TRENDING NOW

Recent News

News

 دو کروڑ سے زائد ووٹروں کے انومریشن فارم جمع نہیں ہوئے

ممبئی: مہاراشٹر میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (SIR) کے تحت گنتی فارم جمع کرنے کا مرحلہ مکمل ہوگیا ہے،تاہم ریاست میں 2 کروڑ 7 لاکھ 93 ہزار 916 ووٹروں کے گنتی فارم ابھی تک جمع یا اسکین نہیں ہو سکے ہیں۔ چیف الیکشن آفیسر کے دفتر کی جانب سے 17 اگست 2026 کو جاری کردہ اعداد و شمار میں یہ اہم معلومات سامنے آئی ہے۔تفصیلات کے مطابق ریاست میں مجموعی طور پر 9 کروڑ 78 لاکھ 54 ہزار 49 ووٹر درج ہیں۔ ان میں سے 7 کروڑ 69 لاکھ 52 ہزار 262 ووٹروں کے گنتی فارم ڈیجیٹائز کیے جا چکے ہیں، جو مجموعی ووٹروں کا 78.64 فیصد ہے۔ جبکہ 21.25 فیصد یعنی 2 کروڑ سے زائد ووٹروں کے فارم ابھی تک جمع نہیں ہوئے ہیں۔

دوسری جانب، ڈیجیٹائز کیے گئے فارم اور ابھی تک جمع نہ ہونے والے فارم کو ملا کر 9 کروڑ 77 لاکھ 46 ہزار 178 ووٹروں کا ڈیٹا آن لائن عمل میں شامل ہو چکا ہے، جو ریاست کے کل ووٹروں کا تقریباً 99.89 فیصد بنتا ہے۔الیکشن حکام نے واضح کیا ہے کہ گنتی فارم جمع کرانے کے لیے مزید مہلت نہیں دی جائے گی۔

ضلع وائز صورتحال پر نظر ڈالیں تو تھانہ میں 38.77 فیصد، ممبئی شہر میں 37.57 فیصد، ممبئی مضافاتی علاقے میں 34.48 فیصد، پونہ میں 31.92 فیصد، ناگپور میں 30.32 فیصد اور پال گھر میں 28.88 فیصد گنتی فارم ابھی تک جمع نہیں ہوئے ہیں۔ اس کے برعکس ہنگولی میں 91.18 فیصد، بلڈھانہ میں 90.83 فیصد اور لاتور میں 89.21 فیصد فارم جمع ہونے کی اطلاع ہے۔

اسی طرح SIR کے اگلے مرحلے میں 24 اگست 2026 کو مسودہ ووٹر لسٹ (Draft Electoral Roll) جاری کی جائے گی۔ اس کے بعد ووٹروں کو اپنے نام اور تفصیلات کی جانچ کرنے اور دعوے و اعتراضات داخل کرنے کا موقع ملے گا۔ دعوے اور اعتراضات 24 اگست سے 23 ستمبر 2026 تک داخل کیے جا سکیں گے۔اگر کسی اہل ووٹر کا نام مسودہ ووٹر لسٹ میں موجود نہ ہو تو وہ فارم 6 کے ذریعے نام شامل کرنے کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔ نام حذف کرنے کے لیے فارم 7 جبکہ پتہ، تصویر یا دیگر تفصیلات میں ترمیم کے لیے فارم 8 استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یکم اکتوبر 2026 تک 18 سال کی عمر مکمل کرنے والے نئے ووٹر بھی مقررہ مدت میں اپنا نام درج کرا سکیں گے۔الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق دعوے اور اعتراضات کی جانچ کے بعد 27 اکتوبر 2026 کو حتمی ووٹر لسٹ جاری کی جائے گی۔ ایسے میں تمام ووٹروں کے لیے ضروری ہے کہ مسودہ فہرست جاری ہونے کے بعد اپنا نام، پتہ، تصویر اور دیگر تفصیلات لازماً چیک کریں، تاکہ کسی غلطی یا نام کے اخراج کی صورت میں مقررہ مدت کے اندر اصلاح یا اعتراض کیا جا سکے۔

ناسک ضلع کلکٹر کو میونسپل کمشنر کا اضافی چارج سونپنے کی منظوری

مالیگاؤں: مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کے کمشنر رویندر جادھو کی جانب سے پیش کردہ درخواست پر مہاراشٹر حکومت کے شہری ترقیات محکمہ نے انہیں 9 روزہ ارجنٹ رخصت منظور کرلی ہے۔ اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے باضابطہ حکم نامہ جاری کیا گیا ہے۔جاری کردہ حکم نامے کے مطابق کمشنر رویندر جادھو کو 17 اگست 2026 سے 25 اگست 2026 تک رخصت منظور کی گئی ہے۔ حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ مذکورہ مدت میں آنے والی 17، 22، 23 اور 24 اگست کی تعطیلات بھی رخصت کی مدت میں شامل ہوں گی۔حکومتی حکم کے مطابق یہ رخصت دیو درشن (مذہبی زیارت) کے مقصد سے منظور کی گئی ہے۔ کمشنر کو رخصت کی مدت کے دوران ہیڈکوارٹر چھوڑنے کی بھی اجازت دی گئی ہے۔کمشنر رویندر جادھو کی غیر موجودگی میں مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کے انتظامی امور کو جاری رکھنے کے لیے ناسک کے ضلع کلکٹر کو میونسپل کمشنر کے عہدے کا اضافی چارج سونپنے کی منظوری دی گئی ہے۔ اس طرح کمشنر کی رخصت کے دوران کارپوریشن کے اہم انتظامی و سرکاری امور کی نگرانی اضافی چارج سنبھالنے والے افسر کے ذریعے کی جائے گی۔

یہ حکم نامہ مہاراشٹر حکومت کے شہری ترقی محکمہ کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔ حکم نامے میں بتایا گیا ہے کہ یہ کارروائی گورنرِ مہاراشٹر کے احکامات کے تحت عمل میں لائی گئی ہے اور محکمہ کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری کی جانب سے حکم جاری کیا گیا ہے۔حکم نامے میں کمشنر رویندر جادھو کے لیے رخصت سے متعلق انتظامی ضابطوں کی پابندی بھی لازمی قرار دی گئی ہے۔ انہیں رخصت پر روانگی کے وقت اور رخصت مکمل ہونے کے بعد دفتر میں دوبارہ حاضر ہونے پر عہدہ و ذمہ داری کی منتقلی کا سرٹیفکیٹ متعلقہ دفتر میں پیش کرنا ہوگا۔سرکاری حکم نامے کے مطابق کمشنر کی رخصت کی مدت 25 اگست 2026 تک مقرر ہے، جس کے بعد وہ اپنی ذمہ داریاں دوبارہ سنبھالیں گے۔

ایف ڈی اے حکام کی موجودگی میں گٹکے کی فہرست تیار، معاملے کی گہرائی سے تفتیش جاری

مالیگاؤں: مالیگاؤں پولس کی لوکل کرائم برانچ (ایل سی بی) نے غیر قانونی گٹکے کی اسمگلنگ کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے نیشنل ہائی وے نمبر 3 پر ایک ٹرک سے تقریباً 62 لاکھ روپے مالیت کا غیر قانونی گٹکا ضبط کیا ہے۔ اس کارروائی میں تقریباً 20 لاکھ روپے مالیت کا ٹرک بھی قبضے میں لیا گیا، جس کے بعد ضبط شدہ مال کی مجموعی مالیت تقریباً 82 لاکھ روپے بتائی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق ایل سی بی کی ٹیم نے نیشنل ہائی وے نمبر 3 پر شاہی گولڈن ہوٹل کے قریب واقع اسٹار ہوٹل کے سامنے مشتبہ ٹرک کو روک کر تلاشی لی۔ تلاشی کے دوران بڑی مقدار میں غیر قانونی گٹکا برآمد ہوا، جس کے بعد پولس نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے گٹکا اور ٹرک کو ضبط کر لیا۔

کارروائی کی اطلاع ملتے ہی فوڈ اینڈ ڈرگس ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کے افسران بھی موقع پر پہنچے۔ پولس اور ایف ڈی اے حکام نے مشترکہ طور پر ضبط شدہ گٹکے کی جانچ اور فہرست تیار کرنے کا عمل مکمل کیا۔ پولس کے مطابق برآمد شدہ گٹکے کی اندازاً مالیت 62 لاکھ روپے ہے، جبکہ ٹرک کی قیمت تقریباً 20 لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔ابتدائی تفتیش میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مذکورہ گٹکا مہاراشٹر میں غیر قانونی طور پر لایا گیا تھا۔ تاہم، گٹکا کہاں سے لایا گیا، اسے کہاں پہنچایا جانا تھا اور اس کھیپ کا اصل مالک کون ہے، اس بارے میں ابھی مزید معلومات سامنے آنا باقی ہیں۔اس معاملے میں کارروائی کے وقت تک کسی شخص کی گرفتاری کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ پولس کی جانب سے ٹرک کے مالک، ڈرائیور، گٹکے کی کھیپ کے اصل سپلائر اور اسے وصول کرنے والے افراد کے بارے میں معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آیا اس کھیپ کا تعلق کسی بڑے غیر قانونی نیٹ ورک سے ہے یا نہیں۔

یہ کارروائی ضلع پولس سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر سوامی اور مالیگاؤں کے ایڈیشنل پولس سپرنٹنڈنٹ سورج گنجال کی نگرانی میں ضلعی لوکل کرائم برانچ کی ٹیم نے انجام دی۔

پولس کی تفتیش فی الحال جاری ہے۔ ضبط شدہ گٹکے اور ٹرک سے متعلق قانونی کارروائی مکمل کی جا رہی ہے۔ تفتیش آگے بڑھنے کے ساتھ اس معاملے میں مزید اہم انکشافات اور ممکنہ ملزمان کے نام سامنے آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

300 کروڑ کا ٹینڈر دینے کا جھانسہ، 6 ملزمان گرفتار، پولس تفتیش جاری 

​ناسک/مالیگاؤں: سنگھستھ کمبھ میلے کے نام پر جعلی ٹینڈر اور جعلی ورک آرڈر دے کر رقم بٹورنے والے گینگ کی جعل سازی کا دائرہ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ تازہ ترین واقعہ میں مالیگاؤں (سوئے گاؤں) کے ایک سڑک تعمیراتی کنٹریکٹر اور تاجر سریش مہندر پوار سے کمبھ میلے کے کام دلانے کا جھانسا دے کر 35 لاکھ روپے ہڑپ لیے گئے۔ اس معاملے میں ناسک روڈ پولیس اسٹیشن میں پانچواں مقدمہ (FIR) درج کیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق جامنیر (ضلع جلگاؤں) سے تعلق رکھنے والے شکیل احمد شیخ، تنئے مہاجن اور نریندر مہاجن نامی افراد نے کنٹریکٹر سریش پوار سے رابطہ کیا تھا۔ ملزمان نے انہیں کمبھ میلے کے تحت سڑکوں کی تعمیر کے لیے 300 کروڑ روپے کے ٹینڈر نکلنے کا جھانسا دیا اور کام دلانے کی یقین دہانی کرائی۔ اعتماد حاصل کرنے کے لیے ملزمان نے حکومتِ ہند کا قومی نشان (راج مدرا) والا جعلی لیٹر ہیڈ، ناسک میونسپل کارپوریشن کا ٹینڈر نوٹس نمبر، اور کمبھ میلہ اتھارٹی کے سربراہ ڈاکٹر پروین گوڈام کی جعلی ڈیجیٹل دستخط والے فرضی ورک آرڈرز دکھائے۔  

ٹینڈر منظور کرانے اور کارروائی کے نام پر ملزمان نے کانٹریکٹر سے مرحلہ وار 50 لاکھ روپے وصول کیے۔ جب کافی وقت گزرنے کے بعد بھی کام شروع نہیں ہوا اور ٹھیکہ دار کو ان پر شک ہوا تو انہوں نے اپنی رقم واپس مانگنی شروع کی۔ ملزمان نے اپنے اکاؤنٹنٹ کے ذریعے تاجر کو 15 لاکھ روپے تو واپس کر دیے، لیکن بقایا 35 لاکھ روپے لوٹانے کے بجائے ٹال مٹول کرنے لگے۔ بالآخر سریش پوار نے پولس سے رجوع کر کے باقاعدہ شکایت درج کرائی۔  

ناسک پولیس اب تک اس گروہ کے چھ ملزمان (تنئے مہاجن، نریندر مہاجن، شعیب احمد شیخ، عبد الرئیس شیخ، شکیل احمد شیخ اور محمد وسیم) کو جلگاؤں کے جامنیر سے گرفتار کر چکی ہے۔ تمام ملزمان کی پولس کسٹڈی ختم ہونے پر انہیں دوبارہ عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ پولس کا کہنا ہے کہ اس ریکیٹ میں اور بھی لوگ شامل ہو سکتے ہیں اور معاملے کی مزید گہرائی سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

پانچ ملزمان گرفتار، دو فرار،عدالت میں پیشی ،کیس کی ہر زاویے سے تفتیش جاری

مالیگاؤں: مالیگاؤں کے 60 فٹی روڈ پر پیش آئے سنسنی خیز قتل کیس میں پوارواڑی پولیس نے تیز رفتار کارروائی کرتے ہوئے پانچ ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ دو دیگر ملزمان ابھی تک فرار ہیں۔ پولیس نے گرفتار افراد کو مقامی عدالت میں پیش کرکے ریمانڈ حاصل کر لیا ہے اور فرار ملزمان کی تلاش کے لیے مختلف مقامات پر چھاپہ ماری جاری ہے۔

پولیس کے مطابق یہ خونی واردات 14 اگست کی شام تقریباً ساڑھے پانچ بجے نائرا پیٹرول پمپ کے سامنے ایک خالی ٹرالی پر پیش آئی۔ متوفی محمد زبیر محمد امین انصاری اپنے بھائی عبید کے ساتھ وہاں موجود تھے کہ اسی دوران حملہ آور اچانک وہاں پہنچے اور تیز دھار ہتھیاروں سے حملہ کر کے زبیر کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔قتل کی اطلاع ملتے ہی پوارواڑی پولیس حرکت میں آ گئی اور خصوصی ٹیم تشکیل دے کر ملزمان کی تلاش شروع کی گئی۔ پولیس انسپکٹر راہل کھتاڑ کی نگرانی میں ڈی بی ٹیم نے برق رفتاری سے کارروائی کرتے ہوئے پانچ ملزمان رضوان شاہ حسن شاہ، عرفان شاہ حسن شاہ، عمر فاروق، اسلم شاہ اور واحد کالیا کو گرفتار کر لیا۔

پولیس نے بتایا کہ اس معاملے میں سات افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، جن میں سے پانچ کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ دو ملزمان اب بھی قانون کی گرفت سے باہر ہیں۔ ان کی تلاش کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور جلد گرفتاری کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔یہ مقدمہ پوارواڑی پولیس اسٹیشن میں جرائم رجسٹر نمبر 231/2026 کے تحت بھارتیہ نیائے سنہیتا (BNS) کی دفعہ 103 (قتل) کے تحت درج کیا گیا ہے۔تحقیقات کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ 13 اگست کو دونوں فریقوں کے درمیان جھگڑا ہوا تھا، جسے علاقے کے بزرگوں نے مداخلت کرکے ختم کرا دیا تھا۔ تاہم بعد ازاں گالی گلوچ اور تنازع دوبارہ شدت اختیار کر گیا، جس کا انجام قتل کی اس خونریز واردات کی صورت میں سامنے آیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق دونوں فریقوں کے خلاف ماضی میں بھی بعض مقدمات درج رہ چکے ہیں۔پوارواڑی پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کی ہر زاویے سے تفتیش جاری ہے اور فرار ملزمان کو جلد گرفتار کرکے پورے معاملے سے پردہ اٹھایا جائے گا۔

Random Posts