Articles by "Delhi"
Showing posts with label Delhi. Show all posts

पिछड़े वर्गों तक योजनाएं पहुँचाने पर जोर,शिक्षा व सामाजिक जागरूकता पर बना रोडमैप

संविधान जागरूकता और शिक्षा अभियान को मिलेगा नया विस्तार

नई दिल्ली, 31 जुलाई: नई दिल्ली स्थित इंडिया इस्लामिक कल्चरल सेंटर (IICC) में 30 जुलाई को मुस्लिम वेलफेयर एसोसिएशन के राष्ट्रीय पदाधिकारियों की एक महत्वपूर्ण बैठक राष्ट्रीय अध्यक्ष सलीम सारंग की अध्यक्षता में संपन्न हुई। बैठक में संगठन को देशभर में और अधिक सशक्त एवं प्रभावी बनाने के साथ-साथ समाज के वंचित वर्गों के उत्थान को लेकर विभिन्न विषयों पर व्यापक चर्चा की गई।

बैठक में विशेष रूप से समाज के पिछड़े वर्गों, युवाओं एवं महिलाओं को संगठन से जोड़कर शिक्षा के क्षेत्र में प्रभावी कार्य करने की रणनीति पर विस्तार से विचार-विमर्श हुआ। साथ ही संविधान द्वारा प्रदत्त अधिकारों एवं कानूनी प्रावधानों की जानकारी जन-जन तक पहुँचाकर समाज में जागरूकता बढ़ाने तथा सामाजिक सशक्तिकरण को गति देने पर बल दिया गया।

इस दौरान केंद्र एवं राज्य सरकार की विभिन्न जनकल्याणकारी योजनाओं का लाभ समाज के पिछड़े एवं जरूरतमंद वर्गों तक प्रभावी ढंग से पहुँचाने के लिए संगठित रूप से कार्य करने की आवश्यकता पर भी जोर दिया गया। पदाधिकारियों ने इस दिशा में जनजागरण अभियान चलाने और संगठन के माध्यम से लोगों को योजनाओं की जानकारी उपलब्ध कराने का संकल्प व्यक्त किया।

बैठक में उपस्थित सभी राष्ट्रीय एवं राज्य स्तरीय पदाधिकारियों ने अपने-अपने सुझाव एवं विचार साझा किए तथा संगठन को देशभर में अधिक सशक्त, सक्रिय और जनसेवा के प्रति समर्पित बनाने का संकल्प लिया। राष्ट्रीय अध्यक्ष सलीम सारंग ने अपने मार्गदर्शन में संगठन की एकजुटता, अनुशासन और समाजहित में निरंतर कार्य करने का आह्वान करते हुए कहा कि शिक्षा, जागरूकता और सेवा के माध्यम से ही समाज का समग्र विकास संभव है।

बैठक में संगठन के राष्ट्रीय उपाध्यक्ष एवं पूर्व मंत्री मोहम्मद निसार, राष्ट्रीय उपाध्यक्ष मोहिबुल्लाह खान, दिल्ली स्टेट प्रेसिडेंट सलीम अहमद, राष्ट्रीय महासचिव एवं प्रवक्ता सतवीर सिंह जाटव, राष्ट्रीय सरचिटणीस सूफी मोहम्मद शफीक खान, मुंबई जनरल सेक्रेटरी (नॉर्थ ईस्ट) सूफी गुलाम खान, पश्चिमी उत्तर प्रदेश अध्यक्ष शमशाद हुसैन, मंडल अध्यक्ष (मुरादाबाद) मुशाहिद हुसैन, नासिर हुसैन, सय्यद मोहम्मद, सय्यद अनवर, तसलीम खान, एडवोकेट सोहेल, मोहम्मद नवेद, डॉ. बी. डी. खान तथा मोहम्मद मेहरास सहित अनेक पदाधिकारी उपस्थित रहे।

گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن نے فیصلے کی مخالفت کی, فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ

دہلی میں 142 اساتذہ کو لے کر بڑا تنازع سامنے آیا ہے۔ ان اساتذہ پر الزام ہے کہ انہوں نے مردم شماری (Census) کے کام میں حصہ لینے سے انکار کیا۔ اس کے بعد پرانی دہلی کے ضلع مجسٹریٹ نے ڈائریکٹر آف ایجوکیشن کو خط لکھ کر ان کی خدمات فوری طور پر ختم کرنے کی سفارش کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:.......تربوز کھانے سے ایک ہی خاندان کے چار افراد کی موت

ضلع انتظامیہ کا کہنا ہے کہ 16 اپریل کو ہی اساتذہ کو اطلاع دے دی گئی تھی کہ مردم شماری کا کام لازمی ہے اور تعاون نہ کرنے پر کارروائی ہوگی۔ اس کے باوجود 142 اساتذہ نے ذمہ داری لینے سے انکار کیا، جسے انتظامیہ نے سنگین لاپروائی اور نظم و ضبط کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

انتظامیہ نے یہ بھی کہا کہ اگر ایسے معاملات کو نظرانداز کیا گیا تو دیگر ملازمین پر بھی غلط اثر پڑے گا۔ دہلی کے وزیر تعلیم آتشی نے کہا کہ مردم شماری ملک کے لیے نہایت اہم کام ہے اور سب کو اس میں تعاون کرنا چاہیے، تاہم خصوصی حالات میں معاملات پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا۔

دوسری جانب متعلقہ اساتذہ کا کہنا ہے کہ انہیں ابھی تک ملازمت ختم کرنے کا کوئی سرکاری نوٹس نہیں ملا۔ دہلی گورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن نے بھی اس فیصلے کی مخالفت کی ہے۔ تنظیم کے مطابق یہ اساتذہ سالانہ کنٹریکٹ پر کام کر رہے ہیں جو 8 مئی کو ختم ہونا ہے، اور انہوں نے جان بوجھ کر کام سے انکار نہیں کیا۔

اساتذہ نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ 8 سال سے ان کی تنخواہ میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، جبکہ موجودہ معاوضہ اتنا کم ہے کہ روزمرہ اخراجات بھی مشکل سے پورے ہوتے ہیں۔ تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ مجوزہ کارروائی واپس لی جائے، باقاعدہ تنخواہ دی جائے اور مردم شماری ڈیوٹی کے لیے اضافی معاوضہ بھی دیا جائے۔

اساتذہ یونین کے مطابق سخت کارروائی سے ان کے معاشی حالات اور حوصلے دونوں پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

بی جے پی کونسلر رینو چودھری کی غیر ملکی شہری کو دھمکی، ویڈیو وائرل، سوشل میڈیا پر شدید برہمی

پٹپڑ گنج (دہلی): دہلی کے پٹپڑ گنج علاقے سے بی جے پی کی کونسلر رینو چودھری کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس میں وہ ایک جنوبی افریقی شہری کو ہندی نہ بولنے پر دھمکاتے ہوئے نظر آ رہی ہیں۔ ویڈیو کے منظرِ عام پر آنے کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں میں سخت ردِعمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:..سدھی وسترے نے ریاست کی سب سے کم عمر صدر بلدیہ بن کر تاریخ رقم کردی

وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ رینو چودھری ایک عوامی پارک میں موجود لوگوں سے تلخ لہجے میں بات کر رہی ہیں، جہاں جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والا ایک فٹبال کوچ بھی موجود ہے، جو کئی برسوں سے مقامی بچوں کو تربیت دے رہا ہے۔ کونسلر بلند آواز میں سوال کرتی ہیں کہ غیر ملکی شہری نے اب تک ہندی کیوں نہیں سیکھی۔

ویڈیو میں رینو چودھری کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ اگر متعلقہ کوچ ایک ماہ کے اندر ہندی نہیں سیکھتا تو اس سے پارک چھین لیا جائے گا۔ اس دوران وہ موجود افراد کو یہ ہدایت بھی دیتی ہیں کہ اس شخص پر کڑی نظر رکھی جائے، اور یہ الزام بھی عائد کرتی ہیں کہ اگر اس کی جانب سے کوئی غلط حرکت ہوئی تو سب کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔

ویڈیو کے وائرل ہوتے ہی سوشل میڈیا صارفین نے رینو چودھری کے رویے کی سخت مذمت کی۔ کئی صارفین نے ان کے طرزِ عمل کو غنڈہ گردی، بدتمیزی اور اختیارات کے غلط استعمال سے تعبیر کیا۔ بعض صارفین نے الزام لگایا کہ کونسلر سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کرنے کے لیے اس طرح کا رویہ اختیار کر رہی ہیں۔

آن لائن صارفین نے رینو چودھری کو سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ’غنڈہ‘، ’جاہل‘ اور ’ذہنی طور پر غیر متوازن‘ تک قرار دیا۔

اس واقعے کے بعد زبان تھوپنے کے مسئلے پر بھی بحث چھڑ گئی ہے۔ کئی صارفین نے سوال اٹھایا کہ ایک غیر ملکی شہری، جو برسوں سے بچوں کی خدمت کر رہا ہے، اس پر ہندی سیکھنے کا دباؤ کیوں ڈالا جا رہا ہے، جبکہ بیرونِ ملک کام کرنے والے بھارتیوں پر عموماً مقامی زبان سیکھنے کی ایسی پابندی نہیں لگائی جاتی۔

کچھ صارفین نے اس معاملے کا موازنہ جنوبی ہند اور مہاراشٹر میں زبان کے حساس مسئلے سے بھی کیا، جہاں لسانی تنازعات پہلے ہی ایک نازک موضوع رہے ہیں۔

کون ہیں رینو چودھری؟

رینو چودھری بھارتیہ جنتا پارٹی کی سینئر رہنما ہیں اور مشرقی دہلی کے وارڈ نمبر 197 (پٹپڑ گنج) سے میونسپل کونسلر ہیں۔ انہوں نے 2022 کے ایم سی ڈی انتخابات میں عام آدمی پارٹی کی امیدوار کو تقریباً 403 ووٹوں کے فرق سے شکست دی تھی۔

فی الحال وہ بی جے پی دہلی مہیلا مورچہ میں صوبائی وزیر کے عہدے پر فائز ہیں اور اس سے قبل ضلع صدر کی ذمہ داری بھی نبھا چکی ہیں۔

یہ واقعہ ایک بار پھر عوامی نمائندوں کے رویے، زبان کے استعمال اور اختیارات کی حدود پر سنگین سوالات کھڑے کر رہا ہے۔

شراب پالیسی معاملے میں سی بی آئی نے گرفتار کیا تھا، معاملے کی آئندہ سماعت 29 جون کو

دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کو ٹرائل کورٹ نے تین دنوں کی سی بی آئی تحویل میں دینے کا فیصلہ کیا ہے.  کورٹ نے انہیں اس بات کی اجازت دی ہے کہ وہ روزانہ اپنی بیوی اور اپنے وکیل سے تیس منٹ ملاقات کرسکتے ہیں .اس کے علاوہ وہ اپنی دوائیں اپنے پاس رکھ سکتے ہیں اور گھر سے ان کیلئے کھانا بھی آسکے گا. آج صبح سی بی آئی نے شراب پالیسی معاملے میں اروند کیجریوال کو گرفتار کیا تھا. سی بی آئی نے انہیں ٹرائل کورٹ میں پیش کرتے ہوئے پانچ دنوں کی تحویل مانگی تھی. کورٹ نے تقریباً 4 گھنٹے دلائل سننے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا، شام 7 بجے کورٹ نے فیصلہ سنایا اب اس معاملے کی آئندہ سماعت 29 جون کو ہوگی.

سماعت کے دوران کیجریوال نے کہا کہ میڈیا پر خبر دکھائی جارہی ہے کہ میں نے سسوڈیا پر شراب پالیسی کا الزام عائد کیا ہے، یہ غلط ہے. میں کہا تھا کہ کوئی قصور وار نہیں ہے.سسوڈیا بھی قصور وار نہیں ہیں. اس پر سی بی آئی کے وکیل نے کہا کہ جو میڈیا پر چل رہا ہے وہ سب سچ ہے سب کچھ حقائق پر مبنی ہے.

اس سے قبل شنوائی کے دوران کمرہ عدالت میں کیجریوال کی طبعیت خراب ہوگئی تھی، ان کا شوگر لیول کم ہونے کے سبب کچھ وقفہ کیلئے علیحدہ کمرہ میں منتقل کیا گیا تھا حالانکہ بعد میں وہ دوبارہ کمرہ عدالت میں حاضر ہوئے تھے.

واضح رہے کہ کے سی بی آئی نے 25 جون کو رات 9 بجے تہاڑ جاکر شراب پالیسی معاملے میں اروند کیجریوال سے تفتیش کی تھی. جبکہ شراب پالیسی معاملے میں منی لانڈرنگ کے الزام میں ای ڈی نے کیجریوال کو 21 مارچ کو حراست میں لیا تھا. 10 مئی سے  2 جون تک 21 دنوں کیلئے وہ پیرول پر تھے.

افسران کے تبادلے اور تقرری سے متعلق مرکزی آرڈیننس آئین کے خلاف: نتیش کمار

آرڈیننس کی مخالفت میں اروند کیجریوال کا اپوزیشن جماعتوں کے لیڈران سے ملاقات کا سلسلہ جاری 

بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار نے آج اتوار کے روز ایک بار پھر دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال سے ملاقات کی. ایک ماہ میں دونوں وزرائے اعلیٰ کی یہ دوسری ملاقات ہے. نتیش کے ساتھ بہار کے نائب وزیر اعلیٰ آر جے ڈی سپریمو لالو پرساد یادو کے بیٹے تیجسوی یادو بھی تھے. نتیش کمار نے افسران کے تبادلے اور تقرری سے متعلق مرکزی آرڈیننس کو آئین کے خلاف بتایا. انہوں نے کہا کہ منتخب حکومت کو دیئے گئے اختیارات کیسے چھین سکتے ہیں؟ یہ آئین کے خلاف ہے. ہم اروند کیجریوال کے ساتھ کھڑے ہیں. ہم ملک کی تمام اپوزیشن جماعتوں کو متحد کرنے کی کوشش کررہے ہیں.

یہ بھی پڑھیں:.... دو ہزار کے نوٹ بند کرنے پر راج ٹھاکرے برہم

اروند کیجریوال نے کہا کہ اگر حکومت اس آرڈیننس کو قانون بنانے کیلئے راجیہ سبھا میں پیش کرتی ہے تو اپوزیشن کو ہمارا ساتھ دینا چاہیے. وہ اس آرڈیننس کی مخالفت میں ملک بھر کی اپوزیشن پارٹیوں سے تعاون حاصل کریں گے. انہوں نے مزید کہا کہ اگر اپوزیشن متحد ہے تو 2024 لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کا خاتمہ ہوجائے گا. واضح رہے کہ اروند کیجریوال 23 مئی کو کلکتہ میں ممتا بنرجی سے ملاقات کریں گے، 24 مئی کو ممبئی میں ادھو ٹھاکرے اور 25 مئی کو ممبئی میں شرد پوار سے ملاقات کریں گے. ذرائع کے مطابق اس کے بعد وہ دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے.

رابطہ بھی نہیں ہوسکا، بی جے پی ہمارے 40 ایم ایل ایز کو خریدنے کی کوشش کررہی ہے، 20-20 کروڑ کی پیشکش،بی جے پی 800 کروڑ خرچ کرکے دہلی حکومت گرانا چاہتی ہے: اروند کیجریوال 

دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے عام آدمی پارٹی ممبران اسمبلی کے ساتھ میٹنگ کی۔ ذرائع کے مطابق 9 اراکین اسمبلی اس میٹنگ میں نہیں پہنچے۔ پارٹی ہائی کمان کا ان سے رابطہ بھی نہیں ہو سکا۔ 70 سیٹوں والی دہلی اسمبلی میں عام آدمی پارٹی کے پاس 62 اور بی جے پی کے پاس 8 سیٹیں ہیں۔ یہاں میٹنگ کے بعد عآپ کے چیف ترجمان سوربھ بھردواج نے کہا کہ دہلی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔  حکومت مستحکم ہے اور جو ایم ایل اے نہیں آئے وہ اپنے نجی کام سے باہر چلے گئے ہیں۔ بی جے پی نے ہمارے 12 ایم ایل ایز کو پارٹی چھوڑنے کی پیشکش کی ہے۔ سوربھ نے کہا کہ نائب وزیر اعلیٰ منیش سسوڈیا اور اسمبلی کے اسپیکر رام نواس گوئل بھی میٹنگ میں نہیں پہنچے۔  سسوڈیا ہماچل پردیش گئے ہیں۔

میٹنگ کے بعد کیجریوال راج گھاٹ پہنچے اور بابائے قوم مہاتما گاندھی کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی ہمارے 40 ایم ایل ایز کو خریدنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تمام ایم ایل ایز کو 20-20 کروڑ روپے کی پیشکش کی جا رہی ہے۔ بی جے پی 800 کروڑ خرچ کرکے دہلی حکومت کو گرانا چاہتی ہے۔ بدھ کو عآپ لیڈر سنجے سنگھ نے ایک پریس کانفرنس کر کے آپریشن لوٹس کے بارے میں انکشاف کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے ہمارے ایم ایل ایز کو پیشکش کی ہے۔ آفر یہ تھی کہ اگر آپ AAP چھوڑیں گے تو 20 کروڑ دیں گے اور دوسروں کو ساتھ لائیں گے تو 25 کروڑ دیں گے۔  سنجے سنگھ نے کہا کہ بی جے پی نے ہمارے ایم ایل ایز سنجیو جھا، سومناتھ بھارتی، کلدیپ کمار اور ایک اور ایم ایل اے کو پارٹی چھوڑنے کے لیے 20 کروڑ روپے کی پیشکش کی ہے۔ سومناتھ بھارتی بھی سنجے سنگھ کے ساتھ پریس کانفرنس میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی والوں نے مجھے بتایا کہ عآپ کے مزید 20 ایم ایل ایز ہمارے رابطے میں ہیں۔

کانگریس 5 اگست کو "چلو راشٹریہ پتی بھون" کے نام سے ملک گیر احتجاج اور وزیراعظم کی رہائش گاہ کا گھیراؤ کرے گی

دہلی: کانگریس پارٹی بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری کے معاملے پر مودی حکومت کو گھیرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ کانگریس پارٹی اس معاملے پر 5 اگست کو ملک گیر سطح پر زبردست احتجاج کرے گی۔ دہلی میں پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ ان مسائل پر اپنا احتجاج درج کرائیں گے اور ’’چلو راشٹرپتی بھون‘‘ کے نام سے یہ احتجاج پارلیمنٹ سے شروع ہوگا۔اس دن سی ڈبلیو سی ممبران اور پارٹی کے سینئر لیڈر بھی وزیر اعظم کی رہائش گاہ کا گھیراؤ کریں گے۔ مہنگائی اور بے روزگاری کے مسئلہ پر کانگریس پارٹی زیادہ جارحانہ حکمت عملی اپناتے ہوئے حکومت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:.... نڈا کے بیان نے بی جے پی کے چہرے سے نقاب اتار دیا، بی جے پی آمریت کی طرف بڑھ رہی ہے: ادھو ٹھاکرےmain-in-the-Country-and-All-Other-Political-Parties-will-be-Destroyed.html

5 اگست کو کانگریس پارٹی دارالحکومت میں راج بھون کا بھی گھیراؤ کرے گی۔ اس احتجاج کے دوران ایم ایل اے، ایم ایل سی، سابق ایم پی اور سینئر لیڈروں سے پارٹی کی جانب سے راج بھون کے گھیراؤ میں شامل ہونے کو کہا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے اراکین سے کہا گیا ہے کہ وہ چلو راشٹرپتی بھون کے نام پر مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف احتجاج کریں۔ ساتھ ہی اسی دن پی ایم کی رہائش گاہ کا گھیراؤ کرنے کا بھی منصوبہ ہے اور اس دوران کانگریس ورکنگ کمیٹی کے ساتھ پارٹی کے سینئر لیڈر بھی موجود رہیں گے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے کانگریس پارٹی مہنگائی اور بے روزگاری کا مسئلہ زور و شور سے اٹھا رہی ہے ۔

کانگریس لیڈر راہل گاندھی مہنگائی اور بے روزگاری کے معاملے پر اکثر پی ایم مودی اور بی جے پی کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔ دو دن پہلے بھی انہوں نے بی جے پی کو نشانہ بنایا تھا اور ٹوئیٹ کیا تھا، 22 کروڑ نوجوان، 8 سال میں سرکاری نوکریوں کے لیے قطار میں لگے ہوئے، 7.22 لاکھ کو نوکری ملی، یعنی 1000 میں سے صرف 3، راجہ سے جب بے روزگاری پر سوال پوچھا جاتا ہے، تو راجہ ناراض ہو جاتا ہے۔ سچ یہ ہے کہ روزگار فراہم کرنا ان کے بس کی بات نہیں۔


جمعرات کو صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند سے ملاقات طے، ویکسن کی ڈبل ڈوز لینے کے باوجود ممتا بنرجی کو کرونا ٹیسٹ کروانے کی ہدایت

مغربی بنگال میں شاندار کامیابی حاصل کرنے اور تیسری مرتبہ وزیراعلی بننے کے بعد ممتا بنرجی پہلی مرتبہ دہلی پہنچیں اور انہوں وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔وزیراعظم سے ملاقات کے دوران ممتا بنرجی نے بنگال کا نام تبدیل کرنے، ویکسن کی فراہمی اور دیگر مدعوں پر گفتگو کی۔نریندر مودی سے ملاقات کے بعد ممتا بنرجی نے میڈیا نمائندوں سے بات چیت کے دوران کہا کہ آج وزیراعظم سے ملاقات ہوئی، دیگر ریاستوں کے مقابلے آبادی کے تناسب سے ہمیں کم ویکسن فراہم کی گئی ہے اسلئے مزید ویکسن فراہم کرنے پر وزیراعظم سے بات ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔کسمبا روڈ ملن ہوٹل کے قریب قاتلانہ حملہ میں نوجوان کی موت

ممتا نے کہا کہ بنگال کا نام تبدیل کرنے سے متعلق بھی وزیراعظم سے بات کی گئی ہے اس پر وزیراعظم نے غور کرنے کا تیقن دیا ہے۔بنگال کی وزیراعلی نے پیگاسس معاملے پر کہا کہ میں چاہتی ہوں کہ پیگاسس معاملے پر وزیراعظم آل پارٹی میٹنگ بلائیں اور سپریم کورٹ کے ذریعے اس معاملے کی جانچ کروائیں۔ اب جمعرات کے روز ممتا بنرجی صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند سے ملاقات کریں گی، اس سے قبل انہیں دہلی میں کرونا ٹیسٹ کروانے کی ہدایت دی گئی ہے۔اس تعلق سے ممتا نے کہا کہ صدر جمہوریہ سے ملاقات کیلئے جمعرات کا وقت دیا گیا ہے، ۔ملاقات سے قبل کرونا ٹیسٹ کروانے کی ہدایت دی گئی ہے جبکہ میں نے ویکسن کی ڈبل ڈوز لی ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔بنیادی سہولیات سے محروم رمضان پورہ کے عوام کا کارپوریشن میں ہنگامہ

واضح رہے کہ ممتا نے طویل عرصے بعد دہلی کا دورہ کیا ہے۔ اس پانچ روزہ دورے سے متعلق ایسی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ ممتا تمام اپوزیشن لیڈران کو متحد کرکے بی جے پی مخالف محاذ بنانا چاہتی ہیں۔اس دورہ پر وہ کانگریس صدر سونیا گاندھی، دہلی کے وزیراعلی اروند کیجریوال اور این سی پی سربراہ شرد پوار سے بھی ملاقات کریں گی۔


فائر بریگیڈ کی 26 گاڑیاں جائے حادثہ پر موجود، اب تک کسی کے زخمی ہونے یا ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں

دہلی: نئی دہلی: آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس (ایمس) کی نویں منزل پر بدھ دیر رات اچانک آگ بھڑک اٹھی۔  تادمِ تحریر فائر بریگیڈ کے عملہ کے افسران  کے مطابق اب تک کسی کے زخمی ہونے یا ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔دہلی فائر سروس کے ڈائریکٹر اتل گرگ نے کہا کہ قریب ساڑھے 10 بجے انہیں ایک فون کال موصول ہوا کہ ایمس کے نویں منزلے پر آگ لگ گئی ہے۔20 فائر ٹینڈرس جائے حادثہ پر پہنچ چکے ہیں اس کے بعد مزید 6 فائر بریگیڈ کی گاڑیاں جائے حادثہ پر بھیجی گئیں۔اسپتال کے جس حصے میں آگ لگی ہے اس میں مریض نہیں ہیں اس حصے میں لیب اور دیگر سہولیات کے محکمے ہیں۔ابتدائی تفتیش میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ ریفریجریٹر میں شارٹ سرکٹ کے سبب یہ حادثہ پیش آیا۔



 

 

دہلی حکومت کے گھر گھر راشن پہنچانے کے منصوبے پر بی جے پی کے اعتراض پر کیجریوال حکومت کا تیکھا ردعمل، مرکز کو ریاستی حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے: کیجریوال

ریپبلک بھارت ٹی وی چینل پر ایک ڈبیٹ کے دوران عام آدمی پارٹی لیڈر آتشی نے کہا کہ بی جے پی لیڈر او پی شرما نے اروند کیجریوال پر راشن مافیا کے سربراہ ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔آتشی نے سوال کیا کہ کیا یوپی میں ہونے والے راشن گھوٹالے کے ذمہ دار بھی کیجریوال ہیں؟ بی جے پی کی زیر اقتدار ریاستوں میں راشن معاملے میں بدعنوانیوں کے ذمہ دار بھی کیجریوال ہیں؟ آتشی نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ صرف دہلی میں راشن معاملات ابتر ہیں جبکہ ملک کی دیگر ریاستوں میں راشن کے انتظامات اتنے اچھے ہیں کہ پوچھیئے مت۔آتشی نے ڈبیٹ میں شامل بی جے پی رکن اسمبلی سے کہا کہ ذرا ایک مرتبہ ملک کا دورہ کر آئیں اور دیکھیں کہ ملک کی غریب عوام کو کتنی مرتبہ راشن کی دکان پر جانا پڑتا ہے۔واضح رہے کہ دہلی میں ڈور ٹو ڈور راشن منصوبے پر بی جے پی اور عام آدمی پارٹی کے درمیان جنگ چھڑ گئی ہے۔دہلی کے وزیراعلی اروند کیجریوال نے کہا کہ مرکزی حکومت کو ریاستی حکومتوں سے لڑنے اور انہیں کوسنےکی بجائے ان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔کیجریوال نے ٹوئیٹر پر اس میڈیا رپورٹ کو ٹیگ کیا جس میں مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے کیجریوال حکومت کو لوگوں تک راشن اور آکسیجن پہنچانے میں ناکامی کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔اس کے جواب میں کیجریوال نے کہا کہ ملک اس وقت ترقی کرے گا جب ملک کی 130 کروڑ عوام، ریاستی حکومتیں اور مرکزی حکومت ملک کر ٹیم انڈیا کی طرح کام کریں گی۔

کیجریوال نے ٹوئیٹ کیا کہ آج لوگ ملک میں ایسی قیادت کے خواہاں ہیں جو پورا دن ریاستی حکومتوں کو گالی دینے اور ان سے لڑنے کی بجائے سب کو ساتھ لے کر چلے۔ملک اسی وقت ترقی کرے گا جب 130 کروڑ عوام، ریاستی و مرکزی حکومت ملک کر ٹیم انڈیا کی طرح کام کریں گے۔اتنا گالی گلوچ کرنا ٹھیک نہیں ہے۔دہلی کے نائب وزیراعلی منیش سسوڈیا نے الزام عائد کیا کہ مرکزی حکومت ان دنوں کچھ ریاستوں حکومتوں کو برا بھلا کہنے کے علاوہ اور کچھ نہیں کررہی ہے۔گھر گھر راشن منصوبے پر مرکزی حکومت کے اعتراض کے جواب میں سسوڈیا نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اب بھارتیہ جھگڑا پارٹی بن چکی ہے۔

 

لوگ یہاں مررہے ہیں اور آپ لوگ بنگال میں ریلیاں کررہے ہیں،کیا مرتے ہوئے لوگ آپ کو دکھائی نہیں دے رہے؟

کرونا وباء تیزی سے پھیلتی جارہی ہے لوگ پریشان ہیں، کہیں ادویات کی کمی تو کہیں آکیسجن کی قلت ہے۔ایسے میں حکومت بھی کسی کی بات سننے کو تیار نہیں ہے۔لوگ بے بس و لاچار در در بھٹکنے کو مجبور ہیں، سوائے ناکامی کے کسی کو کچھ حاصل نہیں ہورہا ہے۔راجدھانی دہلی کی حالت کچھ ایسی ہے کہ اسپتالوں میں جتنے مریض ہیں اس سے کہیں زیادہ مریض اسپتالوں کے باہر ہیں۔دہلی کے لوک نائیک جئے پرکاش اسپتال کے کے باہر اپنی ماں کو لے کر آنے والی ایک لڑکی نے منت سماجت کرکے اپنی بیمار ماں کیلئے بیڈ حاصل کیا لیکن وہ اپنی ماں کو بچا نہیں سکی۔سڑک پر اپنی ماں کو لئے پھوٹ پھوٹ کر روتی ہوئی اس لڑکی نے میڈیا سے کہا کہ میں مودی اور امیت شاہ سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ لوگ یہاں مررہے ہیں اور آپ لوگ بنگال میں ریلیاں کررہے ہیں، آپ کو یہاں مرتے لوگ دکھائی نہیں دے رہے ہیں؟اسی طرح اپنے والد کو اسپتال لانے والے دو بھائی نے بتایا کہ وہ چار پانچ اسپتالوں کے چکر لگانے کے بعد یہاں آئے ہیں، بڑی مشقت کے بعد انہیں بیڈ ملا۔لیکن تین دن مریض کو اندر رکھنے کے انہیں بتایا گیا کہ ان کے والد کی موت ہوگئی ہے۔اندر ان کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں ملا۔

 

ٹوئٹر پر خاتون کا دلچسپ ویڈیو وائرل، کوئی بھی ویکسن شراب کے برابر نہیں ہوسکتی، اسپتالوں کی بجائے شراب کی دکانیں کھولنی چاہیے

نئی دہلی: آج دہلی میں کرونا کے بڑھتے ہوئے معاملات کے پیش نظر وزیراعلی اروند کیجریوال 6 دنوں کے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے۔لاک ڈاؤن کا اعلان ہوتے ہی دہلی کے خان مارکیٹ علاقے میں واقع شراب کی دکان پر زبردست بھیڑ دیکھی گئی۔لوگ شراب خریدتے ہوئے نظر آئے۔ کیونکہ دہلی میں 6 دنوں کے سخت لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا ہے اور اس عرصہ میں تمام دکانیں بند رہیں گی۔اس کے پیش نظر لوگ اپنی ضروریات کی چیزیں خریدنے لگے ہیں لیکن شراب کی دکانوں کے باہر زبردست بھیڑ دیکھی گئی۔اروند کیجریوال نے کہا کہ حکومت نے بہت غور وفکر کرنے کے بعد 6 دن کا لاک ڈاؤن لگانے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ اگر دہلی کو کسی بڑی مصیبت سے بچانا ہے تو لاک ڈاؤن ناگزیر ہے۔لاک ڈاؤن کا اعلان ہوتے ہیں سوشل میڈیا پر بھی ایسی کئی تصاویر وائرل ہوئیں جس میں لوگوں کو شراب کی دکانوں پر لمبی لائن میں میں کھڑا دیکھا گیا۔اس سلسلےمیں ایک ٹوئٹر پر ایک دلچسپ ویڈیو وائرل کیا گیا جس میں شارب کی دکان کے قریب کھڑی ایک خاتون نے کہا کہ کوئی بھی ویکسن شراب کے برابر نہیں ہوسکتی کیونکہ شراب ہی اصل دوا ہے۔

https://twitter.com/ANI/status/1384058199976792064?s=19

اس خاتون نے کہا کہ وہ گذشتہ 35 سال سے شراب پی رہی ہے اور اسے کبھی کسی دوا کی ضرورت نہیں پڑی۔حتی کہ اس نے یہ بھی کہہ دیا کہ اسپتالوں کی بجائے مزید ٹھیکا یعنی شراب کی دکانیں کھولنی چاہیے۔

 

مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ، آئی سی یو بیڈ، طبی سہولیات اور ادویات کی شدید قلت کے پیش نظر دہلی حکومت کا فیصلہ

دہلی: راجدھانی میں کرونا کے بڑھتے ہوئے معاملات کے بعد آج اروند کیجریوال نے ایک پریس کانفرنس کے دہلی میں 6 روزہ لاک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے۔کیجریوال نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ آج رات 10 بجے سے اگلے پیر کی صبح 5 بجے تک  6 روزہ لاک ڈاؤن ہوگا۔ا ہوں نے دہلی کے بگڑتے حالات سے متعلق کہا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں 23500 نئے معاملات سامنے آئے ہیں۔انفیکشن کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔دہلی کے اسپتالوں میں بیڈ کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔آئی سی ہو بیڈ ختم ہونے کے قریب ہیں، بمشکل 100 بیڈ باقی بچے ہیں۔اس کے علاوہ مریضوں کے علاج کیلئے طبی سہولیات اور ادویات کی کمی محسوس ہورہی ہے۔ان تمام حالات کے تناظر میں دہلی میں منی لاک نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔کیجریوال نے دہلی کی عوام کے نام پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب کو مل کر دہلی کو کسی بڑے سانحہ سے بچانا ہے۔آج رات 10 بجے سے پیر کی صبح 5 بجے تک لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا فیصلہ ہم نے بڑی مشکل سے لیا ہے۔ان 6 دنوں میں اسپتالوں میں بیڈ کے انتظامات پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ اس کے علاوہ کیجریوال نے دیگر ریاستوں کے مزدوروں سے اپیل کی ہے کہ وہ دہلی چھوڑ کر نہ جائیں۔یہ ایک چھوٹا سا لاک ڈاؤن ہے اور اسے مزید طول نہیں دیا جائے گا۔