TRENDING NOW

Recent News

News

چند بی ایل اوز کی شکایت، عوام کے ووٹ کا تحفظ اولین ترجیح، فارم تقسیم و ڈیجیٹائزیشن میں رکاوٹیں ناقابلِ برداشت: اسلام پارٹی کی جائزہ میٹنگ 

مالیگاؤں : اسلام پارٹی کی جانب سے تمام عہدیداروں، کارپوریٹروں اور ورکروں کی ایک اہم جائزہ میٹنگ سکینہ ہال نئے فاران ہاسپٹل کے سامنے جمعہ کو بعد نماز عشاء پارٹی کے صدر نوید خطیب کی صدارت میں منعقد کی گئی، جس میں عوام کو درپیش مسائل، خصوصی طور ایس آئی  سروے فارم تقسیم اور ڈیجٹائزیشن کے عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اس میٹنگ  میں ورکروں اور کارپوریٹرس کی جانب سے بتایا گیا کہ کئی علاقوں میں بعض بی ایل اوز (BLOs) کی جانب سے ووٹروں میں فارم تقسیم نہیں کیے جا رہے ہیں،جس کی وجہ سے عوام کو شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ میٹنگ میں کارکنان کو ہدایت دی گئی کہ وہ گھر گھر پہنچ کر عوام میں بیداری پیدا کریں، وارڈ وائز اور ووٹر لسٹ کے مطابق اہل ووٹروں کی شناخت کرتے ہوئے فارم تقسیم کرائیں اور انہیں بھروا کر جمع کرنے میں مکمل تعاون کریں۔اس میٹنگ میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ عوام اور بی ایل اوز کے درمیان بہتر رابطہ قائم کیا جائے اور تمام بی ایل اوز سے اپیل کی جائے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری ایمانداری اور تیزی کے ساتھ انجام دیں تاکہ کوئی بھی اہل ووٹر اپنے حقِ رائے دہی سے محروم نہ رہے۔

آصف شیخ کی قیادت میں اسلام پارٹی نے اعلان کیا کہ بی ایل اوز کے کام سے متعلق تمام شکایات پرانت آفیسر کے سامنے پیش کی جائیں گی اور ان مسائل کے فوری حل کی کوشش کی جائے گی۔ اس موقع پر آصف شیخ نے کہا کہ پرانت آفیسر کی رپورٹ کے مطابق تقریباً 50 فیصد بی ایل اوز قابلِ تعریف انداز میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں اور اسلام پارٹی ایسے بی ایل اوز کا استقبال اور حوصلہ افزائی کرے گی، جبکہ باقی 50 فیصد بی ایل اوز کی کارکردگی غیر اطمینان بخش ہے، جن کی وجہ سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔میٹنگ میں آصف شیخ نے کہا کہ یہاں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ اگر پیر تک بی ایل اوز کے طریقۂ کار میں بہتری نہیں آئی تو اسلام پارٹی کی جانب سے وارڈ وائز "راستہ روکو" احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔ اس کے علاوہ پارٹی نے الزام عائد کیا کہ بعض بی ایل اوز جان بوجھ کر فارم تقسیم نہیں کر رہے ہیں، جس کی شکایت سابق رکن اسمبلی آصف شیخ نے متعلقہ انتخابی افسران میں پرانت آفسیر ،کمشنر اور پولس انتظامیہ سے بھی کی ہے۔

 آصف شیخ نے کہا کہ اگر ان تمام مسائل کو جلد از جلد حل نہیں کیا گیا تو 29 تاریخ کے بعد کسی بھی وقت اور کسی بھی مقام پر ہنگامی دھرنا اور احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی، جس کی مکمل ذمہ داری انتظامیہ پر ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر احتجاج کے دوران پولیس انہیں گرفتار بھی کرتی ہے تو وہ اس کے لیے تیار ہیں، تاہم عوامی خدمت اور ووٹروں کے حقوق کے تحفظ کی جدوجہد سے ہرگز پیچھے نہیں ہٹیں گے۔آصف شیخ نے کہا کہ آئندہ جمعہ کو وارڈ وائز اسلام پارٹی کے ورکر گلی گلی گھوم کر عوام کے فارم جمع کرنے کیلئے بیداری لائیں ۔اپنے تمام کام درکنار کر عوامی خدمت کیلئے اپنے آپ کو وقف کریں ۔انہوں نے کہا کہ عوام سب دیکھ رہی ہے کہ کون ایسے مشکل حالات میں عوام کے ساتھ کھڑا ہے اس لیے عوام کے فارم بھریں اور جمع کریں ۔آصف شیخ نے کہا کہ کاغذات کیلئے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، پہلے اپنا فارم بھریں اور جمع کریں ۔آئندہ بھی اسلام پارٹی نوٹس اور شنوائی کے وقت عوام کے کاغذات درست کروانے کیلئے مدد کرنے تیار ہے ۔اس موقع پر اسلام پارٹی کے تمام عہدیداروں ورکروں اور کارپوریٹرس موجود تھے ۔

اسلام پارٹی کے تمام کارپوریٹرس کو خود کو 15 دنوں کیلئے SIR مہم کیلئے وقف کرنے کی ہدایت

مالیگاؤں: مالیگاؤں شہر کے سابق رکن اسمبلی و اسلام پارٹی کے رہنما آصف شیخ رشید نے آج پرانت آفیسر نتن سدگیر سے ملاقات کرکے شہر میں جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) مہم اور انومریشن فارموں کے ڈیجیٹائزیشن عمل کا جائزہ لیا۔ ملاقات کے دوران حاصل ہونے والی معلومات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے عوام اور بی ایل اوز (BLOs) سے فوری تعاون کی اپیل کی۔آصف شیخ نے بتایا کہ پرانت آفیسر کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق اب تک SIR فارموں کے ڈیجیٹائزیشن کا صرف 42 فیصد کام مکمل ہو سکا ہے، جبکہ 38 فیصد شہریوں نے فارم حاصل کرنے کے باوجود اپنے BLO کے واپس جمع نہیں کرائے اور 20 فیصد افراد ایسے ہیں جنہوں نے ابھی تک اپنے متعلقہ بی ایل او سے فارم وصول ہی نہیں کیا ہے۔انہوں نے شہر کے تمام ووٹرس سے اپیل کی کہ وہ دیگر مصروفیات کو مؤخر کرکے فوری طور پر اپنے بی ایل او سے رابطہ کریں، انومریشن فارم حاصل کریں، درست معلومات کے ساتھ اسے پُر کریں اور بلا تاخیر واپس جمع کرائیں تاکہ کسی بھی شہری کا ووٹ ڈیلیٹ نہ ہوسکے۔

آصف شیخ نے کہا کہ بیشتر بی ایل اوز اپنی ذمہ داریاں خوش اسلوبی سے انجام دے رہے ہیں، تاہم موجودہ صورتحال کے پیش نظر انہیں مزید تیز رفتاری سے وارڈ وائز گھر گھر پہنچ کر فارم تقسیم کرنے، جمع کرنے اور ڈیجیٹائزیشن کے عمل کو جلد از جلد مکمل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اگر کسی بی ایل او کو رضاکارانہ مدد درکار ہو تو اسلام پارٹی کے کارپوریٹرس اور کارکن ہر ممکن تعاون کیلئے تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں شہریوں کے جمہوری حق، یعنی حقِ رائے دہی کے تحفظ کیلئے سب کو متحد ہوکر کام کرنا ہوگا تاکہ کوئی بھی اہل ووٹر اس عمل سے محروم نہ رہ جائے۔

دریں اثنا، آصف شیخ رشید اور اسلام پارٹی کے صدر نوید خطیب احمد نے پارٹی کے تمام کارپوریٹرس کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آئندہ 15 دنوں تک اپنی تمام سیاسی سرگرمیوں کو مؤخر کرکے صرف SIR مہم پر توجہ دیں۔ ہدایت میں کہا گیا ہے کہ ہر کارپوریٹر اپنے اپنے وارڈ میں عوام کو فارم حاصل کرنے، اسے درست طریقے سے بھرنے اور متعلقہ بی ایل او کے پاس جمع کرانے تک مکمل رہنمائی اور تعاون فراہم کرے۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے مہاراشٹر سمیت ملک کی مختلف ریاستوں میں 30 جون سے SIR سروے کا آغاز کیا گیا ہے، جو 8 اگست تک جاری رہے گا۔ اس دوران ووٹرس کے انومریشن فارم بھرے جا رہے ہیں، اور اسلام پارٹی نے اپنے تمام منتخب نمائندوں کو عوام کے ووٹنگ کے حق کے تحفظ کیلئے بھرپور کردار ادا کرنے کی ہدایت دی ہے۔

الیکشن کمیشن ایکشن موڈ میں:  ناسک ایم ایل سی انتخاب میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا حکم

ناسک : ناسک ضلع کے مقامی خود مختار اداروں کے حلقۂ انتخاب سے قانون ساز کونسل (ودھان پریشد) کے انتخاب میں مہایوتی کے امیدوار دراڑے کی غیر متوقع شکست کے بعد مالی بے ضابطگیوں اور مبینہ رقم کی تقسیم کے الزامات نے ریاست کی سیاسی فضا میں ہلچل مچا دی ہے۔ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے الیکشن کمیشن نے ایکشن موڈ اختیار کرتے ہوئے تحقیقات کا حکم جاری کر دیا ہے۔ذرائع کے مطابق، ضلع الیکشن حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ پورے معاملے کی مکمل جانچ کرکے جلد از جلد اپنی رپورٹ پیش کریں۔ ناسک کی ایڈیشنل ضلع کلکٹر و ایڈیشنل ضلع الیکشن آفیسر مدھومتی سردیسائی نے متعلقہ افسران کو فوری تحقیقات مکمل کرنے اور رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت دی ہے۔

یہ کارروائی کوپرگاؤں کے سنجے کالے کی جانب سے دراڑے برادران کے خلاف کی گئی شکایت کے بعد عمل میں آئی ہے۔ شکایت میں انتخابی عمل کے دوران مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔دوسری جانب اس معاملے پر ردِعمل دیتے ہوئے رکنِ اسمبلی کشور دراڑے نے کہا کہ انہیں اس شکایت کے بارے میں فی الحال کوئی باضابطہ اطلاع یا نوٹس موصول نہیں ہوا ہے۔ ان کے مطابق، "کس نے اور کہاں میرے خلاف شکایت درج کرائی، اس بارے میں مجھے کوئی علم نہیں۔ ابھی تک مجھے کوئی نوٹس بھی نہیں ملا ہے۔ اگر نوٹس موصول ہوتا ہے تو اس کے بعد آئندہ کا فیصلہ کیا جائے گا۔"سیاسی حلقوں میں اس معاملے پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ تحقیقات کی رپورٹ آنے کے بعد مزید پیش رفت متوقع ہے۔


 کارپوریشن میں کمشنر، آصف شیخ، ایڈیشنل ایس پی سورج گنجال اور گٹ نیتا خالد حاجی کی مشترکہ میٹنگ میں اہم فیصلہ 

​مالیگاؤں : مالیگاؤں شہر کو نشہ اور جرائم سے پاک کرنے کی سمت میں مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن نے ایک انتہائی اہم اور بڑا فیصلہ کیا ہے۔ شہر کے ایسے نوجوان اور بچے جو مختلف قسم کے نشوں (جیسے کتا گولی وغیرہ) کے عادی ہو کر ذہنی توازن کھو چکے ہیں اور بے قابو ہوچکے ہیں، ان کے علاج اور بحالی کیلئے کارپوریشن کی جانب سے ایک جدید نشہ مکتی مرکز قائم کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے کارپوریشن کے جنرل بجٹ میں باقاعدہ فنڈ کا انتظام  کیا گیا ہے۔اس طرح کی تفصیلات سابق رکن اسمبلی آصف شیخ نے دی ۔انہوں نے بتایا کہ شہریان کے بہتر مستقبل، حفظان صحت اور سیکورٹی کے نقطہ نظر سے بھی آج اہم فیصلہ لیا گیا ۔

آصف شیخ کے مطابق ​اس سلسلے میں دوسرا بڑا فیصلہ شہر میں امن و امان قائم رکھنے اور جرائم پر قابو پانے کے حوالے سے کیا گیا ہے۔ پولس ڈپارٹمنٹ کی تیار کردہ فہرست اور تجویز کے مطابق، شہر کے جن پولس اسٹیشنوں کی حدود میں جرائم کی شرح زیادہ ہے، وہاں کے حساس چوک چوراہوں پر سی سی ٹی وی (CCTV) کیمرے نصب کیے جائیں گے۔ اس اہم پروجیکٹ کیلئے بجٹ میں 2 کروڑ روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔

​ان دونوں اہم موضوعات پر تفصیلی غور و خوض اور حکمت عملی وضع کرنے کیلئے مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کے کمشنر، ایڈیشنل ایس پی سورج گنجال، ڈپٹی کمشنر کماوت میڈم اور اسلام پارٹی کے بانی و قائد آصف شیخ و کارپوریٹر خالد حاجی کے درمیان ایک اہم مشاورتی میٹنگ منعقد ہوئی۔ میٹنگ میں شہر کی فلاح و بہبود اور نوجوان نسل کو نشے کے دلدل سے نکالنے کیلئے ان دونوں منصوبوں پر جلد از جلد کام شروع کرنے کا فیصلہ ظاہر کیا گیا۔

مالیگاؤں پرانت آفس سے مکمل رپورٹ ممبئی طلب کی جائے گی، ریاستی الیکشن کمیشن کا مستقیم ڈگنیٹی کو تیقن 

​مالیگاؤں : شہر مالیگاؤں میں سرکاری الیکٹورل رجسٹریشن (SIR) کے کام کے دوران بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام انتخابی فہرست سے مبینہ طور پر خارج کیے جانے کا ایک انتہائی تشویشناک اور سنگین معاملہ سامنے آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، ایسے تقریباً 300 افراد جن کا گزشتہ اپریل میں باقاعدہ میپنگ کا عمل مکمل کروایا گیا تھا اور جنہوں نے جنوری میں منعقدہ میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال بھی کیا تھا، اب نئی فہرستوں اور انومریشن فارم کی لسٹ سے ان کے نام غائب پائے گئے ہیں اور وہ ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم ہو چکے ہیں۔اس ضمن میں سماجوادی پارٹی کے مقامی رہنما مستقیم ڈگنٹی نے اس ناانصافی کے خلاف فوری طور پر آواز بلند کی ہے۔ انہوں نے ووٹروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سب سے پہلے مقامی سطح پر پرانت آفیسر سے مالیگاؤں میں ایک تحریری شکایت درج کروائی تھی، تاہم وہاں سے کوئی مثبت ردعمل یا مسئلہ کا تسلی بخش حل نہ نکلنے پر انہوں نے سیدھے صوبائی دارالحکومت ممبئی کا رخ کیا اور الیکشن منسٹری پہنچ کر اعلیٰ حکام کے سامنے یہ معاملہ اٹھایا۔

​ممبئی کے دورے کے دوران چیف الیکشن آفیسر سے مصروفیات کے باعث ملاقات ممکن نہ ہو سکی، جس کے بعد مستقیم ڈگنٹی نے ڈپٹی الیکشن آفیسر منوہر پاریکر  سے تفصیلی ملاقات کی اور انہیں صورتحال کی سنگینی سے آگاہ کیا۔ملاقات کے آغاز میں ڈپٹی الیکشن آفیسر نے معاملے کو عام ووٹرز کا انفرادی مسئلہ سمجھا، لیکن جب مستقیم ڈگنٹی نے اپریل کی میپنگ اور جنوری کے بلدیاتی انتخابات میں ان ووٹرز کی شرکت کے ٹھوس شواہد اور ریکارڈز پیش کیے، تو انہوں نے بھی اس بات کو تسلیم کیا کہ اتنی بڑی تعداد میں ووٹس محض تین ماہ کے قلیل عرصے میں تکنیکی یا قانونی طور پر نہیں کاٹے جا سکتے۔ ڈپٹی الیکشن آفیسر نے وفد کو یقین دلایا کہ وہ اس معاملے میں مالیگاؤں کے مقامی حکام سے فوری رپورٹ طلب کر رہے ہیں اور رپورٹ موصول ہونے کے بعد اگلا سخت اقدام کیا جائے گا۔

​دوسری جانب سماجوادی پارٹی کے رہنما مستقیم ڈگنٹی نے انتظامیہ کو دو ٹوک الفاظ میں انتباہ دیا ہے کہ اگر 20 اپریل تک میپنگ کروائے گئے تمام متاثرہ ووٹرز اور کارپوریشن انتخابات میں ووٹ ڈالنے والوں کو فوری طور پر انتخابی انومریشن فارم فراہم کر کے ان کے نام بحال نہیں کیے گئے، تو 21 جولائی کو مالیگاؤں پرانت کچہری کے سامنے ایک عظیم الشان احتجاجی مظاہرہ سہیوگ اندولن کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سماجوادی پارٹی شہر کے عوام کے ساتھ ہونے والی اس ناانصافی پر کسی بھی صورت خاموش نہیں بیٹھے گی اور عوامی حقوق کی بحالی تک تحریک جاری رکھے گی۔اس موقع پر انصاری عبد الرحمن بھی موجود تھے ۔​یہ پورا واقعہ موجودہ انتخابی عمل کی شفافیت، انتظامیہ کی کارکردگی اور عوامی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے کئی سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ اب تمام حلقوں کی نظریں الیکشن کمیشن کی جانب سے طلب کی گئی رپورٹ اور اس پر ہونے والی اگلی کارروائی پر ٹکی ہوئی ہیں۔

Random Posts