Articles by "Raj Thackeray"
Showing posts with label Raj Thackeray. Show all posts

 

उद्धव ठाकरे और राज ठाकरे ने संयुक्त पत्रकार परिषद,"आज मुंबई में अभिनंदन मोर्चा निकाला जाएगा

मुंबई: नीट पेपर लीक मामले को लेकर शिक्षा व्यवस्था में सुधार तथा केंद्रीय शिक्षा मंत्री धर्मेंद्र प्रधान के इस्तीफे की मांग को लेकर देशभर में छात्रों द्वारा आंदोलन, मोर्चे और प्रदर्शन किए जा रहे थे। इसी पृष्ठभूमि में मुंबई में उद्धव ठाकरे और राज ठाकरे की ओर से तिरंगा मार्च आयोजित किया गया था। हालांकि अब धर्मेंद्र प्रधान ने केंद्रीय शिक्षा मंत्री पद से इस्तीफा दे दिया है। ऐसे में यह सवाल उठ रहा था कि रविवार (26 जुलाई) को मुंबई में ठाकरे बंधुओं का प्रस्तावित मोर्चा होगा या नहीं। अब इस संबंध में विस्तृत जानकारी सामने आई है।

मनसे प्रमुख राज ठाकरे और शिवसेना (उद्धव ठाकरे गुट) के प्रमुख उद्धव ठाकरे ने छात्रों के अधिकार, न्याय और उनके उज्ज्वल भविष्य की मांग को लेकर रविवार, 26 जुलाई को मुंबई में एक भव्य तिरंगा मार्च आयोजित करने की घोषणा की थी। लेकिन पिछले एक महीने से जारी छात्र आंदोलन के बढ़ते दबाव के बीच धर्मेंद्र प्रधान ने केंद्रीय शिक्षा मंत्री पद से इस्तीफा दे दिया।

इसके बाद उद्धव ठाकरे और राज ठाकरे ने संयुक्त पत्रकार परिषद को संबोधित किया। इस दौरान राज ठाकरे ने कहा, "आज मुंबई में अभिनंदन मोर्चा निकाला जाएगा। शिवाजी पार्क मैदान में वीर सावरकर मार्ग पर मंच बनाया जाएगा और वहीं सभी लोग एकत्र होंगे। जेनजी (Gen Z) ने सरकार को झुकने पर मजबूर कर दिया है और उसे जमीन पर ला दिया है। युवाओं की इस बड़ी जीत में अभिजीत दीपके का बहुत बड़ा योगदान है। देशभर में इतना बड़ा आंदोलन खड़ा हुआ है, इसलिए इस जीत का जश्न मनाया जाना चाहिए।"

इस घोषणा के साथ स्पष्ट किया गया कि रविवार को मुंबई के शिवाजी पार्क में अभिनंदन मोर्चा आयोजित किया जाएगा।

کانگریس کے اعتراض کے باوجود سنجے راوت کا بڑا دعویٰ, دو سے تین دن میں اعلان ممکن

ممبئی: مہاراشٹر کی سیاست میں ایک بڑی پیش رفت کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ شیو سینا (ادھو ٹھاکرے گروپ) کے سینئر لیڈر سنجے راوت نے دعویٰ کیا ہے کہ راج ٹھاکرے کی مہاراشٹر نونرمان سینا (MNS) اور مہا وکاس اگھاڑی (MVA) کے درمیان اتحاد پر بات چیت آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور اگلے دو سے تین دن میں اس کا باضابطہ اعلان کیا جا سکتا ہے۔

اتوار کے روز بلدیاتی انتخابات میں ووٹوں کی گنتی کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سنجے راوت نے کہا کہ MNS کے ساتھ اتحاد سے متعلق حالیہ میٹنگ حتمی ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق یہ اتحاد خاص طور پر ممبئی میونسپل کارپوریشن (BMC) سمیت آئندہ ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے لیے نہایت اہم مانا جا رہا ہے۔

سنجے راوت نے تاہم یہ بھی واضح کیا کہ مہا وکاس اگھاڑی کی اہم اتحادی جماعت کانگریس کو MNS کے ساتھ اتحاد پر اعتراض ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کو اس بات پر قائل کرنے کی کوششیں جاری ہیں کہ بی جے پی کو شکست دینے کے لیے تمام سیکولر اور اپوزیشن طاقتوں کا ایک ساتھ آنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری رائے میں اتوار کو ہوئی بات چیت آخری میٹنگ تھی۔ دو سے تین دن میں آفیشل اعلان ہو جائے گا۔”

سنجے راوت کے مطابق کانگریس نے راج ٹھاکرے کی MNS کو اتحاد میں شامل کرنے پر کھل کر اعتراض ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ کانگریس کو اعتراض ہے لیکن انہیں منانے کی کوششیں مسلسل کی جا رہی ہیں۔ راوت نے یہ بھی واضح کیا کہ ممبئی میں اتحاد نہ ہونے کے باوجود کانگریس اور شیو سینا (یو بی ٹی) کے تعلقات میں کوئی تلخی نہیں ہے۔

ادھر آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے جنرل سیکریٹری اور مہاراشٹر کے انچارج رمیش چنّیتھلا نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ پارٹی کارکنان کی خواہش ہے کہ بی ایم سی انتخابات کانگریس اکیلے لڑے۔ ان کے مطابق کانگریس ممبئی کے عوامی مسائل جیسے آلودگی، صحت خدمات اور بدعنوانی کو انتخابی ایجنڈا بنائے گی اور شہر کے سیکولر ڈھانچے کے تحفظ کے لیے تنہا میدان میں اترنے کیلئے تیار ہے۔

قابلِ ذکر ہے کہ آج اتوار کو سامنے آئے مختلف نگر پالیکاؤں کے انتخابی نتائج میں مہا وکاس اگھاڑی کو بڑا نقصان اٹھانا پڑا ہے، جبکہ مہایوتی نے واضح کامیابی حاصل کی ہے۔ وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے ان نتائج پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی آج بھی مہاراشٹر کی نمبر ون پارٹی ہے۔

فڈنویس نے بی ایم سی سمیت آئندہ بلدیاتی انتخابات پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ یہ نتائج بلدیاتی انتخابات کے "ٹریلر" ہیں اور اصل تصویر آگے سامنے آئے گی۔

سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر راج ٹھاکرے واقعی مہا وکاس اگھاڑی میں شامل ہوتے ہیں تو ممبئی اور مہاراشٹر کی شہری سیاست میں بڑا الٹ پھیر ممکن ہے، تاہم کانگریس کے موقف کی وجہ سے یہ اتحاد کس شکل میں سامنے آئے گا، اس پر سب کی نظریں ٹکی ہوئی ہیں۔

"اگر دونوں بھائی ساتھ آتے ہیں تو ہمیں خوشی ہوگی، لوگ اپنے اختلافات کو ختم کرتے ہیں تو یہ اچھی بات ہے":دیویندر فڑنویس کا ردعمل

آئندہ برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن انتخابات کے پیش نظر ادھو ٹھاکرے اور راج ٹھاکرے نے ممکنہ اتحاد کا اشارہ دے کر مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل پیدا کردی ہے.

یہ بھی پڑھیں:....... برہمن سماج کے خلاف توہین آمیز تبصرے پر انوراگ کشیپ نے معافی مانگی.html

شیوسینا یو بی ٹی سربراہ ادھو ٹھاکرے اور مہاراشٹر نونرمان سینا سربراہ راج ٹھاکرے کے حالیہ کچھ بیانات اتحاد کا واضح اشارہ دیا ہے. شیوسینا یو بی ٹی لیڈر سنجے راؤت نے کہا کہ دونوں بھائی اتحاد کا فیصلہ کریں گے. ممبئی میں میڈیا نمائندوں سے بات چیت کے دوران سنجے راؤت نے کہا کہ راج ٹھاکرے اور ادھو ٹھاکرے بھائی ہیں، ہم ایک عرصہ سے ساتھ ہیں، ہمارا رشتہ  ٹوٹا نہیں ہے. دونوں بھائی متحد ہونے کا فیصلہ کریں گے. ادھو ٹھاکرے جو بھی فیصلہ لیں گے ہم اسے قبول کریں گے. اگر مہاراشٹر کیلئے ایم این ایس اور شیوسینا کو ساتھ آنے کی ضرورت ہے تو ہم ایسا کریں گے. ادھو جی نے کبھی بھی شرائط کے تعلق سے بات نہیں کی ہے.

ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ کچھ سیاسی پارٹیاں ہیں جو مہاراشٹر کا خیرخواہ ہونے کا دعوٰی کرتی ہیں لیکن درحقیقت وہ مہاراشٹر کی دشمن ہیں. انہوں نے مہاراشٹر کے وقار پر حملہ کرنے کیلئے بالا صاحب ٹھاکرے کی شیوسینا کو توڑ دیا. ہمیں ایسی پارٹیوں سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہیے اور تب ہی ہم سچے مہاراشٹرین بن سکتے ہیں.

قابل ذکر ہے کہ ایم این ایس سربراہ راج ٹھاکرے نے حال ہی میں ماضی کے اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ادھو ٹھاکرے کے ساتھ دوبارہ ملنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ حیرت انگیز طور پر ادھو ٹھاکرے نے بھی راج ٹھاکرے کے بیان پر مثبت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ مراٹھی زبان اور مہاراشٹر کی خاطر تنازعات کو ایک طرف رکھنے کے لئے تیار ہیں۔

ٹھاکرے بھائیوں کے ایک ساتھ آنے کے امکان نے مہاراشٹر میں تمام پارٹی کے رہنماؤں کے رد عمل کو جنم دیا ہے۔ اس پیش رفت پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے دونوں چچا زاد بھائیوں کے درمیان دوبارہ اتحاد کے امکان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ "اگر دونوں بھائی ساتھ آتے ہیں تو ہمیں اس سے خوشی ہوگی، اگر لوگ اپنے اختلافات کو ختم کرتے ہیں تو یہ اچھی بات ہے، میں اس کے بارے میں اور کیا کہہ سکتا ہوں؟؟؟۔"

راج ٹھاکرے اور دادا بھسے نے فیصلے کا خیر مقدم کیا، ممبئ کے پانچ داخلی راستوں پر آج رات سے ٹول وصولی بند

ممبئی: مہاراشٹر کابینہ نے آج رات 12 بجے سے ممبئی میں داخل ہونے والی چھوٹی موٹر گاڑیوں کے لئے تمام پانچ انٹری پوائنٹس سے ٹول معاف کرنے کے اپنے فیصلے سے ممبئی والوں کو حیران کردیا۔ مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) کے سربراہ راج ٹھاکرے نے کابینہ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ دیرینہ مطالبہ بالآخر پورا ہوگیا ہے۔ راج ٹھاکرے 2013 سے ممبئی کو ٹول فری بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :... بابا صدیقی فائرنگ میں ہلاک

انہوں نے کہا کہ طویل لڑائی کے بعد، ممبئی والوں کو بالآخر اب راحت ملے گی۔ مجھے امید ہے کہ یہ فیصلہ مستقل ہوگا اور نئی حکومت انتخابات کے بعد ٹول وصولی دوبارہ شروع نہیں کرے گی۔ راج ٹھاکرے کئی سالوں سے ممبئی میں ٹول وصولی کا مسئلہ اٹھارہے ہیں۔ کئی واقعات پر ایم این ایس کارکنوں نے بھی ٹول پلازوں پر ہنگامہ برپا کیا۔

ایم این ایس لیڈر اویناش جادھو نے کہا کہ یہ پورے مہاراشٹر میں ہمارے ایم این ایس کارکنان کی جیت ہے، جنہوں نے ٹول وصولی کو روکنے کے لئے جدوجہد کی ہے، ان میں سے کئی کے خلاف مقدمات درج ہیں اور کچھ جیل بھی جا چکے ہیں۔ انہوں نے لوگوں کے لئے لڑائی لڑی اور میں انہیں مبارکباد دیتا ہوں۔

مہاراشٹر اسمبلی انتخابات سے قبل ٹول معافی مہایوتی حکومت کا ایک اور بڑا فیصلہ ہے جس نے رائے دہندگان کو متاثر کیا ہے۔ ٹول معافی ممبئی والوں کا دیرینہ مطالبہ رہا ہے۔ ممبئی کے داخلی راستوں پر جن پانچ ٹول ناکوں پر آج رات سے کوئی ٹول وصول نہیں کیا جائے گا، ان میں ملنڈ ایسٹرن ایکسپریس وے، ملنڈ ایل بی ایس روڈ، دہیسر، ایرولی اور واشی شامل ہیں۔

اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیر دادا بھسے نے کہا کہ 'یہ ممبئی والوں کے لیے ایک بڑی راحت ہے۔ 45 روپے اور 75 روپے کا ٹول اکٹھا کیا گیا تھا۔ ٹول وصولی کی آخری تاریخ 2026 تک تھی اور اس میں توسیع کا امکان تھا۔ اس فیصلے سے 2 لاکھ 80 ہزار گاڑیوں کو فائدہ ہوا ہے۔ حکومت نے اس شیڈول کو بناتے وقت ٹول معافی سے آنے والے مالی بوجھ پر بھی غور کیا ہے۔

یہ تباہی کی ایک شکل ہے،کیا ایسے ملک چلتا ہے؟؟؟ ملک ایسے فیصلوں کو برداشت نہیں کرے گا

ریزرو بینک آف انڈیا کے ذریعے 2000 ہزار روپے کے نوٹ واپس لینے کے فیصلے کی کانگریس اور عام آدمی پارٹی کے بعد اب مہاراشٹر نونرمان سینا نے بھی مذمت کی ہے. ایم این ایس سربراہ راج ٹھاکرے نے 2 ہزار کے نوٹ بند کئے جانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نوٹ بندی جیسے فیصلے ملک کیلئے قابل برداشت نہیں ہیں. واضح رہے کہ آر بی آئی نے اعلان کیا ہے کہ 2000 روپے کے نوٹ کا استعمال 30 ستمبر تک کیا جاسکے گا.

یہ بھی پڑھیں:.... دو ہزار روپے کے نوٹ بند

آر بی آئی نے جمعہ کو دیر گئے 2000 روپے کے نوٹوں کو بند کرنے کا اعلان کیا. جب راج ٹھاکرے سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ تباہی کی ایک شکل ہے، یہ بات میں نے نوٹ بندی کے وقت بھی کہی تھی. اگر ایسے فیصلے ماہرین سے پوچھ کر کئے جاتے تو یہ صورتحال پیدا نہیں ہوتی.

راج ٹھاکرے نے واضح طور پر کہا کہ ملک ایسے فیصلوں کو برداشت نہیں کر سکتا. اب لوگ اپنے پیسے واپس بینک میں ڈالیں گے اور نئے نوٹ لیں گے، کیا ایسے ملک چلتا ہے؟؟؟

کرناٹک انتخابات کے نتائج نے یہ ثابت کردیا ہے کہ ہمدردی، نام اور اس طرح کے دیگر عوامل ہر وقت کارگر نہیں ہوتے: سندیپ دیشپانڈے

کرناٹک اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی کامیابی اور مہاراشٹر میں اراکین اسمبلی کو نااہل قرار دینے سے متعلق پٹیشن پر سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد شیوسینا یو بی ٹی لیڈران اور کارکنان آئندہ اسمبلی انتخابات کو لے کر کافی پر امید ضرور ہوں گے. لیکن شیوسینا کی کٹّر سیاسی حریف مہاراشٹر نونرمان سینا کا ماننا ہے کہ آئندہ مہاراشٹر اسمبلی انتخابات میں ادھو ٹھاکرے کو ہمدردی کے ووٹ حاصل نہیں ہوں گے.

یہ بھی پڑھیں:...آئیے تاریخی شہر طائف کی سیر کیجیے

ایم این ایس لیڈر سندیپ دیشپانڈے نے کہا کہ کرناٹک انتخابات کے نتائج نے یہ ثابت کردیا ہے کہ ہمدردی، نام اور اس طرح کے دیگر عوامل ہر وقت کارگر نہیں ہوتے. انہوں نے کہا کہ شاید ادھو ٹھاکرے کو لوگوں کی ہمدردی حاصل ہوجائے، لیکن انہیں ووٹ نہیں ملیں گے اور اس کا  ایک واضح سبب یہ ہے کہ ادھو ٹھاکرے کے دور اقتدار میں ترقیاتی کام نہیں ہوئے. ان کے دور اقتدار میں عوام نے بدعنوانی اور رشوت خوری دیکھی ہے.

انڈیا ٹوڈے سے بات کرتے ہوئے ایم این ایس لیڈر سندیپ دیشپانڈے نے کرناٹک میں بی جے پی کی شکست سے متعلق راج ٹھاکرے کے حالیہ بیان کی وضاحت پیش کی جس میں ٹھاکرے نے بی جے پی کی شکست کو تکبر کی شکست کہا تھا. دیشپانڈے نے کہا کہ اب یہ بھگوا پارٹی پر منحصر کرتا ہے کہ وہ دیکھیں کہ انہیں کیا کرنا ہے کیونکہ تکبّر کے راستے پر کامیابی نہیں ملتی.

دیشپانڈے نے مزید کہا کہ ایم این ایس کسی بھی طریقے سے بی جے پی کو نشانہ نہیں بنارہی ہے اور نا ہی بی جے پی اور ایم این ایس کے درمیان کوئی رنجش ہے. راج ٹھاکرے ہمیشہ حق بات کہتے ہیں اور اکثر ان کے بیان سے انہیں غلط سمجھا جاتا ہے. لیکن حقیقت بیان کرنے میں برائی کیا ہے.

جو خود کو ناقابل تسخیر سمجھنے لگتے ہیں انہیں نقصان اٹھانا پڑتا ہے، لوگوں کو اس ہار سے سبق لینا چاہیے

مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) سربراہ راج ٹھاکرے نے کرناٹک اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی شکست پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی کی شکست کو "تکبر" کی شکست قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں:..مہاراشٹر بورڈ دسویں اور بارہویں کے نتائج کب؟n_0517836316.html

میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عوام کو کبھی معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔ انہوں نے اپنی سابقہ ​​تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن پارٹی کبھی نہیں جیتتی بلکہ حکمران پارٹی ہارتی ہے۔ راج ٹھاکرے نے مزید کہا کہ بی جے پی کواپنے تکبر کی وجہ سے کرناٹک میں نقصان اٹھانا پڑا. یہ ان لوگوں کی شکست ہے جو یہ سمجھتے تھے کہ وہ ناقابل تسخیر ہیں۔ اس شکست سے سب کو سبق لینا چاہیے۔ مہاراشٹر میں بھی کرناٹک کی طرح سیاسی تبدیلی سے متعلق سوال پر راج ٹھاکرے نے کہا کہ میں کوئی پیشن گو نہیں ہوں جو مستقبل کے بارے میں پیشن گوئی کرسکے.

کرونا عفریت کے دوران 2021ء میں راج ٹھاکرے نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ میں ماسک نہیں پہنتا
مہاراشٹر نونرمان سینا سربراہ راج ٹھاکرے کی کرونا رپورٹ مثبت آئی ہے۔ ان میں کرونا کی معمولی علامات ظاہر ہوئی ہیں۔ واضح رہے کہ راج ٹھاکرے کی ماں بھی کرونا سے متاثر ہیں۔ فی الحال راج ٹھاکرے نے اپنے آپ کو ہوم کورنٹائن کرلیا ہے۔ انہوں نے ٹوئیٹر کے ذریعے گذشتہ ایک ہفتے کے دوران ان کے رابطے میں آنے والے افراد سے کرونا ٹیسٹ کروانے کی اپیل کی ہے۔
راج ٹھاکرے گذشتہ کئی روز سے ناسک اور پونے سمیت کئی دیگر شہروں کے دورے پر تھے۔ اس دوران پارٹی کے عہدیداران کے ساتھ میٹنگ بھی ہوئی۔واضح رہے کہ کرونا عفریت کے دور میں بھی راج ٹھاکرے کبھی ماسک لگائے نظر نہیں آئے۔ وہ اپنی رہائش کرشنا کنج پر بھی کوگوں سے بنا ماسک پہنے ملاقات کرتے ہیں۔بی ایم سی افسران کے مطابق راج ٹھاکرے اور ان کی ماں کو کرونا کے دونوں ڈوز لگ چکے ہیں۔اطلاعات کے مطابق راج ٹھاکرے اور ان کی ماں کو لیلاوتی اسپتال لے جایا گیا ہے جہاں انہیں مونو کلونل اینٹی باڈی کاکٹیل دیا جائے گا۔اینٹی باڈی دیئے جانے کےبعد تین گھنٹے میں دونوں کو گھر روانہ کردیا جائے گا۔کرونا سے متاثر ہونے کی تصدیق کے بعد راج ٹھاکرے نے تمام تقریبات ملتوی کردی ہیں۔
کرونا کی دوسری لہر کی ابتداء سے قبل فروری 2021 میں ایک پریس کانفرنس کے دوران جب میڈیا نمائندوں سے راج ٹھاکرے سے ماسک نا پہننے پر سوال کیا تو انہوں نے کہا تھا کہ میں ماسک نہیں پہنتا۔اگر ریاست میں کرونا تیزی سے بڑھ رہا ہے اور لوگوں کی جان کو خطرہ ہے تو کارپوریشن انتخابات کو ملتوی کیا جانا چاہیے۔ اس سے قبل 2020 میں ماسک نا پہننے پر راج ٹھاکرے پر ایک ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔