غریب بچوں کو معیاری تعلیم دینے کے مقصد سے ذاتی زمین پر 20 لاکھ روپے خرچ کرکے بنائی گئی اسکول نفرت کی نذر ہوگئی
مدھیہ پردیش کے ضلع بیتول میں ایک نجی اسکول کی تعمیر اس وقت تنازعے کا شکار ہو گئی جب اسے غلط طور پر غیر مجاز مدرسہ قرار دیے جانے کی افواہوں کے بعد انتظامیہ نے عمارت کا ایک حصہ منہدم کر دیا۔
مقامی رہائشی عبدالنعیم نے تقریباً 20 لاکھ روپے, جو انہوں نے قرض اور گھریلو بچت سے جمع کیے تھے, اس اسکول کی تعمیر پر خرچ کیے تھے۔ مگر 13 جنوری کی شام ان کا خواب اس وقت ٹوٹ گیا جب سرکاری احکامات پر بلڈوزر نے عمارت کی دیواریں اور سامنے کا شیڈ گرا دیا۔
عبدالنعیم کا مقصد دھابہ گاؤں اور آس پاس کے قبائلی علاقوں کے بچوں کے لیے نرسری سے آٹھویں جماعت تک ایک معیاری اسکول قائم کرنا تھا، تاکہ بچوں کو دور دراز علاقوں میں تعلیم کے لیے نہ جانا پڑے۔
انہوں نے کمرشل لینڈ ڈائیورژن، پنچایت کی این او سی (NOC) حاصل کی اور 30 دسمبر کو محکمۂ تعلیم کو تمام ضروری دستاویزات کے ساتھ باضابطہ درخواست بھی دی تھی۔
عبدالنعیم کے مطابق, "میں نے اپنی ذاتی زمین پر اسکول اس لیے بنانا چاہا کہ میرا گاؤں ترقی کرے اور بچوں کو تعلیم ملے، مگر افسران نے ہمیں غلط کام کرنے والا قرار دیا۔”
عمارت کی تعمیر جاری تھی کہ اچانک تین دن قبل یہ افواہ پھیل گئی کہ یہاں مدرسہ بنایا جا رہا ہے۔
عبدالنعیم کا کہنا ہے کہ "یہ گاؤں ایسا ہے جہاں صرف تین مسلم خاندان رہتے ہیں۔ یہاں مدرسہ کیسے چل سکتا ہے؟ عمارت ابھی مکمل بھی نہیں ہوئی تھی، نہ کوئی کلاس تھی اور نہ ہی طالب علم۔”
11 جنوری کو گرام پنچایت نے عبدالنعیم کو نوٹس جاری کرتے ہوئے خود عمارت گرانے کا حکم دیا اور اجازت نہ ہونے کا الزام لگایا۔ جب وہ وضاحت دینے پنچایت دفتر پہنچے تو ان کی درخواست لینے سے انکار کر دیا گیا۔
13 جنوری کو عبدالنعیم کچھ دیہاتیوں کے ساتھ ضلع کلکٹر سے ملاقات کے لیے جا رہے تھے کہ اسی دوران بھاری پولیس نفری کے ساتھ جے سی بی مشین گاؤں پہنچی اور شام تک اسکول کی عمارت کا ایک حصہ گرا دیا گیا۔
سب ڈویژنل مجسٹریٹ اجیت ماروی نے کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ
“گرام پنچایت کی شکایت پر جانچ کی گئی، جس میں معلوم ہوا کہ تعمیر کا کچھ حصہ ناجائز قبضے میں آتا ہے۔ صرف غیر قانونی حصہ ہٹایا گیا ہے، پوری عمارت نہیں۔”
انہوں نے یہ بھی کہا کہ تمام ضروری اجازت نامے حاصل نہیں کیے گئے تھے۔
عبدالنعیم نے انتظامیہ کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ
“میرے پاس پنچایت کی این او سی تھی، میں نے اسکول کی منظوری کے لیے درخواست بھی دی تھی۔ اگر کاغذی کارروائی میں کوئی کمی تھی تو میں جرمانہ ادا کرنے کے لیے تیار تھا۔”


Post A Comment:
0 comments: