1962ء سے ووٹ ڈالنے والے بزرگ شہریوں کا نام بھی غائب؛ فارم بھرنے کے نام پر 100 روپے لوٹنے والے زیراکس سینٹرز کے خلاف پرانت افسر سے شکایت
مالیگاؤں: (13 جولائی)مالیگاؤں شہر میں جاری خصوصی ووٹر سروے (SIR) کے دوران سنگین بے ضابطگیاں اور لاپرواہی کے معاملات سامنے آنے پر سیاسی و سماجی حلقوں میں شدید بے چینی پھیل گئی ہے۔ اس سلسلے میں سماجوادی پارٹی کے رہنما کارپوریٹر مستقیم ڈگنیٹی کی قیادت میں ایک وفد نے پرانت افسر کے نام نائب تحصیلدار کو ایک احتجاجی میمورنڈم پیش کیا، جس میں عوام کے حقِ رائے دہی کے تحفظ اور متعلقہ محکمے کی سست روی کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مستقیم ڈگنیٹی نے الزام لگایا کہ شہر میں ایک منظم اور سوچی سمجھی پلاننگ کے تحت شہریوں کو ان کے بنیادی آئینی حق (ووٹ) سے محروم کیا جا رہا ہے۔
سماجوادی رہنما نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں الیکشن کمیشن کے تحت جن ہزاروں شہریوں نے باقاعدہ اپنی ووٹر میپنگ (Mapping) کروائی تھی اور جن کے پاس اس کے ٹھوس ثبوت بھی موجود ہیں، آج ان ووٹرس کے نام ہی غائب ہیں اور ان کے فارم بھی فراہم نہیں کیے جا رہے۔ انہوں نے ایک معمر شہری 'اسامہ بابا' کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ "جو شخص 1962ء سے مسلسل ہر انتخاب میں حصہ لے رہا ہے اور جس نے کارپوریشن الیکشن 2026ء تک ووٹ دیا، میپنگ کے باوجود آج اس کا نام بھی لسٹ سے صاف کر دیا گیا ہے۔ یہ الیکشن ڈپارٹمنٹ کی کارکردگی پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔
انہوں نے انتظامیہ کو دو ٹوک الفاظ میں انتباہ دیا کہ اگر 20 جولائی تک میپنگ والے تمام ووٹرز کے فارم فراہم نہ کیے گئے اور لسٹوں کی درستی کا حتمی فیصلہ نہ ہوا، تو 21 جولائی کو پرانت آفس کے باہر ایک بڑا "سہیوگ اندولن"(احتجاجی تحریک) شروع کیا جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری الیکشن کمیشن اور مقامی انتظامیہ پر ہوگی۔
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ووٹر فارم بھرنے کے عمل میں سستی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک تقسیم کیے گئے لاکھوں فارمز میں سے بہت کم تعداد میں فارم واپس جمع ہوئے ہیں۔ انہوں نے اسکول انتظامیہ پر زور دیا کہ چونکہ حکومت کی جانب سے اسکولوں کے اوقات کم (Short Time) کر دیے گئے ہیں (سنگل شفٹ 10:30 بجے اور ڈبل شفٹ 2:00 بجے تک)ہے، اس لیے تمام اسکولوں کے ہیڈ ماسٹرز اور مینجمنٹ ان اساتذہ کو جو BLO (بوتھ لیول افسر) نہیں ہیں، فارم بھرنے کے کام پر لگائیں۔انہوں نے BLOs کو بھی ہدایت کی کہ وہ وقت کی کمی کا کوئی بہانہ بنائے بغیر اپنی سماجی ذمہ داری سمجھ کر فارم کی تقسیم اور واپسی کو یقینی بنائیں۔
مستقیم ڈگنیٹی نے انکشاف کیا کہ شہر کے بعض آن لائن سروسز اور زیراکس سینٹرز والے معصوم شہریوں سے فارم بھرنے کے نام پر 100 روپے فیس وصول کر کے غلط فارم بھر رہے ہیں۔ اس حوالے سے انہوں نے پرانت افسر کو تحریری شکایت دیتے ہوئے ایسے عناصر کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔دوسری جانب انہوں نے شہریوں کو ایک اہم اور خوش آئند اپ ڈیٹ دیتے ہوئے بتایا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے اب آدھار کارڈ کو بھی 12 ویں لازمی شناختی دستاویز کے طور پر قبول کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے، جس سے ان لوگوں کو بڑی راحت ملے گی جن کے پاس دیگر 11 دستاویزات (جیسے پاسپورٹ یا برتھ سرٹیفکیٹ) موجود نہیں ہیں۔مستقیم ڈگنیٹی نے سماجوادی پارٹی مالیگاؤں کے تمام پڑھے لکھے نوجوانوں، سیاسی و سماجی کارکنان سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مہم کو کامیاب بنانے کے لیے ایک خاندان کی طرح متحد ہو کر کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ جن شہریوں نے میپنگ کروائی تھی لیکن اب ان کا نام لسٹ میں نہیں ہے، وہ روزانہ رات 10:00 سے 12:00 بجے کے درمیان آگرہ روڈ پر واقع سماجوادی پارٹی کے دفتر میں اپنے شناختی کارڈ یا آدھار کارڈ کی فوٹو کاپی (پشت پر موبائل نمبر لکھ کر) جمع کروائیں تاکہ ان کا کیس انتظامیہ کے سامنے مضبوطی سے لڑا جا سکے۔اس وفد میں سماجوادی پارٹی کے مقامی کارپوریٹرس اور ذمہ داران میں مستقیم ڈگنیٹی، کارپوریٹر عبدالباقی راشن والا،سہیل عبدالکریم،مولانا زاہد ندوی، احمد ایوبی سر،عبدالرحمن انصاری،الطاف ماما،رئیس ستارہ،ملک منظر،ابوشعیب نہالی،ابوالیث انصاری وغیرہ موجود تھے ۔





