اساتذہ کو کرونا وارئیرس کی فہرست میں شامل کرنے، موت ہوجانے کی صورت میں مالی اعانت، تمام اسپتالوں میں بیڈ مختص کرنے اور طبی سہولیات دینے کا مطالبہ

راجدھانی دہلی میں کرونا کے نئے معاملات میں کمی آئی ہے لیکن اموات کا سلسلہ جاری ہے۔مختلف اسپتالوں میں لاشوں کے بہتر مینجمنٹ کیلئے دہلی حکومت نےایک حکم نامہ جاری کرتے ہوئے اسپتالوں کے مردہ گھروں میں اساتذہ کی ڈیوٹی لگا دی ہے۔دہلی نگر نگم شکشک سنگھ نے مردہ گھروں میں اساتذہ کی ڈیوٹی لگائے جانے کی مخالفت کی ہے۔دہلی نگر نگم شکشک سنگھ نے حکومت کے اس اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے وزیراعلی، نائب وزیراعلی، ہیلتھ منسٹر، ڈپیٹی گورنر اور پرائم منسٹر آفس کو ٹیگ بھی کیا ہے۔شکشک سنگھ نے ٹوئیٹ میں لکھا کہ اساتذہ کی ڈیوٹی مردہ گھروں میں لگا دی گئی ہے اور وہ بھی رات میں، جہاں اساتذہ کی حالت قابل رحم ہوگئی ہے۔کبھی بھی ڈر اور خوف کے سبب کسی کو دل کا دورہ پڑ سکتا ہے۔اساتذہ کو ایسے مقامات پر خدمات پر مامور نہیں کرنے دیا جانا چاہیے۔کھانے اور راشن کی تقسیم، ڈسپنسری،آئسولیشن سینٹر،ویکسینیشن سینٹر، آئی ٹی-پی سی آر ٹیسٹ کرنا،شمان گھاٹ، ماسک نہ لگانے پر جرمانہ وصول کرنا جیسی خدمات انجام دینے کے بعد بھی اساتذہ کو مردہ گھروں میں ڈیوٹی پر لگایا گیا ہے جس سے انہیں شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔نگر نگم شکشک سنگھ نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام اسپتالوں میں اساتذہ کیلئے کچھ بیڈ مختص کئے جائیں، انہیں کرونا یودھا تسلیم کرتے ہوئے موت ہوجانے کی صورت میں تمام سہولیات فراہم کی جائیں۔گذشتہ سال کرونا کے وقت موت ہونے پر دہلی حکومت نے کچھ اساتذہ کو مالی اعانت فراہم کی تھی لیکن اس مرتبہ ایسا کچھ بھی نہیں کیا گیا۔

نگر نگم شکشک سنگھ کے سینئر نائب صدر ویبھا سنگھ نے کہا کہ اساتذہ دیڑھ سال سے بطور کرونا وارئیرس کووڈ کیلئے مختلف خدمات انجام دے رہے ہیں۔حالانکہ کسی قسم کی کوئی سہولیت فراہم نہیں کی گئی۔اسکے علاوہ انہیں روٹیشن بھی نہیں دیا جارہا ہے۔ویبھا نے مزید کہا کہ دہلی حکومت، میونسپل کارپوریشن اور مرکزی حکومت سے درخواست ہے کہ اساتذہ کو بھی کرونا وارئیرس کی فہرست میں شامل کیا جائے۔جس طرح کرونا یودھاؤں کو وقفہ وقفہ سے روٹیشن دیا جاتا ہے، ایک ماہ کام کرنے کے بعد ایک ماہ چھٹی دی جاتی ہے اسی طرح اساتذہ کو بھی سہولت دی جائے۔ایک ڈیوٹی سے ہٹا کر فوری طور پر دوسری ڈیوٹی پر مامور نہ کیا جائے۔جب کہ اساتذہ کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا جارہا ہے۔

Axact

TRV

The Name you Know the News you Need

Post A Comment:

0 comments: