Articles by "Maharashtra Assembly Elections 2024"
Showing posts with label Maharashtra Assembly Elections 2024. Show all posts

شہر کے لیڈران ہرے جھنڈے کی آڑ میں بھگواء جھنڈے کی سیاست کررہے ہیں: آزاد امیدوار کلیم یوسف عبداللہ 

اردو میڈیا سینٹر پر منعقدہ پریس کانفرنس میں آزاد امیدوار کلیم یوسف عبداللہ کا انتخابی منشور کا اجراء، شہر کے نوجوان، صنعتکار، تعلیم یافتہ شخصیت کے علاوہ علماء کرام کی کلیم یوسف عبداللہ کو تائید و حمایت 

مالیگاؤں (پریس ریلیز) ہم نے 35 سال نہال احمد، 25 سال شیخ رشید اور شیخ آصف کو دیا۔ 17 سال مفتی محمد اسماعیل اور انکی پارٹی کو دیا۔ لیکن آج مالیگاؤں شہر کی بدحالی، عوام کی پریشانیاں اور محرومی اس بات کی دلیل ہے کہ یہ تمام لیڈران اپنے عہدوں پر ناکام ثابت ہوئے۔ آج 40 سے 50 سالوں کی سیاست میں لیڈروں نے شہر کو ایک معیاری گارڈن، پارک، تفریحی مقامات، اسٹیڈیم، انڈور اسٹیڈیم، آؤٹ ڈور اسٹیڈیم، ٹینس کورٹ، باسکٹ بال کورٹ، کرکٹ اسٹیڈیم، یونیورسٹی، معیاری اسکول، کالج، معیاری اسپتال یا میڈیکل کالج نہیں دیا۔ جبکہ تعلیمی نظام درہم برہم ہوگیا، اسکولیں کھنڈر میں تبدیل ہو گئیں، اسپتال سہولیات سے خالی ہیں۔ شہر کا بچہ بچہ اچھے اسکول، گارڈن، پارک اور پلے گراونڈ کے لیے ترس رہا ہے۔

شہر کے نوجوان بھی اسٹیڈیم، بہتر انفراسٹرکچر اور روزگار سے محروم ہیں۔ شہر کی خواتین بھی تفریحی کے مقامات اور بنیادی سہولیات کیلئے مطالبہ کررہی ہے۔ اس طرح کا اظہار خیال آصف عبداللہ نے اردو میڈیا سینٹر پر منعقدہ پریس کانفرنس سے کیا۔  

انہوں نے کہا کہ اپنے آپ کو دِگّج اور قوم کا ہمدرد کہنے والے لیڈران شہر کے مچھر تک ختم نہ کرسکے۔ آج لاکھوں شہریان کا خون مچھروں کے پیٹ میں جا رہا ہے۔ جبکہ شہر کی 90 فیصد سڑکیں خراب ہیں، تمام شاہراہوں پر گڑھے، دُھول اور مٹی کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ شجرکاری اور ہریالی سے خالی سڑکیں شہر کو مزید بدصورت بناتی ہے۔ آصف عبداللہ نے مزید کہا کہ آج شہر میں ڈرگس مافیا اور ہتھیاروں کا دھندہ عروج پر ہے، جس سے نوجوانوں کی زندگیاں اور کئی خاندان برباد ہو رہے ہیں۔ انہوں نے لیڈران پر تنیقد کرتے ہوئے کہا کہ فرقہ پرستی کا راگ الاپنے والے لیڈران خود سفید داڑھی والے فرقہ پرست لیڈر اور فرقہ پرست پارٹی کے قریبی بن چکے ہیں۔ اور ان کے سامنے خود سپردگی کرچکے ہیں، شہر کو بیچ کر کروڑوں کی نامی بے نامی جائیدادوں کے مالک بن بیٹھے ہیں۔

اس دوران آزاد امیدوار کلیم یوسف عبداللہ نے عوام سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ اتنے مظالم اور ناانصافیوں کے باوجود کیا آپ پھر انہیں میں سے کسی کو ووٹ دینا چاہتے ہیں؟ ہم نے بغیر کسی عہدے پر رہتے ہوئے نیشنل گرین ٹریبونل (نئی دلی) میں مفاد عامہ میں پٹیشن دائر کرتے ہوئے مالیگاؤں شہر کیلئے انڈر گراؤنڈ ڈرینیج، سیویج ٹریٹمنٹ پلانٹ، شہر بھر میں پکی سیمنٹ سڑکوں کی تعمیر جیسے سینکڑوں کروڑ کے پروجیکٹ لائے، جو کہ بدعنوان افسران، لیڈران اور ٹھیکے داروں کی ساٹھ گانٹھ کا شکار ہوگئے اور ان پروجیکٹس میں بھی سینکڑوں کروڑ کی بدعنوانیاں کی گئیں اور عوام کا حق مارا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہریان کے ساتھ ہونے والے دھوکے، مظالم، ناانصافیوں اور دہائیوں سے چل رہی ہے۔ بدعنوانیوں اور عوامی حقوق کی پامالی کو روکنے کے لئے شہر کی حقیقی تعمیر و ترقی کیلئے 20 نومبر کو ہونے والے اسمبلی چناؤ میں 8 نمبر بٹن دبائیں اور کرکٹ بیٹ کے نشان پر ووٹ دیکر مجھکو بھاری اکثریت سے کامیاب کریں اور شہر میں تبدیلی کی لہر لے آئیں۔ واضح رہے کہ اس پریس کانفرنس میں آزاد امیدوار کلیم یوسف عبداللہ، انکے والد محمد یوسف عبداللہ، بھائی آصف عبداللہ سمیت مدثر نذر کے علاوہ دیگر افراد موجود تھے۔

اگر شیخ آصف جیت گیاتو خدا کی قسم ہم تم کو کہیں گے مفتی اسمعیل کے پیچھے نماز پڑھنے والے سچے مسلمان نہیں ہیں:انیس قادری

جمعہ 8 نومبر کو چونا بھٹی صراط چوک میں مجلس اتحاد المسلمین کے انتخابی تشہیری جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انیس قادری نامی مقرر نے کیا کہ لشکر والی عید گاہ کے خطیب و امام، امامت کرتے ہیں اور میں جانتا ہوں کہ کم از کم دیڑھ لاکھ کا طبقہ وہاں ان کے پیچھے نماز پڑھتا ہے. انہوں نے مزید کہا کہ اگر تم نماز پڑھتے ہو دیڑھ لاکھ کی تعداد میں، انہیں اپنا امام مانتے ہو،اور آج اگر ووٹ کیلئے ہمیں تم سے بولنا پڑتا ہے... شرم کرو.... شرم کرو.... شرم کرو. مالیگاؤں کے غیور مسلمانوں تم نماز پڑتے ہو ان کے پیچھے، اپنا امام مانتے ہو، آج قسم کھا لو ہمارا ایک ایک ووٹ مفتی اسمعیل کی نشانی پتنگ پر پڑے گی. ایسے مت امام ماننا، امام ہے تو امام ماننا. انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم سنی ہوکر انہیں اپنا قائد مان رہے ہیں اپنا سالار مان رہے ہیں.

اس تقریر کے دوران انیس قادری نے کہا کہ اگر شیخ آصف کی پارٹی جیت گئی، اگر شیخ آصف جیت گیاتو خدا کی قسم ہم تم کو کہیں گے مفتی اسمعیل کے پیچھے نماز پڑھنے والے سچے مسلمان نہیں ہیں.

سیاسی جلسوں میں اس قسم کی بیان بازی کرنا کتنا درست ہے یہ تو علماء کرام ہی بتائیں گے لیکن کیا اب سچے مسلمان ہونے کا پیمانہ یہ رہ گیا ہے کہ ہم ووٹ کسے دے رہے ہیں؟؟؟ سیاست کو امامت، خطابت اور نماز روزے سے پرے ہی رہنے دیں. اپنے سیاسی اختلافات میں بھولی بھالی عوام کو گناہ گار نہ کریں. عوام کو آزادانہ طور پر اپنا نمائندہ منتخب کرنے کا حق ہے اسے کام اور کارکردگی کی بنیاد پر اپنا نمائندہ منتخب کرنے دیں. زیر نظر مضمون سیاست سے پرے ایک بیان پر اظہار رائے ہے اسے سیاسی عینک سے نہ دیکھیں، اختلاف رائے کی قدر کرتا ہوں. مذکورہ بیان پر اپنی رائے ضرور دیں.

مالیگاؤں: (ریحان یونس) مسائل اور پریشانیاں شہریان کا مقدر بن گئی ہیں۔سالہا سال گزرنے کے بعد بھی شہر کا ایک بڑا طبقہ اور ایک بڑا علاقہ بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ شہر اب تک سڑک، گٹر اور پانی کے مسائل سے ابھر نہیں سکا ہے۔انتخابات بھی روڈ گٹر کے مدعے پر ہورہے ہیں۔تعمیری و ترقیاتی کاموں پر سنجیدگی سے غور وفکر کرنے کا فقدان ہے۔عوام پانچ سال تک محرومی کا رونا روتی ہے اور انتخابات آنے پر چند روپوں میں اپنے ووٹ کا سودا کرلیتی ہے۔شہر اور محلے کی کچھ ادارے نما کلبیں ایک موٹی رقم کے عوض اہلیان محلہ کے ووٹوں کا سودا کرلیتی ہیں اور نمائندے کو کامیاب بنانے کیلئے دن رات ایک کردیتے ہیں۔لیکن انتخابات کے بعد نا تو عوامی نمائندے نظر آتے ہیں اور نہ ہی انہیں کامیاب کرانے میں اہم کردار ادا کرنے والی کلبوں کے ذمہ داران۔عوام بھی خاموش تماشائی بن جاتی ہے۔پھر پانچ سال تک رونا دھونا اور محرومی کا ڈھنڈھورا پیٹا جاتا ہے۔شہر بھر میں جابجا گندگی کے ڈھیر، بارش میں گٹروں کا پانی سڑکوں حتی کہ گھروں میں داخل ہوکر ہمارے اپنے انتخاب کا منہ چڑاتا ہے۔ہماری صنعت تباہی کی طرف تیزی سے رواں دواں ہے، روزگار کے دوسرے ذرائع ہمارے پاس موجود نہیں ہیں، ہمارے بچوں کی تعلیم کیلئے اعلی تعلیمی اداروں کا فقدان ہے۔غیر قانونی تجاوزات میں روزافزوں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔سڑکیں اور گلیاں تنگ سے تنگ تر ہوتی جارہی ہیں۔نشہ اور جرائم کا کاروبار پھل پھول رہا ہے۔ مگر ہم خوش ہیں، ہم خاموش ہیں، ہم مطمئن ہیں، ہماری زندگی تو کٹ گئی لیکن کیا ہم اپنی آئندہ نسلوں کو اندھے کنویں میں نہیں دکھیل رہے؟ درحقیقت یہ زندگی ہمارا اپنا انتخاب ہے۔اس زندگی اور ان حالات کا انتخاب ہم نے خود کیا ہے اور ہر پانچ سال بعد ہم اس زندگی کا انتخاب کرتے ہیں۔ہم عادی ہوچکے ہیں مسائل کے، محرومی کے، ہم تبدیلی چاہتے ہی نہیں۔

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی 

نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

کے مصداق مصداق آج جو بھی حالات ہیں اس کے ذمہ دار ہم خود ہیں۔آج ہماری صنعت کے حالات ہم سے پوشیدہ نہیں ہیں، ہمارے تعلیمی اداروں کے معیار سے بھی ہم واقف ہیں لیکن ہم مطمئن ہیں، ہم مست ہیں اپنی زندگی اور اپنی مصروفیات میں۔پڑوس سے، پڑوسیوں سے بے خبر ہم نے اپنے آپ کو میں کے ایک چھوٹے سے خانے میں قید کر رکھا ہے۔ شاید ہم سے وہ توفیق بھی چھن جائے کہ ہم اس سے باہر نکل سکیں۔ ضرورت ہے ایک منظم پلیٹ فارم کی، ضرورت ہے کچھ پختہ عزم نوجوانوں کی، جو حالات کے دھارے کا رخ موڑ سکیں اور اگر نہ بھی موڑ سکیں تو بساط بھر کوشش ہی کریں کہ آئندہ نسلوں کو ایک مشعل راہ مل سکے۔بلاشبہ تبدیلی فی الفور نہیں آنی والی لیکن آج بیج بونے کی سعی کرنی ہے، اس کی آبیاری کرنی ہے تاکہ یہ بیج ایک تن آور درخت بن سکے۔

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

پارٹی انڈرورلڈ گینگسٹر داؤد ابراہیم سے جڑے کسی شخص کو ٹکٹ دینا قبول نہیں کرے گی

بی جے پی نے پیر کو کہا کہ وہ اسمبلی انتخابات کے لئے این سی پی (اجیت پوار) لیڈر نواب ملک کی امیدواری کی مخالفت کرے گی۔ نواب ملک ممبئی جنوبی وسطی پارلیمانی حلقہ کے انوشکتی نگر سے موجودہ ایم ایل اے ہیں۔ خبروں کے مطابق، اس بار وہ مانخورد شیواجی نگر سے الیکشن لڑنا چاہتے ہیں اور انوشکتی نگر حلقہ سے اپنی بیٹی ثناء کو امیدوار بنانا چاہتے ہیں، جو انتخابی سیاست میں قدم رکھنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

لارینس بشنوئی کا انکاؤنٹر کرنے والے افسر کو ایک کروڑ کا انعام، کرنی سینا صدر کا اعلان

ملک خاندان نے فری پریس جرنل کو بتایا کہ وہ انتخابات کے لیے تیار ہیں اور پارٹی کے باضابطہ اعلان کا انتظار کر رہے ہیں۔ بی جے پی ممبئی کے صدر اور باندرہ (ویسٹ) کے ایم ایل اے آشیش شیلار نے پیر کو فری پریس جرنل کو بتایا کہ ان کی پارٹی انڈرورلڈ گینگسٹر داؤد ابراہیم سے جڑے کسی شخص کو ٹکٹ دینا قبول نہیں کرے گی۔

ملک اس سے پہلے مہا وکاس اگھاڑی حکومت میں بحیثیت وزیر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہیں 2022 میں این آئی اے نے داؤد اور اس کے ساتھیوں بشمول چھوٹا شکیل اور ٹیگر میمن کے خلاف درج ایک معاملے میں گرفتار کیا تھا۔ ملک کو اس سال جولائی میں طبی بنیادوں پر ضمانت دی گئی تھی۔ این سی پی کی تقسیم کے بعد مہایوتی حلیف بی جے پی کے اعتراضات کے باوجود نائب وزیر اعلی اجیت پوار کی زیر قیادت گروہ نے نواب ملک کو اپنے ساتھ لیا تھا. 

ڈپٹی چیف منسٹر دیویندر فڈنویس نے پوار کو خط لکھ کر ملک کو اپنے گروہ میں شامل نہ کرنے کی اپیل کی تھی۔ تاہم پوار نے اس خط کو نظر انداز کرتے ہوئے ملک کو اپنے کیمپ میں خوش آمدید کہا۔

بشنوئی کو ایک سیاسی پارٹی نے مہاراشٹر سے امیدواری کی پیشکش کی، شہید بھگت سنگھ سے موازنہ 

این سی پی لیڈر اور سابق وزیر بابا صدیقی کے قتل نے ایک بار پھر لارینس بشنوئی کو شہ سرخیوں میں جگہ دے دی ہے. کھلے عام قتل کی ذمہ داری قبول کرنے والے بشنوئی نے کہا کہ اداکار سلمان خان کے ساتھ این سی پی لیڈر بابا صدیقی کے  قریبی تعلقات بدقسمتی سے ان کی موت کا سبب بن گئے. لارنس بشنوئی کالے ہرن کے مبینہ قتل معاملے پر سلمان کو کئی بار جان سے مارنے کی دھمکی دے چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھین:... گیس سلینڈر پھٹنے سے عمارت منہدم

ان واقعات کے درمیان کرنی سینا کے قومی صدر راج شیخاوت نے ایک اہم اعلان کیا ہے کہ اگر کوئی پولیس افسر لارینس بشنوئی کا انکاؤنٹر کرتا ہے تو کرنی سینا کی جانب سے اسے 1.1 کروڑ روپے انعام دیا جائے گا.

آج تک کی ایک رپورٹ کے مطابق شیخاوت نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کو ایک ایسے ملک کی ضرورت ہے جو خوف سے پاک ہو نہ کہ دہشت میں رہنے والے ملک کی۔ انہوں نے ایسے افراد کو ختم کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور یقین دلایا کہ کرنی سینا پولیس افسر کے اہل خانہ کی حفاظت اور فلاح و بہبود کی ذمہ داری سنبھالے گی.

اسی درمیان احمد آباد کی سابرمتی سینٹرل جیل میں بند گینگسٹر لارنس بشنوئی کو مبینہ طور پر ایک سیاسی جماعت کی جانب سے مہاراشٹر اسمبلی انتخابات لڑنے کی پیشکش موصول ہوئی ہے۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا اور مہاراشٹر اسٹیٹ الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ پارٹی اتر بھارتیہ وکاس سینا (یو بی وی ایس) نے بشنوئی کو یہ پیشکش کی۔ رپورٹ کے مطابق یو بی وی ایس کے قومی صدر سنیل شکلا نے بشنوئی کو خط لکھ کر مہاراشٹر انتخابات میں حصہ لینے کی درخواست کی تھی۔ شکلا کے مطابق ممبئی میں الیکشن لڑنے کے لئے یو بی وی ایس کے چار امیدواروں کے نام طے کئے جاچکے ہیں اور بشنوئی کی منظوری کے ساتھ جلد ہی 50 مزید امیدواروں کی فہرست کا اعلان کیا جائے گا۔ اپنے خط میں شکلا نے بشنوئی کے شمالی ہندوستانی میں اثر و رسوخ پر فخر کرتے ہوئے کہا کہ کہ وہ پنجاب میں پیدا ہوئے تھے اور ایک ایسی پارٹی کی نمائندگی کرتے ہیں جو پورے ہندوستان میں شمالی ہندوستانیوں کے حقوق کے لئے کام کرتی ہے۔ یو بی وی ایس، جیسا کہ شکلا نے ذکر کیا، شمالی ہندوستانیوں، خاص طور پر مہاراشٹر کے لوگوں کے حقوق کے لیے لڑنے کے لیے پرعزم ہے۔

اس خط میں شکلا نے بشنوئی اور بھگت سنگھ کے درمیان موازنہ کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بہت سے شمالی ہندوستانی ، جو او بی سی ، ایس سی اور ایس ٹی برادریوں سے تعلق رکھتے ہیں اور مہاراشٹر میں پیدا ہوئے اور پلے بڑھے ہیں ، ریزرویشن کے حقوق سے صرف اس لئے محروم ہیں کیونکہ ان کے آبا و اجداد شمالی ہندوستانی تھے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر ہندوستان ایک متحد اکائی ہے تو انہیں ان حقوق سے محروم کیوں کیا جارہا ہے۔

شکلا نے مزید تجویز پیش کی کہ بشنوئی مہاراشٹر اسمبلی انتخابات لڑیں اور انہیں یقین دلایا کہ یو بی وی ایس کے ارکان اور عہدیدار ان کی کامیابی کو یقینی بنائیں گے۔ اس خط کا اختتام ایک امید افزا نوٹ کے ساتھ ہوا، جس میں بشنوئی کی پیش کش کے جواب کا بے صبری سے انتظار کیا جا رہا ہے، جب یو بی وی ایس فتح حاصل کرنے اور ان کی برادری کی ترقی میں ان کی مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔

نانا پٹولے نے شرکت کی تو مذاکرات میں شرکت نہیں کروں گا، ادھو ٹھاکرے کا انتباہ

مہاراشٹر: آئندہ اسمبلی انتخابات کو لے مہاوکاس اگھاڑی میں شامل کانگریس اور شیوسینا(UBT) میں نشستوں کی تقسیم پر اب تک تعطل برقرار ہے. نشستوں کی تقسیم کے اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے آج مرکزی الیکشنی کمیٹی کا اجلاس ہوگا.

یہ بھی پڑھیں:.... لاڈلی بہن یوجنا بند

اس تعطل کے درمیان کانگریس کے ریاستی انچارج رمیش چنی تھلا نے سنیچر کے روز سابق وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے اور این سی پی سربراہ شرد پوار سے ملاقات کی اور ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔ واضح رہے کہ 20نومبر کو مہاراشٹر میں اسمبلی انتخابات ہوں گے. بھارتیہ جنتا پارٹی(BJP) نے اپنے 99 امیدواروں کے ناموں کا اعلان کردیا ہے. جبکہ مہاوکاس اگھاڑی نشستوں کی تقسیم کا مسئلہ سلجھانے کیلئے بات چیت کررہی ہے. حالانکہ ایم سی اے کا دعویٰ ہے کہ 260 نشستوں پر اتفاق رائے پر پہنچ گئے ہیں بقیہ 28 نشستیں تنازعہ کا سبب بنی ہوئی ہیں.

کانگریس مرکزی الیکشنی کمیٹی (سی ای سی) کی میٹنگ اتوار کو ہونی تھی لیکن میٹنگ ملتوی کرکے پیر کے روز کر دی گئی.

اطلاعات کے مطابق سابق وزیراعلیٰ شیوسینا یو بی ٹی سربراہ ادھو ٹھاکرے نے انتباہ دیا ہے کہ اگر کانگریس ریاستی صدر نانا پٹولے نے شرکت کی تو وہ مذاکراتی میٹنگ میں حصہ نہیں لیں گے.

ولسے پاٹل اور چھگن بھجبل کی وضاحت، لاڈلی بہنوں کو ایک ماہ کا ایڈوانس پیسہ دیا گیا ہے

اس سال کے اسمبلی انتخابات میں سب سے زیادہ زیر بحث موضوع میں سے ایک شندے حکومت کے ذریعہ اعلان کردہ 'لاڈلی بہن یوجنا' ہے۔ اس اسکیم کا براہ راست اثر خواتین رائے دہندگان پر پڑتا ہے۔ اسی وجہ سے مرکزی الیکشن کمیشن نے ریاستی حکومت کو اس اسکیم کو روکنے کی ہدایت دی ہے۔
 اس کے مطابق، ریاست کے محکمہ خواتین اور بچوں کی بہبود نے اس اسکیم کو فی الحال روک دیا ہے۔ شندے حکومت پہلے ہی خواتین کو نومبر کے مہینے کی ادائیگی کر چکی ہے۔ انتخابات کے بعد دسمبر کے مہینے میں اس اسکیم کا مستقبل کیا ہوگا؟ آپ کو پتہ چل جائے گا. شندے حکومت میں اجیت پوار گروہ کے دو وزراء نے اس پر رد عمل ظاہر کیا ہے۔ ریاستی تعاون کے وزیر دلیپ ولسے پاٹل اور خوراک اور شہری رسد کے وزیر چھگن بھجبل نے اس پیش رفت پر رد عمل ظاہر کیا ہے۔
دلیپ ولسے پاٹل نے کہا کہ معلوم ہوا ہے کہ الیکشن کمیشن نے لاڈلی بہن یوجنا کو روک دیا ہے۔ اپوزیشن اس معاملے پر آپ کو دھوکہ دینے کی کوشش کرے گی۔ لاڈلی بہن یوجنا کا آغاز جولائی میں ہوا تھا۔ یہ منصوبہ اب اپنے چوتھے مہینے میں ہے۔ چار مہینے کے لیے 6000 روپے ملنے چاہیے تھے، لیکن ہماری بہنوں کو 7500 روپے ملے ہیں۔ یہ اضافی 1500 روپے آپ کو اگلے مہینے کے لیے دیے گئے ہیں.
ولسے پاٹل نے مزید کہا کہ حکومت جانتی تھی کہ الیکشن کمیشن انتخابات کے دوران ضابطہ اخلاق کے نام پر اس اسکیم پر پابندی عائد کرے گا۔ لہٰذا ہم نے پہلے ہی کابینہ میں ایک فیصلہ کیا، اور ایک ماہ کی پیشگی ادائیگی دی ہے۔ ایک بار الیکشن ختم ہونے کے بعد، آپ کو وہ پیسہ دوبارہ ملتا رہے گا۔ لہٰذا دھوکہ دہی کی کوشش کرنے والے کسی بھی شخص کو کامیاب نہ ہونے دیں.
وزیر چھگن بھجبل نے بھی اس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بہت کم لوگ ایسے ہیں جنہیں لاڈلی بہن یوجنا کے پیسے نہیں ملے ہیں۔ ہر ایک کا پیسہ ایک اکاؤنٹ میں چلا گیا ہے. ہماری 98 فیصد سے زیادہ خواتین بہنوں نے اسے حاصل کیا ہے۔ یہ ہمارا مستقل منصوبہ ہے۔ یہ انتخابات کا منصوبہ نہیں ہے۔ لہٰذا خواتین اس سے فائدہ اٹھاتی رہیں گی۔

ایم آئی ایم ریاستی صدر نے اگھاڑی ممبران کو خط لکھا، اویسی نے کہا ہم نہیں جانتے اگھاڑی ممبران کا فیصلہ کیا ہوگا

حیدرآباد: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسد الدین اویسی نے  آج سنیچر کے روز کہا کہ ان کی پارٹی کی مہاراشٹر شاخ نے مہا وکاس اگھاڑی کے ممبروں کو خط لکھ کر اشارہ دیا ہے کہ وہ ریاست میں آئندہ اسمبلی انتخابات میں اتحاد پر بات چیت کے لئے تیار ہے۔

یہ بھی پڑھیں:... مالیگاؤں اور دھولیہ میں سڑکوں کے گڑھوں سے تنگ آگیا: اکھلیش یادو

اسدالدین اویسی نے کہا کہ 'جیسا کہ میں نے آپ کو بتایا کہ مہاراشٹر میں ہمارے ریاستی صدر نے مہاوکاس اگھاڑی ممبران کو ایک خط لکھا ہے اور کہا ہے کہ وہ بات چیت کے لیے تیار ہیں، لیکن ہم نہیں جانتے کہ اس اتحاد میں شامل اتحادی جماعتیں اور ممبران کیا فیصلہ کریں گے۔ لیکن ایک سیاسی جماعت کے طور پر ہمیں الیکشن لڑنا ہوگا اور ہم دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے۔ ہریانہ اسمبلی انتخابات کے نتائج پر اویسی نے کہا کہ سبھی کو توقع تھی کہ کانگریس جیت جائے گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ سب سے پرانی پارٹی کو اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لئے کچھ غور و خوض کرنا چاہئے کہ وہ کیوں نہیں جیت سکے۔

مالیگاؤں کے بعد آج دھولیہ میں اکھلیش یادو کا دورہ، مہاوکاس اگھاڑی میں 12 نشستوں کا مطالبہ کیا تھا لیکن چند نشستوں پر مطمئن ہیں

دھولیہ: سماجوادی لیڈر اکھلیش یادو آئندہ ماہ ہونے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر مہاراشٹر کے دورے پر ہیں. کل مالیگاؤں میں موسلا دھار بارش کے درمیان عزیز کلو اسٹیڈیم میں ایک عوامی اجلاس سے انہوں نے خطاب کیا. آج دھولیہ میں انہوں نے کہا کہ آئندہ اسمبلی انتخابات نہ صرف مہاراشٹر بلکہ پورے ملک میں حالات کو بدل دیں گے. یہ تاریخی انتخابات ہوں گے.

क्या एकनाथ शिंदे दोबारा मुख्य मंत्री बनेंगे????

مہاراشٹر انتخابات کے لئے سیٹوں کی تقسیم پر بات کرتے ہوئے یادو نے کہا کہ سماج وادی پارٹی نے مہا وکاس اگھاڑی (ایم وی اے) میں 12 نشستوں کا مطالبہ کیا تھا لیکن یہ وہ پارٹی ہے جو کم نشستوں سے بھی مطمئن ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ مہاراشٹر میں ایس پی کے پہلے ہی دو ایم ایل اے ہیں۔ ممبئی سے ایس پی ایم ایل اے ابو اعظمی بھی اکھلیش یادو کے ساتھ موجود تھے۔ اس ہفتے کے اوائل میں ابو اعظمی نے ایکس پر پوسٹ کیا تھا کہ مہاراشٹر میں کسی بھی پارٹی کو سماج وادی پارٹی سے بات چیت کے بغیر اسمبلی انتخابات کے لئے امیدواروں کا اعلان نہیں کرنا چاہئے۔ تاہم بعد میں انہوں نے واضح کیا کہ ایم وی اے کے اندر تمام بات چیت کانگریس، این سی پی (ایس پی) اور شیوسینا (یو بی ٹی) کے درمیان ہوئی تھی اور وہ انہیں اتحاد کے دیگر شراکت داروں کی یاد دلانا چاہتے تھے۔ کانگریس لیڈر وجے وڈیٹیوار نے حال ہی میں سماج وادی پارٹی کے ساتھ سیٹوں کی تقسیم پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایس پی کے لئے کانگریس کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں۔ وڈیٹیوار نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ کانگریس اور سماج وادی پارٹی کے لئے مہاراشٹر کے لئے سیٹوں کی تقسیم کا فارمولہ اتر پردیش جیسا ہی ہوگا۔سنیچر کے روز اکھلیش یادو نے بھی مہایوتی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اتر پردیش کی سڑکیں مہاراشٹر سے بہتر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ایسی سڑکیں ہے جہاں طیارے اتارے جاسکتے ہیں۔ کیا وزیر ٹرانسپورٹ نے مہاراشٹر میں ایسی سڑکیں بنائی ہیں؟'' انہوں نے مزید کہا کہ وہ مالیگاؤں اور دھولیہ کے دورے کے دوران دیکھے گئے گڑھوں سے تنگ آ چکے ہیں۔

शिवाजी मंदिर, दादर में पार्टी पदाधिकारियों की बैठक, शिंदे को दोबारा सीएम चेहरे के रूप में पेश किया जाए:शिंदे के बेटे श्रीकांत का मुतालबा

मुंबई: शिवसेना द्वारा आगामी राज्य विधानसभा चुनाव में मुख्य मंत्री एकनाथ शिंदे को सीएम के रूप में पेश करने की मांग उठने लगी है.

बुधवार को जब सीएम शिंदे, डिप्टी सीएम देवेंद्र फडणवीस और अजित पवार समेत महायुत के नेता मीडिया को संबोधित कर रहे थे, तब उसके सीएम चेहरे के बारे में सवाल पूछा गया। उस समय फडणवीस ने शिंदे की ओर इशारा करते हुए कहा था, 'हमारे मुख्यमंत्री यहां हैं। इसे राज्य भाजपा द्वारा शिंदे के एक बार फिर से मुख्यमंत्री बनने के समर्थन के रूप में देखा गया था। कल्याण से लोकसभा सदस्य और सीएम शिंदे के बेटे श्रीकांत शिंदे ने शुक्रवार को शिवाजी मंदिर, दादर में पार्टी पदाधिकारियों की बैठक बुलाई। यहां यह स्पष्ट कर दिया गया था कि पार्टी चाहती है कि सीएम शिंदे को दोबारा सीएम चेहरे के रूप में पेश किया जाए। बैठक से पहले 'पुन्हा एकनाथ शिंदे च मुख्यमंत्री मंत्री' नामक एक लघु फिल्म भी रिलीज की गई थी।

राजनीतिक सूत्रों का कहना है कि इससे संकेत मिलता है कि सब कुछ ठीक नहीं है और सांसद पुत्र द्वारा बुलाई गई बैठक इस बात का स्पष्ट संकेत है कि शिवसेना ने विधानसभा चुनाव के लिए अपनी रणनीति तैयार कर ली है। उनके अनुसार भाजपा के वरिष्ठ नेताओं के साथ अपनी हालिया एक मुलाकात के दौरान शिंदे ने मांग की थी कि उन्हें मुख्यमंत्री पद के चेहरे के रूप में पेश किया जाना चाहिए लेकिन कोई ठोस आश्वासन नहीं दिया गया।

इस बीच, दादर में बैठक के दौरान शिवसेना नेताओं ने मुख्यमंत्री के रूप में एकनाथ शिंदे के समर्थन में नारे लगाए। बैठक में राज्यसभा सदस्य मिलिंद देवड़ा, सांसद रवींद्र वायकर, एमएलसी मनीषा कायंदे, पूर्व सांसद राहुल शेवाले और अन्य उपस्थित थे।

एजेंसी की रिपोर्ट के मुताबिक, चांदीवली के विधायक दिलीप लांडे ने सीएम की तारीफ करते हुए कहा, 'नाथ के नाथ, एकनाथ शिंदे हैं। लांडे ने कहा, "एकनाथ शिंदे लोगों के व्यक्ति हैं, वह एक सर्वोच्च व्यक्ति हैं जो हमेशा हमारी और दूसरों की मदद के लिए आगे आते हैं।

मगठाणे के विधायक प्रकाश सुर्वे ने शिवसेना (यूबीटी) नेताओं पर कटाक्ष किया और कहा, "हर कोई जानता है कि असली गद्दार कौन है। मैंने पहले नेशनल पार्क में मैराथन का आयोजन किया था, हम इंतजार करते-करते थक गए थे लेकिन इन लोगों उद्धव ठाकरे और आदित्य ठाकरे ने कभी हमारा फोन नहीं उठाया। ये लोग मददगार नहीं हैं, वे सिर्फ दिखावा कर रहे हैं, उन्हें वास्तव में बाहर कर दिया जाना चाहिए। बैठक को संबोधित करते हुए शिरकांत शिंदे ने कहा कि एक महीने काम करने की बात थी, हम महाराष्ट्र में फिर से महायुति सरकार चाहते हैं। हमें बस लोगों के पास जाने और उन्हें सरकारी योजनाओं के बारे में जागरूक करने की जरूरत है। विपक्ष उन्हें कितना भी गाली दे, एकनाथ शिंदे के प्रति लोगों का बड़ा प्यार है।

विधान पार्षद मनीषा कायंदे ने कहा कि गठबंधन एकनाथ शिंदे के नेतृत्व में चुनाव लड़ रहा है।

महाराष्ट्र में अगले महीने होने वाले विधानसभा चुनाव के लिए सत्तारूढ़ महायुति गठबंधन की तैयारियों के बीच मुख्यमंत्री एकनाथ शिंदे एक प्रभावशाली राजनीतिक शख्सियत के रूप में उभरे हैं जो परंपरा और आधुनिकता के बीच संतुलन बिठाने की कोशिश करते हैं, संकट से प्रभावी तरीके से निपटते हैं और वादों को पूरा करते हैं।

مضبوط امیدوار نہیں ملا تو سیٹ بی جے پی کے پاس جاسکتی، لیکن شندے ایسا نہیں چاہتے

ممبئی: آئندہ اسمبلی انتخابات میں ورلی ریاست کے سب سے زیادہ زیر بحث حلقوں میں سے ایک بننے جا رہا ہے۔ آدتیہ ٹھاکرے، ٹھاکرے خاندان کے پہلے رکن ہیں، جنہوں نے 2014 میں اس حلقے سے کامیابی حاصل کی تھی۔ تاہم شیوسینا میں پھوٹ پڑنے کے بعد شیوسینا کے شندے گٹ اور بی جے پی دونوں کو ورلی میں ان کے خلاف سخت مقابلہ کرنے کی امید ہے۔ 2019 میں ایم این ایس نے آدتیہ کے خلاف کوئی امیدوار کھڑا نہیں کیا تھا، لیکن اس بار وہ ورلی سیٹ کے لئے بھی امیدواروں پر غور کر رہے ہیں۔ نتیجتاً، ورلی حلقہ میں ہائی وولٹیج مقابلہ ہوگا۔

پاپولر فرنٹ آف انڈیا سے منسلک 56.56 کروڑ روپے مالیت کی 35 غیر منقولہ جائیدادیں ضبط

ورلی میں ایم این ایس سندیپ دیش پانڈے کو ممکنہ امیدوار بنانے پر غور کر رہی ہے جبکہ بی جے پی کی شائنا این سی پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ کچھ ایم این ایس کارکنان نے امیت ٹھاکرے سے ورلی سے انتخاب لڑنے پر غور کرنے کی درخواست بھی کی تھی۔ توقع ہے کہ یہ انتخاب ٹھاکرے اور شندے کے درمیان مقابلہ ہوگا، حالانکہ آدتیہ ٹھاکرے کو چیلنج کرنے کے لئے شندے گٹ کی طرف سے ابھی تک کسی مضبوط امیدوار کو نامزد نہیں کیا گیا ہے۔ نتیجتاً بی جے پی امیدواروں پر بھی غور کیا جارہا ہے۔ ذرائع کے مطابق شندے گٹ نے ورلی میں ٹھاکرے کی پارٹی کے ایک اہم لیڈر کو ٹکٹ کی پیش کش کی تھی ، لیکن اس نے ٹھاکرے کیمپ چھوڑنے سے انکار کردیا تھا۔ اس سے شندے کے لئے آدتیہ ٹھاکرے کے خلاف مناسب امیدوار تلاش کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ 2014 میں شیوسینا کے سنیل شندے نے ورلی حلقہ سے کامیابی حاصل کی تھی۔ آدتیہ ٹھاکرے نے 2019 میں یہاں سے الیکشن لڑا تھا اور 89248 ووٹ حاصل کیے تھے۔ ورلی حلقہ متنوع ہے، جس میں بڑی چالوں کے ساتھ ساتھ اونچی اونچی عمارتیں بھی ہیں، اس میں متوسط طبقے اور محنت کش طبقے کی ایک بڑی آبادی شامل ہے۔ یہ ریس کورس، آرتھر روڈ جیل اور ممبئی کے سب سے بڑے دھوبی گھاٹ جیسے علاقوں کا احاطہ کرتا ہے۔ مہاراشٹر کے سبھی حصوں کے لوگ یہاں رہتے ہیں، جن کی بڑی تعداد گجراتی آبادی پر مشتمل ہے۔ بی ڈی ڈی چالوں کی تعمیر نو کا مسئلہ بحث کا ایک اہم موضوع رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایکناتھ شندے یہ سیٹ بی جے پی کو دینے سے ہچکچا رہے ہیں لیکن قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ اگر شندے سینا کا مضبوط امیدوار نہیں ملا تو یہ سیٹ بی جے پی کے پاس جاسکتی ہے۔

سانگلی اسلام پور میں عوامی ریلی سے شرد پوار نے واضح اشارہ دیا، ریاست کی تعمیر نو کا کام اپنے ہاتھ میں لینا ہوگا

مہاراشٹر: آئندہ اسمبلی انتخابات میں راشٹریہ وادی پارٹی(شرد چندر پوار) کی جانب سے وزیراعلیٰ کا چہرہ کون ہوگا اس تعلق سے بات چیت کے درمیان پارٹی سربراہ شرد پوار نے ریاست کے مستقبل کی تشکیل میں مہاراشٹر این سی پی-ایس سی پی کے صدر جینت پاٹل کے اہم کردار کا اشارہ دیا ہے۔

پوار نے اس بات پر زور دیا کہ ترقی یافتہ مہاراشٹر کی تعمیر نو کا سفر سانگلی کے اسلام پور سے شروع ہوگا اور جینت پاٹل کو ذمہ داری اپنے کندھوں پر لینی چاہئے اور پارٹی اور ان کے تمام ساتھی ان کی حمایت کریں گے۔ اس بیان سے اشارہ ملتا ہے کہ پاٹل آنے والے انتخابات میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ بدھ کے روز مہاراشٹر کے سانگلی ضلع کے اسلام پور اسمبلی حلقہ میں ایک عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے شرد پوار نے کہا کہ مہاراشٹر کی خراب تصویر کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ ہم ایک الگ مہاراشٹر چاہتے ہیں۔ اگر میں مختلف مہاراشٹر کہوں تو اس کا مطلب ہے کہ پہلے وزیر اعلی یشونت راؤ چوہان کے وژن کی طرح اور ایسا کرنے کے لئے وسنت نائک، راجا رام باپو وغیرہ جیسے بہت سے لوگوں نے قربانیاں دی ہیں۔ وہ سب ایک طاقتور اور مضبوط ترقی پسند ریاست چاہتے تھے۔ لیکن جو لوگ فی الحال اقتدار میں ہیں وہ مہاراشٹر کے مفاد میں بھی نہیں سوچتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ آج صورتحال ایسی ہے کہ ریاست تمام شعبوں میں نچلی سطح پر  ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب مہاراشٹر ملک کی تمام ریاستوں میں سب سے اوپر تھا، اس لیے ہمیں ریاست کو دوبارہ ترقی یافتہ بنانے اور تعمیر نو کا کام اپنے ہاتھ میں لینا ہوگا۔

شرد پوار نے مزید کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ یہ کام اسلام پور سانگلی سے شروع ہو رہا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ جینت پاٹل ریاست کے کونے کونے میں جا رہے ہیں۔ وہ لوگوں سے مل رہے ہیں، انہیں اعتماد دے رہے ہیں اور ہمارے نظریے کے بارے میں بتا رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ریاست کے نوجوان ان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہوں گے اور مہاراشٹر کے بارے میں ہمارے جو خواب ہیں وہ پورے ہوں گے۔ آپ، میں اور مہاراشٹر کے سبھی لوگ توقع کرتے ہیں کہ وہ یہ ذمہ داری اپنے کندھوں پر لیں گے۔ ہمیں جینت پاٹل کی بھرپور حمایت کرنے کی ضرورت ہے۔

نواب ملک، ابو عاصم اعظمی کے خلاف مانخورد شیواجی نگر سے الیکشن لڑنا چاہتے ہیں

انوشکتی نگر اسمبلی حلقہ (نمبر 172) جس میں چیتا کیمپ، ٹرامبے، دیونار، مانخورد اور مہاراشٹر نگر جیسے علاقے شامل ہیں، کئی لحاظ سے پڑوسی مانخورد-شیواجی نگر سے ملتے جلتے ہیں۔ اس حلقے میں مسلم رائے دہندگان کی ایک بڑی تعداد ہے اور آبادی کی اکثریت کچی آبادیوں میں رہتی ہے۔ حالانکہ، انوشکتی نگر میں بہت سے متوسط طبقے کے ووٹر بھی ہیں، جن میں سرکاری ملازمین اور سائنس دان بھی شامل ہیں، جو ہاؤسنگ کالونیوں میں رہتے ہیں۔ یہاں بلند و بالا رہائشی عمارتیں ہیں اور اس علاقے میں بھارت کے اہم جوہری تحقیقی اداروں میں سے ایک، بھابھا اٹامک ریسرچ سینٹر بھی واقع ہے۔

2019 کے ودھان سبھا انتخابات میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے نواب ملک نے 65،217 ووٹوں کے ساتھ اس نشست پر کامیابی حاصل کی تھی ، انہوں نے غیر منقسم شیوسینا کے اپنے حریف تکارام کاٹے کو شکست دی تھی جنہوں نے 52،466 ووٹ حاصل کیے تھے۔ کاٹے نے 2014 میں یہ سیٹ جیتی تھی اور 2009 میں یہ سیٹ جیتنے والے نواب ملک کو شکست دی تھی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق نواب ملک اس بار مانخورد شیواجی نگر سے الیکشن لڑنا چاہتے ہیں اور انوشکتی نگر حلقہ سے اپنی بیٹی ثنا ملک کو امیدوار بنانا چاہتے ہیں جو انتخابی سیاست میں قدم رکھنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

ملک انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے ذریعہ منی لانڈرنگ کے الزام میں زیر تفتیش ہیں۔ انہوں نے الزامات سے انکار کیا تھا اور فی الحال ضمانت پر ہیں۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ ملک کے مانخورد شیواجی نگر میں انتخابی میدان میں اترنے کے منصوبے نے سماج وادی پارٹی کو پریشان کر دیا ہے، ابو عاصم اعظمی، جو تین بار قانون ساز اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں، چوتھی مدت کے لیے انتخاب لڑ رہے ہیں۔ اس بات کے اشارے مل رہے ہیں کہ سماج وادی پارٹی انوشکتی نگر میں اپنا امیدوار کھڑا کرے گی۔

تاہم، ملک کی بیٹی، ثنا، اس حلقے کا ایک جانا پہچانا چہرہ ہیں، جب ان کے والد جیل میں تھے تو وہ اس علاقے کا دورہ کرتی رہی ہیں۔ نواب ملک جو اب این سی پی اجیت پوار کے ساتھ ہیں، نے کہا کہ میری غیر موجودگی میں ثناء حلقے کی دیکھ بھال کر رہی تھیں۔ لوگ مطالبہ کر رہے ہیں کہ انہیں ان کی نمائندگی کرنی چاہیے. 

ملک کو 2022 میں گرفتار کیا گیا تھا اور اس سال جولائی میں انہیں طبی بنیادوں پر ضمانت دی گئی تھی۔ انہوں نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا اور وضاحت کی کہ یہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ مانخورد شیواجی نگر سے امیدواری کی خبروں کے بارے میں پوچھے جانے پر ملک نے کہا، 'شیواجی نگر کے لوگ تبدیلی چاہتے ہیں، لیکن میں یہ فیصلہ اپنی پارٹی پر چھوڑوں گا کہ مجھے وہاں سے الیکشن لڑنا چاہیے یا نہیں۔

مہاوکاس اگھاڑی اور برسراقتدار مہایوتی مقابلے کیلئے تیار، ونچت بہوجن اگھاڑی نے بھی مزید 30 امیدواروں کی فہرست جاری کی

نئی دہلی: مہاراشٹر اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کے لئے کانگریس 20 اکتوبر کو مرکزی الیکشن کمیٹی کا اجلاس منعقد کرے گی تاکہ ریاست کے لئے امیدواروں کی فہرست کو حتمی شکل دی جاسکے۔ پارٹی کی مہاراشٹر الیکشن اسکریننگ کمیٹی نے بدھ کے روز دہلی کے ہماچل بھون میں ایک میٹنگ کی۔ پارٹی کے ریاستی انچارج رمیش چنی تھلا، مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے، بالا صاحب تھورات، قائد حزب اختلاف وجے وڈیٹیوار اور ستیج پاٹل نے اجلاس میں شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں:.... مہاراشٹر اسمبلی الیکش کی تاریخ کا اعلان

کل اسکریننگ میٹنگ کے اختتام کے بعد اسمبلی انتخابات کے لئے پارٹی کے انچارج رمیش چنی تھلا نے کہا کہ 'ہم 20 اکتوبر کو ایک اور میٹنگ کریں گے اور ہر چیز کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔ سی ای سی کا اجلاس 20 اکتوبر کو ہے۔ پارٹی کی ممبئی صدر ورشا گائیکواڑ نے بھی کہا کہ 20 اکتوبر کو حتمی فیصلہ لیا جائے گا. اس سے قبل بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بھی قومی راجدھانی میں اپنی مرکزی کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا اور 100 سے زیادہ نشستوں پر تبادلہ خیال کیا۔ ذرائع نے بتایا کہ پارٹی اجیت پوار کی زیر قیادت نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) اور ایکناتھ شندے کی زیر قیادت شیوسینا سمیت مہایوتی اتحاد کے شراکت داروں کے ساتھ نشستوں کی تقسیم پر بات چیت کے بعد 288 رکنی مہاراشٹر اسمبلی انتخابات کے لئے اپنے بقیہ امیدواروں کے ناموں کا فیصلہ کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں:.... بابا صدیقی فائرنگ میں ہلاک

اس کے علاوہ ونچت بہوجن آگھاڑی نے ریاست کے اسمبلی انتخابات کے لئے اپنے امیدواروں کی تیسری فہرست کا بھی اعلان کیا۔ وی بی اے نے اپنی تیسری فہرست میں مزید 30 امیدواروں کا اعلان کیا۔

اس سے قبل الیکشن کمیشن آف انڈیا نے مہاراشٹر اور جھارکھنڈ اسمبلی انتخابات کے شیڈول کا اعلان کیا تھا۔ مہاراشٹر کی 288 رکنی قانون ساز اسمبلی کے لئے انتخابات 20 نومبر کو ایک ہی مرحلے میں ہوں گے اور ووٹوں کی گنتی 23 نومبر کو ہوگی۔

 

 نومبر20  کو پولنگ، 23 نومبر کو نتائج کا اعلان ہوگا

آج الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ایک پریس کانفرنس میں مہاراشٹر اور جھارکھنڈ اسمبلی انتخابات کا اعلان کیا۔


مہاراشٹرا اسمبلی الیکشن ایک مرحلے میں ہوگا۔ 22 اکتوبر سے پرچہ نامزدگی داخل کیا جاسکے گا۔پرچہ نامزدگی 29 اکتوبر تک داخل کیا جاسکے گا۔نام واپس لینے کی تاریخ 30 اکتوبر ہو گی۔ووٹنگ 20 نومبر کوہوگی۔جبکہ ووٹوں کی گنتی اور نتائج کا اعلان 23 نومبر بروز سنیچر کیا جائے گا. 



 آج بروز منگل الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ایک پریس کانفرنس میں مہاراشٹر اور جھارکھنڈ اسمبلی انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے سے قبل حال ہی میں جموں و کشمیر میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں کشمیری رائے دہندگان کے الیکشن کے تئیں جوش و خروش کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے لوگوں نے الیکشن میں قابل تعریف حصہ داری کی۔

الیکشن کمشنر راجیو کمار نے کہا کہ اس مرتبہ ہر پولنگ بوتھ پر رائے دہندگان کو خصوصی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ الیکشن سے متعلق پولیس اور اسپیشل فورسز کو بھی سخت اور خصوصی ہدایات دی گئی ہیں۔ کنٹرول روم سے سوشل میڈیا پر بھی کڑی نظر رکھی جائے گی۔


جے ایم ایم لیڈر منوج پانڈے نے کہا کہ الیکشن کمیشن بی جے پی کے دباؤ میں کام کررہا یے

مہاراشٹر اور جھارکھنڈ اسمبلی انتخابات کے آج کے اعلان سے قبل جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم) نے الزام عائد کیا کہ الیکشن کمیشن آزادانہ طور پر کام نہیں کر رہا ہے اور بی جے پی کے دباؤ میں ہے۔

رانچی میں جے ایم ایم لیڈر منوج پانڈے نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 'انتخابات کا اعلان آج ہونا ہے، لیکن بی جے پی رہنماؤں کو اس کی جانکاری کل ہی مل گئی۔ یہ بہت سنگین معاملہ ہے۔ کیا کمیشن بی جے پی رہنماؤں کے اشارے پر کام کرتا ہے؟ کمیشن کو کٹھ پتلی کے طور پر رکھنا ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔

جھارکھنڈ مکتی مورچہ نے اپنے آفیشل ایکس ہینڈل کے ذریعے ٹوئٹ کیا کہ 'باس نے سب کچھ سیٹ اپ کر لیا ہے۔ کیسا سین ہے! @ECISVEEP، کیا آپ کچھ کہیں گے؟"

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) آج مہاراشٹر اور جھارکھنڈ اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کرنے والا ہے۔ پانڈے نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جے ایم ایم ہمیشہ انتخابات کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہمیشہ انتخابی موڈ میں رہتے ہیں کیونکہ ہم مفاد عامہ کے لئے کام کرتے ہیں۔ ہمارا عزم عوامی خدمت کے ذریعے عمل میں بدلتا ہے، جسے آپ جھارکھنڈ میں ہیمنت سورین حکومت کے تحت سیاست کے ایک مثالی نمونے کے طور پر دیکھیں گے۔ اس لئے ہم ہمیشہ انتخابات کے لئے تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انڈیا اتحاد کا باضابطہ اجلاس ہوگا اور اس کے بعد تفصیلات واضح کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اب بھی 2-3 سیٹیں ہیں جن پر بات چیت ہوگی اور اس کے بعد اس کا اعلان کیا جائے گا۔ اتحاد کی تیاریوں کے بارے میں پانڈے نے کہا کہ اگرچہ بات چیت جاری ہے ، لیکن ہوسکتا ہے کہ انہیں ابھی تک میڈیا کے ساتھ شیئر نہ کیا گیا ہو۔

الیکشن کمیشن آف انڈیا پریس کانفرنس کے ذریعے مہاراشٹر اور جھارکھنڈ انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کرے گی

الیکشن کمیشن آف انڈیا آج بروز منگل کو مہاراشٹر اور جھارکھنڈ کے اسمبلی انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرے گی.

یہ بھی پڑھیں:...ممبئی ہوا ٹول فری، الیکشن سے قبل مہایوتی یحکومت کا بڑا فیصلہ

الیکشن کمیشن آج سہ پہر ساڑھے تین بجے ایک پریس کانفرنس میں مہاراشٹر اور جھارکھنڈ کے لئے تاریخوں کا اعلان کرے گی۔ مہاراشٹر اسمبلی کی میعاد 26 نومبر کو ختم ہو رہی ہے جبکہ جھارکھنڈ اسمبلی کی میعاد 5 جنوری 2025 کو ختم ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:........ بابا صدیقی فائرنگ میں ہلاک

این سی پی لیڈر پرفل پٹیل نے بتایا کہ مہاراشٹر میں برسراقتدار مہایوتی اتحاد ریاست کی کل 288 اسمبلی نشستوں میں سے 230 کے لئے اتفاق رائے پر پہنچ گیا ہے۔ ایک مرتبہ ریاست کی دیگر نشستوں پر بھی اتفاق رائے ہوجانے کے بعد آئندہ تین چار روز میں مہایوتی کے ذریعے مکمل تفصیلات ظاہر کردی جائیں گی.

چند روز قبل بی جے پی کے ریاستی صدر چندر شیکھر باونکلے نے کہا تھا کہ 90 فیصد نشستوں پر اتفاق رائے ہوچکی ہے آئندہ چند دنوں میں بقیہ نشستوں پر بھی حتمی فیصلہ لیا جائے گا. واضح رہے کہ مہایوتی اتحاد میں بی جے پی، شیوسینا اور این سی پی(اجیت پوار) شامل ہیں.

اطلاعات کے مطابق بی جے پی 140 سے 150 نشستوں پر، وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے کی زیر قیادت شیوسینا 80 نشستوں پر اور این سی پی 55 نشستوں پر الیکشن لڑ سکتی ہے۔ 

وہیں شیوسینا یو بی ٹی لیڈر سنجے راؤت کے مطابق اپوزیشن مہاوکاس اگھاڑی کی 288 نشستوں میں سے 210 نشستوں پر اتفاق رائے بن چکی ہے. راوت نے مزید کہا کہ ایم ویے اے جلد ہی اپنے امیدواروں کی فہرست کا اعلان بھی کرے گا۔ مہاراشٹر کانگریس کے سربراہ نانا پٹولے نے پیر کے روز کہا کہ ایم وی اے تمام 288 نشستوں پر الیکشن لڑے گی اور مہاراشٹر میں حکومت بنائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہم بی جے پی کے ان تمام خوفناک ہتھکنڈوں پر قابو پالیں گے جو وہ اپنی سیاست میں استعمال کرتی ہے اور مہاراشٹر میں مہا وکاس اگھاڑی کی حکومت بنائیں گے۔ سیٹوں کی تقسیم کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ایم وی اے تمام 288 سیٹوں پر الیکشن لڑے گی۔ ایم وی اے میں کانگریس، شیوسینا (یو بی ٹی) اور این سی پی (شرد پوار) شامل ہیں۔