Articles by "Shiv sena"
Showing posts with label Shiv sena. Show all posts

آدتیہ ٹھاکرے نے باغیوں کو غدار اور بکاؤ قرار دیا، آئین میں تبدیلی کی منشا سے دیگر پارٹیوں کو توڑنے کا الزام

ممبئی: شیو سینا (یو بی ٹی) کے باغی ارکانِ پارلیمنٹ نے پیر کے روز مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی زیر قیادت  شیوسینا میں شمولیت اختیار کر لی۔ شامل ہونے والے ارکان میں اومراجے نمبالکر، ناگیش پاٹل اشٹیکار، سنجے دیشمکھ، سنجے جادھو، سنجے دینا پاٹل اور بھاؤ صاحب واکچورے شامل ہیں۔ یہ شمولیت ایکناتھ شندے، رکن پارلیمنٹ شری کانت شندے، وزیر پرتاپ سرنائک اور دیگر سینئر رہنماؤں کی موجودگی میں عمل میں آئی۔

مہاراشٹر کے وزیر اور شیوسینا کے رکن اسمبلی پرتاپ سرنائک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان چھ ارکانِ پارلیمنٹ کی شمولیت سے پارٹی کے ایم پیز کی تعداد 7 سے بڑھ کر 13 ہو جائے گی، جس سے شیوسینا کی طاقت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

خبروں کے مطابق ان ارکان نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو شندے گروہ میں اپنی شمولیت کا خط بھی سونپ دیا ہے۔ پرتاپ سرنائک نے ’آپریشن ٹائیگر‘ کی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ آپریشن سال کے 365 دن جاری رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بالاصاحب ٹھاکرے کے نظریے پر عمل کرنے والے یہ ارکان آج سہ پہر 3 بجے باضابطہ طور پر پارٹی میں شامل ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر سنجے راؤت کا شکریہ بھی ادا کیا اور کہا کہ ان کی وجہ سے پہلے اراکین اسمبلی اور اب ارکان پارلیمنٹ پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں۔

سینا (یو بی ٹی) کا بغاوت کا الزام

دوسری جانب، باغی ارکان کی شمولیت پر شیوسینا (یو بی ٹی) نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہیں پارٹی کے اعتماد سے غداری قرار دیا ہے۔

شیوسینا (یو بی ٹی) کے رہنما آدتیہ ٹھاکرے نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا، "آج ہمارے ارکان پارلیمنٹ اور اراکین اسمبلی کو توڑا جا رہا ہے کیونکہ یہ لوگ باباصاحب امبیڈکر کے آئین کو بدلنا چاہتے ہیں۔ عوام نے 2024 میں انہیں روک دیا تھا اور انہیں صرف 240 سیٹیں ملی تھیں، اب وہ سیاسی جماعتوں کو توڑ کر اپنے مقصد کو حاصل کرنا چاہتے ہیں۔"

آدتیہ ٹھاکرے نے ان ارکان کو ’ڈرپوک اور بکاؤ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ ادھو بالا صاحب ٹھاکرے اور مہاوکاس اگھاڑی کے نام پر منتخب ہوئے تھے، لیکن اب بی جے پی انہیں اپنے مفاد کے لیے شامل کر رہی ہے تاکہ لوک سبھا میں دو تہائی اکثریت حاصل کر کے آئین میں تبدیلی کی جا سکے۔

بی جے پی پر تنقید

پارٹی میں تقسیم کے حوالے سے بی جے پی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے آدتیہ ٹھاکرے نے کہا کہ جس طرح شیو سینا کو تقسیم کیا گیا، اسی طرح ٹی ایم سی اور عام آدمی پارٹی کو بھی توڑا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں قانون اور آئین کی بالادستی ہے تو انصاف کی امید کی جاسکتی ہے۔

نانا پٹولے نے شرکت کی تو مذاکرات میں شرکت نہیں کروں گا، ادھو ٹھاکرے کا انتباہ

مہاراشٹر: آئندہ اسمبلی انتخابات کو لے مہاوکاس اگھاڑی میں شامل کانگریس اور شیوسینا(UBT) میں نشستوں کی تقسیم پر اب تک تعطل برقرار ہے. نشستوں کی تقسیم کے اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے آج مرکزی الیکشنی کمیٹی کا اجلاس ہوگا.

یہ بھی پڑھیں:.... لاڈلی بہن یوجنا بند

اس تعطل کے درمیان کانگریس کے ریاستی انچارج رمیش چنی تھلا نے سنیچر کے روز سابق وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے اور این سی پی سربراہ شرد پوار سے ملاقات کی اور ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔ واضح رہے کہ 20نومبر کو مہاراشٹر میں اسمبلی انتخابات ہوں گے. بھارتیہ جنتا پارٹی(BJP) نے اپنے 99 امیدواروں کے ناموں کا اعلان کردیا ہے. جبکہ مہاوکاس اگھاڑی نشستوں کی تقسیم کا مسئلہ سلجھانے کیلئے بات چیت کررہی ہے. حالانکہ ایم سی اے کا دعویٰ ہے کہ 260 نشستوں پر اتفاق رائے پر پہنچ گئے ہیں بقیہ 28 نشستیں تنازعہ کا سبب بنی ہوئی ہیں.

کانگریس مرکزی الیکشنی کمیٹی (سی ای سی) کی میٹنگ اتوار کو ہونی تھی لیکن میٹنگ ملتوی کرکے پیر کے روز کر دی گئی.

اطلاعات کے مطابق سابق وزیراعلیٰ شیوسینا یو بی ٹی سربراہ ادھو ٹھاکرے نے انتباہ دیا ہے کہ اگر کانگریس ریاستی صدر نانا پٹولے نے شرکت کی تو وہ مذاکراتی میٹنگ میں حصہ نہیں لیں گے.

शिवाजी मंदिर, दादर में पार्टी पदाधिकारियों की बैठक, शिंदे को दोबारा सीएम चेहरे के रूप में पेश किया जाए:शिंदे के बेटे श्रीकांत का मुतालबा

मुंबई: शिवसेना द्वारा आगामी राज्य विधानसभा चुनाव में मुख्य मंत्री एकनाथ शिंदे को सीएम के रूप में पेश करने की मांग उठने लगी है.

बुधवार को जब सीएम शिंदे, डिप्टी सीएम देवेंद्र फडणवीस और अजित पवार समेत महायुत के नेता मीडिया को संबोधित कर रहे थे, तब उसके सीएम चेहरे के बारे में सवाल पूछा गया। उस समय फडणवीस ने शिंदे की ओर इशारा करते हुए कहा था, 'हमारे मुख्यमंत्री यहां हैं। इसे राज्य भाजपा द्वारा शिंदे के एक बार फिर से मुख्यमंत्री बनने के समर्थन के रूप में देखा गया था। कल्याण से लोकसभा सदस्य और सीएम शिंदे के बेटे श्रीकांत शिंदे ने शुक्रवार को शिवाजी मंदिर, दादर में पार्टी पदाधिकारियों की बैठक बुलाई। यहां यह स्पष्ट कर दिया गया था कि पार्टी चाहती है कि सीएम शिंदे को दोबारा सीएम चेहरे के रूप में पेश किया जाए। बैठक से पहले 'पुन्हा एकनाथ शिंदे च मुख्यमंत्री मंत्री' नामक एक लघु फिल्म भी रिलीज की गई थी।

राजनीतिक सूत्रों का कहना है कि इससे संकेत मिलता है कि सब कुछ ठीक नहीं है और सांसद पुत्र द्वारा बुलाई गई बैठक इस बात का स्पष्ट संकेत है कि शिवसेना ने विधानसभा चुनाव के लिए अपनी रणनीति तैयार कर ली है। उनके अनुसार भाजपा के वरिष्ठ नेताओं के साथ अपनी हालिया एक मुलाकात के दौरान शिंदे ने मांग की थी कि उन्हें मुख्यमंत्री पद के चेहरे के रूप में पेश किया जाना चाहिए लेकिन कोई ठोस आश्वासन नहीं दिया गया।

इस बीच, दादर में बैठक के दौरान शिवसेना नेताओं ने मुख्यमंत्री के रूप में एकनाथ शिंदे के समर्थन में नारे लगाए। बैठक में राज्यसभा सदस्य मिलिंद देवड़ा, सांसद रवींद्र वायकर, एमएलसी मनीषा कायंदे, पूर्व सांसद राहुल शेवाले और अन्य उपस्थित थे।

एजेंसी की रिपोर्ट के मुताबिक, चांदीवली के विधायक दिलीप लांडे ने सीएम की तारीफ करते हुए कहा, 'नाथ के नाथ, एकनाथ शिंदे हैं। लांडे ने कहा, "एकनाथ शिंदे लोगों के व्यक्ति हैं, वह एक सर्वोच्च व्यक्ति हैं जो हमेशा हमारी और दूसरों की मदद के लिए आगे आते हैं।

मगठाणे के विधायक प्रकाश सुर्वे ने शिवसेना (यूबीटी) नेताओं पर कटाक्ष किया और कहा, "हर कोई जानता है कि असली गद्दार कौन है। मैंने पहले नेशनल पार्क में मैराथन का आयोजन किया था, हम इंतजार करते-करते थक गए थे लेकिन इन लोगों उद्धव ठाकरे और आदित्य ठाकरे ने कभी हमारा फोन नहीं उठाया। ये लोग मददगार नहीं हैं, वे सिर्फ दिखावा कर रहे हैं, उन्हें वास्तव में बाहर कर दिया जाना चाहिए। बैठक को संबोधित करते हुए शिरकांत शिंदे ने कहा कि एक महीने काम करने की बात थी, हम महाराष्ट्र में फिर से महायुति सरकार चाहते हैं। हमें बस लोगों के पास जाने और उन्हें सरकारी योजनाओं के बारे में जागरूक करने की जरूरत है। विपक्ष उन्हें कितना भी गाली दे, एकनाथ शिंदे के प्रति लोगों का बड़ा प्यार है।

विधान पार्षद मनीषा कायंदे ने कहा कि गठबंधन एकनाथ शिंदे के नेतृत्व में चुनाव लड़ रहा है।

महाराष्ट्र में अगले महीने होने वाले विधानसभा चुनाव के लिए सत्तारूढ़ महायुति गठबंधन की तैयारियों के बीच मुख्यमंत्री एकनाथ शिंदे एक प्रभावशाली राजनीतिक शख्सियत के रूप में उभरे हैं जो परंपरा और आधुनिकता के बीच संतुलन बिठाने की कोशिश करते हैं, संकट से प्रभावी तरीके से निपटते हैं और वादों को पूरा करते हैं।

الیکشن کمیشن آف انڈیا پریس کانفرنس کے ذریعے مہاراشٹر اور جھارکھنڈ انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کرے گی

الیکشن کمیشن آف انڈیا آج بروز منگل کو مہاراشٹر اور جھارکھنڈ کے اسمبلی انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرے گی.

یہ بھی پڑھیں:.... ممبئی ہوا ٹول فری، الیکشن سے قبل مہایوتی یحکومت کا بڑا فیصلہ

الیکشن کمیشن آج سہ پہر ساڑھے تین بجے ایک پریس کانفرنس میں مہاراشٹر اور جھارکھنڈ کے لئے تاریخوں کا اعلان کرے گی۔ مہاراشٹر اسمبلی کی میعاد 26 نومبر کو ختم ہو رہی ہے جبکہ جھارکھنڈ اسمبلی کی میعاد 5 جنوری 2025 کو ختم ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:........ بابا صدیقی فائرنگ میں ہلاک

این سی پی لیڈر پرفل پٹیل نے بتایا کہ مہاراشٹر میں برسراقتدار مہایوتی اتحاد ریاست کی کل 288 اسمبلی نشستوں میں سے 230 کے لئے اتفاق رائے پر پہنچ گیا ہے۔ ایک مرتبہ ریاست کی دیگر نشستوں پر بھی اتفاق رائے ہوجانے کے بعد آئندہ تین چار روز میں مہایوتی کے ذریعے مکمل تفصیلات ظاہر کردی جائیں گی.

چند روز قبل بی جے پی کے ریاستی صدر چندر شیکھر باونکلے نے کہا تھا کہ 90 فیصد نشستوں پر اتفاق رائے ہوچکی ہے آئندہ چند دنوں میں بقیہ نشستوں پر بھی حتمی فیصلہ لیا جائے گا. واضح رہے کہ مہایوتی اتحاد میں بی جے پی، شیوسینا اور این سی پی(اجیت پوار) شامل ہیں.

اطلاعات کے مطابق بی جے پی 140 سے 150 نشستوں پر، وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے کی زیر قیادت شیوسینا 80 نشستوں پر اور این سی پی 55 نشستوں پر الیکشن لڑ سکتی ہے۔ 

وہیں شیوسینا یو بی ٹی لیڈر سنجے راؤت کے مطابق اپوزیشن مہاوکاس اگھاڑی کی 288 نشستوں میں سے 210 نشستوں پر اتفاق رائے بن چکی ہے. راوت نے مزید کہا کہ ایم ویے اے جلد ہی اپنے امیدواروں کی فہرست کا اعلان بھی کرے گا۔ مہاراشٹر کانگریس کے سربراہ نانا پٹولے نے پیر کے روز کہا کہ ایم وی اے تمام 288 نشستوں پر الیکشن لڑے گی اور مہاراشٹر میں حکومت بنائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہم بی جے پی کے ان تمام خوفناک ہتھکنڈوں پر قابو پالیں گے جو وہ اپنی سیاست میں استعمال کرتی ہے اور مہاراشٹر میں مہا وکاس اگھاڑی کی حکومت بنائیں گے۔ سیٹوں کی تقسیم کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ایم وی اے تمام 288 سیٹوں پر الیکشن لڑے گی۔ ایم وی اے میں کانگریس، شیوسینا (یو بی ٹی) اور این سی پی (شرد پوار) شامل ہیں۔

کرناٹک انتخابات کے نتائج نے یہ ثابت کردیا ہے کہ ہمدردی، نام اور اس طرح کے دیگر عوامل ہر وقت کارگر نہیں ہوتے: سندیپ دیشپانڈے

کرناٹک اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی کامیابی اور مہاراشٹر میں اراکین اسمبلی کو نااہل قرار دینے سے متعلق پٹیشن پر سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد شیوسینا یو بی ٹی لیڈران اور کارکنان آئندہ اسمبلی انتخابات کو لے کر کافی پر امید ضرور ہوں گے. لیکن شیوسینا کی کٹّر سیاسی حریف مہاراشٹر نونرمان سینا کا ماننا ہے کہ آئندہ مہاراشٹر اسمبلی انتخابات میں ادھو ٹھاکرے کو ہمدردی کے ووٹ حاصل نہیں ہوں گے.

یہ بھی پڑھیں:.... آئیے تاریخی شہر طائف کی سیر کیجیے

ایم این ایس لیڈر سندیپ دیشپانڈے نے کہا کہ کرناٹک انتخابات کے نتائج نے یہ ثابت کردیا ہے کہ ہمدردی، نام اور اس طرح کے دیگر عوامل ہر وقت کارگر نہیں ہوتے. انہوں نے کہا کہ شاید ادھو ٹھاکرے کو لوگوں کی ہمدردی حاصل ہوجائے، لیکن انہیں ووٹ نہیں ملیں گے اور اس کا  ایک واضح سبب یہ ہے کہ ادھو ٹھاکرے کے دور اقتدار میں ترقیاتی کام نہیں ہوئے. ان کے دور اقتدار میں عوام نے بدعنوانی اور رشوت خوری دیکھی ہے.

انڈیا ٹوڈے سے بات کرتے ہوئے ایم این ایس لیڈر سندیپ دیشپانڈے نے کرناٹک میں بی جے پی کی شکست سے متعلق راج ٹھاکرے کے حالیہ بیان کی وضاحت پیش کی جس میں ٹھاکرے نے بی جے پی کی شکست کو تکبر کی شکست کہا تھا. دیشپانڈے نے کہا کہ اب یہ بھگوا پارٹی پر منحصر کرتا ہے کہ وہ دیکھیں کہ انہیں کیا کرنا ہے کیونکہ تکبّر کے راستے پر کامیابی نہیں ملتی.

دیشپانڈے نے مزید کہا کہ ایم این ایس کسی بھی طریقے سے بی جے پی کو نشانہ نہیں بنارہی ہے اور نا ہی بی جے پی اور ایم این ایس کے درمیان کوئی رنجش ہے. راج ٹھاکرے ہمیشہ حق بات کہتے ہیں اور اکثر ان کے بیان سے انہیں غلط سمجھا جاتا ہے. لیکن حقیقت بیان کرنے میں برائی کیا ہے.

2024 عام انتخابات کے پیش نظر شرد پوار کی قیادت میں آج اپوزیشن پارٹیوں کی اہم میٹنگ

گزشتہ روز کرناٹک اسمبلی انتخابات کے نتائج  کا اعلان ہوا جس میں کانگریس نے 224 میں سے 136 سیٹیں حاصل کرکے شاندار کامیابی حاصل کی، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) صرف 65 سیٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی۔  اس جیت نے بی جے پی کو واحد جنوبی ریاست میں بھی اقتدار سے باہر کر دیا ہے جس پر اس کی حکومت تھی. کرناٹک میں کانگریس کی اس کامیابی نے مستقبل میں اس کی کامیابی کے امکانات کو بڑھا دیا ہے۔یہ بھی پڑھیں:....

لیور ٹرانسپلانٹ کے باوجود دسویں میں-95 فیصد مارکس-Secondary-Education-CBSE-Class-10-Results-In-2023.html

شیوسینا (یو بی ٹی) ایم پی سنجے راوت نے ایک بار پھر بی جے پی پر حملہ کیا۔ انتخابی نتائج پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے شیو سینا (یو بی ٹی) کے ایم پی سنجے راوت نے کہا کہ کرناٹک نے دکھایا ہے کہ لوگ آمریت کو شکست دے سکتے ہیں۔ کانگریس جیت گئی جس کا مطلب ہے کہ بجرنگ بلی کانگریس کے ساتھ ہے نہ کہ بی جے پی کے ساتھ۔ ہمارے وزیر داخلہ (امیت شاہ) کہہ رہے تھے کہ اگر بی جے پی ہار جاتی ہے تو کرناٹک میں فسادات ہوں گے۔ کرناٹک پرسکون اور خوشحال ہے، فسادات کہاں ہیں؟ راؤت کے تبصروں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کرناٹک میں بی جے پی کی شکست پرامن رہی ہے، امت شاہ کی پیشین گوئی بھی غلط ثابت ہوئی کہ اگر بی جے پی ہار گئی تو فسادات ہوں گے۔

راوت نے 2024 کے عام انتخابات کی تیاریوں کے بارے میں بھی بات کی۔راوت نے مزید کہا کہ مودی لہر ختم ہو چکی ہے اور اب ہماری لہر پورے ملک میں آرہی ہے۔ 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے لیے ہماری تیاری شروع ہو گئی ہے اور آج شرد پوار کی صدارت میں ایک میٹنگ بلائی گئی ہے، ہم اس بارے میں بات کریں گے۔ اس میٹنگ میں 2024 کے الیکشن اور اس کی تیاری سے متعلق تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

راؤت کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپوزیشن پارٹیاں 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے لیے پہلے سے ہی تیاری کر رہی ہیں، اس پر بات کرنے کے لیے شرد پوار کو میٹنگ کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔کرناٹک میں چیف منسٹر کا انتخاب کرنا کانگریس کے لیے مشکل کام ہے۔ اس عہدے کے لیے دو مضبوط دعویدار ہیں - سابق وزیر اعلیٰ سدرامیا اور کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے سربراہ ڈی کے شیوکمار. پارٹی ہائی کمان نے اتوار کو تمام جیتنے والے امیدواروں کی میٹنگ طلب کی ہے تاکہ یہ فیصلہ کیا جاسکے کہ قانون ساز پارٹی کا لیڈر کون ہوگا۔ تاہم حتمی فیصلہ پارٹی ہائی کمان کرے گی۔

ابتدائی انکوائری کا آغاز، ٹھاکرے کے وکلاء نے پی آئی ایل کی مخالفت کرتے ہوئے مفروضات پر مبنی قرار دیا

ممبئی: سابق وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کے لیے مصیبت پیدا ہو سکتی ہے۔مہاراشٹر حکومت نے جمعرات کو بمبئی ہائی کورٹ کو مطلع کیا کہ اس نے شیوسینا (UBT) سربراہ اور ان کے خاندان کے خلاف ایک شکایت کے بعد ابتدائی انکوائری شروع کر دی ہے جس میں ان پر غیر متناسب اثاثے رکھنے کا الزام لگایا گیا ہے۔

 جسٹس دھیرج ٹھاکر اور والمیکی مینیزس کی ایک ڈویژن بنچ ایک مفاد عامہ کی عرضی (PIL) کی سماعت کر رہی ہے جس میں مرکزی ایجنسیوں کے ذریعہ خاندان کے خلاف مبینہ طور پر ان کے معلوم ذرائع آمدن سے زیادہ اثاثوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

 پی آئی ایل 38 سالہ گوری بھیڈے نے دائر کی تھی، جن کا خاندان ٹھاکرے خاندان کی طرح اشاعت کے کاروبار میں تھا، جو مارمک میگزین اور روزنامہ سامنا شائع کرتے ہیں۔بھیڈے نے سی بی آئی اور ای ڈی کی طرف سے مکمل اور غیر جانبدارانہ جانچ کی امید ظاہر کی تھی۔

 صبح کے سیشن میں مختصر سماعت کے بعد بنچ نے PIL کو حکم کے لیے محفوظ کر لیا۔  تاہم، سرکاری وکیل ارونا کامت پائی نے عدالت کو ریاستی حکومت کے موقف سے آگاہ کرنے کے لیے دوپہر کے سیشن میں PIL کا ذکر کیا۔

بھیڈے، جنہوں نے پہلے ممبئی پولیس کمشنر کو اپنے الزامات کے بارے میں ایک خط بھیجا تھا، کہا کہ انہیں ایسی کسی انکوائری کے بارے میں مطلع نہیں کیا گیا ہے۔

اس سے قبل، ٹھاکرے، اسپی چنائے اور اشوک موندرگی کے وکیلوں نے اس درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کسی بھی مواد سے بالکل خالی اور خالصتاً "مفروضوں" پر مبنی قرار دیا تھا۔

देश को लोकतंत्र से तानाशाही की ओर ले जाया जा रहा है, यह सभी के लिए तय करने का समय है कि वे लोकतंत्र चाहते हैं या तानाशाही: प्रकाश अंबेडकर

मुंबई: यह अब आधिकारिक है के शिवसेना उद्धव बालासाहेब ठाकरे(UBT) और प्रकाश अंबेडकर के नेतृत्व वालीh वंचित बहुजन अघाड़ी आगामी बीएमसी चुनावों में गठबंधन करेंगे।

वंचित बहुजन अघाड़ी की प्रदेश अध्यक्ष रेखा ठाकुर ने इसकी पुष्टि की है। यह बीजेपी और शिवसेना को टक्कर देने के लिए शिव शक्ति और भीम शक्ति के बीच गठजोड़  करने का एक और प्रयास होगा।

रेखा  ठाकुर ने कहा, "शिवसेना (UBT)  नेता सुभाष देसाई के साथ दो बैठकें हुई हैं और हम गठबंधन बनाने के लिए तैयार हैं।" उन्होंने आगे कहा कि वंचित बहुजन अघाड़ी राज्य समिति के सदस्य महेंद्र रोकाडे, मुंबई क्षेत्र के अध्यक्ष अबुल हसन और क्षेत्रीय अध्यक्ष नीलेश विश्वकर्मा ने शिवसेना (UBT)  नेता सुभाष देसाई और अन्य नेताओं के साथ बैठक की।  ये मुलाकातें सकारात्मक रहीं।  उसके बाद, शिवसेना (UBT)  ने गठबंधन के लिए अपनी सहमति दे दी है।”

रेखा  ठाकुर के अनुसार, देसाई ने प्रकाश अम्बेडकर से मुलाकात की और दोहराया कि प्रस्तावित गठबंधन के तौर-तरीकों पर चर्चा करने के लिए दोनों के बीच दो बैठकें हुईं।

हालांकि, रेखा  ठाकुर ने कहा कि पार्टी ने शिवसेना (UBT)  से यह स्पष्ट करने के लिए कहा है कि क्या वह आगामी बीएमसी चुनाव महा विकास अघडी सहयोगियों एनसीपी और शिवसेना के साथ और वंचित बहुजन अघाड़ी के साथ भी लड़ेगी या क्या वह केवल वंचित बहुजन अघाड़ी के साथ गठबंधन में चुनाव लड़ेगी।  उन्होंने कहा, "एक बार जब शिवसेना (UBT)  इस संबंध में अपना पक्ष रख देगी, तो अगले दौर की बातचीत शुरू हो जाएगी।"

उद्धव ठाकरे ने कहा था, “आज हम पहली बार एक साथ एक मंच पर आए हैं।  हमारा वैचारिक मंच एक ही है।  इसलिए हमें साथ आने में कोई दिक्कत नहीं है।  यह लोगों की अपेक्षा के अनुरूप नहीं आएगा। हम दोनों विचारों की विरासत के साथ आगे आए हैं।'

 अपनी ओर से प्रकाश अम्बेडकर ने बिना भाजपा का नाम लिए दावा किया कि देश को लोकतंत्र से तानाशाही की ओर ले जाया जा रहा है।  दोनों दलों के बीच संभावित गठबंधन के बारे में संकेत देते हुए उन्होंने कहा, ''यह सभी के लिए तय करने का समय है कि वे लोकतंत्र चाहते हैं या तानाशाही।''

جمہوریت اور آزادی اب برائے نام باقی ہے، سیاستدان نہیں چاہتے کہ ان کے مخالفین زندہ رہیں، سچ بولنے والوں کے ساتھ دشمنوں جیسا سلوک کیا جارہا ہے

ممبئی: شیوسینا رکن پارلیمنٹ سنجے راؤت نے اتوار کے روز دعویٰ کیا کہ مہاراشٹر کا سیاسی ماحول آلودہ ہو گیا ہے جہاں بہت سے لوگ ایک دوسرے کو "تباہ" کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق، راؤت نے کہا کہ انہیں 9 نومبر کو جیل سے باہر آنے کے بعد دوبارہ اس بات کا احساس ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:... شاہ رخ خان کو ممبئی ایئرپورٹ پر روکا گیا

راجیہ سبھا رکن راؤت کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے اس سال یکم اگست کو منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار کیا تھا اور 9 نومبر کو ممبئی کی ایک عدالت نے ضمانت دی تھی۔اتوار کے روز، انہوں نے 'سامنا' میں اپنا ہفتہ وار کالم روک ٹوک دوبارہ شروع کیا۔

مہاراشٹرمیں ادھو ٹھاکرے کی زیر قیادت مہا وکاس اگھاڑی حکومت اس سال جون میں سینا لیڈر ایکناتھ شندے کی قیادت میں ہونے والی بغاوت کے بعد گر گئی تھی، بعد میں شندے بی جے پی کی حمایت سے وزیر اعلیٰ بنے۔ 

راوت نے دعوی کیا کہ سیاستدان اب اس مرحلے پر پہنچ چکے ہیں جہاں وہ نہیں چاہتے کہ ان کے مخالفین زندہ رہیں۔ مہاراشٹر کا سیاسی ماحول آلودہ ہو گیا ہے جہاں لوگ ایک دوسرے کو تباہ کرنے پر آمادہ ہیں.

سینا لیڈر نے کہا کی جب مجھ سے (مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ اور بی جے پی لیڈر) دیویندر فڑنویس کے اس تبصرہ کے بارے میں پوچھا گیا سیاست میں تلخی ختم ہونی چاہیے، تو میں نے جواب دیا کہ وہ سچ بول رہے ہیں اور میڈیا نے کہنا شروع کر دیا کہ میرا رویہ نرم ہوگیا ہے۔

جمہوریت اور آزادی کا اب کوئی وجود نہیں، اب یہ محض برائے نام ہیں۔  سیاست زہر آلود ہو چکی ہے۔  برطانوی راج کے دوران بھی ایسا نہیں تھا۔ سنجے راؤت نے دعویٰ کیا کہ دہلی کے آج کے حکمران جو چاہیں وہی سننا چاہتے ہیں۔  انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ جو لوگ ایسا نہیں کرتے انہیں دشمن سمجھا جاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ چین، پاکستان دہلی کے دشمن نہیں ہیں، لیکن جو لوگ سچ بولتے ہیں اور سیدھے ہوتے ہیں ان کے ساتھ دشمنوں جیسا سلوک کیا جاتا ہے اور ایسے سیاسی رہنما ملک کا قد گھٹاتے ہیں۔

بھارت جوڑو یاترا سیاست سے پرے ہے اس کا تعلق ہندوستان کے بنیادی نظریات سے ہے:آدتیہ ٹھاکرے

کانگریس کی بھارت جوڑو یاترا کے 65 ویں دن آج مہاراشٹر کے ہنگولی ضلع میں شیوسینا لیڈر آدتیہ ٹھاکرے نے یاترا میں شرکت کی. انہوں نے تقریباً دو گھنٹے راہل گاندھی کے ساتھ پیدل سفر کیا. اس کے بعد میڈیا کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے آدتیہ ٹھاکرے نے کہا کہ ہم دستور اور جمہوریت کیلئے ساتھ چلے ہیں اور اس کے لئے مل کر لڑیں گے. بھارت جوڑو یاترا سیاست سے پرے ہے اس کا تعلق ہندوستان کے بنیادی نظریات سے ہے. منفرد نظریات کی حامل دو سیاسی جماعتوں کے ساتھ آنے سے متعلق میڈیا کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے آدتیہ ٹھاکرے نے کہا کہ یہ جمہوریت کی خوبصورتی ہے کہ دو منفرد نظریات رکھنے والے ساتھ آجاتے ہیں.

بھارت جوڑو یاترا میں آج آدتیہ ٹھاکرے کے ساتھ مہاراشٹر اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر امباداس دانوے اور شیوسینا رکن اسمبلی سچن آہیر نے بھی شرکت کی. گزشتہ روز راشٹریہ وادی کانگریس کے ریاستی صدر جینت پاٹل، جتیندر آہواڑ اور سپریا سولے نے بھی بھارت جوڑو یاترا میں شرکت کی تھی. جینت پاٹل نے کہا کہ ہم بھارت جوڑو یاترا کی ابتداء سے راہل گاندھی کو دوڑتے ہوئے دیکھ رہے ہیں، ہم کہہ سکتے ہیں کہ جلد ہی ہماری قسمت بھی دوڑنے لگے گی.


میں واپس آؤں گا(می پُنہا ینار) بیان کو یاد کرتے ہوئے فڑنویس نے کہا، میں دوبارہ آگیا اور انہیں کو اپنے ساتھ لے آیا

مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے کہا کہ 2019 مہاراشٹر اسمبلی انتخابات میں ہمارے اتحاد کو اکثریت ملی لیکن جان بوجھ ہم سے اکثریت چھین لی گئی. لیکن ایکناتھ شندے کے ساتھ ہم نے ایک بار پھر شیوسینا کے ساتھ اپنی حکومت بنائی ہے۔ ایک سچے شیوسینک کو وزیراعلیٰ بنایا گیا ہے۔  میں اپنی پارٹی کے حکم کے مطابق نائب وزیر اعلیٰ بنا.

یہ بھی پڑھیں:... خطبہ حج براہ راست 14 زبانوں میں نشر ہوگا: حج انتظامیہ
فڑنویس نے مزید کہا کہ میں نے ایک بار کہا تھا کہ میں واپس آؤں گا۔  لیکن جب میں نے یہ کہا تو کئی لوگوں نے میرا مذاق اڑایا۔  میں آج واپس آیا ہوں اور انہیں (ایکناتھ شندے) کو اپنے ساتھ لے آیا ہوں۔  میں ان لوگوں سے بدلہ نہیں لوں گا جنہوں نے میرا مذاق اڑایا۔ میں انہیں معاف کردوں گا، سیاست میں ہر چیز کو دل پر نہیں لیا جاتا. سیاست میں ہر کسی کو مخالفین کی مخالفت کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔  ہم نے دیکھا ہے کہ لوگوں کو بیانات دینے اور سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے پر جیل بھیج دیا گیا۔ ہمیں اپنے خلاف بولنے والوں کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ہمیں تنقید کا جواب دینا چاہیے لیکن مناسب طریقے سے.


مجھے علم تھا کہ ای ڈی مجھے طلب کرے گا، ہم بڑی جنگ لڑ رہے ہیں، یہ مجھے روکنے کی سازش ہے، لیکن میں بالا صاحب کا شیوسینک ہوں، جھکوں گا نہیں: راؤت

منی لانڈرنگ کیس میں ای ڈی کے نوٹس سے بے خوف، شیوسینا ایم پی سنجے راوت نے مرکزی جانچ ایجنسی کو ان کی گرفتاری کا چیلنج دیا ہے. راؤت، جو باغیوں اور بی جے پی کے خلاف سخت حملے کرتے ہوئے پارٹی کے دفاع میں شیوسینا کا اہم چہرہ رہے ہیں، انہوں نے باغی کیمپ میں شامل ہونے کے لیے گوہاٹی جانے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئےاعلان کیا کہ وہ اپنی آخری سانس تک شیوسینا کے ساتھ رہیں گے.

یہ بھی پڑھیں:..... آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر کو ایک دن کی پولیس تحویل
سنجے راؤت نے کہا کہ مجھے گرفتار کرو، جئے ہند... مجھے معلوم تھا کہ ای ڈی مجھے طلب کرے گا، میں گھٹنے نہیں ٹیکوں گا۔ باغی ایم ایل اے چاہے کچھ بھی کریں، میں گوہاٹی نہیں جاؤں گا۔ میں بالا صاحب کا شیوسینک ہوں اور اپنی پارٹی کے ساتھ رہوں گا۔ میں کل ای ڈی کے سامنے پیش نہیں ہوں گا۔  میں ای ڈی سے وقت مانگوں گا، لیکن ضرور جاؤں گا.
راؤت نے ٹوئیٹ کرکے کہا کہ مہاراشٹر میں بڑی سیاسی پیش رفت ہو رہی ہے۔ ہم بالا صاحب کے شیوسینک ایک بڑی جنگ لڑ رہے ہیں۔  یہ مجھے روکنے کی سازش ہے۔ یہاں تک کہ اگر آپ میرا سر قلم کردیں میں گوہاٹی کا راستہ اختیار نہیں کروں گا.
ترنمول کانگریس کے ترجمان سنکیت گوکھلے نے ٹویٹر پر کہا ای ڈی نے ابھی ابھی شیوسینا کے ایم پی اور لیڈر سنجے راؤت کو کل پوچھ گچھ کے لیے حاضر ہونے کے لیے سمن جاری کیا ہے۔ یہ ستم ظریفی ہے کہ مودی کس بے شرمی سے ایمرجنسی کی بات کرتے ہیں جب ان کی حکومت کھلے عام اپوزیشن لیڈروں کو نشانہ بنانے اور حکومتوں کو گرانے کے لیے ایجنسیوں کا استعمال کر رہی ہے۔بی جے پی ایم ایل اے رام کدم نے کہا جب مالی بے ضابطگیاں ثبوت کے ساتھ منظر عام پر آتی ہیں تو ایسی چیزیں ضرور ہوتی ہیں۔ ای ڈی ایک دن میں کارروائی نہیں کرتا ہے۔ انہیں سوالوں کا جواب دینا چاہیے۔

 

ایکناتھ شندے نے سنجے شیرساٹ کا لکھا ہوا خط شیئر کیا، شیوسینا اراکین اسمبلی کے احساسات اور جذبات کی عکاسی

مہاراشٹر میں جاری سیاسی اتھل پتھل کے درمیان اب باغی اراکین اسمبلی اور ادھو ٹھاکرے کے درمیان نوک جھونک شروع ہوگئی ہے. ادھو ٹھاکرے کے فیس لائیو کے بعد آج ایکناتھ شندے نے ایک مکتوب شیئر کیا ہے جو سنجے شیرساٹ نے لکھا ہے مگر اس میں تمام اراکین اسمبلی کے احساسات کی عکاسی کی گئی ہے. 

یہ بھی پڑھیں :.... ادھو ٹھاکرے نے سی ایم ہاؤس چھوڑ دیا
سنجے شیرساٹ نے لکھا کہ شیوسینا اراکین اسمبلی کیلئے آپ کا دروازہ ہمیشہ بند رہتا تھا، آپ ان اراکین اسمبلی کی کبھی سنتے نہیں تھے جبکہ ایکناتھ شندے نے ہمیشہ اپنے اراکین اسمبلی کی باتوں کو سنا اور آئندہ بھی سنتے رہیں گے. کل ورشا بنگلے کے دروازے سچ مچ عوام کیلئے کھول دیئے گئے بنگلے پر ہجوم دیکھ کر خوشی ہوئی. گزشتہ ڈھائی سال سے بطور شیوسینا رکن اسمبلی ہمارے لئے یہ دروازے بند تھے. ہمیں ایسے لوگ چلا رہے تھے جنہیں عوام نے نہیں منتخب کیا تھا وہ ودھان سبھا یا راجیہ سبھا کے ذریعے آئے تھے. وہ ہمیں شکست دینے اور راجیہ سبھا اور ودھان پریشد انتخابات کی حکمت عملی طے کرنے کا کام کررہے تھے. اس کا نتیجہ صرف مہاراشٹر نے دیکھا ہے.
بطور شیوسینا رکن اسمبلی ہمیں ورشا بنگلے تک براہ راست رسائی حاصل نہیں ہوئی. وزیراعلیٰ منترالیہ کی چھٹی منزل پر سب سے ملاقات کرتے تھے لیکن ہمارے لیے کوئی جگہ نہیں تھی، کیونکہ آپ کبھی منترالیہ میں نہیں گئے۔ کئی بار حلقے کے کاموں، دیگر مسائل، ذاتی مسائل کے لیے وزیراعلیٰ صاحب سے ملنے کی درخواست کرنے کے بعد ہمیں بلایا جاتا اور گھنٹوں بنگلے کے گیٹ پر کھڑا رکھا جاتا۔  میں نے وزیراعلیٰ کو کئی بار فون کیا لیکن فون ریسیو نہیں کیا جاتا تھا۔ آخر کار ہم تھک ہار کر واپس چلے جاتے۔ ہمارا سوال یہ ہے کہ ہمارے اپنے اراکین اسمبلی کے ساتھ ایسا ناروا سلوک کیوں؟ 3-4 لاکھ رائے دہندگان نے جنہیں منتخب کیا ہے ان نمائندوں کے ساتھ یہ سلوک؟