TRENDING NOW

Recent News

News


موجودہ حالات میں ملسم لیڈران کی خاموشی پر آصف شیخ سنسنی خیز انکشافات کرینگے 

اورنگ آباد : مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن پر اقتدار حاصل کرنے والی انڈین سیکولر لارجسٹ اسمبلی آف مہاراشٹر (اسلام پارٹی) نے اپنی سیاسی سرگرمیوں کو ریاست کے مختلف اضلاع تک وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسی سلسلے میں پارٹی کے کارپوریٹرس اور سرکردہ قائدین پر مشتمل ایک وفد نے مراٹھواڑہ کا دورہ شروع کیا ۔اورنگ آباد، جالنہ ، ناندیڑ اور امراوتی سمیت اورنگ آباد ضلع و مراٹھواڑہ میں اسلام پارٹی کا دورہ جاری ہے ۔اس سلسلے میں وفد نے مذکورہ علاقوں میں اہم سیاسی شخصیات سے ملاقات کرتے ہوئے میٹنگ کی ۔ نادیڑ کے دیگلور ناکہ پر ڈے لائٹ فنکشن ہال میں منعقدہ میٹنگ میں اسلام پارٹی کے ناندیڑ کوآرڈی نیٹر سید حیدر پٹیل اور ان کی ٹیم کے اراکین سے تفصیلی گفتگو کی گئی۔جس میں ناندیڑ سمیت مراٹھواڑہ کے سیاسی حالات، مقامی عوامی مسائل اور اقلیتی علاقوں کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پارٹی قائدین نے ناندیڑ میں اسلام پارٹی کے تئیں عوامی دلچسپی کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے یہاں پارٹی کو بڑے پیمانے پر لانچ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس موقع پر اعلان کیا گیا کہ’ اسلام‘ پارٹی کے بانی اور مالیگاؤں کے سابق رکن اسمبلی آصف شیخ رشید بارہ جون بروز جمعہ کو مراٹھواڑہ کا دورہ کریں گے۔12 جون کو اورنگ آباد کے کھٹ کھٹ گیٹ پر واقع سہارا لانس و سہارا ہال میں ایک انقلابی جلسہ عام کا انعقاد جائے گا جس کے ذریعے پارٹی اپنی پالیسی، پروگرام اور عوامی ایجنڈا کو عوام کے سامنے پیش کرے گی۔ پارٹی ذمہ داران نے کہا کہ’ اسلام‘ پارٹی صرف انتخابی سیاست تک محدود نہیں ہے بلکہ دبے کچلے اور بنیادی سہولیات سے محروم طبقات کی آواز بننے کی کوشش کررہی ہے۔ ان کے مطابق کئی مسلم اکثریتی علاقوں میں آج بھی پکی سڑکوں، صاف پینے کے پانی، ڈرینج لائنوں اورصاف صفائی جیسی بنیادی سہولیات کا شدید فقدان ہے جبکہ عوام برسوں سے مسائل کا سامنا کررہے ہیں ۔ مالیگاؤں سے آئے ہوئے قائدین نے اسلام پارٹی کے بانی آصف شیخ رشید کو ایک بے باک، متحرک اور عوامی مسائل کے تئیں سنجیدہ لیڈر قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مالیگاؤں میں عوامی مسائل کے حل کیلئے نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں اسلام پارٹی کے نمائندے بڑی تعداد میں کامیاب ہوئے اور پارٹی کارپوریشن میں اقتدار حاصل کرتے ہوئے اپنا میئر منتخب کرانے میں بھی کامیاب رہی۔ پارٹی قائدین نے واضح کیا کہ جس طرح مالیگاؤں میں اسلام پارٹی نے اپنی مضبوط سیاسی شناخت قائم کی ہے، اسی طرز پر اب مراٹھواڑہ سمیت ریاست کے دیگر شہروں میں بھی پارٹی اپنی موجودگی مضبوط کرنے کی کوشش کرے گی۔ خاص طور پر اقلیتی اکثریتی علاقوں میں تنظیمی ڈھانچہ مضبوط کرنے اور نوجوانوں کو سیاست میں فعال کردار دینے پر توجہ دی جائے گی، اسی طرح موجودہ حالات میں ملسم لیڈران کی خاموشی، ندا خان معاملہ ،گئو ونش، وقف قانون وغیرہ پر آصف شیخ سنسنی خیز انکشافات کرینگے ۔ پارٹی کے ذمہ داران نے مجلس اتحاد المسلمین (ایم آئی ایم) کی کارکردگی پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ناندیڑ جالنہ اور اورنگ آباد کی عوام نے مجلس کو بڑی امیدوں کے ساتھ سیاسی حمایت دی تھی، مگر عوامی توقعات کے مطابق مسائل کے حل کیلئے مؤثر کام نہیں ہوسکا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آج بھی کئی مسلم بستیاں بنیادی سہولیات سے محروم ہیں جس کی وجہ سے عوام ایک متبادل سیاسی قیادت کی تلاش میں ہیں ۔ پارٹی قائدین نے مراٹھواڑہ کے نوجوانوں اور عوام سے اپیل کی کہ وہ بڑی تعداد میں ’ اسلام‘ پارٹی سے وابستہ ہوکر سماجی اور سیاسی تبدیلی کی اس تحریک کا حصہ بنیں۔خیال رہے مراٹھواڑہ کی عوام میں اسلام پارٹی کو مضبوط کرنے کیلئے سیاسی عہدوں کی تقسیم بھی کی جائے گی ۔یہاں شہری و ضلعی صدور، سیکرٹری اور ترجمان وغیرہ ذمہ داران کے نام کا اعلان بھی کیا جائے گا ۔

जनआंदोलन तथा आमरण अनशन जैसे आंदोलनात्मक कदम उठाने की भी चेतावनी

मालेगांव, दि. 1 जून 2027 : दरेगांव स्थित गट क्रमांक 38/2, 83 व उपगटों में जमीन घोटाला, वन भूमि अतिक्रमण, राजस्व चोरी व अनधिकृत औद्योगिक निर्माण को लेकर भारतीय जनता पार्टी ने मा. अपर जिल्हाधिकारी, नाशिक के समक्ष एक बार फिर कड़ी कार्रवाई की मांग की है और इसे प्रशासन को दी गई “अंतिम चेतावनी” बताया है।

भाजपा पदाधिकारियों द्वारा दिए गए निवेदन में कहा गया है कि ‘फेयर एक्सपोर्ट्स’ कंपनी, स्थानीय भूमाफिया व कुछ भ्रष्ट राजस्व अधिकारियों की मिलीभगत से शासन के करोड़ों रुपये के राजस्व की हानि की गई है तथा आदिवासी व आरक्षित वन भूमि का अवैध हस्तांतरण किया गया है।

भाजपा ने प्रशासन के समक्ष निम्न प्रमुख मांगें रखी हैं :

• महाराष्ट्र जमीन राजस्व संहिता, 1966 की धारा 53 के अंतर्गत गट क्र. 83, 83/14, 83/15, 83/16 व 83/17 पर स्थित सभी अनधिकृत औद्योगिक निर्माणों पर तत्काल बुलडोजर कार्रवाई कर उन्हें ध्वस्त किया जाए।

• शासन का बकाया 83,04,000 रुपये नजराना तथा अनधिकृत उपयोग के लिए लगाए जाने वाले 40 गुना दंड संबंधितों की संपत्ति जब्त कर वसूला जाए।

• संबंधित जमीनों के 7/12 उतारे पर दर्ज निजी व कंपनी के नाम रद्द कर कब्जेदार के स्थान पर “महाराष्ट्र शासन (आरक्षित वन)” दर्ज किया जाए।

• आदिवासी वन भूमि के अवैध हस्तांतरण के मामले में संबंधित गैर-आवेदक तथा जिम्मेदार तलाठी व मंडल अधिकारियों पर मकोका (MCOCA) व अनुसूचित जाति-जनजाति अत्याचार निवारण अधिनियम के तहत मामले दर्ज किए जाएं।

भाजपा पदाधिकारियों ने यह भी कहा कि माननीय मुख्यमंत्री तथा राजस्व मंत्री के निर्देश पर जांच समिति गठित की गई है, लेकिन अब तक रिपोर्ट शासन को प्रस्तुत नहीं की गई है। इसलिए प्रशासन बिना किसी देरी के तत्काल सख्त कार्रवाई करे।

अन्यथा भारतीय जनता पार्टी लोकतांत्रिक तरीके से तीव्र जनआंदोलन शुरू करेगी तथा आमरण अनशन जैसे आंदोलनात्मक कदम उठाने की चेतावनी दी गई है।

इस अवसर पर भाजपा विधि प्रकोष्ठ शहर अध्यक्ष एड. योगेश निकम, इंजी. हर्षल पवार व प्रमोद गांगुर्डे उपस्थित थे।


وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس نے سخت مذمت کی, حکومت ملزم کیلئے سزائے موت کا مطالبہ کرے گی
مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے پونے کے بھور میں ایک نابالغ کے ساتھ زیادتی اور قتل کی بے رحمانہ واردات کی کڑی مذمت کی اور کہا کہ ریاستی حکومت ملزمان کیلئے سزائے موت کا مطالبہ کرے گی اور تیز رفتار مقدمے کو یقینی بنائے گی۔
 ملزم، 65 سالہ شخص، کو سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے گرفتار کیا گیا۔ اس واردات سے گاؤں میں شدید غم وغصہ اور زبردست احتجاج دیکھنے میں آیا اور مقامی لوگوں نے سخت سزا کا مطالبہ کیا. دیویندر فڑنویس نے میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا کہ بھور میں ہوا واقعہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور ہم سخت ترین سزا کا مطالبہ کرتے ہیں. یہ مقدمہ فاسٹ ٹریک عدالت میں سنا جائے گا۔ مذکورہ واقعہ پونے کے بھور تعلقہ کے نسر پور گاؤں میں پیش آیا جہاں ایک نابالغ بچی تعطیلات منانے اپنی دادی کے ساتھ رہنے آئی تھی, مبینہ طور پر گاؤں کے ایک 65 سالہ شخص نے اسے بہکایا. پولیس کے مطابق ملزم نے مبینہ طور پر بچی کو مویشیوں کے شیڈ میں لے جاکر اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی اور اس کے بعد پتھر سے کچل کر بے رحمی سے قتل کردیا.ثبوت مٹانے کیلئے لاش کو مبینہ طور پر گائے کے گوبر کے نیچے چھپا دیا. واقعہ اس وقت منظر عام پر آیا جب بچی کے لاپتہ ہونے کا علم ہوا, خاندان کے لوگوں اور مقامی افراد نے تلاش کیا اور اسی دوران اس کی لاش برآمد ہوئی. سی سی ٹی وی فوٹیج میں بچی کو ساتھ لے کر جاتے ہوئے ملزم کی فوٹیج سے پولیس نے ملزم کو حراست میں لیا. احتجاجاً سڑک کو روکا گیا, نسر پور میں احتجاجاً بند منایا گیا دوکانیں اور کاروبار بند رہے.بھیروناتھ مندر سے بھی ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔

کچرے سے ہائی فیشن ملبوسات بنا کر ایک ماہ میں 10 لاکھ فالوورز حاصل کئے

ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والا نوجوان فیشن کریئیٹر Kaluputics (ممکنہ نام: Kaleab) ان دنوں سوشل میڈیا، خاص طور پر انسٹاگرام پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ صرف اپریل 2026 کے دوران اس نے چند ویڈیوز کی مدد سے ایک ماہ کے اندر 10 لاکھ سے زائد فالوورز حاصل کر کے عالمی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔

Kaluputics کی خاص پہچان اس کا منفرد انداز ہے، جس میں وہ روزمرہ کے استعمال کے بعد پھینکے جانے والے سامان جیسے پلاسٹک بوتلیں، ٹائر، کارڈبورڈ اور بیگز کو استعمال کر کے ہائی فیشن طرز کے ملبوسات تیار کرتا ہے۔ اس کی ویڈیوز میں تیز رفتار ایڈیٹنگ، ڈرامائی انٹری اور رن وے اسٹائل واک شامل ہوتی ہے، جو ناظرین کو فوری طور پر اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اس کی کامیابی کی بڑی وجہ صرف فیشن نہیں بلکہ اس کا “کچرے سے تخلیق” (Upcycling) کا تصور ہے، جو ماحولیاتی شعور، تخلیقی صلاحیت اور محدود وسائل کے باوجود کچھ بڑا کرنے کا پیغام دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے ویڈیوز نہ صرف افریقہ بلکہ یورپ اور ایشیا میں بھی بڑے پیمانے پر شیئر کیے جا رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر بعض اطلاعات یہ بھی سامنے آئی ہیں کہ انسٹاگرام (Meta) کی جانب سے Kaluputics سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ اسے بطور فیچرڈ کریئیٹر پیش کیا جا سکے، تاہم کہا جا رہا ہے کہ وہ فی الحال ان رابطوں کا جواب نہیں دے رہا۔

البتہ اس حوالے سے ابھی تک کوئی باضابطہ یا تصدیق شدہ بیان سامنے نہیں آیا، اس لیے اس دعوے کو احتیاط کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ Kaluputics کی تخلیقات کا موازنہ بین الاقوامی فیشن برانڈز سے بھی کیا جا رہا ہے، اور کچھ صارفین نے تبصرہ کیا ہے کہ بڑے فیشن ہاؤسز کو بھی اس کے منفرد آئیڈیاز سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر Kaluputics اسی تسلسل کے ساتھ کام جاری رکھتا ہے تو وہ جلد ہی عالمی فیشن انڈسٹری میں ایک نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے، جبکہ برانڈ کولیبوریشنز اور اپنی فیشن لائن لانچ کرنے کے بھی روشن امکانات موجود ہیں۔

گرین انرجی منصوبے کو منظوری "ہریت مہاراشٹر کمیشن(گرین مہاراشٹر کمیشن)" کے قیام کا اعلان

ممبئی: مہاراشٹر حکومت نے ریاست میں ماحولیات کے تحفظ اور توانائی کے شعبے میں بڑی پیش رفت کرتے ہوئے 2047 تک 300 کروڑ درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے "ہریت مہاراشٹر کمیشن(گرین مہاراشٹر کمیشن)" کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے۔ بدھ کے روز منعقدہ کابینہ اجلاس میں تقریباً 12 ہزار 303 کروڑ روپے کے اخراجات والے منصوبے کو منظوری دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:........آئی پی ایل میچ کے دوران ریان پراگ کا ویپنگ کرتے ہوئے ویڈیو وائرلa.html

اس منصوبے کے تحت ریاست میں قابلِ تجدید توانائی کا حصہ 2030 تک 17 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد تک لے جانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ شجرکاری کی ذمہ داری ہریت مہاراشٹر کمیشن پر ہوگی، جس کے چیئرمین وزیر اعلیٰ ہوں گے، جبکہ نائب وزیر اعلیٰ نائب چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دیں گے۔ اس کے علاوہ وزیر جنگلات، وزیر ماحولیات، وزیر زراعت اور روزگار گارنٹی اسکیم کے وزیر شریک نائب چیئرمین ہوں گے۔

حکومت کی جانب سے شجرکاری کے لیے زمین کی دستیابی اور لینڈ بینک کی تیاری پر خاص توجہ دی جائے گی۔ فی الحال 29 ہزار مربع کلومیٹر زمین دستیاب ہے، جبکہ 300 کروڑ درخت لگانے کے لیے تقریباً 27 لاکھ ہیکٹر زمین درکار ہوگی۔

اسی اجلاس میں "Accelerating Green Energy and Storage Technologies Integration in Connected Grid" اسکیم اور اس کے ابتدائی پروجیکٹ رپورٹ کو بھی منظوری دی گئی، جس کا مقصد توانائی کے استعمال میں اضافہ، ترسیلی نظام کو مضبوط بنانا اور توانائی ذخیرہ کرنے کی جدید ٹیکنالوجی کو فروغ دینا ہے۔

کابینہ نے ضلع رتناگیری کے ناچنے علاقے میں ایک نئے مرکزی ودیالیہ (کیندرِیہ ودیالیہ) کے قیام کے لیے ڈھائی ہیکٹر زمین فراہم کرنے کی بھی منظوری دی۔ اس سے کوکن خطے کے طلبہ کو بہتر تعلیمی سہولیات میسر آئیں گی۔ مرکزی حکومت کی جانب سے ملک بھر میں 85 نئے کیندرِیہ ودیالیہ قائم کیے جا رہے ہیں، جن میں مہاراشٹر کے اکولا اور رتناگیری شامل ہیں۔

مزید برآں، ریاست میں غیر سرکاری تنظیموں کے زیر انتظام امدادی آشرم اسکولوں کے غیر تدریسی عملے کے لیے 12 اور 24 سال کی خدمات کے بعد ترقیاتی اسکیم نافذ کرنے کی منظوری دی گئی ہے، جس سے 556 آشرم اسکولوں کے 7 ہزار 562 ملازمین مستفید ہوں گے۔

کابینہ نے ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے نام سے لندن اسکول آف اکنامکس اینڈ پولیٹیکل سائنس میں ایک چیئر قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت ڈاکٹریٹ کے لیے اسکالرشپ فراہم کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد امبیڈکر کے نظریات کو عالمی سطح پر فروغ دینا اور سماجی انصاف، آئینی جمہوریت اور انسانی حقوق پر تحقیق کو بڑھانا ہے۔

Random Posts