Articles by "Maharashtra Local Body Election Results 2025"
Showing posts with label Maharashtra Local Body Election Results 2025. Show all posts

مہاراشٹر بلدیاتی انتخابات: 22 سالہ سدھی وسترے ریاست کی سب سے کم عمر صدر بلدیہ بن گئیں، شندے سینا نے بی جے پی کو چونکا دیا

سولاپور ضلع کی سیاست میں ایک بڑی اور غیر متوقع تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے۔ موہول میونسپل کونسل کے انتخابات میں شیوسینا (شندے گروپ) نے بی جے پی کو بڑا جھٹکا دیتے ہوئے اہم کامیابی حاصل کی ہے۔ اس انتخاب میں شیو سینا کی امیدوار سدھی وسترے نے بی جے پی کی امیدوار شیتل کھیرساگر کو شکست دے کر میونسپل صدر کا عہدہ اپنے نام کر لیا۔

یہ بھی پڑھیں:..مہاراشٹر سیاست میں طوفان! کانگریس ناراض، سنجے راوت نے کر دیا بڑا اشارہ

یہ کامیابی اس لیے بھی خاص مانی جا رہی ہے کیونکہ سدھی وسترے کی عمر صرف 22 سال ہے اور وہ مہاراشٹر کی تاریخ کی سب سے کم عمر میونسپل صدر بن گئی ہیں۔ موہول کو طویل عرصے سے بی جے پی کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا رہا ہے، جہاں سابق ایم ایل اے راجن پاٹل کا خاص اثر و رسوخ رہا ہے۔ ایسے میں شیو سینا کی یہ جیت بی جے پی کے لیے بڑا سیاسی دھچکا سمجھی جا رہی ہے۔

سرکاری نتائج کے مطابق سدھی وسترے نے یہ مقابلہ 170 ووٹوں کے فرق سے جیتا، جس کے بعد سولاپور ضلع میں بی جے پی حلقوں میں بے چینی دیکھی جا رہی ہے۔ دوسری جانب اس نتیجے سے شیو سینا کارکنوں اور قیادت کا حوصلہ کافی بلند ہوا ہے۔ 20 رکنی موہول میونسپل کونسل میں شیو سینا نے 9 نشستیں جیت کر سب سے بڑی پارٹی ہونے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔

سدھی وسترے کا تعلق موہول کے ایک متوسط طبقے کے سیاسی خاندان سے ہے۔ ان کے دادا، انجہانی وشوناتھ شِوراج وسترے، اپنے وقت کے معزز سماجی و سیاسی شخصیت تھے اور تقریباً 30 سال قبل موہول گرام پنچایت کے سرپنچ رہ چکے تھے۔ ان کا جھکاؤ کانگریس نظریے کی طرف تھا اور وہ کئی بار گرام پنچایت کے رکن منتخب ہوئے۔ سدھی کے والد راجو وسترے پہلے ایک نجی کوآپریٹو ادارے میں کام کر چکے ہیں اور اب کھیتی باڑی کرتے ہیں، جبکہ والدہ تیجشری گھریلو خاتون ہیں۔

تعلیم کے میدان میں بھی سدھی وسترے سرگرم رہی ہیں۔ انہوں نے بی کام کی تعلیم مکمل کی ہے اور اس وقت گراڈ کالج سے ایم کام کی پڑھائی کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ فرم میں بھی کام کر چکی ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سدھی کا شروع میں سیاست میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، لیکن میونسپل صدر کے عہدے پر ریزرویشن کے اعلان کے بعد خاندان اور مقامی شیوسینا لیڈروں کے مشورے سے ان کا نام سامنے آیا۔ سابق میونسپل صدر رمیش براسکر اور سینئر لیڈر پدم دیشمکھ کی رہنمائی میں ایک مضبوط انتخابی مہم چلائی گئی، جس کا عوام پر گہرا اثر پڑا۔

فتح کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے سدھی وسترے جذباتی ہو گئیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ جیت عوام کے اعتماد کی علامت ہے۔ انتخابی مہم کے دوران ان کی کم عمری پر سوال اٹھائے گئے، لیکن عوام نے ووٹ دے کر اس کا جواب دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی ترجیح موہول شہر کی بنیادی سہولتوں جیسے سڑکیں، پانی، بجلی، صحت اور مجموعی ترقی پر ہوگی اور وہ سب کو ساتھ لے کر کام کریں گی۔

مہایوتی کو برتری، ایم وی اے 45 سے بھی کم پر سمٹی

مہاراشٹر میں منعقدہ نگر پریشد (میونسپل کونسل) انتخابات کے نتائج سامنے آ گئے ہیں، جن میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے۔ نتائج کے مطابق حکمراں اتحاد مہایوتی نے مجموعی طور پر واضح برتری حاصل کی ہے، جبکہ اپوزیشن اتحاد مہا وکاس اگھاڑی (MVA) کی کارکردگی توقعات سے کم رہی اور اس کی نشستیں 45 کے ہندسے سے بھی نیچے رہیں۔

یہ بھی پڑھیں:..........مالیگاؤں کارپوریشن الیکشن: سماجوادی امیدواروں کی پہلی لسٹ جاریce.html

انتخابی نتائج بتاتے ہیں کہ شہری علاقوں میں ووٹروں نے ایک بار پھر بی جے پی اور اس کے اتحادیوں پر اعتماد ظاہر کیا ہے۔ کئی نگر پریشدوں میں بی جے پی نے نہ صرف سب سے زیادہ نشستیں حاصل کیں بلکہ بعض مقامات پر آزاد اور مقامی جماعتوں کی حمایت سے حکومت بنانے کی پوزیشن بھی مضبوط کر لی ہے۔

دوسری جانب ایم وی اے، جس میں کانگریس، شیو سینا (ادھو ٹھاکرے گروپ) اور این سی پی شامل ہیں، کو اس بار خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی۔ متعدد شہروں میں اتحاد کو نقصان اٹھانا پڑا، جس سے ریاستی سیاست میں اپوزیشن کی حکمتِ عملی پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ نتائج آنے والے بلدیاتی اور ریاستی انتخابات کے لیے اہم اشارہ ہیں۔ مہایوتی کی برتری سے واضح ہوتا ہے کہ عوامی سطح پر حکومتی اتحاد کی گرفت مضبوط ہے، جبکہ ایم وی اے کو اپنی تنظیم اور زمینی سطح کی تیاریوں پر دوبارہ غور کرنا ہوگا۔

انتخابی نتائج کے بعد بی جے پی اور مہایوتی کے قائدین نے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے ترقی اور استحکام کے حق میں ووٹ قرار دیا ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے نتائج کا تجزیہ کر کے آئندہ کے لیے بہتر حکمتِ عملی بنانے کی بات کہی ہے۔