Articles by "Shiv sena(UBT)"
Showing posts with label Shiv sena(UBT). Show all posts

 


پہلگام دہشت گردانہ حملوں کے بعد سنجے راؤت کا امیت شاہ سے استعفیٰ کا مطالبہ

شیوسینا یو بی ٹی لیڈر سنجے راؤت نے وزیر داخلہ امیت شاہ کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ملک پر احسان کرنا چاہئے اور استعفیٰ دے دینا چاہئے۔ راؤت کی جانب سے استعفیٰ کا مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جموں و کشمیر کے پہلگام میں سیاحوں پر ہوئے غیر انسانی دہشت گردانہ حملے پر قوم غم و غصے کا شکار ہے، جس میں 28 سیاحوں کی موت ہو گئی تھی۔

سنجے راؤت نے ایکس پر اپنی تازہ ترین پوسٹ میں وزیر داخلہ امیت شاہ کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کا بنیادی کام حکومتیں بنانا اور تحلیل کرنا ہے، انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ وزیر داخلہ امت شاہ سال کا ہر ایک دن سیاسی مخالفین کو ختم کرنے کی حکمت عملی بنانے میں گزارتے ہیں۔ انہوں نے پوسٹ میں یہ بھی کہا کہ امیت شاہ کو ملک پر احسان کرنا چاہئے اور استعفیٰ دے دینا چاہئے۔

راؤت نے اپنے ایکس ہینڈل پر. لکھا کہ

"पुरा समय सरकारे बनाना और गिराने मे जाता है! राजनैतिक विरोधीयोंको खतम करनेकी साजिश मे 365 दिन दिमाख व्यस्त रहता है, लोगोंकी सुरक्षा राम भरोसे! अब राम भी ऊब चुका है इन लोगोंसे! इस्तीफा दो.देश पर मेहरबानी करो!"

(استعفیٰ دو! پورا وقت سرکاریں بنانے اور تحلیل کرنے میں جاتا ہے. دماغ سال کے 365 دن سیاسی مخالفین کو ختم کرنے کی حکمت عملی بنانے میں مصروف ہوتا ہے. استعفیٰ دو! ملک پر مہربانی کرو.)

جموں و کشمیر کے پہلگام شہر کے قریب دہشت گردوں کی فائرنگ سے کم از کم 28 سیاح ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے، جو 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سے سب سے مہلک حملہ ہے۔ یہ واقعہ 1990 کی دہائی میں کشمیر میں عسکریت پسندی کے آغاز کے بعد سیاحوں پر سب سے مہلک حملہ ہے۔ اس حملے سے مارچ 2000 میں ضلع اننت ناگ کے چٹی سنگھ پورہ میں ہوئے قتل عام کی یادیں تازہ ہو گئیں، جہاں امریکی صدر بل کلنٹن کے دورہ بھارت سے چند دن پہلے سکھ برادری کے 36 افراد مارے گئے تھے۔

"اگر دونوں بھائی ساتھ آتے ہیں تو ہمیں خوشی ہوگی، لوگ اپنے اختلافات کو ختم کرتے ہیں تو یہ اچھی بات ہے":دیویندر فڑنویس کا ردعمل

آئندہ برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن انتخابات کے پیش نظر ادھو ٹھاکرے اور راج ٹھاکرے نے ممکنہ اتحاد کا اشارہ دے کر مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل پیدا کردی ہے.

یہ بھی پڑھیں:....... برہمن سماج کے خلاف توہین آمیز تبصرے پر انوراگ کشیپ نے معافی مانگی.html

شیوسینا یو بی ٹی سربراہ ادھو ٹھاکرے اور مہاراشٹر نونرمان سینا سربراہ راج ٹھاکرے کے حالیہ کچھ بیانات اتحاد کا واضح اشارہ دیا ہے. شیوسینا یو بی ٹی لیڈر سنجے راؤت نے کہا کہ دونوں بھائی اتحاد کا فیصلہ کریں گے. ممبئی میں میڈیا نمائندوں سے بات چیت کے دوران سنجے راؤت نے کہا کہ راج ٹھاکرے اور ادھو ٹھاکرے بھائی ہیں، ہم ایک عرصہ سے ساتھ ہیں، ہمارا رشتہ  ٹوٹا نہیں ہے. دونوں بھائی متحد ہونے کا فیصلہ کریں گے. ادھو ٹھاکرے جو بھی فیصلہ لیں گے ہم اسے قبول کریں گے. اگر مہاراشٹر کیلئے ایم این ایس اور شیوسینا کو ساتھ آنے کی ضرورت ہے تو ہم ایسا کریں گے. ادھو جی نے کبھی بھی شرائط کے تعلق سے بات نہیں کی ہے.

ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ کچھ سیاسی پارٹیاں ہیں جو مہاراشٹر کا خیرخواہ ہونے کا دعوٰی کرتی ہیں لیکن درحقیقت وہ مہاراشٹر کی دشمن ہیں. انہوں نے مہاراشٹر کے وقار پر حملہ کرنے کیلئے بالا صاحب ٹھاکرے کی شیوسینا کو توڑ دیا. ہمیں ایسی پارٹیوں سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہیے اور تب ہی ہم سچے مہاراشٹرین بن سکتے ہیں.

قابل ذکر ہے کہ ایم این ایس سربراہ راج ٹھاکرے نے حال ہی میں ماضی کے اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ادھو ٹھاکرے کے ساتھ دوبارہ ملنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ حیرت انگیز طور پر ادھو ٹھاکرے نے بھی راج ٹھاکرے کے بیان پر مثبت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ مراٹھی زبان اور مہاراشٹر کی خاطر تنازعات کو ایک طرف رکھنے کے لئے تیار ہیں۔

ٹھاکرے بھائیوں کے ایک ساتھ آنے کے امکان نے مہاراشٹر میں تمام پارٹی کے رہنماؤں کے رد عمل کو جنم دیا ہے۔ اس پیش رفت پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے دونوں چچا زاد بھائیوں کے درمیان دوبارہ اتحاد کے امکان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ "اگر دونوں بھائی ساتھ آتے ہیں تو ہمیں اس سے خوشی ہوگی، اگر لوگ اپنے اختلافات کو ختم کرتے ہیں تو یہ اچھی بات ہے، میں اس کے بارے میں اور کیا کہہ سکتا ہوں؟؟؟۔"

نانا پٹولے نے شرکت کی تو مذاکرات میں شرکت نہیں کروں گا، ادھو ٹھاکرے کا انتباہ

مہاراشٹر: آئندہ اسمبلی انتخابات کو لے مہاوکاس اگھاڑی میں شامل کانگریس اور شیوسینا(UBT) میں نشستوں کی تقسیم پر اب تک تعطل برقرار ہے. نشستوں کی تقسیم کے اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے آج مرکزی الیکشنی کمیٹی کا اجلاس ہوگا.

یہ بھی پڑھیں:.... لاڈلی بہن یوجنا بند

اس تعطل کے درمیان کانگریس کے ریاستی انچارج رمیش چنی تھلا نے سنیچر کے روز سابق وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے اور این سی پی سربراہ شرد پوار سے ملاقات کی اور ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔ واضح رہے کہ 20نومبر کو مہاراشٹر میں اسمبلی انتخابات ہوں گے. بھارتیہ جنتا پارٹی(BJP) نے اپنے 99 امیدواروں کے ناموں کا اعلان کردیا ہے. جبکہ مہاوکاس اگھاڑی نشستوں کی تقسیم کا مسئلہ سلجھانے کیلئے بات چیت کررہی ہے. حالانکہ ایم سی اے کا دعویٰ ہے کہ 260 نشستوں پر اتفاق رائے پر پہنچ گئے ہیں بقیہ 28 نشستیں تنازعہ کا سبب بنی ہوئی ہیں.

کانگریس مرکزی الیکشنی کمیٹی (سی ای سی) کی میٹنگ اتوار کو ہونی تھی لیکن میٹنگ ملتوی کرکے پیر کے روز کر دی گئی.

اطلاعات کے مطابق سابق وزیراعلیٰ شیوسینا یو بی ٹی سربراہ ادھو ٹھاکرے نے انتباہ دیا ہے کہ اگر کانگریس ریاستی صدر نانا پٹولے نے شرکت کی تو وہ مذاکراتی میٹنگ میں حصہ نہیں لیں گے.

مہاوکاس اگھاڑی اور برسراقتدار مہایوتی مقابلے کیلئے تیار، ونچت بہوجن اگھاڑی نے بھی مزید 30 امیدواروں کی فہرست جاری کی

نئی دہلی: مہاراشٹر اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کے لئے کانگریس 20 اکتوبر کو مرکزی الیکشن کمیٹی کا اجلاس منعقد کرے گی تاکہ ریاست کے لئے امیدواروں کی فہرست کو حتمی شکل دی جاسکے۔ پارٹی کی مہاراشٹر الیکشن اسکریننگ کمیٹی نے بدھ کے روز دہلی کے ہماچل بھون میں ایک میٹنگ کی۔ پارٹی کے ریاستی انچارج رمیش چنی تھلا، مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے، بالا صاحب تھورات، قائد حزب اختلاف وجے وڈیٹیوار اور ستیج پاٹل نے اجلاس میں شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں:.... مہاراشٹر اسمبلی الیکش کی تاریخ کا اعلان

کل اسکریننگ میٹنگ کے اختتام کے بعد اسمبلی انتخابات کے لئے پارٹی کے انچارج رمیش چنی تھلا نے کہا کہ 'ہم 20 اکتوبر کو ایک اور میٹنگ کریں گے اور ہر چیز کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔ سی ای سی کا اجلاس 20 اکتوبر کو ہے۔ پارٹی کی ممبئی صدر ورشا گائیکواڑ نے بھی کہا کہ 20 اکتوبر کو حتمی فیصلہ لیا جائے گا. اس سے قبل بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بھی قومی راجدھانی میں اپنی مرکزی کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا اور 100 سے زیادہ نشستوں پر تبادلہ خیال کیا۔ ذرائع نے بتایا کہ پارٹی اجیت پوار کی زیر قیادت نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) اور ایکناتھ شندے کی زیر قیادت شیوسینا سمیت مہایوتی اتحاد کے شراکت داروں کے ساتھ نشستوں کی تقسیم پر بات چیت کے بعد 288 رکنی مہاراشٹر اسمبلی انتخابات کے لئے اپنے بقیہ امیدواروں کے ناموں کا فیصلہ کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں:.... بابا صدیقی فائرنگ میں ہلاک

اس کے علاوہ ونچت بہوجن آگھاڑی نے ریاست کے اسمبلی انتخابات کے لئے اپنے امیدواروں کی تیسری فہرست کا بھی اعلان کیا۔ وی بی اے نے اپنی تیسری فہرست میں مزید 30 امیدواروں کا اعلان کیا۔

اس سے قبل الیکشن کمیشن آف انڈیا نے مہاراشٹر اور جھارکھنڈ اسمبلی انتخابات کے شیڈول کا اعلان کیا تھا۔ مہاراشٹر کی 288 رکنی قانون ساز اسمبلی کے لئے انتخابات 20 نومبر کو ایک ہی مرحلے میں ہوں گے اور ووٹوں کی گنتی 23 نومبر کو ہوگی۔

 

لوک سبھا انتخابات 2024 کے پہلے مرحلے کی ووٹنگ کی تشہیری مہم کیلئے پالگھر کا دورہ

شیوسینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے ) صدر ادھو ٹھاکرے پالگھر دورے پر ہیں جہاں انہوں نے لوکل ٹرین میں سفر کیا.

عام انتخابات 2024 کے پیش نظر تشہیری مہم عروج پر ہے. شیوسینا یو بی ٹی صدر ادھو ٹھاکرے آج بروز جمعہ اسی سلسلے میں پالگھر دورے پر تھے جہاں انہوں نے لوکل ٹرین میں سفر کیا. ادھو ٹھاکرے کے ٹرین میں سوار ہونے پر ٹرین میں سفر کر رہے مسافر حیران رہ گئے. واضح رہے کہ شیوسینا ترجمان سنجے راؤت بھی ان کے ساتھ تھے. ٹھاکرے اور سنجے راؤت اس وقت عام انتخابات 2024 کے پہلے مرحلے کی ووٹنگ کیلئے تشہیری مہم کیلئے پالگھر کے دورے پر ہیں.

کرناٹک انتخابات کے نتائج نے یہ ثابت کردیا ہے کہ ہمدردی، نام اور اس طرح کے دیگر عوامل ہر وقت کارگر نہیں ہوتے: سندیپ دیشپانڈے

کرناٹک اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی کامیابی اور مہاراشٹر میں اراکین اسمبلی کو نااہل قرار دینے سے متعلق پٹیشن پر سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد شیوسینا یو بی ٹی لیڈران اور کارکنان آئندہ اسمبلی انتخابات کو لے کر کافی پر امید ضرور ہوں گے. لیکن شیوسینا کی کٹّر سیاسی حریف مہاراشٹر نونرمان سینا کا ماننا ہے کہ آئندہ مہاراشٹر اسمبلی انتخابات میں ادھو ٹھاکرے کو ہمدردی کے ووٹ حاصل نہیں ہوں گے.

یہ بھی پڑھیں:.... آئیے تاریخی شہر طائف کی سیر کیجیے

ایم این ایس لیڈر سندیپ دیشپانڈے نے کہا کہ کرناٹک انتخابات کے نتائج نے یہ ثابت کردیا ہے کہ ہمدردی، نام اور اس طرح کے دیگر عوامل ہر وقت کارگر نہیں ہوتے. انہوں نے کہا کہ شاید ادھو ٹھاکرے کو لوگوں کی ہمدردی حاصل ہوجائے، لیکن انہیں ووٹ نہیں ملیں گے اور اس کا  ایک واضح سبب یہ ہے کہ ادھو ٹھاکرے کے دور اقتدار میں ترقیاتی کام نہیں ہوئے. ان کے دور اقتدار میں عوام نے بدعنوانی اور رشوت خوری دیکھی ہے.

انڈیا ٹوڈے سے بات کرتے ہوئے ایم این ایس لیڈر سندیپ دیشپانڈے نے کرناٹک میں بی جے پی کی شکست سے متعلق راج ٹھاکرے کے حالیہ بیان کی وضاحت پیش کی جس میں ٹھاکرے نے بی جے پی کی شکست کو تکبر کی شکست کہا تھا. دیشپانڈے نے کہا کہ اب یہ بھگوا پارٹی پر منحصر کرتا ہے کہ وہ دیکھیں کہ انہیں کیا کرنا ہے کیونکہ تکبّر کے راستے پر کامیابی نہیں ملتی.

دیشپانڈے نے مزید کہا کہ ایم این ایس کسی بھی طریقے سے بی جے پی کو نشانہ نہیں بنارہی ہے اور نا ہی بی جے پی اور ایم این ایس کے درمیان کوئی رنجش ہے. راج ٹھاکرے ہمیشہ حق بات کہتے ہیں اور اکثر ان کے بیان سے انہیں غلط سمجھا جاتا ہے. لیکن حقیقت بیان کرنے میں برائی کیا ہے.

2024 عام انتخابات کے پیش نظر شرد پوار کی قیادت میں آج اپوزیشن پارٹیوں کی اہم میٹنگ

گزشتہ روز کرناٹک اسمبلی انتخابات کے نتائج  کا اعلان ہوا جس میں کانگریس نے 224 میں سے 136 سیٹیں حاصل کرکے شاندار کامیابی حاصل کی، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) صرف 65 سیٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی۔  اس جیت نے بی جے پی کو واحد جنوبی ریاست میں بھی اقتدار سے باہر کر دیا ہے جس پر اس کی حکومت تھی. کرناٹک میں کانگریس کی اس کامیابی نے مستقبل میں اس کی کامیابی کے امکانات کو بڑھا دیا ہے۔یہ بھی پڑھیں:....

لیور ٹرانسپلانٹ کے باوجود دسویں میں-95 فیصد مارکس-Secondary-Education-CBSE-Class-10-Results-In-2023.html

شیوسینا (یو بی ٹی) ایم پی سنجے راوت نے ایک بار پھر بی جے پی پر حملہ کیا۔ انتخابی نتائج پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے شیو سینا (یو بی ٹی) کے ایم پی سنجے راوت نے کہا کہ کرناٹک نے دکھایا ہے کہ لوگ آمریت کو شکست دے سکتے ہیں۔ کانگریس جیت گئی جس کا مطلب ہے کہ بجرنگ بلی کانگریس کے ساتھ ہے نہ کہ بی جے پی کے ساتھ۔ ہمارے وزیر داخلہ (امیت شاہ) کہہ رہے تھے کہ اگر بی جے پی ہار جاتی ہے تو کرناٹک میں فسادات ہوں گے۔ کرناٹک پرسکون اور خوشحال ہے، فسادات کہاں ہیں؟ راؤت کے تبصروں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کرناٹک میں بی جے پی کی شکست پرامن رہی ہے، امت شاہ کی پیشین گوئی بھی غلط ثابت ہوئی کہ اگر بی جے پی ہار گئی تو فسادات ہوں گے۔

راوت نے 2024 کے عام انتخابات کی تیاریوں کے بارے میں بھی بات کی۔راوت نے مزید کہا کہ مودی لہر ختم ہو چکی ہے اور اب ہماری لہر پورے ملک میں آرہی ہے۔ 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے لیے ہماری تیاری شروع ہو گئی ہے اور آج شرد پوار کی صدارت میں ایک میٹنگ بلائی گئی ہے، ہم اس بارے میں بات کریں گے۔ اس میٹنگ میں 2024 کے الیکشن اور اس کی تیاری سے متعلق تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

راؤت کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپوزیشن پارٹیاں 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے لیے پہلے سے ہی تیاری کر رہی ہیں، اس پر بات کرنے کے لیے شرد پوار کو میٹنگ کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔کرناٹک میں چیف منسٹر کا انتخاب کرنا کانگریس کے لیے مشکل کام ہے۔ اس عہدے کے لیے دو مضبوط دعویدار ہیں - سابق وزیر اعلیٰ سدرامیا اور کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے سربراہ ڈی کے شیوکمار. پارٹی ہائی کمان نے اتوار کو تمام جیتنے والے امیدواروں کی میٹنگ طلب کی ہے تاکہ یہ فیصلہ کیا جاسکے کہ قانون ساز پارٹی کا لیڈر کون ہوگا۔ تاہم حتمی فیصلہ پارٹی ہائی کمان کرے گی۔

बीजेपी शिवसेना को क्रूर तरीके से खत्म करने की कोशिश कर रही है, लेकिन सफल नहीं होगी:ठाकरे

शिवसेना (यूबीटी) के नेता उद्धव ठाकरे ने बागी धड़े को पार्टी का नाम और चुनाव चिह्न आवंटित करने को लेकर रविवार को चुनाव आयोग पर निशाना साधा और चुनाव आयोग को सत्ता में बैठे लोगों का 'गुलाम' करार दिया।

मुख्यमंत्री एकनाथ शिंदे के नेतृत्व वाले गुट के हाथों पार्टी का नाम और चुनाव चिह्न 'तीर कमान' गंवाने के हफ्तों बाद चुनाव आयोग को 'चुना लगाओ' आयोग करार देते हुए ठाकरे ने कहा कि चुनाव आयोग पार्टी को कभी नहीं छीन सकता, जिसकी स्थापना उनके दिवंगत पिता ने की थी।

उन्होंने कहा कि यह बाल ठाकरे ही थे, जो भारतीय जनता पार्टी के साथ खड़े थे, जब वह राजनीतिक रूप से "अछूत" थी, और पूर्व सहयोगी को महाराष्ट्र में बिना बाल ठाकरे का आह्वान किए केवल प्रधान मंत्री नरेंद्र मोदी के नाम पर वोट मांगने की चुनौती दी।

पूर्व मुख्यमंत्री ने एक रैली में इशारा करते हुए कहा, "आपने (चुनाव आयोग) हमसे पार्टी का नाम और चुनाव चिन्ह छीन लिया है, लेकिन आप शिवसेना को मुझसे नहीं छीन सकते।"आपके पास देने के लिए कुछ नहीं है। उन्होंने सभा को बताय मैं आपका आशीर्वाद और समर्थन लेने आया हूं," 

तटीय कोंकण क्षेत्र के रत्नागिरी जिले में खेड़ निर्वाचन क्षेत्र ठाकरे के पूर्व वफादार रामदास कदम का गृह क्षेत्र है, जिन्होंने शिंदे के नेतृत्व वाले गुट के प्रति निष्ठा बदल ली है।

उद्धव ठाकरे को एक बड़ा झटका देते हुए, चुनाव आयोग ने पिछले महीने शिंदे के नेतृत्व वाले समूह को 'शिवसेना' नाम और उसका चुनाव चिन्ह आवंटित किया था, जिसे शिवसेना के अधिकांश विधायकों का समर्थन प्राप्त है।

ठाकरे ने कहा कि उन्होंने चुनाव आयोग के फैसले को स्वीकार नहीं किया। अगर चुनाव आयोग मोतियाबिंद से पीड़ित नहीं है तो उसे आकर जमीनी स्थिति देखनी चाहिए। चुनाव आयोग एक 'चुना लगाव' आयोग है और सत्ता में बैठे लोगों का गुलाम है।  जिस सिद्धांत के आधार पर चुनाव आयोग ने यह फैसला लिया, वह गलत है।'ठाकरे ने कहा कि पार्टी ने उच्चतम न्यायालय में अपील की है।

उन्होंने कहा कि बीजेपी शिवसेना को क्रूर तरीके से खत्म करने की कोशिश कर रही है, लेकिन सफल नहीं होगी।उन्होंने कहा कि शिवसेना को नष्ट करने का कदम मराठी लोगों के साथ-साथ हिंदुओं की एकता पर हमले के समान है।जब बीजेपी राजनीति में अछूत थी, तब बालासाहेब ठाकरे उस पार्टी के साथ खड़े थे.

उन्होंने कहा कि पहले साधु-संत भाजपा का हिस्सा हुआ करते थे लेकिन अब पार्टी अवसरवादियों से भर गई है।उन्होंने कहा, "भ्रष्ट लोगों की सबसे बड़ी संख्या भाजपा में है। पहले, वे (भाजपा) विपक्ष के लोगों पर भ्रष्टाचार का आरोप लगाते हैं , फिर भ्रष्टाचार के आरोपी लोगों कोभाजपा में शामिल किया जाता है।"

इस आलोचना को खारिज करते हुए कि जब वह मुख्यमंत्री थे (नवंबर 2019-जून 2022) अपने घर से बाहर नहीं निकले थे, ठाकरे ने कहा, "मैं COVID महामारी के कारण बाहर नहीं गया था, लेकिन मैंने घर से काम किया, और महामारी के दौरान मेरे काम की सराहना की गई थी"।

उन्होंने कहा कि उनके समर्थक तय करेंगे कि वे उन्हें पार्टी अध्यक्ष बनाना चाहते हैं न कि चुनाव आयोग। "लोगों को यह तय करना होगा कि वे मुझे चाहते हैं या एकनाथ शिंदे। मैं लोगों के फैसले को स्वीकार करूंगा, लेकिन चुनाव आयोग के नहीं। अगर लोग कहते हैं कि वे मुझे नहीं चाहते हैं, तो मैं वैसे ही छोड़ दूंगा जैसे मैंने 'वर्षा' (मुख्यमंत्री का आधिकारिक निवास) को छोड़ा था।"

भाजपा पर निशाना साधते हुए उन्होंने कहा कि जिस तरह एकनाथ शिंदे ने मेरे (उद्धव ठाकरे के) पिता को ''चुरा लिया'', भाजपा ने ''सरदार वल्लभ भाई पटेल और सुभाष चंद्र बोस को चुरा लिया क्योंकि उस पार्टी के पास भरोसा करने के लिए कोई प्रतीक नहीं है।''क्या आप उन्हें (शिंदे के संदर्भ में) वोट देंगे?" उन्होंने दर्शकों से पूछा।

ठाकरे ने कहा, "पहले भाजपा का मंच साधुओं और संतों से भरा हुआ करता था, लेकिन अब यह अवसरवादियों से भरा हुआ है। मैं भाजपा को चुनौती देता हूं कि वह महाराष्ट्र में केवल प्रधानमंत्री नरेंद्र मोदी के नाम पर वोट मांगे न कि बालासाहेब ठाकरे के नाम पर।"उन्होंने अपने समर्थकों से महाराष्ट्र चुनाव में बीजेपी को धूल चटाने की अपील की.

ابتدائی انکوائری کا آغاز، ٹھاکرے کے وکلاء نے پی آئی ایل کی مخالفت کرتے ہوئے مفروضات پر مبنی قرار دیا

ممبئی: سابق وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کے لیے مصیبت پیدا ہو سکتی ہے۔مہاراشٹر حکومت نے جمعرات کو بمبئی ہائی کورٹ کو مطلع کیا کہ اس نے شیوسینا (UBT) سربراہ اور ان کے خاندان کے خلاف ایک شکایت کے بعد ابتدائی انکوائری شروع کر دی ہے جس میں ان پر غیر متناسب اثاثے رکھنے کا الزام لگایا گیا ہے۔

 جسٹس دھیرج ٹھاکر اور والمیکی مینیزس کی ایک ڈویژن بنچ ایک مفاد عامہ کی عرضی (PIL) کی سماعت کر رہی ہے جس میں مرکزی ایجنسیوں کے ذریعہ خاندان کے خلاف مبینہ طور پر ان کے معلوم ذرائع آمدن سے زیادہ اثاثوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

 پی آئی ایل 38 سالہ گوری بھیڈے نے دائر کی تھی، جن کا خاندان ٹھاکرے خاندان کی طرح اشاعت کے کاروبار میں تھا، جو مارمک میگزین اور روزنامہ سامنا شائع کرتے ہیں۔بھیڈے نے سی بی آئی اور ای ڈی کی طرف سے مکمل اور غیر جانبدارانہ جانچ کی امید ظاہر کی تھی۔

 صبح کے سیشن میں مختصر سماعت کے بعد بنچ نے PIL کو حکم کے لیے محفوظ کر لیا۔  تاہم، سرکاری وکیل ارونا کامت پائی نے عدالت کو ریاستی حکومت کے موقف سے آگاہ کرنے کے لیے دوپہر کے سیشن میں PIL کا ذکر کیا۔

بھیڈے، جنہوں نے پہلے ممبئی پولیس کمشنر کو اپنے الزامات کے بارے میں ایک خط بھیجا تھا، کہا کہ انہیں ایسی کسی انکوائری کے بارے میں مطلع نہیں کیا گیا ہے۔

اس سے قبل، ٹھاکرے، اسپی چنائے اور اشوک موندرگی کے وکیلوں نے اس درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کسی بھی مواد سے بالکل خالی اور خالصتاً "مفروضوں" پر مبنی قرار دیا تھا۔