Articles by "Shinde-Fadnavis Government"
Showing posts with label Shinde-Fadnavis Government. Show all posts

ادھو گروہ کے اراکین اسمبلی نے" 50 کھوکے..... ایکدم اوکے" کے نعرے لگا کر شندے کیمپ اراکین اسمبلی پر 50 کروڑ میں فروخت ہونے کا الزام لگایا

مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی میں مانسون اجلاس کے پانچواں دن کا آغاز برسراقتدار اور اپوزیشن کے درمیان ہنگامہ آرائی سے ہوا۔ ادھو کیمپ اور شندے کیمپ کے اراکین اسمبلی آپس میں لڑ پڑے۔ دونوں گروپوں کے درمیان اسمبلی کی سیڑھیوں پر بھی دھکا مکی ہوئی. اپوزیشن نے برسراقتدار کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ ادھو گروہ کے اراکین اسمبلی نے شنڈے گروہ کے لیے '50 کھوکے...ایکدم اوکے' کا نعرہ لگایا۔ اس نعرے کی آڑ میں شندے گروہ کے اراکین اسمبلی پر 50 کروڑ میں فروخت ہونے کا الزام تھا۔  مہنگائی اور کسانوں کا مسئلہ اٹھانے اور حکومت سے جواب مانگنے کے لیے این سی پی رکن اسمبلی گاجر لے کر پہنچے۔ گاجر کو لے کر دونوں گروپوں میں ہاتھا پائی بھی ہوئی۔ دونوں پارٹیوں کے سینئر لیڈروں نے آگے آکر معاملہ رفع دفع کیا۔  اس کے بعد ایوان کی کارروائی کا آغاز ہوسکا۔

بی جے پی اراکین اسمبلی نتیش رانے نے آج ایوان میں کہا کہ ریاست کے احمد نگر میں ایک نابالغ لڑکی کو تبدیلی مذہب کے نام پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ریاست میں اس طرح کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔  رانے نے کہا کہ ہندو لڑکیوں کو لالچ دینے کے لیے لڑکوں کو ریٹ کارڈ دیا گیا ہے، جس کے تحت ان لڑکوں کو پیسے ملتے ہیں۔ رانے کا کہنا ہے کہ ریاست میں ہندو لڑکیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اسی لیے دیگر ریاستوں کی طرح مہاراشٹر میں بھی تبدیلی مذہب کے خلاف قانون بنایا جانا چاہیے۔

حکومتی اسکیموں کا فائدہ، سرکاری ملازمتوں میں 5 فیصد ریزرویشن، کھیل کے دوران موت یا زخمی ہونے پر 5 سے 10 لاکھ روپے تک معاوضہ

کھوکھو اور کبڈی کی طرح اب دہی ہانڈی کو بھی مہاراشٹر میں ایک کھیل کا درجہ دے دیا گیا ہے. اب دہی ہانڈی کو ایڈونچر گیم کی ایک قسم مانا جائے گا. وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے نے جمعرات کو ودھان سبھا میں بتایا کہ دہی ہانڈی میں شامل ہونے والے گوونداوں کو سرکاری اسکیموں کا فائدہ اور سرکاری ملازمتوں میں 5 فیصد ریزرویشن بھی دیا جائے گا.

یہ بھی پڑھیں:....بلقیس بانو کیس: اگر ایسی مثال قائم کی جائے گی تو مستقبل میں انصاف کی کوئی امید نہیں: ممتاز پٹیلl

جلد ہی پروکبڈی کے اصولوں کی بنیاد پر ریاست میں دہی ہانڈی مقابلے بھی منعقد کئے جائیں گے. کچھ دن قبل ہی وزیراعلیٰ شندے نے دہی ہانڈی تہوار کے دن عام تعطیل کا اعلان کیا تھا۔ حکومت نے اس سلسلے میں ستکاری حکم نامہ بھی جاری کر دیا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ دہی ہانڈی اب نہ صرف گوکلاشٹمی یا جنم اشٹمی بلکہ سال کے 365 دن ایک ایڈونچر کھیل کے طور پر کھیلی جا سکتی ہے۔

دہی ہانڈی گوونداوں کو اب انشورنس تحفظ بھی دیا جائے گا۔  اگر دہی ہانڈی کھیلتے ہوئے کوئی حادثہ پیش آتا ہے اور ایسی حالت میں کسی گووندا کی موت ہو جاتی ہے تو 10 لاکھ روپے متعلقہ گووندا کے اہل خانہ کو بطور امداد دی جائے گی۔ شدید زخمی ہونے کی صورت میں 7 لاکھ 50 ہزار روپے کی رقم بطور امداد دی جائے گی۔ یعنی اگر اس طرح کے حادثے میں کوئی گووندا اپنی دونوں آنکھیں یا دونوں پیر یا دونوں ہاتھ یا جسم کے کسی بھی دو اہم حصے سے محروم ہو جاتا ہے تو اسے حکومت کی جانب سے مدد کے طور پر ساڑھے سات لاکھ روپے دیے جائیں گے۔ اگر کوئی گووندا اس طرح کے حادثے میں ایک بازو یا پیت یا جسم کا کوئی حصہ کھو دیتا ہے تو اسے 5 لاکھ روپے کی رقم مدد کے طور پر دی جائے گی۔

ودھان بھون کے باہر 50 کروڑ 50 کروڑ کے نعرے لگائے، آدتیہ ٹھاکرے نے کہا سب جانتے ہیں اصل وزیراعلیٰ کون ہے؟ 

ودھان بھون کے دروازے پر اپوزیشن کے ذریعے شندے-فڑنویس حکومت کے خلاف نعرے لگانے کے ساتھ چھ روزہ مانسون سیشن کا آغاز ہوا۔ ریاستی اسمبلی کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے اپوزیشن لیڈران اجیت پوار اور امباداس دانوے کی قیادت میں اپوزیشن پارٹیوں کے اراکین اسمبلی نے شندے کیمپ اور بی جے پی حکومت کو نشانہ بنایا اور 50 کروڑ 50 کروڑ لے نعرے بھی لگائے. انہوں نے الزام لگایا کہ شیوسینا اراکین اسمبلی کو مبینہ طور پر مالی امداد کے وعدے کرکے اور مرکزی جانچ ایجنسیوں جیسے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ اور سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن سے کلین چٹ دینے کا وعدہ کرکے لالچ دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:.... راحت فتح علی خان کا شراب کے نشے میں دھت ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

اجیت پوار کے علاوہ این سی پی اراکین اسمبلی دھننجے منڈے، ششی کانت شندے، کانگریس کے بالاصاحب تھوراٹ، پرنیتی شندے، شیوسینا کے آدتیہ ٹھاکرے، سنیل پربھو اور دیگر اراکین اسمبلی نے اپوزیشن لیڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے مرکزی جانچ ایجنسیوں کی تعیناتی کے خلاف نعرے لگائے۔ انہوں نے شدید بارش اور سیلاب سے متاثر کسانوں کو مالی امداد فراہم نہ کرنے پر حکومت پر تنقید کی۔ باغی شیوسینا لیڈروں کو ''غدار'' قرار دیتے ہوئے اپوزیشن نے دعویٰ کیا کہ جمہوری اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حکومت تشکیل دی گئی ہے۔

جبکہ شندے کیمپ نے این سی پی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اجیت پوار نے اپنے چچا کو دھوکہ دیا ہے اور نومبر 2019 میں صبح سویرے حلف برداری کی تقریب میں دیویندر فڑنویس کے ساتھ نائب وزیر اعلیٰ کا حلف لیا تھا۔ نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کے غلبے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آدتیہ ٹھاکرے نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ اصل وزیر اعلیٰ کون ہے؟


دونوں گروہوں کے درمیان 50-50 فارمولا کے تحت بی جے پی اور شندے گروہ کے 9-9 وزراء نے حلف لیا، خواتین کو کابینہ میں جگہ نہیں دی گئی

ایکناتھ شندے کے وزیر اعلی بننے کے 39 دن بعد آج بروز منگل مہاراشٹر کی کابینہ تشکیل دی گئی۔ کابینہ کی توسیع میں 50-50 کا فارمولا استعمال کیا گیا۔ دونوں طرف سے 9-9 ایم ایل ایز کو وزیر بنایا گیا ہے۔  سب سے پہلے بی جے پی کے رادھا کرشن وکھے پاٹل نے وزیر کے طور پر حلف لیا۔

شندے گروپ سے گلاب راؤ پاٹل، دادا بھوسے، سنجے راٹھور، سندیپان بھومرے، ادے سامنت، تاناجی ساونت، دیپک کیسرکر، عبدالستار اور شمبھو راج دیسائی کو وزارت دی گئی ہے. 

شندے کی نئی کابینہ کے تمام وزراء کروڑ پتی ہیں۔ اس میں سب سے زیادہ جائیداد مالابار ہلز حلقے سے بی جے پی ایم ایل اے منگل پربھات لوڈھا کے پاس ہے۔ وہیں سب سے کم یعنی 2 کروڑ کی جائیداد پیٹھن سیٹ کے ایم ایل اے سندیپن بھومرے کے پاس ہے۔ کابینہ میں ایسے 12 وزراء ہیں جن پر فوجداری مقدمات درج ہیں۔ ان میں سے کچھ کے خلاف سنگین دفعات بھی ہیں۔انتخابی حلف نامے کے مطابق وزیر اعلی شندے کے خلاف 18 اور نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کے خلاف 4 مجرمانہ معاملات درج ہیں۔ شندے کی نئی کابینہ میں ایک وزیر 10ویں اور 5 وزیر 12ویں پاس ہیں۔  اس کے علاوہ ان میں ایک انجینئر، 7 گریجویٹ، 2 پوسٹ گریجویٹ اور ایک ڈاکٹریٹ کی ڈگری یافتہ وزیر شامل ہین. بی جے پی ایم ایل اے سریش کھڈے سب سے زیادہ پڑھے لکھے ہیں۔ ریاست کے سی ایم ایکناتھ شندے 10ویں پاس ہیں اور ڈپٹی سی ایم دیویندر فڑنویس نے گریجویشن کیا ہے۔ منگل پربھات لوڈھا جو کہ پیشے کے اعتبار سے بلڈر ہیں، بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیر ترین وزیر ہیں۔ انتخابی حلف نامے کے مطابق ان کے پاس 441 کروڑ روپے سے زیادہ کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیدادیں ہیں۔ 6 بار ایم ایل اے رہنے والے لوڈھا کے پاس 252 کروڑ روپے سے زیادہ کی منقولہ جائیداد اور تقریباً 189 کروڑ روپے کے غیر منقولہ اثاثے ہیں۔ حلف نامے کے مطابق ان پر پانچ مجرمانہ معاملات درج ہیں.

شندے کی کابینہ کی تشکیل کے بعد اس پر پہلا ردعمل نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کی طرف سے آیا۔  پارٹی کی رکن پارلیمنٹ سپریہ سولے نے کہا کہ ایکناتھ شندے نے اپنی کابینہ میں آدھی آبادی یعنی خواتین کو جگہ نہیں دی ہے۔ یہ بہت غلط ہے۔  آدتیہ ٹھاکرے کے قریبی ساتھی آنند دوبے نے بھی کسی خاتون کو وزیر نہ بنائے جانے کا معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کہتی ہے سب کا ساتھ، سب کا وکاس، لیکن ہماری آدھی آبادی کے ساتھ سوتیلا سلوک کرتی ہے۔

مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی کا مانسون اجلاس 10 سے 18 اگست تک ہوگا۔ لیجسلیچر سکریٹریٹ نے مانسون سیشن سے قبل تیاریوں کے لیے تعطیل منسوخ کر دی ہیں۔ پیر کو سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق ملازمین کی 9 سے 18 اگست کے درمیان تمام تعطیلات منسوخ کر دی گئی ہیں اور انہیں دفتر میں موجود رہنے کو کہا گیا ہے۔

 

شرد پوار نے شندے-فڑنویس حکومت کی بقا سے متعلق شکوک و شبہات ظاہر کئے، اپنے لیڈران کو وسط مدتی انتخابات کیلئے تیار رہنے کی ہدایت دی

مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے نے آج راشٹریہ وادی کانگریس سربراہ شرد پوار پر جوابی حملہ کیا. واضح رہے کہ شرد پوار نے شندے-فڑنویس حکومت کی بقا سے متعلق شکوک و شبہات ظاہر کئے اور اپنی پارٹی کے اراکین اسمبلی کو اپنے انتجابی حلقوں میں زیادہ توجہ دینے اور وسط مدتی انتخابات کیلئے تیار رہنے کو کہا تھا.

یہ بھی پڑھیں :...... مہاراشٹر: باغی اراکین اسمبلی کو پیسے کے علاوہ اور کچھ دیا گیا: ممتا بنرجی
ایوان کے دو روزہ خصوصی اجلاس کے آخری دن ریاستی اسمبلی میں اہم فلور ٹیسٹ جیتنے کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایکناتھ شندے نے کہا کہ شرد پوار ایک قدآور لیڈر ہیں لیکن وہ جو کچھ بھی کہتے ہیں وہ حقیقت کے برعکس ہے. ہم حکومت کے ڈھائی سال مکمل کریں گے اور آئندہ انتخابات میں ہمارے پاس 200 ایم ایل ایز ہوں، 100 ہمارے اور 100 بی جے پی کے.
اس سے پہلے اتوار کے روز پوار نے مہاراشٹر میں وسط مدتی اسمبلی انتخابات کا اشارہ دیا تھا کیونکہ مبینہ طور پر ٹریژری بنچ کے درمیان بے چینی کی وجہ سے نئی حکومت میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔  پوار نے پارٹی ایم ایل ایز کے ساتھ میٹنگ میں ان سے کہا کہ وہ اپنے متعلقہ حلقوں پر زیادہ توجہ دیں اور وسط مدتی انتخابات کے لیے تیار ہوجائیں۔  این سی پی کے اندرونی ذرائع نے اشارہ کیا کہ وسط مدتی انتخابات دسمبر کے آخر تک گجرات کے ساتھ یا اگلے سال کے شروع میں کرناٹک کے ساتھ ہو سکتے ہیں۔ پوار نے 2024 تک شندے-فڑنویس حکومت کے قائم رہنے سے متعلق شبہ ظاہر کرتے ہوئے حکومت میں شامل افراد کی ناراضگی کا حوالہ دیا اور کہا کہ یہ حکومت پانچ سے چھ ماہ ہی قائم رہے گی. آپسی رنجش مجوزہ کابینہ کی توسیع کے بعد منظر عام پر آئے گی. انہوں نے مزید کہا کہ قوی امکان ہے کہ شیوسینا کے باغی لیڈران کی گھر واپسی ہوگی.