Articles by "BJP"
Showing posts with label BJP. Show all posts

دھرمیندر پردھان کے استعفی کے بعد بی جے پی حکومت نے نئے ایجوکیشن منسٹر کے نام کا اعلان کیا

نئی دہلی: مرکزی وزیر پرلہاد جوشی کو وزارتِ تعلیم کا اضافی چارج سونپ دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ سابق مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمندر پردھان کے استعفے کے بعد کیا گیا، جنہوں نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر جاری احتجاج کے دوران اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

صدرِ جمہوریہ کے دفتر نے دھرمندر پردھان کا استعفیٰ منظور کرتے ہوئے جاری کردہ اعلامیے میں پرلہاد جوشی کی وزارتِ تعلیم کے اضافی چارج پر تقرری کی تصدیق کی۔ پرلہاد جوشی اس وقت مرکزی وزیر برائے خوراک و صارفین امور بھی ہیں۔

تقرری کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پرلہاد جوشی نے کہا کہ وہ اس ذمہ داری کو فرض شناسی اور عاجزی کے ساتھ قبول کرتے ہیں اور وزیر اعظم نریندر مودی کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ان پر اعتماد ظاہر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ بارہ برسوں میں مودی حکومت نے کئی تاریخی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ چار سے پانچ برسوں کے دوران دھرمندر پردھان نے قومی تعلیمی پالیسی (NEP) کے نفاذ سمیت کئی اہم اقدامات کیے، جس سے ملک کے تعلیمی نظام میں نمایاں پیش رفت ہوئی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وزیر اعظم کی رہنمائی میں وہ پوری لگن اور ذمہ داری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیں گے۔

57 سالہ دھرمندر پردھان نے دہلی کے جنتر منتر پر امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے خلاف جاری احتجاج کے 35ویں دن اپنا استعفیٰ پیش کیا۔ اپنے استعفیٰ میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے یہ فیصلہ اس لیے کیا تاکہ ملک دشمن عناصر اس معاملے کا ناجائز فائدہ نہ اٹھا سکیں۔

انہوں نے اپنے استعفیٰ میں لکھا کہ گزشتہ چار دہائیوں سے وہ طلبہ، اساتذہ اور تعلیمی اصلاحات کے لیے کام کرتے رہے ہیں اور ان کا ہمیشہ یہ یقین رہا ہے کہ مضبوط، جامع اور دور اندیش تعلیمی نظام ہی ایک مضبوط قوم کی بنیاد ہوتا ہے۔

دھرمندر پردھان کے استعفے کے چند گھنٹوں بعد سی جے پی (CJP) کے ترجمان سوربھ داس اور آشوتوش رنکا نے مرکزی وزراء جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ حکومت کی جانب سے مطالبات پر غور کی یقین دہانی کے بعد انہوں نے احتجاج ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ دھرمندر پردھان کا استعفیٰ بوسٹن یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ ابھیجیت دپکے کی قیادت میں قائم گروپ کا اہم مطالبہ تھا، جو حال ہی میں بھارت واپس آکر امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے خلاف احتجاج کی قیادت کر رہے تھے۔

اس سے ایک روز قبل پرلہاد جوشی نے کہا تھا کہ مرکزی حکومت طلبہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے پوری طرح سنجیدہ ہے اور امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف سخت کارروائی کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا تھا کہ بعض سماج دشمن عناصر احتجاج کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لہٰذا طلبہ کو ہوشیار رہنا چاہیے تاکہ ان کے جائز مطالبات کا غلط استعمال نہ ہو۔

گوری اسپرٹ سے تیسری شادی پر نتیش رانے نے اٹھایا سوال کیا اسے لو جہاد سمجھا جائے؟؟سوشل میڈیا پر چھڑی بحث

بالی ووڈ اداکار عامر خان کی غیر مسلم خواتین سے شادیوں، خصوصاً گوری اسپرٹ سے حالیہ شادی سے متعلق سوشل میڈیا پر دوبارہ بحث چھڑ گئی، جب بعض سیاست دانوں اور سوشل میڈیا صارفین نے اس معاملے پر سوالات اٹھائے۔

ریڈف (Rediff) سے گفتگو کرتے ہوئے عامر خان نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ "نہ گوری، نہ کرن اور نہ ہی رینا نے اپنا مذہب تبدیل کیا، کیونکہ ہماری شادیاں سول میرج تھیں۔ گوری ہندو بھی نہیں بلکہ عیسائی ہیں، اور وہ بھی باقاعدہ باعمل عیسائی نہیں ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ زندگی مزید مزاحیہ ہوتی جا رہی ہے۔"

عامر خان کے مطابق ان کے تمام رشتے مذہبی بنیادوں پر نہیں بلکہ باہمی احترام اور ذاتی پسند پر قائم رہے ہیں۔

انہوں نے اپنے خاندان کے بارے میں بھی کہا کہ بین المذاہب شادیاں ان کے خاندان میں ہمیشہ سے قبول کی جاتی رہی ہیں۔ ان کے مطابق، "ہمارا خاندان بہت وسیع النظر (Inclusive) ہے۔ میری دونوں بہنوں کی شادیاں ہندو افراد سے ہوئی ہیں، میری بیٹی بھی ایک ہندو سے شادی کر چکی ہے، جبکہ میرے کزن منصور کی شادی ایک عیسائی خاتون سے ہوئی ہے۔"

دوسری جانب، اطلاعات کے مطابق اتر پردیش کے مسلم پرسنل دارالافتاء کے شاہی چیف مفتی مولانا چودھری ابراہیم حسین نے عامر خان کے خلاف فتویٰ جاری کیا ہے۔ مفتی چودھری ابراہیم کے مطابق کوئی مسلمان مرد غیر مسلم خاتون سے اس وقت تک شادی نہیں کر سکتا جب تک وہ اسلام قبول نہ کر لے۔

دوسری طرف بی جے پی رہنما اور مہاراشٹر کے وزیر نتیش رانے نے بھی عامر خان کی شادی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب مشہور شخصیات ایسے ذاتی فیصلے کرتی ہیں تو ہندو سماج کو اس پر غور کرنا چاہیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا عامر خان کی تازہ شادی کو "لو جہاد" کی مثال سمجھا جانا چاہیے؟

واضح رہے کہ عامر خان نے 5 جولائی کو ممبئی کے باندرہ علاقے میں واقع اپنی پالی ہِل رہائش گاہ پر ایک سادہ تقریب میں ویلنیس اور بیوٹی انڈسٹری سے وابستہ گوری اسپرٹ سے شادی کی۔

اس سے قبل عامر خان کی پہلی شادی رینا دتہ سے 1986 میں ہوئی تھی، جو 2002 میں ختم ہوگئی۔ بعد ازاں انہوں نے 2005 میں فلم ساز کرن راؤ سے شادی کی، تاہم 2021 میں دونوں نے علیحدگی کا اعلان کیا۔ اس کے باوجود وہ اپنے بیٹے کی مشترکہ پرورش کرتے ہوئے خوشگوار تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

سماجوادی پارٹی کے وفد کی شہر اے ایس پی سورج گنجال سے ملاقات، متنازع زمین کے معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی سخت مذمت

مالیگاؤں : سماجوادی پارٹی کے گٹ نیتا مستقیم ڈگنیٹی کی قیادت میں ایک وفد نے شہر کے اے ایس پی سے ملاقات کرکے حالیہ احتجاج کے دوران لگائے گئے اشتعال انگیز نعروں، نفرت انگیز بیانات اور عوامی جذبات کو مجروح کرنے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ وفد میں حاجی اطہر حسین اشرفی یوتھ ونگ کے صدر راحیل حنیف، نائب صدر فیضان رجو، وسیم شیخ، طارق مچھلی والے، ابواللیث انصاری، عارف عطار، اعجاز پاپے، حسین خان، معین اشرف، سمیت دیگر ذمہ داران بھی موجود تھے۔

ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مستقیم ڈگنیٹی نے کہا کہ متنازع زمین کے معاملے کو دانستہ طور پر فرقہ وارانہ رنگ دیا جا رہا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ زمین کے ریزرویشن سے متعلق تمام کارروائیاں سرکاری سطح پر قانونی طریقۂ کار کے مطابق انجام دی گئی ہیں۔ اس پورے معاملے میں مسلمانوں کو نشانہ بنانا ناانصافی ہے۔ اگر کسی مرحلے پر بے ضابطگی ہوئی ہے تو حکومت غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائے اور ذمہ داروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرے۔

انہوں نے مالیگاؤں کے عوام، خصوصاً مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ جب تک معاملہ مکمل طور پر واضح نہ ہو، متنازع زمینوں میں سرمایہ کاری سے گریز کریں، کیونکہ کسی بھی آئندہ قانونی تبدیلی کی صورت میں سب سے زیادہ نقصان عام اور غریب لوگوں کو اٹھانا پڑے گا۔

مستقیم ڈگنیٹی نے کہا کہ گزشتہ روز کے احتجاج میں بعض افراد نے قانون اور آئین کی حدود کو پامال کرتے ہوئے اشتعال انگیز نعرے لگائے، گالم گلوچ کی اور ایسی زبان استعمال کی جس سے شہریوں کے جذبات مجروح ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی ضروری ہے تاکہ مستقبل میں کوئی بھی شخص امن و امان خراب کرنے کی جرأت نہ کرے۔

انہوں نے بتایا کہ شہر اےایس پی کو پیش کیے گئے مکتوب میں انہی نکات کی جانب توجہ دلائی گئی ہے۔ پولیس حکام نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ اس معاملے میں مقدمہ درج کیا جا چکا ہے اور قانون کے مطابق کارروائی جاری ہے، جس پر وفد نے اطمینان کا اظہار کیا۔

مستقیم ڈگنیٹی نے اردو زبان کے حوالے سے کیے گئے اعتراضات پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اردو ہندوستان کی مشترکہ تہذیب، ثقافت اور تحریکِ آزادی کی اہم زبان ہے۔ اسے کسی ایک مذہب یا ملک سے جوڑنا نہ صرف تاریخی حقائق سے انکار ہے بلکہ ملک کی گنگا جمنی تہذیب کی بھی توہین ہے۔

انہوں نے کہا کہ سماجوادی پارٹی ہر اس کوشش کی مخالفت کرتی رہے گی جو شہر کے امن، بھائی چارے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کی غرض سے کی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا اعتراض کسی قانونی یا انتظامی عمل پر نہیں بلکہ احتجاج کے دوران اختیار کیے گئے اشتعال انگیز طرزِ عمل، نفرت انگیز نعروں اور عوامی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والی زبان پر ہے، جس کے خلاف سخت قانونی کارروائی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

آدتیہ ٹھاکرے نے باغیوں کو غدار اور بکاؤ قرار دیا، آئین میں تبدیلی کی منشا سے دیگر پارٹیوں کو توڑنے کا الزام

ممبئی: شیو سینا (یو بی ٹی) کے باغی ارکانِ پارلیمنٹ نے پیر کے روز مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی زیر قیادت  شیوسینا میں شمولیت اختیار کر لی۔ شامل ہونے والے ارکان میں اومراجے نمبالکر، ناگیش پاٹل اشٹیکار، سنجے دیشمکھ، سنجے جادھو، سنجے دینا پاٹل اور بھاؤ صاحب واکچورے شامل ہیں۔ یہ شمولیت ایکناتھ شندے، رکن پارلیمنٹ شری کانت شندے، وزیر پرتاپ سرنائک اور دیگر سینئر رہنماؤں کی موجودگی میں عمل میں آئی۔

مہاراشٹر کے وزیر اور شیوسینا کے رکن اسمبلی پرتاپ سرنائک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان چھ ارکانِ پارلیمنٹ کی شمولیت سے پارٹی کے ایم پیز کی تعداد 7 سے بڑھ کر 13 ہو جائے گی، جس سے شیوسینا کی طاقت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

خبروں کے مطابق ان ارکان نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو شندے گروہ میں اپنی شمولیت کا خط بھی سونپ دیا ہے۔ پرتاپ سرنائک نے ’آپریشن ٹائیگر‘ کی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ آپریشن سال کے 365 دن جاری رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بالاصاحب ٹھاکرے کے نظریے پر عمل کرنے والے یہ ارکان آج سہ پہر 3 بجے باضابطہ طور پر پارٹی میں شامل ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر سنجے راؤت کا شکریہ بھی ادا کیا اور کہا کہ ان کی وجہ سے پہلے اراکین اسمبلی اور اب ارکان پارلیمنٹ پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں۔

سینا (یو بی ٹی) کا بغاوت کا الزام

دوسری جانب، باغی ارکان کی شمولیت پر شیوسینا (یو بی ٹی) نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہیں پارٹی کے اعتماد سے غداری قرار دیا ہے۔

شیوسینا (یو بی ٹی) کے رہنما آدتیہ ٹھاکرے نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا، "آج ہمارے ارکان پارلیمنٹ اور اراکین اسمبلی کو توڑا جا رہا ہے کیونکہ یہ لوگ باباصاحب امبیڈکر کے آئین کو بدلنا چاہتے ہیں۔ عوام نے 2024 میں انہیں روک دیا تھا اور انہیں صرف 240 سیٹیں ملی تھیں، اب وہ سیاسی جماعتوں کو توڑ کر اپنے مقصد کو حاصل کرنا چاہتے ہیں۔"

آدتیہ ٹھاکرے نے ان ارکان کو ’ڈرپوک اور بکاؤ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ ادھو بالا صاحب ٹھاکرے اور مہاوکاس اگھاڑی کے نام پر منتخب ہوئے تھے، لیکن اب بی جے پی انہیں اپنے مفاد کے لیے شامل کر رہی ہے تاکہ لوک سبھا میں دو تہائی اکثریت حاصل کر کے آئین میں تبدیلی کی جا سکے۔

بی جے پی پر تنقید

پارٹی میں تقسیم کے حوالے سے بی جے پی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے آدتیہ ٹھاکرے نے کہا کہ جس طرح شیو سینا کو تقسیم کیا گیا، اسی طرح ٹی ایم سی اور عام آدمی پارٹی کو بھی توڑا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں قانون اور آئین کی بالادستی ہے تو انصاف کی امید کی جاسکتی ہے۔

जनआंदोलन तथा आमरण अनशन जैसे आंदोलनात्मक कदम उठाने की भी चेतावनी

मालेगांव, दि. 1 जून 2027 : दरेगांव स्थित गट क्रमांक 38/2, 83 व उपगटों में जमीन घोटाला, वन भूमि अतिक्रमण, राजस्व चोरी व अनधिकृत औद्योगिक निर्माण को लेकर भारतीय जनता पार्टी ने मा. अपर जिल्हाधिकारी, नाशिक के समक्ष एक बार फिर कड़ी कार्रवाई की मांग की है और इसे प्रशासन को दी गई “अंतिम चेतावनी” बताया है।

भाजपा पदाधिकारियों द्वारा दिए गए निवेदन में कहा गया है कि ‘फेयर एक्सपोर्ट्स’ कंपनी, स्थानीय भूमाफिया व कुछ भ्रष्ट राजस्व अधिकारियों की मिलीभगत से शासन के करोड़ों रुपये के राजस्व की हानि की गई है तथा आदिवासी व आरक्षित वन भूमि का अवैध हस्तांतरण किया गया है।

भाजपा ने प्रशासन के समक्ष निम्न प्रमुख मांगें रखी हैं :

• महाराष्ट्र जमीन राजस्व संहिता, 1966 की धारा 53 के अंतर्गत गट क्र. 83, 83/14, 83/15, 83/16 व 83/17 पर स्थित सभी अनधिकृत औद्योगिक निर्माणों पर तत्काल बुलडोजर कार्रवाई कर उन्हें ध्वस्त किया जाए।

• शासन का बकाया 83,04,000 रुपये नजराना तथा अनधिकृत उपयोग के लिए लगाए जाने वाले 40 गुना दंड संबंधितों की संपत्ति जब्त कर वसूला जाए।

• संबंधित जमीनों के 7/12 उतारे पर दर्ज निजी व कंपनी के नाम रद्द कर कब्जेदार के स्थान पर “महाराष्ट्र शासन (आरक्षित वन)” दर्ज किया जाए।

• आदिवासी वन भूमि के अवैध हस्तांतरण के मामले में संबंधित गैर-आवेदक तथा जिम्मेदार तलाठी व मंडल अधिकारियों पर मकोका (MCOCA) व अनुसूचित जाति-जनजाति अत्याचार निवारण अधिनियम के तहत मामले दर्ज किए जाएं।

भाजपा पदाधिकारियों ने यह भी कहा कि माननीय मुख्यमंत्री तथा राजस्व मंत्री के निर्देश पर जांच समिति गठित की गई है, लेकिन अब तक रिपोर्ट शासन को प्रस्तुत नहीं की गई है। इसलिए प्रशासन बिना किसी देरी के तत्काल सख्त कार्रवाई करे।

अन्यथा भारतीय जनता पार्टी लोकतांत्रिक तरीके से तीव्र जनआंदोलन शुरू करेगी तथा आमरण अनशन जैसे आंदोलनात्मक कदम उठाने की चेतावनी दी गई है।

इस अवसर पर भाजपा विधि प्रकोष्ठ शहर अध्यक्ष एड. योगेश निकम, इंजी. हर्षल पवार व प्रमोद गांगुर्डे उपस्थित थे।

عام آدمی پارٹی کو بڑا جھٹکا، پارٹی بنیادی اقدار سے ہٹ کر ذاتی مفادات کو ترجیح دے رہی ہے: راگھو چڈھا کا الزام

نئی دہلی: اروند کیجریوال کی قیادت والی عام آدمی پارٹی کو ایک بڑے سیاسی بحران کا سامنا ہے، جہاں پارٹی کے سینئر رہنما راگھو چڈھا نے چھ دیگر راجیہ سبھا اراکین کے ساتھ استعفیٰ دے کر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ اس پیش رفت کو پارٹی کی پارلیمانی طاقت کیلئے ایک تاریخی دھچکہ قرار دیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:... عام آدمی پارٹی میں اندرونی خلفشار میں شدت، راگھو چڈھا پر مودی اور بی جے پی مخالف پوسٹس ڈیلیٹ کرنے کا الزام-Aadmi-Party-thereportersview.com-Political-News-National-India.html

اطلاعات کے مطابق راگھو چڈھا کے ساتھ مستعفی ہونے والے اراکین میں سندیپ پاٹھک، سواتی مالیوال، ہربھجن سنگھ، وکرم ساہنی، اشوک مِتّل اور راجندر گپتا شامل ہیں۔ ان تمام رہنماؤں کی اجتماعی علیحدگی نے راجیہ سبھا میں عام آدمی پارٹی کی پوزیشن کو شدید کمزور کر دیا ہے۔

راگھو چڈھا نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ محسوس کررہے تھے کہ "صحیح آدمی، غلط پارٹی میں" ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پارٹی اپنی بنیادی اقدار سے ہٹ کر ذاتی مفادات کو ترجیح دے رہی ہے، جو ان کے اصولوں کے خلاف ہے۔

گزشتہ برسوں میں مسلسل انحرافات

عام آدمی پارٹی کی تشکیل کے بعد سے ہی اسے وقتاً فوقتاً اہم رہنماؤں کی علیحدگی کا سامنا رہا ہے، جس نے پارٹی کی داخلی ساخت اور نظریاتی شناخت پر اثر ڈالا ہے۔

دہلی اسمبلی انتخابات سے قبل پارٹی میں اختلافات اس وقت کھل کر سامنے آئے جب کئی اراکین اسمبلی جیسے نریش یادو، بھاونا گور اور راجیش رشی نے ٹکٹ نہ ملنے پر استعفیٰ دے دیا۔

اسی دوران نومبر 2024 میں وزیر ٹرانسپورٹ و داخلہ کیلاش گہلوت نے بھی پارٹی چھوڑ دی، جبکہ سماجی بہبود کے وزیر راج کمار آنند نے بدعنوانی اور نمائندگی کے مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے استعفیٰ دیا۔

کمار وشواس، الکا لامبا، ایچ ایس پھولکا، آشوتوش اور آشیش کھیتان جیسے سرکردہ رہنما پارٹی سے الگ ہوگئے، جس سے پارٹی کی عوامی شبیہ متاثر ہوئی۔

پارٹی کی ابتدائی کامیابی کے بعد یوگیندر یادو اور پرشانت بھوشن کو نکال دیا گیا، جس کے بعد انہوں نے "سوراج انڈیا" کے نام سے نئی سیاسی جماعت قائم کی۔ اسی عرصے میں شازیہ علمی نے بھی پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق راگھو چڈھا اور دیگر اراکین کی حالیہ علیحدگی نہ صرف عام آدمی پارٹی کیلئے ایک بڑا تنظیمی نقصان ہے بلکہ یہ پارٹی کے اندرونی اختلافات اور نظریاتی بحران کی بھی عکاسی کرتی ہے۔

سوربھ بھاردواج اور بھگونت مان کی کھلی تنقید، چڈھا کی تردید، پارٹی میں بڑھتی خلیج پر سوالات اٹھنے لگے

ممبئی: عام آدمی پارٹی (عآپ) کے اندرونی حلقوں میں ایک نیا سیاسی طوفان کھڑا ہو گیا ہے، جہاں سینئر قائدین نے راگھو چڈھا کی حالیہ سوشل میڈیا سرگرمیوں اور پارٹی موقف سے ان کی ہم آہنگی پر کھل کر سوالات اٹھانا شروع کر دیے ہیں۔

मुंबई में बीएमसी का बड़ा अतिक्रमण हटाओ अभियान, फुटपाथ खाली कराने के लिए अवैध निर्माण और फेरीवालों पर सख्त कार्रवाई

یہ تنازعہ اس وقت سامنے آیا جب آپ کے سینئر لیڈر سوربھ بھاردواج نے الزام عائد کیا کہ راگھو چڈھا نے خاموشی کے ساتھ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے وزیر اعظم نریندر مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر تنقید کرنے والی پرانی پوسٹس حذف کر دی ہیں۔ بھاردواج نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اسکرین شاٹس شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ چڈھا کی ٹائم لائن پر اب ایسی کوئی تنقیدی پوسٹس نظر نہیں آتیں۔

بھاردواج کے مطابق یہ تبدیلی محض اتفاقیہ نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا اقدام معلوم ہوتی ہے، جس کا مقصد چڈھا کی عوامی شبیہ کو ازسرِ نو تشکیل دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں ماضی کی بی جے پی مخالف پوسٹس غائب ہو چکی ہیں، وہیں مودی سے متعلق صرف چند مثبت حوالہ جات باقی رہ گئے ہیں، جو اس تبدیلی کو مزید مشکوک بناتے ہیں۔

یہ الزامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حال ہی میں عام آدھی پارٹی نے راگھو چڈھا کو راجیہ سبھا میں اپنے نائب لیڈر کے عہدے سے ہٹا کر اشوک متل کو نائب لیڈر مقرر کیا ہے۔ اس فیصلے نے سیاسی حلقوں میں پہلے ہی چہ مگوئیاں پیدا کر دی تھیں، اور اب یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔

پارٹی کے اندر اختلافات بھی کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے اشارہ دیا کہ چڈھا ممکنہ طور پر پارٹی کے اجتماعی فیصلوں پر پوری طرح عمل نہیں کر رہے تھے۔ انہوں نے اپوزیشن کی مشترکہ حکمت عملی، بشمول پارلیمنٹ میں واک آؤٹ جیسے اقدامات، میں اتحاد کی اہمیت پر زور دیا۔

اسی طرح سوربھ بھاردواج نے بھی چڈھا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ مرکزی حکومت کے خلاف سخت موقف اختیار کرنے سے گریز کر رہے ہیں، جس سے پارٹی کے اندر تقسیم کا تاثر مضبوط ہو رہا ہے۔

دوسری جانب سینئر لیڈر آتشی نے بیرونی سیاسی دباؤ کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی اکثر اپوزیشن لیڈروں کو مختلف طریقوں سے اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کرتی ہے، تاہم انہوں نے اس حوالے سے کوئی براہ راست الزام عائد نہیں کیا۔

ان الزامات کے جواب میں راگھو چڈھا نے سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ اپوزیشن کے ساتھ کھڑے ہو کر عوامی مسائل اٹھائے ہیں۔ انہوں نے اپنے ناقدین کو چیلنج دیا کہ اگر ان کے خلاف کوئی ثبوت ہے تو پیش کیا جائے۔

چیف الیکشن کمشنر کے مواخذے کی تحریک پر دستخط نہ کرنے کے معاملے پر وضاحت دیتے ہوئے چڈھا نے کہا کہ اس کے لیے محدود دستخط درکار تھے اور پارٹی کے کئی دیگر اراکین نے بھی اس پر دستخط نہیں کیے تھے۔

اپنے جارحانہ لہجے میں چڈھا نے خود کو "زخمی شیر" قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ناقدین کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

ادھر پارٹی سربراہ اروند کجریوال کی جانب سے اب تک کوئی عوامی بیان سامنے نہیں آیا، جس کے باعث پارٹی کے اندر بڑھتی ہوئی خلیج اور اس تنازعے کے مستقبل کے حوالے سے سوالات برقرار ہیں۔

بی جے پی کونسلر رینو چودھری کی غیر ملکی شہری کو دھمکی، ویڈیو وائرل، سوشل میڈیا پر شدید برہمی

پٹپڑ گنج (دہلی): دہلی کے پٹپڑ گنج علاقے سے بی جے پی کی کونسلر رینو چودھری کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس میں وہ ایک جنوبی افریقی شہری کو ہندی نہ بولنے پر دھمکاتے ہوئے نظر آ رہی ہیں۔ ویڈیو کے منظرِ عام پر آنے کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں میں سخت ردِعمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:..سدھی وسترے نے ریاست کی سب سے کم عمر صدر بلدیہ بن کر تاریخ رقم کردی

وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ رینو چودھری ایک عوامی پارک میں موجود لوگوں سے تلخ لہجے میں بات کر رہی ہیں، جہاں جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والا ایک فٹبال کوچ بھی موجود ہے، جو کئی برسوں سے مقامی بچوں کو تربیت دے رہا ہے۔ کونسلر بلند آواز میں سوال کرتی ہیں کہ غیر ملکی شہری نے اب تک ہندی کیوں نہیں سیکھی۔

ویڈیو میں رینو چودھری کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ اگر متعلقہ کوچ ایک ماہ کے اندر ہندی نہیں سیکھتا تو اس سے پارک چھین لیا جائے گا۔ اس دوران وہ موجود افراد کو یہ ہدایت بھی دیتی ہیں کہ اس شخص پر کڑی نظر رکھی جائے، اور یہ الزام بھی عائد کرتی ہیں کہ اگر اس کی جانب سے کوئی غلط حرکت ہوئی تو سب کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔

ویڈیو کے وائرل ہوتے ہی سوشل میڈیا صارفین نے رینو چودھری کے رویے کی سخت مذمت کی۔ کئی صارفین نے ان کے طرزِ عمل کو غنڈہ گردی، بدتمیزی اور اختیارات کے غلط استعمال سے تعبیر کیا۔ بعض صارفین نے الزام لگایا کہ کونسلر سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کرنے کے لیے اس طرح کا رویہ اختیار کر رہی ہیں۔

آن لائن صارفین نے رینو چودھری کو سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ’غنڈہ‘، ’جاہل‘ اور ’ذہنی طور پر غیر متوازن‘ تک قرار دیا۔

اس واقعے کے بعد زبان تھوپنے کے مسئلے پر بھی بحث چھڑ گئی ہے۔ کئی صارفین نے سوال اٹھایا کہ ایک غیر ملکی شہری، جو برسوں سے بچوں کی خدمت کر رہا ہے، اس پر ہندی سیکھنے کا دباؤ کیوں ڈالا جا رہا ہے، جبکہ بیرونِ ملک کام کرنے والے بھارتیوں پر عموماً مقامی زبان سیکھنے کی ایسی پابندی نہیں لگائی جاتی۔

کچھ صارفین نے اس معاملے کا موازنہ جنوبی ہند اور مہاراشٹر میں زبان کے حساس مسئلے سے بھی کیا، جہاں لسانی تنازعات پہلے ہی ایک نازک موضوع رہے ہیں۔

کون ہیں رینو چودھری؟

رینو چودھری بھارتیہ جنتا پارٹی کی سینئر رہنما ہیں اور مشرقی دہلی کے وارڈ نمبر 197 (پٹپڑ گنج) سے میونسپل کونسلر ہیں۔ انہوں نے 2022 کے ایم سی ڈی انتخابات میں عام آدمی پارٹی کی امیدوار کو تقریباً 403 ووٹوں کے فرق سے شکست دی تھی۔

فی الحال وہ بی جے پی دہلی مہیلا مورچہ میں صوبائی وزیر کے عہدے پر فائز ہیں اور اس سے قبل ضلع صدر کی ذمہ داری بھی نبھا چکی ہیں۔

یہ واقعہ ایک بار پھر عوامی نمائندوں کے رویے، زبان کے استعمال اور اختیارات کی حدود پر سنگین سوالات کھڑے کر رہا ہے۔

مہاراشٹر بلدیاتی انتخابات: 22 سالہ سدھی وسترے ریاست کی سب سے کم عمر صدر بلدیہ بن گئیں، شندے سینا نے بی جے پی کو چونکا دیا

سولاپور ضلع کی سیاست میں ایک بڑی اور غیر متوقع تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے۔ موہول میونسپل کونسل کے انتخابات میں شیوسینا (شندے گروپ) نے بی جے پی کو بڑا جھٹکا دیتے ہوئے اہم کامیابی حاصل کی ہے۔ اس انتخاب میں شیو سینا کی امیدوار سدھی وسترے نے بی جے پی کی امیدوار شیتل کھیرساگر کو شکست دے کر میونسپل صدر کا عہدہ اپنے نام کر لیا۔

یہ بھی پڑھیں:..مہاراشٹر سیاست میں طوفان! کانگریس ناراض، سنجے راوت نے کر دیا بڑا اشارہ

یہ کامیابی اس لیے بھی خاص مانی جا رہی ہے کیونکہ سدھی وسترے کی عمر صرف 22 سال ہے اور وہ مہاراشٹر کی تاریخ کی سب سے کم عمر میونسپل صدر بن گئی ہیں۔ موہول کو طویل عرصے سے بی جے پی کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا رہا ہے، جہاں سابق ایم ایل اے راجن پاٹل کا خاص اثر و رسوخ رہا ہے۔ ایسے میں شیو سینا کی یہ جیت بی جے پی کے لیے بڑا سیاسی دھچکا سمجھی جا رہی ہے۔

سرکاری نتائج کے مطابق سدھی وسترے نے یہ مقابلہ 170 ووٹوں کے فرق سے جیتا، جس کے بعد سولاپور ضلع میں بی جے پی حلقوں میں بے چینی دیکھی جا رہی ہے۔ دوسری جانب اس نتیجے سے شیو سینا کارکنوں اور قیادت کا حوصلہ کافی بلند ہوا ہے۔ 20 رکنی موہول میونسپل کونسل میں شیو سینا نے 9 نشستیں جیت کر سب سے بڑی پارٹی ہونے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔

سدھی وسترے کا تعلق موہول کے ایک متوسط طبقے کے سیاسی خاندان سے ہے۔ ان کے دادا، انجہانی وشوناتھ شِوراج وسترے، اپنے وقت کے معزز سماجی و سیاسی شخصیت تھے اور تقریباً 30 سال قبل موہول گرام پنچایت کے سرپنچ رہ چکے تھے۔ ان کا جھکاؤ کانگریس نظریے کی طرف تھا اور وہ کئی بار گرام پنچایت کے رکن منتخب ہوئے۔ سدھی کے والد راجو وسترے پہلے ایک نجی کوآپریٹو ادارے میں کام کر چکے ہیں اور اب کھیتی باڑی کرتے ہیں، جبکہ والدہ تیجشری گھریلو خاتون ہیں۔

تعلیم کے میدان میں بھی سدھی وسترے سرگرم رہی ہیں۔ انہوں نے بی کام کی تعلیم مکمل کی ہے اور اس وقت گراڈ کالج سے ایم کام کی پڑھائی کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ فرم میں بھی کام کر چکی ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سدھی کا شروع میں سیاست میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، لیکن میونسپل صدر کے عہدے پر ریزرویشن کے اعلان کے بعد خاندان اور مقامی شیوسینا لیڈروں کے مشورے سے ان کا نام سامنے آیا۔ سابق میونسپل صدر رمیش براسکر اور سینئر لیڈر پدم دیشمکھ کی رہنمائی میں ایک مضبوط انتخابی مہم چلائی گئی، جس کا عوام پر گہرا اثر پڑا۔

فتح کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے سدھی وسترے جذباتی ہو گئیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ جیت عوام کے اعتماد کی علامت ہے۔ انتخابی مہم کے دوران ان کی کم عمری پر سوال اٹھائے گئے، لیکن عوام نے ووٹ دے کر اس کا جواب دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی ترجیح موہول شہر کی بنیادی سہولتوں جیسے سڑکیں، پانی، بجلی، صحت اور مجموعی ترقی پر ہوگی اور وہ سب کو ساتھ لے کر کام کریں گی۔

مختلف مقامات پر ای وی ایم میں ایک جیسے نمبرات آنا محض اتفاق نہیں, الیکشن کمیشن سے غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ

ممبئی: شیو سینا (ادھو ٹھاکرے گروپ) کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا رکن سنجے راوت نے مہاراشٹر کے حالیہ بلدیاتی و نگر پریشد انتخابات کے نتائج پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مختلف مقامات پر ایک ہی مشین سے ایک جیسے نمبرز آنا شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے اور پورے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالیہ نشان لگا دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:.....مہاراشٹر نگر پریشد انتخابات: بی جے پی سب سے بڑی پارٹی بنیion-blames-EC.html

سنجے راوت نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایک ہی الیکٹرانک ووٹنگ مشین (EVM) سے مختلف علاقوں میں ایک جیسے نتائج سامنے آ رہے ہیں تو یہ محض اتفاق نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا، "نمبر ایک جیسے ہیں، مشین ایک جیسی ہے، مگر منطق الگ الگ بتائی جا رہی ہے، یہ کیسے ممکن ہے؟"

انہوں نے واضح طور پر الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ ان معاملات کی غیر جانبدارانہ اور شفاف جانچ کرے تاکہ عوام کا جمہوری نظام پر اعتماد برقرار رہے۔ راوت کے مطابق اگر وقت رہتے وضاحت نہیں کی گئی تو عوام کے ذہنوں میں شکوک مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔

شیو سینا (یو بی ٹی) لیڈر نے یہ بھی کہا کہ اپوزیشن کی آواز کو دبانے کے بجائے، انتخابی عمل پر اٹھنے والے سوالات کا منطقی اور ٹھوس جواب دیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق جمہوریت میں سوال اٹھانا جرم نہیں بلکہ عوام کا حق ہے۔

دوسری جانب حکمراں جماعتوں کی طرف سے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ انتخابی نتائج مکمل طور پر شفاف اور ضابطوں کے مطابق ہیں۔

واضح رہے کہ مہاراشٹر کے بلدیاتی انتخابات کے بعد سیاسی ماحول گرم ہے اور نتائج کو لے کر حکمراں اتحاد اور اپوزیشن کے درمیان لفظی جنگ تیز ہو گئی ہے۔ سنجے راوت کے اس بیان سے ریاستی سیاست میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے، جو آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔

مہایوتی کو برتری، ایم وی اے 45 سے بھی کم پر سمٹی

مہاراشٹر میں منعقدہ نگر پریشد (میونسپل کونسل) انتخابات کے نتائج سامنے آ گئے ہیں، جن میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے۔ نتائج کے مطابق حکمراں اتحاد مہایوتی نے مجموعی طور پر واضح برتری حاصل کی ہے، جبکہ اپوزیشن اتحاد مہا وکاس اگھاڑی (MVA) کی کارکردگی توقعات سے کم رہی اور اس کی نشستیں 45 کے ہندسے سے بھی نیچے رہیں۔

یہ بھی پڑھیں:..........مالیگاؤں کارپوریشن الیکشن: سماجوادی امیدواروں کی پہلی لسٹ جاریce.html

انتخابی نتائج بتاتے ہیں کہ شہری علاقوں میں ووٹروں نے ایک بار پھر بی جے پی اور اس کے اتحادیوں پر اعتماد ظاہر کیا ہے۔ کئی نگر پریشدوں میں بی جے پی نے نہ صرف سب سے زیادہ نشستیں حاصل کیں بلکہ بعض مقامات پر آزاد اور مقامی جماعتوں کی حمایت سے حکومت بنانے کی پوزیشن بھی مضبوط کر لی ہے۔

دوسری جانب ایم وی اے، جس میں کانگریس، شیو سینا (ادھو ٹھاکرے گروپ) اور این سی پی شامل ہیں، کو اس بار خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی۔ متعدد شہروں میں اتحاد کو نقصان اٹھانا پڑا، جس سے ریاستی سیاست میں اپوزیشن کی حکمتِ عملی پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ نتائج آنے والے بلدیاتی اور ریاستی انتخابات کے لیے اہم اشارہ ہیں۔ مہایوتی کی برتری سے واضح ہوتا ہے کہ عوامی سطح پر حکومتی اتحاد کی گرفت مضبوط ہے، جبکہ ایم وی اے کو اپنی تنظیم اور زمینی سطح کی تیاریوں پر دوبارہ غور کرنا ہوگا۔

انتخابی نتائج کے بعد بی جے پی اور مہایوتی کے قائدین نے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے ترقی اور استحکام کے حق میں ووٹ قرار دیا ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے نتائج کا تجزیہ کر کے آئندہ کے لیے بہتر حکمتِ عملی بنانے کی بات کہی ہے۔

 


پہلگام دہشت گردانہ حملوں کے بعد سنجے راؤت کا امیت شاہ سے استعفیٰ کا مطالبہ

شیوسینا یو بی ٹی لیڈر سنجے راؤت نے وزیر داخلہ امیت شاہ کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ملک پر احسان کرنا چاہئے اور استعفیٰ دے دینا چاہئے۔ راؤت کی جانب سے استعفیٰ کا مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جموں و کشمیر کے پہلگام میں سیاحوں پر ہوئے غیر انسانی دہشت گردانہ حملے پر قوم غم و غصے کا شکار ہے، جس میں 28 سیاحوں کی موت ہو گئی تھی۔

سنجے راؤت نے ایکس پر اپنی تازہ ترین پوسٹ میں وزیر داخلہ امیت شاہ کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کا بنیادی کام حکومتیں بنانا اور تحلیل کرنا ہے، انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ وزیر داخلہ امت شاہ سال کا ہر ایک دن سیاسی مخالفین کو ختم کرنے کی حکمت عملی بنانے میں گزارتے ہیں۔ انہوں نے پوسٹ میں یہ بھی کہا کہ امیت شاہ کو ملک پر احسان کرنا چاہئے اور استعفیٰ دے دینا چاہئے۔

راؤت نے اپنے ایکس ہینڈل پر. لکھا کہ

"पुरा समय सरकारे बनाना और गिराने मे जाता है! राजनैतिक विरोधीयोंको खतम करनेकी साजिश मे 365 दिन दिमाख व्यस्त रहता है, लोगोंकी सुरक्षा राम भरोसे! अब राम भी ऊब चुका है इन लोगोंसे! इस्तीफा दो.देश पर मेहरबानी करो!"

(استعفیٰ دو! پورا وقت سرکاریں بنانے اور تحلیل کرنے میں جاتا ہے. دماغ سال کے 365 دن سیاسی مخالفین کو ختم کرنے کی حکمت عملی بنانے میں مصروف ہوتا ہے. استعفیٰ دو! ملک پر مہربانی کرو.)

جموں و کشمیر کے پہلگام شہر کے قریب دہشت گردوں کی فائرنگ سے کم از کم 28 سیاح ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے، جو 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سے سب سے مہلک حملہ ہے۔ یہ واقعہ 1990 کی دہائی میں کشمیر میں عسکریت پسندی کے آغاز کے بعد سیاحوں پر سب سے مہلک حملہ ہے۔ اس حملے سے مارچ 2000 میں ضلع اننت ناگ کے چٹی سنگھ پورہ میں ہوئے قتل عام کی یادیں تازہ ہو گئیں، جہاں امریکی صدر بل کلنٹن کے دورہ بھارت سے چند دن پہلے سکھ برادری کے 36 افراد مارے گئے تھے۔

پارٹی انڈرورلڈ گینگسٹر داؤد ابراہیم سے جڑے کسی شخص کو ٹکٹ دینا قبول نہیں کرے گی

بی جے پی نے پیر کو کہا کہ وہ اسمبلی انتخابات کے لئے این سی پی (اجیت پوار) لیڈر نواب ملک کی امیدواری کی مخالفت کرے گی۔ نواب ملک ممبئی جنوبی وسطی پارلیمانی حلقہ کے انوشکتی نگر سے موجودہ ایم ایل اے ہیں۔ خبروں کے مطابق، اس بار وہ مانخورد شیواجی نگر سے الیکشن لڑنا چاہتے ہیں اور انوشکتی نگر حلقہ سے اپنی بیٹی ثناء کو امیدوار بنانا چاہتے ہیں، جو انتخابی سیاست میں قدم رکھنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

لارینس بشنوئی کا انکاؤنٹر کرنے والے افسر کو ایک کروڑ کا انعام، کرنی سینا صدر کا اعلان

ملک خاندان نے فری پریس جرنل کو بتایا کہ وہ انتخابات کے لیے تیار ہیں اور پارٹی کے باضابطہ اعلان کا انتظار کر رہے ہیں۔ بی جے پی ممبئی کے صدر اور باندرہ (ویسٹ) کے ایم ایل اے آشیش شیلار نے پیر کو فری پریس جرنل کو بتایا کہ ان کی پارٹی انڈرورلڈ گینگسٹر داؤد ابراہیم سے جڑے کسی شخص کو ٹکٹ دینا قبول نہیں کرے گی۔

ملک اس سے پہلے مہا وکاس اگھاڑی حکومت میں بحیثیت وزیر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہیں 2022 میں این آئی اے نے داؤد اور اس کے ساتھیوں بشمول چھوٹا شکیل اور ٹیگر میمن کے خلاف درج ایک معاملے میں گرفتار کیا تھا۔ ملک کو اس سال جولائی میں طبی بنیادوں پر ضمانت دی گئی تھی۔ این سی پی کی تقسیم کے بعد مہایوتی حلیف بی جے پی کے اعتراضات کے باوجود نائب وزیر اعلی اجیت پوار کی زیر قیادت گروہ نے نواب ملک کو اپنے ساتھ لیا تھا. 

ڈپٹی چیف منسٹر دیویندر فڈنویس نے پوار کو خط لکھ کر ملک کو اپنے گروہ میں شامل نہ کرنے کی اپیل کی تھی۔ تاہم پوار نے اس خط کو نظر انداز کرتے ہوئے ملک کو اپنے کیمپ میں خوش آمدید کہا۔

शिवाजी मंदिर, दादर में पार्टी पदाधिकारियों की बैठक, शिंदे को दोबारा सीएम चेहरे के रूप में पेश किया जाए:शिंदे के बेटे श्रीकांत का मुतालबा

मुंबई: शिवसेना द्वारा आगामी राज्य विधानसभा चुनाव में मुख्य मंत्री एकनाथ शिंदे को सीएम के रूप में पेश करने की मांग उठने लगी है.

बुधवार को जब सीएम शिंदे, डिप्टी सीएम देवेंद्र फडणवीस और अजित पवार समेत महायुत के नेता मीडिया को संबोधित कर रहे थे, तब उसके सीएम चेहरे के बारे में सवाल पूछा गया। उस समय फडणवीस ने शिंदे की ओर इशारा करते हुए कहा था, 'हमारे मुख्यमंत्री यहां हैं। इसे राज्य भाजपा द्वारा शिंदे के एक बार फिर से मुख्यमंत्री बनने के समर्थन के रूप में देखा गया था। कल्याण से लोकसभा सदस्य और सीएम शिंदे के बेटे श्रीकांत शिंदे ने शुक्रवार को शिवाजी मंदिर, दादर में पार्टी पदाधिकारियों की बैठक बुलाई। यहां यह स्पष्ट कर दिया गया था कि पार्टी चाहती है कि सीएम शिंदे को दोबारा सीएम चेहरे के रूप में पेश किया जाए। बैठक से पहले 'पुन्हा एकनाथ शिंदे च मुख्यमंत्री मंत्री' नामक एक लघु फिल्म भी रिलीज की गई थी।

राजनीतिक सूत्रों का कहना है कि इससे संकेत मिलता है कि सब कुछ ठीक नहीं है और सांसद पुत्र द्वारा बुलाई गई बैठक इस बात का स्पष्ट संकेत है कि शिवसेना ने विधानसभा चुनाव के लिए अपनी रणनीति तैयार कर ली है। उनके अनुसार भाजपा के वरिष्ठ नेताओं के साथ अपनी हालिया एक मुलाकात के दौरान शिंदे ने मांग की थी कि उन्हें मुख्यमंत्री पद के चेहरे के रूप में पेश किया जाना चाहिए लेकिन कोई ठोस आश्वासन नहीं दिया गया।

इस बीच, दादर में बैठक के दौरान शिवसेना नेताओं ने मुख्यमंत्री के रूप में एकनाथ शिंदे के समर्थन में नारे लगाए। बैठक में राज्यसभा सदस्य मिलिंद देवड़ा, सांसद रवींद्र वायकर, एमएलसी मनीषा कायंदे, पूर्व सांसद राहुल शेवाले और अन्य उपस्थित थे।

एजेंसी की रिपोर्ट के मुताबिक, चांदीवली के विधायक दिलीप लांडे ने सीएम की तारीफ करते हुए कहा, 'नाथ के नाथ, एकनाथ शिंदे हैं। लांडे ने कहा, "एकनाथ शिंदे लोगों के व्यक्ति हैं, वह एक सर्वोच्च व्यक्ति हैं जो हमेशा हमारी और दूसरों की मदद के लिए आगे आते हैं।

मगठाणे के विधायक प्रकाश सुर्वे ने शिवसेना (यूबीटी) नेताओं पर कटाक्ष किया और कहा, "हर कोई जानता है कि असली गद्दार कौन है। मैंने पहले नेशनल पार्क में मैराथन का आयोजन किया था, हम इंतजार करते-करते थक गए थे लेकिन इन लोगों उद्धव ठाकरे और आदित्य ठाकरे ने कभी हमारा फोन नहीं उठाया। ये लोग मददगार नहीं हैं, वे सिर्फ दिखावा कर रहे हैं, उन्हें वास्तव में बाहर कर दिया जाना चाहिए। बैठक को संबोधित करते हुए शिरकांत शिंदे ने कहा कि एक महीने काम करने की बात थी, हम महाराष्ट्र में फिर से महायुति सरकार चाहते हैं। हमें बस लोगों के पास जाने और उन्हें सरकारी योजनाओं के बारे में जागरूक करने की जरूरत है। विपक्ष उन्हें कितना भी गाली दे, एकनाथ शिंदे के प्रति लोगों का बड़ा प्यार है।

विधान पार्षद मनीषा कायंदे ने कहा कि गठबंधन एकनाथ शिंदे के नेतृत्व में चुनाव लड़ रहा है।

महाराष्ट्र में अगले महीने होने वाले विधानसभा चुनाव के लिए सत्तारूढ़ महायुति गठबंधन की तैयारियों के बीच मुख्यमंत्री एकनाथ शिंदे एक प्रभावशाली राजनीतिक शख्सियत के रूप में उभरे हैं जो परंपरा और आधुनिकता के बीच संतुलन बिठाने की कोशिश करते हैं, संकट से प्रभावी तरीके से निपटते हैं और वादों को पूरा करते हैं।

مہاوکاس اگھاڑی اور برسراقتدار مہایوتی مقابلے کیلئے تیار، ونچت بہوجن اگھاڑی نے بھی مزید 30 امیدواروں کی فہرست جاری کی

نئی دہلی: مہاراشٹر اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کے لئے کانگریس 20 اکتوبر کو مرکزی الیکشن کمیٹی کا اجلاس منعقد کرے گی تاکہ ریاست کے لئے امیدواروں کی فہرست کو حتمی شکل دی جاسکے۔ پارٹی کی مہاراشٹر الیکشن اسکریننگ کمیٹی نے بدھ کے روز دہلی کے ہماچل بھون میں ایک میٹنگ کی۔ پارٹی کے ریاستی انچارج رمیش چنی تھلا، مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے، بالا صاحب تھورات، قائد حزب اختلاف وجے وڈیٹیوار اور ستیج پاٹل نے اجلاس میں شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں:.... مہاراشٹر اسمبلی الیکش کی تاریخ کا اعلان

کل اسکریننگ میٹنگ کے اختتام کے بعد اسمبلی انتخابات کے لئے پارٹی کے انچارج رمیش چنی تھلا نے کہا کہ 'ہم 20 اکتوبر کو ایک اور میٹنگ کریں گے اور ہر چیز کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔ سی ای سی کا اجلاس 20 اکتوبر کو ہے۔ پارٹی کی ممبئی صدر ورشا گائیکواڑ نے بھی کہا کہ 20 اکتوبر کو حتمی فیصلہ لیا جائے گا. اس سے قبل بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بھی قومی راجدھانی میں اپنی مرکزی کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا اور 100 سے زیادہ نشستوں پر تبادلہ خیال کیا۔ ذرائع نے بتایا کہ پارٹی اجیت پوار کی زیر قیادت نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) اور ایکناتھ شندے کی زیر قیادت شیوسینا سمیت مہایوتی اتحاد کے شراکت داروں کے ساتھ نشستوں کی تقسیم پر بات چیت کے بعد 288 رکنی مہاراشٹر اسمبلی انتخابات کے لئے اپنے بقیہ امیدواروں کے ناموں کا فیصلہ کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں:.... بابا صدیقی فائرنگ میں ہلاک

اس کے علاوہ ونچت بہوجن آگھاڑی نے ریاست کے اسمبلی انتخابات کے لئے اپنے امیدواروں کی تیسری فہرست کا بھی اعلان کیا۔ وی بی اے نے اپنی تیسری فہرست میں مزید 30 امیدواروں کا اعلان کیا۔

اس سے قبل الیکشن کمیشن آف انڈیا نے مہاراشٹر اور جھارکھنڈ اسمبلی انتخابات کے شیڈول کا اعلان کیا تھا۔ مہاراشٹر کی 288 رکنی قانون ساز اسمبلی کے لئے انتخابات 20 نومبر کو ایک ہی مرحلے میں ہوں گے اور ووٹوں کی گنتی 23 نومبر کو ہوگی۔

الیکشن کمیشن آف انڈیا پریس کانفرنس کے ذریعے مہاراشٹر اور جھارکھنڈ انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کرے گی

الیکشن کمیشن آف انڈیا آج بروز منگل کو مہاراشٹر اور جھارکھنڈ کے اسمبلی انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرے گی.

یہ بھی پڑھیں:.... ممبئی ہوا ٹول فری، الیکشن سے قبل مہایوتی یحکومت کا بڑا فیصلہ

الیکشن کمیشن آج سہ پہر ساڑھے تین بجے ایک پریس کانفرنس میں مہاراشٹر اور جھارکھنڈ کے لئے تاریخوں کا اعلان کرے گی۔ مہاراشٹر اسمبلی کی میعاد 26 نومبر کو ختم ہو رہی ہے جبکہ جھارکھنڈ اسمبلی کی میعاد 5 جنوری 2025 کو ختم ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:........ بابا صدیقی فائرنگ میں ہلاک

این سی پی لیڈر پرفل پٹیل نے بتایا کہ مہاراشٹر میں برسراقتدار مہایوتی اتحاد ریاست کی کل 288 اسمبلی نشستوں میں سے 230 کے لئے اتفاق رائے پر پہنچ گیا ہے۔ ایک مرتبہ ریاست کی دیگر نشستوں پر بھی اتفاق رائے ہوجانے کے بعد آئندہ تین چار روز میں مہایوتی کے ذریعے مکمل تفصیلات ظاہر کردی جائیں گی.

چند روز قبل بی جے پی کے ریاستی صدر چندر شیکھر باونکلے نے کہا تھا کہ 90 فیصد نشستوں پر اتفاق رائے ہوچکی ہے آئندہ چند دنوں میں بقیہ نشستوں پر بھی حتمی فیصلہ لیا جائے گا. واضح رہے کہ مہایوتی اتحاد میں بی جے پی، شیوسینا اور این سی پی(اجیت پوار) شامل ہیں.

اطلاعات کے مطابق بی جے پی 140 سے 150 نشستوں پر، وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے کی زیر قیادت شیوسینا 80 نشستوں پر اور این سی پی 55 نشستوں پر الیکشن لڑ سکتی ہے۔ 

وہیں شیوسینا یو بی ٹی لیڈر سنجے راؤت کے مطابق اپوزیشن مہاوکاس اگھاڑی کی 288 نشستوں میں سے 210 نشستوں پر اتفاق رائے بن چکی ہے. راوت نے مزید کہا کہ ایم ویے اے جلد ہی اپنے امیدواروں کی فہرست کا اعلان بھی کرے گا۔ مہاراشٹر کانگریس کے سربراہ نانا پٹولے نے پیر کے روز کہا کہ ایم وی اے تمام 288 نشستوں پر الیکشن لڑے گی اور مہاراشٹر میں حکومت بنائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہم بی جے پی کے ان تمام خوفناک ہتھکنڈوں پر قابو پالیں گے جو وہ اپنی سیاست میں استعمال کرتی ہے اور مہاراشٹر میں مہا وکاس اگھاڑی کی حکومت بنائیں گے۔ سیٹوں کی تقسیم کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ایم وی اے تمام 288 سیٹوں پر الیکشن لڑے گی۔ ایم وی اے میں کانگریس، شیوسینا (یو بی ٹی) اور این سی پی (شرد پوار) شامل ہیں۔

ایگزٹ پول کے مطابق کانگریس واضح اکثریت کے ساتھ حکومت تشکیل دے گی

چندی گڑھ: سنیچر کو ایک مرحلہ میں ہریانہ کی تمام 90نشستوں پر ووٹنگ کے بعد انتخابی نتائج کے متعلق ایگزٹ پول جاری کیا گیا. رائے دہندگان نے پیش گوئی کی ہے کہ کانگریس ریاست میں بھاری اکثریت کے ساتھ حکومت بنائے گی۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) ہریانہ اسمبلی انتخابات 2024 کے نتائج کا اعلان منگل (8 اکتوبر) کو جموں و کشمیر اسمبلی انتخابات 2024 کے نتائج کے ساتھ کرے گی۔

زیادہ تر ایگزٹ پولز میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ ہریانہ میں بی جے پی کے دس سالہ اقتدار کے بعد کانگریس حکومت بنائے گی۔ ریپبلک نے پیش گوئی کی ہے کہ کانگریس کو ریاست میں 55-62 نشستیں ملیں گی۔ اے اے پی ریاست میں اپنا کھاتہ نہیں کھول پائے گی۔ جبکہ بی جے پی کو تقریبا 21 نشستیں مل سکتی ہیں۔

ایکسس مائی انڈیا نے بھی پیش گوئی کی ہے کہ کانگریس آسانی سے 50-55 نشستوں کے ساتھ ریاست میں حکومت تشکیل دے گی۔ بی جے پی کو 20-25 نشستیں مل سکتی ہیں اور آئی این ایل ڈی کو 3-5 نشستیں مل سکتی ہیں اور دیگر کو 3-5 نشستیں مل سکتی ہیں۔

اے بی پی کے سروے کے مطابق ہریانہ کی 90 میں سے 57 نشستیں جیتنے کے بعد کانگریس حکومت بنائے گی۔ اس نے یہ بھی پیش گوئی کی ہے کہ بی جے پی تقریبا 27 نشستیں جیتے گی۔

دینک بھاسکر نے ایگزٹ پول میں دعویٰ کیا ہے کہ کانگریس کو 44-54 نشستیں ملیں گی جبکہ بی جے پی کو 15-29 نشستیں ملیں گی۔ عام آدمی پارٹی 0-1 نشستوں کے ساتھ اپنی مایوس کن کارکردگی جاری رکھے گی اور دیگر کو 4-9 نشستیں ملیں گی۔

ایسا لگتا ہے کہ کانگریس آسانی سے ریاست میں 46 نشستوں کے اکثریتی نشان کو عبور کر رہی ہے اور بھاری اکثریت کے ساتھ حکومت تشکیل دے رہی ہے۔ تاہم نتائج کا اعلان 8 اکتوبر کو کیا جائے گا اور تصویر واضح ہو جائے گی۔

ہفتہ کے روز تمام 90 اسمبلی سیٹوں پر ایک ہی مرحلے میں انتخابات ہوئے، جس کے لئے پولنگ صبح 7 بجے شروع ہوئی اور آج شام 6 بجے ووٹنگ ختم ہوئی۔ ریاست میں کل 2 کروڑ سے زیادہ لوگ تھے جو اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنے کے اہل تھے۔ اطلاعات کے مطابق شام پانچ بجے تک ریاست میں 90 اسمبلی سیٹوں پر تقریبا 61 فیصد رائے دہندگی ہوئی.

مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ موہن یادو کے "کھانا اور بجانا" ریمارک پر اویسی کا جوابی حملہ

بھوپال: مجلس اتحاد المسلمین سربراہ اور پانچ مرتبہ کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ موہن یادو کے "کھانا اور بجانا" ریمارک پر بی جے پی کو آڑے ہاتھوں لیا.

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہورہا ہے جس میں اویسی یہ کہتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں کہ "ہم کسی کے باپ کا نہیں کھاتے، یہ ملک ہمارا ہے، وزیراعلیٰ آپ ہمیں اپنی جیب سے نہیں کھلا رہے ہیں.

اویسی ملک میں دولت کی غیر یکساں تقسیم پر سوال اٹھاتے ہوئے وزیراعلیٰ یادو سے سوال کیا کہ وہ اس بات کی وضاحت کریں کہ کس طرح ملک کی مجموعی دولت، ذرائع اور املاک کا 60 فیصد حصہ صرف ملک کی 5 فیصد آبادی کے پاس ہے؟؟؟؟ اویسی نے بی جے پی پر عوام کا حق مار کر ملک کے بڑے صنعت کاروں کی ضروریات کو پورا کرنے کا الزام عائد کیا.

واضح رہے کہ جنماشٹمی کے موقع پر ایک عوامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ موہن یادو کے ایک بیان سے تنازعہ شروع ہوا. انہوں نے کہا تھا کہ "خبردار! جو یہاں کا کھاتا ہے اور کہیں اور کا بجاتا ہے، تو یہ نہیں چلے گا." موہن یادو نے بعد میں وضاحت کی کہ ہر کسی کو آزادی ہے کہ وہ اپنے مذہب کی پیروی کرے. حالانکہ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک سب سے پہلے ہے. "دیش کے بنا ہم کچھ بھی نہیں ہیں. "

کوئی نہیں جانتا 15 دن میں کیا ہوگا، 400 نشستوں کا دعویٰ کرنے والے اپنے بل بوتے پر اکثریت بھی حاصل نہیں کر سکے

مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے اشارہ دیا کہ انڈیا اتحاد کسی بھی وقت مرکزی حکومت کی باگ ڈور سنبھال سکتا ہے. بی جے پی پر طنز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 400 سیٹوں کا دعویٰ کرنے والے اپنے بل بوتے پر اکثریت بھی حاصل نہیں کر سکے. انہوں نے کہا کہ یہ مت سوچیں کہ اگر انڈیا اتحاد نے ابھی حکومت سازی کا دعویٰ نہیں کیا ہے تو وہ ایسا کبھی کرے گا ہم حالات بدلنے کا انتظار کررہے ہیں. 

آخر کار انڈیا اتحاد کی حکومت بنے گی. لیکن این ڈی اے کو کچھ حکومت چلانے دیں.کئی بار حکومت صرف ایک دن کیلئے بنتی ہے. کچھ بھی ہوسکتا ہے ، کوئی ن جانتا ہے یہ حکومت صرف 15 دن چلے ؟؟؟ ترنمول کانگریس پارلیمانی کمیٹی کی میٹنگ سے خطاب کے دوران ممتا بنرجی نے کہا کہ وہ نئی حکومت کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت نہیں کریں گی.انہوں نے کہا کہ بی جے پی غیر جمہوری اور غیر قانونی طریقے سے حکومت بنارہی ہے.ان کی پارٹی این ڈی اے حکومت کی تشکیل دیکھے گی اور اپنی باری کا انتظار کرے گی.

نومنتخب ترنمول ممبران پارلیمنٹ کے ساتھ میٹنگ کرنے کے بعد ممتا نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ اگر بی جے پی کی زیر قیادت کمزور اور غیر مستحکم این ڈی اے حکومت کو اقتدار سے باہر کردیا جاتا ہے تو انہیں بہت خوشی ہوگی. ملک میں تبدیلی کی ضرورت ہے . عوام میں نریندر مودی کے خلاف ماحول تھا اسلئے انہیں دوبارہ وزیراعظم نہ بناتے ہوئے کسی اور کو موقع دیا جانا چاہیے تھا.

واضح رہے کہ حالیہ لوک سبھا انتخابات میں انڈیا بلاک کو 234 سیٹیں ملی ہیں۔ اس میں کانگریس کی 99 سیٹیں، ترنمول کانگریس کی 29 سیٹیں اور سماج وادی پارٹی کی 37 سیٹیں شامل ہیں۔ اکثریت کیلئے 272 سیٹیں درکار ہیں. لہٰذا انڈیا اتحاد کو مزید 38 نشستیں درکار ہیں. چندرابابو نائیڈو کی ٹی ڈی پی نے 16 سیٹیں جیتی ہیں، جب کہ نتیش کمار کی جے ڈی یو نے 12 سیٹیں جیتی ہیں۔ فی الحال دونوں پارٹیاں این ڈی اے میں شامل ہیں لیکن اگر آنے والے وقت میں یہ پارٹیاں انڈیا اتحاد میں شامل ہوجاتی ہیں تو انڈیا اتحاد کی نشستیں بڑھ کر 262 ہو جائیں گی۔ اس کے باوجود بھی اکثریت کے لیے 10 سیٹیں کم ہوں گی۔

جو خود کو ناقابل تسخیر سمجھنے لگتے ہیں انہیں نقصان اٹھانا پڑتا ہے، لوگوں کو اس ہار سے سبق لینا چاہیے

مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) سربراہ راج ٹھاکرے نے کرناٹک اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی شکست پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی کی شکست کو "تکبر" کی شکست قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں:... مہاراشٹر بورڈ دسویں اور بارہویں کے نتائج کب؟n_0517836316.html

میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام کو کبھی معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔ انہوں نے اپنی سابقہ ​​تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن پارٹی کبھی نہیں جیتتی بلکہ حکمران پارٹی ہارتی ہے۔ راج ٹھاکرے نے مزید کہا کہ بی جے پی کواپنے تکبر کی وجہ سے کرناٹک میں نقصان اٹھانا پڑا. یہ ان لوگوں کی شکست ہے جو یہ سمجھتے تھے کہ وہ ناقابل تسخیر ہیں۔ اس شکست سے سب کو سبق لینا چاہیے۔ مہاراشٹر میں بھی کرناٹک کی طرح سیاسی تبدیلی سے متعلق سوال پر راج ٹھاکرے نے کہا کہ میں کوئی پیشن گو نہیں ہوں جو مستقبل کے بارے میں پیشن گوئی کرسکے.