Articles by "Twitter"
Showing posts with label Twitter. Show all posts

لال سنگھ چڈھا اور پی کے جیسی ان کی ہی فلموں کے کرداروں سے موازنہ کرتے ہوئے ٹوئٹر یوزرس نے لتاڑا

جمعرات کو عامر خان اور کرن راؤ کو ان کے نئے دفتر میں منعقدہ پوجا کے دوران ایک ساتھ دیکھا گیا۔  تقریب میں شریک مہمانوں نے اس موقع کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کیں۔ عامر خان کی آرتی کرتے ہوئے تصاویر نے ٹرولز کو اپنی طرف متوجہ کیا کیونکہ صارفین نے اس معاملے کا موازنہ لال سنگھ چڈھا اور پی کے جیسی مشہور فلموں میں عامر خان کے کرداروں سے کیا۔

عامر اس تصویر میں نہرو کیپ اور گلے میں ایک کپڑا لٹکائے نظر آرہے ہیں وہ رسم(پوجا) کے دوران کلش کو تھامے ہوئے ہیں۔تاہم، اس واقعے کے پیچھے اصل وجہ غیر مصدقہ ہے جب کہ کچھ رپورٹس کا دعویٰ ہے کہ یہ ممبئی میں بالی ووڈ اداکار کے پروڈکشن ہاؤس کا افتتاح تھا۔

دریں اثنا، ٹوئیٹر صارفین نے وائرل تصاویر کو پر مختلف ردعمل ظاہر کیا ہے. کچھ ردعمل چیک کریں:

ایک ٹوئٹر یوزر نے لکھا کہ میں کیا دیکھ رہا ہوں؟ خدا... کیا یہ حقیقت ہے؟  یقین نہیں آتا..وہ سپر اسٹار جس نے کہا کہ یہ سب پوجا اور فرائض جو ہم خدا پر یقین رکھ کر ادا کرتے ہیں اس کی فلم میں یہ سب جعلی ہے اب یہ سب خود کر رہا ہے؟ جو لوگوں کو بولتا ہے کہ یہ سب کرنا بند کرو اب وہی خود سب کر رہا ہے. ایک یوزر نے لکھا کہ بس اب کچھ نہیں بچا اس زندگی میں دیکھنے کو....

ایک اور یوزر نے لکھا کہ کیوں ناٹک کرتے ہو، مل جائے گی کوئی اچھی فلم جلد ہی، ہندو جذبات سے بنو ڈھونگ سے نہیں.

منگل کو بوریولی کی عدالت میں پیش کیا جائے گا، 2020 کے ایک متنازعہ ٹوئیٹ کی بنیاد پر کی گئی کارروائی 

اداکار اور فلمی نقاد کمال راشد خان کو ممبئی پولیس نے دو سال پرانے کیس میں گرفتار کر لیا ہے۔ یہ کارروائی 2020 کے ایک متنازعہ ٹوئیٹ کی بنیاد پر کی گئی۔ ذرائع کے مطابق انہیں منگل کو بوریولی کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ کمال کو ممبئی ایئرپورٹ سے حراست میں لیا گیا اور پوچھ گچھ کے بعد گرفتار کر لیا گیا۔ کمال دو سال بعد ممبئی واپس آئے ہیں۔ کمال پر 2020 میں یووا سینا کی کور کمیٹی نے ملاڈ پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ کمیٹی کے رکن راہل کنال نے الزام لگایا کہ کمال نے آنجہانی اداکار عرفان خان اور رشی کپور کے بارے میں قابل اعتراض ٹوئیٹ کی تھیں۔ اس معاملے میں پولیس نے کمال کے خلاف دفعہ 294 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔  کمال خان نے 2020 میں عرفان خان (29 اپریل) اور رشی کپور (30 اپریل) کے انتقال کے بعد ٹوئیٹ کیا تھا۔ انہوں نے لکھا تھا کہ میں نے کچھ دن پہلے کہا تھا کہ کورونا تب تک نہیں جائے گا جب تک کچھ مشہور لوگوں کو ساتھ نہیں لے جاتا۔ میں نے نام تب نہیں لکھے تھے، کیونکہ لوگ مجھے گالی دیں گے، لیکن مجھے پہلے سے معلوم تھا کہ رشی اور عرفان جائیں گے۔ مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ آگے کس کا نمبر آنے والا ہے۔

جب رشی کپور کو ریلائنس اسپتال میں داخل کرایا گیا تو کے آر کے نے ٹوئیٹ کیا تھا کہ رشی کپور کو ریلائینس اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ میں ان سے صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ سر ٹھیک ہو جائیں اور جلد واپس آنا، نکل مت لینا، کیونکہ شراب کی دکان صرف 2-3 دن میں کھلنے والی ہے۔ کمال کی گرفتاری پر راہل نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ میری شکایت کی وجہ سے کمال کی گرفتاری ہوئی ہے۔ میں ممبئی پولیس کے اس کام کی تعریف اور شکریہ ادا کرتا ہوں۔ اس گرفتاری سے ممبئی پولیس نے ایسے لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کا پیغام دیا ہے۔

ٹوئیٹر صارفین نے ناراضگی کا اظہار کیا، نصرت فتح علی خان کے مینجر کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا یہ نصرت میری جان ہے

پاکستانی گلوکار راحت فتح علی خان ایک بار پھر سرخیوں میں ہیں۔ ان کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آئی ہے اس میں وہ نشے میں دھت ہیں اور اپنے مرحوم چچا نصرت فتح علی خان کے منیجر کو نصرت فتح علی خان کہہ کر پکار رہے ہیں۔ اس ویڈیو کی وجہ سے راحت ٹرولز کے نشانے پر آگئے ہیں۔

 ٹوئیٹر پر شیئر کی گئی ویڈیو میں راحت اپنے چچا نصرت فتح علی خان کے مینیجر کے ساتھ کندھے پر ہاتھ رکھ کر بات کرتے نظر آ رہے ہیں۔ پھر انہوں نے مینیجر کو گلے لگایا اور کہا ہم ایک ہیں اور ہمیشہ ایک رہیں گے۔ یہ میری زندگی ہے نصرت فتح علی خان۔ مداحوں اور ٹوئیٹر صارفین کو گلوکار کا اپنے چچا کا اس طرح مذاق اڑانا پسند نہیں آیا۔ لوگوں نے اس ویڈیو کو ری ٹوئیٹ کیا ہے۔ بعض نے غصے کا اظہار کیا اور بعض نے تشویش کا اظہار کیا۔ بہت سے لوگ نصرت فتح علی خان کے منیجر پر اس طرح محبت کی بارش کرنے پر راحت کی تعریف بھی کر رہے ہیں۔ تاہم ابھی تک اس پر راحت فتح علی خان کا کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

گلوکار نے 16 اگست کو اپنے چچا استاد نصرت فتح علی خان کو ان کی 24 ویں برسی پر ایک پوسٹ شیئر کرکے خراج عقیدت پیش کیا تھا۔  پوسٹ میں راحت نے لکھا تھا کہ آپ نے اپنی زندگی میں لاتعداد لوگوں کے دلوں کو چھوا ہے اور اپنی موت کے بعد بھی آپ اپنی موسیقی اور اپنی خاندانی میراث میں زندہ ہیں۔ آپ کو ہمیشہ یاد کیا جائے گا۔

اپوزیشن کی مشترکہ امیدوار ماگریٹ الوا کو شکست، وزیراعظم نریندر مودی، راہل گاندھی، شرد پوار سمیت دیگر لیڈران نے مبارکباد پیش کی

این ڈی اے امیدوار جگدیپ دھنکھر اپوزیشن کی مشترکہ امیدوار ماگریٹ الوا کو شکست دے کر ملک کے 14 ویں نائب صدر جمہوریہ منتخب ہوئے. مغربی بنگال کے سابق گورنر دھنکھر نے 528 ووٹ حاصل کیے جبکہ الوا کو 182 ووٹ ملے۔

تقریباً 725 ایم پیز نے رائے شماری میں حصہ لیا، جو کہ کل ووٹوں کا 92.94 فیصد ہے. صدر دروپدی مرمو، کانگریس لیڈر راہل گاندھی، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) سربراہ شرد پوار، مرکزی داخلہ امت شاہ، مرکزی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور دیگر لوگوں نے جیت کے بعد دھنکھر کو مبارکباد پیش کی۔

صدر مرمو نے ٹوئیٹ کے ذریعے جگدیپ دھنکھر کو ہندوستان کا نائب صدر منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ قوم آپ کی عوامی زندگی کے طویل اور بھرپور تجربے سے مستفید ہوگی۔ راہل گاندھی نے ٹوئیٹ کر کے کہا کہ جگدیپ دھنکھر جی کو ہندوستان کا 14 واں نائب صدر منتخب ہونے پر مبارک باد. راہل نے اپوزیشن کی نمائندگی کرنے والی امیدوار ماگریٹ الوا کا بھی شکریہ ادا کیا. این سی پی سربراہ شرد پوار نے ٹوئیٹ میں کہا کہ جگدیپ دھنکھر کو ہندوستان کا نائب صدر منتخب ہونے پر مبارکباد۔  نائب صدر کے طور پر آپ کے دور میں کامیابی کی خواہش کرتا ہوں. راجناتھ سنگھ نے بھی ٹوئیٹ کرکے جگدیپ دھنکھر کو نائب صدر کے انتخابات جیتنے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی طویل عوامی زندگی، وسیع تجربہ اور لوگوں کے مسائل کی گہری سمجھ سے یقیناً قوم کو فائدہ پہنچے گا۔ دریں اثنا، وزیر اعظم نریندر مودی نے انتخاب کے فوراً بعد جگدیپ دھنکھر سے دہلی میں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور انہیں مبارکباد پیش کی۔


سدرشن ٹی وی ایڈیٹر سریش چوہانکے نے وڈیو شیئر کیا، پولیس نے کہا وڈیو کی حقیقت کی جانچ کی جارہی پے اس کے بعد ضروری کارروائی کہ جائے گی

اسکولی بچوں سے ہندوستان کو ہندو راشٹریہ بنانے کا ایک وڈیو سوشیل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ایک تازہ تنازعہ پیدا ہوا ہے۔مذکورہ متنازعہ وڈیو بدھ کے روز سدرشن ٹی وی کے ایڈیٹر سریش چوہانکے کے ذریعے شیئر کیا گیا۔ جس میں اترپردیش کے ضلع سون بھدرا میں اسکولی بچوں سے ہندوستان کو ایک’ہندو راشٹر‘ بنانے کا عہد لیاگیاہے۔ اسکول کے اوقات کے بعد اسکول یونیفارم میں پارک میں یہ بچے اکٹھا ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔ٹیکسٹائل پر نہیں بڑھے گی جی ایس ٹی، ٹیکسٹائل سیکٹر کیلئے بڑی خبر

اپنے والدین کے ساتھ پارک میں آنے والے بعض بچے بھی اس عہد لینے والے پروگرام میں شامل ہوئے۔ جہاں طلبہ سے ہندوستان کوایک ہندو راشٹریہ بنانے کا عہد دہرایا گیا ہے۔اس عہد میں کہاگیا ہے کہ ہندوستان کو ایک ہندو راشٹر بنانے کے لئے ضرورت پڑنے پر لڑنے قتل کرنے اورمرنے کو بھی کہاگیاہے۔

ضلع سون بھدرا کے نہرو پارک میں اسکولی طلبہ کے اس عہد کا انتظام کیا گیا تھا اور اسکا اختتام بھارت ماتا کی جئے، وندے ماترم اور جئے ہند کے نعروں پر کیا گیا۔ اس عہد میں کہاگیا کہ ہم ہندوستان کو ایک ہندو راشٹر بنانے کے لئے کام کرنے کا وعدہ کرتے ہیں۔اس کے لئے ہم جدوجہد کریں گے، جان دیں گے اور ضرورت پڑتی ہے تو اس کے لئے جان لیں گے۔ مگر ایک لمحہ کے لئے بھی ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ قربانی سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

ہمارے اجداد اساتذہ مادر ہندوستان ہمیں طاقت دیں گے تاکہ ہم اپنے عہد کو پورا کرسکیں۔ ہمیں جیت ملے۔ایک نیوز چینل کے ٹوئٹر ہینڈل پر اس واقعہ کا متنازعہ ویڈیو شیئر کیاگیا ہے۔ اس واقعہ سے متعلق پولیس نے کہا کہ اس واقعہ سے انہیں آگاہ کردیاگیا ہے اور ویڈیو کی حقیقت کی وہ جانچ کررہے ہیں اس کے بعد ضروری کاروائی کی جائے گی۔


پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں روسی صدر کے بیان کا خیر مقدم کیا

خبر رساں ادارے ٹی آر ٹی ورلڈ کے مطابق روسی صدر پوتن نے اپنی سالانہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت محمد مصطفیٰﷺ کی توہین مذہبی آزادی کی خلاف ورزی ہے اور یہ مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ روسی صدر نے گزشتہ سال چارلی ہیبڈو کے دفاتر پر ہونے والے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پیغمبر اسلام کی توہین جیسے اقدامات انتہا پسندانہ انتقامی کارروائیوں کو جنم دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔ورلی روڈ سے تیس تلواریں ضبط، تین نوجوان گرفتار، خصوصی دستے کی کارروائی

پوتن نے نازیوں کی تصاویر کو ویب سائٹس پر پوسٹ کرنے پر بھی تنقید کی البتہ فنکارانہ آزادی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس کی اپنی حدود ہیں اور اس سے دوسروں کی آزادی کی خلاف ورزی نہیں کرنی چاہیے۔

پوتن نے کہا کہ روس ایک کثیر النسلی اور کثیر الاعتقادی ریاست کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے، اس لیے ہم روسی ایک دوسرے کی روایات کا احترام کرنے کے عادی ہیں۔تاہم انہوں نے اپنے حریف ممالک کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئےکسی کا نام لیے بغیر کہا کہ کچھ ممالک میں اس کا پاس ولحاظ نہیں رکھا جاتا۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔صحافت کا انسائیکلوپیڈیا صحیفئہ صحافت اردو کتاب میلہ میں دستیابeficial-Book-For-All.html

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پر پیغام میں روسی صدر کے بیان کا خیر مقدم کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ صدر پوتن کا بیان میرے اس پیغام کی تصدیق کرتا ہے کہ ہمارے نبی پاکﷺ کی توہین آزادی اظہار نہیں ہے اور ہم مسلمانوں بالخصوس مسلم رہنماؤں کو اسلام فوبیا کا مقابلہ کرنے کے لیے اس پیغام کو غیر مسلم ممالک کے رہنماؤں تک پہنچانا چاہیے۔یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان گزشتہ کئی سالوں سے مغربی دنیا پر زور دے رہے ہیں کہ وہ آزادی اظہار پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے جذبات کا بھی احترام کیا جائے۔

الجزیرہ کو ایک حالیہ انٹرویو میں پاکستانی وزیر اعظم نے کہا تھا کہ مسلمان رہنماؤں نے مغرب کے سامنے کبھی بھی اسلام کی حقیقی تصویر کشی نہیں کی اور خصوصاً نائن الیون کے بعدمغربی ممالک میں مسلمانوں کو اسلامو فوبیا کا سامنا کرنا پڑا حالانکہ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ عمران خان اکیلا کوئی تبدیلی نہیں لا سکتا بلکہ حالات کی تبدیلی کے لیے پوری مسلم دنیا کو اقوام متحدہ جیسے فورم پر مشترکہ موقف اختیار کرنا چاہیے۔

چارلی ہیبڈو نے 2011 میں بھی پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے توہین آمیز خاکے اپنے سرورق پر شائع کیے تھے جس کے بعد اس کے دفتر پر حملہ بھی کیا گیا تھا۔اس کے بعد میگزین کے خلاف پاکستان سمیت دنیا بھر میں مسمانوں نے ادارے سمیت خاکے بنانے والوں سے معافی اور انہیں سزا دیے کا مطالبہ کیا تھا تاہم میگزین نے اسے آزادی اظہار رائے قرار دیا تھا۔

2015 میں چارلی ہیبڈو پر حملے گئے تھے، جس میں فرانس کے مشہور کارٹونسٹ سمیت 12 افراد ہلاک ہوگئے تھے اور القاعدہ کی ایک ذیلی تنظیم نے اس کی ذمہ داری قبول کی تھی۔اگلے روز ایک خاتون پولیس افسر کو بھی قتل کردیا گیا تھا اور مسلح حملہ آور ایمیڈی کولیبیلی نے مزید چار افراد کو ہلاک کردیا تھا۔فرانس کی پولیس نے چودہ افراد کو 2015 کے حملوں کا ذمہ دار ٹھہرایا جو تصادم کے دوران مارے گئے تھے۔گزشتہ سال پیرس میں ملزمان کے کورونا وائرس کے ٹیسٹ منفی آنے بعد ان کے خلاف ٹرائل ایک مرتبہ پھر شروع ہوا تھا۔تاہم گزشتہ سال ستمبر میں حملے کے مقدمے کی سماعت شروع ہونے پر ایک بار پھر گستاخانہ خاکے شائع کرنے کا اعلان کیا گیا تھا، جس پر پوری دنیا سے سخت ردعمل آیا تھا۔

اس اعلان کے چند ہفتوں بعد فرانس کے دارالحکومت میں گستاخانہ خاکے بنانے والے میگزین 'چارلی ہیبڈو' کے سابق دفتر کے قریب چاقو کے حملے میں 4 افراد زخمی ہوگئے تھے۔

 دہلی کی 9 سالہ عصمت دری متاثرہ کے والدین کی تصاویر ٹوئیٹر پر شیئر کرنے کے خلاف قومی کمیشن برائے تحفظِ اطفال نے دہلی پولیس اور ٹوئیٹر سے کارروائی کا مطالبہ کیا تھا

کانگریس نے دعوی کیا ہے کہ مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئیٹر نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی کا ٹوئیٹر اکاؤنٹ عارضی مدت کیلئے سسپینڈ کردیا ہے۔کانگریس پارٹی کے آفیشل ٹوئیٹر ہینڈل کے ذریعے اس کی اطلاع دی گئی ہے۔کانگریس پارٹی ذرائع نے کہا کہ راہل گاندھی کے ٹوئیٹر اکاؤنٹ کو بحال کرنے کیلئے ضروری کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔

حالانکہ اب تک یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ راہل گاندھی کا ٹوئیٹر اکاؤنٹ کس وجوہات کی بنا پر بند کیا گیا ہے۔حالانکہ ٹوئیٹر نے کانگریس پارٹی کے دعوے کو مسترد کردیا ہے۔کانگریس نے ٹوئیٹر ہینڈل پر کہا کہ راہل گاندھی کا ٹوئیٹر اکاؤنٹ عارضی مدت کیلئے بند کیا گیا ہے اسلئے جب تک ان کا اکاؤنٹ بحال نہیں ہوجاتا وہ دیگر سوشل میڈیا ذرائع سے لوگوں سے رابطہ میں رہیں اور لوگوں کے مسائل اٹھاتے رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔گرل فرینڈ کے شادی سے انکار کے بعد نوجوان نے خودکشی کرلی

ٹوئیٹر ترجمان نے این ڈی ٹی وی سے بات چیت کے دوران کہا کہ راہل گاندھی کا ٹوئیٹر اکاؤنٹ بند نہیں کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی اکاؤنٹ کو بند کیا جاتا ہے تو اسے دیکھا نہیں جاسکتا۔ایسی قیاس آرائی کی جارہی ہے کہ ماضی قریب میں راہل گاندھی کے ذریعے کئے گئے ایک ٹوئیٹ کی بنا پر مذکورہ کارروائی کی گئی ہے۔دراصل کچھ روز قبل راہل گاندھی نے عصمت دری کی شکار دہلی کی ایک 9 سالہ بچی کے والدین سے ملاقات کی تھی اور اس کی تصاویر اپنے ٹوئیٹر اکاؤنٹ پر شیئر کی تھی۔اس ٹوئیٹ میں متاثرہ کے والدین کی شناخت اجاگر ہورہی تھی، جس کے بعد قومی کمیشن برائے تحفظِ اطفال نے دہلی پولیس اور ٹوئیٹر سے اس کی شکایت کی تھی۔قومی کمیشن برائے تحفظِ اطفال نے دہلی پولیس کو خط لکھ کر اس معاملے میں پوسکو ایکٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔جس کے بعد سنیچر کی رات ٹوئیٹر نے اس پوسٹ کو حذف کردیا تھا۔


رضا اکیڈمی نے قرآن کی بے حرمتی کرنے پر نیٹ فلکس انڈیا پر سخت کارروائی کا مطالبہ کیا، پوسٹر تبدیل کرنے اور اسے ہر جگہ سے ہٹانے کا بھی مطالبہ

منی رتنم اور جیندر پنچاپیکسن کی مشترکہ پروڈیوس کردہ نو فلموں کا مجموعہ نوراسا آج نیٹ فلکس پر جاری کی گیا ہے۔اس فلم کے پوسٹر میں قرآنی آیات استعمال کئے جانے کے سبب مسلمانوں میں شدید غصہ پایا جارہا ہے۔

تھانتھا نامی تامل اخبار نے اس فلم کا اشتہار اپنے صفحہ اول پر شائع کیا ہے جس میں قرآنی آیات کا استعمال کیا گیا ہے۔فلم کے اشتہار میں قرآنی آیات استعمال کئے جانے کے خلاف مسلمانوں نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ قرآنی آیات عوام کی تفریح کیلئے نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔اعظم خان کی رہائی کیلئے لوک سبھا میں گونجی آواز،ایس ٹی حسن نے پارلیمنٹ اسپیکر سے ملاقات کی

اس تعلق سے رضا اکیڈمی نے اپنے ٹوئیٹر ہینڈل پر لکھا کہ روزنامہ تھانتھا میں نیٹ فلکس نے اپنی فلم نوراسا کے اشتہار میں قرآنی آیات کا استعمال کرکے بنایا گیا پوسٹر شائع کیا ہے، جو کہ قرآن کی بے حرمتی ہے۔ہم نیٹ فلکس انڈیا کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ متعدد سوشل میڈیا صارفین نے بھی اس معاملے میں اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے نیٹ فلکس پر مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی پاداش میں انڈیا میں پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ایک ٹوئیٹر صارف نے لکھا کہ نوراسا کے پوسٹر میں قرآن کی بے حرمتی کی گئی ہے ہم اس کی سخت مذمت کرتے ہیں۔سیّد دانش قادری نامی ایک صارف نے لکھا کہ نوراسا فلم کے پوسٹر میں قرآنی آیات کا استعمال کیاگیا ہے اور ایک تامل روزنامہ تھانتھا میں فلم کا پوسٹر پرنٹ کیا گیا ہے۔ہم فلم کا پوسٹر تبدیل کرنے اور اسے ہر جگہ سے ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔اس کے علاوہ متعدد صارفین نے فلم کے پوسٹر میں قرآنی آیات استعمال کئے جانے کے خلاف سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اسے قرآن کی بے حرمتی کہا ہے اور نیٹ فلکس پر ہندوستان میں پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔


 ٹوئیٹ کرکے سوال پوچھا، جس دلیپ کمار کے نام سے شہرت، دولت اور عزت کمائی اس نام کے مطابق جلایا جائے گا یا یوسف خان نام سے دفنایا جائے گا؟

بالی ووڈ کے مشہور اداکار یوسف خان المعروف دلیپ کمار نے 98 برس کی عمر میں آج دنیا کو الوداع کہہ دیا۔واضح رہے کہ گذشتہ کئی روز سے ان کی طبعیت ناساز تھی انہیں کچھ روز قبل ہی ممبئی کے ہندوجا اسپتال میں داخل کیا گیا تھا، آج صبح 7:30 بجے انہوں نے آخری سانس لی۔دلیپ کمار کے انتقال پر وزیراعظم نریندر مودی سے لے کر متعدد بالی ووڈ شخصیات نے مائیکرو بلاگنگ سائٹ پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔دلیپ کمار کا اصل نام یوسف خان تھا لیکن بالی ووڈ میں انہوں نے دلیپ کمار کے نام سے شہرت پائی۔ان کے انتقال پر سدرشن نیوز چینل کے اینکر سریش چوہانکے نے سوال کیا کہ دلیپ کمار کو جلایا جائے گا یا دفنایا جائے گا۔سریش چوہانکے نے ٹوئیٹ میں لکھا کہ دلیپ کمار کے نام سے کامیاب ہونے والے اداکار محمد یوسف خان نہیں رہے۔چوہانکے نے مزید لکھا کہ جس دلیپ کمار نام سے شہرت، دولت اور عزت کمائی، اس نام کے مطابق جلایا جائے گا یا یوسف خان نام سے دفنایا جائے گا؟دلیپ کمار سے متعلق اس ٹوئیٹ کے بعد چوہانکے ٹرول کے نشانے پر آگئے۔رضوان نام کے ایک یوزر نے چوہانکے کے ٹوئیٹ کا جواب دیتے ہوئے لکھا گنگا کنارے جب لوگوں کو دفنایا جارہا تھا تب آپ کے سنسکار کہاں چلے گئے تھے؟ آپ یاد نہیں آرہا تھا کہ جلایا جائے کہ دفنایا جائے؟ابھیشیک نام کے ایک یوزر نے لکھا کہ ہمارے سناتن میں تو دشمن کی موت پر بھی عزت دینے کی روایت رہی ہے، اور پھر آتے ہیں آپ جیسے تنگ نظر لوگ۔روی نامی یوزر نے لکھا کہ اتنا مت بولا کرو کبھی کبھی چپ رہنا ہی بہتر ہوتا ہے۔جبکہ ایک یوزر نے لکھا کہ کچھ بولتے ہو، کچھ لکھتے ہو، زہر ہی پھیلاتے ہو سماج میں۔سُمت نامی یوزر نے چوہانکے کے ٹوئیٹ کا جواب دیتے ہوئے لکھا کہ دکھا دیا اپنا جاہل پن، دلیپ صاحب دیش کی شان ہیں۔

 

عامر اور کرن راؤ کی طلاق پر ٹوئیٹر پر میمز اور ٹرول کا سلسلہ دراز,ٹوئیٹر یوزر نے عامر خان اور اداکارہ فاطمہ ثناء شیخ کو پیشگی مبارکباد اور نیک خواہشات پیش کیں

اداکار عامر خان اور پروڈیوسر کرن راؤ نے آج شادی کے 15 سال بعد طلاق لینے کا اعلان کردیا۔انہوں نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ اب وہ ایک دوسرے کے ساتھ شریک والدین اور کنبہ کی حیثیت سے ایک نئے باب کا آغاز کریں گے۔عامر اور کرن نے جب نیک خواہشات کی درخواست کی تو سوشل میڈیا اور مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئیٹر پر میمز اور ٹرول کا سلسلہ جاری ہوگا۔یوزرس نے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا، عامر اور کرن راؤ کے ساتھ ساتھ فاطمہ ثناء شیخ، لو جہاد اور ڈیوائس مائیکرو بلاگنگ سائٹ پر ٹرینڈنگ موضوع بن گئے۔واضح رہے کہ عامر خان اپنی فلم دنگل اور ٹھگس آف ہندوستان کی اپنی شریک اداکارہ فاطمہ ثناء شیخ سے منسلک ہوگئے تھے۔ ایک ٹوئیٹر یوزر نے کہا کہ عامر اور فاطمہ ثناء شیخ کو پیشگی مبارک ہو، امید ہے کہ یہ رشتہ طویل عرصے تک قائم رہے۔ایک اور یوزر نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا ہم اخلاقی طور پر مردہ معاشرے میں نہیں رہ رہے؟ مزید ایک ٹوئیٹر یوزر نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک مسٹر پرفیکشنسٹ بھی اپنے کامل تعلقات قائم کرنے میں ناکام رہا۔عامر اور کرن کے طلاق کی خبر کے بعد عمار خان کی فلموں کے مکالموں اور تصاویر پر مبنی ممیز سوشل میڈیا کی زینت بن گئے،متعدد ٹوئیٹس میں سلمان خان کا بھی مذاق اڑایا گیا۔ایک ٹوئیٹر یوزر نے لکھا کہ شادی کوئی مذاق نہیں ہے۔

 

اترپردیش انتخابات سے قبل سیاسی اتھل پتھل کے درمیان یوگی حکومت کا پاپولیشن کنٹرول قانون بنانے کا منصوبہ، ٹوئیٹر صارفین نے بی جے پی کو آڑے ہاتھ لیا

اترپردیش میں آئندہ سال اسمبلی انتخابات منعقد ہوں گے، جس کے پیش نظر تمام سیاسی جماعتوں کی سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔اتر پردیش کی یوگی حکومت نے اس دوران ایک ایسے قانون پر کام کرنا شروع کردیا ہے جس کے تحت دو سے زیادہ اولادہونےپر سرکاری سہولیات سے محروم کیا جاسکتا ہے۔اس مدعے پر اترپردیش میں کافی سیاسی گہما گہمی چل رہی ہے۔سبکدوش آئی اے ایس افسر سوریا پرتاب سنگھ نے اس پورے معاملے پر اپنی رائے ظاہر کرتے ہوئےیوگی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔انہوں نے کہا کہ سوال چاہے کچھ بھی ہو بی جے پی کا ایک ہی جواب ہوتا ہے کہ ہندو خطرے میں ہے۔سوریا پرتاپ سنگھ نے اپنے ٹوئیٹر ہینڈل سے ایک ٹوئیٹ کیا ہے جس میں انہوں نے زی نیوز کا ایک ٹوئیٹ بھی ری ٹوئیٹ کیا ہے۔زی نیوز کا ٹوئیٹ اس کے شو تال ٹھوک کر پر مبنی ہے جس میں لکھا ہے قدرت بہانا ہے مسلم آبادی بڑھانا ہے۔پاپولیشن پالیٹکس پر ٹوئیٹ کیجئے۔اسی ٹوئیٹ کو ری ٹوئیٹ کرتے ہوئے سوریا پرتاپ سنگھ نے لکھا کہ مغربی بنگال کے بعد اب اترپردیش میں بھی ہندو خطرے میں آگیا ہے۔سلیبس کوئی بھی ہو، سوال کیسا بھی ہو، بی جے پی ہر جگہ ایک ہی جواب لکھ کر آجاتی ہے۔اترپردیش انتخابات تک اب نفرت پھیلانے کا کاروبار عروج پر ہوگا۔دل تھام کر بیٹھئے اب بہت کچھ جھیلنا ہے۔

سوریا پرتاپ سنگھ کے اس ٹوئیٹ پر متعدد ٹوئیٹر صارفین نے بھی اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے۔ پنکج گور نامی ایک صارف نے لکھا کہ بالکل بی جے پی سے ہندو خطرے میں ہی ہیں، کبھی لڑکی رات میں جلا دی جاتی ہے، کبھی سڑک سے اٹھا لی جاتی ہے۔سرعام بے گناہوں کو مار دیا جاتا ہے، ایف آئی آر کرکے پھنسا دیا جاتا ہے۔رام کے نام پر چندہ مانگ کر اپنے محل بنائے جاتے ہیں۔بی جے پی سے صرف ہندو ہی نہیں بلکہ پورا ملک خطرے میں ہے۔روشن کمار نامی ایک صارف نے لکھا کہ مغربی بنگال انتخابات سے قبل ٹی ایم سی لیڈران کو توڑنے کا کھیل کھیلا گیا، بی جے پی اب وہی کھیل اترپردیش میں کھیل رہی ہے۔پون انگلے نامی ایک صارف لکھتے ہیں کہ اب تو آئی، را، ای ڈی، سی بی آئی اور ای سی آئی کا کوئی مقام ہی نہیں رہا یہ سارے سرکاری تفتیشی ادارے حکومت کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بن گئے ہیں۔بی جے پی کے دور اقتدار میں ان کی خودمختاری صفر ہوگئی ہے،ان سے شفافیت کی امید بے معنی ہوگئی ہے۔یہ تمام ادارے حکومت کے اشارے پر ناچتے ہیں۔ایس ایم ایس نام کے ایک ٹوئیٹر ہینڈل سے سابق ائی اے ایس کو جواب دیا گیا کہ پورا ملک ہی خطرے میں ہے، انتخاب کیلئے ہندو مسلم کو لڑانا ہے بس۔ نہ پہلے ہندو مسلم خطرے میں تھے نا اب خطرے میں ہیں۔کسی نہ کسی جملے بازی یا چال بازی سے انتخاب جیتنا ہے۔واضح رہے کہ یو پی اسٹیٹ لاء کمیشن پاپولیشن کنٹرول قانون کا مسودہ تیار کررہا ہے۔کمیشن کے چیئرمین آدتیہ ناتھ متل نے کہا کہ ریاست میں آبادی میں اضافے کے سبب بہت ساری مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔کمیشن کے ذریعہ تیار کردہ مسودہ آئندہ دو ماہ میں حکومت کے سپرد کیا جائے گا۔بہت سی سیاسی جماعتیں اس قانون کی مخالفت کررہی ہیں۔سماجوادی پارڑی کے رکن پارلیمان شفیق الرحمن برک نے اس قانون کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچے قدرت کا تحفہ ہیں، ہمیں قدرت کے طریقوں میں رکاوٹ ڈالنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

 

پاکستان کے ساہیوال میں ہوبہو ڈونالڈ ٹرمپ کی طرح دکھائی دینے والے قلفی فروش کا ویڈیو ٹوئیٹر پر وائرل

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہورہا ہے جس میں ایک شخص پاکستان کی سڑکوں پر قلفی بیچ رہا ہے۔اس ویڈیو کی مزیدار بات یہ ہے کہ کلفی فروش ہوبہو امریکہ کے سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی طرح دکھائی دے رہا ہے۔اس کے علاوہ پاکستان پنجاب کے سہیوال علاقے میں قلفی بیچنے والا شخص کھویا کلفی فروخت کرنے کیلئے مسلسل ایک گیت گارہا ہے جو کافی مزیدار اور دلچسپ دکھائی دے رہا ہے۔ایک ٹوئیٹر یوزر نے اس قلفی فروش کی ویڈیو بناکر ٹوئیٹر پر شیئر کی ہے۔سوشل میڈیا یوزر اس ویڈیو پر ردعمل ظاہر کررہے ہیں، قلفی فروش کی آواز کی تعریف بھی کی جارہی ہے اسی کے ساتھ ڈونالڈ ٹرمپ سے اس کی مشابہت کے سبب متعدد لطیفے اور مزاح کے پہلو بھی نکالے جارہے ہیں۔

ویڈیو دیکھیں:

To watch Video Click Here:


الٹ نیوز کے شریک بانی پرتیک سنہا، راج دیپ سردیسائی اور برکھا دت جیسے صحافیوں کے نام بھی شامل

اس خبر پر ہنسی آگئی، بحیثیت صحافی یہ میرے لئے ایک Complement 

ہے کہ کانگریس اور بی جے پی دونوں مجھے پسند نہیں کرتے: برکھا دت

کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے ٹوئٹر پر 50 لوگوں کو ان فالو کردیا ہے۔ان میں الٹ نیوز کے شریک بانی پرتیک سنہا، راجدیپ سردیسائی اور برکھا دت جیسے صحافیوں کے علاوہ راہل کے اسٹاف ممبر نکھل الوا بھی شامل ہیں۔راہل نے حیرت انگیز طور پر کانگریس بیٹ رپورٹنگ کور کرنے والے کئی صحافیوں کو بھی ان فالو کردیا ہے۔راہل کے اس عمل کو Purge کہا جاتا ہے جس کے معنی ہیں صفائی کرنا ہے۔اس صفائی کی جو بھی وجوہات ہوں بہرحال راہل کے فالو لسٹ میں احمد پٹیل، ترون گگوئی اور راجو ساتو کے نام اب بھی برقرار ہیں، جبکہ ان تینوں کی موت واقع ہوچکی ہے۔بدھ کی شام تک راہل کے ٹوئٹر اسٹیٹس کے مطابق وہ 220 لوگوں کو فالو کرتے ہیں۔جبکہ ان کے فالوورز کی تعداد ایک کروڑ 80 لاکھ 80 ہزار ہے۔کانگریس پارٹی نے اپنے لیڈر کے ذریعے ٹوئٹر اکاؤنٹ کی صفائی سے متعلق کسی بھی طرح کی رائے دینے سے انکار کیا ہے۔برکھا دت نے راہل کے اس اقدام سے متعلق کہا کہ خبر پر انہیں ہنسی آگئی، ایک صحافی ہونے کے ناطے یہ میرے لئےایک

Complement 

ہے کہ کانگریس اور بی جے پی دونوں ہی مجھے پسند نہیں کرتے۔الٹ نیوز کے پرتیک سنہا نے اقرار کیا کہ راہل نے انہیں ان فالو کردیا ہے۔لیکن ان فالو کرنے پر اتنا واویلا کیوں؟یہ بات قابل بحث بھی نہیں ہے۔اسی دوران ایسی اطلاعات بھی سامنے آرہی ہیں کہ پرتیک نے سنہا نے اپنے کسی پرانے ٹوئیٹ میں راہل کو ڈمب کہا تھا۔غور طلب ہے کہ راہل نے جن لوگوں کو ان فالو کیا ہے ان میں نکھل الوا، کیلاش ودیارتھی اور بیجو بھی شامل ہیں جو راہل کے اسٹاف ممبر ہیں۔اس تعلق سے کانگریس ذرائع کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ لوگ راہل سے قریب رہتے ہیں اسلئے ان کو فالو کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔واضح رہے کہ نکھل الوا پہلے راہل کے ٹوئٹر ہینڈل کو سنھبالتے تھے۔اب النکار سوائی یہ ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔

 

مودی صاحب بچوں کو اتنا کام کیوں کرنا پڑتا ہے، آن لائن کلاس اور ہوم ورک سے پریشان 6 سالہ معصوم بچی کا ویڈیو ٹوئٹر پر وائرل

کرونا کے سبب ملک بھر میں اسکولیں بند ہیں، طویل عرصے سے طلباء اسکولوں سے دور ہیں۔پڑھائی کا حرج نہ ہو اس لئے آن لائن کلاسیس کا سلسلہ جاری کیا گیا ہے۔لیکن آن لائن کلاسیس بچوں کیلئے پریشانی کا باعث بنتی جارہی ہیں۔حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک چھ سالہ بچی کا ویڈیو وائرل ہوا جس میں بچی ہوم ورک اور آن لائن کلاس سے متعلق وزیراعظم نریندر مودی سے شکایت کررہی ہے۔جموں کشمیر کے گورنر منوج سنگھ نے اس بچی کے ویڈیو پر توجہ بھی دی ہے۔جموں کشمیر کی رہنے والی ایک چھ سالہ بچی نے آن کلاسیس سے ناخوش ہوتے ہوئے ایک ویڈیو بنا کر شیئر کی ہے۔جس میں بچی نے اسکولوں سے ملنے والے ہوم ورک اور لمبی کلاسیس سے متعلق پریشانی اور ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔سوشل میڈیا پر وائرل اس ویڈیو کو جموں کشمیر کے گورنر منوج سنگھ نے ٹوئیٹر پر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ بہت ہی پیاری شکایت ہے۔انہوں نے اسکولی بچوں کو ہوم ورک کا بوجھ کم کرنے سے متعلق محکمہ تعلیم کو 48 گھنٹے کے اندر لائحہ عمل تیار کرنے کا حکم دیا ہے۔انہوں نے ٹوئیٹ میں مزید لکھا کہ بچپن کی معصومیت بھگوان کا تحفہ ہوتی ہے، بچوں کے دن خوشیوں سے بھرے ہونے چاہیے۔بچی کا شکایتی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد ایسی امید ہے کہ آن لائن کلاس میں بچوں پر پڑھائی کا بوجھ کم ہوسکتا ہے اور انہیں راحت مل سکتی ہے۔ویڈیو میں بچی کہہ رہی ہے کہ اس کی آن لائن کلاس دس بجے شروع ہوتی ہے اور دو بجے تک جاری رہتی ہے۔جس میں انگلش، میتھس، اردو اور ای وی ایس پڑھنا پڑتا ہے۔بچی نے وزیراعظم نریندر مودی سے درخواست کرتے ہوئے کہتی ہے کہ مودی صاحب بچوں کو آخر اتنا کام کیوں کرنا پڑتا ہے؟واضح رہے کہ ٹوئٹر پر شیئر ہونے والے اس ویڈیو کو اب تک لاکھوں لوگوں نے دیکھا ہے اور بچی کی معصومیت پر اپنے تاثرات بھی ظاہر کررہے ہیں۔

Click here to watch:

Video



 

بی جے پی راجیہ سبھا رکن سبرامنیم سوامی کے حکومت سے تیکھے سوال، ٹوئٹر یوزرس کا ملاجلا ردعمل، مودی کو ہندو تب تک اچھے لگتے ہیں جب تک وہ بنا سوال کئے کنول کا بٹن دباتے ہیں

بی جے پی کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا رکن سبرامنیم سوامی نے حکومت کو تین سوالوں کے جوابات ےلاش کرنے کو کہا ہے۔سوامی نے کہا کہ اب حکومت کو کرونا سے کس طرح نجات حاصل کرنی ہے؟ معیشت کو کس طرح سنبھالنا ہے اور چین کو لداخ سے کس طرح بھگانا ہے، اس تعلق سے ڈاکیومینٹ تیار کرنا چاہیے۔سبرامنیم سوامی ٹوئیٹ کرکے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ حکومت تین اہم کاموں سے متعلق ماہرین کو دستاویز تیار کرنے کا حکم دے۔ان میں کرونا پر قابو کس طرح پایا جائے؟ خراب ہوتی ہوئی معیشت کو کا طرح سنبھالا جائے اور ہر سال جی ڈی پی میں 10 فیصدی اضافہ کس طرح ہو؟ اور چین کو لداخ سے کا طرح نکالا جائے، شامل ہیں۔ حکومت کے پاس ان تینوں سوالات کے کوئی جواب اور لائحۂ عمل موجود نہیں ہے۔سوامی کے اس ٹوئٹ پر یوزرس  نے بھی اپنا ردعمل ظاہر کیا۔ایک یوزر نے کہا کہ کیونکہ سوامی جی خود اس سوالات سے متعلق ڈاکیومینٹ تیار کرکے مودی جی کو سونپ دیں۔آخر کار یہ آپ کی حکومت ہے اور آپ کو ان کی حمایت کی ضرورت ہے۔اس پر سوامی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں نومبر 2014 سے یہ کررہا ہوں لیکن نومبر 2019 میں میں نے ہار مان لی کیونکہ نا تو مودی جی کو معاشیات کا علم ہے اور نا ان کے کسی قریبی ساتھی کو۔اس لئے اس معاملے کو سرد خانے میں ڈال دیا گیا۔ایک یوزر نے لکھا کہ لوگ بی جے پی سے ناراض نہیں ہیں 

لیکن اب مودی سے ہار گئے ہیں۔انہیں اب صلاح کاروں کی ایک بہتر ٹیم کی ضرورت ہے۔گورو نام کے ایک یوزر نے لکھا کہ مودی کو ہندو تب تک اچھے لگتے ہیں جب تک وہ بنا سوال کئے کنول کا بٹن دباتے رہتے ہیں۔جیسے ہی ہندو روزگار، تعلیم، طبی سہولیات اور دیگر سہولیات سے متعلق سوال کرتے ہیں ہندو غدار ہوجاتا ہے۔

 

گائے کا پیشاب پینے سے متعلق بیان پر سادھوی کو سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا، یوزرس کا نے دیئے مشورے

کرونا وباء کےدوران برسراقتدار بی جے پی کے کچھ لیڈران کے ایسے بیانات سامنے آئے جن کے سبب انہیں سوشل میڈیا پر زبردست تنقیدوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔بی جے پی رکن پارلیمنٹ سادھوی پرگیہ نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ وہ روز گائے کا پیشاب پیتی ہیں اسلئے کرونا سے بچنے کیلئے انہیں کسی دوا کی ضرورت نہیں پڑی اور نہ ہی وہ کرونا سے متاثر ہوئی۔فلم اداکارہ سوارا بھاسکرنے سادھوی کے اس بیان پر طنز کستے ہوئے کہا کہ جس کے دماغ میں گوبر بھرا ہو وہ ملک کو اس حالت میں ہی لائیں گے۔سوارا بھاسکر نے این ڈی ٹی وی کا ایک ٹوئیٹ ری ٹوئیٹ کیا ہے جس میں سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کسی پروگرام میں عوام سےخطاب کرتے ہوئے گائے کے پیشاب کے فائدے بتا رہی ہیں۔سوارا نے کہا کہ بھائی  صاحب گوبر اور پیشاب کے علاوہ کچھ سوجھتا ہے ان کو؟ خیر جن کے دماغ میں گوبر بھرا ہو وہ ملک کا گڑ گوبر کریں ہی۔ویڈیو میں سادھوی کہہ رہی ہے کہ دیسی گائے کا پیشاب پینے سے ہماری بیماری دور ہوتی ہے، میں ہر روز گائے کا پیشاب پیتی ہوں اسلئے مجھے کرونا سے بچاؤ کیلئے کسی دوا کی ضرورت نہیں پڑی۔سادھوی کے اس بیان پر لوگوں کے ردعمل کا سلسلہ چل پڑا۔سید زبیر نام کے ایک یوزر نے کہا کہ پردھان منتری جی سواستھ منترالیہ کا نام بدل کر گئو متر منترالیہ کردیں اور سادھوی کو گئو متر منتری بنا دیں۔پیوش گوئل کو گئو متر ایکسپریس چلا کر ملک کے اسپتالوں میں گئو متر فراہم کرنے کی ذمہ داری دے دیں۔عمیق انصاری نامی ایک یوزر نے لکھا کہ  گائے کا پیشاب ہی استعمال کیا جائے ویکسن کیوں برباد کی جارہی ہے؟راہل شکلا نے بھوپال کی رکن پارلیمان کے بیان پر سوارا کے ٹوئیٹ کے جواب میں لکھا کہ بھوپال کی ذہین عوام پر لعنت بھیجئے۔ایک یوزر نے یہ بھی لکھا کہ اگر سادھوی کو گئو متر والے تجربے پر اتنا ہی یقین ہے تو سیدھے وزیراعظم کو ہی کیوں نہیں سمجھا دیتیں۔پھر وزیراعظم خود لوگوں سے گائے کا پیشاب پینے کی اپیل کریں گے۔ایک رکن پارلیمان کو زیب نہیں دیتا کہ وہ ہوا میں باتیں کریں، حکومت ان کی پارٹی کی ہے۔واضح رہے کہ کچھ روز قبل اتراکھنڈ کے وزیراعلی تیرتھ سنگھ راوت نے بیان دیا تھا کہ کرونا بھی ایک جاندار ہے جسے جینے کا حق ہے۔