Articles by "Political News"
Showing posts with label Political News. Show all posts

عام آدمی پارٹی کو بڑا جھٹکا، پارٹی بنیادی اقدار سے ہٹ کر ذاتی مفادات کو ترجیح دے رہی ہے: راگھو چڈھا کا الزام

نئی دہلی: اروند کیجریوال کی قیادت والی عام آدمی پارٹی کو ایک بڑے سیاسی بحران کا سامنا ہے، جہاں پارٹی کے سینئر رہنما راگھو چڈھا نے چھ دیگر راجیہ سبھا اراکین کے ساتھ استعفیٰ دے کر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ اس پیش رفت کو پارٹی کی پارلیمانی طاقت کیلئے ایک تاریخی دھچکہ قرار دیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:... عام آدمی پارٹی میں اندرونی خلفشار میں شدت، راگھو چڈھا پر مودی اور بی جے پی مخالف پوسٹس ڈیلیٹ کرنے کا الزام-Aadmi-Party-thereportersview.com-Political-News-National-India.html

اطلاعات کے مطابق راگھو چڈھا کے ساتھ مستعفی ہونے والے اراکین میں سندیپ پاٹھک، سواتی مالیوال، ہربھجن سنگھ، وکرم ساہنی، اشوک مِتّل اور راجندر گپتا شامل ہیں۔ ان تمام رہنماؤں کی اجتماعی علیحدگی نے راجیہ سبھا میں عام آدمی پارٹی کی پوزیشن کو شدید کمزور کر دیا ہے۔

راگھو چڈھا نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ محسوس کررہے تھے کہ "صحیح آدمی، غلط پارٹی میں" ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پارٹی اپنی بنیادی اقدار سے ہٹ کر ذاتی مفادات کو ترجیح دے رہی ہے، جو ان کے اصولوں کے خلاف ہے۔

گزشتہ برسوں میں مسلسل انحرافات

عام آدمی پارٹی کی تشکیل کے بعد سے ہی اسے وقتاً فوقتاً اہم رہنماؤں کی علیحدگی کا سامنا رہا ہے، جس نے پارٹی کی داخلی ساخت اور نظریاتی شناخت پر اثر ڈالا ہے۔

دہلی اسمبلی انتخابات سے قبل پارٹی میں اختلافات اس وقت کھل کر سامنے آئے جب کئی اراکین اسمبلی جیسے نریش یادو، بھاونا گور اور راجیش رشی نے ٹکٹ نہ ملنے پر استعفیٰ دے دیا۔

اسی دوران نومبر 2024 میں وزیر ٹرانسپورٹ و داخلہ کیلاش گہلوت نے بھی پارٹی چھوڑ دی، جبکہ سماجی بہبود کے وزیر راج کمار آنند نے بدعنوانی اور نمائندگی کے مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے استعفیٰ دیا۔

کمار وشواس، الکا لامبا، ایچ ایس پھولکا، آشوتوش اور آشیش کھیتان جیسے سرکردہ رہنما پارٹی سے الگ ہوگئے، جس سے پارٹی کی عوامی شبیہ متاثر ہوئی۔

پارٹی کی ابتدائی کامیابی کے بعد یوگیندر یادو اور پرشانت بھوشن کو نکال دیا گیا، جس کے بعد انہوں نے "سوراج انڈیا" کے نام سے نئی سیاسی جماعت قائم کی۔ اسی عرصے میں شازیہ علمی نے بھی پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق راگھو چڈھا اور دیگر اراکین کی حالیہ علیحدگی نہ صرف عام آدمی پارٹی کیلئے ایک بڑا تنظیمی نقصان ہے بلکہ یہ پارٹی کے اندرونی اختلافات اور نظریاتی بحران کی بھی عکاسی کرتی ہے۔

سوربھ بھاردواج اور بھگونت مان کی کھلی تنقید، چڈھا کی تردید، پارٹی میں بڑھتی خلیج پر سوالات اٹھنے لگے

ممبئی: عام آدمی پارٹی (عآپ) کے اندرونی حلقوں میں ایک نیا سیاسی طوفان کھڑا ہو گیا ہے، جہاں سینئر قائدین نے راگھو چڈھا کی حالیہ سوشل میڈیا سرگرمیوں اور پارٹی موقف سے ان کی ہم آہنگی پر کھل کر سوالات اٹھانا شروع کر دیے ہیں۔

मुंबई में बीएमसी का बड़ा अतिक्रमण हटाओ अभियान, फुटपाथ खाली कराने के लिए अवैध निर्माण और फेरीवालों पर सख्त कार्रवाई

یہ تنازعہ اس وقت سامنے آیا جب آپ کے سینئر لیڈر سوربھ بھاردواج نے الزام عائد کیا کہ راگھو چڈھا نے خاموشی کے ساتھ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے وزیر اعظم نریندر مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر تنقید کرنے والی پرانی پوسٹس حذف کر دی ہیں۔ بھاردواج نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اسکرین شاٹس شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ چڈھا کی ٹائم لائن پر اب ایسی کوئی تنقیدی پوسٹس نظر نہیں آتیں۔

بھاردواج کے مطابق یہ تبدیلی محض اتفاقیہ نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا اقدام معلوم ہوتی ہے، جس کا مقصد چڈھا کی عوامی شبیہ کو ازسرِ نو تشکیل دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں ماضی کی بی جے پی مخالف پوسٹس غائب ہو چکی ہیں، وہیں مودی سے متعلق صرف چند مثبت حوالہ جات باقی رہ گئے ہیں، جو اس تبدیلی کو مزید مشکوک بناتے ہیں۔

یہ الزامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حال ہی میں عام آدھی پارٹی نے راگھو چڈھا کو راجیہ سبھا میں اپنے نائب لیڈر کے عہدے سے ہٹا کر اشوک متل کو نائب لیڈر مقرر کیا ہے۔ اس فیصلے نے سیاسی حلقوں میں پہلے ہی چہ مگوئیاں پیدا کر دی تھیں، اور اب یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔

پارٹی کے اندر اختلافات بھی کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے اشارہ دیا کہ چڈھا ممکنہ طور پر پارٹی کے اجتماعی فیصلوں پر پوری طرح عمل نہیں کر رہے تھے۔ انہوں نے اپوزیشن کی مشترکہ حکمت عملی، بشمول پارلیمنٹ میں واک آؤٹ جیسے اقدامات، میں اتحاد کی اہمیت پر زور دیا۔

اسی طرح سوربھ بھاردواج نے بھی چڈھا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ مرکزی حکومت کے خلاف سخت موقف اختیار کرنے سے گریز کر رہے ہیں، جس سے پارٹی کے اندر تقسیم کا تاثر مضبوط ہو رہا ہے۔

دوسری جانب سینئر لیڈر آتشی نے بیرونی سیاسی دباؤ کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی اکثر اپوزیشن لیڈروں کو مختلف طریقوں سے اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کرتی ہے، تاہم انہوں نے اس حوالے سے کوئی براہ راست الزام عائد نہیں کیا۔

ان الزامات کے جواب میں راگھو چڈھا نے سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ اپوزیشن کے ساتھ کھڑے ہو کر عوامی مسائل اٹھائے ہیں۔ انہوں نے اپنے ناقدین کو چیلنج دیا کہ اگر ان کے خلاف کوئی ثبوت ہے تو پیش کیا جائے۔

چیف الیکشن کمشنر کے مواخذے کی تحریک پر دستخط نہ کرنے کے معاملے پر وضاحت دیتے ہوئے چڈھا نے کہا کہ اس کے لیے محدود دستخط درکار تھے اور پارٹی کے کئی دیگر اراکین نے بھی اس پر دستخط نہیں کیے تھے۔

اپنے جارحانہ لہجے میں چڈھا نے خود کو "زخمی شیر" قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ناقدین کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

ادھر پارٹی سربراہ اروند کجریوال کی جانب سے اب تک کوئی عوامی بیان سامنے نہیں آیا، جس کے باعث پارٹی کے اندر بڑھتی ہوئی خلیج اور اس تنازعے کے مستقبل کے حوالے سے سوالات برقرار ہیں۔

ہم فرقہ پرست نہیں تعمیر و ترقی پسند ہیں، خواتین اسلام دعاؤں کیساتھ ووٹوں سے بھی نوازیں :آصف شیخ 

مالیگاؤں :(راست نامہ نگار) 2007 سے مالیگاؤں کی سیاست میں جس مقصد سے مفتی اسمٰعیل نے قدم رکھا ہم نے بھی سوچا تھا کہ واقعی میں شہر کی سیاست میں اصلاح ہوگی لیکن دیکھتے دیکھتے آج 2004 تک مفتی اسمٰعیل کے تمام ساتھی ان سے دور ہوگئے ۔سب تعلیم یافتہ، حافظ امام ڈاکٹر انجینئر اور ٹیچرس کے علاوہ بڑے بڑے صنعت کار تھے ۔سب نے دیکھا کہ مفتی اسمٰعیل نے کارپوریشن چناؤ میں ٹکٹ کے نام پر رشوت لینا شروع کی،میئر و اسٹینڈنگ کمیٹی اور کوآپ کارپوریٹر کا عہدہ دینے کیلئے بھی مفتی اسمٰعیل نے رشوت طلب کی ۔یہاں تک انہوں نے مجھ سے سوا کروڑ روپے لئے ۔یہی نہیں مفتی اسمٰعیل نے شہر کے علاوہ بیرون شہر سے بھی رشوت طلب کی اور مالیگاؤں کی ووٹوں کو فرقہ پرستوں کے آگے فروخت کردیا ۔اس طرح کے جملوں کا اظہار آصف شیخ نے کیا ۔موصوف نیا پورہ مدنی روڈ کابل چوک پر ڈاکٹر مصطفیٰ ہندوستان والا کی صدارت میں منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کررہے تھے ۔آصف شیخ نے کہا کہ مفتی اسمٰعیل ہمیں بدنام کرتے ہیں جب میں ایم ایل اے تھا تب میں نے جمعیت علماء پر اور اذان پر بی جے پی کی جانب سے پابندی کا مطالبہ اسمبلی میں گونجا تو میں نے فرقہ پرستوں کو کھڑے رہ کر منہ توڑ جواب دیا، جمیعتہ علماء کے حیاء کا دفاع کیا اور سرکار کو پابندی والی بات واپس لینا پڑی اور معافی مانگنا پڑی، آصف شیخ نے کہا کہ آج ہم جمعیتہ علماء کی عزت و احترام میں مصرف بہ عمل ہیں اور مفتی اسمٰعیل جمعیتہ علماء کے چندے سے ہی چناؤ لڑ رہے ہیں ۔انہوں نے سماجوادی پارٹی کے موجودہ امیدوار کے ساتھی آمین فاروق کے الزام کی روشنی میں کہا کہ مفتی اسمٰعیل نے جمعیتہ علماء کے چندے کی رقم سے پچاس لاکھ روپے 2019 چناؤ میں استعمال کئے ۔آصف شیخ نے کہا کہ آج مفتی اسمٰعیل کے پاس کروڑوں روپے کہاں سے آیا؟ نیا پورہ میں کئی سیٹھ رہتے ہیں انہوں نے محنت سے رفتہ رفتہ حلال کماتے ہوئے آج کروڑ پتی کا سفر مکمل کیا ۔اللہ تعالیٰ انہیں مزید ترقی دیں لیکن مفتی اسمٰعیل نے ممبئی کے اوشیوارہ میں 179 کروڑ روپے کا سودا کیسے کیا؟ میرے پاس ثبوت ہے ۔کس وکیل کی نوٹری ہے؟ کہاں پر رجسٹری ہوئی، کون گواہ ہیں؟ سب تفصیلات بتانے کیلئے تیار ہوں ۔آصف شیخ نے کہا کہ مجھکو بولتے ہیں کہ میں اجیت دادا سے ملا ہوں ۔جب تک وہ سیکولر گٹھ بندھن میں تھے تب تک میں انکے ساتھ تھا لیکن اب میری خود کی پارٹی ہے اور میں مہاوکاس اگھاڑی کیساتھ رہنے والا ہوں، اجیت پوار سے تعلق اپنی جگہ ۔آصف شیخ نے کہا کہ سرکار کسی کی بھی ہو کام کرتے ہمیں آتا ہے اور ہم کام کرینگے ۔اس کے برعکس مجلس اتحاد المسلمین فرقہ پرستوں کی پارٹی ہے ۔مجلس کو مہاوکاس اگھاڑی بھی ساتھ نہیں لیگی کیونکہ انکے فرقہ پرستانہ بیان سے ہی کمیونلزم بڑھا ہے ۔آصف شیخ نے کہا کہ مجھکو تو مہا وکاس اگھاڑی سے آفر بھی آگیا ہے ۔اس لئے مجھکو ووٹ دیں ۔موصوف نے کہا کہ میں پورے شہر کی عوام بالخصوص نیا پورہ کی ماں بہنوں سے دعاؤں کیساتھ ووٹوں کی اپیل کرتا ہوں کہ وہ 20 نومبر کو رکشا نشانی پر ووٹ دیکر بھاری اکثریت سے کامیاب کریں ۔تاکہ ہم شہر کی تعمیر و ترقی کرسکے ۔آصف شیخ نے کہا کہ مفتی اسمٰعیل نے نیا پورہ میں ایک لائبریری نہیں بنائی، مسجد کیلئے کوئی کام نہیں کیا ۔مدرسہ کیلئے ایک اسلامک لائبریری تک نہیں بنوایا ۔صرف انہوں نے کروڑوں روپے جمع کیا ۔آج دعائیہ مجلس میں ووٹ مانگی جارہی ہیں، جمعیتہ علماء کا استعمال کیا جارہا ہے شہر میں جھوٹ اور گمراہی پھیلائی جارہی ہیں ان سب برائیوں کو روکنے کیلئے آپ رکشا نشانی پر ووٹ دیں ۔اس موقع پر حافظ انیس اظہر نے کئی واقعات سنا کر مجمع کو سوچنے پر مجبور کردیا کہ واقعی میں موجودہ ایم ایل اے مفاد پرست ہے، ناکام اور ڈھونگی ہے۔انیس اظہر نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے شہر میں ان دنوں زندہ ولی آگئے ہیں جو ممبئی سے لگژری کار میں سوار ہو نکلتے ہیں اور وہ کار مالیگاؤں آتے آتے چمتکاری سے ایمبولینس بن جاتی ہیں ۔یہ مالیگاؤں کی عوام کیساتھ دھوکہ اور مذاق ہے ۔انیس اظہر کے علاوہ اعجاز عمر ابوذر کانڈی والا ،صابر گوہر ،اصغر انصاری نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا، نظامت کے فرائض جنید عالم نے انجام دیا ۔جلسہ گاہ میں عوام کا جم غفیر نظر آرہا تھا جو تبدیلی کے موڈ میں دکھائی دے رہی تھی ۔

پارٹی انڈرورلڈ گینگسٹر داؤد ابراہیم سے جڑے کسی شخص کو ٹکٹ دینا قبول نہیں کرے گی

بی جے پی نے پیر کو کہا کہ وہ اسمبلی انتخابات کے لئے این سی پی (اجیت پوار) لیڈر نواب ملک کی امیدواری کی مخالفت کرے گی۔ نواب ملک ممبئی جنوبی وسطی پارلیمانی حلقہ کے انوشکتی نگر سے موجودہ ایم ایل اے ہیں۔ خبروں کے مطابق، اس بار وہ مانخورد شیواجی نگر سے الیکشن لڑنا چاہتے ہیں اور انوشکتی نگر حلقہ سے اپنی بیٹی ثناء کو امیدوار بنانا چاہتے ہیں، جو انتخابی سیاست میں قدم رکھنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

لارینس بشنوئی کا انکاؤنٹر کرنے والے افسر کو ایک کروڑ کا انعام، کرنی سینا صدر کا اعلان

ملک خاندان نے فری پریس جرنل کو بتایا کہ وہ انتخابات کے لیے تیار ہیں اور پارٹی کے باضابطہ اعلان کا انتظار کر رہے ہیں۔ بی جے پی ممبئی کے صدر اور باندرہ (ویسٹ) کے ایم ایل اے آشیش شیلار نے پیر کو فری پریس جرنل کو بتایا کہ ان کی پارٹی انڈرورلڈ گینگسٹر داؤد ابراہیم سے جڑے کسی شخص کو ٹکٹ دینا قبول نہیں کرے گی۔

ملک اس سے پہلے مہا وکاس اگھاڑی حکومت میں بحیثیت وزیر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہیں 2022 میں این آئی اے نے داؤد اور اس کے ساتھیوں بشمول چھوٹا شکیل اور ٹیگر میمن کے خلاف درج ایک معاملے میں گرفتار کیا تھا۔ ملک کو اس سال جولائی میں طبی بنیادوں پر ضمانت دی گئی تھی۔ این سی پی کی تقسیم کے بعد مہایوتی حلیف بی جے پی کے اعتراضات کے باوجود نائب وزیر اعلی اجیت پوار کی زیر قیادت گروہ نے نواب ملک کو اپنے ساتھ لیا تھا. 

ڈپٹی چیف منسٹر دیویندر فڈنویس نے پوار کو خط لکھ کر ملک کو اپنے گروہ میں شامل نہ کرنے کی اپیل کی تھی۔ تاہم پوار نے اس خط کو نظر انداز کرتے ہوئے ملک کو اپنے کیمپ میں خوش آمدید کہا۔

نانا پٹولے نے شرکت کی تو مذاکرات میں شرکت نہیں کروں گا، ادھو ٹھاکرے کا انتباہ

مہاراشٹر: آئندہ اسمبلی انتخابات کو لے مہاوکاس اگھاڑی میں شامل کانگریس اور شیوسینا(UBT) میں نشستوں کی تقسیم پر اب تک تعطل برقرار ہے. نشستوں کی تقسیم کے اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے آج مرکزی الیکشنی کمیٹی کا اجلاس ہوگا.

یہ بھی پڑھیں:.... لاڈلی بہن یوجنا بند

اس تعطل کے درمیان کانگریس کے ریاستی انچارج رمیش چنی تھلا نے سنیچر کے روز سابق وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے اور این سی پی سربراہ شرد پوار سے ملاقات کی اور ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔ واضح رہے کہ 20نومبر کو مہاراشٹر میں اسمبلی انتخابات ہوں گے. بھارتیہ جنتا پارٹی(BJP) نے اپنے 99 امیدواروں کے ناموں کا اعلان کردیا ہے. جبکہ مہاوکاس اگھاڑی نشستوں کی تقسیم کا مسئلہ سلجھانے کیلئے بات چیت کررہی ہے. حالانکہ ایم سی اے کا دعویٰ ہے کہ 260 نشستوں پر اتفاق رائے پر پہنچ گئے ہیں بقیہ 28 نشستیں تنازعہ کا سبب بنی ہوئی ہیں.

کانگریس مرکزی الیکشنی کمیٹی (سی ای سی) کی میٹنگ اتوار کو ہونی تھی لیکن میٹنگ ملتوی کرکے پیر کے روز کر دی گئی.

اطلاعات کے مطابق سابق وزیراعلیٰ شیوسینا یو بی ٹی سربراہ ادھو ٹھاکرے نے انتباہ دیا ہے کہ اگر کانگریس ریاستی صدر نانا پٹولے نے شرکت کی تو وہ مذاکراتی میٹنگ میں حصہ نہیں لیں گے.

ولسے پاٹل اور چھگن بھجبل کی وضاحت، لاڈلی بہنوں کو ایک ماہ کا ایڈوانس پیسہ دیا گیا ہے

اس سال کے اسمبلی انتخابات میں سب سے زیادہ زیر بحث موضوع میں سے ایک شندے حکومت کے ذریعہ اعلان کردہ 'لاڈلی بہن یوجنا' ہے۔ اس اسکیم کا براہ راست اثر خواتین رائے دہندگان پر پڑتا ہے۔ اسی وجہ سے مرکزی الیکشن کمیشن نے ریاستی حکومت کو اس اسکیم کو روکنے کی ہدایت دی ہے۔
 اس کے مطابق، ریاست کے محکمہ خواتین اور بچوں کی بہبود نے اس اسکیم کو فی الحال روک دیا ہے۔ شندے حکومت پہلے ہی خواتین کو نومبر کے مہینے کی ادائیگی کر چکی ہے۔ انتخابات کے بعد دسمبر کے مہینے میں اس اسکیم کا مستقبل کیا ہوگا؟ آپ کو پتہ چل جائے گا. شندے حکومت میں اجیت پوار گروہ کے دو وزراء نے اس پر رد عمل ظاہر کیا ہے۔ ریاستی تعاون کے وزیر دلیپ ولسے پاٹل اور خوراک اور شہری رسد کے وزیر چھگن بھجبل نے اس پیش رفت پر رد عمل ظاہر کیا ہے۔
دلیپ ولسے پاٹل نے کہا کہ معلوم ہوا ہے کہ الیکشن کمیشن نے لاڈلی بہن یوجنا کو روک دیا ہے۔ اپوزیشن اس معاملے پر آپ کو دھوکہ دینے کی کوشش کرے گی۔ لاڈلی بہن یوجنا کا آغاز جولائی میں ہوا تھا۔ یہ منصوبہ اب اپنے چوتھے مہینے میں ہے۔ چار مہینے کے لیے 6000 روپے ملنے چاہیے تھے، لیکن ہماری بہنوں کو 7500 روپے ملے ہیں۔ یہ اضافی 1500 روپے آپ کو اگلے مہینے کے لیے دیے گئے ہیں.
ولسے پاٹل نے مزید کہا کہ حکومت جانتی تھی کہ الیکشن کمیشن انتخابات کے دوران ضابطہ اخلاق کے نام پر اس اسکیم پر پابندی عائد کرے گا۔ لہٰذا ہم نے پہلے ہی کابینہ میں ایک فیصلہ کیا، اور ایک ماہ کی پیشگی ادائیگی دی ہے۔ ایک بار الیکشن ختم ہونے کے بعد، آپ کو وہ پیسہ دوبارہ ملتا رہے گا۔ لہٰذا دھوکہ دہی کی کوشش کرنے والے کسی بھی شخص کو کامیاب نہ ہونے دیں.
وزیر چھگن بھجبل نے بھی اس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بہت کم لوگ ایسے ہیں جنہیں لاڈلی بہن یوجنا کے پیسے نہیں ملے ہیں۔ ہر ایک کا پیسہ ایک اکاؤنٹ میں چلا گیا ہے. ہماری 98 فیصد سے زیادہ خواتین بہنوں نے اسے حاصل کیا ہے۔ یہ ہمارا مستقل منصوبہ ہے۔ یہ انتخابات کا منصوبہ نہیں ہے۔ لہٰذا خواتین اس سے فائدہ اٹھاتی رہیں گی۔

ایم آئی ایم ریاستی صدر نے اگھاڑی ممبران کو خط لکھا، اویسی نے کہا ہم نہیں جانتے اگھاڑی ممبران کا فیصلہ کیا ہوگا

حیدرآباد: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسد الدین اویسی نے  آج سنیچر کے روز کہا کہ ان کی پارٹی کی مہاراشٹر شاخ نے مہا وکاس اگھاڑی کے ممبروں کو خط لکھ کر اشارہ دیا ہے کہ وہ ریاست میں آئندہ اسمبلی انتخابات میں اتحاد پر بات چیت کے لئے تیار ہے۔

یہ بھی پڑھیں:... مالیگاؤں اور دھولیہ میں سڑکوں کے گڑھوں سے تنگ آگیا: اکھلیش یادو

اسدالدین اویسی نے کہا کہ 'جیسا کہ میں نے آپ کو بتایا کہ مہاراشٹر میں ہمارے ریاستی صدر نے مہاوکاس اگھاڑی ممبران کو ایک خط لکھا ہے اور کہا ہے کہ وہ بات چیت کے لیے تیار ہیں، لیکن ہم نہیں جانتے کہ اس اتحاد میں شامل اتحادی جماعتیں اور ممبران کیا فیصلہ کریں گے۔ لیکن ایک سیاسی جماعت کے طور پر ہمیں الیکشن لڑنا ہوگا اور ہم دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے۔ ہریانہ اسمبلی انتخابات کے نتائج پر اویسی نے کہا کہ سبھی کو توقع تھی کہ کانگریس جیت جائے گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ سب سے پرانی پارٹی کو اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لئے کچھ غور و خوض کرنا چاہئے کہ وہ کیوں نہیں جیت سکے۔

مالیگاؤں کے بعد آج دھولیہ میں اکھلیش یادو کا دورہ، مہاوکاس اگھاڑی میں 12 نشستوں کا مطالبہ کیا تھا لیکن چند نشستوں پر مطمئن ہیں

دھولیہ: سماجوادی لیڈر اکھلیش یادو آئندہ ماہ ہونے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر مہاراشٹر کے دورے پر ہیں. کل مالیگاؤں میں موسلا دھار بارش کے درمیان عزیز کلو اسٹیڈیم میں ایک عوامی اجلاس سے انہوں نے خطاب کیا. آج دھولیہ میں انہوں نے کہا کہ آئندہ اسمبلی انتخابات نہ صرف مہاراشٹر بلکہ پورے ملک میں حالات کو بدل دیں گے. یہ تاریخی انتخابات ہوں گے.

क्या एकनाथ शिंदे दोबारा मुख्य मंत्री बनेंगे????

مہاراشٹر انتخابات کے لئے سیٹوں کی تقسیم پر بات کرتے ہوئے یادو نے کہا کہ سماج وادی پارٹی نے مہا وکاس اگھاڑی (ایم وی اے) میں 12 نشستوں کا مطالبہ کیا تھا لیکن یہ وہ پارٹی ہے جو کم نشستوں سے بھی مطمئن ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ مہاراشٹر میں ایس پی کے پہلے ہی دو ایم ایل اے ہیں۔ ممبئی سے ایس پی ایم ایل اے ابو اعظمی بھی اکھلیش یادو کے ساتھ موجود تھے۔ اس ہفتے کے اوائل میں ابو اعظمی نے ایکس پر پوسٹ کیا تھا کہ مہاراشٹر میں کسی بھی پارٹی کو سماج وادی پارٹی سے بات چیت کے بغیر اسمبلی انتخابات کے لئے امیدواروں کا اعلان نہیں کرنا چاہئے۔ تاہم بعد میں انہوں نے واضح کیا کہ ایم وی اے کے اندر تمام بات چیت کانگریس، این سی پی (ایس پی) اور شیوسینا (یو بی ٹی) کے درمیان ہوئی تھی اور وہ انہیں اتحاد کے دیگر شراکت داروں کی یاد دلانا چاہتے تھے۔ کانگریس لیڈر وجے وڈیٹیوار نے حال ہی میں سماج وادی پارٹی کے ساتھ سیٹوں کی تقسیم پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایس پی کے لئے کانگریس کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں۔ وڈیٹیوار نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ کانگریس اور سماج وادی پارٹی کے لئے مہاراشٹر کے لئے سیٹوں کی تقسیم کا فارمولہ اتر پردیش جیسا ہی ہوگا۔سنیچر کے روز اکھلیش یادو نے بھی مہایوتی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اتر پردیش کی سڑکیں مہاراشٹر سے بہتر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ایسی سڑکیں ہے جہاں طیارے اتارے جاسکتے ہیں۔ کیا وزیر ٹرانسپورٹ نے مہاراشٹر میں ایسی سڑکیں بنائی ہیں؟'' انہوں نے مزید کہا کہ وہ مالیگاؤں اور دھولیہ کے دورے کے دوران دیکھے گئے گڑھوں سے تنگ آ چکے ہیں۔

शिवाजी मंदिर, दादर में पार्टी पदाधिकारियों की बैठक, शिंदे को दोबारा सीएम चेहरे के रूप में पेश किया जाए:शिंदे के बेटे श्रीकांत का मुतालबा

मुंबई: शिवसेना द्वारा आगामी राज्य विधानसभा चुनाव में मुख्य मंत्री एकनाथ शिंदे को सीएम के रूप में पेश करने की मांग उठने लगी है.

बुधवार को जब सीएम शिंदे, डिप्टी सीएम देवेंद्र फडणवीस और अजित पवार समेत महायुत के नेता मीडिया को संबोधित कर रहे थे, तब उसके सीएम चेहरे के बारे में सवाल पूछा गया। उस समय फडणवीस ने शिंदे की ओर इशारा करते हुए कहा था, 'हमारे मुख्यमंत्री यहां हैं। इसे राज्य भाजपा द्वारा शिंदे के एक बार फिर से मुख्यमंत्री बनने के समर्थन के रूप में देखा गया था। कल्याण से लोकसभा सदस्य और सीएम शिंदे के बेटे श्रीकांत शिंदे ने शुक्रवार को शिवाजी मंदिर, दादर में पार्टी पदाधिकारियों की बैठक बुलाई। यहां यह स्पष्ट कर दिया गया था कि पार्टी चाहती है कि सीएम शिंदे को दोबारा सीएम चेहरे के रूप में पेश किया जाए। बैठक से पहले 'पुन्हा एकनाथ शिंदे च मुख्यमंत्री मंत्री' नामक एक लघु फिल्म भी रिलीज की गई थी।

राजनीतिक सूत्रों का कहना है कि इससे संकेत मिलता है कि सब कुछ ठीक नहीं है और सांसद पुत्र द्वारा बुलाई गई बैठक इस बात का स्पष्ट संकेत है कि शिवसेना ने विधानसभा चुनाव के लिए अपनी रणनीति तैयार कर ली है। उनके अनुसार भाजपा के वरिष्ठ नेताओं के साथ अपनी हालिया एक मुलाकात के दौरान शिंदे ने मांग की थी कि उन्हें मुख्यमंत्री पद के चेहरे के रूप में पेश किया जाना चाहिए लेकिन कोई ठोस आश्वासन नहीं दिया गया।

इस बीच, दादर में बैठक के दौरान शिवसेना नेताओं ने मुख्यमंत्री के रूप में एकनाथ शिंदे के समर्थन में नारे लगाए। बैठक में राज्यसभा सदस्य मिलिंद देवड़ा, सांसद रवींद्र वायकर, एमएलसी मनीषा कायंदे, पूर्व सांसद राहुल शेवाले और अन्य उपस्थित थे।

एजेंसी की रिपोर्ट के मुताबिक, चांदीवली के विधायक दिलीप लांडे ने सीएम की तारीफ करते हुए कहा, 'नाथ के नाथ, एकनाथ शिंदे हैं। लांडे ने कहा, "एकनाथ शिंदे लोगों के व्यक्ति हैं, वह एक सर्वोच्च व्यक्ति हैं जो हमेशा हमारी और दूसरों की मदद के लिए आगे आते हैं।

मगठाणे के विधायक प्रकाश सुर्वे ने शिवसेना (यूबीटी) नेताओं पर कटाक्ष किया और कहा, "हर कोई जानता है कि असली गद्दार कौन है। मैंने पहले नेशनल पार्क में मैराथन का आयोजन किया था, हम इंतजार करते-करते थक गए थे लेकिन इन लोगों उद्धव ठाकरे और आदित्य ठाकरे ने कभी हमारा फोन नहीं उठाया। ये लोग मददगार नहीं हैं, वे सिर्फ दिखावा कर रहे हैं, उन्हें वास्तव में बाहर कर दिया जाना चाहिए। बैठक को संबोधित करते हुए शिरकांत शिंदे ने कहा कि एक महीने काम करने की बात थी, हम महाराष्ट्र में फिर से महायुति सरकार चाहते हैं। हमें बस लोगों के पास जाने और उन्हें सरकारी योजनाओं के बारे में जागरूक करने की जरूरत है। विपक्ष उन्हें कितना भी गाली दे, एकनाथ शिंदे के प्रति लोगों का बड़ा प्यार है।

विधान पार्षद मनीषा कायंदे ने कहा कि गठबंधन एकनाथ शिंदे के नेतृत्व में चुनाव लड़ रहा है।

महाराष्ट्र में अगले महीने होने वाले विधानसभा चुनाव के लिए सत्तारूढ़ महायुति गठबंधन की तैयारियों के बीच मुख्यमंत्री एकनाथ शिंदे एक प्रभावशाली राजनीतिक शख्सियत के रूप में उभरे हैं जो परंपरा और आधुनिकता के बीच संतुलन बिठाने की कोशिश करते हैं, संकट से प्रभावी तरीके से निपटते हैं और वादों को पूरा करते हैं।

مہاوکاس اگھاڑی اور برسراقتدار مہایوتی مقابلے کیلئے تیار، ونچت بہوجن اگھاڑی نے بھی مزید 30 امیدواروں کی فہرست جاری کی

نئی دہلی: مہاراشٹر اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کے لئے کانگریس 20 اکتوبر کو مرکزی الیکشن کمیٹی کا اجلاس منعقد کرے گی تاکہ ریاست کے لئے امیدواروں کی فہرست کو حتمی شکل دی جاسکے۔ پارٹی کی مہاراشٹر الیکشن اسکریننگ کمیٹی نے بدھ کے روز دہلی کے ہماچل بھون میں ایک میٹنگ کی۔ پارٹی کے ریاستی انچارج رمیش چنی تھلا، مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے، بالا صاحب تھورات، قائد حزب اختلاف وجے وڈیٹیوار اور ستیج پاٹل نے اجلاس میں شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں:.... مہاراشٹر اسمبلی الیکش کی تاریخ کا اعلان

کل اسکریننگ میٹنگ کے اختتام کے بعد اسمبلی انتخابات کے لئے پارٹی کے انچارج رمیش چنی تھلا نے کہا کہ 'ہم 20 اکتوبر کو ایک اور میٹنگ کریں گے اور ہر چیز کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔ سی ای سی کا اجلاس 20 اکتوبر کو ہے۔ پارٹی کی ممبئی صدر ورشا گائیکواڑ نے بھی کہا کہ 20 اکتوبر کو حتمی فیصلہ لیا جائے گا. اس سے قبل بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بھی قومی راجدھانی میں اپنی مرکزی کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا اور 100 سے زیادہ نشستوں پر تبادلہ خیال کیا۔ ذرائع نے بتایا کہ پارٹی اجیت پوار کی زیر قیادت نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) اور ایکناتھ شندے کی زیر قیادت شیوسینا سمیت مہایوتی اتحاد کے شراکت داروں کے ساتھ نشستوں کی تقسیم پر بات چیت کے بعد 288 رکنی مہاراشٹر اسمبلی انتخابات کے لئے اپنے بقیہ امیدواروں کے ناموں کا فیصلہ کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں:.... بابا صدیقی فائرنگ میں ہلاک

اس کے علاوہ ونچت بہوجن آگھاڑی نے ریاست کے اسمبلی انتخابات کے لئے اپنے امیدواروں کی تیسری فہرست کا بھی اعلان کیا۔ وی بی اے نے اپنی تیسری فہرست میں مزید 30 امیدواروں کا اعلان کیا۔

اس سے قبل الیکشن کمیشن آف انڈیا نے مہاراشٹر اور جھارکھنڈ اسمبلی انتخابات کے شیڈول کا اعلان کیا تھا۔ مہاراشٹر کی 288 رکنی قانون ساز اسمبلی کے لئے انتخابات 20 نومبر کو ایک ہی مرحلے میں ہوں گے اور ووٹوں کی گنتی 23 نومبر کو ہوگی۔

ایگزٹ پول کے مطابق کانگریس واضح اکثریت کے ساتھ حکومت تشکیل دے گی

چندی گڑھ: سنیچر کو ایک مرحلہ میں ہریانہ کی تمام 90نشستوں پر ووٹنگ کے بعد انتخابی نتائج کے متعلق ایگزٹ پول جاری کیا گیا. رائے دہندگان نے پیش گوئی کی ہے کہ کانگریس ریاست میں بھاری اکثریت کے ساتھ حکومت بنائے گی۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) ہریانہ اسمبلی انتخابات 2024 کے نتائج کا اعلان منگل (8 اکتوبر) کو جموں و کشمیر اسمبلی انتخابات 2024 کے نتائج کے ساتھ کرے گی۔

زیادہ تر ایگزٹ پولز میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ ہریانہ میں بی جے پی کے دس سالہ اقتدار کے بعد کانگریس حکومت بنائے گی۔ ریپبلک نے پیش گوئی کی ہے کہ کانگریس کو ریاست میں 55-62 نشستیں ملیں گی۔ اے اے پی ریاست میں اپنا کھاتہ نہیں کھول پائے گی۔ جبکہ بی جے پی کو تقریبا 21 نشستیں مل سکتی ہیں۔

ایکسس مائی انڈیا نے بھی پیش گوئی کی ہے کہ کانگریس آسانی سے 50-55 نشستوں کے ساتھ ریاست میں حکومت تشکیل دے گی۔ بی جے پی کو 20-25 نشستیں مل سکتی ہیں اور آئی این ایل ڈی کو 3-5 نشستیں مل سکتی ہیں اور دیگر کو 3-5 نشستیں مل سکتی ہیں۔

اے بی پی کے سروے کے مطابق ہریانہ کی 90 میں سے 57 نشستیں جیتنے کے بعد کانگریس حکومت بنائے گی۔ اس نے یہ بھی پیش گوئی کی ہے کہ بی جے پی تقریبا 27 نشستیں جیتے گی۔

دینک بھاسکر نے ایگزٹ پول میں دعویٰ کیا ہے کہ کانگریس کو 44-54 نشستیں ملیں گی جبکہ بی جے پی کو 15-29 نشستیں ملیں گی۔ عام آدمی پارٹی 0-1 نشستوں کے ساتھ اپنی مایوس کن کارکردگی جاری رکھے گی اور دیگر کو 4-9 نشستیں ملیں گی۔

ایسا لگتا ہے کہ کانگریس آسانی سے ریاست میں 46 نشستوں کے اکثریتی نشان کو عبور کر رہی ہے اور بھاری اکثریت کے ساتھ حکومت تشکیل دے رہی ہے۔ تاہم نتائج کا اعلان 8 اکتوبر کو کیا جائے گا اور تصویر واضح ہو جائے گی۔

ہفتہ کے روز تمام 90 اسمبلی سیٹوں پر ایک ہی مرحلے میں انتخابات ہوئے، جس کے لئے پولنگ صبح 7 بجے شروع ہوئی اور آج شام 6 بجے ووٹنگ ختم ہوئی۔ ریاست میں کل 2 کروڑ سے زیادہ لوگ تھے جو اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنے کے اہل تھے۔ اطلاعات کے مطابق شام پانچ بجے تک ریاست میں 90 اسمبلی سیٹوں پر تقریبا 61 فیصد رائے دہندگی ہوئی.

افسران کے تبادلے اور تقرری سے متعلق مرکزی آرڈیننس آئین کے خلاف: نتیش کمار

آرڈیننس کی مخالفت میں اروند کیجریوال کا اپوزیشن جماعتوں کے لیڈران سے ملاقات کا سلسلہ جاری 

بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار نے آج اتوار کے روز ایک بار پھر دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال سے ملاقات کی. ایک ماہ میں دونوں وزرائے اعلیٰ کی یہ دوسری ملاقات ہے. نتیش کے ساتھ بہار کے نائب وزیر اعلیٰ آر جے ڈی سپریمو لالو پرساد یادو کے بیٹے تیجسوی یادو بھی تھے. نتیش کمار نے افسران کے تبادلے اور تقرری سے متعلق مرکزی آرڈیننس کو آئین کے خلاف بتایا. انہوں نے کہا کہ منتخب حکومت کو دیئے گئے اختیارات کیسے چھین سکتے ہیں؟ یہ آئین کے خلاف ہے. ہم اروند کیجریوال کے ساتھ کھڑے ہیں. ہم ملک کی تمام اپوزیشن جماعتوں کو متحد کرنے کی کوشش کررہے ہیں.

یہ بھی پڑھیں:.... دو ہزار کے نوٹ بند کرنے پر راج ٹھاکرے برہم

اروند کیجریوال نے کہا کہ اگر حکومت اس آرڈیننس کو قانون بنانے کیلئے راجیہ سبھا میں پیش کرتی ہے تو اپوزیشن کو ہمارا ساتھ دینا چاہیے. وہ اس آرڈیننس کی مخالفت میں ملک بھر کی اپوزیشن پارٹیوں سے تعاون حاصل کریں گے. انہوں نے مزید کہا کہ اگر اپوزیشن متحد ہے تو 2024 لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کا خاتمہ ہوجائے گا. واضح رہے کہ اروند کیجریوال 23 مئی کو کلکتہ میں ممتا بنرجی سے ملاقات کریں گے، 24 مئی کو ممبئی میں ادھو ٹھاکرے اور 25 مئی کو ممبئی میں شرد پوار سے ملاقات کریں گے. ذرائع کے مطابق اس کے بعد وہ دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے.

کرناٹک انتخابات کے نتائج نے یہ ثابت کردیا ہے کہ ہمدردی، نام اور اس طرح کے دیگر عوامل ہر وقت کارگر نہیں ہوتے: سندیپ دیشپانڈے

کرناٹک اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی کامیابی اور مہاراشٹر میں اراکین اسمبلی کو نااہل قرار دینے سے متعلق پٹیشن پر سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد شیوسینا یو بی ٹی لیڈران اور کارکنان آئندہ اسمبلی انتخابات کو لے کر کافی پر امید ضرور ہوں گے. لیکن شیوسینا کی کٹّر سیاسی حریف مہاراشٹر نونرمان سینا کا ماننا ہے کہ آئندہ مہاراشٹر اسمبلی انتخابات میں ادھو ٹھاکرے کو ہمدردی کے ووٹ حاصل نہیں ہوں گے.

یہ بھی پڑھیں:...آئیے تاریخی شہر طائف کی سیر کیجیے

ایم این ایس لیڈر سندیپ دیشپانڈے نے کہا کہ کرناٹک انتخابات کے نتائج نے یہ ثابت کردیا ہے کہ ہمدردی، نام اور اس طرح کے دیگر عوامل ہر وقت کارگر نہیں ہوتے. انہوں نے کہا کہ شاید ادھو ٹھاکرے کو لوگوں کی ہمدردی حاصل ہوجائے، لیکن انہیں ووٹ نہیں ملیں گے اور اس کا  ایک واضح سبب یہ ہے کہ ادھو ٹھاکرے کے دور اقتدار میں ترقیاتی کام نہیں ہوئے. ان کے دور اقتدار میں عوام نے بدعنوانی اور رشوت خوری دیکھی ہے.

انڈیا ٹوڈے سے بات کرتے ہوئے ایم این ایس لیڈر سندیپ دیشپانڈے نے کرناٹک میں بی جے پی کی شکست سے متعلق راج ٹھاکرے کے حالیہ بیان کی وضاحت پیش کی جس میں ٹھاکرے نے بی جے پی کی شکست کو تکبر کی شکست کہا تھا. دیشپانڈے نے کہا کہ اب یہ بھگوا پارٹی پر منحصر کرتا ہے کہ وہ دیکھیں کہ انہیں کیا کرنا ہے کیونکہ تکبّر کے راستے پر کامیابی نہیں ملتی.

دیشپانڈے نے مزید کہا کہ ایم این ایس کسی بھی طریقے سے بی جے پی کو نشانہ نہیں بنارہی ہے اور نا ہی بی جے پی اور ایم این ایس کے درمیان کوئی رنجش ہے. راج ٹھاکرے ہمیشہ حق بات کہتے ہیں اور اکثر ان کے بیان سے انہیں غلط سمجھا جاتا ہے. لیکن حقیقت بیان کرنے میں برائی کیا ہے.

جو خود کو ناقابل تسخیر سمجھنے لگتے ہیں انہیں نقصان اٹھانا پڑتا ہے، لوگوں کو اس ہار سے سبق لینا چاہیے

مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) سربراہ راج ٹھاکرے نے کرناٹک اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی شکست پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی کی شکست کو "تکبر" کی شکست قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں:..مہاراشٹر بورڈ دسویں اور بارہویں کے نتائج کب؟n_0517836316.html

میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام کو کبھی معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔ انہوں نے اپنی سابقہ ​​تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن پارٹی کبھی نہیں جیتتی بلکہ حکمران پارٹی ہارتی ہے۔ راج ٹھاکرے نے مزید کہا کہ بی جے پی کواپنے تکبر کی وجہ سے کرناٹک میں نقصان اٹھانا پڑا. یہ ان لوگوں کی شکست ہے جو یہ سمجھتے تھے کہ وہ ناقابل تسخیر ہیں۔ اس شکست سے سب کو سبق لینا چاہیے۔ مہاراشٹر میں بھی کرناٹک کی طرح سیاسی تبدیلی سے متعلق سوال پر راج ٹھاکرے نے کہا کہ میں کوئی پیشن گو نہیں ہوں جو مستقبل کے بارے میں پیشن گوئی کرسکے.

کارکنان نے آتش بازی کی اور جشن منایا، پوار نے اپنے فیصلے پر نظرثانی کیلئے وقت مانگا

ممبئی: نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے سربراہ کے طور پر شرد پوار کا استعفیٰ متفقہ طور پر مسترد کر دیا گیا. پارٹی کے سرکردہ رہنماؤں نے آج ممبئی میں پارٹی کارکنان کے جذباتی احتجاج کے پس منظر میں میٹنگ کی۔

 ایک بار پھر، 82 سالہ این سی پی لیڈر شرد پوار نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ انہیں پارٹی کے سربراہ کے طور پر اپنی خدمات جاری رکھنے سے متعلق سوچنے کے لیے وقت درکار ہے. واضح رہے کہ 1999 میں شرد پوار نے راشٹروادی کانگریس پارٹی کی بنیاد رکھی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:... این سی پی کا اگلا صدر کون؟؟؟ اجیت پوار،سپریا سولے یا پرفل پٹیل؟؟؟؟

 شرد پوار کی بیٹی سپریا سولے اور بھتیجے اجیت پوار اس میٹنگ میں موجود تھے جس میں سینئر این سی پی لیڈر پرفل پٹیل کی قیادت میں پینل نے جانشینی کے کسی بھی منصوبے کو ابھی کے لیے روک دیا۔

کمیٹی نے آج کے اجلاس میں متفقہ طور پر قرارداد منظور کی ہے۔  قرارداد میں کہا گیا ہے کہ شرد پوار کی صدارت برقرار رہنا چاہیے۔ پرفل پٹیل نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ صدر کے عہدے سے دستبردار ہونے کے شرد پوار کے فیصلے کی سبھی نے متفقہ طور پر مخالفت کی ہے۔ہم سب چاہتے ہیں کہ شرد پوار پارٹی صدر کے طور پر برقرار رہیں۔ انہیں ہم جیسے لاکھوں لوگوں کے جذبات کا احترام کرنا چاہئے اور انہیں بحیثیت صدر اپنی خدمات جاری رکھنا چاہئے۔

 انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے شرد پوار کو کمیٹی کے فیصلے سے آگاہ کیا، انہوں نے کہا کہ انہیں اس فیصلے پر غور کرنے کیلئے کچھ وقت درکار ہے۔

تین دنوں میں جب سے شرد پوار نے اپنے استعفیٰ کا اعلان کیا ہے تب سے قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ سپریا سولے صدر کا عہدہ سنبھالیں گی اور اجیت پوار مہاراشٹر میں پارٹی کا چہرہ ہوں گے۔  تاہم، اجیت پوار کے لیے واضح کردار کے بارے میں کوئی بات نہیں کی گئی، جن کی بی جے پی کے ساتھ گٹھ جوڑ کو شرد پوار کے حیران کن اقدام کے پیچھے ایک اہم عنصر سمجھا جاتا تھا۔  بہت سے لوگوں نے کہا کہ شرد پوار اجیت پوار اور پارٹی میں پھوٹ کو روکنا چاہتے ہیں جو اس کے بعد ہو سکتا ہے۔

آج کا فیصلہ مسٹر پوار کے اپنی پارٹی پر غلبہ کی تصدیق کرتا ہے اور اب گیند پوار کے پالے میں ہے۔

کمیٹی کے مذکورہ فیصلے کے بعد این سی پی کارکنوں کی طرف سے آتش بازی کی گئی اور جشن منایا گیا جنہوں نے اپنے شرد پوار سے استعفیٰ واپس لینے کی درخواست کی تھی۔

پرفل پٹیل نے کہا کہ اس دن شرد پوار نے جو کچھ بھی کہا وہ ہم سب کے لیے چونکا دینے والا تھا۔  ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ شرد پوار اس پروگرام میں ایسے کسی فیصلے کا اعلان کریں گے۔  آپ سب نے دیکھا کہ ان کے اعلان کے بعد کیا ہوا، لوگوں نے کس طرح اپنے جذبات کا اظہار کرنے کی کوشش کی۔  پروگرام کے بعد بھی، پارٹی کے کئی سینئر لیڈروں نے شرد پوار سے کئی بار ملاقات کی اور ہم ان سے مسلسل درخواست کرتے رہے ہیں کہ ملک، ریاست اور پارٹی سب یہ چاہتے ہیں کہ آپ صدارت پر برقرار رہیں اور آپ ہی ہماری رہنمائی کر سکتے ہیں.