس مجھے کابینہ میں لینا چاہتے تھے لیکن مجھے نہ لینے کا فیصلہ اجیت پوار نے کیا ہے: چھگن بھجبل

مہاراشٹر میں مہایوتی کی حکومت بننے اور وزراء کی حلف برداری کے بعد اب بغاوت کا سلسلہ جاری ہوگیا ہے. کئی لیڈران ناراضگی ظاہر کررہے ہیں. اجیت پوار این سی پی کے سینئر لیڈر چھگن بھجبل نے بھی واضح طور پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے. منگل کے روز انہوں نے کہا کہ "جہاں نہیں چینا، وہاں نہیں رہنا".

یہ بھی پڑھیں:.... مشہور طبلہ نواز استاد ذاکر حسین کا انتقال

ان کے اس بیان کے مختلف مطلب نکالے جارہے ہیں. وہیں منگل کے روز پونے میں چھگن بھجبل کے حامیوں نے اجیت پوار کے خلاف احتجاج بھی کیا. ان کا کہنا ہے کہ  چھگن بھجبل کو وزارت نا دینا پچھڑے طبقہ(OBC) کی تضحیک کی. بارامتی میں اجیت پوار کے بنگلے کے باہر بھی احتجاج کیا گیا.

چھگن بھجبل نے دعویٰ کیا کہ مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس انہیں کابینہ میں شامل کرنا چاہتے تھے، لیکن فیصلہ اجیت پوار نے کیا. واضح رہے کہ 77 سالہ بھجبل مہایوتی سرکار میں کابینہ کا حصہ تھے لیکن اس بار انہیں کابینہ میں جگہ نہیں دی گئی. بھجبل نے کہا کہ جس طرح بی جے پی میں دیویندر فڑنویس اور شیوسینا میں شندے فیصلے لیتے ہیں اسی طرح این سی پی میں اجیت پوار ہر فیصلہ کرتے ہیں. انہوں نے مزید کہا کہ آج وہ اپنے حامیوں اور کارکنان سے مشورہ کرنے کے بعد کچھ کہیں گے. مجھے وزیر نا بنائے جانے کا کوئی دکھ نہیں ہے لیکن میرے ساتھ جو سلوک کیا گیا میں اس سے افسردہ ہوں.

ناسک میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے بھجبل نے کہا کہ مئی میں انہیں لوک سبھا انتخابات میں امیدواری کیلئے کہا گیا تھا لیکن نام فائنل نہیں ہوا. پھر راجیہ سبھا کی سیٹ آفر کی گئی جسے میں نے ٹھکرا دیا. بھجبل نے کہا کہ جب میں راجیہ سبھا جانا چاہتا تھا تو مجھے ودھان سبھا الیکشن لڑنے کو کیا گیا اور اب مجھے راجیہ سبھا سیٹ آفر کی جارہی ہے.... کیا میں کوئی کھلونا ہوں؟؟؟ آپ جب کہیں کھڑا ہوجاؤں، جب کہیں بیٹھ جاؤں. میرے حلقے کے لوگ کیا سوچیں گے اگر میں استعفیٰ دے دوں.

بھجبل نے کہا کہ مجھے لوک سبھا انتخابات کیلئے وزیر اعظم نریندر مودی اور امیت شاہ کے بولنے پر تیار کیا گیا. میں نے ایک ماہ تک تیاری کی اور عین وقت پر میرا نام ہٹا دیا گیا. پھر مجھے بتایا گیا کہ مجھے مہاراشٹر میں رہنا چاہیے. بھجبل نے مزید کہا کہ میرے ساتھ جو ہوا ہے وہ توہین ہے یہ وزارت کو سوال نہیں بلکہ میرے ساتھ ہوئے برتاؤ کا سوال ہے.

پارٹی انڈرورلڈ گینگسٹر داؤد ابراہیم سے جڑے کسی شخص کو ٹکٹ دینا قبول نہیں کرے گی

بی جے پی نے پیر کو کہا کہ وہ اسمبلی انتخابات کے لئے این سی پی (اجیت پوار) لیڈر نواب ملک کی امیدواری کی مخالفت کرے گی۔ نواب ملک ممبئی جنوبی وسطی پارلیمانی حلقہ کے انوشکتی نگر سے موجودہ ایم ایل اے ہیں۔ خبروں کے مطابق، اس بار وہ مانخورد شیواجی نگر سے الیکشن لڑنا چاہتے ہیں اور انوشکتی نگر حلقہ سے اپنی بیٹی ثناء کو امیدوار بنانا چاہتے ہیں، جو انتخابی سیاست میں قدم رکھنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

لارینس بشنوئی کا انکاؤنٹر کرنے والے افسر کو ایک کروڑ کا انعام، کرنی سینا صدر کا اعلان

ملک خاندان نے فری پریس جرنل کو بتایا کہ وہ انتخابات کے لیے تیار ہیں اور پارٹی کے باضابطہ اعلان کا انتظار کر رہے ہیں۔ بی جے پی ممبئی کے صدر اور باندرہ (ویسٹ) کے ایم ایل اے آشیش شیلار نے پیر کو فری پریس جرنل کو بتایا کہ ان کی پارٹی انڈرورلڈ گینگسٹر داؤد ابراہیم سے جڑے کسی شخص کو ٹکٹ دینا قبول نہیں کرے گی۔

ملک اس سے پہلے مہا وکاس اگھاڑی حکومت میں بحیثیت وزیر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہیں 2022 میں این آئی اے نے داؤد اور اس کے ساتھیوں بشمول چھوٹا شکیل اور ٹیگر میمن کے خلاف درج ایک معاملے میں گرفتار کیا تھا۔ ملک کو اس سال جولائی میں طبی بنیادوں پر ضمانت دی گئی تھی۔ این سی پی کی تقسیم کے بعد مہایوتی حلیف بی جے پی کے اعتراضات کے باوجود نائب وزیر اعلی اجیت پوار کی زیر قیادت گروہ نے نواب ملک کو اپنے ساتھ لیا تھا. 

ڈپٹی چیف منسٹر دیویندر فڈنویس نے پوار کو خط لکھ کر ملک کو اپنے گروہ میں شامل نہ کرنے کی اپیل کی تھی۔ تاہم پوار نے اس خط کو نظر انداز کرتے ہوئے ملک کو اپنے کیمپ میں خوش آمدید کہا۔

مہاوکاس اگھاڑی اور برسراقتدار مہایوتی مقابلے کیلئے تیار، ونچت بہوجن اگھاڑی نے بھی مزید 30 امیدواروں کی فہرست جاری کی

نئی دہلی: مہاراشٹر اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کے لئے کانگریس 20 اکتوبر کو مرکزی الیکشن کمیٹی کا اجلاس منعقد کرے گی تاکہ ریاست کے لئے امیدواروں کی فہرست کو حتمی شکل دی جاسکے۔ پارٹی کی مہاراشٹر الیکشن اسکریننگ کمیٹی نے بدھ کے روز دہلی کے ہماچل بھون میں ایک میٹنگ کی۔ پارٹی کے ریاستی انچارج رمیش چنی تھلا، مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے، بالا صاحب تھورات، قائد حزب اختلاف وجے وڈیٹیوار اور ستیج پاٹل نے اجلاس میں شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں:.... مہاراشٹر اسمبلی الیکش کی تاریخ کا اعلان

کل اسکریننگ میٹنگ کے اختتام کے بعد اسمبلی انتخابات کے لئے پارٹی کے انچارج رمیش چنی تھلا نے کہا کہ 'ہم 20 اکتوبر کو ایک اور میٹنگ کریں گے اور ہر چیز کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔ سی ای سی کا اجلاس 20 اکتوبر کو ہے۔ پارٹی کی ممبئی صدر ورشا گائیکواڑ نے بھی کہا کہ 20 اکتوبر کو حتمی فیصلہ لیا جائے گا. اس سے قبل بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بھی قومی راجدھانی میں اپنی مرکزی کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا اور 100 سے زیادہ نشستوں پر تبادلہ خیال کیا۔ ذرائع نے بتایا کہ پارٹی اجیت پوار کی زیر قیادت نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) اور ایکناتھ شندے کی زیر قیادت شیوسینا سمیت مہایوتی اتحاد کے شراکت داروں کے ساتھ نشستوں کی تقسیم پر بات چیت کے بعد 288 رکنی مہاراشٹر اسمبلی انتخابات کے لئے اپنے بقیہ امیدواروں کے ناموں کا فیصلہ کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں:.... بابا صدیقی فائرنگ میں ہلاک

اس کے علاوہ ونچت بہوجن آگھاڑی نے ریاست کے اسمبلی انتخابات کے لئے اپنے امیدواروں کی تیسری فہرست کا بھی اعلان کیا۔ وی بی اے نے اپنی تیسری فہرست میں مزید 30 امیدواروں کا اعلان کیا۔

اس سے قبل الیکشن کمیشن آف انڈیا نے مہاراشٹر اور جھارکھنڈ اسمبلی انتخابات کے شیڈول کا اعلان کیا تھا۔ مہاراشٹر کی 288 رکنی قانون ساز اسمبلی کے لئے انتخابات 20 نومبر کو ایک ہی مرحلے میں ہوں گے اور ووٹوں کی گنتی 23 نومبر کو ہوگی۔

کارکنان نے آتش بازی کی اور جشن منایا، پوار نے اپنے فیصلے پر نظرثانی کیلئے وقت مانگا

ممبئی: نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے سربراہ کے طور پر شرد پوار کا استعفیٰ متفقہ طور پر مسترد کر دیا گیا. پارٹی کے سرکردہ رہنماؤں نے آج ممبئی میں پارٹی کارکنان کے جذباتی احتجاج کے پس منظر میں میٹنگ کی۔

 ایک بار پھر، 82 سالہ این سی پی لیڈر شرد پوار نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ انہیں پارٹی کے سربراہ کے طور پر اپنی خدمات جاری رکھنے سے متعلق سوچنے کے لیے وقت درکار ہے. واضح رہے کہ 1999 میں شرد پوار نے راشٹروادی کانگریس پارٹی کی بنیاد رکھی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:... این سی پی کا اگلا صدر کون؟؟؟ اجیت پوار،سپریا سولے یا پرفل پٹیل؟؟؟؟

 شرد پوار کی بیٹی سپریا سولے اور بھتیجے اجیت پوار اس میٹنگ میں موجود تھے جس میں سینئر این سی پی لیڈر پرفل پٹیل کی قیادت میں پینل نے جانشینی کے کسی بھی منصوبے کو ابھی کے لیے روک دیا۔

کمیٹی نے آج کے اجلاس میں متفقہ طور پر قرارداد منظور کی ہے۔  قرارداد میں کہا گیا ہے کہ شرد پوار کی صدارت برقرار رہنا چاہیے۔ پرفل پٹیل نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ صدر کے عہدے سے دستبردار ہونے کے شرد پوار کے فیصلے کی سبھی نے متفقہ طور پر مخالفت کی ہے۔ہم سب چاہتے ہیں کہ شرد پوار پارٹی صدر کے طور پر برقرار رہیں۔ انہیں ہم جیسے لاکھوں لوگوں کے جذبات کا احترام کرنا چاہئے اور انہیں بحیثیت صدر اپنی خدمات جاری رکھنا چاہئے۔

 انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے شرد پوار کو کمیٹی کے فیصلے سے آگاہ کیا، انہوں نے کہا کہ انہیں اس فیصلے پر غور کرنے کیلئے کچھ وقت درکار ہے۔

تین دنوں میں جب سے شرد پوار نے اپنے استعفیٰ کا اعلان کیا ہے تب سے قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ سپریا سولے صدر کا عہدہ سنبھالیں گی اور اجیت پوار مہاراشٹر میں پارٹی کا چہرہ ہوں گے۔  تاہم، اجیت پوار کے لیے واضح کردار کے بارے میں کوئی بات نہیں کی گئی، جن کی بی جے پی کے ساتھ گٹھ جوڑ کو شرد پوار کے حیران کن اقدام کے پیچھے ایک اہم عنصر سمجھا جاتا تھا۔  بہت سے لوگوں نے کہا کہ شرد پوار اجیت پوار اور پارٹی میں پھوٹ کو روکنا چاہتے ہیں جو اس کے بعد ہو سکتا ہے۔

آج کا فیصلہ مسٹر پوار کے اپنی پارٹی پر غلبہ کی تصدیق کرتا ہے اور اب گیند پوار کے پالے میں ہے۔

کمیٹی کے مذکورہ فیصلے کے بعد این سی پی کارکنوں کی طرف سے آتش بازی کی گئی اور جشن منایا گیا جنہوں نے اپنے شرد پوار سے استعفیٰ واپس لینے کی درخواست کی تھی۔

پرفل پٹیل نے کہا کہ اس دن شرد پوار نے جو کچھ بھی کہا وہ ہم سب کے لیے چونکا دینے والا تھا۔  ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ شرد پوار اس پروگرام میں ایسے کسی فیصلے کا اعلان کریں گے۔  آپ سب نے دیکھا کہ ان کے اعلان کے بعد کیا ہوا، لوگوں نے کس طرح اپنے جذبات کا اظہار کرنے کی کوشش کی۔  پروگرام کے بعد بھی، پارٹی کے کئی سینئر لیڈروں نے شرد پوار سے کئی بار ملاقات کی اور ہم ان سے مسلسل درخواست کرتے رہے ہیں کہ ملک، ریاست اور پارٹی سب یہ چاہتے ہیں کہ آپ صدارت پر برقرار رہیں اور آپ ہی ہماری رہنمائی کر سکتے ہیں.

جتیندر اوہاڑنے بھی جنرل سکریٹری کے عہدے سے استعفیٰ دیا، نئے صدر کے انتخاب کیلئے یشونت راؤ چوہان سینٹر میں 15 رکنی کمیٹی کی میٹنگ جاری

بدھ کو شرد پوار کے این سی پی صدر کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے اعلان کے ایک دن بعد، جتیندر اوہاڑنے بھی جنرل سکریٹری کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔  ذرائع کے مطابق مزید کئی عہدیدار استعفیٰ دےسکتے ہیں۔  82 سالہ این سی پی سربراہ شرد پوار نے منگل کو اپنے استعفیٰ کا اعلان کیا تھا اور ان کے بھتیجے اجیت پوار نے کہا تھا کہ شرد پوار کا فیصلہ بدلنے والا نہیں ہے۔ اس پریس کانفرنس کے دوران ہی پارٹی لیڈران اور کارکنوں نے فیصلے کے خلاف احتجاج کیا اور استعفیٰ واپس لینے کا مطالبہ کیا۔  شرد پوار نے آج صبح کہا کہ ان پر استعفیٰ واپس لینے کے لیے بہت دباؤ ہے۔ ممبئی کے یشونت راؤ چوہان سینٹر میں 15 رکنی کمیٹی کی میٹنگ جاری ہے، جسے نئے صدر کے انتخاب کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔  صدارت کی دوڑ میں اجیت پوار، سپریا سولے اور پرفل پٹیل کے نام سب سے آگے ہیں۔

بدھ کی صبح اجیت پوار کے گھر پر پارٹی ایم ایل ایز کی میٹنگ ہوئی۔  دوسری طرف راجندر سنگھانے، امیش پاٹل اور پراجکت کانپورے شرد پوار سے ملنے ان کی رہائش سلور اوک پہنچے۔  شرد پوار آج صبح 10:30 بجے پارٹی دفتر پہنچے۔ انہوں نے دوپہر ایک بجے تک یہاں پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں سے ملاقات کی۔ اسی دوران اجیت پوار، سپریا اور پرفل پٹیل بھی پارٹی دفتر پہنچے۔ پارٹی کے ترجمان امیش پاٹل نے کہا کہ میں پوار صاحب سے مل کر آیا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ بہت غور و فکر کے بعد کیا گیا ہے۔ قیادت اور صدارت دو الگ چیزیں ہیں۔ پارٹی کا صدر کوئی بھی ہو قیادت ہمیشہ میری ہی رہے گی۔ این سی پی لیڈر چھگن بھجبل نے کہا ہے کہ شرد پوار کی تشکیل کردہ کمیٹی نئے صدر کے بارے میں فیصلہ کرے گی۔

این سی پی میں جاری کشمکش پر مہاراشٹر کانگریس کے صدر نانا پٹولے نے کہا کہ این سی پی صدر کے طور پر شرد پوار کے استعفیٰ سے مہاوکاس اگھاڑی اتحاد پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ یہ این سی پی کا اندرونی معاملہ ہے۔ شیوسینا (ادھو ٹھاکرے) رہنما سنجے راؤت نے شرد پوار کے استعفیٰ پر کہا کہ ان کا استعفیٰ ملک کی سیاست کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ اگر انہوں نے یہ فیصلہ لیا ہے تو ملک اور مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل مچ جانا فطری ہے۔ آنے والے دنوں میں ہمیں کیا کرنا ہے اس پر جلد فیصلہ کیا جائے گا۔ ہم حالات پرنظر رکھے ہوئے ہیں۔

ودھان بھون کے باہر 50 کروڑ 50 کروڑ کے نعرے لگائے، آدتیہ ٹھاکرے نے کہا سب جانتے ہیں اصل وزیراعلیٰ کون ہے؟ 

ودھان بھون کے دروازے پر اپوزیشن کے ذریعے شندے-فڑنویس حکومت کے خلاف نعرے لگانے کے ساتھ چھ روزہ مانسون سیشن کا آغاز ہوا۔ ریاستی اسمبلی کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے اپوزیشن لیڈران اجیت پوار اور امباداس دانوے کی قیادت میں اپوزیشن پارٹیوں کے اراکین اسمبلی نے شندے کیمپ اور بی جے پی حکومت کو نشانہ بنایا اور 50 کروڑ 50 کروڑ لے نعرے بھی لگائے. انہوں نے الزام لگایا کہ شیوسینا اراکین اسمبلی کو مبینہ طور پر مالی امداد کے وعدے کرکے اور مرکزی جانچ ایجنسیوں جیسے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ اور سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن سے کلین چٹ دینے کا وعدہ کرکے لالچ دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:.... راحت فتح علی خان کا شراب کے نشے میں دھت ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

اجیت پوار کے علاوہ این سی پی اراکین اسمبلی دھننجے منڈے، ششی کانت شندے، کانگریس کے بالاصاحب تھوراٹ، پرنیتی شندے، شیوسینا کے آدتیہ ٹھاکرے، سنیل پربھو اور دیگر اراکین اسمبلی نے اپوزیشن لیڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے مرکزی جانچ ایجنسیوں کی تعیناتی کے خلاف نعرے لگائے۔ انہوں نے شدید بارش اور سیلاب سے متاثر کسانوں کو مالی امداد فراہم نہ کرنے پر حکومت پر تنقید کی۔ باغی شیوسینا لیڈروں کو ''غدار'' قرار دیتے ہوئے اپوزیشن نے دعویٰ کیا کہ جمہوری اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حکومت تشکیل دی گئی ہے۔

جبکہ شندے کیمپ نے این سی پی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اجیت پوار نے اپنے چچا کو دھوکہ دیا ہے اور نومبر 2019 میں صبح سویرے حلف برداری کی تقریب میں دیویندر فڑنویس کے ساتھ نائب وزیر اعلیٰ کا حلف لیا تھا۔ نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کے غلبے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آدتیہ ٹھاکرے نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ اصل وزیر اعلیٰ کون ہے؟

ادھو ٹھاکرے اور مودی کی ملاقات پر سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیوں کا بازار گرم، کیا بی جے پی اور سینا دوبارہ متحد ہوں گے؟ سنجے راؤت نے نئے اتحاد کے امکانات کو مسترد کیا
ممبئی: منگل کے روز مہاراشٹر کے وزیراعلی ادھو ٹھاکرے نے وزیراعظم نریندر مودی سے خصوصی ملاقات کی۔30 منٹ کی اس ملاقات کے سبب جہاں شیوسینا کے مخالفین میں بے چینی دیکھی جارہی ہے وہیں مہاوکاس اگھاڑی حکومت میں شامل شیوسینا کی حلیف جماعتوں این سی پی اور شیوسینا میں بھی کھلبلی مچی ہوئی ہے۔2019 میں وزیراعلی کے عہدے کا حلف لینے کے بعد ادھو کی مودی سے دوسری ملاقات کے سبب شیوسینا اور بی جے پی کے درمیان دوبارہ اتحاد کی قیاس آرائیاں بھی کی جارہی ہیں۔حالانکہ سینا رکن پارلیمان سنجے راؤت نے کسی بھی نئے سیاسی اتحاد کے امکانات کو مسترد کردیا ہے۔ٹھاکرے نے کہا کہ وہ اپنے والد بال ٹھاکرے کی طرح ہیں جن کے ہر ہرگوشے اور شعبے میں ہر طرح کے دوست تھے۔نریندر مودی کے ساتھ خصوصی بات چیت کی تصدیق کرتے ہوئے ٹھاکرے نے کہا کہ حالانکہ ہم سیاسی طور پر ایک ساتھ نہیں ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہمارے تعلقات منقطع ہوگئے ہیں۔میں کوئی نواز شریف سے ملنے نہیں گیا تھا۔میں ملک کے وزیراعظم سے ملنے گیا تھا اس میں کچھ غلط نہیں ہے۔ٹھاکرے نے یاد دہانی کرائی کہ مودی سے ان کے تعلقات نئے نہیں ہیں بلکہ ان کے دیرینہ تعلقات ہیں۔ٹھاکرے اور مودی کی کلوزڈ ڈور میٹنگ کو مرکزی حکومت اور مہاوکاس اگھاڑی حکومت کے درمیان مختلف مسائل پر تناؤ کے تناظر میںن دیکھا جارہا ہے۔ شیوسینا کے وزراء اور کانگریس و این سی پی لیڈران مسلسل مرکزی حکومت کو نشانہ بنارہے ہیں۔منگل کے روز ہونے والی ٹھاکرے اور مودی کی ملاقات نے مرکزی حکومت اور مہاوکاس اگھاڑی حکومت کے درمیان خوشگوار تعلقات کے نئے راستے کھول دیئے ہیں۔
 

 

بہتر ہوتا کہ ہم نے اجیت پوار کے ساتھ حکومت تشکیل دینے کا فیصلہ نہ کیا ہوتا، لیکن اس وقت مجھے لگا کہ یہ فیصلہ درست ہے: فڑنویس

ممبئی: مہاراشٹر کے سابق وزیراعلی دیویندر فڑنویس نے جمعہ کے روز کہا کہ 2019 میں راشٹروادی کانگریس لیڈر اجیت پوار کے ساتھ قلیل مدت (80 گھنٹے) کی حکومت سازی کیلئے اتحاد کرنا ایک غلطی تھی۔انہوں نے کہا کہ مجھے اس کا قطعی افسوس نہیں ہے۔فڑنویس نے مراٹھی روزنامہ لوک ستہ کے ایڈیٹرز کے ساتھ آن لائن بات چیت کے دوران کہا کہ مجھے اس بات کا بالکل افسوس نہیں ہے لیکن ہمیں اس طرح حکومت نہیں بنانی چاہیے تھی۔واضح رہے کہ مہاراشٹر اسمبلی انتخابات کے بعد شیوسینا، این سی پی اور کانگریس کے درمیان غیر بی جے پی حکومت بنانے کیلئے جاری کوششوں کے درمیان 23 نومبر 2019 کو دیویندر فڑنویس اور اجیت پوار نے صبح سویرے راج بھون میں وزیراعلی اور نائب وزیراعلی کے عہدے کا حلف لیا تھا۔فڑنویس نے مزید کہا کہ اجیت پوار کے ساتھ مل کر حکومت تشکیل دینا چاہے ایک غلطی ہی کیوں نا ہو؟ لیکن جب آپ کو دھوکا دیا جائے اور پیٹھ میں چھرا گھونپا جائے تب آپ کو سیاست میں اپنی ساکھ بحال کرنی پڑتی ہے۔فڑنویس نے شیوسینا سربراہ ادھو ٹھاکرے کا حوالہ دیا جنہوں نے بی جے پی کے ساتھ قبل از انتخاب سمجھوتے کو توڑ دیا تھا۔سیاست میں اپنی بقا کیلئے جو ممکن ہو اور ضروری ہو وہ آپ کو کرنا پڑے گا۔جب آپ کی پیٹھ میں چھرا گھونپا گیا ہے تو آپ کو موزوں جواب دینا ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ پوار کے ساتھ حکومت تشکیل دینے کا فیصلہ مخلوط احساسات پر مبنی تھا۔جب ہمیں موقع ملا ہم نے اس پر قبضہ کرلیا۔فڑنویس کے مطابق انہوں نے جو کچھ کیا وہ ان کے اور بی جے پی حامیوں کو پسند نہیں آیا تھا۔فڑنویس نے اقرار کیا کہ اس اقدام کے سبب میرے حامیوں میں میری شبیہ کو نقصان پہنچا ہے۔بہتر ہوتا کہ ہم نے اجیت پوار کے ساتھ حکومت تشکیل دینے کی کوشش نہ کی ہوتی۔لیکن اس وقت مجھے ایسا لگا کہ یہ درست فیصلہ ہے۔