TRENDING NOW

Recent News

News

پان دکانداروں کو حراساں کرنا بند کیا جائے، 7 جولائی کو ریاست کی تمام پان ٹپری بند رکھنے کا فیصلہ

​ممبئی: 5 جولائی: مہاراشٹرا کے پان تاجروں اور دکان داروں پر شدید ترین بحران منڈلانے لگا ہے۔ حکومت کے ایک حالیہ فیصلے نے ریاست بھر کے لاکھوں خاندانوں میں شدید تشویش اور غصے کی لہر دوڑا دی ہے، جس کے بعد اب آر یا پار کی جنگ کا بگل بجا دیا گیا ہے۔موصولہ اطلاعات کے مطابق، مہاراشٹر اسٹیٹ فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) کے 12 جون 2026 کے حالیہ حکم نامے کے بعد، پان کے کاروبار سے جڑے افراد پر 'مکوکا' (MCOCA - مہاراشٹرا کنٹرول آف آرگنائزڈ کرائم ایکٹ) جیسی انتہائی سخت، سنگین اور غیر ضمانتی دفعات کے تحت کارروائی کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس مبینہ ناانصافی کے خلاف اب پوری ریاست کے پان تاجر "عظیم اتحاد" کے بینر تلے متحد ہو چکے ہیں۔اس ضمن میں  7 جولائی بروز منگل کو ممبئی کے تاریخی آزاد میدان میں ایک عظیم الشان ریاست گیر متحدہ مورچے کا اعلان کیا گیا ہے، جس کا وقت صبح 10:00 بجے مقرر کیا گیا ہے۔ تحریک کے قائد اجیت سوریہ ونشی کا کہنا ہے کہ یہ مورچہ صرف ایک احتجاج نہیں بلکہ ہمارے وجود کی بقا کی آخری لڑائی ہے۔ اس احتجاج کے فوری بعد ریاست بھر میں پان کے مستقبل کی دکان داری اور آگے کی حکمتِ عملی کا باقاعدہ اعلان کیا جائے گا۔

 مورچے کے بنیادی اور اہم مطالبات میں  پان ٹپری مالکان اور چھوٹے دکان داروں پر مکوکا (MCOCA) جیسے قوانین کے تحت کارروائی کا فیصلہ فوری واپس لیا جائے۔ خوشبودار تمباکو  پر لگائی گئی پابندی کو فی الفور ختم کیا جائے۔پولس اور انتظامیہ کی جانب سے پان دکان داروں کو ہراساں کرنے، دھمکانے اور غیر قانونی وصولی کا سلسلہ بند کیا جائے۔ ریاست کے 10 لاکھ پان تاجروں اور ان پر منحصر لاکھوں غریب خاندانوں کی روزی روٹی کو قانونی تحفظ دیا جائے۔ہر متاثرہ پان دکان دار کے خاندان کے کم از کم ایک فرد کو سرکاری یا نیم سرکاری نوکری فراہم کی جائے۔

پان کے کاروبار کے لیے ریاست میں ایک آزاد، جامع اور مستقل پالیسی اور قانون وضع کیا جائے۔تنظیم نے زور دیتے ہوئے کہا کہ "اتحاد ہی طاقت ہے اور تنظیم ہی حفاظت ہے"۔ انہوں نے تمام پان فروشوں سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ اپنی دکانیں بند رکھ کر اپنی آواز بلند کرنے کے لیے ممبئی کے آزاد میدان میں اپنی حاضری کو یقینی بنائیں۔

مالیگاؤں میں تقریباً 1 لاکھ 26 ہزار ناموں میں مختلف فرق سامنے آئے، عوام بلاخوف ایس آئی آر فارم بھریں 

مالیگاؤں: 4 جولائی: ناسک ضلع کے کلکٹر آیوش پرساد نے مالیگاؤں میں انتخابی ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی (SIR) کے حوالے سے اہم پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس موقع پر انہوں نے SIR عمل کی تفصیلات، پیشرفت اور چیلنجز سے آگاہ کیا اور تمام سیاسی جماعتوں سے مکمل تعاون کی اپیل کی۔کلکٹر آیوش پرساد نے بتایا کہ انتخابی کمیشن آف انڈیا کے تحت SIR پروگرام مہاراشٹر سمیت کئی ریاستوں میں شروع ہو چکا ہے۔ 

ناسک ضلع میں یہ عمل 16 جون سے جاری ہے۔ پہلا مرحلہ فارموں کی پرنٹنگ اور BLOs (بوتھ لیول آفیسرز) کو ان کی تقسیم کا 29 جون تک مکمل ہو چکا ہے۔ تمام BLOs کو تربیت دی جا چکی ہے اور آج مالیگاؤں اور مالیگاؤں آؤٹر دونوں حلقوں میں BLO سپروائزرز، اسسٹنٹ الیکٹرل رجسٹریشن آفیسرز (AEROs) کے ساتھ اہم میٹنگز منعقد کی گئیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے ساتھ بھی الگ میٹنگ کی گئی جس میں انتخابی کمیشن کے تمام طریقہ کار، پروسیجر اور ممکنہ شکوک و شبہات کی مکمل وضاحت کی گئی۔ کلکٹر نے سیاسی جماعتوں سے درخواست کی کہ وہ اس پورے عمل میں فعال تعاون فراہم کریں تاکہ ووٹر لسٹ درست، شفاف اور تنازع سے پاک بن سکے۔

کلکٹر نے بتایا کہ مالیگاؤں میں تقریباً 1 لاکھ 26 ہزار ناموں میں مختلف قسم کی فرق (mismatches) سامنے آئی ہیں۔ تاہم، ٹیبل ٹاپ ایکسرسائز کے ذریعے مالیگاؤں میں 76 سے 77 فیصد میپنگ مکمل ہو چکی ہے جبکہ پورے ضلع میں یہ شرح 82 فیصد ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مالیگاؤں کسی صورت پیچھے نہیں ہے۔مماثلت کی وجوہات بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پرانے ووٹر کارڈز میں ناموں کی ترتیب، ابتدائی حروف، والد کا نام، عمر کے فرق اور دیگر 12-13 معیار پر فرق پایا جاتا ہے۔ AI ٹیکنالوجی کے ذریعے مسلسل جانچ ہو رہی ہے۔ اب BLOs گھر گھر جا کر تصدیق کریں گے اور غلطیاں دور کی جائیں گی۔

ایس آئی آر کا مکمل عمل 5 اکتوبر تک جاری رہے گا۔ اس کے بعد ڈرافٹ الیکٹرول رول شائع کیا جائے گا جس پر اعتراضات وصول کیے جائیں گے اور ضروری اصلاحات کی جائیں گی۔BLOs کے بارے میں بتاتے ہوئے کلکٹر نے کہا کہ ایک عام BLO کے پاس تقریباً 800 ووٹرز ہوتے ہیں۔ انہیں دو اسسٹنٹس فراہم کیے گئے ہیں۔ فارم بھرنے اور ڈیجیٹائز کرنے میں محض ایک سے دو منٹ لگتے ہیں۔ ضلع کے بعض علاقوں میں چار دنوں میں 70 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ انہوں نے BLOs کو ہدایات دی ہیں کہ وہ منظم اور سمارٹ طریقے سے کام کریں تاکہ ایس آئی آر کا عمل وقت پر مکمل ہو۔

کلکٹر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ BLOs کے ساتھ تعاون کریں۔ 8 مختلف دستاویزات قبول کی جائیں گی۔ LC (لیونگ سرٹیفکیٹ) کی بجائے 10ویں اور 12ویں کلاس کی مارک شیٹس بھی قابل قبول ہیں۔ مالیگاؤں میں 70 فیصد لوگوں کے پاس برتھ رجسٹریشن موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ عمل بہت آسان ہے۔ خود انہوں نے BLOs کے ساتھ جا کر فیلڈ ورک دیکھا ہے۔ گجرات سمیت دیگر ریاستوں کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ شفاف اور افواہوں سے پاک طریقہ ہے۔ کلکٹر آیوش پرساد نے تمام قومی، ریاستی اور رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں سے BLA (بلوک لیول اسٹنٹ) تعینات کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام فریقین مل کر کام کریں تاکہ ووٹر لسٹ میں کوئی غلطی نہ رہے اور عمل مکمل طور پر شفاف رہے۔اس پریس کانفرنس میں مقامی سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی اور مختلف سوالات اٹھائے جن کے جوابات دیے گئے۔ SIR عمل الیکشن کمیشن کے تحت جاری ہے اور اس کا مقصد ووٹر لسٹ کو درست اور تازہ ترین بنانا ہے۔ عوام سے اپیل ہے کہ وہ 

BLOs

 کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔

سماجوادی پارٹی کے وفد کی شہر اے ایس پی سورج گنجال سے ملاقات، متنازع زمین کے معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی سخت مذمت

مالیگاؤں : سماجوادی پارٹی کے گٹ نیتا مستقیم ڈگنیٹی کی قیادت میں ایک وفد نے شہر کے اے ایس پی سے ملاقات کرکے حالیہ احتجاج کے دوران لگائے گئے اشتعال انگیز نعروں، نفرت انگیز بیانات اور عوامی جذبات کو مجروح کرنے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ وفد میں حاجی اطہر حسین اشرفی یوتھ ونگ کے صدر راحیل حنیف، نائب صدر فیضان رجو، وسیم شیخ، طارق مچھلی والے، ابواللیث انصاری، عارف عطار، اعجاز پاپے، حسین خان، معین اشرف، سمیت دیگر ذمہ داران بھی موجود تھے۔

ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مستقیم ڈگنیٹی نے کہا کہ متنازع زمین کے معاملے کو دانستہ طور پر فرقہ وارانہ رنگ دیا جا رہا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ زمین کے ریزرویشن سے متعلق تمام کارروائیاں سرکاری سطح پر قانونی طریقۂ کار کے مطابق انجام دی گئی ہیں۔ اس پورے معاملے میں مسلمانوں کو نشانہ بنانا ناانصافی ہے۔ اگر کسی مرحلے پر بے ضابطگی ہوئی ہے تو حکومت غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائے اور ذمہ داروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرے۔

انہوں نے مالیگاؤں کے عوام، خصوصاً مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ جب تک معاملہ مکمل طور پر واضح نہ ہو، متنازع زمینوں میں سرمایہ کاری سے گریز کریں، کیونکہ کسی بھی آئندہ قانونی تبدیلی کی صورت میں سب سے زیادہ نقصان عام اور غریب لوگوں کو اٹھانا پڑے گا۔

مستقیم ڈگنیٹی نے کہا کہ گزشتہ روز کے احتجاج میں بعض افراد نے قانون اور آئین کی حدود کو پامال کرتے ہوئے اشتعال انگیز نعرے لگائے، گالم گلوچ کی اور ایسی زبان استعمال کی جس سے شہریوں کے جذبات مجروح ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی ضروری ہے تاکہ مستقبل میں کوئی بھی شخص امن و امان خراب کرنے کی جرأت نہ کرے۔

انہوں نے بتایا کہ شہر اےایس پی کو پیش کیے گئے مکتوب میں انہی نکات کی جانب توجہ دلائی گئی ہے۔ پولیس حکام نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ اس معاملے میں مقدمہ درج کیا جا چکا ہے اور قانون کے مطابق کارروائی جاری ہے، جس پر وفد نے اطمینان کا اظہار کیا۔

مستقیم ڈگنیٹی نے اردو زبان کے حوالے سے کیے گئے اعتراضات پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اردو ہندوستان کی مشترکہ تہذیب، ثقافت اور تحریکِ آزادی کی اہم زبان ہے۔ اسے کسی ایک مذہب یا ملک سے جوڑنا نہ صرف تاریخی حقائق سے انکار ہے بلکہ ملک کی گنگا جمنی تہذیب کی بھی توہین ہے۔

انہوں نے کہا کہ سماجوادی پارٹی ہر اس کوشش کی مخالفت کرتی رہے گی جو شہر کے امن، بھائی چارے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کی غرض سے کی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا اعتراض کسی قانونی یا انتظامی عمل پر نہیں بلکہ احتجاج کے دوران اختیار کیے گئے اشتعال انگیز طرزِ عمل، نفرت انگیز نعروں اور عوامی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والی زبان پر ہے، جس کے خلاف سخت قانونی کارروائی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

الیکٹرک پول میں مبینہ کرنٹ دوڑنے سے پیش آیا سانحہ، شہریوں کا بجلی محکمہ کے خلاف کارروائی اور اہل خانہ کو معاوضہ دینے کا مطالبہ

مالیگاؤں (اسٹاف رپورٹر) گلشن معصوم، نئی تہذیب ہائی اسکول سے متصل بستی میں پیش آئے ایک افسوسناک حادثے میں 13 سالہ معصوم بچے محمد مزمل محمد آصف کی کرنٹ لگنے سے موت واقع ہوگئی، جس کے بعد علاقے میں غم و افسوس کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق، متوفی مغرب کی نماز ادا کرنے کے بعد لوہے کی سیڑھی کے ذریعے اپنے مکان پر جا رہا تھا۔ اسی دوران اس کا ہاتھ قریب موجود الیکٹرک پول سے چھو گیا، جس میں مبینہ طور پر کرنٹ دوڑ رہا تھا، اور وہ شدید کرنٹ لگنے سے موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔حادثے کی اطلاع ملتے ہی کارپوریٹر ڈاکٹر خالد پرویز، سماجی کارکن شفیق اینٹی کرپشن اور دیگر مقامی افراد موقع پر پہنچ گئے۔ واقعہ کے بعد شہریوں نے بجلی محکمہ کی مبینہ لاپرواہی پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور متوفی کے اہل خانہ کو مناسب معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس موقع پر کارپوریٹر ڈاکٹر خالد پرویز نے بتایا کہ متوفی بچے کے مکان کے سامنے سڑک کافی خستہ حال ہے، جہاں بارش کا پانی جمع تھا۔ بچہ اسی مقام سے لوہے کی سیڑھی کے ذریعے اپنے مکان پر جا رہا تھا کہ اچانک اس کا ہاتھ الیکٹرک پول سے ٹکرا گیا اور کرنٹ لگنے سے اس کی موت واقع ہوگئی۔ سماجی کارکن شفیق اینٹی کرپشن نے واقعے کی تفصیلات دیتے ہوئے بجلی محکمہ سے مطالبہ کیا کہ علاقے میں موجود خطرناک برقی کھمبوں اور تاروں کی فوری مرمت کی جائے تاکہ آئندہ ایسے المناک حادثات سے بچا جا سکے۔

ادھر پوار واڑی پولیس اسٹیشن کے اہلکار موقع پر پہنچ کر پنچنامہ کی کارروائی انجام دے رہے ہیں۔ تمام قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد نعش کو تدفین کے لیے اہل خانہ کے سپرد کر دیا جائے گا۔

ایک اندازے کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران مالیگاؤں میں کرنٹ لگنے کے مختلف واقعات میں 10 سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جن میں معصوم بچے بھی شامل ہیں۔ مسلسل احتجاج اور عوامی مطالبات کے باوجود ایسے حادثات کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ شہریوں نے بجلی محکمہ کی مبینہ غفلت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ شہر بھر میں برقی کھمبوں، تاروں اور ٹرانسفارمروں کا فوری معائنہ اور مرمت کی جائے تاکہ مزید قیمتی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔

​میئر و کمشنر کی ہدایت پر کارپوریشن کے اعلی افسران و کارپوریٹرس کا دورہ، خواتین کیلئے باپردہ انتظامات، ایل ای ڈی اسکرین کا بھی نظم 

​مالیگاؤں : 23 جون : عالمی تحریک سنی دعوتِ اسلامی، شاخ مالیگاؤں کے زیرِ اہتمام ہر سال کی طرح امسال بھی ذکرِ تاجدارِ کربلا کے عظیم الشان اور روح پرور اجتماعات کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے۔ وارث علی چوک اور آزاد نگر جیلانی چوک میں کامیاب اجتماعات کے انعقاد کے بعد، اب کل بروز بدھ کو اس سلسلے کا اگلا بڑا اجتماع نور باغ چوک میں منعقد ہونے جا رہا ہے۔ اس کے بعد جمعرات اور جمعہ کو اے ٹی ٹی ہائی اسکول گراؤنڈ پر آخری اجتماعات کے ساتھ یہ سلسلہ اپنے اختتام کو پہنچے گا۔

​ان اجتماعات میں ملک کے مایہ ناز اور شعلہ بیاں خطیب حضرت مولانا سید امین القادری قبلہ کا سلسلہ وار رقت انگیز اور علمی خطاب جاری ہے، جسے سننے کے لیے شہر بھر سے ہزاروں کی تعداد میں عاشقانِ رسول شرکت کر رہے ہیں۔اس طرح کی تفصیلات آج نور باغ چوک میں دورہ کے دوران نور باغ گروپ کے ذمہ داران میں رضوان میمن نے دی، انہوں نے بتایا کہ نور  باغ چوک میں ہونے والے اجتماع کی اہمیت کے پیشِ نظر مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کے افسران اور مختلف محکموں کے ذمہ داران نے اجتماع گاہ اور گرد و نواح کا تفصیلی دورہ کیا۔ میئر نسرین حاجی خالد شیخ رشید اور کمشنر کی خصوصی ہدایت پر کارپوریٹر شکیل بیگ، فقیر محمد، عرفان عابد علی، پربھاگ آفیسر عرفان تابانی، محکمہءِ صفائی کے سربراہ اقبال جان محمد، اور لائٹ و تجاوزات (اتیکرمن) ڈپارٹمنٹ کے اعلیٰ حکام نے موقع پر پہنچ کر تیاریوں کا جائزہ لیا۔​حکام نے یقین دلایا ہے کہ اجتماع سے قبل دو دنوں کے اندر نور باغ کے پورے علاقے کو ہنگامی طور پر مکمل صاف کر دیا جائے گا۔​انہوں نے بتایا کہ اجتماع کے پیش نظر پورے علاقے کی گہرائی سے صفائی، جھاڑو مارنا اور کچرے کی فوری نکاسی۔​گٹروں کی صفائی اور تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے گا تاکہ آمد و رفت میں رکاوٹ نہ ہو۔اسی طرح ​اسٹریٹ لائٹس اور بجلی کے نظام کو چاک و چوبند کرنا۔​بارش اور وبائی امراض کے پیشِ نظر جراثیم کش ادویات کا چھڑکاؤ (فوارنی) اور سڑکوں کے دونوں جانب چونا/پاؤڈر کا بھی چھڑکاؤ کیا جائے گا۔​سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے آج شام پولس ڈیپارٹمنٹ کے اعلیٰ افسران بھی نور باغ چوک پہنچ کر حفاظتی انتظامات اور پولس بندوبست کا جائزہ لیں گے۔​رضوان میمن گروپ نے مزید تفصیلات دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کے لیے خصوصی باپردہ انتظام کیا گیا ہے، ایس ڈی آئی نور باغ گروپ کے متحرک ذمہ داران میں رضوان میمن، اقبال بھائی بکھار والے، شفیق انصاری اور ان کے تمام رفقاء گزشتہ کئی دنوں سے گھر گھر جا کر دعوت نامے تقسیم کر رہے ہیں۔ انہوں نے شہر کے برادرانِ اسلام اور خواتین سے کثیر تعداد میں اس دینی بزم میں شرکت کی مخلصانہ اپیل کی ہے۔

​شرکاء کی سہولت کے لئے  خواتین اسلام کے لیے باغبان جماعت خانہ کے گراؤنڈ پر مکمل باپردہ نشستوں کا انتظام کیا گیا ہے۔ ان کے لیے بڑی ایل ای ڈی (LED) اسکرین لگائی جا رہی ہیں تاکہ وہ پروگرام کو باآسانی دیکھ اور سن سکیں۔اسی طرح علماءِ کرام اور مشائخ عظام کے لیے ایک وسیع و عریض اسٹیج تیار کیا جا رہا ہے۔ پنڈال میں شرکاء کے بیٹھنے کے لیے صوفے، کرسیاں اور فرش کا بہترین انتظام رہے گا۔اس کے علاوہ گرمی اور موسم کی مناسبت سے زائرین کے لیے ٹھنڈے پانی اور شربت کی سبیلیں لگائی جا رہی ہیں۔پروگرام بروز بدھ کو بعد نمازِ مغرب شروع ہوگا، جس میں مولانا سید امین القادری صاحب کے مرکزی خطاب سے قبل دیگر علمائے کرام کے بیانات ہوں گے۔اور پروگرام رات ٹھیک دس بجے اختتام پذیر ہوگا۔​نمازِ عشاء: اجتماع کے فوری بعد رات دس بجے نمازِ عشاء باجماعت قاضی شرف الدین ہال میں ادا کی جائے گی۔اس پروگرام کی نظامت مسجد یارسول اللہ کے امام حافظ غفران اشرفی انجام دینگے۔​شہر بھر سے آنے والے شرکاء کے لیے نور باغ چوک کی طرف آنے والے تمام راستوں کو صاف اور کشادہ اور روشن کیا جا رہا ہے تاکہ ٹریفک کا کوئی مسئلہ پیدا نہ ہو۔

Random Posts