Articles by "Maharashtra"
Showing posts with label Maharashtra. Show all posts

تاجروں کا ریاستی حکومت کو 15 دنوں کا الٹی میٹم

ناسک: ریاست کے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کے کمشنر تکارام منڈھے نے پورے مہاراشٹر میں خوردہ (غیر پیک شدہ) کھانے کے تیل کی فروخت اور خریداری پر سخت پابندی عائد کر دی ہے۔ اس فیصلے کے خلاف ریاست بھر کے کھانے کے تیل کے تاجروں نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ناسک میں منعقدہ ایک اہم اجلاس میں تاجروں نے اس فیصلے پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ریاستی حکومت کو 15 دن کا الٹی میٹم دے دیا ہے۔

اجلاس میں تاجروں نے واضح کیا کہ اگر 15 دن کے اندر خوردہ تیل کی فروخت پر عائد پابندی واپس نہ لی گئی تو وہ ریاست بھر میں سڑکوں پر اتر کر بڑا احتجاج کریں گے۔ ضرورت پڑنے پر وہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے اور مرکزی حکومت سے بھی اس معاملے پر رابطہ کریں گے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ قواعد کی خلاف ورزی پر دس لاکھ روپے تک جرمانہ اور قید کی سزا انتہائی ناانصافی ہے اور انہوں نے غصے میں سوال اٹھایا کہ کیا انہیں انتہا پسند سمجھا جا رہا ہے؟

دوسری جانب کمشنر تکارام منڈھے نے پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ کھانے کے تیل میں ملاوٹ یا قواعد کی خلاف ورزی پر سات سال سے لے کر عمر قید تک کی سزا اور دس لاکھ روپے تک جرمانے کا اطلاق ہے۔ انہوں نے صارفین سے اپیل کی ہے کہ وہ خوردہ تیل بالکل نہ خریدیں بلکہ صرف پیک شدہ تیل خریدیں اور اس کے لیبل، سیل اور میعاد ختم ہونے کی تاریخ ضرور چیک کریں۔

منڈے نے بتایا کہ خوردہ اور ملاوٹی تیل کا مسئلہ صرف اقتصادی دھوکہ دہی تک محدود نہیں بلکہ یہ براہ راست عوام کی صحت سے جڑا ہوا ہے۔ ایسے تیل کے استعمال سے کینسر، دماغی امراض اور ہائی بلڈ پریشر جیسے سنگین امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ ایک بار تلے ہوئے تیل کو گھر میں بار بار استعمال نہ کیا جائے اور ہوٹلوں میں بھی اگر وہی تیل بار بار استعمال ہو رہا ہو تو وہاں کھانا کھانے سے گریز کیا جائے۔

یہ فیصلہ صارفین کی صحت کے تحفظ کے لیے لیا گیا ہے تاہم تاجروں کا دعویٰ ہے کہ اس سے روایتی کاروبار اور عام صارفین پر منفی اثر پڑے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ریاستی حکومت تاجروں کے الٹی میٹم پر کیا ردعمل دیتی ہے۔

سیاست کے لیے ہم ذات اور برادری کے جھنڈے لے کر گھروں سے باہر نکلتے ہیں، اسی طرح ہمیں اپنے بچوں کے اسکولوں کے لیے بھی متحد ہوکر باہر نکلنا چاہیے

کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے کنوینر ابھجیت دِپکے نے جمعرات کو مہاراشٹر کے وزیر برائے اسکولی تعلیم دادا بھسے کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے ریاست کے سرکاری اسکولوں کی مبینہ خستہ حالی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ متعدد سرکاری اسکولوں میں طلبہ کو مناسب کلاس روم، بینچ، بیت الخلاء اور اسکول تک پہنچنے کے لیے محفوظ راستوں جیسی بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں ہیں۔

ابھجیت دپکے نے یہ مطالبہ لاتور کے ضلع کے اوسا تعلقہ کے اوجانی گاؤں میں واقع ضلع پریشد اسکول کے دورے کے دوران کیا۔ وہ اپنی تنظیم کی جانب سے گزشتہ ہفتے شروع کی گئی ’’اسکول ٹھیک کرو‘‘ مہم کے تحت اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اسکولوں کی حالت کے لیے وزراء اور منتخب نمائندوں کو جوابدہ بنایا جانا چاہیے اور عوام کو سیاسی قائدین پر تعلیم کو ترجیح دینے کے لیے دباؤ ڈالنا چاہیے۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دپکے نے کہا کہ ریاست کے کئی اسکولوں میں اب بھی مناسب کلاس روم، بیٹھنے کے لیے بینچ، بیت الخلاء اور محفوظ راستوں جیسی بنیادی سہولیات موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض اسکولوں میں طلبہ کے ساتھ ’’جانوروں سے بھی بدتر‘‘ سلوک کرنے جیسی صورتحال پیدا ہوچکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ طلبہ کی زندگی کا سوال ہے۔ جب سیاسی رہنما طلبہ کے لیے کچھ نہیں کررہے ہیں تو عوام انہیں ووٹ کیوں دیں؟ کیا عوام انہیں صرف اس لیے ووٹ دیتے ہیں کہ وہ ہیلی کاپٹروں میں سفر کریں؟ عوام کو یہ دیکھنا چاہیے کہ ان کے بچے کن حالات میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ انہوں نے سخت الفاظ میں کہا کہ ان وزراء کے کتوں کو بھی اس سے بہتر سہولیات حاصل ہیں۔

دپکے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں پر تعلیم کے لیے کام کرنے کا دباؤ ڈالیں۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی سیاسی رہنما ووٹ مانگنے کے لیے گاؤں میں آئے تو عوام اسے کہیں کہ جب تک وہ تعلیم کے لیے کام نہیں کرتا، وہ ووٹ مانگنے ان کے دروازے پر نہ آئے۔

انہوں نے کہا کہ سیاست کے لیے ہم ذات اور برادری کے جھنڈے لے کر گھروں سے باہر نکلتے ہیں، اسی طرح ہمیں اپنے بچوں کے اسکولوں کے لیے بھی متحد ہوکر باہر نکلنا چاہیے۔

مذہب کے نام پر کی جانے والی سیاسی بیان بازی کا حوالہ دیتے ہوئے ابھجیت دپکے نے کہا کہ یہ لوگ مسلسل کہتے ہیں کہ مذہب خطرے میں ہے۔ اتنے برسوں میں مذہب ختم نہیں ہوا تو کیا آپ کے دورِ اقتدار میں وہ ختم ہوجائے گا؟ مذہب کہیں نہیں جائے گا، لیکن بچوں کا مستقبل ضرور متاثر ہوسکتا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزراء اور اراکین اسمبلی اپنے بچوں کو بھی سرکاری اسکولوں میں پڑھائیں تاکہ انہیں ان اسکولوں میں زیرِ تعلیم طلبہ کو درپیش حقیقی مسائل کا اندازہ ہوسکے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا دادا بھسے کو وزیرِ اسکولی تعلیم کے عہدے پر برقرار رہنا چاہیے تو دپکے نے کہا کہ اسکولوں کی موجودہ حالت دیکھ کر انہیں محسوس ہوتا ہے کہ وزیرِ تعلیم کو اس عہدے پر برقرار نہیں رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت واقعی سرکاری اسکولوں کی بہتری کی فوری ضرورت کو سمجھنا چاہتی ہے تو وزراء اور منتخب نمائندوں کو اپنے بچوں کو انہی اسکولوں میں تعلیم دینی چاہیے۔

دپکے نے مزید الزام لگایا کہ برسوں سے اقتدار میں رہنے کے باوجود موجودہ حکومت سرکاری اسکولوں کی حالت میں خاطر خواہ تبدیلی لانے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی طلبہ ایسے اسکولوں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں جہاں ٹین کی چھتیں ٹوٹی ہوئی یا رسنے والی ہیں اور مناسب تعداد میں بینچ بھی دستیاب نہیں ہیں۔ اگر دس سال میں یہ بنیادی مسائل حل نہیں کیے جاسکے تو حکومت کو بتانا چاہیے کہ اس نے کیا حاصل کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ CJP اور مقامی شہری اسکولوں کے مسائل کے خلاف اجتماعی طور پر آواز اٹھائیں گے اور حکومت سے مطالبہ کریں گے کہ ان طلبہ کے لیے محفوظ آمدورفت کا انتظام کیا جائے جو کئی کئی کلومیٹر پیدل چل کر اسکول پہنچتے ہیں۔

اسکولوں میں سانپ کے کاٹنے سے بچوں کی مبینہ اموات کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے دپکے نے کہا کہ ایسے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حکام طلبہ کو محفوظ ماحول میں تعلیم فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے پہلے CJP ٹیم کی جانب سے معائنہ کیے گئے ایک اسکول کے غیر صحت بخش ماحول پر بھی تشویش ظاہر کی اور الزام لگایا کہ اسکول کے پیچھے جمع کباڑ اور گندگی کی وجہ سے سانپوں کی موجودگی کے لیے سازگار حالات پیدا ہوگئے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ CJP کی جانب سے کیے گئے معائنوں کے بعد بعض اسکولوں میں متعلقہ حکام نے کام شروع بھی کیا ہے۔

ابھجیت دپکے نے جمہوریت کو مضبوط بنانے کے لیے عوامی شمولیت کو ضروری قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے دوبارہ اپنی آواز بلند کرنا شروع کردی ہے۔ جمہوریت میں مزید تنظیمیں اور تحریکیں سامنے آنی چاہئیں۔ جتنے زیادہ لوگ آگے آکر اپنی بات کہیں گے، ہماری جمہوریت اتنی ہی مضبوط ہوگی۔

جین زی کے مسائل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2029 کے انتخابات تک نوجوان ایک بڑی انتخابی طاقت بن جائیں گے اور سیاسی جماعتوں کو ان کے مسائل پر توجہ دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو موجودہ وقت میں اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والی نوجوان نسل کے لیے بھی کام کرنا چاہیے اور خبردار کیا کہ اگر نوجوانوں کے مسائل کو نظرانداز کیا گیا تو آنے والے انتخابات میں وہ حکومتوں سے جواب طلب کریں گے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر حکومت نے سرکاری اسکولوں کی حالت بہتر نہیں کی تو احتجاج کی لہر گاؤں گاؤں تک پھیل سکتی ہے۔

لاتور میں NEET پیپر لیک معاملے کی CBI تحقیقات کے بارے میں دپکے نے الزام عائد کیا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تفتیش میں نچلی سطح کے ملزمین کو نشانہ بنایا جارہا ہے جبکہ بڑے لوگوں کو تحفظ فراہم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ اتنا بڑا معاملہ نظام میں اعلیٰ عہدیداروں کی مبینہ شمولیت کے بغیر پیش آیا ہوگا۔ صرف چند نچلی سطح کے لوگوں کو گرفتار کرکے کارروائی کا دعویٰ کرنا کافی نہیں ہے۔

مجموعی طور پر ابھجیت دپکے نے اسکول کے دورے کے ذریعے سرکاری اسکولوں میں فوری طور پر بنیادی سہولیات بہتر بنانے، وزراء اور منتخب نمائندوں کو جوابدہ بنانے اور بہتر تعلیمی سہولیات کے لیے عوامی دباؤ بڑھانے کا مطالبہ کیا۔

اقلیتی طلبہ کیلئے اسکالرشپ اور مالیگاؤں حج ہاؤس کی تعمیر کیلئے ممبئی میں نمائندگی

مالیگاؤں: مالیگاؤں کے سابق رکن اسمبلی، اسلام پارٹی کے بانی و قائد آصف شیخ رشید نے آج ممبئی میں مہاراشٹر کی نائب وزیر اعلیٰ و وزیر اقلیت سنیترا تائی پوار سے ملاقات کی اور مالیگاؤں شہر کے مختلف اہم مسائل کے حل، بنیادی سہولیات کی ترقی اور اقلیتی طلبہ کے تعلیمی مستقبل کے حوالے سے اہم مطالبات پیش کیے۔ملاقات کے دوران آصف شیخ رشید نے کہا کہ مالیگاؤں ایک اہم اقلیتی شہر ہے، جہاں بڑی تعداد میں غریب اور متوسط طبقے کے افراد زندگی بسر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں روزگار اور آمدنی کے محدود ذرائع کے باعث شہریوں کی معاشی حالت انتہائی کمزور ہے اور مالیگاؤں کی ترقی کا بڑا انحصار سرکاری امداد اور خصوصی گرانٹس پر ہے۔انہوں نے نائب وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ مالیگاؤں شہر کے بنیادی مسائل، سڑکوں، پانی، صفائی، صحت، تعلیم اور دیگر ضروری شہری سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے کی خصوصی ترقیاتی گرانٹ منظور کی جائے، تاکہ شہر میں جاری ترقیاتی کاموں کو رفتار دی جاسکے اور عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کی جاسکیں۔

آصف شیخ نے مالیگاؤں میں ریجنل حج ہاؤس کی تعمیر کا مطالبہ بھی نائب وزیر اعلیٰ سنیترا پوار کے سامنے رکھا۔ انہوں نے کہا کہ مالیگاؤں نہ صرف ناسک ضلع بلکہ جلگاؤں، دھولیہ اور نندوربار سمیت اطراف کے علاقوں کے لیے بھی ایک اہم مرکزی شہر ہے، جہاں بڑی تعداد میں مسلم آبادی آباد ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان علاقوں سے ہر سال بڑی تعداد میں عازمینِ حج سفرِ حج پر روانہ ہوتے ہیں، لیکن حج سے متعلق ضروری سہولیات کے لیے انہیں دور دراز مقامات کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ اگر مالیگاؤں میں ریجنل حج ہاؤس قائم کیا جاتا ہے تو مالیگاؤں کے ساتھ ساتھ اطراف کے اضلاع کے عازمینِ حج کو بھی بڑی سہولت حاصل ہوگی۔

آصف شیخ نے مطالبہ کیا کہ حکومت مالیگاؤں میں حج ہاؤس کی تعمیر کے لیے ضروری منظوری اور فنڈز فراہم کرتے ہوئے اس منصوبے کو جلد عملی شکل دے۔

ملاقات میں آصف شیخ نے اقلیتی طلبہ کی تعلیمی مشکلات کا مسئلہ بھی تفصیل سے پیش کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مہاراشٹر حکومت اقلیتی طلبہ کے لیے اسکالرشپ کا دائرہ وسیع کرے، خصوصاً ہائر ایجوکیشن حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے خصوصی مالی امداد کا انتظام کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ مالی مشکلات کے باعث کئی باصلاحیت طلبہ اعلیٰ تعلیم جاری رکھنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ایسے طلبہ کو حکومت کی جانب سے لاکھوں روپے تک کی اسکالرشپ فراہم کی جائے تو وہ اپنی تعلیم مکمل کرکے بہتر مستقبل کی جانب گامزن ہوسکتے ہیں اور ملک و ریاست کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔ملاقات کے دوران نائب وزیر اعلیٰ و وزیر اقلیت سنیترا تائی پوار نے آصف شیخ رشید کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات پر مثبت تیقن دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ان معاملات کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے اور متعلقہ امور پر ضروری کارروائی کی جائے گی۔

آصف شیخ رشید نے امید ظاہر کی کہ نائب وزیر اعلیٰ کی مثبت یقین دہانی کے بعد مالیگاؤں کے لیے خصوصی ترقیاتی گرانٹ، ریجنل حج ہاؤس کی تعمیر اور اقلیتی طلبہ کے لیے اعلیٰ تعلیمی اسکالرشپ کے مطالبات پر جلد عملی پیش رفت ہوگی۔

 دو کروڑ سے زائد ووٹروں کے انومریشن فارم جمع نہیں ہوئے

ممبئی: مہاراشٹر میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (SIR) کے تحت گنتی فارم جمع کرنے کا مرحلہ مکمل ہوگیا ہے،تاہم ریاست میں 2 کروڑ 7 لاکھ 93 ہزار 916 ووٹروں کے گنتی فارم ابھی تک جمع یا اسکین نہیں ہو سکے ہیں۔ چیف الیکشن آفیسر کے دفتر کی جانب سے 17 اگست 2026 کو جاری کردہ اعداد و شمار میں یہ اہم معلومات سامنے آئی ہے۔تفصیلات کے مطابق ریاست میں مجموعی طور پر 9 کروڑ 78 لاکھ 54 ہزار 49 ووٹر درج ہیں۔ ان میں سے 7 کروڑ 69 لاکھ 52 ہزار 262 ووٹروں کے گنتی فارم ڈیجیٹائز کیے جا چکے ہیں، جو مجموعی ووٹروں کا 78.64 فیصد ہے۔ جبکہ 21.25 فیصد یعنی 2 کروڑ سے زائد ووٹروں کے فارم ابھی تک جمع نہیں ہوئے ہیں۔

دوسری جانب، ڈیجیٹائز کیے گئے فارم اور ابھی تک جمع نہ ہونے والے فارم کو ملا کر 9 کروڑ 77 لاکھ 46 ہزار 178 ووٹروں کا ڈیٹا آن لائن عمل میں شامل ہو چکا ہے، جو ریاست کے کل ووٹروں کا تقریباً 99.89 فیصد بنتا ہے۔الیکشن حکام نے واضح کیا ہے کہ گنتی فارم جمع کرانے کے لیے مزید مہلت نہیں دی جائے گی۔

ضلع وائز صورتحال پر نظر ڈالیں تو تھانہ میں 38.77 فیصد، ممبئی شہر میں 37.57 فیصد، ممبئی مضافاتی علاقے میں 34.48 فیصد، پونہ میں 31.92 فیصد، ناگپور میں 30.32 فیصد اور پال گھر میں 28.88 فیصد گنتی فارم ابھی تک جمع نہیں ہوئے ہیں۔ اس کے برعکس ہنگولی میں 91.18 فیصد، بلڈھانہ میں 90.83 فیصد اور لاتور میں 89.21 فیصد فارم جمع ہونے کی اطلاع ہے۔

اسی طرح SIR کے اگلے مرحلے میں 24 اگست 2026 کو مسودہ ووٹر لسٹ (Draft Electoral Roll) جاری کی جائے گی۔ اس کے بعد ووٹروں کو اپنے نام اور تفصیلات کی جانچ کرنے اور دعوے و اعتراضات داخل کرنے کا موقع ملے گا۔ دعوے اور اعتراضات 24 اگست سے 23 ستمبر 2026 تک داخل کیے جا سکیں گے۔اگر کسی اہل ووٹر کا نام مسودہ ووٹر لسٹ میں موجود نہ ہو تو وہ فارم 6 کے ذریعے نام شامل کرنے کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔ نام حذف کرنے کے لیے فارم 7 جبکہ پتہ، تصویر یا دیگر تفصیلات میں ترمیم کے لیے فارم 8 استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یکم اکتوبر 2026 تک 18 سال کی عمر مکمل کرنے والے نئے ووٹر بھی مقررہ مدت میں اپنا نام درج کرا سکیں گے۔الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق دعوے اور اعتراضات کی جانچ کے بعد 27 اکتوبر 2026 کو حتمی ووٹر لسٹ جاری کی جائے گی۔ ایسے میں تمام ووٹروں کے لیے ضروری ہے کہ مسودہ فہرست جاری ہونے کے بعد اپنا نام، پتہ، تصویر اور دیگر تفصیلات لازماً چیک کریں، تاکہ کسی غلطی یا نام کے اخراج کی صورت میں مقررہ مدت کے اندر اصلاح یا اعتراض کیا جا سکے۔

مسلمان،بدھ،عیسائی،جین، سکھ، پارسی اور یہودی برادریوں سے تعلق رکھنے والے طلباء توجہ دیں 

مہا ڈی بی ٹی پورٹل پر درست معلومات بھرنے اقلیتی محکمہ کی تمام کالجوں،تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں کو ہدایت 

ممبئی: مہاراشٹر حکومت کے محکمہ اقلیتی ترقی نے ریاست کے اقلیتی طلبہ کے لیے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے تعلیمی سال 2026-27 سے تمام اسکالرشپ اسکیموں کو "مہا ڈی بی ٹی" نامی مربوط کمپیوٹرائزڈ نظام کے ذریعے نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد اسکالرشپ کی درخواست، جانچ اور رقم کی تقسیم کے عمل کو مزید آسان، شفاف اور تیز رفتار بنانا ہے۔

حکومت کی جانب سے جاری کردہ حکم نامہ نمبر اویوی-2026/پر.ک.60/کا.6 کے مطابق مسلمان، بدھ، عیسائی، جین، سکھ، پارسی اور یہودی برادریوں سے تعلق رکھنے والے معاشی طور پر کمزور اور باصلاحیت طلبہ کو اعلیٰ پیشہ ورانہ، تکنیکی، غیر پیشہ ورانہ ڈگری اور پوسٹ گریجویٹ تعلیم کے لیے دی جانے والی اسکالرشپس اب مہاراشٹر ڈی بی ٹی 2.0 پورٹل کے ذریعے آن لائن فراہم کی جائیں گی۔

حکومت نے واضح کیا ہے کہ اسکالرشپ اسکیم کی بنیادی شرائط، اہلیت کے معیار، آمدنی کی حد اور مالی فوائد میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ صرف درخواست جمع کرانے، جانچ کے طریقہ کار اور رقم کی ادائیگی کے نظام کو جدید ٹیکنالوجی سے مربوط کیا گیا ہے تاکہ طلبہ کو زیادہ سہولت فراہم کی جا سکے۔

نئے نظام کے تحت ہر طالب علم کو آدھار سے منسلک ایک مستقل شناختی نمبر (APAAR ID) فراہم کیا جائے گا، جس کی بدولت ہر سال نئی رجسٹریشن کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔طلبہ کی ذاتی اور تعلیمی معلومات، جیسے ایس ایس سی و ایچ ایس سی نمبر، سی ای ٹی اسکور اور آدھار کی تفصیلات، متعلقہ سرکاری ڈیٹا بیس سے خودکار طور پر حاصل کی جائیں گی، جس سے دستاویزات اسکین کرکے اپ لوڈ کرنے کی دشواری میں نمایاں کمی آئے گی۔

اس کے علاوہ اگلے تعلیمی سال میں اسکالرشپ کی تجدید کے لیے طلبہ کو صرف موجودہ سال کی فیس رسید اور تعلیمی پیشرفت (پاس یا فیل) کی معلومات فراہم کرنا ہوں گی، جس کے بعد درخواست خودکار طور پر تجدید ہو جائے گی۔ جانچ کے عمل کو بھی آسان بناتے ہوئے صرف دو مراحل مقرر کیے گئے ہیں، جن میں پہلا مرحلہ متعلقہ کالج یا تعلیمی ادارے کی سطح پر جبکہ دوسرا مرحلہ متعلقہ ڈائریکٹوریٹ کی سطح پر مکمل کیا جائے گا۔حکومت نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ منظور شدہ اسکالرشپ کی رقم براہ راست طالب علم کے آدھار سے منسلک اور ای-کے وائی سی (e-KYC) شدہ بینک اکاؤنٹ میں منتقل کی جائے گی، جس سے ادائیگی میں تاخیر اور دیگر انتظامی مسائل کا خاتمہ ہوگا۔

اسکالرشپ اسکیم کے مؤثر نفاذ کے لیے حکومت نے نوڈل افسران بھی مقرر کیے ہیں۔ اعلیٰ پیشہ ورانہ اور تکنیکی کورسز کے لیے ڈائریکٹر آف ٹیکنیکل ایجوکیشن اور ڈائریکٹر آف میڈیکل ایجوکیشن ذمہ دار ہوں گے، جبکہ آرٹس، کامرس اور سائنس کے طلبہ کے معاملات کی نگرانی ڈائریکٹر آف ہائر ایجوکیشن کریں گے۔محکمہ اقلیتی ترقی نے تمام کالجوں، تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ مہائی ڈی بی ٹی پورٹل پر طلبہ کی درست اور بروقت معلومات درج کریں اور اسکالرشپ کی رقم کے علاوہ کسی بھی قسم کی اضافی فیس وصول نہ کریں۔حکومت کا کہنا ہے کہ "مہاشیش ورُتی" نظام کے نفاذ سے نہ صرف طلبہ کے لیے اسکالرشپ حاصل کرنے کا عمل زیادہ سہل، شفاف اور تیز ہوگا بلکہ انتظامی کارکردگی میں بھی نمایاں بہتری آئے گی، جس سے اقلیتی برادری کے ہزاروں طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے حصول میں براہ راست فائدہ پہنچے گا۔

17 اگست تک گھر گھر تصدیق جاری رہے گی، 27 اکتوبر کو حتمی ووٹر لسٹ شائع ہوگی

ممبئی: ریاست مہاراشٹر میں جاری خصوصی نظرِ ثانی (Special Intensive Revision – SIR) مہم کے سلسلے میں الیکشن کمیشن آف انڈیا نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے مہم کی مدت میں توسیع کر دی ہے۔ اس فیصلے سے ایسے لاکھوں شہریوں کو سہولت ملے گی جن کے نام اب تک ووٹر لسٹ میں شامل نہیں ہو سکے یا جنہیں اپنے ووٹر ریکارڈ میں ضروری اصلاحات کرانی ہیں۔الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ نظرِ ثانی شدہ شیڈول کے مطابق بوتھ لیول آفیسرز (BLO) اب 17 اگست 2026 تک گھر گھر جا کر ووٹروں کی تصدیق، اندراج اور معلومات کی جانچ کا کام انجام دیں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ اہل شہریوں کو ووٹر فہرست میں شامل کیا جا سکے۔

کمیشن کے نئے پروگرام کے مطابق 17 اگست کو پولنگ مراکز کی ازسرِ نو تنظیم (Reorganization) کی جائے گی، جبکہ 24 اگست 2026 کو ابتدائی (مسودہ) ووٹر لسٹ شائع کی جائے گی۔ اس کے بعد 24 اگست سے 23 ستمبر 2026 تک شہری ووٹر لسٹ میں نام شامل کرانے، نام حذف کرانے، پتے یا دیگر تفصیلات میں ترمیم کے لیے اپنے دعوے اور اعتراضات داخل کر سکیں گے۔الیکشن کمیشن نے مزید بتایا کہ موصول ہونے والی تمام درخواستوں کی جانچ، سماعت اور فیصلہ 22 اکتوبر 2026 تک مکمل کر لیا جائے گا۔ تمام ضروری اصلاحات کے بعد 27 اکتوبر 2026 کو ریاست کی حتمی ووٹر لسٹ جاری کی جائے گی۔

کمیشن نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس توسیع شدہ مدت سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور اگر ان کا نام ووٹر لسٹ میں درج نہیں ہے یا کسی قسم کی تصحیح درکار ہے تو مقررہ مدت کے اندر ضروری درخواست ضرور جمع کرائیں تاکہ آئندہ انتخابات میں اپنے حقِ رائے دہی سے محروم نہ رہیں۔

الیکشن کمیشن نے واضح انتباہ بھی جاری کیا ہے کہ ووٹر لسٹ میں نام شامل کرانے، ترمیم کرانے یا نام حذف کرانے کے لیے اگر کوئی شخص جان بوجھ کر غلط معلومات فراہم کرتا ہے یا جھوٹا حلف نامہ جمع کراتا ہے تو اس کے خلاف انتخابی قوانین کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

حکم نامہ کی خلاف ورزی کرنے والوں پر جیل،جرمانہ اور سخت سزا کا اطلاق، شکایت کیلئے ہیلپ لائن نمبر جاری 

ممبئی : مہاراشٹر کے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے کمشنر تکارام منڈے نے 28 جولائی 2026 کو ایک اہم حکم نامہ جاری کرتے ہوئے ریاست کے تمام سرکاری، امدادی اور نجی اسکولوں میں بچوں کے لیے محفوظ، صحت مند اور متوازن غذائی نظام کو یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔ یہ حکم نامہ فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز (اسکول کے بچوں کے لیے محفوظ غذا اور متوازن خوراک) ریگولیشنز 2020 کے مکمل نفاذ کے لیے جاری کیا گیا ہے۔حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ بھارتی آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت ہر شخص کو باعزت زندگی کا حق حاصل ہے، جس میں صحت اور غذائیت کا حق بھی شامل ہے۔ آرٹیکل 47 ریاستی حکومت پر عوام کی غذائیت کی سطح بلند کرنے اور صحت بہتر بنانے کی ذمہ داری عائد کرتا ہے۔ اسکول کے بچے معاشرے کا سب سے حساس طبقہ ہیں اور غیر محفوظ یا غذائیت سے محروم خوراک ان کے جسمانی، ذہنی اور تعلیمی ترقی کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔

فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ 2006 کے تحت ریاستی فوڈ سیفٹی کمشنر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اس ایکٹ اور متعلقہ قواعد و ضوابط کی مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔ 2020 کے ریگولیشنز 1 جولائی 2021 سے نافذ العمل ہیں اور پورے بھارت بشمول مہاراشٹر کے تمام اسکولوں پر لاگو ہیں۔ ان میں اسکول انتظامیہ پر یہ ذمہ داری عائد کی گئی ہے کہ وہ خود کھانا فراہم کرنے کی صورت میں ایف ایس ایس اے آئی لائسنس یا رجسٹریشن حاصل کریں، ٹھیکیداروں کے پاس بھی درست لائسنس ہو، اور ہائی فٹ، سالٹ، شوگر (ایچ ایف ایس ایس) والے کھانے کی فروخت، تقسیم یا نمائش پر مکمل پابندی عائد کریں۔

حکم نامے کے مطابق یہ آرڈر سرکاری، امدادی اور غیر امدادی نجی اسکولوں، پری پرائمری سے لے کر سیکنڈری سطح تک، رہائشی اسکولوں اور ہاسٹلز پر لاگو ہوگا۔ریاستی بورڈ، سی بی ایس ای، آئی سی ایس ای اور دیگر بورڈز سے وابستہ تمام اسکول بھی اس کے دائرے میں آتے ہیں۔ تاہم دو سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے چلڈرن کیئر یا ڈے کیئر سینٹرز اس حکم سے مستثنیٰ ہیں۔ تمام فوڈ بزنس آپریٹرز، کینٹین، مڈ ڈے میل سپلائرز، ٹک شاپس اور اسکول کے آس پاس کھانا فراہم کرنے والے افراد و ادارے بھی اس آرڈر کے پابند ہوں گے۔ہر اسکول انتظامیہ کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ طلبہ کو فراہم کی جانے والی خوراک نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف نیوٹریشن کی غذائی رہنما خطوط اور ICMR کی ہدایات کے مطابق ہو۔کھانے میں کاربوہائیڈریٹ،  پروٹین، چکنائی کے ساتھ آئرن ، کیلشیم، وٹامن اے اور ڈی، آیوڈین اور فولیٹ جیسی اہم غذائی اجزاء شامل ہوں۔ پھل، سبزیاں، اناج، دالیں اور مقامی صحت مند اشیاء کو باقاعدگی سے مینو میں شامل کیا جائے۔ ایچ ایف ایس ایس اشیاء جیسے زیادہ چینی والے مشروبات، کاربونیٹڈ ڈرنکس، تلا ہوا اسنیکس اور انتہائی پراسیسڈ فوڈز کی فروخت یا دستیابی پر مکمل پابندی ہوگی۔ پینے کا پانی محفوظ اور اعلیٰ معیار کے مطابق ہونا چاہیے۔اسکول انتظامیہ کی ذمہ داریاں واضح کی گئی ہیں جن میں تمام فوڈ آپریٹرز کے پاس درست ایف ایس ایس اے آئی لائسنس کی جانچ، شیڈول 4 کے تحت صفائی و صحت کے معیارات کی پابندی، صحت و تندرستی کے نوڈل آفیسر کی تقرری و تربیت،اسکول کے گیٹ پر انتباہی بورڈ لگانا، اور 50 میٹر کے دائرے میں ایچ ایف ایس ایس اشیاء کی فروخت روکنا شامل ہے۔اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو مڈ ڈے میل اور دیگر غذائی اسکیموں کے تحت کام کرنے والے تمام سپلائرز کے لائسنس کی تصدیق کرنی ہوگی اور ہر سال 31 مارچ تک کمشنر کو تعمیل کی رپورٹ جمع کرانی ہوگی۔

تعلقہ بورڈز کو غذائی حفاظت کی تعمیل کو اسکول کی وابستگی اور تجدید کے لیے لازمی شرط بنانا ہوگا۔ فوڈ سیفٹی آفیسرز کو ہر تعلیمی سال میں کم از کم دو بار اسکولوں کا معائنہ کرنا ہوگا، کھانے کے نمونے جمع کرنے ہوں گے اور بغیر لائسنس والے آپریٹرز کے خلاف کارروائی کرنی ہوگی۔ 50 میٹر زون کی خلاف ورزی پر ایچ ایف ایس ایس اشیاء ضبط کی جا سکیں گی اور متعلقہ کارروائی کی جائے گی۔حکم نامے میں ایٹ رائٹ اسکول مہم کے تحت ہر اسکول کو غذائی پالیسی بنانے، محفوظ پینے کے پانی کے مراکز قائم کرنے، سال میں کم از کم چار آگاہی نشستیں منعقد کرنے اور صحت مند خوراک کا نمونہ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔والدین اور طلبہ کو ایچ ایف ایس ایس اشیاء کے نقصانات، بچوں کی غذائی ضروریات اور ایف ایس ایس اے آئی ہیلپ لائن 1800-112-100 کے ذریعے شکایت درج کرانے کے طریقے سے آگاہ کیا جائے گا۔یہ حکم نامہ فوری طور پر نافذ العمل ہے اور آئندہ تمام تعلیمی سالوں کے لیے مستقل آرڈر کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی خلاف ورزی پر فوڈ سیفٹی ایکٹ کے تحت سخت سزائیں عائد کی جا سکتی ہیں جن میں جیل اور بھاری جرمانہ شامل ہے۔ کمشنر نے تمام متعلقہ محکموں، ڈسٹرکٹ کلیکٹرز، بورڈز اور فوڈ سیفٹی آفیسرز کو اس حکم کی مکمل تعمیل کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔اس آرڈر کا مقصد مہاراشٹر کے لاکھوں اسکول جانے والے بچوں کو غیر محفوظ اور غیر صحت مند خوراک سے بچانا اور ان کی صحت مند نشوونما کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن ایکشن موڈ میں:  ناسک ایم ایل سی انتخاب میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا حکم

ناسک : ناسک ضلع کے مقامی خود مختار اداروں کے حلقۂ انتخاب سے قانون ساز کونسل (ودھان پریشد) کے انتخاب میں مہایوتی کے امیدوار دراڑے کی غیر متوقع شکست کے بعد مالی بے ضابطگیوں اور مبینہ رقم کی تقسیم کے الزامات نے ریاست کی سیاسی فضا میں ہلچل مچا دی ہے۔ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے الیکشن کمیشن نے ایکشن موڈ اختیار کرتے ہوئے تحقیقات کا حکم جاری کر دیا ہے۔ذرائع کے مطابق، ضلع الیکشن حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ پورے معاملے کی مکمل جانچ کرکے جلد از جلد اپنی رپورٹ پیش کریں۔ ناسک کی ایڈیشنل ضلع کلکٹر و ایڈیشنل ضلع الیکشن آفیسر مدھومتی سردیسائی نے متعلقہ افسران کو فوری تحقیقات مکمل کرنے اور رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت دی ہے۔

یہ کارروائی کوپرگاؤں کے سنجے کالے کی جانب سے دراڑے برادران کے خلاف کی گئی شکایت کے بعد عمل میں آئی ہے۔ شکایت میں انتخابی عمل کے دوران مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔دوسری جانب اس معاملے پر ردِعمل دیتے ہوئے رکنِ اسمبلی کشور دراڑے نے کہا کہ انہیں اس شکایت کے بارے میں فی الحال کوئی باضابطہ اطلاع یا نوٹس موصول نہیں ہوا ہے۔ ان کے مطابق، "کس نے اور کہاں میرے خلاف شکایت درج کرائی، اس بارے میں مجھے کوئی علم نہیں۔ ابھی تک مجھے کوئی نوٹس بھی نہیں ملا ہے۔ اگر نوٹس موصول ہوتا ہے تو اس کے بعد آئندہ کا فیصلہ کیا جائے گا۔"سیاسی حلقوں میں اس معاملے پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ تحقیقات کی رپورٹ آنے کے بعد مزید پیش رفت متوقع ہے۔

حفظانِ صحت اور غذائی تحفظ کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی پر شالیمار، نور محمدی اور رحمانیہ ریسٹورنٹ کے خلاف کارروائی

ممبئی: مہاراشٹر فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) نے جنوبی ممبئی کے تین معروف ہوٹلوں کے فوڈ لائسنس معطل کر دیے ہیں۔ معائنوں کے دوران حفظانِ صحت اور غذائی تحفظ کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزیاں سامنے آئیں، جنہیں عوامی صحت کے لیے ممکنہ خطرہ قرار دیا گیا۔

یہ کارروائی گریٹر ممبئی ڈویژن کی جانب سے کیے گئے سلسلہ وار معائنوں کے بعد بھنڈی بازار کے شالیمار ہاسپیٹیلٹی پرائیویٹ لمیٹڈ، نور محمدی ہوٹل اور عمرکھاڑی کے رحمانیہ ریسٹورنٹ کے خلاف فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز (لائسنسنگ اینڈ رجسٹریشن آف فوڈ بزنسز) ریگولیشنز، 2011 کے تحت کارروائی کی گئی۔

ایف ڈی اے کے مطابق، شالیمار ہاسپیٹیلٹی کا لائسنس منگل کو اس وقت معطل کیا گیا جب اپریل میں کیے گئے معائنے میں نشاندہی کی گئی 25 بڑی خامیاں اصلاحی نوٹس جاری ہونے کے باوجود دور نہیں کی گئیں۔

13 جولائی کو ہونے والے دوبارہ معائنے میں باورچی خانے کا گیلا اور پھسلن والا فرش، خام مال کی خریداری کا ریکارڈ نہ ہونا، پینے کے پانی کے معیار کی جانچ کی رپورٹ کا فقدان، کھانے کے تیل کے معیار سے متعلق ریکارڈ کی عدم موجودگی، سبزی خور اور گوشت پر مبنی غذاؤں کی مناسب علیحدگی نہ ہونا، اور کیڑوں سے محفوظ جالیوں کے بغیر کھلی کھڑکیاں پائی گئیں۔

نور محمدی ہوٹل کا لائسنس بھی فوری طور پر معطل کر دیا گیا۔ معائنے کے دوران باورچی خانے کے فرش پر چکنائی کی موٹی تہہ، کھلی کھڑکیوں کے باعث مکھیوں، کیڑوں اور یہاں تک کہ کوؤں کا کچن تک پہنچنا، دیواروں اور چھتوں پر اکھڑا ہوا رنگ اور چکنائی، خام مال کی غیر صحت بخش ذخیرہ اندوزی، سپلائرز کا ریکارڈ نہ ہونا، پرانے اور غیر صحت بخش برتنوں کا استعمال، پینے کے پانی کی جانچ کے ریکارڈ کا فقدان اور کیڑوں پر قابو پانے کے ناکافی انتظامات پائے گئے۔

رحمانیہ ریسٹورنٹ کا لائسنس بھی فوری طور پر معطل کر دیا گیا، جہاں خوراک، کیمیکلز اور پیکنگ میٹریل کی غیر مناسب ذخیرہ اندوزی، کیڑوں سے تحفظ کے ناقص انتظامات، زنگ آلود اور غیر معیاری آلات، کچن میں اکھڑا ہوا رنگ اور پلستر، لازمی فوڈ ٹیسٹنگ ریکارڈ کی عدم موجودگی اور پینے کے پانی کے معیار کی جانچ نہ کیے جانے جیسے مسائل سامنے آئے۔

ایف ڈی اے نے کہا کہ یہ کارروائی فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز (لائسنسنگ اینڈ رجسٹریشن آف فوڈ بزنسز) ریگولیشنز، 2011 کے شیڈول IV کے حصہ دوم کے تحت کی گئی، جس میں فوڈ بزنس آپریٹرز کے لیے حفظانِ صحت اور صفائی کے معیارات مقرر کیے گئے ہیں۔

ایف ڈی اے نے واضح کیا کہ غذائی تحفظ کے اصولوں کی خلاف ورزی کرنے یا صارفین کی صحت کو خطرے میں ڈالنے والے فوڈ بزنس آپریٹرز کے خلاف سخت کارروائی کا سلسلہ جاری رہے گا، اور تمام لائسنس یافتہ اداروں کے لیے حفظانِ صحت اور صفائی کے اصولوں پر عمل درآمد لازمی ہے۔

پان دکانداروں کو حراساں کرنا بند کیا جائے، 7 جولائی کو ریاست کی تمام پان ٹپری بند رکھنے کا فیصلہ

​ممبئی: 5 جولائی: مہاراشٹرا کے پان تاجروں اور دکان داروں پر شدید ترین بحران منڈلانے لگا ہے۔ حکومت کے ایک حالیہ فیصلے نے ریاست بھر کے لاکھوں خاندانوں میں شدید تشویش اور غصے کی لہر دوڑا دی ہے، جس کے بعد اب آر یا پار کی جنگ کا بگل بجا دیا گیا ہے۔موصولہ اطلاعات کے مطابق، مہاراشٹر اسٹیٹ فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) کے 12 جون 2026 کے حالیہ حکم نامے کے بعد، پان کے کاروبار سے جڑے افراد پر 'مکوکا' (MCOCA - مہاراشٹرا کنٹرول آف آرگنائزڈ کرائم ایکٹ) جیسی انتہائی سخت، سنگین اور غیر ضمانتی دفعات کے تحت کارروائی کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس مبینہ ناانصافی کے خلاف اب پوری ریاست کے پان تاجر "عظیم اتحاد" کے بینر تلے متحد ہو چکے ہیں۔اس ضمن میں  7 جولائی بروز منگل کو ممبئی کے تاریخی آزاد میدان میں ایک عظیم الشان ریاست گیر متحدہ مورچے کا اعلان کیا گیا ہے، جس کا وقت صبح 10:00 بجے مقرر کیا گیا ہے۔ تحریک کے قائد اجیت سوریہ ونشی کا کہنا ہے کہ یہ مورچہ صرف ایک احتجاج نہیں بلکہ ہمارے وجود کی بقا کی آخری لڑائی ہے۔ اس احتجاج کے فوری بعد ریاست بھر میں پان کے مستقبل کی دکان داری اور آگے کی حکمتِ عملی کا باقاعدہ اعلان کیا جائے گا۔

 مورچے کے بنیادی اور اہم مطالبات میں  پان ٹپری مالکان اور چھوٹے دکان داروں پر مکوکا (MCOCA) جیسے قوانین کے تحت کارروائی کا فیصلہ فوری واپس لیا جائے۔ خوشبودار تمباکو  پر لگائی گئی پابندی کو فی الفور ختم کیا جائے۔پولس اور انتظامیہ کی جانب سے پان دکان داروں کو ہراساں کرنے، دھمکانے اور غیر قانونی وصولی کا سلسلہ بند کیا جائے۔ ریاست کے 10 لاکھ پان تاجروں اور ان پر منحصر لاکھوں غریب خاندانوں کی روزی روٹی کو قانونی تحفظ دیا جائے۔ہر متاثرہ پان دکان دار کے خاندان کے کم از کم ایک فرد کو سرکاری یا نیم سرکاری نوکری فراہم کی جائے۔

پان کے کاروبار کے لیے ریاست میں ایک آزاد، جامع اور مستقل پالیسی اور قانون وضع کیا جائے۔تنظیم نے زور دیتے ہوئے کہا کہ "اتحاد ہی طاقت ہے اور تنظیم ہی حفاظت ہے"۔ انہوں نے تمام پان فروشوں سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ اپنی دکانیں بند رکھ کر اپنی آواز بلند کرنے کے لیے ممبئی کے آزاد میدان میں اپنی حاضری کو یقینی بنائیں۔

گرین انرجی منصوبے کو منظوری "ہریت مہاراشٹر کمیشن(گرین مہاراشٹر کمیشن)" کے قیام کا اعلان

ممبئی: مہاراشٹر حکومت نے ریاست میں ماحولیات کے تحفظ اور توانائی کے شعبے میں بڑی پیش رفت کرتے ہوئے 2047 تک 300 کروڑ درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے "ہریت مہاراشٹر کمیشن(گرین مہاراشٹر کمیشن)" کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے۔ بدھ کے روز منعقدہ کابینہ اجلاس میں تقریباً 12 ہزار 303 کروڑ روپے کے اخراجات والے منصوبے کو منظوری دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:........آئی پی ایل میچ کے دوران ریان پراگ کا ویپنگ کرتے ہوئے ویڈیو وائرلa.html

اس منصوبے کے تحت ریاست میں قابلِ تجدید توانائی کا حصہ 2030 تک 17 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد تک لے جانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ شجرکاری کی ذمہ داری ہریت مہاراشٹر کمیشن پر ہوگی، جس کے چیئرمین وزیر اعلیٰ ہوں گے، جبکہ نائب وزیر اعلیٰ نائب چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دیں گے۔ اس کے علاوہ وزیر جنگلات، وزیر ماحولیات، وزیر زراعت اور روزگار گارنٹی اسکیم کے وزیر شریک نائب چیئرمین ہوں گے۔

حکومت کی جانب سے شجرکاری کے لیے زمین کی دستیابی اور لینڈ بینک کی تیاری پر خاص توجہ دی جائے گی۔ فی الحال 29 ہزار مربع کلومیٹر زمین دستیاب ہے، جبکہ 300 کروڑ درخت لگانے کے لیے تقریباً 27 لاکھ ہیکٹر زمین درکار ہوگی۔

اسی اجلاس میں "Accelerating Green Energy and Storage Technologies Integration in Connected Grid" اسکیم اور اس کے ابتدائی پروجیکٹ رپورٹ کو بھی منظوری دی گئی، جس کا مقصد توانائی کے استعمال میں اضافہ، ترسیلی نظام کو مضبوط بنانا اور توانائی ذخیرہ کرنے کی جدید ٹیکنالوجی کو فروغ دینا ہے۔

کابینہ نے ضلع رتناگیری کے ناچنے علاقے میں ایک نئے مرکزی ودیالیہ (کیندرِیہ ودیالیہ) کے قیام کے لیے ڈھائی ہیکٹر زمین فراہم کرنے کی بھی منظوری دی۔ اس سے کوکن خطے کے طلبہ کو بہتر تعلیمی سہولیات میسر آئیں گی۔ مرکزی حکومت کی جانب سے ملک بھر میں 85 نئے کیندرِیہ ودیالیہ قائم کیے جا رہے ہیں، جن میں مہاراشٹر کے اکولا اور رتناگیری شامل ہیں۔

مزید برآں، ریاست میں غیر سرکاری تنظیموں کے زیر انتظام امدادی آشرم اسکولوں کے غیر تدریسی عملے کے لیے 12 اور 24 سال کی خدمات کے بعد ترقیاتی اسکیم نافذ کرنے کی منظوری دی گئی ہے، جس سے 556 آشرم اسکولوں کے 7 ہزار 562 ملازمین مستفید ہوں گے۔

کابینہ نے ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے نام سے لندن اسکول آف اکنامکس اینڈ پولیٹیکل سائنس میں ایک چیئر قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت ڈاکٹریٹ کے لیے اسکالرشپ فراہم کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد امبیڈکر کے نظریات کو عالمی سطح پر فروغ دینا اور سماجی انصاف، آئینی جمہوریت اور انسانی حقوق پر تحقیق کو بڑھانا ہے۔

کیا NCP کے فیصلے سے شرد پوار ناراض ہیں؟ کیا این سی پی اندرونی خلفشار کا شکار؟؟

مہاراشٹر کی سیاست میں ایک بار پھر ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (NCP) کی اہم میٹنگ سے قبل ہی سنیترہ پوار کے نائب وزیر اعلیٰ بننے کی قیاس آرائیوں نے زور پکڑ لیا ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ تاثر گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ پارٹی کے اندر فیصلہ تقریباً طے ہو چکا ہے اور محض باضابطہ اعلان باقی ہے۔

اس پیش رفت کے درمیان سب سے بڑا سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ کیا اس فیصلے سے NCP کے سینئر رہنما اور پارٹی کے بانی شرد پوار ناخوش ہیں؟ ذرائع کے مطابق، سنیترہ پوار کے نام پر پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پارٹی کی اعلیٰ سطحی میٹنگ ابھی ہونا باقی ہے، جسے اندرونی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق، اجیت پوار کے انتقال کے بعد پارٹی اور حکومت دونوں سطحوں پر قیادت کے خلا کو پُر کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اسی سلسلے میں سنیترہ پوار کو نائب وزیر اعلیٰ کی ذمہ داری سونپنے پر غور کیا گیا اور مبینہ طور پر میٹنگ سے پہلے ہی اس پر اتفاق رائے قائم کر لیا گیا۔

دوسری جانب، شرد پوار کی خاموشی نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر شرد پوار واقعی اس فیصلے سے متفق نہیں ہیں تو آنے والے دنوں میں NCP کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آ سکتے ہیں۔ فی الحال پارٹی کی آئندہ میٹنگ اور قیادت سے متعلق باضابطہ اعلان پر سب کی نظریں ٹکی ہوئی ہیں۔

اجیت پوار کی اہلیہ سنیترہ پوار کل شام 5 بجے مہاراشٹر کی نائب وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیں گی

ممبئی: نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے مرحوم سینئر رہنما اور سابق نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کی اہلیہ سنیترہ پوار نے مبینہ طور پر پارٹی کی جانب سے پیش کی گئی مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ کے عہدے کی پیشکش قبول کر لی ہے۔ اگر وہ حلف لیتی ہیں تو سنیترہ پوار ریاست کی پہلی خاتون نائب وزیر اعلیٰ ہوں گی۔

ذرائع کے مطابق، این سی پی نے ہفتہ کے روز صبح 11 بجے اپنی قانون ساز پارٹی کی میٹنگ طلب کی ہے۔ اس کے بعد دوپہر 2 بجے ودھان بھون میں این سی پی کے اراکین اسمبلی کی نشست منعقد ہوگی، جس میں پارٹی کے قانون ساز لیڈر کا باضابطہ انتخاب کیا جائے گا۔ توقع ہے کہ سنیترہ پوار کو متفقہ طور پر اس عہدے کے لیے منتخب کر لیا جائے گا، جس کے بعد ان کی ریاستی کابینہ میں شمولیت کی راہ ہموار ہو جائے گی۔

قانون ساز پارٹی لیڈر منتخب ہونے کے بعد سنیترہ پوار کے اسی شام نائب وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لینے کا امکان ہے۔ حلف برداری کی تقریب کی تیاریاں جاری بتائی جا رہی ہیں۔

اس سے قبل دن میں این سی پی کے سینئر رہنما چھگن بھجبل نے وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس سے ملاقات کر کے حلف برداری اور اس سے متعلق رسمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ میڈیا سے گفتگو میں بھجبل نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کو تقریب کے انعقاد پر کوئی اعتراض نہیں ہے، تاہم کسی کے گزرنے کے بعد رائج روایتی پہلوؤں کو بھی مدنظر رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سینئر رہنما سنیل تٹکرے اور پرفُل پٹیل بھی اپنی آرا پیش کر رہے ہیں اور حتمی فیصلہ چند گھنٹوں میں متوقع ہے۔

واضح رہے کہ اجیت پوار، جو مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے، بدھ کے روز ضلع بارامتی میں پیش آئے ایک طیارہ حادثے میں چار دیگر افراد کے ساتھ ہلاک ہو گئے تھے۔ ان کی اچانک موت کے بعد این سی پی کی قیادت اور ریاستی حکومت میں پارٹی کے مستقبل کے کردار پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار طیارہ حادثے میں جاں بحق

مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے سینئر رہنما اجیت پوار بدھ، 28 جنوری کو ضلع بارامتی میں طیارہ حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔ یہ افسوسناک حادثہ اس وقت پیش آیا جب ان کا طیارہ بارامتی ایئر اسٹرپ پر لینڈنگ کے دوران حادثے کا شکار ہو گیا۔

اطلاعات کے مطابق اجیت پوار آج بارامتی میں متعدد سیاسی تقاریب میں شرکت کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ ابتدائی جانچ میں بتایا گیا ہے کہ لینڈنگ کے دوران طیارے کو تکنیکی خرابی کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں طیارہ رن وے کے قریب 8 بج کر 48 منٹ پر گر کر تباہ ہو گیا۔

حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ VT-SSK لئیر جیٹ 45 تھا۔ طیارے میں کل پانچ افراد سوار تھے، جن میں تین مسافر، ایک پائلٹ اور ایک کریو ممبر شامل تھے۔ حادثے کے فوراً بعد طیارے میں آگ بھڑک اٹھی، جس کے باعث کوئی بھی مسافر زندہ نہیں بچ سکا۔

بارامتی کے اے ٹی سی انسٹرکٹر کاروار ایوی ایشن کے مطابق طیارہ رن وے 11 کے تھریش ہولڈ پر حادثے کا شکار ہوا، جس کے بعد اس میں شدید آگ لگ گئی۔ تمام افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔

مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے اس افسوسناک واقعے کے بعد اپنا کونکن دورہ منسوخ کر دیا۔

حکام نے تصدیق کی کہ طیارے میں پانچ افراد سوار تھے، جن میں تین مسافر، ایک پائلٹ اور ایک کریو ممبر شامل تھے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق اجیت پوار کے ساتھ ایک پی ایس او، ایک اٹینڈنٹ اور دو کریو ممبران (پائلٹ اِن کمانڈ اور فرسٹ آفیسر) موجود تھے۔ حادثے میں کوئی بھی شخص زندہ نہیں بچا۔

اجیت پوار آج بارامتی میں مختلف سیاسی پروگراموں میں شرکت کرنے والے تھے۔ لینڈنگ کے دوران طیارے کو پیش آنے والی خرابی حادثے کی ممکنہ وجہ بتائی جا رہی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کی مکمل وجوہات جاننے کے لیے تکنیکی جانچ جاری ہے، جبکہ مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

مہاراشٹر بلدیاتی انتخابات: 22 سالہ سدھی وسترے ریاست کی سب سے کم عمر صدر بلدیہ بن گئیں، شندے سینا نے بی جے پی کو چونکا دیا

سولاپور ضلع کی سیاست میں ایک بڑی اور غیر متوقع تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے۔ موہول میونسپل کونسل کے انتخابات میں شیوسینا (شندے گروپ) نے بی جے پی کو بڑا جھٹکا دیتے ہوئے اہم کامیابی حاصل کی ہے۔ اس انتخاب میں شیو سینا کی امیدوار سدھی وسترے نے بی جے پی کی امیدوار شیتل کھیرساگر کو شکست دے کر میونسپل صدر کا عہدہ اپنے نام کر لیا۔

یہ بھی پڑھیں:..مہاراشٹر سیاست میں طوفان! کانگریس ناراض، سنجے راوت نے کر دیا بڑا اشارہ

یہ کامیابی اس لیے بھی خاص مانی جا رہی ہے کیونکہ سدھی وسترے کی عمر صرف 22 سال ہے اور وہ مہاراشٹر کی تاریخ کی سب سے کم عمر میونسپل صدر بن گئی ہیں۔ موہول کو طویل عرصے سے بی جے پی کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا رہا ہے، جہاں سابق ایم ایل اے راجن پاٹل کا خاص اثر و رسوخ رہا ہے۔ ایسے میں شیو سینا کی یہ جیت بی جے پی کے لیے بڑا سیاسی دھچکا سمجھی جا رہی ہے۔

سرکاری نتائج کے مطابق سدھی وسترے نے یہ مقابلہ 170 ووٹوں کے فرق سے جیتا، جس کے بعد سولاپور ضلع میں بی جے پی حلقوں میں بے چینی دیکھی جا رہی ہے۔ دوسری جانب اس نتیجے سے شیو سینا کارکنوں اور قیادت کا حوصلہ کافی بلند ہوا ہے۔ 20 رکنی موہول میونسپل کونسل میں شیو سینا نے 9 نشستیں جیت کر سب سے بڑی پارٹی ہونے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔

سدھی وسترے کا تعلق موہول کے ایک متوسط طبقے کے سیاسی خاندان سے ہے۔ ان کے دادا، انجہانی وشوناتھ شِوراج وسترے، اپنے وقت کے معزز سماجی و سیاسی شخصیت تھے اور تقریباً 30 سال قبل موہول گرام پنچایت کے سرپنچ رہ چکے تھے۔ ان کا جھکاؤ کانگریس نظریے کی طرف تھا اور وہ کئی بار گرام پنچایت کے رکن منتخب ہوئے۔ سدھی کے والد راجو وسترے پہلے ایک نجی کوآپریٹو ادارے میں کام کر چکے ہیں اور اب کھیتی باڑی کرتے ہیں، جبکہ والدہ تیجشری گھریلو خاتون ہیں۔

تعلیم کے میدان میں بھی سدھی وسترے سرگرم رہی ہیں۔ انہوں نے بی کام کی تعلیم مکمل کی ہے اور اس وقت گراڈ کالج سے ایم کام کی پڑھائی کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ فرم میں بھی کام کر چکی ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سدھی کا شروع میں سیاست میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، لیکن میونسپل صدر کے عہدے پر ریزرویشن کے اعلان کے بعد خاندان اور مقامی شیوسینا لیڈروں کے مشورے سے ان کا نام سامنے آیا۔ سابق میونسپل صدر رمیش براسکر اور سینئر لیڈر پدم دیشمکھ کی رہنمائی میں ایک مضبوط انتخابی مہم چلائی گئی، جس کا عوام پر گہرا اثر پڑا۔

فتح کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے سدھی وسترے جذباتی ہو گئیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ جیت عوام کے اعتماد کی علامت ہے۔ انتخابی مہم کے دوران ان کی کم عمری پر سوال اٹھائے گئے، لیکن عوام نے ووٹ دے کر اس کا جواب دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی ترجیح موہول شہر کی بنیادی سہولتوں جیسے سڑکیں، پانی، بجلی، صحت اور مجموعی ترقی پر ہوگی اور وہ سب کو ساتھ لے کر کام کریں گی۔

کانگریس کے اعتراض کے باوجود سنجے راوت کا بڑا دعویٰ, دو سے تین دن میں اعلان ممکن

ممبئی: مہاراشٹر کی سیاست میں ایک بڑی پیش رفت کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ شیو سینا (ادھو ٹھاکرے گروپ) کے سینئر لیڈر سنجے راوت نے دعویٰ کیا ہے کہ راج ٹھاکرے کی مہاراشٹر نونرمان سینا (MNS) اور مہا وکاس اگھاڑی (MVA) کے درمیان اتحاد پر بات چیت آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور اگلے دو سے تین دن میں اس کا باضابطہ اعلان کیا جا سکتا ہے۔

اتوار کے روز بلدیاتی انتخابات میں ووٹوں کی گنتی کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سنجے راوت نے کہا کہ MNS کے ساتھ اتحاد سے متعلق حالیہ میٹنگ حتمی ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق یہ اتحاد خاص طور پر ممبئی میونسپل کارپوریشن (BMC) سمیت آئندہ ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے لیے نہایت اہم مانا جا رہا ہے۔

سنجے راوت نے تاہم یہ بھی واضح کیا کہ مہا وکاس اگھاڑی کی اہم اتحادی جماعت کانگریس کو MNS کے ساتھ اتحاد پر اعتراض ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کو اس بات پر قائل کرنے کی کوششیں جاری ہیں کہ بی جے پی کو شکست دینے کے لیے تمام سیکولر اور اپوزیشن طاقتوں کا ایک ساتھ آنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری رائے میں اتوار کو ہوئی بات چیت آخری میٹنگ تھی۔ دو سے تین دن میں آفیشل اعلان ہو جائے گا۔”

سنجے راوت کے مطابق کانگریس نے راج ٹھاکرے کی MNS کو اتحاد میں شامل کرنے پر کھل کر اعتراض ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ کانگریس کو اعتراض ہے لیکن انہیں منانے کی کوششیں مسلسل کی جا رہی ہیں۔ راوت نے یہ بھی واضح کیا کہ ممبئی میں اتحاد نہ ہونے کے باوجود کانگریس اور شیو سینا (یو بی ٹی) کے تعلقات میں کوئی تلخی نہیں ہے۔

ادھر آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے جنرل سیکریٹری اور مہاراشٹر کے انچارج رمیش چنّیتھلا نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ پارٹی کارکنان کی خواہش ہے کہ بی ایم سی انتخابات کانگریس اکیلے لڑے۔ ان کے مطابق کانگریس ممبئی کے عوامی مسائل جیسے آلودگی، صحت خدمات اور بدعنوانی کو انتخابی ایجنڈا بنائے گی اور شہر کے سیکولر ڈھانچے کے تحفظ کے لیے تنہا میدان میں اترنے کیلئے تیار ہے۔

قابلِ ذکر ہے کہ آج اتوار کو سامنے آئے مختلف نگر پالیکاؤں کے انتخابی نتائج میں مہا وکاس اگھاڑی کو بڑا نقصان اٹھانا پڑا ہے، جبکہ مہایوتی نے واضح کامیابی حاصل کی ہے۔ وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے ان نتائج پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی آج بھی مہاراشٹر کی نمبر ون پارٹی ہے۔

فڈنویس نے بی ایم سی سمیت آئندہ بلدیاتی انتخابات پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ یہ نتائج بلدیاتی انتخابات کے "ٹریلر" ہیں اور اصل تصویر آگے سامنے آئے گی۔

سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر راج ٹھاکرے واقعی مہا وکاس اگھاڑی میں شامل ہوتے ہیں تو ممبئی اور مہاراشٹر کی شہری سیاست میں بڑا الٹ پھیر ممکن ہے، تاہم کانگریس کے موقف کی وجہ سے یہ اتحاد کس شکل میں سامنے آئے گا، اس پر سب کی نظریں ٹکی ہوئی ہیں۔

مختلف مقامات پر ای وی ایم میں ایک جیسے نمبرات آنا محض اتفاق نہیں, الیکشن کمیشن سے غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ

ممبئی: شیو سینا (ادھو ٹھاکرے گروپ) کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا رکن سنجے راوت نے مہاراشٹر کے حالیہ بلدیاتی و نگر پریشد انتخابات کے نتائج پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مختلف مقامات پر ایک ہی مشین سے ایک جیسے نمبرز آنا شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے اور پورے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالیہ نشان لگا دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:.....مہاراشٹر نگر پریشد انتخابات: بی جے پی سب سے بڑی پارٹی بنیion-blames-EC.html

سنجے راوت نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایک ہی الیکٹرانک ووٹنگ مشین (EVM) سے مختلف علاقوں میں ایک جیسے نتائج سامنے آ رہے ہیں تو یہ محض اتفاق نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا، "نمبر ایک جیسے ہیں، مشین ایک جیسی ہے، مگر منطق الگ الگ بتائی جا رہی ہے، یہ کیسے ممکن ہے؟"

انہوں نے واضح طور پر الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ ان معاملات کی غیر جانبدارانہ اور شفاف جانچ کرے تاکہ عوام کا جمہوری نظام پر اعتماد برقرار رہے۔ راوت کے مطابق اگر وقت رہتے وضاحت نہیں کی گئی تو عوام کے ذہنوں میں شکوک مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔

شیو سینا (یو بی ٹی) لیڈر نے یہ بھی کہا کہ اپوزیشن کی آواز کو دبانے کے بجائے، انتخابی عمل پر اٹھنے والے سوالات کا منطقی اور ٹھوس جواب دیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق جمہوریت میں سوال اٹھانا جرم نہیں بلکہ عوام کا حق ہے۔

دوسری جانب حکمراں جماعتوں کی طرف سے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ انتخابی نتائج مکمل طور پر شفاف اور ضابطوں کے مطابق ہیں۔

واضح رہے کہ مہاراشٹر کے بلدیاتی انتخابات کے بعد سیاسی ماحول گرم ہے اور نتائج کو لے کر حکمراں اتحاد اور اپوزیشن کے درمیان لفظی جنگ تیز ہو گئی ہے۔ سنجے راوت کے اس بیان سے ریاستی سیاست میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے، جو آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔

مہایوتی کو برتری، ایم وی اے 45 سے بھی کم پر سمٹی

مہاراشٹر میں منعقدہ نگر پریشد (میونسپل کونسل) انتخابات کے نتائج سامنے آ گئے ہیں، جن میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے۔ نتائج کے مطابق حکمراں اتحاد مہایوتی نے مجموعی طور پر واضح برتری حاصل کی ہے، جبکہ اپوزیشن اتحاد مہا وکاس اگھاڑی (MVA) کی کارکردگی توقعات سے کم رہی اور اس کی نشستیں 45 کے ہندسے سے بھی نیچے رہیں۔

یہ بھی پڑھیں:..........مالیگاؤں کارپوریشن الیکشن: سماجوادی امیدواروں کی پہلی لسٹ جاریce.html

انتخابی نتائج بتاتے ہیں کہ شہری علاقوں میں ووٹروں نے ایک بار پھر بی جے پی اور اس کے اتحادیوں پر اعتماد ظاہر کیا ہے۔ کئی نگر پریشدوں میں بی جے پی نے نہ صرف سب سے زیادہ نشستیں حاصل کیں بلکہ بعض مقامات پر آزاد اور مقامی جماعتوں کی حمایت سے حکومت بنانے کی پوزیشن بھی مضبوط کر لی ہے۔

دوسری جانب ایم وی اے، جس میں کانگریس، شیو سینا (ادھو ٹھاکرے گروپ) اور این سی پی شامل ہیں، کو اس بار خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی۔ متعدد شہروں میں اتحاد کو نقصان اٹھانا پڑا، جس سے ریاستی سیاست میں اپوزیشن کی حکمتِ عملی پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ نتائج آنے والے بلدیاتی اور ریاستی انتخابات کے لیے اہم اشارہ ہیں۔ مہایوتی کی برتری سے واضح ہوتا ہے کہ عوامی سطح پر حکومتی اتحاد کی گرفت مضبوط ہے، جبکہ ایم وی اے کو اپنی تنظیم اور زمینی سطح کی تیاریوں پر دوبارہ غور کرنا ہوگا۔

انتخابی نتائج کے بعد بی جے پی اور مہایوتی کے قائدین نے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے ترقی اور استحکام کے حق میں ووٹ قرار دیا ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے نتائج کا تجزیہ کر کے آئندہ کے لیے بہتر حکمتِ عملی بنانے کی بات کہی ہے۔

صبح 10 بجے تقریب حلف برداری، مہایوتی حکومت یا این سی پی کی جانب سے باقاعدہ تصدیق نہیں

ممبئی: آج 20 مئی بروز منگل راشٹریہ کانگریس پارٹی (این سی پی اجیت پوار) لیڈر چھگن بھجبل وزارت کا حلف لیں گے. خبروں کے مطابق صبح 10 بجے راج بھون میں حلف برداری کی تقریب

منعقد ہوگی. حلف برداری کی تقریب کیلئے سخت حفاظتی بندوبست کئے جاچکے ہیں.

وزیر خوراک و شہری سپلائی دھننجے منڈے کے استعفیٰ کی قیاس آرائیوں کے درمیان بھجبل کو کابینہ میں شامل کیا جارہا ہے. بھجبل کی مہایوتی اتحاد کے حلیف اجیت پوار کے کوٹہ سے تقرری کی جارہی ہے. دریں اثناء دیویندر فڑنویس کی زیر قیادت مہایوتی مہاراشٹر حکومت اور این سی پی کی جانب سے باقاعدہ تصدیق نہیں ہوئی ہے. حالانکہ بھجبل کی کابینہ میں واپسی کی توقع کی جارہی ہے. اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ بھجبل کیلئے ایک اہم سیاسی واپسی ہوگی.

इन वेबसाईटस पर देखा जा सकता है Result

हाराष्ट्र राज्य माध्यमिक और उच्चतर माध्यमिक शिक्षा बोर्ड जल्द ही संभवत: इसी हफ्ते महाराष्ट्र एसएससी परिणाम 2025 की घोषणा करने वाला है। MSBSHSE 10वीं के नतीजों की घोषणा की तारीख और समय नतीजों की घोषणा से पहले ही तय कर दिया जाएगा। एक बार रिजल्ट जारी होने के बाद इन्हें mahresult.nic.in, sscresult.mkcl.org और sscresult.mahahsscboard.in पर से देखा जा सकता है।

महाराष्ट्र बोर्ड 10वीं का रिजल्ट 2025

Maharashtra Board SSC 10th Result 2025 www.result.mh-ssc.ac.in, mahahsscboard.in, mahresult.nic.in, mahahsscboard.maharashtra.gov.in, maharashtraeducation.com

 महाराष्ट्र राज्य माध्यमिक और उच्चतर माध्यमिक शिक्षा बोर्ड जल्द ही संभवत: इसी हफ्ते महाराष्ट्र एसएससी परिणाम 2025 की घोषणा करने वाला है। एक बार रिजल्ट जारी होने के बाद इन्हें mahresult.nic.in, sscresult.mkcl.org और sscresult.mahahsscboard.in पर से देखा जा सकता है।

MSBSHSE कक्षा 10 के नतीजे एक प्रेस कॉन्फ्रेंस के जरिए घोषित किए जाने की उम्‍मीद है, क्‍योंकि 12वीं के रिजल्‍ट भी प्रेस कॉन्फ्रेंस में जारी किए गए थे, इसमें इस साल की परीक्षा के बारे में कुछ मुख्य जानकारी जैसे पास प्रतिशत, उम्मीदवारों की संख्या, डिवीजन-वार परिणाम, आदि साझा की जाएगी।