Articles by "PM Modi"
Showing posts with label PM Modi. Show all posts

مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ موہن یادو کے "کھانا اور بجانا" ریمارک پر اویسی کا جوابی حملہ

بھوپال: مجلس اتحاد المسلمین سربراہ اور پانچ مرتبہ کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ موہن یادو کے "کھانا اور بجانا" ریمارک پر بی جے پی کو آڑے ہاتھوں لیا.

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہورہا ہے جس میں اویسی یہ کہتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں کہ "ہم کسی کے باپ کا نہیں کھاتے، یہ ملک ہمارا ہے، وزیراعلیٰ آپ ہمیں اپنی جیب سے نہیں کھلا رہے ہیں.

اویسی ملک میں دولت کی غیر یکساں تقسیم پر سوال اٹھاتے ہوئے وزیراعلیٰ یادو سے سوال کیا کہ وہ اس بات کی وضاحت کریں کہ کس طرح ملک کی مجموعی دولت، ذرائع اور املاک کا 60 فیصد حصہ صرف ملک کی 5 فیصد آبادی کے پاس ہے؟؟؟؟ اویسی نے بی جے پی پر عوام کا حق مار کر ملک کے بڑے صنعت کاروں کی ضروریات کو پورا کرنے کا الزام عائد کیا.

واضح رہے کہ جنماشٹمی کے موقع پر ایک عوامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ موہن یادو کے ایک بیان سے تنازعہ شروع ہوا. انہوں نے کہا تھا کہ "خبردار! جو یہاں کا کھاتا ہے اور کہیں اور کا بجاتا ہے، تو یہ نہیں چلے گا." موہن یادو نے بعد میں وضاحت کی کہ ہر کسی کو آزادی ہے کہ وہ اپنے مذہب کی پیروی کرے. حالانکہ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک سب سے پہلے ہے. "دیش کے بنا ہم کچھ بھی نہیں ہیں. "

 

منی پور میں طویل عرصے سے جاری تشدد پر قابو پانے میں ناکامی پر مرکزی حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی پر تنقید

 ممبئی: نیشنلسٹ کانگریس پارٹی - شرد چندر پوار (این سی پی-ایس پی) کے سربراہ شرد پوار نے اتوار کو منی پور میں بدامنی کی طرح مہاراشٹر میں ممکنہ تشدد پر تشویش کا اظہار کیا۔   نئی ممبئی میں ایک عوامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، پوار نے مرکزی حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی پر تنقید کی کہ وہ منی پور میں کوکی اور میتی برادریوں کے درمیان ایک سال سے زیادہ عرصے سے جاری ذات پات کے تشدد کو قابو کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

اروند کیجریوال کو تین دنوں کی سی بی آئی تحویل

 پوار نے مبینہ طور پر کہاکہ "یہ منی پور میں ہوا ہے۔ یہ پڑوسی ریاستوں میں بھی ہوا ہے۔ کرناٹک میں بھی ہوا ہے اور حالیہ دنوں میں، یہ تشویش ہے کہ مہاراشٹر میں بھی ایسا ہو گا۔ خوش قسمتی سے، مہاراشٹر کے پاس بہت سے سابق قدآور رہنماؤں کی میراث ہے جس نے ہم آہنگی اور مساوات کو فروغ دیا۔"   انڈیا ٹوڈے کی ایک رپورٹ کے مطابق، انھوں نے اپنے بااثر رہنماؤں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اتحاد اور امن کو فروغ دینے کے لیے مہاراشٹر کے تاریخی عزم پر زور دیا۔

 ان کی بات چیت پر غور کرتے ہوئے، پوار نے کہا کہ، "میرے ساتھ کسی کی گفتگو میں منی پور کا ذکر کیا گیا تھا۔   اس پر ملک کی پارلیمنٹ میں بحث ہوئی۔ منی پور کے مختلف ذاتوں، مذاہب اور زبانوں کے لوگ ہم سے ملنے دہلی آئے۔   اور جو تصویر انہوں نے ہمیں دکھائی اس سے کیا پتہ چلتا ہے؟ انہوں نے تشدد پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ منی پور میں وہ کمیونٹیز جو کئی نسلوں سے پرامن طور پر ساتھ رہی ہیں اب ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

 ریاست کے فرائض پر روشنی ڈالتے ہوئے، پوار نے مبینہ طور پر کہا کہ ریاست کو اس مسئلے کو حل کرنا چاہئے، لوگوں کو اعتماد دلانا چاہئے، اتحاد پیدا کرنا چاہئے اور امن و امان برقرار رکھنا چاہئے۔ انہوں نے مرکز کو مزید نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے آج کے حکمرانوں نے اس طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔   اس سب کے باوجود انہوں نے کبھی نہیں سوچا کہ ملک کے وزیر اعظم کو وہاں جا کر عوام کو راحت دینا چاہیے۔

 پوار کے تبصرے مہاراشٹر میں ریزرویشن کے احتجاج کو لے کر مراٹھوں اور او بی سی کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کے درمیان آئے ہیں، حالانکہ انہوں نے اس مسئلہ کا خاص طور پر ذکر نہیں کیا۔ ہفتہ کے روز، انہوں نے ریزرویشن پر برادریوں کے درمیان بڑھتی ہوئی تقسیم پر تشویش کا اظہار کیا اور مہاراشٹر حکومت پر زور دیا کہ وہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مزید بات چیت کرے۔

  بات چیت کے بکھرے ہوئے نقطہ نظر پر تنقید کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ "کوٹہ پر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ جو بات چیت ہونی چاہیے تھی وہ نہیں ہوئی۔ وزیراعلیٰ لوگوں کے ایک گروہ کے ساتھ بات چیت کرتے ہیں، جب کہ حکومت میں موجود دوسرے لوگ مختلف گروہوں سے بات چیت کرتے ہیں۔ یہ غلط فہمی کا باعث بنتا ہے۔" گزشتہ ہفتے، پوار نے مراٹھا اور او بی سی برادریوں کے درمیان کشیدگی پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے وزیر اعلی ایکناتھ شندے سے ملاقات کی تھی۔


حلف برداری کی تقریب راشٹریہ پتی بھون میں ہوگی، 63 وزراء بھی حلف لے سکتے ہیں، اجیت پوار ناراض

 نریندر مودی آج شام 7:15 منٹ پر تیسری مرتبہ وزیراعظم کے عہدے کا حلف لیں گے. حلف برداری کی تقریب راشٹریہ بھون میں منعقد کی جائے گی. وزیراعظم کی حلف برداری سے قبل ہی متوقع وزارتوں کی تقسیم کے بھی واضح اشارے مل رہے ہیں. توقع کی جارہی ہے کہ وزیراعظم کی حلف برداری کے ساتھ ہی این ڈی اے حکومت کے 63 وزراء بھی حلف لیں گے.
مودی کے آج صبح راج گھاٹ جاکر مہاتما گاندھی کو خراج عقیدت پیش کیا اس کے علاوہ اٹل بہاری واجپئ کی سمادھی اور نیشنل وار میموریل پر بھی حاضری دی. صبح نریندر مودی نے اپنی رہائش گاہ پر متوقع وزراء کے ساتھ میٹنگ بھی کی. امت شاہ، راجناتھ سنگھ اور جے شنکر کے ساتھ شیوراج سنگھ چوہان، منوہر لال کھٹر اور کمار سوامی بھی مودی کے گھر پہنچے۔ اس کے علاوہ نتن گڈکری، پیوش گوئل، جیوترادتیہ سندھیا اور ارجن رام میگھوال بھی اس میٹنگ میں حاضر تھے.
مودی حکومت میں عہدوں اور وزارتوں کی تقسیم سے اجیت پوار ناراض ہیں. مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے کہا کہ ہم نے اجیت پوار کو ریاستی وزیر کا عہدہ آفر کیا تھا لیکن وہ مرکزی وزیر بننا چاہتے ہیں. انہیں صرف ریاستی وزیر کا عہدہ منظور نہیں ہے.
اجیت پوار نے دہلی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ریاستی وزیر کا عہدہ ہمیں نامنظور ہے.ہمیں انتظار کرنے کیلئے کہا گیا ہے، ہم حلف برداری کی تقریب میں شرکت کیلئے جارہے ہیں.

سورت کی ایک عدالت نے 2019 ہتک عزت معاملہ میں قصوروار ٹھہرایا، کیا لوک سبھا رکنیت رد ہوگی؟ 

سورت کی ایک عدالت نے آج کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہول گاندھی کو 2019 کے ہتک عزت کیس میں قصوروار ٹھہرایا اور انہیں دو سال قید کی سزا سنائی۔  عدالت نے 15000 روپے کی ضمانت پر راہل گاندھی کی ضمانت منظور کی اور انہیں اپیل کرنے کی اجازت کیلئے سزا کو 30 دن کے لیے روک دیا۔

 گجرات کے سابق وزیر اور سورت ویسٹ سے بی جے پی ایم ایل اے پرنیش مودی کی جانب سے مقدمہ دائر کیا گیا تھا. جو گاندھی کے 13 اپریل 2019 کو کرناٹک کے کولار میں لوک سبھا انتخابی ریلی میں دیئے گئے مبینہ ریمارکس سے متعلق ہے جہاں انہوں نے کہا تھا، "کیوں تمام چوروں کے نام میں مودی ہے؟  چاہے نیرو مودی، للت مودی اور نریندر مودی ہوں؟

مذکورہ حکم چیف جوڈیشل مجسٹریٹ ایچ ایچ ورما نے سنایا۔ راہل گاندھی کے ساتھ جمعرات کی سہ پہر کمرہ عدالت میں کئی قومی اور ریاستی کانگریس لیڈر بھی موجود تھے۔ سورت پولیس نے ناخوشگوار واقعات کو روکنے کے لیے عدالت کے احاطے میں حفاظتی انتظامات بڑھا دیے تھے۔

دفاغی وکیل کریٹ پوالا نے کہا کہ ہم عدالت کے فیصلے سے مطمئن نہیں ہیں کیونکہ ہمارے کچھ دلائل کو مدنظر نہیں رکھا گیا. ہم نے جو دلیل پیش کی وہ یہ تھی کہ مودی نام کی کوئی برادری نہیں ہے، شکایت کنندہ بھی مودی نہیں ہے اس کا سابقہ سرنیم بھوت والا تھا اس نے سرنیم تبدیل کیا ہے. ہم آئندہ دنوں میں اعلیٰ عدالتوں میں سوال اٹھائیں گے. استغاثہ کے وکیل ریشم والا اور ایم ایل اے پورنیش مودی نے کہا کہ وہ عدالتی حکم سے مطمئن ہیں۔  انڈین ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے، بی جے پی ایم ایل اے نے کہا، "میرا تعلق مودھوانک گھانچی برادری سے ہے جو مودی کنیت(سرنیم) رکھتا ہے۔  راہول گاندھی کے ہتک آمیز بیانات سے ہمارے جذبات مجروح ہوئے ہیں اور اس کے لیے ہم نے ان کے خلاف شکایت درج کرائی ہے۔  آج ہم عدالت کے حکم سے مطمئن ہیں۔  کمرہ عدالت کے باہر موجود ایم ایل اے کے حامیوں نے ان کی حمایت میں نعرے لگائے۔

پرنیش مودی کے سابق وکیل، ایڈوکیٹ ہس مکھ لال والا نے کہا، "شروع میں، شکایت کا مسودہ تیار کرتے وقت، ہمیں یقین تھا کہ راہول گاندھی کے ہتک آمیز بیانات کے مطابق یہ کیس سزا کے لیے ایک مضبوط کیس ہے۔"

کرونا اور اومیکرون کے بڑھتے ہوئے معاملات کے پیش نظر اترپردیش انتخابات ملتوی کرنے پر غور کیا جائے: الہ آباد ہائی کورٹ

کرونا اور اومیکرون کے بڑھتے ہوئے معاملات کو مدنظر رکھتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ نے وزیراعظم نریندر مودی سے اپیل کی ہے کہ اترپردیش میں ریلیوں پر پابندی عائد کرنی چاہیے۔ اس کے علاوہ ہائی کورٹ نے کہا کہ حکومت کو اترپردیش اسمبلی انتخابات کو بھی کچھ وقت کیلئے ملتوی کرنے پر غور کرنا چاہیے۔ 

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔صحافت کا انسائیکلوپیڈیا صحیفئہ صحافت اردو کتاب میلہ میں دستیابeficial-Book-For-All.html

کرونا کی تیسری لہر کے پیش نظر الہ آباد ہائی کورٹ نے مذکورہ رائے دی ہے۔ دراصل جسٹس شیکھر کمار یادو کی یک رکنی بینچ میں درخواست ضمانت پر شنوائی کے دوران عدالت میں بھیڑ کو دیکھتے ہوئے جج نے وزیراعظم سے مذکورہ اپیل کی۔ 

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔شیخ محمد بن راشد اور ملکہ حیا کی طلاق، پچپن سو کروڑ بطور تصفیہ ادا کرنے کا حکم-554-Million-Pound-as-Settlement.html

ہائی کورٹ نے کہا کہ وزیراعظم مودی اور الیکشن کمیشن اترپردیش میں انتخابی ریلیوں اور اجلاس پر روک لگانے کیلئے سخت اقدامات کریں۔ کورٹ نے کہا کہ سیاسی جماعتوں سے کہا جائے کہ وہ ٹی وی اور اخبارات کے ذریعے انتخابی تشہیر کریں۔ جبکہ وزیراعظم انتخابات ملتوی کرنے پر بھی غور کریں کیونکہ جان ہے تو جہان ہے۔ وہیں بینچ نے ویکسینیشن مہم کیلئے وزیراعظم نریندر مودی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے وزیراعظم جنہوں نے کثیر آبادی والے ملک میں مفت ویکسینیشن مہم چلائی ہے جو قابل ستائش ہے۔ عدالت اس کی ستائش کرتی ہے اور یہ اپیل کرتی ہے کہ حالات کے پیش نظر سخت اقدامات کرتے ہوئے ریلیوں، اجلاس اور انتخابات کو روکنے اور ملتوی کرنے پر غور کیا جائے۔


مودی کے خلاف ٹوئیٹ کرنے پر آج تک چینل سے بھی نکالے گئے، نوجوان صحافی نے حق بات کہنے سے پیچھے نہ ہٹنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کی جیلوں سے نہیں ڈرتا
تریپورہ میں گذشتہ ماہ ہوئے پر تشدد واقعات میں اقلیتوں کو نشانہ بنایا گیا۔حالانکہ تریپورہ پولیس اس سے انکار کررہی ہے۔اب تریپورہ پولیس نے سوشل میڈیا پر تریپورہ تشدد کی مخالفت کرتے ہوئے پولیس کو کٹہرے میں کھڑا کرنے والے سوشل اکٹیووسٹ، وکلاء حتی کہ صحافیوں کو بھی یو اے پی اے کے نوٹس بھیجنا شروع کردیا ہے۔اسی سلسلے میں نوجوان صحافی شیام میرا سنگھ کو بھی یو اے پی اے کے تحت نوٹس موصول ہوا ہے۔شیام میرا نے اس نوٹس کے بعد فیس بک پر اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج سے آج تک کے ساتھ صحافت کا میرا سفر ختم ہوا۔وزیراعظم مودی پر لکھے میرے دو ٹوئیٹس کے سبب مجھے آج تک سے نکال دیا گیا ہے۔مجھے اس بات کا دکھ نہیں ہے اسلئے آپ بھی آپ بھی دکھ نہ کریں۔انہوں نے کہا کہ جن دو ٹوئیٹس کا حوالہ دیتے ہوئے مجھے نکالا گیا ان میں سے ایک ہے۔ جو کہتے ہیں کہ پردھان منتری کی عزت کرو، انہیں سب سے پہلے مودی سے کہنا چاہیے کی وہ پردھان منتری کے عہدہ کی عزت کریں۔جبکہ دوسرا ٹوئیٹ ہے۔ یہاں ٹوئیٹر پر کچھ لکھتا ہوں تو کچھ لوگ میری کمپنی کو ٹیگ کرنے لگتے ہیں، کہتے ہیں اسے ہٹاؤ، اسے ہٹاتے کیوں نہیں؟ میں اگلا ٹوئیٹ مزید طاقت کے ساتھ کرتا ہوں۔ پر اسے لکھنے سے پیچھے نہیں ہٹوں گا کہ
Modi is a Shameless Prime Minister.
شیام میرا سنگھ نے کہا کہ یہ دو باتیں ہیں جن کی بنیاد پر مجھے نکالا گیا یا نکلوایا گیا۔ سات مہینے قبل جب میں نے آج تک جوائن کیا تب بھی مجھے اس بات کا علم تھا کہ مجھے کیا لکھنا ہے؟ کن لوگوں کیلئے بولنا ہے؟ تب سے برسراقتدار جماعت کے حامیوں کے ذریعے کمپنی کو ٹیگ کرکر کے لکھا جانے لگا تھا کہ اس آدمی کو آج تک سے نکالا جائے، کیونکہ یہ مودی کی مخالفت میں لکھتا ہے۔گذشتہ کچھ دنوں سے کمپنی پر سوشل میڈیا کے کے توسط سے ایک طبقے کے ذریعے دباؤ بنایا جارہا تھا۔بالآخر مذکورہ دو ٹوئیٹس کے بعد مجھے آج تک سے نکال دیا گیا۔مجھے کسی سے شکایت نہیں ہے۔ جو کچھ میں لکھا میں اس پر ڈٹا ہوں۔ بحیثیت ایک صحافی ہی نہیں بلکہ ایک شہری کے طور پر مجھ سے توقعات وابستہ تھیں کہ میں ایک ایسے بے شرم وزیراعظم کو بےشرم کہوں جو ایک کھلاڑی کے انگوٹھے کی چوٹ پر ٹوئیٹ کرسکتا ہے مگر بیرون ملک شہید ہوئے ایک ایماندار صحافی سے متعلق ایک لفظ بھی نہیں بولتے۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھ سے بطور ایک شہری توقع تھی کہ میں اس وزیر اعظم کو بے شرم کہوں جس کی لفاظی اور تقریر بازی نے میرے ملک کے لاکھوں شہریوں کو کرونا میں مرنے کیلئے اکیلا چھوڑ دیا۔مجھ سے یہ توقع تھی کہ ایسے وزیراعظم اور اس کی حکومت کو بےشرم کہوں جس کی وجہ سے اس ملک کا ایک بڑا اقلیتی طبقہ ہر روز خوف میں جیتا ہے۔جسے ہر روز ڈر لگتا ہے کہ شام کو سبزی لینے جاؤں گا تو گھر لوٹ بھی پاؤں گا یا نہیں؟ یا داڑھی اور مسلمان ہونے کی وجہ سے مارا جاؤں گا؟ مجھ سے یہ توقع تھی کہ میں اس وزیراعظم کو بےشرم کہوں جو لداخ میں شہید ہوئے 21 فوجیوں کی شہادت کی خبر کو چھپائے، اور اپنی کرسی بچانے کیلئے یہ کہہ کر دشمن ملک کو کلین چٹ دے دے کہ سرحد میں کوئی داخل نہیں ہوا، نا کوئی تنازعہ ہوا۔ملک کو دیگر لوگوں سے اس بات کا پتہ چلے کہ ہمارے فوجی جوانوں کا قتل کردیا گیا ہے۔کسی بھی پارٹی، طلباء، مزدور، اساتذہ، دلتوں کی تنظیم احتجاج کرنے کیلئے سڑکوں پر آئے اور پولیس لاٹھیوں سے ان کی کمر توڑ دے، تب مجھ سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ پولیس کے اس ظلم کے پس پشت بیٹھے وزیراعظم سے میں کہوں کہ وہ بےشرم ہے۔ہزاروں کسان دہلی کی سرحدوں پر آٹھ مہینے تک سڑکوں پر پڑے رہیں، ان میں سے سیکڑوں بزرگ وہیں دم توڑ دیں اور وزیراعظم کہیں کہ میں صرف ایک کال کی دوری پر ہوں، تب ایک شہری کی حیثیت سے مجھ سے امید کی جاتی ہے کہ میں اس وزیراعظم کو بےشرم کہوں۔انہوں نے کہا کہ ایسی ہزاروں باتیں اور سیکڑوں واقعات ہیں جن پر اس ملک کے وزیراعظم کو نہ صرف بے شرم بلکہ دھوکے باز، چور اور معصوم شہریوں کے حقوق کو کچلنے والا بزدل ڈکٹیٹر کہنا چاہیے۔اسلئے مجھے اپنی کہی ہوئی بات پر کوئی دکھ نہیں ہے۔اس بات کا احساس مجھے نوکری کے پہلے دن سے تھا کہ دیر سویر مجھ سے استعفی مانگا جائے گا یا وزیراعظم کے دفتر کی ایک کال پر نکال دیا جاؤں گا۔ہر ٹوئیٹ کرتے ہوئے ذہن میں یہ بات آتی تھی کہ اس کے بعد کہیں ایف آئی آر نا درج ہوجائے۔کہیں نوٹس نا بھیج دیا جائے، کیسے نمٹوں گا اس سب سے؟ یہ خطرہ ذہن میں آنے کے بعد بھی لکھ دیتا تھا۔
شیام میرا سنگھ نے کہا کہ میں نے وہی باتیں کہی جس کی توقع مجھ سے ایک صحافی اور شہری کے طور پر کی جاتی۔جس کی امید صرف مجھ سے نہیں بلکہ ایک درزی سے بھی کی جاتی ہے کہ برسوں میں حاصل کی گئی ملک کی آزادی لٹنے پر تم بولو گے۔یہ توقع مجھ سے ہی نہیں کی جاتی بلکہ پرائمری میں پڑھانے والے ٹیچر سے بھی کی جاتی ہے، یونیورسٹی کے پروفیسر، مکان بنانے والے مستری، سڑک پر ٹیمپو چلانے والے ڈرائیور، طالب علموں اور کمپنی میں ملازمت کرنے والے ملازموں سے بھی یہ توقع کی جاتی ہے کہ ہر روز ہوری ماب لنچنگ پر وہ بولیں گے۔ میں نے اپنا فرض ادا کیا، جہاں رہا ہر اس جگہ کوشش کی کہ عوام کی بہتری کیلئے کچھ لکھ سکوں۔
شیام میرا سنگھ نے کہا کہ چونکہ عمر اور تجربہ میں بچہ ہوں، کرئیر کے ابتدائی دور میں ہوں، مستقبل کا مجھے پتہ نہیں ہے، ابتداء میں ہی میری تحریر کے بدلے میرا روزگار چھین لیا گیا تو اندر سے کبھی کبھی ایموشنل ہوجاتا ہوں۔ ایسا لگتا ہے جیسے کوئی چھوٹی سی چڑیا کسی جنگل میں آئی اور اڑنے سے پہلے ہی اس کے پر کتر دیئے گئے ہوں۔لیکن یہ بھی ضروری ہے اس ننھی سے چڑیا کے پاس یہ متبادل تھا کہ وہ کچھ دن بنا اڑے ہی اپنے گھونسلے میں رہے، چپ بیٹھے، کہیں بھی اڑنے نا جائے۔ لیکن اس چڑیا نے اپنے پنکھ کتر جانا قبول کیا، لیکن یہ نہیں کہ اڑنا چھوڑ دیگی۔ زمین پر پڑے اس کے پنکھ اس بات کے ثبوت کے طور پر درج کئے جائیں گے کہ کوئی ایسی حکومت تھی جس میں پرندوں کے پنکھ کتر لئے جاتے تھے۔اگر وہ چڑیا اڑنا بند کرکے گھونسلے میں ہی بیٹھی رہتی تو ان کترے ہوئے پنکھوں کا اندراج نہیں ہوتا اور پنکھ کترنے والی حکومت کا ننگا چہرہ کبھی نظر نہیں آتا۔ایسی ننھی چڑیوں کے کترے ہوئے پنکھ اس جنگل پر راج کرنے والے راجہ کا اصلی چہرہ درج کرنے کیلئے کاغذات ہیں۔اسلئے مجھے دکھ نہیں، افسوس نہیں، اطمنان ضرور ہے کہ میں اپنے حصے کا فرض اور ذمہ داری ادا کرکے جارہا ہوں۔ باقی اپنے ہر اچھے برے میں ان مصرعوں سے ہمت ملتی رہتی ہے کہ:
ہزار برق گرے، لاکھ آندھیاں اٹّھے
وہ پھول کھل کے رہیں گے، جو کھلنے والے ہیں



جمعرات کو صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند سے ملاقات طے، ویکسن کی ڈبل ڈوز لینے کے باوجود ممتا بنرجی کو کرونا ٹیسٹ کروانے کی ہدایت

مغربی بنگال میں شاندار کامیابی حاصل کرنے اور تیسری مرتبہ وزیراعلی بننے کے بعد ممتا بنرجی پہلی مرتبہ دہلی پہنچیں اور انہوں وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔وزیراعظم سے ملاقات کے دوران ممتا بنرجی نے بنگال کا نام تبدیل کرنے، ویکسن کی فراہمی اور دیگر مدعوں پر گفتگو کی۔نریندر مودی سے ملاقات کے بعد ممتا بنرجی نے میڈیا نمائندوں سے بات چیت کے دوران کہا کہ آج وزیراعظم سے ملاقات ہوئی، دیگر ریاستوں کے مقابلے آبادی کے تناسب سے ہمیں کم ویکسن فراہم کی گئی ہے اسلئے مزید ویکسن فراہم کرنے پر وزیراعظم سے بات ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔کسمبا روڈ ملن ہوٹل کے قریب قاتلانہ حملہ میں نوجوان کی موت

ممتا نے کہا کہ بنگال کا نام تبدیل کرنے سے متعلق بھی وزیراعظم سے بات کی گئی ہے اس پر وزیراعظم نے غور کرنے کا تیقن دیا ہے۔بنگال کی وزیراعلی نے پیگاسس معاملے پر کہا کہ میں چاہتی ہوں کہ پیگاسس معاملے پر وزیراعظم آل پارٹی میٹنگ بلائیں اور سپریم کورٹ کے ذریعے اس معاملے کی جانچ کروائیں۔ اب جمعرات کے روز ممتا بنرجی صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند سے ملاقات کریں گی، اس سے قبل انہیں دہلی میں کرونا ٹیسٹ کروانے کی ہدایت دی گئی ہے۔اس تعلق سے ممتا نے کہا کہ صدر جمہوریہ سے ملاقات کیلئے جمعرات کا وقت دیا گیا ہے، ۔ملاقات سے قبل کرونا ٹیسٹ کروانے کی ہدایت دی گئی ہے جبکہ میں نے ویکسن کی ڈبل ڈوز لی ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔بنیادی سہولیات سے محروم رمضان پورہ کے عوام کا کارپوریشن میں ہنگامہ

واضح رہے کہ ممتا نے طویل عرصے بعد دہلی کا دورہ کیا ہے۔ اس پانچ روزہ دورے سے متعلق ایسی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ ممتا تمام اپوزیشن لیڈران کو متحد کرکے بی جے پی مخالف محاذ بنانا چاہتی ہیں۔اس دورہ پر وہ کانگریس صدر سونیا گاندھی، دہلی کے وزیراعلی اروند کیجریوال اور این سی پی سربراہ شرد پوار سے بھی ملاقات کریں گی۔

 

وزیر اعظم نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے متوفین کے لواحقین کو فی کس دو لاکھ روپے امداد دینے کا اعلان کیا

نندوربار: نندوربار ضلع کے ڈھڑگاؤں میں ایک کار خطرناک حادثہ کا شکار ہوگئی۔اطلاعات کے مطابق تورن مال سے سندھی مال جانے والی ایک کار اس وقت حادثہ کا شکار ہوگئی جب گھاٹ پر کار کا توازن بگڑ گیا اور کار گھاٹی میں جاگری، اس حادثہ میں اب تک 8 افراد کے جاں بحق ہونے کی خبر ہے۔پولیس نے اس حادثے کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ کار میں سوار کچھ لوگ بروقت باہر چھلانگ لگانے میں کامیاب ہوگئے۔پولیس کنٹرول روم ذرائع کے مطابق اس حادثے میں کچھ افراد زخمی ہیں، تورن مال اسپتال میں ان کا علاج جاری ہے۔وزیراعظم نریندر مودی نے نندوربار میں ہونے والے اس حادثہ پر گہرے تاسف کا اظہار کیا، اس کے علاوہ انہوں نے اس حادثہ کے مہلوکین کے ورثاء کو فی کس دو لاکھ روپے اور زخمیوں کو فی کس 50 ہزار روپے امداد دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔

پولیس افسر نے بتایا کہ اس حادثے کی تفتیش جاری ہے مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

 

دہلی حکومت کے گھر گھر راشن پہنچانے کے منصوبے پر بی جے پی کے اعتراض پر کیجریوال حکومت کا تیکھا ردعمل، مرکز کو ریاستی حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے: کیجریوال

ریپبلک بھارت ٹی وی چینل پر ایک ڈبیٹ کے دوران عام آدمی پارٹی لیڈر آتشی نے کہا کہ بی جے پی لیڈر او پی شرما نے اروند کیجریوال پر راشن مافیا کے سربراہ ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔آتشی نے سوال کیا کہ کیا یوپی میں ہونے والے راشن گھوٹالے کے ذمہ دار بھی کیجریوال ہیں؟ بی جے پی کی زیر اقتدار ریاستوں میں راشن معاملے میں بدعنوانیوں کے ذمہ دار بھی کیجریوال ہیں؟ آتشی نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ صرف دہلی میں راشن معاملات ابتر ہیں جبکہ ملک کی دیگر ریاستوں میں راشن کے انتظامات اتنے اچھے ہیں کہ پوچھیئے مت۔آتشی نے ڈبیٹ میں شامل بی جے پی رکن اسمبلی سے کہا کہ ذرا ایک مرتبہ ملک کا دورہ کر آئیں اور دیکھیں کہ ملک کی غریب عوام کو کتنی مرتبہ راشن کی دکان پر جانا پڑتا ہے۔واضح رہے کہ دہلی میں ڈور ٹو ڈور راشن منصوبے پر بی جے پی اور عام آدمی پارٹی کے درمیان جنگ چھڑ گئی ہے۔دہلی کے وزیراعلی اروند کیجریوال نے کہا کہ مرکزی حکومت کو ریاستی حکومتوں سے لڑنے اور انہیں کوسنےکی بجائے ان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔کیجریوال نے ٹوئیٹر پر اس میڈیا رپورٹ کو ٹیگ کیا جس میں مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے کیجریوال حکومت کو لوگوں تک راشن اور آکسیجن پہنچانے میں ناکامی کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔اس کے جواب میں کیجریوال نے کہا کہ ملک اس وقت ترقی کرے گا جب ملک کی 130 کروڑ عوام، ریاستی حکومتیں اور مرکزی حکومت ملک کر ٹیم انڈیا کی طرح کام کریں گی۔

کیجریوال نے ٹوئیٹ کیا کہ آج لوگ ملک میں ایسی قیادت کے خواہاں ہیں جو پورا دن ریاستی حکومتوں کو گالی دینے اور ان سے لڑنے کی بجائے سب کو ساتھ لے کر چلے۔ملک اسی وقت ترقی کرے گا جب 130 کروڑ عوام، ریاستی و مرکزی حکومت ملک کر ٹیم انڈیا کی طرح کام کریں گے۔اتنا گالی گلوچ کرنا ٹھیک نہیں ہے۔دہلی کے نائب وزیراعلی منیش سسوڈیا نے الزام عائد کیا کہ مرکزی حکومت ان دنوں کچھ ریاستوں حکومتوں کو برا بھلا کہنے کے علاوہ اور کچھ نہیں کررہی ہے۔گھر گھر راشن منصوبے پر مرکزی حکومت کے اعتراض کے جواب میں سسوڈیا نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اب بھارتیہ جھگڑا پارٹی بن چکی ہے۔

 

ملک میں کرونا کے حالات پر اویسی حکومت اور مودی پر برہم، مودی حقیقت سے دور ہیں، کرونا کو شکست دینے کے دعوے کی قلعی کھل گئی، دسمبر تک 75 کروڑ ویکسن کہاں سے لائیں گے مودی؟

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین سربراہ اسدالدین اویسی نے ملک میں کرونا کے سنگین حالات کے پیش نظر بی جے پی حکومت اور خاص طور پر وزیراعظم نریندر مودی پر سنگین الزامات عائد کئے ہیں۔ایک انٹرویو میں اویسی نے مودی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ جو شخص زمین سے اٹھ کر وزیراعظم بنا ہے اسے کے علاقے وارانسی میں گنگا ندی میں لاشیں تیر رہی ہیں اس سے برا اور کیا ہوسکتا ہے۔ایک ٹی وی چینل کے ساتھ بات چیت کے دوران حہدرآباد کے رکن پارلیمان اسدالدین اویسی نے حکومت پر کرونا کی دوسری لہر کیلئے تیاری نہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔اویسی نے کہا کہ حکومت کو پتہ تھا کہ کرونا کی دوسری لہر آئے گی لیکن حکومت نے اس کی تیاری نہیں کی اور اب حکومت جھوٹ پر جھوٹ بول رہی ہے۔جبکہ ملک میں لاشوں کا ڈھیر لگتا جارہا ہے۔انہوں نے کووڈ سے ہقنے والے اموات کے اعداد وشمار کو بھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق ملک بھر میں چار سے پانچ لاکھ اموات ہوئی ہیں۔یہ بات تو ان کے اخباروں نے لکھی ہے کہ صرف دو ہزار لاشیں تو اترپردیش میں ملی ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت پہلے تو سوتی رہی اور یہ کہتی رہی کہ ہم نے کرونا کو شکست دے دی ہے۔حتی کہ وزیراعظم نریندر مودی نے پارلیمنٹ میں خود یہ دعوی کیا تھا کہ حکومت کووڈ کے خلاف جنگ میں کامیاب ہوگئی ہے۔یہ کیسی کامیابی کا دعوی تھا۔حکومت نے بروقت ویکسن کی تیاری کا آرڈر بھی نہیں دیا تھا۔اسی لئے آج ملک میں ویکسن آسانی سے دستیاب نہیں ہے۔حد تو یہ ہے کہ حکومت نے سپریم کورٹ میں یہ کہہ دیا کہ امسال دسمبر تک ملک میں ویکسن کے 75 کروڑ ڈوز دستیاب ہوجائیں گے۔اویسی نے سوال کیا کہ حکومت یہ 75 کروڑ ڈوز کہاں سے لائے گی۔اویسی نے مزید کہا کہ حالات تشویشناک ہیں، ہمیں سنجیدگی سے غور وفکر کرنا ہوگا کہ اس وقت کیا اقدامات کئے جائیں۔حکومت کے ذریعے مثبت سوچ رکھنے کی اپیل پر اویسی نے کہا کہ حکومت ہمیں بتادے کہ ہم مثبت سوچ کہاں سے لائیں، جن لوگوں نے اپنوں کو کھویا ہے وہ کیوں کر مثبت رویہ اپنا پائیں گے۔آکسیجن ملتی نہیں، بلیک فنگس کی دوا دستیاب نہیں ہے،لوگ مر رہے ہیں۔حکو۔ت نے ہر چیز کو مزاق بنا دیا ہے۔اسدالدین اویسی نے مزید کہا کہ وزیراعظم حقیقت سے دور رہتے ہیں، ملک کے ساتھ اتنا بے ربط کسی کو نہیں دیکھا۔جس گنگا کی صفائی کیلئے پلانٹ لگائے ہیں اسی گنگا میں لاشیں بہہ رہی ہیں۔اویسی لاک ڈاؤن کے مخالف رہے ہیں اس سوال کے جواب میں اویسی نے کہا کہ لاک ڈاؤن سے ویکسن پیدا نہیں ہوسکتی اور نہ ہی آکسیجن مل سکتی ہے اور نہ بیڈ۔پھر لاک ڈاؤن سے کیا فائدہ؟ اویسی نے بتایا کہ سینٹر فار مانیٹرنگ آف انڈین ایکونومی کے مطابق لاک ڈاؤن کے سبب 2 کروڑ 70 لاکھ روزگار گھٹ گئے ہیں۔حکومت بار بار روپے کی دستیابی کی بات کرتی ہے تو غریبوں کے اکاؤنٹ میں دس دس ہزار روپے کیوں نہیں ڈال دیتی۔

 

مودی صاحب بچوں کو اتنا کام کیوں کرنا پڑتا ہے، آن لائن کلاس اور ہوم ورک سے پریشان 6 سالہ معصوم بچی کا ویڈیو ٹوئٹر پر وائرل

کرونا کے سبب ملک بھر میں اسکولیں بند ہیں، طویل عرصے سے طلباء اسکولوں سے دور ہیں۔پڑھائی کا حرج نہ ہو اس لئے آن لائن کلاسیس کا سلسلہ جاری کیا گیا ہے۔لیکن آن لائن کلاسیس بچوں کیلئے پریشانی کا باعث بنتی جارہی ہیں۔حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک چھ سالہ بچی کا ویڈیو وائرل ہوا جس میں بچی ہوم ورک اور آن لائن کلاس سے متعلق وزیراعظم نریندر مودی سے شکایت کررہی ہے۔جموں کشمیر کے گورنر منوج سنگھ نے اس بچی کے ویڈیو پر توجہ بھی دی ہے۔جموں کشمیر کی رہنے والی ایک چھ سالہ بچی نے آن کلاسیس سے ناخوش ہوتے ہوئے ایک ویڈیو بنا کر شیئر کی ہے۔جس میں بچی نے اسکولوں سے ملنے والے ہوم ورک اور لمبی کلاسیس سے متعلق پریشانی اور ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔سوشل میڈیا پر وائرل اس ویڈیو کو جموں کشمیر کے گورنر منوج سنگھ نے ٹوئیٹر پر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ بہت ہی پیاری شکایت ہے۔انہوں نے اسکولی بچوں کو ہوم ورک کا بوجھ کم کرنے سے متعلق محکمہ تعلیم کو 48 گھنٹے کے اندر لائحہ عمل تیار کرنے کا حکم دیا ہے۔انہوں نے ٹوئیٹ میں مزید لکھا کہ بچپن کی معصومیت بھگوان کا تحفہ ہوتی ہے، بچوں کے دن خوشیوں سے بھرے ہونے چاہیے۔بچی کا شکایتی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد ایسی امید ہے کہ آن لائن کلاس میں بچوں پر پڑھائی کا بوجھ کم ہوسکتا ہے اور انہیں راحت مل سکتی ہے۔ویڈیو میں بچی کہہ رہی ہے کہ اس کی آن لائن کلاس دس بجے شروع ہوتی ہے اور دو بجے تک جاری رہتی ہے۔جس میں انگلش، میتھس، اردو اور ای وی ایس پڑھنا پڑتا ہے۔بچی نے وزیراعظم نریندر مودی سے درخواست کرتے ہوئے کہتی ہے کہ مودی صاحب بچوں کو آخر اتنا کام کیوں کرنا پڑتا ہے؟واضح رہے کہ ٹوئٹر پر شیئر ہونے والے اس ویڈیو کو اب تک لاکھوں لوگوں نے دیکھا ہے اور بچی کی معصومیت پر اپنے تاثرات بھی ظاہر کررہے ہیں۔

Click here to watch:

Video



 

وزیراعظم نریندر مودی، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس این وی رمنا اور لوک سبھا اپوزیشن لیڈر ادھیر رنجن بھی میٹنگ میں شرکت کریں گے

ملک کی سب سے طاقتور تفتیشی ایجنسی سی بی آئی کے چیف کا عہدہ مارچ سے خالی ہے۔سی بی آئی چیف کے عہدہ سے رشی کمار شکلا کی سبکدوشی کے بعد سے ایجنسی کو اپنے نئے سربراہ کی تلاش ہے اور یہ تلاش جلد ہی ختم ہونے والی ہے۔سی بی آئی کے نئے چیف کا انتخاب کرنے کیلئے آج یعنی 24 مئی کو ایک اہم میٹنگ منعقد کی جارہی ہے۔اس میٹنگ میں وزیر اعظم نریندر مودی،سپریم کورٹ کے چیف جسٹس این وی رمنا اور لوک سبھا اپوزیشن لیڈرادھیر رنجن چودھری بھی شریک ہوں گے۔سی بی آئی چیف کا انتخاب کرنے کیلئے منعقد کی جانے والی اس میٹنگ میں ان ناموں پر غور کیا جائے گا جو اس عہدے کیلئے دوڑ میں ہیں۔

اطلاعات کے مطابق سی بی آئی کے کارگزار چیف، بی ایس ایف اور نارکوٹکس کنٹرول بیورو کے سربراہ راکیش استھانا اور این آئی اے سربراہ وائے سی مودی کا نام اس دوڑ میں سب سے آگے ہے۔اسکے علاوہ سنٹرل انڈسٹریل سیکیورٹی فورس (سی آئی ایس ایف) کے سربراہ سبودھ کانت جیسوال اور ہندوستان تبت بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) کے چیف ایس ایس دیسوال، کیرل کے ڈی جی پی لوک ناتھ بوہرا اور یوپی کے ڈی جی پی ایچ سی اوستھی کا نام بھی اس دوڑ میں شامل ہے۔واضح رہے کہ مارچ ماہ سے سی بی آئی چیف کا عہدہ خالی ہے، سی بی آئی کے بعد حکومت کو این آئی اے کے سربراہ کا انتخاب بھی کرنا ہے۔این آئی اے چیف وائی سی مودی رواں ماہ کے آخر میں سبکدوش ہونے والے ہیں۔آئندہ ماہ جون تک حکومت کو اپنی داخلی اور بیروبی خفیہ ایجنسیوں کے نئے سربراہان کا انتخاب کرنا ہوگا۔را چیف سامنت گوئل اور آئی بی چیف کے عہدے کی مدت بھی ختم ہونے کے قریب ہے۔بہار کیڈر کے 1986ء بیچ کے آئی پی ایس آفیسر شیل وردھن سنگھ آئی بی کے نئے سربراہ ہوسکتے ہیں۔  مغربی بنگال کیڈر کے آئی پی ایس آفیسر ایس بی ایس تومر اور تامل ناڈو کیڈر ایم کے جھا را چیف کی دوڑ میں ہیں۔

 

بی جے پی راجیہ سبھا رکن سبرامنیم سوامی کے حکومت سے تیکھے سوال، ٹوئٹر یوزرس کا ملاجلا ردعمل، مودی کو ہندو تب تک اچھے لگتے ہیں جب تک وہ بنا سوال کئے کنول کا بٹن دباتے ہیں

بی جے پی کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا رکن سبرامنیم سوامی نے حکومت کو تین سوالوں کے جوابات ےلاش کرنے کو کہا ہے۔سوامی نے کہا کہ اب حکومت کو کرونا سے کس طرح نجات حاصل کرنی ہے؟ معیشت کو کس طرح سنبھالنا ہے اور چین کو لداخ سے کس طرح بھگانا ہے، اس تعلق سے ڈاکیومینٹ تیار کرنا چاہیے۔سبرامنیم سوامی ٹوئیٹ کرکے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ حکومت تین اہم کاموں سے متعلق ماہرین کو دستاویز تیار کرنے کا حکم دے۔ان میں کرونا پر قابو کس طرح پایا جائے؟ خراب ہوتی ہوئی معیشت کو کا طرح سنبھالا جائے اور ہر سال جی ڈی پی میں 10 فیصدی اضافہ کس طرح ہو؟ اور چین کو لداخ سے کا طرح نکالا جائے، شامل ہیں۔ حکومت کے پاس ان تینوں سوالات کے کوئی جواب اور لائحۂ عمل موجود نہیں ہے۔سوامی کے اس ٹوئٹ پر یوزرس  نے بھی اپنا ردعمل ظاہر کیا۔ایک یوزر نے کہا کہ کیونکہ سوامی جی خود اس سوالات سے متعلق ڈاکیومینٹ تیار کرکے مودی جی کو سونپ دیں۔آخر کار یہ آپ کی حکومت ہے اور آپ کو ان کی حمایت کی ضرورت ہے۔اس پر سوامی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں نومبر 2014 سے یہ کررہا ہوں لیکن نومبر 2019 میں میں نے ہار مان لی کیونکہ نا تو مودی جی کو معاشیات کا علم ہے اور نا ان کے کسی قریبی ساتھی کو۔اس لئے اس معاملے کو سرد خانے میں ڈال دیا گیا۔ایک یوزر نے لکھا کہ لوگ بی جے پی سے ناراض نہیں ہیں 

لیکن اب مودی سے ہار گئے ہیں۔انہیں اب صلاح کاروں کی ایک بہتر ٹیم کی ضرورت ہے۔گورو نام کے ایک یوزر نے لکھا کہ مودی کو ہندو تب تک اچھے لگتے ہیں جب تک وہ بنا سوال کئے کنول کا بٹن دباتے رہتے ہیں۔جیسے ہی ہندو روزگار، تعلیم، طبی سہولیات اور دیگر سہولیات سے متعلق سوال کرتے ہیں ہندو غدار ہوجاتا ہے۔