TRENDING NOW

Recent News

News

جئے کھیڑا، سٹانہ اور کیمپ پولس کی مشترکہ کارروائی، ناکہ بندی توڑ کر فرار ہونے والی گاڑی سے دو گائے سمیت چھ مویشی برآمد

مالیگاؤں: آدھی رات کے وقت ایک مشتبہ گاڑی کے تعاقب کا سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا، جس میں جئے کھیڑا، سٹانہ اور مالیگاؤں کیمپ پولس اسٹیشن کی ٹیموں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے ایک شخص کو گرفتار کرلیا، جبکہ دو ملزمان پولس کو چکمہ دے کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ پولیس نے گاڑی کو ضبط کرتے ہوئے اس میں موجود دو گائے سمیت چار مویشیوں کو برآمد کیا ہے۔پولس سے موصولہ اطلاع کے مطابق رات کے وقت مشتبہ گاڑی کی نقل و حرکت کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس نے فوری طور پر ناکہ بندی شروع کی۔ جئے کھیڑا پولیس اسٹیشن کی حدود میں گاڑی کو روکنے کی کوشش کی گئی، تاہم ڈرائیور نے ناکہ بندی توڑ دی اور گاڑی سٹانہ کی سمت لے گیا۔

سٹانہ پولس نے بھی گاڑی کو روکنے کے لیے ناکہ بندی کی، لیکن مشتبہ گاڑی نے وہاں بھی پولس کو چکمہ دیتے ہوئے ناکہ بندی توڑ دی اور مالیگاؤں کی جانب فرار ہونے کی کوشش کی۔ اس کے بعد کیمپ پولیس اسٹیشن کی ٹیم نے بھی ناکہ بندی کرتے ہوئے گاڑی کو روکنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں تینوں پولیس اسٹیشنوں کی ٹیمیں گاڑی کے تعاقب میں سرگرم ہوگئیں۔کافی دیر تک جاری رہنے والے اس تعاقب کے بعد پولیس ٹیموں نے بالآخر گاڑی کو مالیگاؤں کیمپ پولیس اسٹیشن کی حدود میں قابو کرلیا۔ گاڑی کی تلاشی لینے پر اس میں دو گائے سمیت چار بیل یعنی کل چھ مویشی پائے گئے، جنہیں پولس نے اپنی تحویل میں لے لیا۔

پولس کارروائی کے دوران گاڑی میں موجود افراد میں سے ایک شخص کو گرفتار کرلیا گیا، جبکہ دو دیگر افراد موقع سے فرار ہوگئے۔ گرفتار شخص کی شناخت شیخ شریف شیخ شیخ یونس کے طور پر بتائی گئی ہے۔پولس کے مطابق فرار ملزمان میں محسن سیلانی، ساکن مالیگاؤں اور معین شیخ، ساکن قصاب باڑہ شامل ہیں، جبکہ تیسرے شخص کے طور پر شعیب خان، ساکن مالیگاؤں کا نام بھی بتایا گیا ہے۔پولس کی جانب سے فرار ملزمان کی تلاش جاری ہے۔

اس معاملے میں جئے کھیڑا پولیس اسٹیشن میں بی این ایس کی دفعات 109، 281، 309 اور 324، اینمل ایکٹ 1960 کی دفعات 5 اور 9 اور موٹر وہیکل ایکٹ کی دفعہ 184 کے تحت مقدمہ درج کیے جانے کی اطلاع ہے۔پولس نے ضبط شدہ گاڑی اور برآمد مویشیوں کو تحویل میں لے کر مزید تفتیش شروع کردی ہے۔پولس اس بات کی بھی جانچ کر رہی ہے کہ مویشی کہاں سے لائے گئے تھے اور انہیں کہاں لے جایا جارہا تھا۔ معاملے میں فرار ملزمان کی گرفتاری کے لیے مزید کارروائی جاری ہے۔

عازم حسین گرنا ڈیم میں غرقآب، 16سالہ انصاری عبد الرحمٰن دردناک سڑک حادثہ میں جاں بحق 

​مالیگاؤں: مالیگاؤں شہر اور اطراف کے علاقوں میں ایک ہی دن کے دوران چار مختلف اور دردناک حادثات پیش آئے، جن میں دو افراد اپنی جان کی بازی ہار گئے جبکہ دو افراد شدید زخمی ہو گئے جن کا نجی اسپتال میں علاج جاری ہے۔اس ضمن میں سماجی خدمتگار شفیق اینٹی کرپشن، خالد ایس کے عارف ایا اور شکیل تیراک نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ کہ ​پہلا افسوسناک واقعہ گرنا ڈیم (گرنا ندی) کے پاس پیش آیا، جہاں سیر و تفریح اور نہانے کی غرض سے گئے ہوئے رمضان پورہ کے رہائشی عازم حسین اجمل حیات (عمر 38 سال) پانی کے تیز بہاؤ اور گہرائی میں ڈوب کر جاں بحق ہوگئے۔ وہاں موجود ساتھیوں اور سماجی کارکنوں نے انہیں پانی سے باہر نکال کر سی پی آر (CPR) دیا اور فوری طور پر فاران اسپتال پہنچایا، لیکن ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔

​دوسرا حادثہ گرنا ڈیم فاٹے اور دیوڑ کے قریب قومی شاہراہ (ہائی وے) پر پیش آیا۔ مسلم نگر کے رہائشی انصاری عبد الرحمٰن افروز احمد (عمر 16 سال) اپنی موٹر سائیکل پر سوار ہوکر گرنا ڈیم چالیسگاؤں روڈ پر جارہے تھے کہ پیچھے سے ایک تیز رفتار موٹر سائیکل کی ٹکر کے نتیجے میں دردناک حادثہ پیش آیا اور ان کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ متوفی اپنی والدہ کا اکلوتا سہارا تھا۔

​اسی دن شہر کے دیگر علاقوں اور ہائی وے پر بھی مزید روڈ حادثات پیش آئے، جن میں دو افراد شدید طور پر زخمی ہو گئے۔زخمیوں کو فوری طور پر نجی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے ۔

ان افسوسناک ​واقعات کے بعد مالیگاؤں کے سماجی کارکنوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شہریوں اور بالخصوص نوجوانوں سے اپیل کی ہے کہ ڈیم اور ندی نالوں کے خطرناک حصوں پر سیر و تفریح کے دوران احتیاط برتیں اور بچوں کو پانی کے قریب جانے نہ دیں۔اس کے علاوہ شاہراہوں پر چھوٹی عمر کے بچوں کو گاڑی چلانے سے روکنے اور ہائی وے پر سیفٹی رولز پر عمل کرنے کی تاکید کی گئی ہے

تصویر ہٹانے کے تعلق سے دَادا بھسے کا موقف آیا سامنے 

مالیگاؤں: مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کی ڈپٹی میئر شانِ ہند کے دفتر میں ٹیپو سلطان کی تصویر دوبارہ نظر آنے کے بعد ایک مرتبہ پھر سیاسی تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ نوتجدید شدہ ڈپٹی میئر کے دفتر میں دیگر عظیم شخصیات کی تصاویر کے ساتھ ٹیپو سلطان کی تصویر بھی لگائی گئی ہے، جس کے بعد مختلف سیاسی حلقوں میں بحث شروع ہوگئی ہے۔رپورٹ کے مطابق ڈپٹی میئر شانِ ہند نے اپنے دفتر کی تزئین و آرائش کے بعد دوبارہ دفتر میں ٹیپو سلطان کی تصویر موجود نظر آئی۔ اس سے قبل بھی ٹیپو سلطان کی تصویر کو لے کر مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن میں سیاسی تنازعہ پیدا ہوچکا ہے اور اس وقت تصویر ہٹائے جانے کی نوبت آئی تھی۔ڈپٹی میئر شانِ ہند نے ٹیپو سلطان کی تصویر دفتر میں لگانے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ٹیپو سلطان نے ملک کے لیے قربانی دی اور انگریزوں کے خلاف جدوجہد کی، اسی وجہ سے ان کی تصویر دفتر میں لگائی گئی ہے۔ ان کے مطابق انہیں تصویر لگانے میں کوئی اعتراض نظر نہیں آتا۔

دوسری جانب ریاستی وزیر تعلیم دادا بھسے نے اس معاملے پر کہا کہ انہیں فی الحال تصویر کے بارے میں معلومات نہیں ہیں، تاہم اگر میونسپل کارپوریشن کے ڈپٹی میئر کے دفتر میں ٹیپو سلطان کی تصویر موجود ہے تو وہ اسے ہٹانے کے لیے ہدایت دیں گے۔ دادا بھسے کے اس بیان کے بعد معاملے نے ایک مرتبہ پھر سیاسی رنگ اختیار کرلیا ہے۔ٹیپو سلطان کی تصویر کو لے کر مالیگاؤں میں اس سے قبل بھی سیاسی کشیدگی پیدا ہوچکی ہے۔ فروری 2026 میں تصویر لگائے جانے کے بعد شیو سینا اور بعض ہندوتوا تنظیموں کی جانب سے اعتراض کیا گیا تھا، جبکہ ڈپٹی میئر نے تصویر کو برقرار رکھنے کی حمایت کی تھی۔ بعد ازاں احتجاج کے انتباہ کے درمیان تصویر ہٹا دی گئی تھی۔اب دوبارہ تصویر سامنے آنے کے بعد مالیگاؤں کی سیاسی سرگرمیوں میں اس معاملے کو لے کر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ آنے والے دنوں میں میونسپل انتظامیہ اور متعلقہ سیاسی جماعتوں کا موقف اس تنازعہ کی آئندہ سمت طے کرنے میں اہم قرار دیا جارہا ہے۔

دو ملزمین گرفتار، رمضان پورہ پولس کی بڑی کارروائی 

مالیگاؤں: مالیگاؤں شہر کے دیانا علاقے میں رمضان پورہ پولیس نے منشیات کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے دو ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس نے دونوں کے قبضے سے 53 گرام سفید رنگ کا مشتبہ ایم ڈی (ایم ڈی ایم اے) پاؤڈر برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ پولیس کے مطابق ضبط شدہ منشیات کی تخمینی مالیت تقریباً ایک لاکھ 59 ہزار روپے ہے۔پولیس کے مطابق یہ کارروائی 24 اگست 2026 کی شب تقریباً 11 بجے کھڑکی روڈ پر گنیش نگر سے اسلام کے ہوٹل کی جانب جانے والے راستے پر الیکٹرک ڈی پی کے قریب انجام دی گئی۔ خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کی گئی کارروائی کے دوران پولیس نے مشتبہ افراد کو روک کر تلاشی لی، جس میں 53 گرام سفید رنگ کا ایم ڈی پاؤڈر برآمد ہوا۔کارروائی کے دوران منشیات کے علاوہ ایک ہیرو ایچ ایف ڈیلکس موٹر سائیکل اور تقریباً تین ہزار روپے مالیت کی الیکٹرانک وزن کرنے والی مشین بھی ضبط کی گئی۔ پولیس کے مطابق تمام ضبط شدہ اشیاء کی مجموعی تخمینی مالیت تقریباً ایک لاکھ 92 ہزار روپے ہے۔

گرفتار ملزمان کی شناخت انیس قریشی (22 سال)، ساکن دریگاؤں شیوار مالیگاؤں اور حنیف شیخ غفران، ساکن کمال پورہ، مالیگاؤں کے طور پر کی گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق دونوں ملزمان نے مبینہ طور پر ایم ڈی پاؤڈر غیر قانونی فروخت کے مقصد سے اپنے قبضے میں رکھا ہوا تھا۔اس معاملے میں رمضان پورہ پولیس اسٹیشن میں این ڈی پی ایس ایکٹ 1985 کی دفعہ 8 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس نے معاملے کی مزید تفتیش شروع کر دی ہے اور منشیات کی خرید و فروخت کے ممکنہ نیٹ ورک سمیت دیگر پہلوؤں کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔اس کارروائی میں اے پی آئی مالی، پی ایس آئی چوہان اور اے ایس آئی ٹی اے سونونے سمیت پولیس اہلکاروں نے اہم کردار ادا کیا۔ پولیس کی جانب سے جاری تحقیقات کے بعد معاملے میں مزید انکشافات اور کارروائی متوقع ہے۔

تاجروں کا ریاستی حکومت کو 15 دنوں کا الٹی میٹم

ناسک: ریاست کے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کے کمشنر تکارام منڈھے نے پورے مہاراشٹر میں خوردہ (غیر پیک شدہ) کھانے کے تیل کی فروخت اور خریداری پر سخت پابندی عائد کر دی ہے۔ اس فیصلے کے خلاف ریاست بھر کے کھانے کے تیل کے تاجروں نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ناسک میں منعقدہ ایک اہم اجلاس میں تاجروں نے اس فیصلے پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ریاستی حکومت کو 15 دن کا الٹی میٹم دے دیا ہے۔

اجلاس میں تاجروں نے واضح کیا کہ اگر 15 دن کے اندر خوردہ تیل کی فروخت پر عائد پابندی واپس نہ لی گئی تو وہ ریاست بھر میں سڑکوں پر اتر کر بڑا احتجاج کریں گے۔ ضرورت پڑنے پر وہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے اور مرکزی حکومت سے بھی اس معاملے پر رابطہ کریں گے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ قواعد کی خلاف ورزی پر دس لاکھ روپے تک جرمانہ اور قید کی سزا انتہائی ناانصافی ہے اور انہوں نے غصے میں سوال اٹھایا کہ کیا انہیں انتہا پسند سمجھا جا رہا ہے؟

دوسری جانب کمشنر تکارام منڈھے نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ کھانے کے تیل میں ملاوٹ یا قواعد کی خلاف ورزی پر سات سال سے لے کر عمر قید تک کی سزا اور دس لاکھ روپے تک جرمانے کا اطلاق ہے۔ انہوں نے صارفین سے اپیل کی ہے کہ وہ خوردہ تیل بالکل نہ خریدیں بلکہ صرف پیک شدہ تیل خریدیں اور اس کے لیبل، سیل اور میعاد ختم ہونے کی تاریخ ضرور چیک کریں۔

منڈے نے بتایا کہ خوردہ اور ملاوٹی تیل کا مسئلہ صرف اقتصادی دھوکہ دہی تک محدود نہیں بلکہ یہ براہ راست عوام کی صحت سے جڑا ہوا ہے۔ ایسے تیل کے استعمال سے کینسر، دماغی امراض اور ہائی بلڈ پریشر جیسے سنگین امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ ایک بار تلے ہوئے تیل کو گھر میں بار بار استعمال نہ کیا جائے اور ہوٹلوں میں بھی اگر وہی تیل بار بار استعمال ہو رہا ہو تو وہاں کھانا کھانے سے گریز کیا جائے۔

یہ فیصلہ صارفین کی صحت کے تحفظ کے لیے لیا گیا ہے تاہم تاجروں کا دعویٰ ہے کہ اس سے روایتی کاروبار اور عام صارفین پر منفی اثر پڑے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ریاستی حکومت تاجروں کے الٹی میٹم پر کیا ردعمل دیتی ہے۔

Random Posts