Articles by "Mumbai"
Showing posts with label Mumbai. Show all posts


 اورنگزیب کو سالگرہ کی مبارکباد، سوشل میڈیا پر نیا تنازعہ

ممبئی: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کارپوریٹر سحر شیخ کی جانب سے مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر کو سالگرہ کی مبارکباد پیش کرنے اور ان کی تاریخ و ورثے کا دفاع کرنے والی سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد ایک نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔

سحر شیخ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ انسٹاگرام پر متعدد تصاویر اور پیغامات شیئر کیے، جن میں مغل بادشاہ اورنگزیب، مغلیہ دور کی تاریخ اور اس عہد کی تاریخی عمارتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

اپنی پوسٹ میں انہوں نے اورنگزیب عالمگیر کو سالگرہ کی مبارکباد دیتے ہوئے لکھا:

’’مغل سلطنت کے سب سے زیادہ متنازعہ بادشاہ اورنگزیب (رضی اللہ عنہ) کو سالگرہ مبارک۔ وہ بادشاہ جس نے ایمان اور طاقت کے ساتھ حکومت کی۔ ملک الہند۔ اور یاد رکھیے، تاریخ کو کبھی مٹایا نہیں جا سکتا۔‘‘

سحر شیخ نے اپنی ایک تصویر میں اورنگزیب کی تصویر کے ساتھ شیر کی تصویر بھی شیئر کی۔ اس پر درج عبارت میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ بادشاہ کی شبیہ کو خراب کرنے اور ان کی کردار کشی کے لیے ہر سال پروپیگنڈہ فلمیں بنائی جاتی ہیں، لیکن اس سے ان کی تاریخی اہمیت ختم نہیں ہوسکتی۔

سحر شیخ نے اپنی پوسٹ میں ہمایوں کے مقبرے کی تصویر بھی شیئر کی، جس میں وہ اس تاریخی عمارت کے سامنے کھڑی نظر آرہی ہیں۔ اس تصویر کے ساتھ انہوں نے لکھا:

’’ویسے میرے پیچھے بادشاہ ہمایوں کا مقبرہ ہے۔ کبھی سوچا ہے کہ جو لوگ ایسے مقبرے تعمیر کرواتے تھے، وہ ملک کیسے چلاتے ہوں گے؟‘‘

اس کے علاوہ انہوں نے تاج محل کے سامنے اپنی متعدد تصاویر بھی شیئر کیں اور مغل دور کی تعمیراتی صلاحیتوں اور تاریخی ورثے کا ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مغلوں نے تاج محل تعمیر کروایا، جس نے ہندوستانی ورثے کو عالمی سطح پر شناخت دلائی۔

سحر شیخ نے اپنی ایک اور تصویر کے ساتھ مغل تاریخ کو نصابی کتابوں سے نکالنے کی کوششوں پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے لکھا:

’’اور سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ مغل تاریخ کو کتابوں سے مٹانا چاہتے ہیں۔ کتابوں سے تو مغلوں کو نکال سکتے ہیں، لیکن اس سرزمین سے کیسے مٹائیں گے؟‘‘

اپنی آخری تصویر کے ساتھ انہوں نے یہ عبارت بھی لکھی:

’’ان شاء اللہ مغلیہ سلطنت کا اقبال ہمیشہ بلند رہے۔‘‘

سحر شیخ کی اس پوسٹ کے بعد سوشل میڈیا پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ فری پریس جرنل کی رپورٹ کے مطابق ان کی پوسٹ کو تقریباً 25 ہزار لائکس مل چکے تھے، جبکہ انہوں نے اپنی پوسٹ پر تبصروں کا سیکشن بھی بند کر رکھا تھا۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر کئی صارفین نے اس پوسٹ کے اسکرین شاٹس شیئر کرتے ہوئے سحر شیخ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ بعض صارفین نے مہاراشٹر کی تاریخی و سیاسی شناخت کا حوالہ دیتے ہوئے اورنگزیب کی تعریف پر اعتراض کیا، جبکہ کچھ نے اسے چھترپتی شیواجی مہاراج کی سرزمین کی توہین قرار دیا۔

اس طرح سحر شیخ کی جانب سے اورنگزیب کے حق میں کی گئی یہ سوشل میڈیا پوسٹ ایک مرتبہ پھر مغل تاریخ، اورنگزیب کی شخصیت اور ہندوستانی تاریخی ورثے سے متعلق سیاسی و سماجی بحث کا موضوع بن گئی ہے۔

اقلیتی طلبہ کیلئے اسکالرشپ اور مالیگاؤں حج ہاؤس کی تعمیر کیلئے ممبئی میں نمائندگی

مالیگاؤں: مالیگاؤں کے سابق رکن اسمبلی، اسلام پارٹی کے بانی و قائد آصف شیخ رشید نے آج ممبئی میں مہاراشٹر کی نائب وزیر اعلیٰ و وزیر اقلیت سنیترا تائی پوار سے ملاقات کی اور مالیگاؤں شہر کے مختلف اہم مسائل کے حل، بنیادی سہولیات کی ترقی اور اقلیتی طلبہ کے تعلیمی مستقبل کے حوالے سے اہم مطالبات پیش کیے۔ملاقات کے دوران آصف شیخ رشید نے کہا کہ مالیگاؤں ایک اہم اقلیتی شہر ہے، جہاں بڑی تعداد میں غریب اور متوسط طبقے کے افراد زندگی بسر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں روزگار اور آمدنی کے محدود ذرائع کے باعث شہریوں کی معاشی حالت انتہائی کمزور ہے اور مالیگاؤں کی ترقی کا بڑا انحصار سرکاری امداد اور خصوصی گرانٹس پر ہے۔انہوں نے نائب وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ مالیگاؤں شہر کے بنیادی مسائل، سڑکوں، پانی، صفائی، صحت، تعلیم اور دیگر ضروری شہری سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے کی خصوصی ترقیاتی گرانٹ منظور کی جائے، تاکہ شہر میں جاری ترقیاتی کاموں کو رفتار دی جاسکے اور عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کی جاسکیں۔

آصف شیخ نے مالیگاؤں میں ریجنل حج ہاؤس کی تعمیر کا مطالبہ بھی نائب وزیر اعلیٰ سنیترا پوار کے سامنے رکھا۔ انہوں نے کہا کہ مالیگاؤں نہ صرف ناسک ضلع بلکہ جلگاؤں، دھولیہ اور نندوربار سمیت اطراف کے علاقوں کے لیے بھی ایک اہم مرکزی شہر ہے، جہاں بڑی تعداد میں مسلم آبادی آباد ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان علاقوں سے ہر سال بڑی تعداد میں عازمینِ حج سفرِ حج پر روانہ ہوتے ہیں، لیکن حج سے متعلق ضروری سہولیات کے لیے انہیں دور دراز مقامات کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ اگر مالیگاؤں میں ریجنل حج ہاؤس قائم کیا جاتا ہے تو مالیگاؤں کے ساتھ ساتھ اطراف کے اضلاع کے عازمینِ حج کو بھی بڑی سہولت حاصل ہوگی۔

آصف شیخ نے مطالبہ کیا کہ حکومت مالیگاؤں میں حج ہاؤس کی تعمیر کے لیے ضروری منظوری اور فنڈز فراہم کرتے ہوئے اس منصوبے کو جلد عملی شکل دے۔

ملاقات میں آصف شیخ نے اقلیتی طلبہ کی تعلیمی مشکلات کا مسئلہ بھی تفصیل سے پیش کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مہاراشٹر حکومت اقلیتی طلبہ کے لیے اسکالرشپ کا دائرہ وسیع کرے، خصوصاً ہائر ایجوکیشن حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے خصوصی مالی امداد کا انتظام کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ مالی مشکلات کے باعث کئی باصلاحیت طلبہ اعلیٰ تعلیم جاری رکھنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ایسے طلبہ کو حکومت کی جانب سے لاکھوں روپے تک کی اسکالرشپ فراہم کی جائے تو وہ اپنی تعلیم مکمل کرکے بہتر مستقبل کی جانب گامزن ہوسکتے ہیں اور ملک و ریاست کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔ملاقات کے دوران نائب وزیر اعلیٰ و وزیر اقلیت سنیترا تائی پوار نے آصف شیخ رشید کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات پر مثبت تیقن دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ان معاملات کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے اور متعلقہ امور پر ضروری کارروائی کی جائے گی۔

آصف شیخ رشید نے امید ظاہر کی کہ نائب وزیر اعلیٰ کی مثبت یقین دہانی کے بعد مالیگاؤں کے لیے خصوصی ترقیاتی گرانٹ، ریجنل حج ہاؤس کی تعمیر اور اقلیتی طلبہ کے لیے اعلیٰ تعلیمی اسکالرشپ کے مطالبات پر جلد عملی پیش رفت ہوگی۔

17 اگست تک گھر گھر تصدیق جاری رہے گی، 27 اکتوبر کو حتمی ووٹر لسٹ شائع ہوگی

ممبئی: ریاست مہاراشٹر میں جاری خصوصی نظرِ ثانی (Special Intensive Revision – SIR) مہم کے سلسلے میں الیکشن کمیشن آف انڈیا نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے مہم کی مدت میں توسیع کر دی ہے۔ اس فیصلے سے ایسے لاکھوں شہریوں کو سہولت ملے گی جن کے نام اب تک ووٹر لسٹ میں شامل نہیں ہو سکے یا جنہیں اپنے ووٹر ریکارڈ میں ضروری اصلاحات کرانی ہیں۔الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ نظرِ ثانی شدہ شیڈول کے مطابق بوتھ لیول آفیسرز (BLO) اب 17 اگست 2026 تک گھر گھر جا کر ووٹروں کی تصدیق، اندراج اور معلومات کی جانچ کا کام انجام دیں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ اہل شہریوں کو ووٹر فہرست میں شامل کیا جا سکے۔

کمیشن کے نئے پروگرام کے مطابق 17 اگست کو پولنگ مراکز کی ازسرِ نو تنظیم (Reorganization) کی جائے گی، جبکہ 24 اگست 2026 کو ابتدائی (مسودہ) ووٹر لسٹ شائع کی جائے گی۔ اس کے بعد 24 اگست سے 23 ستمبر 2026 تک شہری ووٹر لسٹ میں نام شامل کرانے، نام حذف کرانے، پتے یا دیگر تفصیلات میں ترمیم کے لیے اپنے دعوے اور اعتراضات داخل کر سکیں گے۔الیکشن کمیشن نے مزید بتایا کہ موصول ہونے والی تمام درخواستوں کی جانچ، سماعت اور فیصلہ 22 اکتوبر 2026 تک مکمل کر لیا جائے گا۔ تمام ضروری اصلاحات کے بعد 27 اکتوبر 2026 کو ریاست کی حتمی ووٹر لسٹ جاری کی جائے گی۔

کمیشن نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس توسیع شدہ مدت سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور اگر ان کا نام ووٹر لسٹ میں درج نہیں ہے یا کسی قسم کی تصحیح درکار ہے تو مقررہ مدت کے اندر ضروری درخواست ضرور جمع کرائیں تاکہ آئندہ انتخابات میں اپنے حقِ رائے دہی سے محروم نہ رہیں۔

الیکشن کمیشن نے واضح انتباہ بھی جاری کیا ہے کہ ووٹر لسٹ میں نام شامل کرانے، ترمیم کرانے یا نام حذف کرانے کے لیے اگر کوئی شخص جان بوجھ کر غلط معلومات فراہم کرتا ہے یا جھوٹا حلف نامہ جمع کراتا ہے تو اس کے خلاف انتخابی قوانین کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

حکم نامہ کی خلاف ورزی کرنے والوں پر جیل،جرمانہ اور سخت سزا کا اطلاق، شکایت کیلئے ہیلپ لائن نمبر جاری 

ممبئی : مہاراشٹر کے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے کمشنر تکارام منڈے نے 28 جولائی 2026 کو ایک اہم حکم نامہ جاری کرتے ہوئے ریاست کے تمام سرکاری، امدادی اور نجی اسکولوں میں بچوں کے لیے محفوظ، صحت مند اور متوازن غذائی نظام کو یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔ یہ حکم نامہ فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز (اسکول کے بچوں کے لیے محفوظ غذا اور متوازن خوراک) ریگولیشنز 2020 کے مکمل نفاذ کے لیے جاری کیا گیا ہے۔حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ بھارتی آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت ہر شخص کو باعزت زندگی کا حق حاصل ہے، جس میں صحت اور غذائیت کا حق بھی شامل ہے۔ آرٹیکل 47 ریاستی حکومت پر عوام کی غذائیت کی سطح بلند کرنے اور صحت بہتر بنانے کی ذمہ داری عائد کرتا ہے۔ اسکول کے بچے معاشرے کا سب سے حساس طبقہ ہیں اور غیر محفوظ یا غذائیت سے محروم خوراک ان کے جسمانی، ذہنی اور تعلیمی ترقی کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔

فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ 2006 کے تحت ریاستی فوڈ سیفٹی کمشنر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اس ایکٹ اور متعلقہ قواعد و ضوابط کی مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔ 2020 کے ریگولیشنز 1 جولائی 2021 سے نافذ العمل ہیں اور پورے بھارت بشمول مہاراشٹر کے تمام اسکولوں پر لاگو ہیں۔ ان میں اسکول انتظامیہ پر یہ ذمہ داری عائد کی گئی ہے کہ وہ خود کھانا فراہم کرنے کی صورت میں ایف ایس ایس اے آئی لائسنس یا رجسٹریشن حاصل کریں، ٹھیکیداروں کے پاس بھی درست لائسنس ہو، اور ہائی فٹ، سالٹ، شوگر (ایچ ایف ایس ایس) والے کھانے کی فروخت، تقسیم یا نمائش پر مکمل پابندی عائد کریں۔

حکم نامے کے مطابق یہ آرڈر سرکاری، امدادی اور غیر امدادی نجی اسکولوں، پری پرائمری سے لے کر سیکنڈری سطح تک، رہائشی اسکولوں اور ہاسٹلز پر لاگو ہوگا۔ریاستی بورڈ، سی بی ایس ای، آئی سی ایس ای اور دیگر بورڈز سے وابستہ تمام اسکول بھی اس کے دائرے میں آتے ہیں۔ تاہم دو سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے چلڈرن کیئر یا ڈے کیئر سینٹرز اس حکم سے مستثنیٰ ہیں۔ تمام فوڈ بزنس آپریٹرز، کینٹین، مڈ ڈے میل سپلائرز، ٹک شاپس اور اسکول کے آس پاس کھانا فراہم کرنے والے افراد و ادارے بھی اس آرڈر کے پابند ہوں گے۔ہر اسکول انتظامیہ کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ طلبہ کو فراہم کی جانے والی خوراک نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف نیوٹریشن کی غذائی رہنما خطوط اور ICMR کی ہدایات کے مطابق ہو۔کھانے میں کاربوہائیڈریٹ،  پروٹین، چکنائی کے ساتھ آئرن ، کیلشیم، وٹامن اے اور ڈی، آیوڈین اور فولیٹ جیسی اہم غذائی اجزاء شامل ہوں۔ پھل، سبزیاں، اناج، دالیں اور مقامی صحت مند اشیاء کو باقاعدگی سے مینو میں شامل کیا جائے۔ ایچ ایف ایس ایس اشیاء جیسے زیادہ چینی والے مشروبات، کاربونیٹڈ ڈرنکس، تلا ہوا اسنیکس اور انتہائی پراسیسڈ فوڈز کی فروخت یا دستیابی پر مکمل پابندی ہوگی۔ پینے کا پانی محفوظ اور اعلیٰ معیار کے مطابق ہونا چاہیے۔اسکول انتظامیہ کی ذمہ داریاں واضح کی گئی ہیں جن میں تمام فوڈ آپریٹرز کے پاس درست ایف ایس ایس اے آئی لائسنس کی جانچ، شیڈول 4 کے تحت صفائی و صحت کے معیارات کی پابندی، صحت و تندرستی کے نوڈل آفیسر کی تقرری و تربیت،اسکول کے گیٹ پر انتباہی بورڈ لگانا، اور 50 میٹر کے دائرے میں ایچ ایف ایس ایس اشیاء کی فروخت روکنا شامل ہے۔اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو مڈ ڈے میل اور دیگر غذائی اسکیموں کے تحت کام کرنے والے تمام سپلائرز کے لائسنس کی تصدیق کرنی ہوگی اور ہر سال 31 مارچ تک کمشنر کو تعمیل کی رپورٹ جمع کرانی ہوگی۔

تعلقہ بورڈز کو غذائی حفاظت کی تعمیل کو اسکول کی وابستگی اور تجدید کے لیے لازمی شرط بنانا ہوگا۔ فوڈ سیفٹی آفیسرز کو ہر تعلیمی سال میں کم از کم دو بار اسکولوں کا معائنہ کرنا ہوگا، کھانے کے نمونے جمع کرنے ہوں گے اور بغیر لائسنس والے آپریٹرز کے خلاف کارروائی کرنی ہوگی۔ 50 میٹر زون کی خلاف ورزی پر ایچ ایف ایس ایس اشیاء ضبط کی جا سکیں گی اور متعلقہ کارروائی کی جائے گی۔حکم نامے میں ایٹ رائٹ اسکول مہم کے تحت ہر اسکول کو غذائی پالیسی بنانے، محفوظ پینے کے پانی کے مراکز قائم کرنے، سال میں کم از کم چار آگاہی نشستیں منعقد کرنے اور صحت مند خوراک کا نمونہ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔والدین اور طلبہ کو ایچ ایف ایس ایس اشیاء کے نقصانات، بچوں کی غذائی ضروریات اور ایف ایس ایس اے آئی ہیلپ لائن 1800-112-100 کے ذریعے شکایت درج کرانے کے طریقے سے آگاہ کیا جائے گا۔یہ حکم نامہ فوری طور پر نافذ العمل ہے اور آئندہ تمام تعلیمی سالوں کے لیے مستقل آرڈر کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی خلاف ورزی پر فوڈ سیفٹی ایکٹ کے تحت سخت سزائیں عائد کی جا سکتی ہیں جن میں جیل اور بھاری جرمانہ شامل ہے۔ کمشنر نے تمام متعلقہ محکموں، ڈسٹرکٹ کلیکٹرز، بورڈز اور فوڈ سیفٹی آفیسرز کو اس حکم کی مکمل تعمیل کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔اس آرڈر کا مقصد مہاراشٹر کے لاکھوں اسکول جانے والے بچوں کو غیر محفوظ اور غیر صحت مند خوراک سے بچانا اور ان کی صحت مند نشوونما کو یقینی بنانا ہے۔

 

उद्धव ठाकरे और राज ठाकरे ने संयुक्त पत्रकार परिषद,"आज मुंबई में अभिनंदन मोर्चा निकाला जाएगा

मुंबई: नीट पेपर लीक मामले को लेकर शिक्षा व्यवस्था में सुधार तथा केंद्रीय शिक्षा मंत्री धर्मेंद्र प्रधान के इस्तीफे की मांग को लेकर देशभर में छात्रों द्वारा आंदोलन, मोर्चे और प्रदर्शन किए जा रहे थे। इसी पृष्ठभूमि में मुंबई में उद्धव ठाकरे और राज ठाकरे की ओर से तिरंगा मार्च आयोजित किया गया था। हालांकि अब धर्मेंद्र प्रधान ने केंद्रीय शिक्षा मंत्री पद से इस्तीफा दे दिया है। ऐसे में यह सवाल उठ रहा था कि रविवार (26 जुलाई) को मुंबई में ठाकरे बंधुओं का प्रस्तावित मोर्चा होगा या नहीं। अब इस संबंध में विस्तृत जानकारी सामने आई है।

मनसे प्रमुख राज ठाकरे और शिवसेना (उद्धव ठाकरे गुट) के प्रमुख उद्धव ठाकरे ने छात्रों के अधिकार, न्याय और उनके उज्ज्वल भविष्य की मांग को लेकर रविवार, 26 जुलाई को मुंबई में एक भव्य तिरंगा मार्च आयोजित करने की घोषणा की थी। लेकिन पिछले एक महीने से जारी छात्र आंदोलन के बढ़ते दबाव के बीच धर्मेंद्र प्रधान ने केंद्रीय शिक्षा मंत्री पद से इस्तीफा दे दिया।

इसके बाद उद्धव ठाकरे और राज ठाकरे ने संयुक्त पत्रकार परिषद को संबोधित किया। इस दौरान राज ठाकरे ने कहा, "आज मुंबई में अभिनंदन मोर्चा निकाला जाएगा। शिवाजी पार्क मैदान में वीर सावरकर मार्ग पर मंच बनाया जाएगा और वहीं सभी लोग एकत्र होंगे। जेनजी (Gen Z) ने सरकार को झुकने पर मजबूर कर दिया है और उसे जमीन पर ला दिया है। युवाओं की इस बड़ी जीत में अभिजीत दीपके का बहुत बड़ा योगदान है। देशभर में इतना बड़ा आंदोलन खड़ा हुआ है, इसलिए इस जीत का जश्न मनाया जाना चाहिए।"

इस घोषणा के साथ स्पष्ट किया गया कि रविवार को मुंबई के शिवाजी पार्क में अभिनंदन मोर्चा आयोजित किया जाएगा।

حفظانِ صحت اور غذائی تحفظ کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی پر شالیمار، نور محمدی اور رحمانیہ ریسٹورنٹ کے خلاف کارروائی

ممبئی: مہاراشٹر فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) نے جنوبی ممبئی کے تین معروف ہوٹلوں کے فوڈ لائسنس معطل کر دیے ہیں۔ معائنوں کے دوران حفظانِ صحت اور غذائی تحفظ کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزیاں سامنے آئیں، جنہیں عوامی صحت کے لیے ممکنہ خطرہ قرار دیا گیا۔

یہ کارروائی گریٹر ممبئی ڈویژن کی جانب سے کیے گئے سلسلہ وار معائنوں کے بعد بھنڈی بازار کے شالیمار ہاسپیٹیلٹی پرائیویٹ لمیٹڈ، نور محمدی ہوٹل اور عمرکھاڑی کے رحمانیہ ریسٹورنٹ کے خلاف فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز (لائسنسنگ اینڈ رجسٹریشن آف فوڈ بزنسز) ریگولیشنز، 2011 کے تحت کارروائی کی گئی۔

ایف ڈی اے کے مطابق، شالیمار ہاسپیٹیلٹی کا لائسنس منگل کو اس وقت معطل کیا گیا جب اپریل میں کیے گئے معائنے میں نشاندہی کی گئی 25 بڑی خامیاں اصلاحی نوٹس جاری ہونے کے باوجود دور نہیں کی گئیں۔

13 جولائی کو ہونے والے دوبارہ معائنے میں باورچی خانے کا گیلا اور پھسلن والا فرش، خام مال کی خریداری کا ریکارڈ نہ ہونا، پینے کے پانی کے معیار کی جانچ کی رپورٹ کا فقدان، کھانے کے تیل کے معیار سے متعلق ریکارڈ کی عدم موجودگی، سبزی خور اور گوشت پر مبنی غذاؤں کی مناسب علیحدگی نہ ہونا، اور کیڑوں سے محفوظ جالیوں کے بغیر کھلی کھڑکیاں پائی گئیں۔

نور محمدی ہوٹل کا لائسنس بھی فوری طور پر معطل کر دیا گیا۔ معائنے کے دوران باورچی خانے کے فرش پر چکنائی کی موٹی تہہ، کھلی کھڑکیوں کے باعث مکھیوں، کیڑوں اور یہاں تک کہ کوؤں کا کچن تک پہنچنا، دیواروں اور چھتوں پر اکھڑا ہوا رنگ اور چکنائی، خام مال کی غیر صحت بخش ذخیرہ اندوزی، سپلائرز کا ریکارڈ نہ ہونا، پرانے اور غیر صحت بخش برتنوں کا استعمال، پینے کے پانی کی جانچ کے ریکارڈ کا فقدان اور کیڑوں پر قابو پانے کے ناکافی انتظامات پائے گئے۔

رحمانیہ ریسٹورنٹ کا لائسنس بھی فوری طور پر معطل کر دیا گیا، جہاں خوراک، کیمیکلز اور پیکنگ میٹریل کی غیر مناسب ذخیرہ اندوزی، کیڑوں سے تحفظ کے ناقص انتظامات، زنگ آلود اور غیر معیاری آلات، کچن میں اکھڑا ہوا رنگ اور پلستر، لازمی فوڈ ٹیسٹنگ ریکارڈ کی عدم موجودگی اور پینے کے پانی کے معیار کی جانچ نہ کیے جانے جیسے مسائل سامنے آئے۔

ایف ڈی اے نے کہا کہ یہ کارروائی فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز (لائسنسنگ اینڈ رجسٹریشن آف فوڈ بزنسز) ریگولیشنز، 2011 کے شیڈول IV کے حصہ دوم کے تحت کی گئی، جس میں فوڈ بزنس آپریٹرز کے لیے حفظانِ صحت اور صفائی کے معیارات مقرر کیے گئے ہیں۔

ایف ڈی اے نے واضح کیا کہ غذائی تحفظ کے اصولوں کی خلاف ورزی کرنے یا صارفین کی صحت کو خطرے میں ڈالنے والے فوڈ بزنس آپریٹرز کے خلاف سخت کارروائی کا سلسلہ جاری رہے گا، اور تمام لائسنس یافتہ اداروں کے لیے حفظانِ صحت اور صفائی کے اصولوں پر عمل درآمد لازمی ہے۔

ایک ہی خاندان کے چار افراد کی پراسرار موت، تحقیقات جاری

ممبئی کے جنوبی علاقے پائیدھونی میں ایک چونکا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک مسلم خاندان کے چار افراد کی ہلاکت نے حکام کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ جاں بحق ہونے والوں کی شناخت عبداللہ دوکاڈیا (40)، ان کی اہلیہ نسرین دوکاڈیا (35) اور ان کی دو بیٹیاں عائشہ (16) اور زینب (13) کے طور پر ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:........راگھو چڈھا 6 راجیہ سبھا اراکین کے ساتھ بی جے پی میں شامل

ابتدائی اطلاعات کے مطابق، 25 اپریل کی رات تقریباً 10:30 بجے خاندان نے رشتہ داروں کے ساتھ کھانا کھایا، جس میں کل نو افراد شریک تھے۔ بعد ازاں رشتہ دار اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔ اطلاعات کے مطابق رات تقریباً 1:00 سے 1:30 بجے کے درمیان خاندان کے چاروں افراد نے تربوز کھایا، جس کے کچھ ہی گھنٹوں بعد ان کی طبیعت بگڑنے لگی۔

مقامی خبروں کے مطابق اتوار کی صبح دونوں بیٹیاں بے ہوش پائی گئیں، جس کے بعد فوری طور پر انہیں قریبی ڈاکٹر کے پاس لے جایا گیا۔ صبح تقریباً 5:30 سے 6:00 بجے کے درمیان چاروں افراد میں قے اور دست جیسی علامات ظاہر ہوئیں۔ حالت بگڑنے پر انہیں سر جے جے اسپتال منتقل کیا گیا۔

علاج کے دوران کم عمر بیٹی زینب کی صبح تقریباً 10:15 بجے موت واقع ہوئی، جبکہ خاندان کے سربراہ عبداللہ دوکاڈیا رات تقریباً 10:30 بجے دم توڑ گئے۔ اس سے قبل اہلیہ اور بڑی بیٹی بھی انتقال کر چکی تھیں۔

پڑوسیوں نے صورتحال بگڑنے پر فوری طور پر پولیس اور ایمرجنسی خدمات کو اطلاع دی، تاہم ڈاکٹروں کی تمام تر کوششوں کے باوجود چاروں افراد کو بچایا نہ جا سکا۔

پولیس نے سر جے جے مارگ تھانے میں حادثاتی موت کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ لاشوں کا پوسٹ مارٹم کر لیا گیا ہے جبکہ موت کی اصل وجہ کا تعین ہسٹوپیتھالوجی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔

 پانچ افراد زخمی، ایک کی حالت نازک، 13 حراست میں، ویڈیو وائرل

ممبئی: جنوبی ممبئی کے گنجان آباد علاقے ناگپاڑہ میں جمعرات کی رات دو مقامی گروپوں کے درمیان شدید پرتشدد جھڑپ پیش آئی، جس کے نتیجے میں کم از کم پانچ افراد شدید زخمی ہو گئے، جن میں ایک کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے 13 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

ممبئی پولیس کے مطابق، یہ جھگڑا مبینہ طور پر مالی لین دین کے تنازع سے شروع ہوا، جو پہلے تلخ کلامی اور بعد ازاں شدید مارپیٹ میں تبدیل ہو گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے معاملہ اس قدر بگڑ گیا کہ دونوں طرف سے لاٹھیاں اور لوہے کی سلاخیں استعمال کی گئیں۔

واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس میں سڑک پر دو افراد کو بے ہوشی کی حالت میں پڑا دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ دیگر افراد کھلے عام لاٹھیوں اور راڈز کے ساتھ ایک دوسرے پر حملہ کرتے نظر آ رہے ہیں۔

تشدد میں زخمی ہونے والے پانچ سے چھ افراد کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق، بیشتر زخمیوں کی حالت مستحکم ہے، تاہم ایک شخص آئی سی یو میں زیرِ علاج ہے اور اس کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

پولیس نے علاقے میں اضافی نفری تعینات کر دی ہے اور واقعے کی مکمل جانچ کی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ وائرل ویڈیو کی بنیاد پر مزید افراد کی شناخت کی جا رہی ہے اور قصورواروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

 

مہلوکین میں ایک نوجوان اور تین بچے شامل، ڈمپر ڈرائیور پولیس حراست میں

ممبئی(گوونڈی): آج بروز سنیچر شام میں گوونڈی علاقے میں دلخراش سڑک حادثہ پہش آیا جس میں ایک ہی فیملی کے چار افراد جاں بحق ہوگئے جن میں تین بچے شامل ہیں.

یہ بھی پڑھیں:..... شہر میں بڑھتے حادثات.... مولانا عمرین کی اہم اپیل

مذکورہ حادثہ شام تقریباً پونے چار 3:45 بجے گھاٹکوپر-مانخورد لنک روڈ لوٹس جنکشن کے پاس پیش آیا. تفصیلات کے مطابق برگ مین پر سوار چار لوگوں کو ایک تیز رفتار ڈمپر نے ٹکر ماردی. حادثہ کے بعد غصے سے بپھری عوام نے احتجاج کرتے ہوئے روڈ بلاک کردیا جس کے سبب ٹریفک نظام درہم برہم ہوگیا. حالات کو قابو کرنے کے لیے پولیس کو مجبوراً لاٹھی چارج کرکے عوام کو منتشر کرنا پڑا.

پولیس کے مطابق اس حادثہ میں جاں بحق ہونے والوں کی شناخت نور محمد غلام نبی خان(29)، محمد حسین غلام احمد خان(13)، عبدل غلام احمد خان(12)، اور محمد ایان غلام مصطفیٰ خان(7) کے طور پر ہوئی ہے. تمام مہلوکین اندھیری گھاٹکوپر لنک روڈ، ملّت نگر،ساکی ناکہ کے ساکن تھے جو بکرا خریدنے دیونار آئے تھے تبھی ان کی ٹووہیلر کو ایک ڈمپر نے زبردست ٹکر ماری اور ان کی موت ہوگئی.

حادثہ کے فوراً بعد عوام نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے ڈمپر کو نقصان پہنچایا اور روڈ بلاک کردیا. پولیس مستعدی دکھاتے ہوئے ڈمپر ڈرائیور کو نکالا اور مقامی دیونار پولیس اسٹیشن لے گئی. ساتھ ہی ساتھ مظاہرین بھی دیونار پولیس اسٹیشن کے باہر جمع ہوگئے. پولیس نور اور ایان کو شتابدی اسپتال جبکہ حسین اور عبدل کو راجاواڑی اسپتال لے گئی جہاں انہیں داخل کرنے سے قبل ہی مردہ قرار دیا گیا. پولیس تصدیق کی ہے کہ ڈمپر ڈرائیور پولیس کی حراست میں ہے، اس معاملے میں مقدمہ درج کرنے کی کارروائی جاری ہے.

پولیس کو آرٹی او کی رپورٹ کا انتظار، اب تک عینی شاہدین سمیت 25 افراد کے بیانات قلمبند

کرلا ریلوے اسٹیشن(ویسٹ) کے باہر پیر کے روز ہونے والے بس حادثہ میں بس کے ڈرائیور سنجے مورے(54) اس دن پہلی مرتبہ الیکٹرک بس چلا رہے تھے. واضح رہے کہ اس حادثہ میں 7 افراد کی موت ہوئی جبکہ 42 افراد زخمی ہوئے.

حادثہ کی صبح ہی بیسٹ کو بس لیز پر دینے والی کمپنی ایوے ٹرانس نے کرلا اسٹیشن(ویسٹ) سے اگارکر چوک(اندھیری اسٹیشن) روٹ پر پر بس نمبر 332 آپریٹ کرنے سے قبل بس کا تین چکر لگانے کی ہدایت دی تھی. حیرت کی بات یہ ہے الیکٹرک بس چلانے کیلئے ایک بالکل ناتجربہ کار ڈرائیور کا انتخاب کرکے لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کیلئے پولیس نے کمپنی کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کی ہے. پولیس نے کہا کہ وہ روڈ ٹرانسپورٹ آرگنائزیشن (آر ٹی او) کی رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں، جسے یہ پتہ لگانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ آیا گاڑی میں کوئی خرابی تھی، جس کے بعد وہ کارروائی کریں گے۔ یہ بھی بیسٹ انتظامیہ کا کام تھا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ لیز والی بسوں کے ڈرائیوروں کو مناسب تربیت دی جائے۔

 پولیس کے مطابق مورے کو ڈیزل بسیں چلانے کا 30 سال کا تجربہ تھا۔ تاہم، یہ پہلا موقع تھا جب وہ الیکٹرک بس چلا رہا تھا۔ مورے نے پولیس کو بتایا کہ حادثے کے دوران بس بے قابو ہونے کی وجہ سے اس نے کنٹرول کھو دیا۔ حادثے کے وقت بس 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہاکرز اور آٹو رکشہ سے بھری ایک انتہائی گنجان سڑک پر چل رہی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گاڑی چلا رہا تھا جو اس کی جلد بازی کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک پیشہ ور ڈرائیور ایل روی نے کہا کہ 'کرلا اسٹیشن کے باہر سڑک کی گنجان نوعیت کو دیکھتے ہوئے، رفتار ۳۰ کلومیٹر فی گھنٹہ سے کم ہونی چاہیے تھی۔

پولیس یہ بھی پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے کہ کیا بس ڈرائیور مورے کسی جذباتی و ذہنی دباؤ میں تھا۔ پولیس نے اس زاویے کا پتہ لگانے کے لئے اس کے اہل خانہ کو طلب کیا ہے۔ اب تک پولیس نے عینی شاہدین سمیت 25 افراد کے بیانات قلمبند کیے ہیں۔

دریں اثناء بیسٹ ایمپلائز یونین کے جنرل سکریٹری ششانک راؤ نے ویٹ لیزنگ سسٹم کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انڈرٹیکنگ کو اپنی بسیں خریدنی چاہیئے اور انہیں تربیت یافتہ عملے کے ساتھ چلانا چاہئے۔ راؤ نے بیسٹ کے جنرل منیجر انیل ڈگگیکر سے ملاقات کی اور یونین کے مطالبات پر مشتمل ایک میمورنڈم سونپا۔

بابا صدیقی کے قتل پر ٹوئیٹ نہ کرنے اور جنازے میں شرکت نہ کرنے پر شاہ رخ خان سوشل میڈیا یوزرس کے نشانے پر

ممبئی: 13 اکتوبر کو ہوئی این سی پی لیڈر بابا صدیقی کی تدفین میں ہر کوئی شاہ رخ خان کی راہ دیکھ رہا تھا. لوگوں کو یہ امید تھی کہ بابا صدیقی کے قریبی دوست شاہ رخ خان انہیں خراج عقیدت پیش کرنے پہنچیں گے. لیکن کنگ خان وہاں نظر نہیں آئے.

یہ بھی پڑھیں:... سرفراز خان نے ٹیسٹ کرکٹ میں تاریخ رقم کردی

ابھی حال ہی میں شاہ رخ خان کو ان کی مینجر پوجا دادلانی کے گھر کے باہر دیکھا گیا. فلم اسٹار کی کار مکمل طور سے کور تھی مگر بتایا جارہا ہے کہ شاہ رخ خان اس میں موجود تھے. وہیں ان کے گارڈز ان کی حفاظت پر مامور تھے. سوشل میڈیا پر آئے اس ویڈیو کو دیکھ کر یوزرس نے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا. ایک یوزر نے لکھا کہ بابا صدیقی کی افطار پارٹی میں بڑی شان سے جاتے تھے اور ان کی موت کے دن کہاں تھے شاہ رخ آپ؟؟؟؟

ایک یوزر نے لکھا کہ آپ نا تو بابا صدیقی کے گھر گئے اور نا ہی ان کگ جنازے میں، وقت نہیں ملا کیا؟؟؟؟ اس کے علاوہ متعدد یوزرس نے شاہ رخ کے بابا صدیقی کے جنازے میں نہ پہنچنے پر ان پر سخت تنقید کی ہے.

واضح رہے کہ شاہ رخ خان نے بابا صدیقی کے قتل معاملے پر کوئی ٹوئیٹ بھی نہیں کیا. میڈیا رپورٹس کے مطابق شاہ رخ خان سے بابا صدیقی کی دوستی اتنی ہی خاص تھی جتنی سلمان خان سے تھی. ایسے میں جب بابا صدیقی کا قتل ہوا تو ہر کسی کو امید تھی کہ سلمان خان کے ساتھ ساتھ شاہ رخ خان بھی وہاں پہنچیں گے. سلمان خان نے بابا صدیقی کے گھر پہنچ کر ان کا آخری دیدار کیا لیکن وہاں بھی شاہ رخ خان نظر نہیں آئے اور نہ ہی انہوں نے اس معاملے پر ٹوئیٹ کیا.


 پانچ کروڑ ادا نہیں کئے تو بابا صدیقی سے برا حال ہوگا، دھمکی آمیز پیغام بھیجنے والے کا دعویٰ

بابا صدیقی کے قتل نے ہر کسی کو حیران کردیا تھا وہیں بابا کے قریبی دوست فلم اسٹار سلمان خان اب تک ان کی موت کے صدمے میں ہیں. سلمان خان کو ایک بار پھر جان سے مارنے کی دھمکی موصول ہوئی ہے.

یہ بھی پڑھیں:... این سی پی (شرد چندر پوار) سے وزیراعلیٰ کا چہرہ کون؟

لارینس بشنوئی گینگ نے بابا صدیقی مرڈر کی مکمل ذمہ داری قبول کرتے ہوئے سلمان خان سے ان کی گہری دوستی کو اس قتل کی وجہ بتائی ہے.

بابا صدیقی کے قتل کے بعد پولیس مسلسل اس معاملے میں تفتیش کررہی ہے اسی دوران سلمان خان کو جان سے مارنے کی دھمکی موصول ہوئی اور 5 کروڑ روپے کا مطالبہ کیا گیا ہے. دھمکی آمیز پیغام ممبئی ٹریفک پولیس کے واٹس ایپ پر بھیجا گیا. اے این آئی کے ایک ٹوئیٹ کے مطابق ممبئی ٹریفک پولیس کے واٹس ایپ نمبر پر دھمکی آمیز پیغام موصول ہوا جس میں فلم اداکار سلمان خان سے 5 کروڑ روپے کا مطالبہ کیا گیا ہے. پیغام بھیجنے والے نے دعویٰ کیا ہے کہ اسے معمولی نہ سمجھیں، اگر سلمان خان زندہ رہنا چاہتے ہیں تو انہیں 5 کروڑ روپے ادا کرنے ہوں گے. اگر روپے ادا نہیں کئے گئے تو سلمان خان کا حال بابا صدیقی سے بھی برا ہوگا.

مذکورہ دھمکی آمیز پیغام اور اسے بھیجنے والے کا پتہ لگانے کے لئے ممبئی پولیس نے تفتیش جاری کردی ہے. اس سے قبل بھی سلمان خان کو متعدد دھمکیاں مل چکی ہیں، گذشتہ ماہ گیلیکسی اپارٹمنٹ سلمان کی رہائش کے باہر فائرنگ بھی ہوئی تھی. پولیس نے اس خاطی کو. پکڑ لیا تھا. لیکن بابا صدیقی کے قتل کے بعد سلمان خان کے حفاظتی انتظامات پر زبردست توجہ دی جارہی ہے.

راج ٹھاکرے اور دادا بھسے نے فیصلے کا خیر مقدم کیا، ممبئ کے پانچ داخلی راستوں پر آج رات سے ٹول وصولی بند

ممبئی: مہاراشٹر کابینہ نے آج رات 12 بجے سے ممبئی میں داخل ہونے والی چھوٹی موٹر گاڑیوں کے لئے تمام پانچ انٹری پوائنٹس سے ٹول معاف کرنے کے اپنے فیصلے سے ممبئی والوں کو حیران کردیا۔ مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) کے سربراہ راج ٹھاکرے نے کابینہ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ دیرینہ مطالبہ بالآخر پورا ہوگیا ہے۔ راج ٹھاکرے 2013 سے ممبئی کو ٹول فری بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :... بابا صدیقی فائرنگ میں ہلاک

انہوں نے کہا کہ طویل لڑائی کے بعد، ممبئی والوں کو بالآخر اب راحت ملے گی۔ مجھے امید ہے کہ یہ فیصلہ مستقل ہوگا اور نئی حکومت انتخابات کے بعد ٹول وصولی دوبارہ شروع نہیں کرے گی۔ راج ٹھاکرے کئی سالوں سے ممبئی میں ٹول وصولی کا مسئلہ اٹھارہے ہیں۔ کئی واقعات پر ایم این ایس کارکنوں نے بھی ٹول پلازوں پر ہنگامہ برپا کیا۔

ایم این ایس لیڈر اویناش جادھو نے کہا کہ یہ پورے مہاراشٹر میں ہمارے ایم این ایس کارکنان کی جیت ہے، جنہوں نے ٹول وصولی کو روکنے کے لئے جدوجہد کی ہے، ان میں سے کئی کے خلاف مقدمات درج ہیں اور کچھ جیل بھی جا چکے ہیں۔ انہوں نے لوگوں کے لئے لڑائی لڑی اور میں انہیں مبارکباد دیتا ہوں۔

مہاراشٹر اسمبلی انتخابات سے قبل ٹول معافی مہایوتی حکومت کا ایک اور بڑا فیصلہ ہے جس نے رائے دہندگان کو متاثر کیا ہے۔ ٹول معافی ممبئی والوں کا دیرینہ مطالبہ رہا ہے۔ ممبئی کے داخلی راستوں پر جن پانچ ٹول ناکوں پر آج رات سے کوئی ٹول وصول نہیں کیا جائے گا، ان میں ملنڈ ایسٹرن ایکسپریس وے، ملنڈ ایل بی ایس روڈ، دہیسر، ایرولی اور واشی شامل ہیں۔

اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیر دادا بھسے نے کہا کہ 'یہ ممبئی والوں کے لیے ایک بڑی راحت ہے۔ 45 روپے اور 75 روپے کا ٹول اکٹھا کیا گیا تھا۔ ٹول وصولی کی آخری تاریخ 2026 تک تھی اور اس میں توسیع کا امکان تھا۔ اس فیصلے سے 2 لاکھ 80 ہزار گاڑیوں کو فائدہ ہوا ہے۔ حکومت نے اس شیڈول کو بناتے وقت ٹول معافی سے آنے والے مالی بوجھ پر بھی غور کیا ہے۔


باندرا کھیرواڑی سگنل کے پاس تین گولی ماری گئی، دو ملزمین حراست میں

این سی پی اجیت پوار گروپ کے لیڈر بابا صدیقی کو گولی مار کر قتل کردیا گیا. خبروں کے مطابق بابا صدیقی کو ان کے بیٹے ذیشان صدیقی کے دفتر باندرا کھیرواڑی سگنل کے پاس تین گولی ماری گئی جس کے بعد انہیں علاج کیلئے لیلاوتی اسپتال میں داخل کیا گیا. لیکن اسپتال میں ہی انہوں نے دم توڑ دیا.

باندرا ایسٹ میں نرمل نگر پولیس اسٹیشن کی حدود میں بابا صدیقی پر فائرنگ کی گئی. حادثہ کی خبر ملتے ہی ممبئی کرائم برانچ کی ٹیم جائے حادثہ پر پہنچ گئی. ایسا بتایا جارہا ہے کہ اس معاملے میں دو لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے.

ممبئی کے ہونہار طالب علم نے عزم اور حوصلے کی مثال قائم کی، سی بی ایس سی بورڈ امتحان میں شاندار رزلٹ

ممبئی : گزشتہ دنوں سی بی ایس سی بورڈ کے جماعت دہم کے نتائج کا اعلان کیا گیا. جہاں بہت سے طلباء و طالبات نے عمدہ کارکردگی کی بنیاد پر شاندار کامیابی حاصل کی وہیں ممبئی کے دہیسر علاقے کے ایک طالب علم نے ہمت، حوصلے اور عزم محکم کی مثال قائم کردی. گزشتہ سال جگر کی پیوند کاری (liver transplant) لیور ٹرانسپلانٹ سے گزرنے والے ارجن شرما نامی طالب علم نے سینٹرل بورڈ آف سکینڈری ایجوکیشن (سی بی ایس سی) 2023 جماعت دہم میں 95.2 فیصد نمبرات حاصل کئے.

یہ بھی پڑھیں :....... سابق این سی بی چیف سمیر وانکھیڈے کی رہائش پر سی بی آئی کا چھاپہ

کاندیولی کے ریان انٹرنیشنل اسکول کے طالب علم ارجن کو گزشتہ سال جگر میں پیچیدگی کا سامنا کرنا پڑا جب وہ نویں جماعت میں زیر تعلیم تھا. لیور ٹرانسپلانٹ کے بعد ارجن کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور اپنے زیادہ تر لیکچر چھوڑنے پڑے. جس کی وجہ سے اس کی تعلیم کافی متاثر ہوئی. ارجن نے کہا کہ میں نویں جماعت میں تھا تب مجھے جگر میں پیچیدگی کے مسائل پیدا ہوئے، جنوری 2021 میں لیور ٹرانسپلانٹ ہوا جس کے بعد میری پڑھائی بہت زیادہ متاثر ہوئی لیکن میرے اسکول کے اساتذہ اور پرنسپل نے اس پورے عرصے میں میری ہر ممکن مدد کی. وہ ہمیشہ میری مدد کیلئے دستیاب رہتے تھے اور مجھے محنت اور اچھا کام کرنے کی ترغیب دیتے تھے.

اگرچہ ارجن نے آہستہ آہستہ تعلیم کے تیئں اپنی دلچسپی بڑھانے اور اپنے تعلیمی نقصان کا ازالہ کرنے کا راستہ تلاش کرلیا لیکن اصل مسئلہ امتحانات کی تیاری کے دوران پیش آیا.

ارجن نے جذبات سے مغلوب ہوکر کہا کہ میرے اس سفر میں سب سے اہم کردار میری ماں شلپی کا ہے جس نے جس نے ٹرانسپلانٹ کیلئے اپنا جگر مجھے دیا اور میری جان بچائی. میری ماں میرے لئے سب سے بڑی تحریک ہیں اور میں زندگی میں ان کیلئے کچھ اچھا کرنے کی خواہش رکھتا ہوں. ارجن اپنے مستقبل کو لے کر کافی پرامید ہے وہ مستقبل میں سافٹ ویئر انجینئر بننا چاہتا ہے. ارجن اتنا پر عزم ہے کہ وہ اپنی صحت کے مسائل کو رکاوٹ نہیں سمجھتا.

۲۸۶؍لوگوں نے چیک اپ کرایا، ۱۷۵؍کو چشمہ فری دیاگیا،جبکہ۳۰؍مریضوں کے ہارٹ کا آپریشن ہوگا

ممبئی:۔(پریس ریلیز) مجاہدآزای بانیٔ روزنامہ ہندستان مرحوم غلام آرزو کی یاد میں پترکار وکاس فاونڈیشن کے زیر اہتمام بالا جی اسپتال،اردو جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے اشتراک سے حلقہ احباب، جھولا میدان، مدنپورہ ممبئی میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقادکیا گیا جس میں بائی پاس، انجوپلاسٹی، انجیوگرافی، ہارٹ وال ریپلسمنٹ، ای سی جی، بلڈشوگر، بلڈپریشرچیک اپ، گھٹنوں کی تبدیلی سمیت تمام بیماریوں کا فری چیک نیز فری آپریشن کرنے کا اہتمام کیا گیا تھا۔اس کیمپ میں کم و بیش ۲۸۶؍لوگوں نے اپنی بیماریوں کا چیک اپ کرایا۔۱۷۵؍ لوگوں کو چیک اپ کے بعد آنکھوں کا چشمہ مفت میں تقسیم کیا گیا۔جبکہ ماہر ڈاکٹروں نے۳۰؍مریضوں کو دل کا عارضہ ہونے کی وجہ سے انہیں آپریشن کرانے کے لئے بالاجی اسپتال میں مختلف تاریخوں میں بلا کر مفت آپریشن کرنے کی ہدایت دیں۔

ممبئی میں اپنی نوعیت کےمنفرد اس کیمپ میں سماجی خدمتگار وی۔آر۔شریف، رکن اسمبلی یامنی جادھو،سابق ایم ایل اےفیاض احمدخان( صدر ایم آئی ایم)،عمر لکڑا والا،اوپیندر پنڈت، فیروز خان، فاروق انصاری،قاضی مہتاب، ڈاکٹرعلاوالدین،نبی اخترقریشی، عبدالسمیع بوبیرے،  فرید خان (ارد و کارواں)،قیصر رضا،فریدانصاری،شمیم انصاری، سعدیہ مرچنٹ، شاہدہ دربار،مشیرانصاری، نعیم شیخ،نظام الدین راعین،ساجد بخاری،عبدالقیوم نعیمی، منہاج شیخ، حنا انصاری، نظیف آرزو،مولاناطفیل ندوی کےعلاوہ تعلیمی، مذہبی، ثقافتی اور سیاسی شخصیات کافی تعدادمیں شامل ہوئیں۔اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے رکن اسمبلی یامنی جادھو نے کہا کہ اس طرح کا کیمپ ہر علاقے میں منعقد ہونا چاہئے کیونکہ اس سے غریب عوام کے ساتھ ساتھ مڈل کلاس کے لوگوں کو بھی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔سماجی خدمتگاروی۔آر۔شریف  نے کہا کہ ممبئی میں اپنی نوعیت کےمنفرد پروگرام کے انعقادپر پترکاروکاس فاونڈیشن کو مبارکباد دیتا ہوں۔ اس کیمپ میں بڑی بڑی بیماریوں کا چیک اپ اور ان کے آپریشن فری میں کرنے کا آپ لوگوں نے جو بیڑہ اٹھایا ہے میری نیک تمنائیں آپ کے ساتھ میں ہیں۔

 عمر لکڑا والا نے کہا کہ صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لئے کوشاں تنظیم پترکار وکاس فاونڈیشن نے اس طرح کے کیمپ کو منعقد کرکے یہ پیغام دیا ہے کہ ارادے نیک ہوں تو انسان دوسرےانسانوں کے لئے بہت کچھ کر سکتاہے۔سابق ایم ایل اےفیاض خان نے میڈیا کے سامنےکہا کہ میں یہ پہلا کیمپ دیکھ رہا ہوں جس کے اندر تمام سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ سماجی، ملی،ثقافتی اور تعلیمی شخصیات شامل ہوئیں ہیں۔ اور یہ پہلا کیمپ ہے جس میں ایسی ایس بیماریوں کا فری چیک اپ اور آپریشن کرایا جا رہا ہے جس کے متعلق لوگ کرنے کی بات تو دور سوچتے بھی نہیں ہیں۔  میں پترکاروکاس فاونڈیشن کے ذمہ داران کے ساتھ ساتھ اردو جرنلسٹ ایسوسی ایشن، بالا جی اسپتال عملہ اور حلقہ احباب کو مبارکبادپیش کرتا ہوں۔   بالاجی اسپتال کے عملے کے ساتھ ساتھ خاص طورپر عطا بھائی، شکیل بھائی اور مہدی حسن بھائی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے سرفراز آرزونے پروگرام کے انعقاد کا مقصدبتاتےہوئے کہا کہ غریب لوگوں کے ساتھ ساتھ مڈل کلاس کےلوگ تھوڑا تھوڑا کرکے جو جمع پونجی کرتے ہیں بیماریاں آکر ایک جھٹکے میں انہیں پریشان کر دیتی ہیں عوام الناس کی جمع پونجی بچی رہے اس کے لئے اس کیمپ کاانعقاد کیا گیا تاکہ لوگ اس کیمپ سے فائدہ اٹھائیں اور متذکرہ تمام بیماریوں کی مفت جانچ کے ساتھ ساتھ مفت آپریشن کا بھی فائدہ حاصل کریں نیزاس طرح کے کیمپ اگر ضرورت پڑی تو ممبئی کے تمام علاقوں میں منعقد کیےجائیں گے۔

 پترکار وکاس فاونڈیشن کے صدر یوسف رانا نے بتایا کہ مرحوم غلام احمدخان آرزواپنی حیات میں عوام الناس کے مسائل کو حل کیاکرتے تھے خاص طور پر لوگوں کی طبی امداد دل کھول کر کیا کرتےتھے اسی لیے آج کے اس کیمپ کو ان کے نام سے منسوب کیا گیا ہے تاکہ ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئےلوگوں کی خدمات بہتراحسن طریقے سے کر سکیں۔اس کیمپ میں۲۸۶؍لوگوں نے اپنی مختلف بیماریوں کاچیک اپ کرایااس کے علاوہ۱۷۵؍کوان کی آنکھوں کا چیک اپ کرنے کے بعد انہیں فری میں چشمہ دیا گیا. جبکہ۳۰؍مریضوں کے ہارٹ کا آپریشن ہوگا۔

देश को लोकतंत्र से तानाशाही की ओर ले जाया जा रहा है, यह सभी के लिए तय करने का समय है कि वे लोकतंत्र चाहते हैं या तानाशाही: प्रकाश अंबेडकर

मुंबई: यह अब आधिकारिक है के शिवसेना उद्धव बालासाहेब ठाकरे(UBT) और प्रकाश अंबेडकर के नेतृत्व वालीh वंचित बहुजन अघाड़ी आगामी बीएमसी चुनावों में गठबंधन करेंगे।

वंचित बहुजन अघाड़ी की प्रदेश अध्यक्ष रेखा ठाकुर ने इसकी पुष्टि की है। यह बीजेपी और शिवसेना को टक्कर देने के लिए शिव शक्ति और भीम शक्ति के बीच गठजोड़  करने का एक और प्रयास होगा।

रेखा  ठाकुर ने कहा, "शिवसेना (UBT)  नेता सुभाष देसाई के साथ दो बैठकें हुई हैं और हम गठबंधन बनाने के लिए तैयार हैं।" उन्होंने आगे कहा कि वंचित बहुजन अघाड़ी राज्य समिति के सदस्य महेंद्र रोकाडे, मुंबई क्षेत्र के अध्यक्ष अबुल हसन और क्षेत्रीय अध्यक्ष नीलेश विश्वकर्मा ने शिवसेना (UBT)  नेता सुभाष देसाई और अन्य नेताओं के साथ बैठक की।  ये मुलाकातें सकारात्मक रहीं।  उसके बाद, शिवसेना (UBT)  ने गठबंधन के लिए अपनी सहमति दे दी है।”

रेखा  ठाकुर के अनुसार, देसाई ने प्रकाश अम्बेडकर से मुलाकात की और दोहराया कि प्रस्तावित गठबंधन के तौर-तरीकों पर चर्चा करने के लिए दोनों के बीच दो बैठकें हुईं।

हालांकि, रेखा  ठाकुर ने कहा कि पार्टी ने शिवसेना (UBT)  से यह स्पष्ट करने के लिए कहा है कि क्या वह आगामी बीएमसी चुनाव महा विकास अघडी सहयोगियों एनसीपी और शिवसेना के साथ और वंचित बहुजन अघाड़ी के साथ भी लड़ेगी या क्या वह केवल वंचित बहुजन अघाड़ी के साथ गठबंधन में चुनाव लड़ेगी।  उन्होंने कहा, "एक बार जब शिवसेना (UBT)  इस संबंध में अपना पक्ष रख देगी, तो अगले दौर की बातचीत शुरू हो जाएगी।"

उद्धव ठाकरे ने कहा था, “आज हम पहली बार एक साथ एक मंच पर आए हैं।  हमारा वैचारिक मंच एक ही है।  इसलिए हमें साथ आने में कोई दिक्कत नहीं है।  यह लोगों की अपेक्षा के अनुरूप नहीं आएगा। हम दोनों विचारों की विरासत के साथ आगे आए हैं।'

 अपनी ओर से प्रकाश अम्बेडकर ने बिना भाजपा का नाम लिए दावा किया कि देश को लोकतंत्र से तानाशाही की ओर ले जाया जा रहा है।  दोनों दलों के बीच संभावित गठबंधन के बारे में संकेत देते हुए उन्होंने कहा, ''यह सभी के लिए तय करने का समय है कि वे लोकतंत्र चाहते हैं या तानाशाही।''

جمعرات کو پھر کابینی میٹنگ کا تیقن، صرف یقین دہانی نہیں بلکہ اب فیصلے کا وقت، گرانٹ کا اعلان کرو ورنہ کرسی چھوڑو کا مطالبہ

ممبئی : (16 نومبر) مہاراشٹر راجیہ اگھوشت شکشک مہا سنگھ اور شکشک سمنوئے مہا سنگھ کے بینر تلے ریاست بھر کے دس ہزار سے زائد اساتذہ کرام خواتین و بچوں سمیت دھرنا اندولن جاری رکھے ہوئے ہیں اور گزشتہ یکم نومبر کو یقین دہانی کے مطابق پندرہ نومبر کو وزیر تعلیم و وزیر اعلیٰ نے مشورتی میٹنگ میں گرانٹ کا اعلان کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن پندرہ نومبر کو کابینی میٹنگ نہ ہونے سے اعلان نہیں ہوسکا اور حکومت کی جانب سے یہ کہا گیا کہ 16 نومبر کو کابینہ میٹنگ میں فیصلہ کیا جائے گا ۔

آج دن بھر اساتذہ کرام نے آزاد میدان میں پر امن دھرنا اندولن جاری رکھا لیکن جیسے ہی شکشک سمنوئے مہا سنگھ اور اگھوشت شکشک مہا سنگھ کے بینر تلے احتجاج کررہے مظاہرین کو خبر لگی کہ آج بھی  کابینہ کی میٹنگ نہیں ہوسکی تب اساتذہ آپے سے باہر ہوگئے لیکن ہوش کے ساتھ پرجوش مظاہرہ کرتے ہوئے نیشنل میڈیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی ۔اسطرح کی اطلاع ممبئی آزاد میدان سے مالیگاؤں ہائی اسکول کے ٹیچر شیخ زاہد سر نے دی۔انہوں نے بتایا کہ اساتذہ نے آزاد میدان میں سرکار مخالف نعرے بازی کرتے ہوئے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا اور گرانٹ کا مطالبہ کیا ۔گرانٹ دو گرانٹ دو ،نان گرانٹ اسکولوں کی فہرست جاری کرو، سو فیصد گرانٹ دو ورنہ کرسی چھوڑ دو کے نعرے لگائے ۔اساتذہ میں جوش و خروش، غصہ اور ہنگامہ آرائی دیکھ کر پولس کمشنر کو مداخلت کرنی پڑی اور بلا آخر شام دیر گئے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے اساتذہ کے نمائندہ وفد کو بات چیت کیلئے مدعو کیا ۔رات آٹھ بجے تک اساتذہ کرام آزاد میدان میں ڈٹے رہے ۔

اساتذہ کے نمائندوں سے بات چیت جاری ہے وزیر اعلیٰ کل بروز جمعرات کو گرانٹ سمیت نان گرانٹ اسکولوں کو گرانٹ دینے کا اعلان کریں گے اسطرح کی ایک بار پھر یقین دہانی کرائی جارہی ہے لیکن اساتذہ اپنے مطالبات پر قائم ہیں ۔اس موقع پر اگھوشت شکشک مہا سنگھ کے بھرت جامنک سر ، رنگاری سر، ببن ایولے سر ، منگیش مہاترے ، دیپک کلکرنی سر ،شیخ زاہد سر، سونتا گیالی میڈم ،وسیم سر، رفیق سر،قوسین سر باسط سر، مبشر سر، ظہور زمزم نے نان گرانٹ اگھوشت اساتذہ کو پر امن احتجاج کرنے اور اپنے حقوق کیلئے جوش و خروش کا مظاہرہ کرنے پر مبارکباد پیش کی اور اپیل کی ہے زیادہ سے زیادہ تعداد میں اساتذہ آزاد میدان پہنچیں ۔آج بھی مالیگاؤں سمیت مہاراشٹر کے مختلف اضلاع و شہر اور تعلقہ جات کے اساتذہ بالخصوص لیڈیز ٹیچرس سیکڑوں سینکڑوں کی تعداد میں حاضر تھے۔

مالیگاؤں سے سیکڑوں ٹیچرس ممبئی دھرنے میں شامل، نامور اسکولوں کے اساتذہ دھرنے سے غیر حاضر، شرکت کی اپیل 

ممبئی : 15 نومبر (نمائندہ خصوصی ) مہاراشٹر راجیہ اگھوشت شکشک مہا سنگھ کے بینر تلے ریاست بھر کے اساتذہ کا آزاد میدان میں گزشتہ 253 روز سے بے مدت دھرنا اندولن جاری ہے ۔آج ممبئی آزاد میدان دھرنے میں ہزاروں اساتذہ نے مہاراشٹر کے کونے کونے سے شرکت کی ۔اس دھرنے میں گرانٹ دو گرانٹ دو صد فیصد گرانٹ دو کے فلک شگاف نعرے لگائے گئے ۔یہاں تنظیم کے رنگاری سر، ببن ایولے سر ،سوپان خامکر سر افتخار سر نے اظہار خیال کرتے ہوئے اساتذہ کو اپنے حقوق یاد دلائے اور گزشتہ 22 سالوں سے بغیر تنخواہ کے درس و تدریس کے فرائض انجام دینے کے باوجود سرکار کسطرح اساتذہ کے ساتھ بھید بھاؤ کررہی ہیں؟ ان ہی وجوہات کو مد نظر رکھتے ہوئے اساتذہ نے سو فیصد گرانٹ کا مطالبہ برقرار رکھا ۔یہاں رنگاری سر نے خطاب کرتے ہوئے منترالیہ لیول کر گرانٹ کے حصول کیلئے ہورہی کاغذی کارروائی کو تفصیل سے بتایا اور کہا کہ سرکار سنجیدہ نظر آرہی ہیں لیکن احتجاج میں شدت کرنا ضروری ہے اور اب تک جو اساتذہ دھرنا گاہ میں نہیں پہنچے ہیں انہیں ہر حال میں ممبئی آنا ہوگا تب جاکر سرکار گرانٹ دیگی ۔اسطرح کی تفصیلات شیخ زاہد سر مالیگاؤں ہائی اسکول نے دی ۔انہوں نے بتایا وزیر اعلیٰ شندے اور وزیر تعلیم دیپک کیسرکر منترالیہ  میں نہ ہونے سے ڈرافٹ فائنل ہونے میں آج تاخیر ہورہی ہیں ۔آفیسران کاغذی کارروائی کو انجام دے رہے ہیں ۔لیکن سرکار یکم نومبر سے پندرہ نومبر تک کیا کررہی تھی؟ اسطرح کے سوال بھی اساتذہ کررہے ہیں۔اساتذہ تنظیم کے بھرے جامنک سر نمائندہ وفد کیساتھ منترالیہ میں نمائندگی کررہے ہیں جبکہ ہزاروں اساتذہ گرانٹ کیلئے آزاد میدان دھرنے میں شامل ہوکر احتجاج کررہے ہیں ۔اس دھرنے میں مالیگاؤں تعلقہ اردو مراٹھی اساتذہ نے کثیر تعداد میں اپنی شرکت درج کی ۔ان میں مالیگاؤں ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج،مالیگاؤں گرلس ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج ،ثناء اسکول ، مدر عائشہ، ڈی لائٹ، موحوم عابد علی ، ایل وی ایچ، مدر آمنہ، سر سید، حجن قمروالنساء، ٹی ایم ہائی اسکول، شیخ امام پرائمری اسکول، مدر عا ئشہ ہائی اسکول،مدر آمنہ اردو پرائمری اسکول، ڈائمنڈ اسکول، جامعة الھدیٰ ہائی اسکول، جے اے ٹی اسکول، جمہور اسکول،میرا اسکول، سرسوتی اسکول سمیت دیگر اسکولوں کے لیڈیز جینٹس اساتذہ نے بڑے ہی جوش و خروش سے دھرنے میں شرکت کی ۔مالیگاؤں سے اب بھی بہت ساری اسکولوں کے اساتذہ دھرنے میں شامل نہیں ہوئے ہیں انہیں چاہیے کہ وہ بھی دھرنے میں شامل ہوں ۔اردو پرائمری، سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری اسکولوں کی فہرست عیاں کی گئی ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ اب بھی شہر کے سیکڑوں ٹیچر دھرنے اور مظاہرے سے دور ہیں ۔لہذا انہیں بیدار ہونا ضروری ہے اسطرح کی اپیل بھی شیخ زاہد سر نے مہاراشٹر راجیہ اگھوشت شکشک مہا سنگھ کی جانب سے کی ہے ۔

14 سے 17 نومبر سخت احتجاج، مالیگاؤں سے دو سو سے زائد معلمین و معلمات کی روانگی، اسکول انتظامیہ و ہیڈ ماسٹرس کا تعاون مطلوب،میٹنگ میں فیصلہ

ممبئی : (13نومبر) اب معلمات بھی اپنی جائز تنخواہ کے لیے اپنے چھوٹے بچوں کے ساتھ ممبئی کے آزاد میدان میں غیر اعلانیہ ٹیچرز فیڈریشن (اگھوشت شکشک مہا سنگھ) کی احتجاجی تحریک میں شامل ہو گئی ہیں۔ غیر اعلانیہ ٹیچرز فیڈریشن کے احتجاج کو 250 دن مکمل ہو گئے ہیں۔ ریاستی وزیر تعلیم دیپک کیسرکر نے یقین دہانی کرائی ہے کہ 3961 غیر اعلانیہ پرائمری، سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری اور نیچرل اضافی ڈیوژن کے اساتذہ کیلئے گرانٹ کا اعلان 15 نومبر 2022 کو کیا جائے گا۔ آج سے ہی مہاراشٹر کے کونے کونے سے اساتذہ آہستہ آہستہ ممبئی کی طرف بڑھنے لگے ہیں۔چونکہ کچھ اساتذہ کے پاس ممبئی جانے کے لئے روپیہ پیسہ نہیں ہیں اس کے باوجود بھی اساتذہ ممبئی پہنچ رہے ہیں۔ اب تک 400 سے زائد احتجاج تنخواہ کے حصول کے لیے کئے جاچکے ہیں لیکن کچھ ہاتھ نہیں آ رہا۔ بعض اساتذہ کا خیال ہے کہ اگر سرکار چاہتی تو تنخواہ شروع ہو جاتی لیکن ایسا کیوں نہیں ہو رہا؟ تمام اسکول سیاسی رہنماؤں کے ہیں۔حکومت بھی اس میں زیادہ تاخیر نہیں کرے گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔اسکولوں کے ذمہ داران کو بھی تحریک میں حصہ لینا تھا کیونکہ گرانٹ ٹیچرس کو نہیں بلکہ اسکولوں کو ملنے والی ہیں ۔لیکن اب مہاراشٹر کے تمام غیر اعلانیہ اساتذہ 15 نومبر 2022 کے دن کا انتظار کر رہے ہیں۔اس سلسلے میں مہاراشٹر راجیہ اگھوشت شکشک مہا سنگھ غیر اعلانیہ اساتذہ کے سنجے رنگاری، ببن ییولے، بھرت جمانک، سومناتھ پتنگے، پانڈورنگ راہتے کی رہنمائی میں آزاد میدان میں دھرنا جاری رکھا اور مہاراشٹر کے تمام اساتذہ سے اپیل کی ہے کہ وہ کثیر تعداد میں شرکت کریں اور آزاد میدان میں تاریخی احتجاج درج کرتے ہوئے اپنے حقوق کیلئے سرکار کو فیصلہ لینے ہر مجبور کریں۔اس سلسلے میں مہا سنگھ کے ذمہ دار بھرت جامنک سر نے مالیگاؤں ہائی اسکول کے شیخ زاہد سر سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے مالیگاؤں و تعلقہ کے اردو مراٹھی نان گرانٹ اساتذہ سے اپیل کی ہے کہ وہ آزاد میدان میں 14 نومبر سے 17 نومبر تک خصوصی طور پر شریک رہیں اور سرکار ہر دباؤ بنانے کی کوشش کریں ۔اس کے علاوہ یہاں یہ بات کا خلاصہ ضروری ہے کہ نان گرانٹ اساتذہ کی اپیل پر چند اسکولوں کے ہیڈ ماسٹر و اسکول انتظامیہ چیئرمین نے تعاون کرتے ہوئے اپنے اساتذہ کو ازاد میدان دھرنے میں شرکت کی اجازت دے دی ہیں ہم انکے شکر گزار ہیں ۔اسی طرح شیخ زاہد، ندیم سر، افتخار سر، وسیم سر ،ظہور زمزم سمیت سوپان سر، روہت بورسے سر نے بتایا کہ مالیگاؤں شہر سے تقریبا دو سو سے زائد اساتذہ و معلمات دھرنے میں شرکت کرنے کیلئے تیار ہیں ۔معلمین و معلمات نے ممبئی دھرنے میں شرکت کیلئے اپنی رضا مندی اور رجسٹریشن کرلیا ہے ۔مالیگاؤں شہر سے اساتذہ کا قافلہ مورخہ 14 نومبر کی شب 4 بجے مالیگاؤں سے منماڑ بذریعہ ٹرین پنچوٹی ایکسپریس سے ممبئی کیلئے روانہ ہوگا ۔اس طرح کی تفصیلات شیخ زاہد سر نے دی ہے ۔