TRENDING NOW

Recent News

News

ایف ڈی اے حکام کی موجودگی میں گٹکے کی فہرست تیار، معاملے کی گہرائی سے تفتیش جاری

مالیگاؤں: مالیگاؤں پولس کی لوکل کرائم برانچ (ایل سی بی) نے غیر قانونی گٹکے کی اسمگلنگ کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے نیشنل ہائی وے نمبر 3 پر ایک ٹرک سے تقریباً 62 لاکھ روپے مالیت کا غیر قانونی گٹکا ضبط کیا ہے۔ اس کارروائی میں تقریباً 20 لاکھ روپے مالیت کا ٹرک بھی قبضے میں لیا گیا، جس کے بعد ضبط شدہ مال کی مجموعی مالیت تقریباً 82 لاکھ روپے بتائی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق ایل سی بی کی ٹیم نے نیشنل ہائی وے نمبر 3 پر شاہی گولڈن ہوٹل کے قریب واقع اسٹار ہوٹل کے سامنے مشتبہ ٹرک کو روک کر تلاشی لی۔ تلاشی کے دوران بڑی مقدار میں غیر قانونی گٹکا برآمد ہوا، جس کے بعد پولس نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے گٹکا اور ٹرک کو ضبط کر لیا۔

کارروائی کی اطلاع ملتے ہی فوڈ اینڈ ڈرگس ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کے افسران بھی موقع پر پہنچے۔ پولس اور ایف ڈی اے حکام نے مشترکہ طور پر ضبط شدہ گٹکے کی جانچ اور فہرست تیار کرنے کا عمل مکمل کیا۔ پولس کے مطابق برآمد شدہ گٹکے کی اندازاً مالیت 62 لاکھ روپے ہے، جبکہ ٹرک کی قیمت تقریباً 20 لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔ابتدائی تفتیش میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مذکورہ گٹکا مہاراشٹر میں غیر قانونی طور پر لایا گیا تھا۔ تاہم، گٹکا کہاں سے لایا گیا، اسے کہاں پہنچایا جانا تھا اور اس کھیپ کا اصل مالک کون ہے، اس بارے میں ابھی مزید معلومات سامنے آنا باقی ہیں۔اس معاملے میں کارروائی کے وقت تک کسی شخص کی گرفتاری کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ پولس کی جانب سے ٹرک کے مالک، ڈرائیور، گٹکے کی کھیپ کے اصل سپلائر اور اسے وصول کرنے والے افراد کے بارے میں معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آیا اس کھیپ کا تعلق کسی بڑے غیر قانونی نیٹ ورک سے ہے یا نہیں۔

یہ کارروائی ضلع پولس سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر سوامی اور مالیگاؤں کے ایڈیشنل پولس سپرنٹنڈنٹ سورج گنجال کی نگرانی میں ضلعی لوکل کرائم برانچ کی ٹیم نے انجام دی۔

پولس کی تفتیش فی الحال جاری ہے۔ ضبط شدہ گٹکے اور ٹرک سے متعلق قانونی کارروائی مکمل کی جا رہی ہے۔ تفتیش آگے بڑھنے کے ساتھ اس معاملے میں مزید اہم انکشافات اور ممکنہ ملزمان کے نام سامنے آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

300 کروڑ کا ٹینڈر دینے کا جھانسہ، 6 ملزمان گرفتار، پولس تفتیش جاری 

​ناسک/مالیگاؤں: سنگھستھ کمبھ میلے کے نام پر جعلی ٹینڈر اور جعلی ورک آرڈر دے کر رقم بٹورنے والے گینگ کی جعل سازی کا دائرہ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ تازہ ترین واقعہ میں مالیگاؤں (سوئے گاؤں) کے ایک سڑک تعمیراتی کنٹریکٹر اور تاجر سریش مہندر پوار سے کمبھ میلے کے کام دلانے کا جھانسا دے کر 35 لاکھ روپے ہڑپ لیے گئے۔ اس معاملے میں ناسک روڈ پولیس اسٹیشن میں پانچواں مقدمہ (FIR) درج کیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق جامنیر (ضلع جلگاؤں) سے تعلق رکھنے والے شکیل احمد شیخ، تنئے مہاجن اور نریندر مہاجن نامی افراد نے کنٹریکٹر سریش پوار سے رابطہ کیا تھا۔ ملزمان نے انہیں کمبھ میلے کے تحت سڑکوں کی تعمیر کے لیے 300 کروڑ روپے کے ٹینڈر نکلنے کا جھانسا دیا اور کام دلانے کی یقین دہانی کرائی۔ اعتماد حاصل کرنے کے لیے ملزمان نے حکومتِ ہند کا قومی نشان (راج مدرا) والا جعلی لیٹر ہیڈ، ناسک میونسپل کارپوریشن کا ٹینڈر نوٹس نمبر، اور کمبھ میلہ اتھارٹی کے سربراہ ڈاکٹر پروین گوڈام کی جعلی ڈیجیٹل دستخط والے فرضی ورک آرڈرز دکھائے۔  

ٹینڈر منظور کرانے اور کارروائی کے نام پر ملزمان نے کانٹریکٹر سے مرحلہ وار 50 لاکھ روپے وصول کیے۔ جب کافی وقت گزرنے کے بعد بھی کام شروع نہیں ہوا اور ٹھیکہ دار کو ان پر شک ہوا تو انہوں نے اپنی رقم واپس مانگنی شروع کی۔ ملزمان نے اپنے اکاؤنٹنٹ کے ذریعے تاجر کو 15 لاکھ روپے تو واپس کر دیے، لیکن بقایا 35 لاکھ روپے لوٹانے کے بجائے ٹال مٹول کرنے لگے۔ بالآخر سریش پوار نے پولس سے رجوع کر کے باقاعدہ شکایت درج کرائی۔  

ناسک پولیس اب تک اس گروہ کے چھ ملزمان (تنئے مہاجن، نریندر مہاجن، شعیب احمد شیخ، عبد الرئیس شیخ، شکیل احمد شیخ اور محمد وسیم) کو جلگاؤں کے جامنیر سے گرفتار کر چکی ہے۔ تمام ملزمان کی پولس کسٹڈی ختم ہونے پر انہیں دوبارہ عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ پولس کا کہنا ہے کہ اس ریکیٹ میں اور بھی لوگ شامل ہو سکتے ہیں اور معاملے کی مزید گہرائی سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

پانچ ملزمان گرفتار، دو فرار،عدالت میں پیشی ،کیس کی ہر زاویے سے تفتیش جاری

مالیگاؤں: مالیگاؤں کے 60 فٹی روڈ پر پیش آئے سنسنی خیز قتل کیس میں پوارواڑی پولیس نے تیز رفتار کارروائی کرتے ہوئے پانچ ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ دو دیگر ملزمان ابھی تک فرار ہیں۔ پولیس نے گرفتار افراد کو مقامی عدالت میں پیش کرکے ریمانڈ حاصل کر لیا ہے اور فرار ملزمان کی تلاش کے لیے مختلف مقامات پر چھاپہ ماری جاری ہے۔

پولیس کے مطابق یہ خونی واردات 14 اگست کی شام تقریباً ساڑھے پانچ بجے نائرا پیٹرول پمپ کے سامنے ایک خالی ٹرالی پر پیش آئی۔ متوفی محمد زبیر محمد امین انصاری اپنے بھائی عبید کے ساتھ وہاں موجود تھے کہ اسی دوران حملہ آور اچانک وہاں پہنچے اور تیز دھار ہتھیاروں سے حملہ کر کے زبیر کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔قتل کی اطلاع ملتے ہی پوارواڑی پولیس حرکت میں آ گئی اور خصوصی ٹیم تشکیل دے کر ملزمان کی تلاش شروع کی گئی۔ پولیس انسپکٹر راہل کھتاڑ کی نگرانی میں ڈی بی ٹیم نے برق رفتاری سے کارروائی کرتے ہوئے پانچ ملزمان رضوان شاہ حسن شاہ، عرفان شاہ حسن شاہ، عمر فاروق، اسلم شاہ اور واحد کالیا کو گرفتار کر لیا۔

پولیس نے بتایا کہ اس معاملے میں سات افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، جن میں سے پانچ کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ دو ملزمان اب بھی قانون کی گرفت سے باہر ہیں۔ ان کی تلاش کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور جلد گرفتاری کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔یہ مقدمہ پوارواڑی پولیس اسٹیشن میں جرائم رجسٹر نمبر 231/2026 کے تحت بھارتیہ نیائے سنہیتا (BNS) کی دفعہ 103 (قتل) کے تحت درج کیا گیا ہے۔تحقیقات کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ 13 اگست کو دونوں فریقوں کے درمیان جھگڑا ہوا تھا، جسے علاقے کے بزرگوں نے مداخلت کرکے ختم کرا دیا تھا۔ تاہم بعد ازاں گالی گلوچ اور تنازع دوبارہ شدت اختیار کر گیا، جس کا انجام قتل کی اس خونریز واردات کی صورت میں سامنے آیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق دونوں فریقوں کے خلاف ماضی میں بھی بعض مقدمات درج رہ چکے ہیں۔پوارواڑی پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کی ہر زاویے سے تفتیش جاری ہے اور فرار ملزمان کو جلد گرفتار کرکے پورے معاملے سے پردہ اٹھایا جائے گا۔

مسلمان،بدھ،عیسائی،جین، سکھ، پارسی اور یہودی برادریوں سے تعلق رکھنے والے طلباء توجہ دیں 

مہا ڈی بی ٹی پورٹل پر درست معلومات بھرنے اقلیتی محکمہ کی تمام کالجوں،تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں کو ہدایت 

ممبئی: مہاراشٹر حکومت کے محکمہ اقلیتی ترقی نے ریاست کے اقلیتی طلبہ کے لیے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے تعلیمی سال 2026-27 سے تمام اسکالرشپ اسکیموں کو "مہا ڈی بی ٹی" نامی مربوط کمپیوٹرائزڈ نظام کے ذریعے نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد اسکالرشپ کی درخواست، جانچ اور رقم کی تقسیم کے عمل کو مزید آسان، شفاف اور تیز رفتار بنانا ہے۔

حکومت کی جانب سے جاری کردہ حکم نامہ نمبر اویوی-2026/پر.ک.60/کا.6 کے مطابق مسلمان، بدھ، عیسائی، جین، سکھ، پارسی اور یہودی برادریوں سے تعلق رکھنے والے معاشی طور پر کمزور اور باصلاحیت طلبہ کو اعلیٰ پیشہ ورانہ، تکنیکی، غیر پیشہ ورانہ ڈگری اور پوسٹ گریجویٹ تعلیم کے لیے دی جانے والی اسکالرشپس اب مہاراشٹر ڈی بی ٹی 2.0 پورٹل کے ذریعے آن لائن فراہم کی جائیں گی۔

حکومت نے واضح کیا ہے کہ اسکالرشپ اسکیم کی بنیادی شرائط، اہلیت کے معیار، آمدنی کی حد اور مالی فوائد میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ صرف درخواست جمع کرانے، جانچ کے طریقہ کار اور رقم کی ادائیگی کے نظام کو جدید ٹیکنالوجی سے مربوط کیا گیا ہے تاکہ طلبہ کو زیادہ سہولت فراہم کی جا سکے۔

نئے نظام کے تحت ہر طالب علم کو آدھار سے منسلک ایک مستقل شناختی نمبر (APAAR ID) فراہم کیا جائے گا، جس کی بدولت ہر سال نئی رجسٹریشن کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔طلبہ کی ذاتی اور تعلیمی معلومات، جیسے ایس ایس سی و ایچ ایس سی نمبر، سی ای ٹی اسکور اور آدھار کی تفصیلات، متعلقہ سرکاری ڈیٹا بیس سے خودکار طور پر حاصل کی جائیں گی، جس سے دستاویزات اسکین کرکے اپ لوڈ کرنے کی دشواری میں نمایاں کمی آئے گی۔

اس کے علاوہ اگلے تعلیمی سال میں اسکالرشپ کی تجدید کے لیے طلبہ کو صرف موجودہ سال کی فیس رسید اور تعلیمی پیشرفت (پاس یا فیل) کی معلومات فراہم کرنا ہوں گی، جس کے بعد درخواست خودکار طور پر تجدید ہو جائے گی۔ جانچ کے عمل کو بھی آسان بناتے ہوئے صرف دو مراحل مقرر کیے گئے ہیں، جن میں پہلا مرحلہ متعلقہ کالج یا تعلیمی ادارے کی سطح پر جبکہ دوسرا مرحلہ متعلقہ ڈائریکٹوریٹ کی سطح پر مکمل کیا جائے گا۔حکومت نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ منظور شدہ اسکالرشپ کی رقم براہ راست طالب علم کے آدھار سے منسلک اور ای-کے وائی سی (e-KYC) شدہ بینک اکاؤنٹ میں منتقل کی جائے گی، جس سے ادائیگی میں تاخیر اور دیگر انتظامی مسائل کا خاتمہ ہوگا۔

اسکالرشپ اسکیم کے مؤثر نفاذ کے لیے حکومت نے نوڈل افسران بھی مقرر کیے ہیں۔ اعلیٰ پیشہ ورانہ اور تکنیکی کورسز کے لیے ڈائریکٹر آف ٹیکنیکل ایجوکیشن اور ڈائریکٹر آف میڈیکل ایجوکیشن ذمہ دار ہوں گے، جبکہ آرٹس، کامرس اور سائنس کے طلبہ کے معاملات کی نگرانی ڈائریکٹر آف ہائر ایجوکیشن کریں گے۔محکمہ اقلیتی ترقی نے تمام کالجوں، تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ مہائی ڈی بی ٹی پورٹل پر طلبہ کی درست اور بروقت معلومات درج کریں اور اسکالرشپ کی رقم کے علاوہ کسی بھی قسم کی اضافی فیس وصول نہ کریں۔حکومت کا کہنا ہے کہ "مہاشیش ورُتی" نظام کے نفاذ سے نہ صرف طلبہ کے لیے اسکالرشپ حاصل کرنے کا عمل زیادہ سہل، شفاف اور تیز ہوگا بلکہ انتظامی کارکردگی میں بھی نمایاں بہتری آئے گی، جس سے اقلیتی برادری کے ہزاروں طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے حصول میں براہ راست فائدہ پہنچے گا۔

طالبات کیلئے معیاری کوچنگ کا آغاز،150 سے زائد داخلے، مستقبل میں NEET، TET، MPSC اور UPSC کی تیاری بھی کرائی جائے گی: آصف شیخ 

مالیگاؤں: مہاراشٹر کے وزیرِ تعلیم دادا بھسے نے بدھ کے روز مالیگاؤں میں سینٹرل اسمبلی حلقہ میں قائم شیخ رشید انسٹی ٹیوٹ آف لرننگ کا دورہ کیا اور مرحوم شیخ رشید کی یاد میں شروع کیے گئے اس فلاحی تعلیمی منصوبے کی ستائش کرتے ہوئے اسے شہر کے طلبہ، خصوصاً طالبات، کے روشن مستقبل کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔اس موقع پر آصف شیخ نے کہا کہ شیخ رشید صاحب کے انتقال کے بعد اہلِ خانہ اور رفقاء نے یہ فیصلہ کیا کہ مرحوم کی یاد کو زندہ رکھنے کے لیے کسی عمارت، چوک یا یادگار کے بجائے ایسا تعلیمی ادارہ قائم کیا جائے جو آنے والی نسلوں کے لیے مفید ثابت ہو۔ اسی سوچ کے تحت شیخ رشید انسٹی ٹیوٹ آف لرننگ کا قیام عمل میں لایا گیا، جہاں ابتدائی مرحلے میں پانچویں سے دسویں جماعت تک کی طالبات کے لیے معیاری کوچنگ کلاسز شروع کی گئی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ داخلہ مہم کے آغاز سے اب تک تقریباً 150 طالبات داخلہ لے چکی ہیں، جبکہ کلاسوں کا باقاعدہ تدریسی سلسلہ سے شروع ہوگا۔ مستقبل میں ادارے کے ذریعے نیٹ (NEET)، ٹی ای ٹی (TET)، ایم پی ایس سی (MPSC) اور یو پی ایس سی (UPSC) جیسے مسابقتی امتحانات کی تیاری کے لیے آن لائن لیکچرز اور خصوصی رہنمائی کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ طالبات کو مختلف ہنر اور روزگار سے متعلق تربیت فراہم کرنے کے منصوبے پر بھی کام جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ ادارہ مکمل طور پر طالبات کے لیے وقف ہے اور اس کے انتظام و انصرام کے لیے ایک غیر سرکاری تنظیم (این جی او) قائم کی گئی ہے۔ ادارے کی سرپرستی حفصہ شیخ کر رہی ہیں، جبکہ نمرہ شیخ چیئرپرسن اور عائشہ شیخ سیکریٹری کی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہیں۔

آصف شیخ کے مطابق ادارہ "نو پرافٹ، نو لاس" کی بنیاد پر چلایا جا رہا ہے۔ اسی مقصد کے پیش نظر سالانہ فیس صرف پانچ ہزار سے سات ہزار روپے مقرر کی گئی ہے تاکہ اساتذہ کی تنخواہوں اور عمارت کے بنیادی اخراجات پورے کیے جا سکیں، جبکہ کسی قسم کا تجارتی منافع حاصل کرنا ادارے کا مقصد نہیں ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ انسٹی ٹیوٹ میں طالبات کی حفاظت اور بہتر تعلیمی ماحول کو یقینی بنانے کے لیے جدید سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ پورے کیمپس میں چوبیس گھنٹے سی سی ٹی وی نگرانی، مکمل ایئر کنڈیشنڈ کلاس رومز، کینٹین اور خوبصورت باغ جیسی سہولیات موجود ہیں۔ اساتذہ کے تقرر کے لیے شہر کے ماہرین تعلیم پر مشتمل ایک خصوصی پینل تشکیل دیا گیا تاکہ تدریس کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔آصف شیخ نے والدین سے اپیل کی کہ وہ پانچویں سے دسویں جماعت تک زیرِ تعلیم اپنی بچیوں کو اس ادارے میں داخل کرائیں تاکہ وہ کم خرچ میں معیاری تعلیم حاصل کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم شیخ رشید ہمیشہ تعلیم اور سماجی خدمت کے فروغ کے خواہاں تھے اور یہ ادارہ انہی کے خواب کو عملی شکل دینے کی ایک کوشش ہے۔انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ مستقبل قریب میں مالیگاؤں میں ایک اور بڑے تعلیمی کیمپس کے قیام کا منصوبہ بھی عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا، جس سے شہر میں تعلیمی سہولیات میں مزید اضافہ ہوگا۔اس موقع پر وزیرِ تعلیم دادا بھسے نے شیخ رشید انسٹی ٹیوٹ آف لرننگ کے مختلف شعبوں کا معائنہ کیا اور انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ ادارہ مالیگاؤں کی طالبات کو معیاری تعلیم فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا اور شہر میں تعلیمی بیداری کے فروغ کا مؤثر ذریعہ ثابت ہوگا۔

Random Posts