Articles by "HEALTH"
Showing posts with label HEALTH. Show all posts

ڈرگس اینڈ کاسمیٹکس ایکٹ کے تحت فیصلہ، اینٹی بائیوٹک اور اسکن کیئر کی ادویات پر بھی پابندی 

نئی دہلی : صحت عامہ کے پیش نظر مرکزی حکومت نے ایک بڑا فیصلہ لیا ہے اور ملک بھر میں 16 فکسڈ ڈوز کمبی نیشن (FDC) ادویات کی پیداوار، فروخت، تقسیم اور مارکیٹنگ پر پابندی لگا دی ہے۔

فکسڈ ڈوز کمبی نیشن FDC منشیات کا کیا مطلب ہے؟

 (فکسڈ ڈوز کمبی نیشن FDC) کا مطلب ہے دو یا دو سے زیادہ فعال دواؤں کے اجزاء کو مقررہ مقدار میں ملا کر تیار کی جانے والی ادویات۔ ایسی ادویات کی حفاظت اور افادیت کا جائزہ لینے کے لیے سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق تحقیقات کرانی ہوں گی۔

ماہر کمیٹی کی رپورٹ

ڈرگس ٹیکنیکل ایڈوائزری بورڈ (DTAB) اس کے لیے ایک ماہر کمیٹی مقرر کرے گا۔ کمیٹی نے مختلف دواؤں کے امتزاج کے ساتھ تجربہ کیا اور پایا کہ کچھ دوائیں غیر سائنسی، علاج کے لحاظ سے غیر موزوں اور ممکنہ طور پر نقصان دہ ہیں۔

مرکزی وزارت صحت کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق انسانی استعمال کے لیے شناخت کی گئی 16 ایف ڈی سی ادویات کی پیداوار، فروخت، تقسیم اور سپلائی کو فوری طور پر روک دیا گیا ہے۔

ان ادویات پر پابندی؟

ممنوعہ ادویات میں ایسیٹیلسیلیک ایسڈ اور ایتھوہپٹازائن، ڈائسائیکلومین، پیراسیٹامول اور کلیڈینیم برومائیڈ، ڈائی سائکلومین، پیراسیٹامول، کلیڈینیم برومائیڈ اور کلورڈیا زیپوکسائیڈ، گلیکلازائیڈ اور کرومیم پکولینیٹ کے علاوہ پیراسیٹامول اور lignocaine پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، اسی طرح کچھ اینٹی بائیوٹک کے امتزاج پر پابندی لگائی جا رہی ہے۔ ان میں amoxicillin اور serratiopeptidase، amoxicillin، serratiopeptidase اور Lactobacillus sporogenes، amoxicillin، cloxacillin، lactic acid bacillus اور serratiopeptidase، cefadroxil اور probenecid، اور cefuroxime اور serratiopeptation acombines شامل ہیں۔

اسکن کیئر مصنوعات کے خلاف کریک ڈاؤن

جلد کی دیکھ بھال کے لیے استعمال ہونے والی کچھ مصنوعات پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ ایلو ویرا یا ایلو ایکسٹریکٹ پر مشتمل مصنوعات یا وٹامن ای، جوجوبا آئل، اورنج آئل، گندم کے بیج کا تیل، ٹی ٹری آئل، ایلانٹوئن اور ڈی پینتھینول جیسے اجزاء کے مرکب پر پابندی ہے۔

مریض کی حفاظت اولین ترجیح

ڈرگس اینڈ کاسمیٹکس ایکٹ 1940 کے سیکشن 26 اے کے تحت کارروائی کی گئی ہے۔ وزارت صحت نے واضح کیا کہ اس فیصلے کا بنیادی مقصد ادویات کے موثر استعمال کو بڑھانا اور مریضوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔

اس سے قبل سائنسی تحقیقات کے بعد ایف ڈی سی کی کئی غیر سائنسی ادویات پر پابندی لگائی گئی ہوگی، یہ اطلاع وزارت نے دی تھی۔

ریاستوں کو احکامات پر عمل درآمد کرنے کی ہدایات 

تمام ریاستوں میں ڈرگ کنٹرولرز، ریگولیٹری باڈیز اور انفورسمنٹ ایجنسیوں کو احکامات پر سختی سے عمل آوری کے لیے ہدایات دی گئی ہیں۔ نیز پروڈیوسرز، امپورٹرز، ڈسٹری بیوٹرز اور متعلقہ فریقوں سے کہا گیا ہے کہ وہ قانون کی تعمیل کے لیے ضروری اقدامات کریں۔

۲۸۶؍لوگوں نے چیک اپ کرایا، ۱۷۵؍کو چشمہ فری دیاگیا،جبکہ۳۰؍مریضوں کے ہارٹ کا آپریشن ہوگا

ممبئی:۔(پریس ریلیز) مجاہدآزای بانیٔ روزنامہ ہندستان مرحوم غلام آرزو کی یاد میں پترکار وکاس فاونڈیشن کے زیر اہتمام بالا جی اسپتال،اردو جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے اشتراک سے حلقہ احباب، جھولا میدان، مدنپورہ ممبئی میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقادکیا گیا جس میں بائی پاس، انجوپلاسٹی، انجیوگرافی، ہارٹ وال ریپلسمنٹ، ای سی جی، بلڈشوگر، بلڈپریشرچیک اپ، گھٹنوں کی تبدیلی سمیت تمام بیماریوں کا فری چیک نیز فری آپریشن کرنے کا اہتمام کیا گیا تھا۔اس کیمپ میں کم و بیش ۲۸۶؍لوگوں نے اپنی بیماریوں کا چیک اپ کرایا۔۱۷۵؍ لوگوں کو چیک اپ کے بعد آنکھوں کا چشمہ مفت میں تقسیم کیا گیا۔جبکہ ماہر ڈاکٹروں نے۳۰؍مریضوں کو دل کا عارضہ ہونے کی وجہ سے انہیں آپریشن کرانے کے لئے بالاجی اسپتال میں مختلف تاریخوں میں بلا کر مفت آپریشن کرنے کی ہدایت دیں۔

ممبئی میں اپنی نوعیت کےمنفرد اس کیمپ میں سماجی خدمتگار وی۔آر۔شریف، رکن اسمبلی یامنی جادھو،سابق ایم ایل اےفیاض احمدخان( صدر ایم آئی ایم)،عمر لکڑا والا،اوپیندر پنڈت، فیروز خان، فاروق انصاری،قاضی مہتاب، ڈاکٹرعلاوالدین،نبی اخترقریشی، عبدالسمیع بوبیرے،  فرید خان (ارد و کارواں)،قیصر رضا،فریدانصاری،شمیم انصاری، سعدیہ مرچنٹ، شاہدہ دربار،مشیرانصاری، نعیم شیخ،نظام الدین راعین،ساجد بخاری،عبدالقیوم نعیمی، منہاج شیخ، حنا انصاری، نظیف آرزو،مولاناطفیل ندوی کےعلاوہ تعلیمی، مذہبی، ثقافتی اور سیاسی شخصیات کافی تعدادمیں شامل ہوئیں۔اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے رکن اسمبلی یامنی جادھو نے کہا کہ اس طرح کا کیمپ ہر علاقے میں منعقد ہونا چاہئے کیونکہ اس سے غریب عوام کے ساتھ ساتھ مڈل کلاس کے لوگوں کو بھی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔سماجی خدمتگاروی۔آر۔شریف  نے کہا کہ ممبئی میں اپنی نوعیت کےمنفرد پروگرام کے انعقادپر پترکاروکاس فاونڈیشن کو مبارکباد دیتا ہوں۔ اس کیمپ میں بڑی بڑی بیماریوں کا چیک اپ اور ان کے آپریشن فری میں کرنے کا آپ لوگوں نے جو بیڑہ اٹھایا ہے میری نیک تمنائیں آپ کے ساتھ میں ہیں۔

 عمر لکڑا والا نے کہا کہ صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لئے کوشاں تنظیم پترکار وکاس فاونڈیشن نے اس طرح کے کیمپ کو منعقد کرکے یہ پیغام دیا ہے کہ ارادے نیک ہوں تو انسان دوسرےانسانوں کے لئے بہت کچھ کر سکتاہے۔سابق ایم ایل اےفیاض خان نے میڈیا کے سامنےکہا کہ میں یہ پہلا کیمپ دیکھ رہا ہوں جس کے اندر تمام سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ سماجی، ملی،ثقافتی اور تعلیمی شخصیات شامل ہوئیں ہیں۔ اور یہ پہلا کیمپ ہے جس میں ایسی ایس بیماریوں کا فری چیک اپ اور آپریشن کرایا جا رہا ہے جس کے متعلق لوگ کرنے کی بات تو دور سوچتے بھی نہیں ہیں۔  میں پترکاروکاس فاونڈیشن کے ذمہ داران کے ساتھ ساتھ اردو جرنلسٹ ایسوسی ایشن، بالا جی اسپتال عملہ اور حلقہ احباب کو مبارکبادپیش کرتا ہوں۔   بالاجی اسپتال کے عملے کے ساتھ ساتھ خاص طورپر عطا بھائی، شکیل بھائی اور مہدی حسن بھائی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے سرفراز آرزونے پروگرام کے انعقاد کا مقصدبتاتےہوئے کہا کہ غریب لوگوں کے ساتھ ساتھ مڈل کلاس کےلوگ تھوڑا تھوڑا کرکے جو جمع پونجی کرتے ہیں بیماریاں آکر ایک جھٹکے میں انہیں پریشان کر دیتی ہیں عوام الناس کی جمع پونجی بچی رہے اس کے لئے اس کیمپ کاانعقاد کیا گیا تاکہ لوگ اس کیمپ سے فائدہ اٹھائیں اور متذکرہ تمام بیماریوں کی مفت جانچ کے ساتھ ساتھ مفت آپریشن کا بھی فائدہ حاصل کریں نیزاس طرح کے کیمپ اگر ضرورت پڑی تو ممبئی کے تمام علاقوں میں منعقد کیےجائیں گے۔

 پترکار وکاس فاونڈیشن کے صدر یوسف رانا نے بتایا کہ مرحوم غلام احمدخان آرزواپنی حیات میں عوام الناس کے مسائل کو حل کیاکرتے تھے خاص طور پر لوگوں کی طبی امداد دل کھول کر کیا کرتےتھے اسی لیے آج کے اس کیمپ کو ان کے نام سے منسوب کیا گیا ہے تاکہ ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئےلوگوں کی خدمات بہتراحسن طریقے سے کر سکیں۔اس کیمپ میں۲۸۶؍لوگوں نے اپنی مختلف بیماریوں کاچیک اپ کرایااس کے علاوہ۱۷۵؍کوان کی آنکھوں کا چیک اپ کرنے کے بعد انہیں فری میں چشمہ دیا گیا. جبکہ۳۰؍مریضوں کے ہارٹ کا آپریشن ہوگا۔

آئی وی ایف (ان وٹرو فرٹیلائزیشن) کے ماہر ڈاکٹر پنکج گپتا کے مطابق یہ راجستھان کا واحد معاملہ

راجستھان کے الور میں پیر کو 70 سال سے زیادہ عمر کے ایک بزرگ جوڑے کے پہلے بچے کی پیدائش ہوئی۔ خاتون کی عمر 70 سال اور مرد کی عمر 75 سال ہے۔ شادی کے تقریباً 54 سال بعد اب دونوں کا پہلا بچہ ہے۔ ڈاکٹر کا دعویٰ ہے کہ راجستھان میں یہ واحد کیس ہے کہ اتنی عمر کی خاتون نے بیٹے کو جنم دیا ہے۔ تاہم 

IVF 

ٹیکنالوجی کے ذریعے ملک اور دنیا میں بہت سے بزرگ جوڑے 70-80 سال کی عمر میں بھی والدین بن چکے ہیں۔ جھنجھنو کے گاؤں نوہنیا کے سابق فوجی گوپی چند کو بنگلہ دیش کی جنگ میں پیر میں گولی لگی تھی۔ دونوں کی اولاد نہیں تھی، گوپی چند کا کہنا ہے کہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ پہلے بچے کی خوشی کا اظہار کیسے کریں۔

گوپی چند کہتے ہیں کہ اب وہ بھی دنیا میں سب کے برابر ہو گئے ہیں۔  اب خاندان بھی آگے بڑھ سکے گا۔  چندراوتی کی آنکھوں سے بار بار خوشی کے آنسو نکلتے ہیں۔ آئی وی ایف (ان وٹرو فرٹیلائزیشن) کے ماہر ڈاکٹر پنکج گپتا کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں اس عمر میں بچوں کے پیدا ہونے کے چند ہی معاملے ہیں۔  راجستھان کا شاید یہ پہلا کیس ہے۔  جب 75 سال کے مرد اور 70 سال کی عورت کو اولاد ہوئی ہے۔ بچے کا وزن تقریباً ساڑھے تین کلو ہے۔

ان وٹرو فرٹیلائزیشن (IVF) 

کو پہلے ٹیسٹ ٹیوب بے بی کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اس علاج میں عورت کے انڈے اور مرد کے سپرمز کو ملایا جاتا ہے۔ جب ایمبریو(جنین) بنتا ہے تو اسے عورت کے رحم میں رکھا جاتا ہے۔ یہ طریقہ کار کافی پیچیدہ اور مہنگا ہے لیکن یہ ان لوگوں کے لیے ایک تحفہ ہے جو کئی سالوں سے حاملہ ہونے کی کوشش اور چاہت کر رہے ہیں۔ یہ عمل کئی مراحل میں مکمل ہوتا ہے، جس میں بیضہ دانی کی تحریک(اوویرین اسٹیمولیشن)، عورت کے بیضہ دانی سے انڈے کا اخراج، مرد سے نطفہ لینا، فرٹیلائزیشن اور عورت کے رحم میں جنین کو رکھنا شامل ہیں۔ IVF کے ایک چکر میں دو سے تین ہفتے لگ سکتے ہیں۔ چندراوتی کے ساتھ یہ طریقہ کار تقریباً 9 ماہ پہلے کیا گیا تھا۔ حمل کی مدت پوری کرنے کے بعد چندراوتی کے ہاں 2 کلو 750 گرام کا بچہ پیدا ہوا۔ واضح رہے کہ پہلا ٹیسٹ ٹیوب بے بی 25 جولائی 1978 کو انگلینڈ میں پیدا ہوا۔

اب حکومت نے ٹیسٹ ٹیوب بے بی کے حوالے سے اے آر ٹی (اسسٹیڈ ری پروڈکٹیو ٹیکنیک) کا قانون بنایا ہے۔ یہ قانون جون 2022 سے نافذ العمل ہے۔ اس قانون کے تحت 50 سال سے زیادہ عمر کی خواتین ٹیسٹ ٹیوب ٹیکنالوجی کے ذریعے ماں نہیں بن سکیں گی۔ یعنی ٹیسٹ ٹیوب بے کے لیے خاتون کی عمر 50 سال سے کم ہونی چاہیے لیکن مذکورہ معاملہ قانون بننے سے قبل کا ہے۔

اگر شادی شدہ خواتین کو اسقاط حمل کی اجازت ہے تو غیر شادی شدہ خواتین کو اس سے محروم نہیں کیا جا سکتا، عدالت قانون میں ترمیم پر غور کرے گی، بنچ کا فیصلہ

سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ غیر شادی شدہ خواتین کو اسقاط حمل کے حق سے انکار کرنا ان کی شخصی آزادی کی خلاف ورزی ہے۔  عدالت غیر شادی شدہ خواتین کو بھی اسقاط حمل کی اجازت دینے کے لیے اس قانون کو تبدیل کرنے پر غور کرے گی۔ عدالت میڈیکل ٹرمینیشن آف پریگننسی ایکٹ اور متعلقہ قواعد کی تشریح کرے گی اور یہ فیصلہ کرے گا کہ کیا غیر شادی شدہ خواتین کو 24 ہفتوں میں اسقاط حمل کی اجازت دی جا سکتی ہے۔  جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور جے بی پاردی والا کی بنچ نے جمعہ کو ایک کیس کی سماعت کے دوران یہ بات کہی۔ بنچ نے مرکز کی طرف سے پیش ہونے والے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایشوریہ بھاٹی سے کہا کہ وہ اس عمل میں عدالت کی مدد کریں۔ اسقاط حمل کے لیے ڈاکٹروں کے مشورے کی ضرورت کے معاملے کی سماعت کے دوران جسٹس چندر چوڑ نے پوچھا کہ غیر شادی شدہ خواتین کو 24 ہفتوں میں حمل ختم کرنے کے قانون میں کیوں شامل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسقاط حمل کے لیے ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں :.... جگدیپ دھنکھر نائب صدر جمہوریہ منتخب

بنچ نے کہا کہ قانون صرف شادی کے بعد خواتین کے حاملہ ہونے سے متعلق نہیں ہے، یہ قانون غیر شادی شدہ خواتین سے بھی متعلق ہے۔ اگر شادی شدہ خواتین کو اسقاط حمل کی اجازت ہے تو غیر شادی شدہ خواتین کو اس سے خارج نہیں کیا جا سکتا۔  ہر عورت کی زندگی قانون کی نظر میں اہمیت رکھتی ہے۔ یہ معاملہ دہلی ہائی کورٹ میں تھا، جہاں 15 جولائی کو عدالت نے اسقاط حمل پر روک لگا دی تھی۔ عدالت نے کہا تھا کہ غیر شادی شدہ عورت جو رضامندی سے حاملہ ہو گئی ہے وہ میڈیکل ٹرمینیشن آف پریگننسی (ایم ٹی پی) رولز 2003 کے تحت اسقاط حمل نہیں کروا سکتی۔ سماعت کے دوران دہلی ہائی کورٹ کی بنچ نے اپنے زبانی ریمارکس میں کہا تھا کہ اس مرحلے پر اسقاط حمل بچے کے قتل کے مترادف ہوگا۔ ساتھ ہی دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی صدارت والی بنچ نے گود لینے کے لیے بچے کو جنم دینے کا مشورہ دیا تھا۔  چیف جسٹس ستیش چندر شرما نے کہا تھا کہ آپ بچے کو کیوں مار رہے ہیں؟ بچے کو گود لینے والوں کی ایک لمبی لائن ہے۔

اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ نے سماعت کی اور کہا کہ ہائی کورٹ نے ایم ٹی پی کی دفعات پر روک لگانے میں غلط طریقہ اختیار کیا ہے۔  شادی شدہ اور غیر شادی شدہ عورت کے درمیان فرق کا قانون میں استثنیٰ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا کہ 2021 میں ترمیم کے بعد میڈیکل ٹرمینیشن آف پریگننسی ایکٹ کے سیکشن 3 کی وضاحت میں شوہر کے بجائے پارٹنر کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔  حکم نامہ جاری کرتے ہوئے عدالت نے یہ بھی کہا کہ ہمارا مقصد ازدواجی تعلقات سے پیدا ہونے والے حالات کو محدود کرنا نہیں ہے بلکہ ایسے حالات میں کسی بھی غیر شادی شدہ خاتون کو قانونی تحفظ فراہم کرنا ہے تاکہ اسے اسقاط حمل سے روکنا صحیح نہیں ہے. دہلی ہائی کورٹ سے اس کے حق میں فیصلہ نہ آنے کے بعد درخواست گزار نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا، جہاں اس نے عدالت کو بتایا کہ وہ پانچ بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہے۔  اس کے والدین کسان ہیں۔ خاندان کے پاس روزی روٹی کے ذرائع بھی نہیں ہیں۔ ایسی حالت میں وہ بچے کی پرورش کرنے سے قاصر رہے گی۔

والدین اپنے بچوں کو وقت پر سبھی ٹیکے لگا کر اپنی ذمہ داری ادا کریں، مدافعتی ٹیکہ کاری میں کمی پر تشویش کا اظہار

مالیگاؤں : 9 جولائی/ محکمہ یونیسف وچرکھا کی جانب سے آج بروز سنیچر دوپہر 12 بجے سے 2 بجے تک منعقد میڈیا ورکشاپ میں مشن اندردھنش و پولیو مہم سے متعلق تفصیلات و آنے والی دشواریوں سے ذمہ داران نے آگاہ کیا. اس موقع پر یونیسف کی سجاتا شرکے میڈم، الکا میڈم، مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کی ہیلتھ آفیسر سپنا ٹھاکرے و ڈاکٹر الکا بھاوسار نے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے بیماریوں سے متعلق تمام امور پر تفصیلات پیش کیں۔
مشن اندردھنش حکومت ہند کا ایک صحت مشن ہے۔ یہ اسکیم ہندوستان کے 90% مکمل حفاظتی ٹیکوں کے کوریج کی طرف بڑھنے اور اسے سال 2022 تک برقرار رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت اور یونیسیف نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں جان بچانے والی ویکسین حاصل کرنے والے بچوں کی تعداد میں خطرناک کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ COVID-19 کی وبا کی وجہ سے ویکسینیشن کی خدمات کی فراہمی اور ترقی میں رکاوٹ کی وجہ سے ہے۔ ڈبلیو ایچ او اور یونیسیف کا کہنا ہے کہ یہ رکاوٹ زیادہ بچوں اور نوعمروں تک ویکسین کی وسیع رینج تک پہنچنے کی مشکل پیش رفت کو پلٹ دے گی۔ یونیسیف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہینریٹا فور نے کہا  کہ کووڈ 19 نے پہلے کی معمول کے حفاظتی ٹیکوں کو ایک مشکل چیلنج بنا دیا ہے۔ اسے فوری طور پر دوبارہ شروع کر دینا چاہیے۔ ہم ایک صحت کے بحران کی وجہ سے دوسرے کے بحران کو نظر انداز نہیں کر سکتے. لیکن مشکل پیش رفت کو ختم کیا جا سکتا ہے اگر ہم پیغام پھیلانے میں ناکام نہ ہوں۔ ہم صحافیوں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ زندگی بچانے کے ان ضروری پروگراموں کو جاری رکھنے کے لیے اپنی آواز بلند کریں۔ 2022 کے پہلے چار مہینوں کا تازہ ترین ابتدائی ڈیٹا ڈپتھیریا ، ٹیٹنس   اور کالی کھانسی DTP3 کے خلاف ویکسین کی تین خوراکیں مکمل کرنے والے بچوں کی تعداد میں زبردست کمی کی طرف اشارہ کرتا ہے,  28 سالوں میں یہ پہلا موقع تھا جب دنیا میں DTP3 کوریج میں کمی دیکھی گئی اور تمام ممالک میں ویکسینیشن کوریج کے نشانات میں کمی دیکھنے میں آئی ۔ ویکسین صحت عامہ کی تاریخ میں سب سے زیادہ طاقتور ٹولز میں سے ایک ہے ، اور اب پہلے سے کہیں زیادہ بچوں کو ٹیکے لگائے جا رہے ہیں۔ لیکن اس وباء نے ان فوائد کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔  باقاعدہ ویکسینیشن سے محروم بچوں کی وجہ سے ہونے والا درد اور موت خود COVID-19 سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ لیکن ایسا ہونا ضروری نہیں ہے۔  وبا کے دوران بھی ویکسین محفوظ طریقے سے پہنچائی جاسکتی ہیں۔ اس موقع پر بھیونڈی سے آئے اسد قاسمی نے کہا کہ دنیا بھر میں ایسے کوئی والدین نہیں ہیں جو اپنے بچوں کو خوبصورت اور صحت مند دیکھنا نہیں چاہتے، بچے کی زندگی کا سب سے اہم دن اسکی نشو نما کا ہوتا ہے. اس وقت ہمیں بچے کی دیکھ بھال کرنا بہت ضروری ہوتا ہے، اگر کچھ بچوں میں قوت مدافعت کمزور ہوتی ہے تو وہ بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں، ساڑھے چار ہزار سال پرانی بیماری پولیو پر آج ہندوستان نے کامیابی حاصل کی ہے. اس موقع پریونیسیف چرکا کی جانب سے سجاتا شرکے اور الکا میڈیم، ڈاکٹر سپنا ٹھاکرے ہیلتھ آفیسر، ڈاکٹر الکا بھاوسار آر سی ایچ آفیسر، امجد خان سر ٹی بی ڈیپارٹمنٹ مولانا اسد قاسمی و دیگر افراد موجود تھے ۔


وائرس کے پھیلاؤکو روکنا آسان نہیں،حکومتی اداروں کے ردعمل سے عوام میں خوف ،امریکی ڈاکٹر کا دعویٰ

تیزی سے پھیلنے والا اومیکرون وائرس موسمی سردی کے وائرس سے زیادہ کچھ نہیں ہے اور اس وائرس سے لوگوں کو متاثر ہونے سے روکنے کے لیے ہم زیادہ کچھ نہیں کر سکتے ہیں۔ یہ دعویٰ امریکہ میں مقیم ایک ڈاکٹر نے کیا ہے۔ افشائن عمرانی(ایم ڈی) جو امریکہ سے امریکن کالج آف کارڈیالوجی (ایف اے سی سی ) میں فیلوشپ رکھتے ہیں انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کو ویکسین لگائی جاتی ہے ان کے مرنے یا دواخانے میں داخل ہونے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لیکن اس وائرس کو 80 فیصد سے زیادہ آبادی کو متاثر ہونے سے روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔یوپی: اسکولی بچوں سے ہندوراشٹر کا عہد لیاگیا

انہوں نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ماسک، ویکسین کارڈ کے مینڈیٹ سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ویکسین شدہ افراد اب بھی متاثر ہوتے ہیں اور وائرس دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔ یہ بھی بتایا کہ جلد ہی امریکہ میں ہفتوں تک ایک دن میں 20 لاکھ مثبت معاملے ہوں گے، جس کے بعد تعداد میں ڈرامائی کمی آئے گی۔ عمرانی نے کہا میری رائے میں سب سے بڑا خطرہ حکومتی ایجنسیوں کی جانب سے زیادہ ردعمل اور حد سے زیادہ رسائی میں ہے، جس سے خوف و ہراس پیدا ہوتا ہے، غلط معلومات فراہم کی جاتی ہیں، جس سے بندشیں ہوتی ہیں جو ہم میں سے سب سے زیادہ کمزور لوگوں کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ دریں اثنا سنگاپور میں ماہرین کی ایک ٹیم نے خبردار کیا ہے کہ امکان ہے کہ اومیکرون جلد ہی عالمی سطح پر ڈیلٹا اسٹرین کی جگہ لے لے گا، کیونکہ یکے بعد دیگرے ممالک نے کوویڈ معاملوں میں ریکارڈ اضافے کی اطلاع دی ہے۔ یہ انتباہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او)نے خبردار کیا ہے کہ زیادہ سے زیادہ منتقلی کے قابل نئے وائرس کے ساتھ اس وقت گردش کرنے والے ڈیلٹا کی مختلف حالتیں مریضوں کی سونامی کا باعث بن سکتی ہیں، جس سے قومی صحت کے نظام پر بہت زیادہ دباؤ پڑے گا۔ ہندوستان میں، اومیکرون انفیکشن کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے حالانکہ اکثر مریضوں کودواخانوں سے رخصت کر دیا گیا ہے۔ برطانیہ کی یونیورسٹی آف کیمبرج کے تیار کردہ ایک کورونا ٹریکر نے قیاس ظاہر کیا ہے کہ ہندوستان جلد ہی ایک شدید لیکن قلیل المدتی وائرس کی لہر دیکھ سکتا ہے، یہاں تک کہ اومیکرون ملک میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل رہا ہے۔

ریاست میں کرونا کے بڑھتے معاملات تشویشناک، بھیڑ پر قابو پانے کیلئے پابندیاں عائد کرنے پر غور، وزیراعلی جلد ہی کووڈ ٹاسک فورس کے ساتھ میٹنگ کریں گے

مہاراشٹر کے وزیر صحت راجیش ٹوپے نے آج کہا کہ ریاستی حکومت 15 سے 18 سال کے بچوں کیلئے اسکولوں میں ویکسینیشن کا نظم کرنے کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔واٹس ایپ: گروپ سے پریشان صارفین کیلئے زبردست فیچر جلد ہی متعارف ہوگا

راجیش ٹوپے نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کو بتایا کہ ہمیں کووڈ-19 ویکسینیشن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ہم 15 سے 18 سال کے بچوں کو اسکولوں میں ویکسن کے انتظامات کرنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ ٹوپے نے کہا کہ اب تک مہاراشٹر میں اومیکرون کے 167 معاملات ہیں، جن میں سے 19 مریضوں کو رخصت دے دی گئی ہے۔ ان میں کسی بھی مریض کی حالت تشویشناک نہیں ہے۔ ہمیں عوامی نقل و حمل، شادی کی تقریبات وغیرہ میں بھیڑ کو کنٹرول کرنے کے لئے پابندیوں کو نافذ کرنے کے بارے میں سوچنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ریاست بھر میں تیزی سے بڑھتے معاملات دیکھ ہر تشویش ہورہی ہے۔ ممبئی میں مثبت شرح 4% ہے اگر یہ شرح 5% ہوجاتی ہے تو ہمیں پابندیاں عائد کرنے سے متعلق سوچنا ہوگا۔ وزیر اعلی جلد ہی کووڈ ٹاسک فورس کے ساتھ میٹنگ کریں گے۔

ملک بھر میں اومیکرون متاثرین کی تعداد بڑھ کر 396 ہوئی، مہاراشٹر میں آج رات سے پابندیاں سخت

آج مہاراشٹر میں اومیکرون کے 20 نئے معاملات سامنے آئے اسی کے ساتھ مہاراشٹر 100 اومیکرون مریضوں والی پہلی ریاست بن گئی ہے۔ مہاراشٹر میں اومیکرون مریضوں کی مجموعی تعداد 108 ہوگئی ہے۔ اس کے علاوہ مغربی بنگال میں آئرلینڈ سے لوٹا 27 سالہ نوجوان اور گجرات میں 13 افراد اومیکرون سے متاثر پائے گئے ہیں۔ملک میں کرونا کے نئے ویرئینٹ سے متاثرین کی تعداد بڑھ کر 396 ہوگئی ہے۔ مہاراشٹر وزارتِ صحت کے مطابق جمعہ کے روز اومیکرون سے متاثر پائے گئے مریضوں میں 11 مریض ممبئی کے ہیں جبکہ 6 مریض پونے کے ہیں۔اس کے علاوہ 2 مریض ستارا ضلع کے اور ایک مریض احمد نگر کا ہے۔ 

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔صحافت کا انسائیکلوپیڈیا صحیفئہ صحافت اردو کتاب میلہ میں دستیابeficial-Book-For-All.html

اومیکرون کے بڑھتے ہوئے معاملات کو مدنظر رکھتے ہوئے مہاراشٹر حکومت نے دبئی سے ممبئی لوٹنے والے تمام مسافروں کو سات دنوں کیلئے ہوم کورنٹائن کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کے علاوہ آج رات سے ریاست بھر میں کرونا گائیڈ لائن کا نفاذ بھی عمل میں آئے گا، ایک مقام پر پانچ لوگوں کے جمع ہونے پر بھی پابندی ہوگی۔


جلد ہی اسپتال میں داخل کئے جانے کا امکان، شیوسینا یا مہاراشٹر حکومت کی جانب سے اب تک آفیشیل بیان سامنے نہیں آیا
مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کافی دنوں سے سروائیکل اور اسپائنل کورڈ کی تکلیف میں مبتلا ہے۔ اس تکلیف میں اب اضافہ ہو گیا ہے جس کی وجہ سے امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جلد ہی انھیں اسپتال میں داخل کیا جا سکتا ہے۔ شیوسینا یا مہاراشٹر حکومت کی جانب سے اس سلسلے میں کوئی آفیشیل بیان سامنے نہیں آیا ہے، لیکن ہندی نیوز پورٹل ’اے بی پی‘ نے ذرائع کے حوالے سے اس بات کی تصدیق کی ہے۔ غور طلب ہے کہ دیوالی کے وقت بھی وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے زیادہ لوگوں سے ملاقات کا پروگرام ملتوی کر دیا تھا۔
ویسے ادھو ٹھاکرے وزیر اعلیٰ سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھا رہے ہیں۔ انھوں نے ہفتہ کے روز مہاراشٹر کے احمد نگر میں ایک سرکاری اسپتال کے آئی سی یو وارڈ میں آگ لگنے سے 11 کووڈ مریضوں کی موت کے بعد جانچ کا حکم صادر کیا تھا۔ انھوں نے واقعہ پر اظہارِ غم کرتے ہوئے انتظامیہ کو واقعہ کے ذمہ دار اشخاص کے خلاف سخت کارروائی یقینی بنائے جانے کی ہدایت دی تھی۔

نرس اور وارڈ بوائز کے ذریعے مریضوں سے رقم کا مطالبہ کئے جانے کے معاملے میں انتظامیہ سے باز پرس
مالیگاؤں: رکن اسمبلی مفتی محمد اسمعیل نے آج شام 4 بجے مالیگاؤں جنرل اسپتال کا دورہ کیا۔ جہاں انہوں نے اسپتال کے انچارج ڈاکٹر مہالے اور اسپتال انتظامیہ کے ساتھ ایک جائزاتی میٹنگ کی۔ اس میٹنگ میں رکن اسمبلی مفتی محمد اسمعیل نے اسپتال کو دیئے گئے دیڑھ کروڑ ایم ایل اے فنڈ کی تفصیلات طلب کی اس کے علاوہ گذشتہ ماہ میں اسپتال انتظامیہ کی کارکردگی جائزہ لیا۔ جائزہ رپورٹ دیکھنے کے بعد انہوں نے اسپتال انتظامیہ کو بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی صلاح دی اور اپنے فرائض بخوبی انجام دینے، اور مریضوں کسے بہتر سلوک کرنے مشورہ دیا۔ 
اس کے علاوہ رکن اسمبلی نے کہا کہ ایسی باتیں بھی سامنے آرہی ہیں کہ جنرل اسپتال میں ڈیلیوری کیلئے آنے والی خواتین کے اہل خانہ سے یہاں کا اسٹاف اور نرسیز رقم کا مطالبہ کرتی ہیں۔ رقم دیئے جانے کی صورت میں ہی ان کا علاج بہتر ہوتا ہے اور سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ رکن اسمبلی مفتی محمد اسمعیل نے کہا کہ اگر ایسا کچھ ہورہا ہے تو یہ سب بند ہونا چاہیے انتظامیہ کو اس معاملے میں خاطیوں پر کارروائی کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اب وہ ہر ماہ جنرل اسپتال کا دورہ کریں گے اور اسی طرح انتظامات کا جائزہ لیں گے۔ اس کے علاوہ اسپتال انتظامیہ کو درپیش مسائل کے حل اور اسپتال میں ضروری سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کریں گے۔
اس میٹنگ میں جنرل اسپتال کے انچارج ڈاکٹر مہالے کی جانب سے انتظامیہ کے ایک نمائندے نے ایم ایل اے کی جانب سے فراہم کردہ گنڈ کی تفصیلات پیش کیں۔انہوں نے بتایا کہ اب تک یمیں 10 ہزار ڈسپوز ایبل پلاسٹک گلوز، انجکشن ایک ہزار، پی پی ای کٹ 2500، ٹیبلیٹ پیرا سیٹامال پہلے 50 ہزار، اور دوبارہ 50 ہزار، ہائیڈروسی کلوگزی 5 ہزار، نیبو لائزر مشین12، وینٹیلیٹر بڑوں کیلئے ایک اور دیگر لوازمات موصول ہوچکے ہیں جبکہ 40 سے 50 لاکھ کے مزید لوازمات آنا باقی ہے۔
اسپتال انتظامیہ نے رکن اسمبلی کو مکمل تفصیلات پیش کرتے ہوئے ان کا استقبال کیا اور آئندہ بہتر طریقے سے خدمات انجام دینے کا یقین دلایا۔

دنیا کرونا کی تیسری لہر کی سمت تیزی سے بڑھ رہی ہے، ہندوستان کیلئے آئندہ 125 دن نہایت اہم، تیسری لہر ایک بڑا چیلنج ثابت ہوسکتی ہے

کرونا کے نئے معاملات میں تیزی کے ساتھ کمی ہونے کے باعث لوگوں میں لاپرواہی بڑھتی جارہی ہے۔اس درمیان جمعہ کے روز مرکزی حکومت نے کہا کہ ہندوستان اب تک کووڈ-19 کے خلاف ہرڈ امیونٹی حاصل نہیں کرسکا ہے اس لئے وائرل انفیکشن اور کرونا کی تیسری لہر کے امکانات سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔اس وباء پر قابو پانے کیلئے آئندہ 125 روز بہت اہم ہیں۔نیتی آیوگ کے رکن ڈاکٹر وی کے پال نے کہا کہ ہمیں اب وائرس کو پھیلنے سے روکنے کی ضرورت ہے، اور یہ کووڈ کے خلاف احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کرکے ہی ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم اب تک کرونا کے خلاف ہرڈ امیونٹی تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔ہم اس وائرس کے پھیلاؤ کی نئی شکل کے طور پر اس کی تباہ کاریاں دیکھ سکتے ہیں لیکن اب اس کے پھیلاؤ کو روکنا ہوگا اور یہ تب ہی ممکن ہے جب ہم محفوظ زون میں رہنے کیلئے کرونا کے خلاف گائیڈ لائن پر سختی سے عمل پیرا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ کرونا کے خلاف لڑائی میں آئندہ 125 دن نہایت اہم ہوں گے۔تیسری لہر سے متعلق ڈاکٹر وی کے پال نے کہا کہ اکثر علاقوں میں صورتحال بد سے بدتر ہوگئی ہے۔کل ملاکر دنیا تیسری لہر کی طرف بڑھ رہی ہے۔ڈبلیو ایچ او نے کرونا کی تیسری لہر سے متعلق انتباہ دیا ہے کہ اسے غیر سنجیدگی سے نہیں لیا جاسکتا، تیسری لہر ایک بڑا چیلنج ہوگی۔کرونا معاملات میں کمی کے بعد کئی طرح کی راحت دی گئی ہے، عام زندگی کو دوبارہ معمول پر لانے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن ان لاک کے دوران بڑی تعداد میں لوگ کرونا اصولوں اور قوانین کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔ماسک کے استعمال میں کمی آئی ہے۔مرکزی محکمہ صحت کے سکریٹری لو اگروال نے کہا کہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ زندگی معمول پر آنے اور بہت سے سرگرمیاں جاری ہونے کے بعد لوگوں نے ماسک کا استعمال ترک کردیا ہے۔ہمیں اپنی روزمرہ زندگی میں ماسک کے استعمال کو لازمی طور پر شامل کرلینا چاہیے۔لو اگروال نے کہا کہ کرونا کے معاملات میں دوبارہ اضافہ ہورہا ہے۔ میانمار، انڈونیشیا، ملیشیا اور بنگلہ دیش میں کرونا کی تیسری لہر کا انتباہ جاری کردیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاورلوم صنعت سے متعلق مفتی اسمعیل کی نمائندگی پر سوال، رکن اسمبلی کی وضاحت

وزارت صحت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نے آج 6 ریاستوں (کیرالہ، کرناٹک، مہاراشٹر، آندھراپردیش، تمل ناڈو اور اڈیشہ) کے وزرائے اعلی سے بات کی۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ ابھی بھی کچھ ریاستوں میں مزید نئے معاملات درج کئے جارہے ہیں۔ وزیر اعظم نے کوویڈ کی حکمت عملی پر زور دیا ہے۔پی ایم مودی نے ان ریاستوں کو بتایا ہے کہ پی ایم کیئرز نے پی ایس اے پلانٹس کو منظوری دے دی ہے۔ اس کام کی نگرانی کے لئے نوڈل آفیسر مقرر کئے جائیں گے اور انہیں اگلے 15 دن میں مقرر کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ بچے بھی تیسری لہر میں متاثر ہوسکتے ہیں، ان کی حفاظت کے لئے مناسب منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر وی کے پال نے کہا کہ ویکسین کی خوراک سے اموات کی شرح میں 82 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔جبکہ دوسری لہر کے دوران ویکسین کی دو خوراک سے کرونا کی وجہ سے ہونے والی 95فیصد اموات کو روکنے میں کامیاب ملی ہے۔

 

سابق رکن اسمبلی کا جنرل اسپتال دورہ، شکایتی مکتوب کے ساتھ اہم مدعوں پر انتظامیہ سے گفت وشنید، جنرل اسپتال انتظامیہ زچگی کی مریضاؤں کو دھولیہ ریفر کرنے پر بضد کیوں ہے: آصف شیخ

مالیگاؤں: مالیگاؤں شہر اور مسائل کا چولی دامن کا ساتھ رہا ہے۔یہاں وقفہ وقفہ سے نئے نئے مسائل جنم لیتے رہتے ہیں۔تعلیم سے کر روزگار، بنیادی سہولیات، طبی سہولیات تک مسائل کا انبار لگا ہوا ہے۔آج سابق رک  اسمبلی آصف شیخ نے مالیگاؤں جنرل اسپتال کا ہنگامی دورہ کرتے ہوئے جنرل اسپتال کے ذمی داران سے ملاقات کی اور ایک شکایتی مکتوب دیا۔اس مکتوب کی کاپیاں وزیرصحت راجیش ٹوپے، مہاراشٹر حکومت، ناسک سول سرجن کو بھی روانہ کی گئی۔اس تعلق سے شیخ آصف نے بتایا کہ جنرل اسپتال میں ڈیلیوری کیلئے لائی جانے والی خواتین کو دھولیہ سول اسپتال منتقل کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے وہ ذہنی و جسمانی تکالیف میں مبتلاء ہوتی ہیں۔شیخ آصف نے متنبہ کیا کہ فوری طور پر ان مسائل کو حل کیا جائے بصورت دیگر جنرل اسپتال میں احتجاج کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ مالیگاؤں پورلوم مزدوروں اور محنت کشوں کا شہر ہے۔یہاں غریب عوام کی ایک بڑی تعداد بستی ہے۔کافی دنوں سے انہیں یہ شکایت موصول ہقرہی تھی کہ ڈیلیوری کے آنے والی غریب خواتین کو سیزر کیلئے دھولیہ منتقل کیا جارہا ہے جب انہیں فوری طبی امداد کی سخت ضرورت ہوتی ہے۔آصف شیخ نے کہا کہ سول اسپتال انتظامیہ زچگی کیلئے لائی جانے والی خواتین کو دھولیہ ریفر کرنے پر بضد کیوں ہیں۔یہ انتہائی افسوس ناک معاملہ ہے۔حکومت نے مالیگاؤں کے شہریان کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کے مقصد سے سول اسپتال جاری کیا ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ مریضوں کو دھولیہ ریفر کیا جارہا ہے۔انہوں نے اسپتال انتظامیہ سے سوال کیا کہ اس کے پس پشت کیا وجوہات ہیں۔اسپتال میں اب تک سیزر کیلئے جدید ترین آپریشن تھیٹر بھی موجود نہیں ہے۔مہاراشٹر حکومت کا محکمہ صحت مالیگاؤں جنرل اسپتال پر توجہ کیوں نہیں دے رہا ہے؟

لوگوں کو متوجہ کرنے اور ویکسن لگوانے پر راضی کرنے کیلئے انوکھی اسکیم، 50 خاندانوان کو سال بھر مفت گوشت فراہم کرنے کا اعلان

واشنگٹن: کرونا ویکسینیشن کا کام پوری دنیا میں زور و شور سے جاری ہے۔لوگوں کو ویکسن لگوانے پر راضی کرنے کیلئے مختلف حربے استعمال کئے جارہے ہیں۔ ایک امریکی کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ ویکسین لگوانے والے افراد کو پورا سال مفت گوشت فراہم کیا جائے گا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دنیا بھر میں کورونا وباء سے محفوظ رہنے کے لیے کورونا ویکسین لگوانے پر زور دیا جا رہا ہے جس کے لیے مختلف ممالک میں لوگوں کو متوجہ کرنے کے لیے ویکسین لگوانے والوں کے لیے اسکیموں کا اعلان بھی کیا جا رہا ہے۔اسی طرح اب امریکہ میں ایک گوشت فراہم کرنے والے مشہور کمپنی جے بی ایس ایس اے نے اعلان کیا ہے کہ ویکسین لگوانے والے 50 خاندانوں کو ایک سال تک مفت گوشت فراہم کیا جائے گا۔واضح ہے کہ یہ وہی کمپنی ہے جس کے اکثر ملازمین کورونا کی وجہ سے بیمار ہوئے تھے جس کی وجہ سے اس کمپنی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ جس کے بعد اس کمپنی کی ذیلی شاخ پلگرمز پرائیڈ کو بھی بند کرنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔ جس کی وجہ سے گوشت کی فراہمی متاثر ہوئی اور گوشت مہنگا بھی ہوا تھا۔

تاہم اب کمپنی نے اعلان کیا کہ اس کے 66 ہزار کارکنوں کی 70 فیصد تعداد کو ویکسین لگادی گئی ہے لیکن ساتھ ہی غریب، دیہی اور پسماندہ علاقوں کے افراد کو بھی ویکسین لگوانے کی ترغیب کے طور پر مفت گوشت فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔دوسری جانب امریکی صدر جو بائیڈن نے اعلان کیا تھا کہ اس سال چار جولائی یومِ آزادی تک امریکہ کی 70 فیصد بالغ آبادی کو کم ازکم ایک خوراک فراہم کردی جائے گی۔ تاہم ماہرین نے کہا ہے کہ یہ ہدف بظاہرناممکن نظر آرہا ہے۔

 

 پچیس سالہ خاتون نے ایک ساتھ 9 بچوں کو جنم دیا، تمام بچے صحت مند، 5 لڑکیاں اور 4 لڑکے شامل، مالی حکومت نے موریکو میں بہتر علاج کیلئے خصوصی انتظامات کئے تھے

گذشتہ ماہ مغربی افریقہ کے علاقے مالی میں ایک خاتون کی ڈیلیوری(زچگی) پوری دنیا میں بحث کا موضوع بن گئی تھی۔در اصل حلیمہ نامی ایک 25 سالہ خاتون نے ایک ساتھ 9 بچوں کو جنم دیا تھا۔ڈیلیوری میں کچھ دقت ہونے کے سبب حکومت نے خاتون کا علاج موریکو میں کرانے کیلئے خصوصی انتظامات کئے تھے۔پیدائش کے بعد بچوں کی حالت کافی تشویشناک تھی۔حالانکہ تازہ اطلاعات کے مطابق تمام بچوں کی صحت میں کاگی سدھار آیا ہے۔بچے اب بھی اسپتال میں زیر علاج ہیں۔موریکو کے اسپتال نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ 4 مئی کو مالی کی خاتون نے جن 9 بچوں کو جنم دیا تھا ان کی صحت اب بہتر ہورہی ہے۔لیکن انہیں مزید دو ماہ نگہداشت میں رکھنے کی ضرورت ہے۔این بورجا کلینک کے ترجمان حافسی نے کہا کہ تمام نو بچے اب بنا کسی میڈیکل آلہ کے سانس لے رہے ہیں۔اب انہیں سانس لینے میں کوئی دقت نہیں ہورہی ہے۔حافسی نے مزید کہا کہ ٹیوب کے ذریعے بچوں کو دودھ دیا جارہا ہے۔ان کا وزن بڑھ کر 800 گرام سے 1.4 کلو گرام کے درمیان ہوگیا ہے۔ان بچوں میں پانچ لڑکیاں اور چار لڑکے ہیں۔بچوں کی ماں ان کے پاس ہی رہ رہی ہے۔بچوں کے مکمل طور پر نارمل ہونے میں ابھی مزید دو ماہ کا وقت لگنے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔واضح رہے کہ 10 ڈاکٹروں اور 25 نرسوں کی ایک ٹیم نے آپریشن کے ذریعے یہ ڈیلیوری انجام دی تھی۔مالی حکو۔ت نے 30 مارچ کو بہتر علاج کیلئے حلیمہ کو موریکو بھیجا تھا۔ابتداء میں الٹراساؤنڈ رپورٹ میں خاتون کے پیٹ میں سات بچے ہونے کی بات سامنے آئی تھی لیکن ڈیلیوری کے وقت ڈاکٹروں کو علم ہوا کہ سات نہیں 9 بچے ہیں۔

 

وزیر صحت راجیش ٹوپے نے کہا 2 اپریل کو لاک ڈاؤن کا اعلان نہیں بلکہ نئی گائیڈ لائن جاری کی جائے گی، عوام رہنما ہدایات پر سختی سے عمل کریں

مہاراشٹر: ریاستی وزیر برائے صحت عامہ راجیش ٹوپے نے جمعرات کے روز کہا کہ مہاراشٹر میں 2 اپریل کو لاک ڈاؤن نافذ کرنے کے اعلان سے متعلق افواہوں کا بازار گرم ہے لیکن 2 اپریل کو مہاراشٹر میں لاک ڈاؤن کا اعلان نہیں کیا جائے گا۔راجیش ٹوپے نے کہا کہ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کی بجائے ریاست میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے سخت قوانین نافذ کئے جائیں گے۔واضح رہے کہ ریاست میں 43 ہزار سے زائد، اور ممبئی میں 8 ہزار سے زائد نئے معاملات سامنے آنے کے بعد راجیش ٹوپے کا مذکورہ بیان سامنے آیا۔ٹوپے نے کہا کہ فی الحال حکومت ریاست میں دوبارہ  لاک ڈاؤن نافذ کرنے کے حق میں نہیں ہے بلکہ وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے کیلئے سخت اقدامات کئے جائیں گے اور مزید پابندیاں عائد کی جائیں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ عوام کو کووڈ-19 رہنما ہدایات پر سختی سے عمل کرنا ہوگا، ماسک لازمی لگانا ہوگا، سوشل ڈسٹنسنگ کا خیال رکھنا ہوگا اور بھیڑ بھاڑ کرنے سے احتیاط کرنا ہوگا۔ٹوپے نے گذشتہ ہفتے وزیراعلی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ ایک ہنگامی میٹنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ادھو ٹھاکرے نے واضح طور پر کہا تھا کہ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کے علاوہ کوئی متبادل نہیں ہے۔ٹوپے نے مزید کہا کہ اس میٹنگ میں اس نقطہ پر بھی غور کیا گیا تھا کہ اگر ریاست میں لاک ڈاؤن نافذ کیا جاتا ہے تو کون کون سے شعبے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں۔ٹوپے نے آج کہا کہ 2 اپریل سے مہاراشٹر میں دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ نہیں کیا جائے گا لیکن حکومت نئی اور سخت گائیڈ لائن جاری کرے گی۔ٹوپے نے اس بات کی وضاحت کی کہ ممبئی میں ایک یا دو اسپتالوں کے علاوہ کسی اسپتال میں بیڈ کی قلت نہیں ہے۔حکومت ویکسینیشن ڈرائیو پر زیادہ توجہ دے رہی ہے خاص کر 45 سے زیادہ عمر والوں کو ویکسن دیئے جانے پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ٹوپے نے پارٹی لیڈران سے کہا کہ وہ نوجوانوں کو اعتماد میں لیں اور جنہیں ویکسن کی ضرورت ہے انہیں ویکسن مہیا کرانے کے انتظامات کریں۔

 


اویسی نے ٹوئیٹ کرکے فارما کمپنیوں کی بجائے عام (جینرک)مینوفیکچررز کو لائسنس جاری کرنے کا مشورہ دیا

ڈرگ کنٹرولر جنرل آف انڈیا(DCGI) نے اتوار کے روز کووڈ-19 کی دو ویکسن کے ایمرجنسی استعمال کی حتمی منظوری دے دی ہے۔مجلس اتحاد المسلمین سربراہ اور رکن پارلیمان اسدالدین اویسی نے وزیراعظم نریندر مودی کو ٹوئیٹ کرکے فارما کمپنیوں کی بجائے جینرک دوائیں والی والی کمپنیوں کو لائسنس جاری کرنے کی صلاح دی ہے۔اویسی نے ایسا کرنے کیلئے پیٹنٹ( حقِ ایجاد کی سند) ایکٹ کی دفعہ 92 کا استعمال کرنے کی صلاح دی ہے۔ایم آئی ایم سربراہ اویسی نے اپنے ٹوئیٹ میں کہا کہ دنیا کے امیر ترین ممالک جن کی آبادی دنیا کی کل آبادی کا صرف 14 فیصد ہے، انہوں نے 53فیصد ویکسن خرید لی ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ سپلائی ہندوستان کی ضرورت کو پورا نہیں کرسکتی۔اس لئے پیٹنٹ ایکٹ کی دفعہ 92 کا استعمال کرتے ہوئے جینرک کمپنیوں کو لازمی طور پر لائسنس جاری جائیں۔یہ دفعہ ملکی سطح پر مصیبت اور وباء کے وقت استعمال کیلئے ہی ہے۔واضح رہے کہ اویسی کا بیان اس وقت آیا ہے جب کوویکسن کے پیٹنٹ کو لے کر کئی طرح کے سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔اطلاعات کے مطابق ایسٹرا-زینکا جیسی دوا اور ویکسن ساز کمپنیوں نے وباء کے دوران ویکسن سے فائدہ نہ اٹھانے کا وعدہ کیا تھا۔جبکہ مارڈنا نے کہا ہے کہ وہ وباء کے دوران اپنے پیٹنٹ کو لاگو نہیں کرے گا۔واضح رہے کہ ہندوستان کرونا ویکسن کا سب سے بڑا خریدار ہے۔

 


کرونا ویکسن کو حرام قرار دینے کے بعد جماعت اسلامی نے وضاحت کی، ویکسن کی تیاری میں استعمال ہونے والے اجزاء کی تفصیلات جاننے کے بعد حتمی ہدایت دی جائے گی

کرونا ویکسن سے متعلق لوگوں میں شک و شبہ بڑھتا جارہا ہے۔حال ہی میں ہندوستان اور دیگر کئی ملکوں میں اسلامک تنظیموں اور علماء نے دعوی کیا تھا کہ کرونا ویکسن کی تیاری میں کچھ ایسے اجزاء کی آمزش کی گئی ہے جو اسلام میں حرام قرار دیئے گئے ہیں، اسلئے ویکسن لگوانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔حالانکہ اب ایک ہندوستان کی ایک مسلم تنظیم جماعت اسلامی ہند نے اس معاملہ میں کہا ہے کہ ہنگامی حالات میں اگر حلال اجزاء سے بنائی گئی ویکسن دستیاب نہ ہوتو کسی انسان کی جان بچانے کیلئے حرام اجزاء سے تیار کی گئی ویکسن لگوائی جاسکتی ہے۔جماعتِ اسلامی ہند کے سکریٹری رضی السلام نے کہا کہ کرونا ویکسن میں اگر کچھ ناقابل قبول اجزاء ان کی خصوصیات کے لحاظ سے مختلف شکل میں موجود ہیں تو اسے قبول کیا جاسکتا ہے اور وہ جائز ہوگا۔انہوں نے کہا کہ دیگر علماء نے بھی کہا ہے کہ جب تک حلال ویکسن دستیاب نہیں ہوجاتی اس وقت تک ہنگامی حالات میں ناقابل قبول اور مشکوک اجزاء سے تیار کی گئی ویکسن لگائی جاسکتی ہے۔حالانکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کرونا ویکسن کی تیاری میں استعمال ہونے والے اجزاء سے متعلق جو معلومات عوامی سطح پر ظاہر ہوئی ہے ابھی اس کی تصدیق نہیں کی جاسکتی۔ جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری رضی السلام نے مزید کہا کہ ویکسن کی تیاری میں استعمال ہونے والے اجزاء کی تفصیلات جاننے کے بعد کی ہدایات جاری کی جائیں گی۔واضح رہے کہ ہندوستان کے علاوہ UAE اور انڈونیشیا کی مخلتف اسلامی تنظیموں نے ویکسن کو حرام قرار دیا تھا جن میں آل انڈیا سنی جمیعتِ علماء کونسل اور ممبئی رضا اکیڈمی کے نام شامل ہیں۔ان تںطیموں نے اعلان کیا تھا کہ مسلمان سور کی چربی استعمال کرکے بنائی جانے والی ویکسن نہ لگوائیں۔

 



کرونا نیو اسٹرین کے جینیٹک کوڈ میں 23 تبدیلیاں ہوئی ہیں، وائرس نوجوانوں کیلئے بھی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے

دنیا بھر میں کرونا وائرس سے متاثرین کی تعداد میں اضافے کے درمیان برطانیہ، جنوبی افریقہ اور کچھ دیگر ممالک کرونا وائرس کی نئی شکل زور پکڑتی جارہی ہے۔ماہرین کے مطابق کرونا کی نئی شکل کئی گناہ زیادہ خطرناک ہے۔حال ہی میں ایک تحقیق میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ اگر کرونا کی شکل کا وائرس اسی رفتار سے بڑھتا رہا تو اس پر قابو پانا مشکل ہوجائے گا۔واضح رہے کہ کرونا وائرس کی اس نئی شکل B1.1.7  پہلی بار ستمبر کے وسط میں برطانیہ میں پائی گئی تھی۔برطانیہ میں اس وائرس کے پھیلاؤ کے مدنظر اس وائرس کو خطرناک قرار دیتے ہوئے برطانوی حکومت نے کچھ علاقوں میں لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا۔اس کے علاوہ کئی ممالک نے برطانیہ سے آنے والی پروازوں پر امتناع عائد کردیا تھا۔تحقیق کے مطابق

 کرونا کی نئی شکل کے وائرس کے جینیٹک کوڈ میں 23 تبدیلیاں ہوئی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلیاں وائرس کو مزید خطرناک بناتی ہیں۔اس سے نوجوانوں کو بھی شدید خطرہ ہے۔واضح رہے کہ کرونا وائرس سے نوجوان اب تک محفوظ رہے ہیں لیکن وائرس کی نئی شکل نوجوانوں کیلئے بھی نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔ایمپیریل کالج لندن، یونیورسٹی آف ایڈنبرگ اور یونیورسٹی آف برمنگھم کی مشترکہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کرونا وائرس کی نئی شکل پہلے سے زیادہ خطرناک اور نقصان دہ ہے۔