TRENDING NOW

Recent News

News

​میئر و کمشنر کی ہدایت پر کارپوریشن کے اعلی افسران و کارپوریٹرس کا دورہ، خواتین کیلئے باپردہ انتظامات، ایل ای ڈی اسکرین کا بھی نظم 

​مالیگاؤں : 23 جون : عالمی تحریک سنی دعوتِ اسلامی، شاخ مالیگاؤں کے زیرِ اہتمام ہر سال کی طرح امسال بھی ذکرِ تاجدارِ کربلا کے عظیم الشان اور روح پرور اجتماعات کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے۔ وارث علی چوک اور آزاد نگر جیلانی چوک میں کامیاب اجتماعات کے انعقاد کے بعد، اب کل بروز بدھ کو اس سلسلے کا اگلا بڑا اجتماع نور باغ چوک میں منعقد ہونے جا رہا ہے۔ اس کے بعد جمعرات اور جمعہ کو اے ٹی ٹی ہائی اسکول گراؤنڈ پر آخری اجتماعات کے ساتھ یہ سلسلہ اپنے اختتام کو پہنچے گا۔

​ان اجتماعات میں ملک کے مایہ ناز اور شعلہ بیاں خطیب حضرت مولانا سید امین القادری قبلہ کا سلسلہ وار رقت انگیز اور علمی خطاب جاری ہے، جسے سننے کے لیے شہر بھر سے ہزاروں کی تعداد میں عاشقانِ رسول شرکت کر رہے ہیں۔اس طرح کی تفصیلات آج نور باغ چوک میں دورہ کے دوران نور باغ گروپ کے ذمہ داران میں رضوان میمن نے دی، انہوں نے بتایا کہ نور  باغ چوک میں ہونے والے اجتماع کی اہمیت کے پیشِ نظر مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کے افسران اور مختلف محکموں کے ذمہ داران نے اجتماع گاہ اور گرد و نواح کا تفصیلی دورہ کیا۔ میئر نسرین حاجی خالد شیخ رشید اور کمشنر کی خصوصی ہدایت پر کارپوریٹر شکیل بیگ، فقیر محمد، عرفان عابد علی، پربھاگ آفیسر عرفان تابانی، محکمہءِ صفائی کے سربراہ اقبال جان محمد، اور لائٹ و تجاوزات (اتیکرمن) ڈپارٹمنٹ کے اعلیٰ حکام نے موقع پر پہنچ کر تیاریوں کا جائزہ لیا۔​حکام نے یقین دلایا ہے کہ اجتماع سے قبل دو دنوں کے اندر نور باغ کے پورے علاقے کو ہنگامی طور پر مکمل صاف کر دیا جائے گا۔​انہوں نے بتایا کہ اجتماع کے پیش نظر پورے علاقے کی گہرائی سے صفائی، جھاڑو مارنا اور کچرے کی فوری نکاسی۔​گٹروں کی صفائی اور تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے گا تاکہ آمد و رفت میں رکاوٹ نہ ہو۔اسی طرح ​اسٹریٹ لائٹس اور بجلی کے نظام کو چاک و چوبند کرنا۔​بارش اور وبائی امراض کے پیشِ نظر جراثیم کش ادویات کا چھڑکاؤ (فوارنی) اور سڑکوں کے دونوں جانب چونا/پاؤڈر کا بھی چھڑکاؤ کیا جائے گا۔​سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے آج شام پولس ڈیپارٹمنٹ کے اعلیٰ افسران بھی نور باغ چوک پہنچ کر حفاظتی انتظامات اور پولس بندوبست کا جائزہ لیں گے۔​رضوان میمن گروپ نے مزید تفصیلات دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کے لیے خصوصی باپردہ انتظام کیا گیا ہے، ایس ڈی آئی نور باغ گروپ کے متحرک ذمہ داران میں رضوان میمن، اقبال بھائی بکھار والے، شفیق انصاری اور ان کے تمام رفقاء گزشتہ کئی دنوں سے گھر گھر جا کر دعوت نامے تقسیم کر رہے ہیں۔ انہوں نے شہر کے برادرانِ اسلام اور خواتین سے کثیر تعداد میں اس دینی بزم میں شرکت کی مخلصانہ اپیل کی ہے۔

​شرکاء کی سہولت کے لئے  خواتین اسلام کے لیے باغبان جماعت خانہ کے گراؤنڈ پر مکمل باپردہ نشستوں کا انتظام کیا گیا ہے۔ ان کے لیے بڑی ایل ای ڈی (LED) اسکرین لگائی جا رہی ہیں تاکہ وہ پروگرام کو باآسانی دیکھ اور سن سکیں۔اسی طرح علماءِ کرام اور مشائخ عظام کے لیے ایک وسیع و عریض اسٹیج تیار کیا جا رہا ہے۔ پنڈال میں شرکاء کے بیٹھنے کے لیے صوفے، کرسیاں اور فرش کا بہترین انتظام رہے گا۔اس کے علاوہ گرمی اور موسم کی مناسبت سے زائرین کے لیے ٹھنڈے پانی اور شربت کی سبیلیں لگائی جا رہی ہیں۔پروگرام بروز بدھ کو بعد نمازِ مغرب شروع ہوگا، جس میں مولانا سید امین القادری صاحب کے مرکزی خطاب سے قبل دیگر علمائے کرام کے بیانات ہوں گے۔اور پروگرام رات ٹھیک دس بجے اختتام پذیر ہوگا۔​نمازِ عشاء: اجتماع کے فوری بعد رات دس بجے نمازِ عشاء باجماعت قاضی شرف الدین ہال میں ادا کی جائے گی۔اس پروگرام کی نظامت مسجد یارسول اللہ کے امام حافظ غفران اشرفی انجام دینگے۔​شہر بھر سے آنے والے شرکاء کے لیے نور باغ چوک کی طرف آنے والے تمام راستوں کو صاف اور کشادہ اور روشن کیا جا رہا ہے تاکہ ٹریفک کا کوئی مسئلہ پیدا نہ ہو۔

بجلی کے تاروں، ٹرانسفارمر کو درست کرنے اور متوفی کے ورثاء کو 25 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا مطالبہ 

​مالیگاؤں : 23 جون: رمضان پورہ، امین آباد علاقے میں بجلی کمپنی کی مبینہ غفلت اور لاپرواہی کے باعث ایک دردناک حادثہ پیش آیا ہے، جہاں ہائی وولٹیج بجلی کے تار سے کرنٹ لگنے کے باعث ایک نوجوان جاں بحق ہو گیا۔ متوفی کی شناخت مزمل حسین عبدالقدوس کے نام سے ہوئی ہے جو کہ پیشے سے ایک سماجی کارکن (سوشل ورکر) تھے۔

​تفصیلات کے مطابق، مزمل حسین کے پڑوس میں ان کی پھوپھی کا انتقال ہو گیا تھا، جس کے بعد میت کی تدفین اور تعزیت کے لیے آنے والے لوگوں کے لیے بارش سے بچاؤ کی خاطر پنڈال یا پردہ لگانے کا انتظام کیا جا رہا تھا۔ اس دوران جب مزمل نے لوہے کا پائپ اٹھایا تو وہ اوپر سے گزرنے والی 11 ہزار یا 33 ہزار کلو واٹ کی ہائی وولٹیج لائن سے چھو گیا، جس کے نتیجے میں انہیں شدید کرنٹ لگا اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گئے۔اس حادثے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ مقامی لوگوں اور وارڈ کے نمائندوں میں کارپوریٹر صغیر احمد ،عبد الباقی، منا ممبر وغیرہ کا کہنا ہے کہ بجلی کمپنی کی نااہلی کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ علاقے میں بجلی کے تار انتہائی نیچے لٹک رہے ہیں اور ڈی پی (ٹرانسفارمر) بھی زمین سے محض 4 سے 5 فٹ کی اونچائی پر نصب ہے، جس سے ہر وقت معصوم بچوں اور راہگیروں کی جان کو خطرہ لاحق رہتا ہے، عوام کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی متعلقہ حکام بشمول انجینئرز اور افسران کو لٹکتے ہوئے تاروں کے حوالے سے متعدد بار تحریری اور زبانی شکایات کی گئیں اور موقع کا معائنہ بھی کروایا گیا، لیکن کمپنی کی جانب سے کوئی ٹھوس اقدام نہیں اٹھایا گیا، جس کا نتیجہ آج ایک قیمتی جان کے ضیاع کی صورت میں نکلا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جاں بحق ہونے والے مزمل اپنے گھر میں اکیلے کمانے والے تھے اور ان کے پسماندگان میں دو چھوٹی بیٹیاں شامل ہیں۔ مظاہرین اور ورثاء کا مطالبہ ہے کہ ​بجلی کمپنی کے اعلیٰ حکام فوری طور پر موقع پر پہنچ کر مظاہرین سے بات چیت کریں۔​متاثرہ خاندان کو فوری طور پر 25 لاکھ روپے کا معاوضہ دیا جائے کیونکہ متوفی کے علاوہ گھر کا کوئی کفیل نہیں ہے۔​لاپرواہی برتنے والے متعلقہ افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔​مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک معاوضے اور بجلی کے تاروں کو درست کرنے کا تحریری یقین دہانی نہیں کروائی جاتی، وہ میت کو نہیں اٹھائیں گے، اور اگر انتظامیہ نے زبردستی کی تو وہ میت کو پاور ہاؤس کے گیٹ پر لے جا کر دھرنا دینے پر مجبور ہوں گے۔اس واقعہ کی اطلاع ملنے کے بعد پاور کمپنی کے آفیسران و پولس انتظامیہ بھی موقع پر پہنچ کر مسائل کو حال کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں ۔

آدتیہ ٹھاکرے نے باغیوں کو غدار اور بکاؤ قرار دیا، آئین میں تبدیلی کی منشا سے دیگر پارٹیوں کو توڑنے کا الزام

ممبئی: شیو سینا (یو بی ٹی) کے باغی ارکانِ پارلیمنٹ نے پیر کے روز مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی زیر قیادت  شیوسینا میں شمولیت اختیار کر لی۔ شامل ہونے والے ارکان میں اومراجے نمبالکر، ناگیش پاٹل اشٹیکار، سنجے دیشمکھ، سنجے جادھو، سنجے دینا پاٹل اور بھاؤ صاحب واکچورے شامل ہیں۔ یہ شمولیت ایکناتھ شندے، رکن پارلیمنٹ شری کانت شندے، وزیر پرتاپ سرنائک اور دیگر سینئر رہنماؤں کی موجودگی میں عمل میں آئی۔

مہاراشٹر کے وزیر اور شیوسینا کے رکن اسمبلی پرتاپ سرنائک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان چھ ارکانِ پارلیمنٹ کی شمولیت سے پارٹی کے ایم پیز کی تعداد 7 سے بڑھ کر 13 ہو جائے گی، جس سے شیوسینا کی طاقت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

خبروں کے مطابق ان ارکان نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو شندے گروہ میں اپنی شمولیت کا خط بھی سونپ دیا ہے۔ پرتاپ سرنائک نے ’آپریشن ٹائیگر‘ کی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ آپریشن سال کے 365 دن جاری رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بالاصاحب ٹھاکرے کے نظریے پر عمل کرنے والے یہ ارکان آج سہ پہر 3 بجے باضابطہ طور پر پارٹی میں شامل ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر سنجے راؤت کا شکریہ بھی ادا کیا اور کہا کہ ان کی وجہ سے پہلے اراکین اسمبلی اور اب ارکان پارلیمنٹ پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں۔

سینا (یو بی ٹی) کا بغاوت کا الزام

دوسری جانب، باغی ارکان کی شمولیت پر شیوسینا (یو بی ٹی) نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہیں پارٹی کے اعتماد سے غداری قرار دیا ہے۔

شیوسینا (یو بی ٹی) کے رہنما آدتیہ ٹھاکرے نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا، "آج ہمارے ارکان پارلیمنٹ اور اراکین اسمبلی کو توڑا جا رہا ہے کیونکہ یہ لوگ باباصاحب امبیڈکر کے آئین کو بدلنا چاہتے ہیں۔ عوام نے 2024 میں انہیں روک دیا تھا اور انہیں صرف 240 سیٹیں ملی تھیں، اب وہ سیاسی جماعتوں کو توڑ کر اپنے مقصد کو حاصل کرنا چاہتے ہیں۔"

آدتیہ ٹھاکرے نے ان ارکان کو ’ڈرپوک اور بکاؤ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ ادھو بالا صاحب ٹھاکرے اور مہاوکاس اگھاڑی کے نام پر منتخب ہوئے تھے، لیکن اب بی جے پی انہیں اپنے مفاد کے لیے شامل کر رہی ہے تاکہ لوک سبھا میں دو تہائی اکثریت حاصل کر کے آئین میں تبدیلی کی جا سکے۔

بی جے پی پر تنقید

پارٹی میں تقسیم کے حوالے سے بی جے پی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے آدتیہ ٹھاکرے نے کہا کہ جس طرح شیو سینا کو تقسیم کیا گیا، اسی طرح ٹی ایم سی اور عام آدمی پارٹی کو بھی توڑا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں قانون اور آئین کی بالادستی ہے تو انصاف کی امید کی جاسکتی ہے۔


اینیمیشن کوچنگ سینٹر میں ہولناک آتشزدگی، متعدد طلباء کے پھنسے ہونے کا خدشہ، جاں بحق ہونے والے ہر فرد کے لواحقین کو 2 لاکھ روپے جبکہ زخمیوں کو 50 ہزار روپے دینے کا اعلان

لکھنؤ: اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ برجیش پاٹھک نے پی ٹی آئی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پیر کے روز لکھنؤ کے علی گنج علاقے میں واقع ایک کوچنگ سینٹر میں لگنے والی ہولناک آگ میں کم از کم 14 طلبہ کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے۔

اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ برجیش پاٹھک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "ابھی کل 13 بچوں کو باہر نکالا گیا ہے۔ انہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ ایک سنگین واقعہ ہے۔ اندر دھواں بھرا ہوا ہے۔ یہ ایک اینیمیشن سینٹر تھا جہاں اچانک آگ لگ گئی۔ بچے یہاں کارٹون بنانا سیکھنے آتے تھے۔ مجھے ابھی تک معلوم نہیں کہ یہ واقعہ کیسے پیش آیا۔ کے جی ایم سی ٹراما سینٹر میں زخمیوں کو داخل کیا جا رہا ہے۔ ان کی عمر 16 سے 17 سال کے درمیان تھی۔"

یہ آگ علی گنج کے پورنیا علاقے میں واقع ایک کوچنگ انسٹی ٹیوٹ میں بھڑکی، جس کے باعث آسمان میں گھنے دھوئیں کے بادل چھا گئے اور طلبہ کو اپنی جان بچانے کے لیے بھاگنا پڑا۔ مقامی افراد کے مطابق، کئی طلبہ نے تیزی سے پھیلتی آگ سے بچنے کے لیے عمارت سے چھلانگ لگا دی۔

پولیس ذرائع کے مطابق، عمارت کے بڑے حصے میں دھواں بھر جانے کے بعد متعدد طلبہ کو چھلانگ لگانے پر مجبور ہونا پڑا۔ ایک مقامی رہائشی نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ آگ لگنے کے چند ہی منٹوں میں افراتفری مچ گئی۔

انہوں نے کہا، "سات سے آٹھ طلبہ نے اپنی جان بچانے کے لیے عمارت سے چھلانگ لگائی، تاہم اب بھی تقریباً 20 سے 25 طلبہ کے اندر پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔"

علاقے سے موصول ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ بڑی تعداد میں لوگ عمارت کے باہر جمع ہو گئے جبکہ امدادی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کی آٹھ گاڑیاں کوچنگ سینٹر کی جانب روانہ کی گئیں۔ فائر فائٹرز نے آگ پر قابو پانے اور اندر پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے بھرپور آپریشن شروع کیا۔

حکام کے مطابق، آگ پر جزوی طور پر قابو پانے تک کم از کم 12 افراد کو عمارت سے بحفاظت نکال لیا گیا تھا۔ ریسکیو اہلکاروں نے آپریشن کے دوران ایک بلی کو بھی بچایا۔

آگ کی شدت اور گھنے دھوئیں کے باعث اندر پہنچنا مشکل ہو گیا تھا، جس کے باعث فائر فائٹرز کو عمارت کے مختلف حصوں تک رسائی کے لیے متبادل طریقے اختیار کرنے پڑے۔

ریسکیو آپریشن کے دوران اسٹریچر بردار عملہ ملحقہ عمارت کے ذریعے اندر داخل ہوا۔ آئی اے این ایس کی رپورٹ کے مطابق، امدادی ٹیم نے ایک دیوار میں سوراخ کر کے اسٹریچر اور دیگر ضروری سامان اندر پہنچایا۔

اگرچہ آگ پر قابو پا لیا گیا تھا، تاہم سرچ آپریشن جاری رہا کیونکہ خدشہ تھا کہ مزید چار سے پانچ افراد اب بھی عمارت میں پھنسے ہو سکتے ہیں۔

آگ لگنے کی اصل وجہ کی تفتیش جاری ہے، جبکہ ایک مقامی رہائشی نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ کسی چنگاری کے باعث آگ بھڑکی ہوگی، تاہم حکام نے اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے۔

جیسے ہی حادثے کی شدت واضح ہوئی، کئی اعلیٰ افسران موقع پر پہنچ گئے۔ اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ برجیش پاٹھک نے بھی جائے حادثہ کا دورہ کیا اور ضلعی و فائر محکمہ کے افسران کے ساتھ ریسکیو آپریشن کا جائزہ لیا۔

اس سانحے کی اطلاع ملنے پر وزیر اعظم نریندر مودی اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی۔

یوگی آدتیہ ناتھ نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں اس واقعے کو "انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا" قرار دیا۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی لکھنؤ آگ حادثے میں جانی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں انہوں نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے ہمدردی ظاہر کی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی تمنا کی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ریسکیو آپریشن جاری ہے اور حکام متاثرین کو ہر ممکن مدد فراہم کر رہے ہیں۔

وزیر اعظم کے دفتر نے وزیر اعظم قومی ریلیف فنڈ (PMNRF) سے مالی امداد کا اعلان بھی کیا۔ آگ میں جاں بحق ہونے والے ہر فرد کے لواحقین کو 2 لاکھ روپے جبکہ زخمیوں کو 50 ہزار روپے دیے جائیں گے۔

یہ اعلانات ایسے وقت میں کیے گئے جب ریسکیو ٹیمیں کوچنگ سینٹر میں سرچ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مزید افراد اب بھی عمارت میں پھنسے ہو سکتے ہیں۔

چونا بھٹی، بیلباغ،راجہ نگر، امن چوک ،اسلام نگر، خوش آمد پورہ، بجرنگ واڑی و اطراف کی عوام متاثر

مالیگاؤں : 21 جون : شہر میں بجلی کا نظام مالیگاؤں پاور سپلائی لمیٹڈ MPSL نامی کمپنی کے زیر نگرانی ہے۔ایک طرف شہر بھر میں بجلی کے تاروں اور کھمبوں کی وجہ سے جہاں کرنٹ لگنے کی واردات رونما ہورہی ہیں وہیں بجلی کمپنی اب بھی اپنا نظام درست کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ۔شہر بھر سے شکایت عام ہے کہ بجلی کمپنی پاور سپلائی نظام کو بھی درست کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی، برسوں پرانے بجلی کے تار و کھمبے کے سبب بار بار بجلی گل ہورہی ہے اور کمپنی صرف اسی تکنیکی عذر کا بہانہ بنا کر گھنٹوں لوڈ شیڈنگ کررہی ہے ۔گزشتہ چھ ماہ سے بیلباغ سٹی میں فیڈر میں بجلی کی کٹوتی گھنٹوں ہونے کی عام شکایت ہے جس سے عوام ذہنی و جسمانی طور پر پریشان ہورہی ہے، بجلی کمپنی کو شکایت کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ کہیں گیارہ کے وی تو کہیں 33 کے وی لائن میں فالٹ ہے اسے درست کرنے کیلئے دو تین چار گھنٹے لگ جائیں گے اور یہ سلسلہ شب برات و رمضان المبارک سے لیکر ابھی تک جاری ہے لیکن بجلی کمپنی کو فالٹ ابھی تک نہیں ملا اور آج بھی اسی عذر کا بہانہ بنایا جارہا ہے ۔اب ایسے حالات میں عوام کا مطالبہ ہے کہ بجلی کمپنی کے پاور سپلائی نظام کو درست کرنے کیلئے عوامی نمائندوں کا تعاون ضروری ہے ۔عوام نے شہر کے لیڈران سے اپیل کی ہے کہ وہ اس جانب توجہ دیں اور عوام کو بجلی کمپنی کے عتاب سے راحت دلائیں ۔حالانکہ ان علاقوں کی عوام نے مقامی ذمہ داران سے لیکر بجلی کمپنی کے اعلی آفیسران تک شکایت کی ہے لیکن اسکا کوئی حل وقتی طور پر نکالا جاتا ہے لیکن پھر اسی طرح لوڈ شیڈنگ ہوتی رہتی ہے ۔اس لئے اب ضروری ہے کہ عوامی نمائندے اس جانب توجہ دیکر عوام کو راحت پہنچانے کا کام کریں ۔

Random Posts