TRENDING NOW

Recent News

News

غفلت چھوڑو، بیدار ہو جاؤ، اپنے کل کو محفوظ بناؤ: آصف شیخ رشید

​مالیگاؤں: مالیگاؤں شہر کی معروف سیاسی و سماجی تنظیم اسلام (I.S.L.A.M) پارٹی مالیگاؤں کی جانب سے عوام کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے ایک اہم اور منظم عوامی بیداری مہم کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسلام پارٹی کے بانی و قائد آصف شیخ رشید کی سرپرستی میں آنے والی 17 جولائی سے پورے شہر میں بڑے پیمانے پر "ایس آئی آر (SIR) بیداری مہم" کا باقاعدہ آغاز کیا جا رہا ہے۔ تفصیلات کے اسلام پارٹی نے عوامی بیداری مہم (SIR) کے تحت کارنر میٹنگز کا شیڈول جاری کر دیا ہے۔ مہم کا مقصد عوام میں شعور اجاگر کرنا اور ان کے حقوق کی آواز بلند کرنا ہے۔آصف شیخ رشید بانی و قائد اسلام پارٹی ان میٹنگز سے خطاب کریں گے۔میٹنگ کی تفصیلات کے مطابق 17 جولائی جمعہ شام 7 بجے گلشیر نگر، مین روڈ، گلی نمبر 5، رات 8 بجے شبیر نگر، سیلانی چوک اور رات 9 بجے آزاد نگر، جیلانی چوک میں آصف شیخ رشید میٹنگ سے خطاب کریں گے جبکہ 18 جولائی بروز سنیچر کوشام 7 بجے: گاندھی نگر، تراب ممبر کے مکان کے پاس،

رات 8 بجے: مدنی نگر، چاند پٹیل کرانہ دکان کے پاس اور رات 9 بجے: نظامیہ مسجد، 60 فٹی روڈ کی میٹنگ میں بھی آصف شیخ مقرر خصوصی کے طور پر خطاب کرینگے ۔اسلام پارٹی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ بڑی تعداد میں شرکت کر کے مہم کو کامیاب بنائیں۔ یہ میٹنگز ایس آئی آر بیداری کیلئے عوام سے براہ راست رابطہ قائم کرنے کے لیے منعقد کی جا رہی ہیں۔

 اس مہم کا بنیادی مقصد عوام کو غفلت سے نکال کر اپنے حقوق کے تئیں بیدار کرنا ہے، کیونکہ مستقبل کے کسی بھی بڑے نقصان سے بچنے کے لیے آج ہی بیدار ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔​اس مہم کو شہر کے کونے کونے اور گھر گھر تک پہنچانے کے لیے اسلام پارٹی کی جانب سے بڑے پیمانے پر تشہیری تیاریاں کی گئی ہیں۔ قائدِ پارٹی آصف شیخ رشید کی زیرِ سرپرستی عوامی بیداری کے لیے خصوصی ٹی شرٹس تیار کی گئی ہیں، جبکہ شہر بھر میں تشہیر کے لیے رکشا بینر اور پوسٹرز بھی چھپوائے گئے ہیں۔ ان تشہیری وسائل کا مقصد عوام کو متحرک کرنا ہے تاکہ کوئی بھی شہری معلومات کے فقدان کی وجہ سے اس اہم ایس آئی آر مہم سے محروم نہ رہ جائے۔

​اسلام پارٹی نے مالیگاؤں کی عوام سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ اس مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ عوام جلد سے جلد اپنا ایس آئی آر (SIR) فارم حاصل کریں، اسے مکمل اور درست معلومات کے ساتھ پُر کریں اور بغیر کسی تاخیر کے اپنے متعلقہ بی ایل او (BLO) کے پاس جمع کروائیں۔آصف شیخ کا کہنا ہے کہ "غفلت چھوڑو، بیدار ہو جاؤ؛ اپنے کل کو محفوظ بناؤ" کے نعرے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے عوام کا تعاون بے حد ضروری ہے، تاکہ سب کا مستقبل محفوظ ہو سکے۔

جنم داخلہ معاملہ صرف چند افراد کا نہیں بلکہ پورے مالیگاؤں کی عزت و ساکھ کا مسئلہ ہے :مستقیم ڈگنیٹی 

مالیگاؤں : مالیگاؤں شہر کے "جنم داخلہ" (برتھ سرٹیفکیٹ) مبینہ معاملہ کے مقدمات میں آج عدالت نے ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے تین ایجنٹوں کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ آج معزز جج اشون بھوبے صاحب کی عدالت کے روبرو ان مقدمات کی تفصیلی سماعت ہوئی۔ دفاعی ​وکلاء کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے تین مبینہ ایجنٹس صغیر ماسٹر، عتیق منا اور فیصل کی درخواستِ ضمانت منظور کر لی۔ واضح رہے کہ اس سے قبل کے کیسز میں بھی متعدد ایجنٹس کو عدالت کی جانب سے ضمانت مل چکی ہے۔اس طرح کی تفصیلات ممبئی ہائی کورٹ سے مائناریٹی ڈیفنس کمیٹی کے معاون کنوینر مستقیم ڈگنیٹی نے نمائندہ بیباک کو دی ۔انہوں نے بتایا کہ ​غزالہ پروین اور دیپالی دھارنکر کی درخواست کیلئے بھی ہماری کوشش جاری ہے، ​عدالتی کارروائی کے مطابق، اب سب کی نظریں خواتین ملزمان پر مرکوز ہیں۔ غزالہ پروین اور دیپالی دھارنکر کی ضمانت کی درخواستوں پر اب اگلی سماعت 22 جولائی کو شام 5:00 بجے ہوگی۔ مائناریٹی ڈیفینس کمیٹی کی جانب سے قوی امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ انسانی ہمدردی اور قانونی بنیادوں پر انہیں بھی جلد ہی ضمانت مل جائے گی۔مستقیم ڈگنیٹی نے کہا کہ مائناریٹی ڈیفینس کمیٹی آصف شیخ کی سرپرستی میں قانونی امداد فراہم کررہی ہے ۔

​انہوں نے مزید کہا کہ، اس مقدمے سے جڑے سرکاری ملازمین بشمول عبد التواب شیخ ،دھارنکر، مہاجن اور امبورے کے کیسز کی الگ الگ سماعت 27 جولائی کو مقرر کی گئی ہے۔مستقیم ڈگنیٹی نے کہا کہ ​متاثرین کی قانونی امداد کرنے والی مائنارٹی ڈیفنس کمیٹی آصف شیخ کی سربراہی میں اس معاملے میں اول روز سے متحرک ہے اور ​اب تک ہائی کورٹ کے ذریعے 8 افراد کی رہائی عمل میں آ چکی ہے۔

مائناریٹی ​کمیٹی غزالہ پروین، عبدالتواب اور دیگر تمام بے قصور افراد کے مقدمات کی پیروی پوری مضبوطی سے کر رہی ہے۔​کمیٹی کے سرگرم وکیل سدھانشو مہندر  نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ​"غزالہ پروین کے معصوم بچہ بھی آج عدالت میں موجود تھا، جن کی حالتِ زار کو دیکھتے ہوئے ہم امید کر رہے ہیں کہ اگلی سماعت پر عدالت انہیں فوری ضمانت کی راحت فراہم کرے گی۔"۔

 ​مائنارٹی ڈیفنس کمیٹی اور کارپوریٹر مستقیم ڈگنیٹی نے اس پورے معاملے کو شہر کی ساکھ پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ

 ابتدائی طور پر اس کیس کو بنگلہ دیشی اور روہنگیا دراندازوں سے جوڑ کر شہر کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (SIT) کی رپورٹ کو اب تک عام نہ کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ پولیس کو شہر میں کسی بھی قسم کے بنگلہ دیشی یا روہنگیا باشندے کا کوئی سراغ نہیں ملا۔کارپوریشن اور تحصیل انتظامیہ اور کلرکوں کی معمولی و تکنیکی غلطیوں کی سزا عام اور غریب شہریوں کو بھگتنی پڑ رہی ہے، جنہیں سنگین دفعات کے تحت جیلوں میں بند کیا گیا۔​مستقیم ڈگنیٹی نے آخر میں عزم ظاہر کیا کہ کمیٹی انصاف کی یہ جنگ آخری دم تک جاری رکھے گی اور ان شاء اللہ بہت جلد تمام بے گناہ شہری اس بحران سے سرخرو ہو کر باہر نکلیں گے۔ یہ مقدمات صرف چند افراد کے نہیں بلکہ پورے مالیگاؤں شہر کی عزت و ساکھ کا مسئلہ ہیں۔

حفظانِ صحت اور غذائی تحفظ کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی پر شالیمار، نور محمدی اور رحمانیہ ریسٹورنٹ کے خلاف کارروائی

ممبئی: مہاراشٹر فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) نے جنوبی ممبئی کے تین معروف ہوٹلوں کے فوڈ لائسنس معطل کر دیے ہیں۔ معائنوں کے دوران حفظانِ صحت اور غذائی تحفظ کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزیاں سامنے آئیں، جنہیں عوامی صحت کے لیے ممکنہ خطرہ قرار دیا گیا۔

یہ کارروائی گریٹر ممبئی ڈویژن کی جانب سے کیے گئے سلسلہ وار معائنوں کے بعد بھنڈی بازار کے شالیمار ہاسپیٹیلٹی پرائیویٹ لمیٹڈ، نور محمدی ہوٹل اور عمرکھاڑی کے رحمانیہ ریسٹورنٹ کے خلاف فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز (لائسنسنگ اینڈ رجسٹریشن آف فوڈ بزنسز) ریگولیشنز، 2011 کے تحت کارروائی کی گئی۔

ایف ڈی اے کے مطابق، شالیمار ہاسپیٹیلٹی کا لائسنس منگل کو اس وقت معطل کیا گیا جب اپریل میں کیے گئے معائنے میں نشاندہی کی گئی 25 بڑی خامیاں اصلاحی نوٹس جاری ہونے کے باوجود دور نہیں کی گئیں۔

13 جولائی کو ہونے والے دوبارہ معائنے میں باورچی خانے کا گیلا اور پھسلن والا فرش، خام مال کی خریداری کا ریکارڈ نہ ہونا، پینے کے پانی کے معیار کی جانچ کی رپورٹ کا فقدان، کھانے کے تیل کے معیار سے متعلق ریکارڈ کی عدم موجودگی، سبزی خور اور گوشت پر مبنی غذاؤں کی مناسب علیحدگی نہ ہونا، اور کیڑوں سے محفوظ جالیوں کے بغیر کھلی کھڑکیاں پائی گئیں۔

نور محمدی ہوٹل کا لائسنس بھی فوری طور پر معطل کر دیا گیا۔ معائنے کے دوران باورچی خانے کے فرش پر چکنائی کی موٹی تہہ، کھلی کھڑکیوں کے باعث مکھیوں، کیڑوں اور یہاں تک کہ کوؤں کا کچن تک پہنچنا، دیواروں اور چھتوں پر اکھڑا ہوا رنگ اور چکنائی، خام مال کی غیر صحت بخش ذخیرہ اندوزی، سپلائرز کا ریکارڈ نہ ہونا، پرانے اور غیر صحت بخش برتنوں کا استعمال، پینے کے پانی کی جانچ کے ریکارڈ کا فقدان اور کیڑوں پر قابو پانے کے ناکافی انتظامات پائے گئے۔

رحمانیہ ریسٹورنٹ کا لائسنس بھی فوری طور پر معطل کر دیا گیا، جہاں خوراک، کیمیکلز اور پیکنگ میٹریل کی غیر مناسب ذخیرہ اندوزی، کیڑوں سے تحفظ کے ناقص انتظامات، زنگ آلود اور غیر معیاری آلات، کچن میں اکھڑا ہوا رنگ اور پلستر، لازمی فوڈ ٹیسٹنگ ریکارڈ کی عدم موجودگی اور پینے کے پانی کے معیار کی جانچ نہ کیے جانے جیسے مسائل سامنے آئے۔

ایف ڈی اے نے کہا کہ یہ کارروائی فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز (لائسنسنگ اینڈ رجسٹریشن آف فوڈ بزنسز) ریگولیشنز، 2011 کے شیڈول IV کے حصہ دوم کے تحت کی گئی، جس میں فوڈ بزنس آپریٹرز کے لیے حفظانِ صحت اور صفائی کے معیارات مقرر کیے گئے ہیں۔

ایف ڈی اے نے واضح کیا کہ غذائی تحفظ کے اصولوں کی خلاف ورزی کرنے یا صارفین کی صحت کو خطرے میں ڈالنے والے فوڈ بزنس آپریٹرز کے خلاف سخت کارروائی کا سلسلہ جاری رہے گا، اور تمام لائسنس یافتہ اداروں کے لیے حفظانِ صحت اور صفائی کے اصولوں پر عمل درآمد لازمی ہے۔

گوری اسپرٹ سے تیسری شادی پر نتیش رانے نے اٹھایا سوال کیا اسے لو جہاد سمجھا جائے؟؟سوشل میڈیا پر چھڑی بحث

بالی ووڈ اداکار عامر خان کی غیر مسلم خواتین سے شادیوں، خصوصاً گوری اسپرٹ سے حالیہ شادی سے متعلق سوشل میڈیا پر دوبارہ بحث چھڑ گئی، جب بعض سیاست دانوں اور سوشل میڈیا صارفین نے اس معاملے پر سوالات اٹھائے۔

ریڈف (Rediff) سے گفتگو کرتے ہوئے عامر خان نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ "نہ گوری، نہ کرن اور نہ ہی رینا نے اپنا مذہب تبدیل کیا، کیونکہ ہماری شادیاں سول میرج تھیں۔ گوری ہندو بھی نہیں بلکہ عیسائی ہیں، اور وہ بھی باقاعدہ باعمل عیسائی نہیں ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ زندگی مزید مزاحیہ ہوتی جا رہی ہے۔"

عامر خان کے مطابق ان کے تمام رشتے مذہبی بنیادوں پر نہیں بلکہ باہمی احترام اور ذاتی پسند پر قائم رہے ہیں۔

انہوں نے اپنے خاندان کے بارے میں بھی کہا کہ بین المذاہب شادیاں ان کے خاندان میں ہمیشہ سے قبول کی جاتی رہی ہیں۔ ان کے مطابق، "ہمارا خاندان بہت وسیع النظر (Inclusive) ہے۔ میری دونوں بہنوں کی شادیاں ہندو افراد سے ہوئی ہیں، میری بیٹی بھی ایک ہندو سے شادی کر چکی ہے، جبکہ میرے کزن منصور کی شادی ایک عیسائی خاتون سے ہوئی ہے۔"

دوسری جانب، اطلاعات کے مطابق اتر پردیش کے مسلم پرسنل دارالافتاء کے شاہی چیف مفتی مولانا چودھری ابراہیم حسین نے عامر خان کے خلاف فتویٰ جاری کیا ہے۔ مفتی چودھری ابراہیم کے مطابق کوئی مسلمان مرد غیر مسلم خاتون سے اس وقت تک شادی نہیں کر سکتا جب تک وہ اسلام قبول نہ کر لے۔

دوسری طرف بی جے پی رہنما اور مہاراشٹر کے وزیر نتیش رانے نے بھی عامر خان کی شادی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب مشہور شخصیات ایسے ذاتی فیصلے کرتی ہیں تو ہندو سماج کو اس پر غور کرنا چاہیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا عامر خان کی تازہ شادی کو "لو جہاد" کی مثال سمجھا جانا چاہیے؟

واضح رہے کہ عامر خان نے 5 جولائی کو ممبئی کے باندرہ علاقے میں واقع اپنی پالی ہِل رہائش گاہ پر ایک سادہ تقریب میں ویلنیس اور بیوٹی انڈسٹری سے وابستہ گوری اسپرٹ سے شادی کی۔

اس سے قبل عامر خان کی پہلی شادی رینا دتہ سے 1986 میں ہوئی تھی، جو 2002 میں ختم ہوگئی۔ بعد ازاں انہوں نے 2005 میں فلم ساز کرن راؤ سے شادی کی، تاہم 2021 میں دونوں نے علیحدگی کا اعلان کیا۔ اس کے باوجود وہ اپنے بیٹے کی مشترکہ پرورش کرتے ہوئے خوشگوار تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

​1962ء سے ووٹ ڈالنے والے بزرگ شہریوں کا نام بھی غائب؛ فارم بھرنے کے نام پر 100 روپے لوٹنے والے زیراکس سینٹرز کے خلاف پرانت افسر سے شکایت

​مالیگاؤں: (13 جولائی)مالیگاؤں شہر میں جاری خصوصی ووٹر سروے (SIR) کے دوران سنگین بے ضابطگیاں اور لاپرواہی کے معاملات سامنے آنے پر سیاسی و سماجی حلقوں میں شدید بے چینی پھیل گئی ہے۔ اس سلسلے میں سماجوادی پارٹی کے رہنما کارپوریٹر مستقیم ڈگنیٹی کی قیادت میں ایک وفد نے پرانت افسر کے نام نائب تحصیلدار کو ایک احتجاجی  میمورنڈم پیش کیا، جس میں عوام کے حقِ رائے دہی کے تحفظ اور متعلقہ محکمے کی سست روی کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مستقیم ڈگنیٹی نے الزام لگایا کہ شہر میں ایک منظم اور سوچی سمجھی پلاننگ کے تحت شہریوں کو ان کے بنیادی آئینی حق (ووٹ) سے محروم کیا جا رہا ہے۔

​سماجوادی رہنما نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں الیکشن کمیشن کے تحت جن ہزاروں شہریوں نے باقاعدہ اپنی ووٹر میپنگ (Mapping) کروائی تھی اور جن کے پاس اس کے ٹھوس ثبوت بھی موجود ہیں، آج ان ووٹرس کے نام ہی غائب ہیں اور ان کے فارم بھی فراہم نہیں کیے جا رہے۔ انہوں نے ایک معمر شہری 'اسامہ بابا' کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ​"جو شخص 1962ء سے مسلسل ہر انتخاب میں حصہ لے رہا ہے اور جس نے کارپوریشن الیکشن 2026ء تک ووٹ دیا، میپنگ کے باوجود آج اس کا نام بھی لسٹ سے صاف کر دیا گیا ہے۔ یہ الیکشن ڈپارٹمنٹ کی کارکردگی پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔

​انہوں نے انتظامیہ کو دو ٹوک الفاظ میں انتباہ دیا کہ اگر 20 جولائی تک میپنگ والے تمام ووٹرز کے فارم فراہم نہ کیے گئے اور لسٹوں کی درستی کا حتمی فیصلہ نہ ہوا، تو 21 جولائی کو پرانت آفس کے باہر ایک بڑا "سہیوگ اندولن"(احتجاجی تحریک) شروع کیا جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری الیکشن کمیشن اور مقامی انتظامیہ پر ہوگی۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ​ووٹر فارم بھرنے کے عمل میں سستی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک تقسیم کیے گئے لاکھوں فارمز میں سے بہت کم تعداد میں فارم واپس جمع ہوئے ہیں۔ انہوں نے اسکول انتظامیہ پر زور دیا کہ چونکہ حکومت کی جانب سے اسکولوں کے اوقات  کم (Short Time) کر دیے گئے ہیں (سنگل شفٹ 10:30 بجے اور ڈبل شفٹ 2:00 بجے تک)ہے، اس لیے تمام اسکولوں کے ہیڈ ماسٹرز اور مینجمنٹ ان اساتذہ کو جو BLO (بوتھ لیول افسر) نہیں ہیں، فارم بھرنے کے کام پر لگائیں۔انہوں نے BLOs کو بھی ہدایت کی کہ وہ وقت کی کمی کا کوئی بہانہ بنائے بغیر اپنی سماجی ذمہ داری سمجھ کر فارم کی تقسیم اور واپسی کو یقینی بنائیں۔

​مستقیم ڈگنیٹی نے انکشاف کیا کہ شہر کے بعض آن لائن سروسز اور زیراکس سینٹرز والے معصوم شہریوں سے فارم بھرنے کے نام پر 100 روپے فیس وصول کر کے غلط فارم بھر رہے ہیں۔ اس حوالے سے انہوں نے پرانت افسر کو تحریری شکایت دیتے ہوئے ایسے عناصر کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔​دوسری جانب انہوں نے شہریوں کو ایک اہم اور خوش آئند اپ ڈیٹ دیتے ہوئے بتایا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے اب آدھار کارڈ کو بھی 12 ویں لازمی شناختی دستاویز کے طور پر قبول کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے، جس سے ان لوگوں کو بڑی راحت ملے گی جن کے پاس دیگر 11 دستاویزات (جیسے پاسپورٹ یا برتھ سرٹیفکیٹ) موجود نہیں ہیں۔مستقیم ڈگنیٹی نے ​سماجوادی پارٹی  مالیگاؤں کے تمام پڑھے لکھے نوجوانوں، سیاسی و سماجی کارکنان سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مہم کو کامیاب بنانے کے لیے ایک خاندان کی طرح متحد ہو کر کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ جن شہریوں نے میپنگ کروائی تھی لیکن اب ان کا نام لسٹ میں نہیں ہے، وہ روزانہ رات 10:00 سے 12:00 بجے کے درمیان آگرہ روڈ پر واقع سماجوادی پارٹی کے دفتر میں اپنے شناختی کارڈ یا آدھار کارڈ کی فوٹو کاپی (پشت پر موبائل نمبر لکھ کر) جمع کروائیں تاکہ ان کا کیس انتظامیہ کے سامنے مضبوطی سے لڑا جا سکے۔اس وفد میں سماجوادی پارٹی کے مقامی کارپوریٹرس اور ذمہ داران میں مستقیم ڈگنیٹی، کارپوریٹر عبدالباقی راشن والا،سہیل عبدالکریم،مولانا زاہد ندوی، احمد ایوبی سر،عبدالرحمن انصاری،الطاف ماما،رئیس ستارہ،ملک منظر،ابوشعیب نہالی،ابوالیث  انصاری وغیرہ موجود تھے ۔

Random Posts