TRENDING NOW

Recent News

News

ایم آئی ایم میں رہ کر احساس ہوا کہ بی جے پی کو ہٹانا ہے، لیکن بی جے پی کے خلاف لڑائی نہیں لڑی جاتی بلکہ کانگریس کو نشانہ بنایا جاتا ہے

نئی دہلی: حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی کی قیادت والی آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین (AIMIM) کے سابق قومی ترجمان عاصم وقار نے انڈین نیشنل کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ دہلی میں واقع کانگریس کے مرکزی دفتر ’’اندرا بھون‘‘ میں اترپردیش کانگریس کے صدر اجے رائے، اترپردیش کے انچارج راجندر پال گوتم اور کانگریس اقلیتی شعبہ کے چیئرمین عمران پرتاپ گڑھی کی موجودگی میں عاصم وقار نے کانگریس کی رکنیت حاصل کی۔

کانگریس میں شمولیت کے بعد عاصم وقار نے کہا کہ ’’ہماری لڑائی ان لوگوں کے لیے ہے جو ملک سے محبت کرتے ہیں۔ ہمیں بی جے پی کو اکھاڑ پھینکنا ہے۔ مجھے ایم آئی ایم میں رہتے ہوئے یہ محسوس ہوا کہ بی جے پی کو ہٹانا ہے، لیکن بی جے پی کے خلاف لڑائی نہیں لڑی جاتی بلکہ کانگریس کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اسی لیے میں کانگریس میں شامل ہو رہا ہوں۔ دراصل اگر بی جے پی کے خلاف کوئی لڑ رہا ہے تو وہ راہل گاندھی ہیں۔‘‘

انہوں نے ہمایوں کبیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں نے ہمایوں کبیر کے بارے میں کہا تھا کہ وہ بی جے پی کا ایجنٹ ہے اور بابری مسجد جو بنوا رہا ہے، وہ بی جے پی بنوا رہی ہے۔ اس نے اسٹنگ آپریشن میں کہا تھا کہ مجھے 1100 کروڑ روپے ملے ہیں۔ ہماری حکومت آئے گی تو اس کی جانچ کروائیں گے۔‘‘

عاصم وقار نے مزید کہا کہ ’’میں سچ، صحیح، ملک اور سیکولرازم کے ساتھ ہوں۔ میں یہاں ٹکٹ کے لیے نہیں آیا ہوں۔ میں نے 20 سال سماج وادی پارٹی میں گزارے ہیں۔ کبھی اکھلیش یادو یہ نہیں کہہ سکتے کہ میں نے کبھی کسی تبادلے یا تعیناتی تک کی بات کی ہو۔‘‘

اس موقع پر اترپردیش کانگریس کے انچارج راجندر پال گوتم نے کہا کہ ملک میں تمام طبقات کے لیے ایک تحریک چل رہی ہے۔ جمہوریت کو بچانے کے لیے راہل گاندھی لڑ رہے ہیں۔ راہل گاندھی سے متاثر ہوکر عاصم وقار نے کانگریس میں شمولیت اختیار کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم آئی ایم کے اہم ترجمان عاصم وقار نے کانگریس جوائن کی ہے۔

وہیں اترپردیش کانگریس کے صدر اجے رائے نے کہا کہ ’’ہم اس دن کا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے۔ میں آپ کو مبارکباد دیتا ہوں۔ آج ایک مضبوط شخصیت نے کانگریس میں شمولیت اختیار کی ہے۔ وہ ہمیشہ اپنی برجستگی اور فصاحت کے ساتھ معاشرے کو پیغام دیتے ہیں۔ ان کی سوچ کانگریس کی سوچ سے ہم آہنگ ہے۔‘‘

عاصم وقار کا تعلق اترپردیش کی راجدھانی لکھنئو سے ہے۔ عاصم وقار مجلس اتحاد المسلمین کے قومی ترجمان تھے، ایم آئی ایم کے سیاسی نظریات کو مختلف ٹی وی چینلز پر بہتر طریقے سے پیش کرنے کیلئے انہیں پہچانا جاتا ہے۔ اس سے قبل ایک عرصے تک سماجوادی پارٹی سے منسلک رہے۔ آج 2 ستمبر کو انہوں نے نئی دہلی میں کانگریس میں شمولیت اختیار کی ہے۔

اہم تکنیکی کاموں کیلئے شٹ ڈاؤن، پانی کا استعمال کفایت شعاری کرنے کی اپیل

​مالیگاؤں: ​مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کے کمشنر کی جانب سے جاری کردہ پریس نوٹ کے مطابق،دو اہم تکنیکی کی کاموں کی وجہ سے پورے شہر میں یہ شٹ ڈاؤن کیا جا رہا ہے۔کارپوریشن کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق 33 کے وی دہیوال فیڈر پر 33 کے وی سولار لائن کراسنگ کا کام طے پایا ہے، جس کی وجہ سے 5 اور 6 ستمبر کو گرنا پمپنگ اسٹیشن کی بجلی کی سپلائی بند رہے گی۔​امرِت فیز-2 ٹَیپنگ کیلئے آزاد نگر میں واقع نو تعمیر شدہ واٹر ٹینک کو پانی کی سپلائی کے لیے اولڈ آگرہ روڈ پر پرانے درے گاؤں (کھوکا ناکا) کے پاس 1200 ملی میٹر قطر کی مین پائپ لائن پر ٹَیپنگ کا کام کیا جائے گا۔اس وجہ سے بھی پانی سپلائی کا نظام متاثر ہوگا ۔کارپوریشن جانب سے دی گئی تفصیلات کے مطابق ​5 ستمبر کا معطل شدہ پانی 7 ستمبر کو دیا جائے گا اور ​6 ستمبر کا معطل شدہ پانی 8 ستمبر کو دیا جائے گا۔​تیکنیکی کام مکمل ہونے کے بعد گرنا پمپنگ اسٹیشن سے معمول کے مطابق ایک دن ناغہ (ہر دوسرے دن) پانی کی فراہمی بحال کر دی جائے گی۔ مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن نے تمام شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس تیکنیکی ضرورت کو سمجھتے ہوئے پانی کا استعمال کفایت شعاری سے کریں اور انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔


عوام کا بڑی گاڑیوں کی آمدورفت پر پابندی اور سڑکوں کی توسیع کا مطالبہ
مالیگاؤں: شہر کے بس اسٹینڈ کے قریب فلائی اوور پل کے نیچے اتوار کی صبح ایک دلخراش سڑک حادثہ پیش آیا، جس میں ایک 70 سالہ بزرگ خاتون کنٹینر گاڑی کی زد میں آکر جاں بحق ہوگئیں۔ حادثے کے بعد علاقے میں کچھ دیر کے لیے افرا تفری اور غم کی کیفیت پیدا ہوگئی۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق حادثہ صبح تقریباً 10 بجے بس اسٹینڈ کے قریب فلائی اوور کے نیچے پیش آیا۔ بتایا جاتا ہے کہ بزرگ خاتون سڑک عبور کررہی تھیں کہ اسی دوران وہاں سے گزرنے والے ایک کنٹینر کی زد میں آگئیں۔ حادثہ اتنا شدید تھا کہ خاتون کو شدید چوٹیں آئیں اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گئیں۔
سماجی کارکن شفیق اینٹی کرپشن کے مطابق حادثے کے فوری بعد پولیس اور امدادی عملہ موقع پر پہنچ گیا۔ پولیس نے جائے حادثہ کا جائزہ لیتے ہوئے ابتدائی تحقیقات شروع کردی ہیں، جبکہ متوفیہ کے اہل خانہ کو واقعے کی اطلاع دے دی گئی ہے۔
حادثے کے بعد مقامی شہریوں میں شدید تشویش پائی جارہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ کسمبا روڈ پر بڑی اور بھاری گاڑیوں کی آمدورفت سے حادثات کا خطرہ مسلسل بڑھ رہا ہے، اس لیے اس راستے پر بڑی گاڑیوں کی انٹری پر پابندی عائد کی جانی چاہیے۔
عوام نے مزید مطالبہ کیا ہے کہ آگرہ روڈ اور کسمبا روڈ کو فوری طور پر وسیع کیا جائے اور سڑکوں کے اطراف موجود تجاوزات (آتی کرمن) کو ہٹایا جائے تاکہ ٹریفک کا دباؤ کم ہو اور مستقبل میں ایسے جان لیوا حادثات کی روک تھام ممکن ہوسکے۔پولس کی جانب سے حادثے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔ حادثے میں جاں بحق ہونے والی بزرگ خاتون کی شناخت اور دیگر تفصیلات پولیس کارروائی مکمل ہونے کے بعد سامنے آنے کی توقع ہے۔

جئے کھیڑا، سٹانہ اور کیمپ پولس کی مشترکہ کارروائی، ناکہ بندی توڑ کر فرار ہونے والی گاڑی سے دو گائے سمیت چھ مویشی برآمد

مالیگاؤں: آدھی رات کے وقت ایک مشتبہ گاڑی کے تعاقب کا سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا، جس میں جئے کھیڑا، سٹانہ اور مالیگاؤں کیمپ پولس اسٹیشن کی ٹیموں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے ایک شخص کو گرفتار کرلیا، جبکہ دو ملزمان پولس کو چکمہ دے کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ پولیس نے گاڑی کو ضبط کرتے ہوئے اس میں موجود دو گائے سمیت چار مویشیوں کو برآمد کیا ہے۔پولس سے موصولہ اطلاع کے مطابق رات کے وقت مشتبہ گاڑی کی نقل و حرکت کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس نے فوری طور پر ناکہ بندی شروع کی۔ جئے کھیڑا پولیس اسٹیشن کی حدود میں گاڑی کو روکنے کی کوشش کی گئی، تاہم ڈرائیور نے ناکہ بندی توڑ دی اور گاڑی سٹانہ کی سمت لے گیا۔

سٹانہ پولس نے بھی گاڑی کو روکنے کے لیے ناکہ بندی کی، لیکن مشتبہ گاڑی نے وہاں بھی پولس کو چکمہ دیتے ہوئے ناکہ بندی توڑ دی اور مالیگاؤں کی جانب فرار ہونے کی کوشش کی۔ اس کے بعد کیمپ پولیس اسٹیشن کی ٹیم نے بھی ناکہ بندی کرتے ہوئے گاڑی کو روکنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں تینوں پولیس اسٹیشنوں کی ٹیمیں گاڑی کے تعاقب میں سرگرم ہوگئیں۔کافی دیر تک جاری رہنے والے اس تعاقب کے بعد پولیس ٹیموں نے بالآخر گاڑی کو مالیگاؤں کیمپ پولیس اسٹیشن کی حدود میں قابو کرلیا۔ گاڑی کی تلاشی لینے پر اس میں دو گائے سمیت چار بیل یعنی کل چھ مویشی پائے گئے، جنہیں پولس نے اپنی تحویل میں لے لیا۔

پولس کارروائی کے دوران گاڑی میں موجود افراد میں سے ایک شخص کو گرفتار کرلیا گیا، جبکہ دو دیگر افراد موقع سے فرار ہوگئے۔ گرفتار شخص کی شناخت شیخ شریف شیخ شیخ یونس کے طور پر بتائی گئی ہے۔پولس کے مطابق فرار ملزمان میں محسن سیلانی، ساکن مالیگاؤں اور معین شیخ، ساکن قصاب باڑہ شامل ہیں، جبکہ تیسرے شخص کے طور پر شعیب خان، ساکن مالیگاؤں کا نام بھی بتایا گیا ہے۔پولس کی جانب سے فرار ملزمان کی تلاش جاری ہے۔

اس معاملے میں جئے کھیڑا پولیس اسٹیشن میں بی این ایس کی دفعات 109، 281، 309 اور 324، اینمل ایکٹ 1960 کی دفعات 5 اور 9 اور موٹر وہیکل ایکٹ کی دفعہ 184 کے تحت مقدمہ درج کیے جانے کی اطلاع ہے۔پولس نے ضبط شدہ گاڑی اور برآمد مویشیوں کو تحویل میں لے کر مزید تفتیش شروع کردی ہے۔پولس اس بات کی بھی جانچ کر رہی ہے کہ مویشی کہاں سے لائے گئے تھے اور انہیں کہاں لے جایا جارہا تھا۔ معاملے میں فرار ملزمان کی گرفتاری کے لیے مزید کارروائی جاری ہے۔

عازم حسین گرنا ڈیم میں غرقآب، 16سالہ انصاری عبد الرحمٰن دردناک سڑک حادثہ میں جاں بحق 

​مالیگاؤں: مالیگاؤں شہر اور اطراف کے علاقوں میں ایک ہی دن کے دوران چار مختلف اور دردناک حادثات پیش آئے، جن میں دو افراد اپنی جان کی بازی ہار گئے جبکہ دو افراد شدید زخمی ہو گئے جن کا نجی اسپتال میں علاج جاری ہے۔اس ضمن میں سماجی خدمتگار شفیق اینٹی کرپشن، خالد ایس کے عارف ایا اور شکیل تیراک نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ کہ ​پہلا افسوسناک واقعہ گرنا ڈیم (گرنا ندی) کے پاس پیش آیا، جہاں سیر و تفریح اور نہانے کی غرض سے گئے ہوئے رمضان پورہ کے رہائشی عازم حسین اجمل حیات (عمر 38 سال) پانی کے تیز بہاؤ اور گہرائی میں ڈوب کر جاں بحق ہوگئے۔ وہاں موجود ساتھیوں اور سماجی کارکنوں نے انہیں پانی سے باہر نکال کر سی پی آر (CPR) دیا اور فوری طور پر فاران اسپتال پہنچایا، لیکن ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔

​دوسرا حادثہ گرنا ڈیم فاٹے اور دیوڑ کے قریب قومی شاہراہ (ہائی وے) پر پیش آیا۔ مسلم نگر کے رہائشی انصاری عبد الرحمٰن افروز احمد (عمر 16 سال) اپنی موٹر سائیکل پر سوار ہوکر گرنا ڈیم چالیسگاؤں روڈ پر جارہے تھے کہ پیچھے سے ایک تیز رفتار موٹر سائیکل کی ٹکر کے نتیجے میں دردناک حادثہ پیش آیا اور ان کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ متوفی اپنی والدہ کا اکلوتا سہارا تھا۔

​اسی دن شہر کے دیگر علاقوں اور ہائی وے پر بھی مزید روڈ حادثات پیش آئے، جن میں دو افراد شدید طور پر زخمی ہو گئے۔زخمیوں کو فوری طور پر نجی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے ۔

ان افسوسناک ​واقعات کے بعد مالیگاؤں کے سماجی کارکنوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شہریوں اور بالخصوص نوجوانوں سے اپیل کی ہے کہ ڈیم اور ندی نالوں کے خطرناک حصوں پر سیر و تفریح کے دوران احتیاط برتیں اور بچوں کو پانی کے قریب جانے نہ دیں۔اس کے علاوہ شاہراہوں پر چھوٹی عمر کے بچوں کو گاڑی چلانے سے روکنے اور ہائی وے پر سیفٹی رولز پر عمل کرنے کی تاکید کی گئی ہے

Random Posts