TRENDING NOW

Recent News

News

تاجروں کا ریاستی حکومت کو 15 دنوں کا الٹی میٹم

ناسک: ریاست کے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کے کمشنر تکارام منڈھے نے پورے مہاراشٹر میں خوردہ (غیر پیک شدہ) کھانے کے تیل کی فروخت اور خریداری پر سخت پابندی عائد کر دی ہے۔ اس فیصلے کے خلاف ریاست بھر کے کھانے کے تیل کے تاجروں نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ناسک میں منعقدہ ایک اہم اجلاس میں تاجروں نے اس فیصلے پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ریاستی حکومت کو 15 دن کا الٹی میٹم دے دیا ہے۔

اجلاس میں تاجروں نے واضح کیا کہ اگر 15 دن کے اندر خوردہ تیل کی فروخت پر عائد پابندی واپس نہ لی گئی تو وہ ریاست بھر میں سڑکوں پر اتر کر بڑا احتجاج کریں گے۔ ضرورت پڑنے پر وہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے اور مرکزی حکومت سے بھی اس معاملے پر رابطہ کریں گے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ قواعد کی خلاف ورزی پر دس لاکھ روپے تک جرمانہ اور قید کی سزا انتہائی ناانصافی ہے اور انہوں نے غصے میں سوال اٹھایا کہ کیا انہیں انتہا پسند سمجھا جا رہا ہے؟

دوسری جانب کمشنر تکارام منڈھے نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ کھانے کے تیل میں ملاوٹ یا قواعد کی خلاف ورزی پر سات سال سے لے کر عمر قید تک کی سزا اور دس لاکھ روپے تک جرمانے کا اطلاق ہے۔ انہوں نے صارفین سے اپیل کی ہے کہ وہ خوردہ تیل بالکل نہ خریدیں بلکہ صرف پیک شدہ تیل خریدیں اور اس کے لیبل، سیل اور میعاد ختم ہونے کی تاریخ ضرور چیک کریں۔

منڈے نے بتایا کہ خوردہ اور ملاوٹی تیل کا مسئلہ صرف اقتصادی دھوکہ دہی تک محدود نہیں بلکہ یہ براہ راست عوام کی صحت سے جڑا ہوا ہے۔ ایسے تیل کے استعمال سے کینسر، دماغی امراض اور ہائی بلڈ پریشر جیسے سنگین امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ ایک بار تلے ہوئے تیل کو گھر میں بار بار استعمال نہ کیا جائے اور ہوٹلوں میں بھی اگر وہی تیل بار بار استعمال ہو رہا ہو تو وہاں کھانا کھانے سے گریز کیا جائے۔

یہ فیصلہ صارفین کی صحت کے تحفظ کے لیے لیا گیا ہے تاہم تاجروں کا دعویٰ ہے کہ اس سے روایتی کاروبار اور عام صارفین پر منفی اثر پڑے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ریاستی حکومت تاجروں کے الٹی میٹم پر کیا ردعمل دیتی ہے۔

اب اس دن ہوں گے واک اِن انٹرویو، خواہش مند تعلیم یافتہ افراد توجہ دیں 

​مالیگاؤں: مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن نے نوزائیدہ این این واڈیا ہسپتال کو جلد از جلد فعال بنانے اور شہریوں کو معیاری طبی سہولیات فراہم کرنے کے مقصد سے کی جانے والی عارضی طبی بھرتی کے واک اِن انٹرویو کی تاریخ میں تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔ سابقہ اعلانیہ تاریخ 25 اگست کے بجائے اب یہ انٹرویو 7 ستمبر 2026 کو منعقد کیے جائیں گے۔

​کارپوریشن کے آستھاپنا محکمہ کی جانب سے جاری کردہ وضاحت کے مطابق، یہ تمام تقرریاں 6 ماہ کی عارضی بنیادوں (فکسڈ آنریریم) پر کی جا رہی ہیں۔


​بھرتی کی اہم تفصیلات:

​انٹرویو کی نئی تاریخ: 7 ستمبر 2026

​وقت: صبح 11:00 بجے سے شام 5:00 بجے تک

​مقام: مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن ہیڈ کوارٹر (قلعہ کے سامنے)، مالیگاؤں

​عہدے: میڈیسن، اینستھیشیا، بچوں و خواتین کے ماہر ڈاکٹرز، پیتھالوجسٹ، MBBS/BAMS میڈیکل آفیسرز، سسٹر انچارج، نرسنگ اسٹاف، فارماسسٹ، لیب و ایکس رے ٹیکنیشنز، ڈریسر اور دیگر امدادی عملہ۔

​ماہانہ اعزازیہ: 14,000 روپے سے 80,000 روپے تک (عہدے کے مطابق)

​عمر کی حد: 18 سے 38 سال (پسماندہ طبقات کے لیے 43 سال تک راحت)۔ سابقہ کووڈ یا میونسپل طبی خدمات انجام دینے والوں کے لیے بالائی عمر کی قید لاگو نہیں ہوگی۔

​امیدواروں کے لیے ضروری ہدایات:

خواہشمند و اہلیت رکھنے والے امیدواروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایک سادہ کاغذ پر مکمل تفصیلات (نام، پتہ، رابطہ نمبر، تعلیمی قابلیت اور تجربہ) کے ساتھ درخواست تیار کریں۔ انٹرویو کے وقت تمام تعلیمی اسناد، تجربی سرٹیفکیٹس (بیشتر عہدوں کے لیے کم از کم 3 سالہ تجربہ مطلوب)، اصل دستاویزات، ان کی تصدیق شدہ نقول اور پاسپورٹ سائز تصاویر ساتھ لانا لازمی ہے۔میونسپل کمشنر رویندرا جادھو کے دستخط سے جاری اس اشتہار میں واضح کیا گیا ہے کہ نااہل یا نامکمل دستاویزات والے امیدواروں کو شامل نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی کوئی سفری الاؤنس (TA/DA) دیا جائے گا۔

سرکاری ڈاکٹروں کی غفلت اور غریب مریضوں کے ساتھ تفریق پر شدید برہمی کا اظہار

​مالیگاؤں: مالیگاؤں شہر کے معروف تعلیمی ادارے شیخ رشید انسٹی ٹیوٹ آف لرننگ میں ایک اہم پریس کانفرنس کا انعقاد عمل میں آیا، جس میں سیکولر فرنٹ کے قائد آصف شیخ نے مقامی صحافیوں کے مختلف سوالات کے تفصیلی جوابات دیے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کے محکمہ صحت اور سول اسپتال انتظامیہ کی کارکردگی پر گہری تشویش اور شدید برہمی کا اظہار کیا۔

​آصف شیخ نے پریس کانفرنس کے دوران کارپوریشن کے محکمہ صحت کے ذمہ داران اور افسران کو سخت لہجے میں انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ صحت کے تمام سربراہان اور سرکاری ڈاکٹروں کو اپنی قومی و اخلاقی ذمہ داریاں ایمانداری کے ساتھ نبھانی ہوں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر طبی عملے اور انتظامیہ نے اپنے رویے اور کام کرنے کے انداز میں فوری بہتری نہ لائی تو ان کے خلاف سخت قانونی و عوامی موقف اختیار کیا جائے گا۔

​سرکاری اور سول اسپتالوں کی موجودہ حالت زار پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے سنگین الزام عائد کیا کہ ان طبی مراکز میں غریب، لاچار اور مستحق مریضوں کے ساتھ ناانصافی اور تفریق کا سلوک کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بروقت علاج اور مناسب دیکھ بھال نہ ملنے کے باعث عام شہری بنیادی اور ضروری طبی سہولیات حاصل کرنے سے محروم ہو رہے ہیں، جو کہ شدید تشویش کا باعث ہے۔

​انہوں نے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ اور سول اسپتال کی انتظامیہ کو واضح انتباہ دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے نظام اور کارکردگی میں فوری طور پر مثبت اور نمایاں سدھار لائیں۔ آصف شیخ نے خبردار کیا کہ اگر عوام کو طبی سہولیات کی فراہمی میں مزید لاپرواہی برتی گئی یا غریب مریضوں کے ساتھ تفریق کا سلسلہ بند نہ ہوا تو سخت انجام اور شدید کارروائی کے لیے تیار رہیں۔

میڈیکل کیمپ کیلئے ڈاکٹرس، کارپوریٹرس اور آفیسران پر مشتمل کمیٹی کی تشکیل، سیکولر فرنٹ کی پریس کانفرنس

​مالیگاؤں: مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن پر برسرِ اقتدار مالیگاؤں سیکولر فرنٹ کی جانب سے شہر کے غریب اور ضرورت مند عوام کو مفت طبی سہولیات فراہم کرنے کے مقصد سے ایک عظیم الشان "میئر فری میگا میڈیکل کیمپ" کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اس طرح کی تفصیلات میئر نسرین شیخ خالد صاحب کو ڈپٹی میئر شان ہند نہال احمد نے میڈیا کو دی ۔انہوں نے بتایا کہ مالیگاؤں کارپوریشن شہریان کو مفت طبی سہولیات فراہم کرنے کیلئے فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کررہی ہے تاکہ عوام کو بہتر اعلاج مفت میں مل سکے ۔اس سلسلے میں ایک اہم مشورتی میٹنگ کا انعقاد آج شیخ رشید انسٹی ٹیوٹ آف لرننگ میں سیکولر فرنٹ کے رہنما آصف شیخ کی قیادت میں ہوا، جس میں شیخ آصف کی سرپرستی کے ساتھ میئر نسرین شیخ ،ڈپٹی میئر شان ہند، اسٹینڈنگ کمیٹی چیئرمین اعجاز بیگ، گٹ نیتا خالد حاجی،گٹ نیتا مستقیم ڈگنیٹی ،ہاؤس لیڈر نہال انصاری سمت برسر اقتدار کے کارپوریٹرس اور کارپوریشن کے ڈاکٹرز نے شرکت کی۔

میٹنگ میں کئے گئے اہم فیصلہ پر روشنی ڈالتے ہوئے پریس کانفرنس سے آصف شیخ رشید نے بتایا گیا کہ اس دو روزہ میگا میڈیکل کیمپ کا مقصد مالیگاؤں شہر، سینٹرل اور اؤٹر اسمبلی حلقوں کے غریب عوام کو ایک ہی چھت کے نیچے اعلیٰ درجے کی طبی سہولیات فراہم کرنا ہے۔کیمپ کے لیے ممبئی، ناسک، اورنگ آباد اور دھولیہ جیسے بڑے شہروں کے ماہر ڈاکٹروں اور مالیگاؤں شہر کے بڑے اسپتالوں کی مدد لی جائے گی۔ کیمپ میں ای سی جی (ECG)، ایکس رے، سونوگرافی، 2D ایکو اور بلڈ ٹیسٹ جیسے تمام معائنے مفت کیے جائیں گے، جن کا تمام خرچ کارپوریشن برداشت کرے گی۔ اس کے علاوہ ضرورت مند مریضوں کے آپریشنز بھی کم سے کم خرچ یا سرکاری اسکیموں کے تحت کروانے کی کوشش کی جائے گی۔ کیمپ کو منظم اور کامیاب بنانے کے لیے ڈاکٹروں، سینئر افسران اور کارپوریٹرز پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے۔

سیاست کے لیے ہم ذات اور برادری کے جھنڈے لے کر گھروں سے باہر نکلتے ہیں، اسی طرح ہمیں اپنے بچوں کے اسکولوں کے لیے بھی متحد ہوکر باہر نکلنا چاہیے

کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے کنوینر ابھجیت دِپکے نے جمعرات کو مہاراشٹر کے وزیر برائے اسکولی تعلیم دادا بھسے کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے ریاست کے سرکاری اسکولوں کی مبینہ خستہ حالی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ متعدد سرکاری اسکولوں میں طلبہ کو مناسب کلاس روم، بینچ، بیت الخلاء اور اسکول تک پہنچنے کے لیے محفوظ راستوں جیسی بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں ہیں۔

ابھجیت دپکے نے یہ مطالبہ لاتور کے ضلع کے اوسا تعلقہ کے اوجانی گاؤں میں واقع ضلع پریشد اسکول کے دورے کے دوران کیا۔ وہ اپنی تنظیم کی جانب سے گزشتہ ہفتے شروع کی گئی ’’اسکول ٹھیک کرو‘‘ مہم کے تحت اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اسکولوں کی حالت کے لیے وزراء اور منتخب نمائندوں کو جوابدہ بنایا جانا چاہیے اور عوام کو سیاسی قائدین پر تعلیم کو ترجیح دینے کے لیے دباؤ ڈالنا چاہیے۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دپکے نے کہا کہ ریاست کے کئی اسکولوں میں اب بھی مناسب کلاس روم، بیٹھنے کے لیے بینچ، بیت الخلاء اور محفوظ راستوں جیسی بنیادی سہولیات موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض اسکولوں میں طلبہ کے ساتھ ’’جانوروں سے بھی بدتر‘‘ سلوک کرنے جیسی صورتحال پیدا ہوچکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ طلبہ کی زندگی کا سوال ہے۔ جب سیاسی رہنما طلبہ کے لیے کچھ نہیں کررہے ہیں تو عوام انہیں ووٹ کیوں دیں؟ کیا عوام انہیں صرف اس لیے ووٹ دیتے ہیں کہ وہ ہیلی کاپٹروں میں سفر کریں؟ عوام کو یہ دیکھنا چاہیے کہ ان کے بچے کن حالات میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ انہوں نے سخت الفاظ میں کہا کہ ان وزراء کے کتوں کو بھی اس سے بہتر سہولیات حاصل ہیں۔

دپکے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں پر تعلیم کے لیے کام کرنے کا دباؤ ڈالیں۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی سیاسی رہنما ووٹ مانگنے کے لیے گاؤں میں آئے تو عوام اسے کہیں کہ جب تک وہ تعلیم کے لیے کام نہیں کرتا، وہ ووٹ مانگنے ان کے دروازے پر نہ آئے۔

انہوں نے کہا کہ سیاست کے لیے ہم ذات اور برادری کے جھنڈے لے کر گھروں سے باہر نکلتے ہیں، اسی طرح ہمیں اپنے بچوں کے اسکولوں کے لیے بھی متحد ہوکر باہر نکلنا چاہیے۔

مذہب کے نام پر کی جانے والی سیاسی بیان بازی کا حوالہ دیتے ہوئے ابھجیت دپکے نے کہا کہ یہ لوگ مسلسل کہتے ہیں کہ مذہب خطرے میں ہے۔ اتنے برسوں میں مذہب ختم نہیں ہوا تو کیا آپ کے دورِ اقتدار میں وہ ختم ہوجائے گا؟ مذہب کہیں نہیں جائے گا، لیکن بچوں کا مستقبل ضرور متاثر ہوسکتا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزراء اور اراکین اسمبلی اپنے بچوں کو بھی سرکاری اسکولوں میں پڑھائیں تاکہ انہیں ان اسکولوں میں زیرِ تعلیم طلبہ کو درپیش حقیقی مسائل کا اندازہ ہوسکے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا دادا بھسے کو وزیرِ اسکولی تعلیم کے عہدے پر برقرار رہنا چاہیے تو دپکے نے کہا کہ اسکولوں کی موجودہ حالت دیکھ کر انہیں محسوس ہوتا ہے کہ وزیرِ تعلیم کو اس عہدے پر برقرار نہیں رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت واقعی سرکاری اسکولوں کی بہتری کی فوری ضرورت کو سمجھنا چاہتی ہے تو وزراء اور منتخب نمائندوں کو اپنے بچوں کو انہی اسکولوں میں تعلیم دینی چاہیے۔

دپکے نے مزید الزام لگایا کہ برسوں سے اقتدار میں رہنے کے باوجود موجودہ حکومت سرکاری اسکولوں کی حالت میں خاطر خواہ تبدیلی لانے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی طلبہ ایسے اسکولوں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں جہاں ٹین کی چھتیں ٹوٹی ہوئی یا رسنے والی ہیں اور مناسب تعداد میں بینچ بھی دستیاب نہیں ہیں۔ اگر دس سال میں یہ بنیادی مسائل حل نہیں کیے جاسکے تو حکومت کو بتانا چاہیے کہ اس نے کیا حاصل کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ CJP اور مقامی شہری اسکولوں کے مسائل کے خلاف اجتماعی طور پر آواز اٹھائیں گے اور حکومت سے مطالبہ کریں گے کہ ان طلبہ کے لیے محفوظ آمدورفت کا انتظام کیا جائے جو کئی کئی کلومیٹر پیدل چل کر اسکول پہنچتے ہیں۔

اسکولوں میں سانپ کے کاٹنے سے بچوں کی مبینہ اموات کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے دپکے نے کہا کہ ایسے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حکام طلبہ کو محفوظ ماحول میں تعلیم فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے پہلے CJP ٹیم کی جانب سے معائنہ کیے گئے ایک اسکول کے غیر صحت بخش ماحول پر بھی تشویش ظاہر کی اور الزام لگایا کہ اسکول کے پیچھے جمع کباڑ اور گندگی کی وجہ سے سانپوں کی موجودگی کے لیے سازگار حالات پیدا ہوگئے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ CJP کی جانب سے کیے گئے معائنوں کے بعد بعض اسکولوں میں متعلقہ حکام نے کام شروع بھی کیا ہے۔

ابھجیت دپکے نے جمہوریت کو مضبوط بنانے کے لیے عوامی شمولیت کو ضروری قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے دوبارہ اپنی آواز بلند کرنا شروع کردی ہے۔ جمہوریت میں مزید تنظیمیں اور تحریکیں سامنے آنی چاہئیں۔ جتنے زیادہ لوگ آگے آکر اپنی بات کہیں گے، ہماری جمہوریت اتنی ہی مضبوط ہوگی۔

جین زی کے مسائل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2029 کے انتخابات تک نوجوان ایک بڑی انتخابی طاقت بن جائیں گے اور سیاسی جماعتوں کو ان کے مسائل پر توجہ دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو موجودہ وقت میں اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والی نوجوان نسل کے لیے بھی کام کرنا چاہیے اور خبردار کیا کہ اگر نوجوانوں کے مسائل کو نظرانداز کیا گیا تو آنے والے انتخابات میں وہ حکومتوں سے جواب طلب کریں گے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر حکومت نے سرکاری اسکولوں کی حالت بہتر نہیں کی تو احتجاج کی لہر گاؤں گاؤں تک پھیل سکتی ہے۔

لاتور میں NEET پیپر لیک معاملے کی CBI تحقیقات کے بارے میں دپکے نے الزام عائد کیا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تفتیش میں نچلی سطح کے ملزمین کو نشانہ بنایا جارہا ہے جبکہ بڑے لوگوں کو تحفظ فراہم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ اتنا بڑا معاملہ نظام میں اعلیٰ عہدیداروں کی مبینہ شمولیت کے بغیر پیش آیا ہوگا۔ صرف چند نچلی سطح کے لوگوں کو گرفتار کرکے کارروائی کا دعویٰ کرنا کافی نہیں ہے۔

مجموعی طور پر ابھجیت دپکے نے اسکول کے دورے کے ذریعے سرکاری اسکولوں میں فوری طور پر بنیادی سہولیات بہتر بنانے، وزراء اور منتخب نمائندوں کو جوابدہ بنانے اور بہتر تعلیمی سہولیات کے لیے عوامی دباؤ بڑھانے کا مطالبہ کیا۔

Random Posts