Articles by "Vaccination"
Showing posts with label Vaccination. Show all posts
والدین اپنے بچوں کو وقت پر سبھی ٹیکے لگا کر اپنی ذمہ داری ادا کریں، مدافعتی ٹیکہ کاری میں کمی پر تشویش کا اظہار

مالیگاؤں : 9 جولائی/ محکمہ یونیسف وچرکھا کی جانب سے آج بروز سنیچر دوپہر 12 بجے سے 2 بجے تک منعقد میڈیا ورکشاپ میں مشن اندردھنش و پولیو مہم سے متعلق تفصیلات و آنے والی دشواریوں سے ذمہ داران نے آگاہ کیا. اس موقع پر یونیسف کی سجاتا شرکے میڈم، الکا میڈم، مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کی ہیلتھ آفیسر سپنا ٹھاکرے و ڈاکٹر الکا بھاوسار نے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے بیماریوں سے متعلق تمام امور پر تفصیلات پیش کیں۔
مشن اندردھنش حکومت ہند کا ایک صحت مشن ہے۔ یہ اسکیم ہندوستان کے 90% مکمل حفاظتی ٹیکوں کے کوریج کی طرف بڑھنے اور اسے سال 2022 تک برقرار رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت اور یونیسیف نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں جان بچانے والی ویکسین حاصل کرنے والے بچوں کی تعداد میں خطرناک کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ COVID-19 کی وبا کی وجہ سے ویکسینیشن کی خدمات کی فراہمی اور ترقی میں رکاوٹ کی وجہ سے ہے۔ ڈبلیو ایچ او اور یونیسیف کا کہنا ہے کہ یہ رکاوٹ زیادہ بچوں اور نوعمروں تک ویکسین کی وسیع رینج تک پہنچنے کی مشکل پیش رفت کو پلٹ دے گی۔ یونیسیف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہینریٹا فور نے کہا  کہ کووڈ 19 نے پہلے کی معمول کے حفاظتی ٹیکوں کو ایک مشکل چیلنج بنا دیا ہے۔ اسے فوری طور پر دوبارہ شروع کر دینا چاہیے۔ ہم ایک صحت کے بحران کی وجہ سے دوسرے کے بحران کو نظر انداز نہیں کر سکتے. لیکن مشکل پیش رفت کو ختم کیا جا سکتا ہے اگر ہم پیغام پھیلانے میں ناکام نہ ہوں۔ ہم صحافیوں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ زندگی بچانے کے ان ضروری پروگراموں کو جاری رکھنے کے لیے اپنی آواز بلند کریں۔ 2022 کے پہلے چار مہینوں کا تازہ ترین ابتدائی ڈیٹا ڈپتھیریا ، ٹیٹنس   اور کالی کھانسی DTP3 کے خلاف ویکسین کی تین خوراکیں مکمل کرنے والے بچوں کی تعداد میں زبردست کمی کی طرف اشارہ کرتا ہے,  28 سالوں میں یہ پہلا موقع تھا جب دنیا میں DTP3 کوریج میں کمی دیکھی گئی اور تمام ممالک میں ویکسینیشن کوریج کے نشانات میں کمی دیکھنے میں آئی ۔ ویکسین صحت عامہ کی تاریخ میں سب سے زیادہ طاقتور ٹولز میں سے ایک ہے ، اور اب پہلے سے کہیں زیادہ بچوں کو ٹیکے لگائے جا رہے ہیں۔ لیکن اس وباء نے ان فوائد کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔  باقاعدہ ویکسینیشن سے محروم بچوں کی وجہ سے ہونے والا درد اور موت خود COVID-19 سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ لیکن ایسا ہونا ضروری نہیں ہے۔  وبا کے دوران بھی ویکسین محفوظ طریقے سے پہنچائی جاسکتی ہیں۔ اس موقع پر بھیونڈی سے آئے اسد قاسمی نے کہا کہ دنیا بھر میں ایسے کوئی والدین نہیں ہیں جو اپنے بچوں کو خوبصورت اور صحت مند دیکھنا نہیں چاہتے، بچے کی زندگی کا سب سے اہم دن اسکی نشو نما کا ہوتا ہے. اس وقت ہمیں بچے کی دیکھ بھال کرنا بہت ضروری ہوتا ہے، اگر کچھ بچوں میں قوت مدافعت کمزور ہوتی ہے تو وہ بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں، ساڑھے چار ہزار سال پرانی بیماری پولیو پر آج ہندوستان نے کامیابی حاصل کی ہے. اس موقع پریونیسیف چرکا کی جانب سے سجاتا شرکے اور الکا میڈیم، ڈاکٹر سپنا ٹھاکرے ہیلتھ آفیسر، ڈاکٹر الکا بھاوسار آر سی ایچ آفیسر، امجد خان سر ٹی بی ڈیپارٹمنٹ مولانا اسد قاسمی و دیگر افراد موجود تھے ۔


ریاست میں کرونا کے بڑھتے معاملات تشویشناک، بھیڑ پر قابو پانے کیلئے پابندیاں عائد کرنے پر غور، وزیراعلی جلد ہی کووڈ ٹاسک فورس کے ساتھ میٹنگ کریں گے

مہاراشٹر کے وزیر صحت راجیش ٹوپے نے آج کہا کہ ریاستی حکومت 15 سے 18 سال کے بچوں کیلئے اسکولوں میں ویکسینیشن کا نظم کرنے کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔واٹس ایپ: گروپ سے پریشان صارفین کیلئے زبردست فیچر جلد ہی متعارف ہوگا

راجیش ٹوپے نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کو بتایا کہ ہمیں کووڈ-19 ویکسینیشن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ہم 15 سے 18 سال کے بچوں کو اسکولوں میں ویکسن کے انتظامات کرنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ ٹوپے نے کہا کہ اب تک مہاراشٹر میں اومیکرون کے 167 معاملات ہیں، جن میں سے 19 مریضوں کو رخصت دے دی گئی ہے۔ ان میں کسی بھی مریض کی حالت تشویشناک نہیں ہے۔ ہمیں عوامی نقل و حمل، شادی کی تقریبات وغیرہ میں بھیڑ کو کنٹرول کرنے کے لئے پابندیوں کو نافذ کرنے کے بارے میں سوچنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ریاست بھر میں تیزی سے بڑھتے معاملات دیکھ ہر تشویش ہورہی ہے۔ ممبئی میں مثبت شرح 4% ہے اگر یہ شرح 5% ہوجاتی ہے تو ہمیں پابندیاں عائد کرنے سے متعلق سوچنا ہوگا۔ وزیر اعلی جلد ہی کووڈ ٹاسک فورس کے ساتھ میٹنگ کریں گے۔

لوگوں کو متوجہ کرنے اور ویکسن لگوانے پر راضی کرنے کیلئے انوکھی اسکیم، 50 خاندانوان کو سال بھر مفت گوشت فراہم کرنے کا اعلان

واشنگٹن: کرونا ویکسینیشن کا کام پوری دنیا میں زور و شور سے جاری ہے۔لوگوں کو ویکسن لگوانے پر راضی کرنے کیلئے مختلف حربے استعمال کئے جارہے ہیں۔ ایک امریکی کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ ویکسین لگوانے والے افراد کو پورا سال مفت گوشت فراہم کیا جائے گا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دنیا بھر میں کورونا وباء سے محفوظ رہنے کے لیے کورونا ویکسین لگوانے پر زور دیا جا رہا ہے جس کے لیے مختلف ممالک میں لوگوں کو متوجہ کرنے کے لیے ویکسین لگوانے والوں کے لیے اسکیموں کا اعلان بھی کیا جا رہا ہے۔اسی طرح اب امریکہ میں ایک گوشت فراہم کرنے والے مشہور کمپنی جے بی ایس ایس اے نے اعلان کیا ہے کہ ویکسین لگوانے والے 50 خاندانوں کو ایک سال تک مفت گوشت فراہم کیا جائے گا۔واضح ہے کہ یہ وہی کمپنی ہے جس کے اکثر ملازمین کورونا کی وجہ سے بیمار ہوئے تھے جس کی وجہ سے اس کمپنی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ جس کے بعد اس کمپنی کی ذیلی شاخ پلگرمز پرائیڈ کو بھی بند کرنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔ جس کی وجہ سے گوشت کی فراہمی متاثر ہوئی اور گوشت مہنگا بھی ہوا تھا۔

تاہم اب کمپنی نے اعلان کیا کہ اس کے 66 ہزار کارکنوں کی 70 فیصد تعداد کو ویکسین لگادی گئی ہے لیکن ساتھ ہی غریب، دیہی اور پسماندہ علاقوں کے افراد کو بھی ویکسین لگوانے کی ترغیب کے طور پر مفت گوشت فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔دوسری جانب امریکی صدر جو بائیڈن نے اعلان کیا تھا کہ اس سال چار جولائی یومِ آزادی تک امریکہ کی 70 فیصد بالغ آبادی کو کم ازکم ایک خوراک فراہم کردی جائے گی۔ تاہم ماہرین نے کہا ہے کہ یہ ہدف بظاہرناممکن نظر آرہا ہے۔

 

حکومت پی آر اور دیگر غیر ضروری منصوبوں پر خرچ کرنے کی بجائے ویکسن، آکسیجن اور دیگر طبی سہولیات پر توجہ مرکوز کرے: راہل گاندھی کی اپیل

کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے مرکزی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ پی آر اور دیگر غیر ضروری منصوبوں پر خرچ کرنے کی بجائے کرونا وباء کے دوران ٹیکہ، آکسیجن اور دیگر طبی سہولیات پر خرچ کرے۔راہل گاندھی نے گذشتہ روز سینٹرل وسٹا منصوبہ سے متعلق حکومت کی ترجیحات پر سوال اٹھایا تھا۔انہوں نے کرونا وباء کے دوران سینٹرل وسٹا منصوبہ میں پیش رفت سے متعلق حکومت سے کیا تھا اور حکومت پر الزام عائد کیا کہ یہ سب اس وقت کیا جارہا ہے جب کرونا ٹیسٹ نہیں ہورہے ہیں،ٹیکہ دستیاب نہیں ہے، ملک بھر میں آکسیجن اور آئی سی یو بیڈ کی شدید قلت ہے۔راہل گاندھی نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سے عاجزانہ اپیل ہے کہ پی آر اور غیر ضروری منصوبوں پر خرچ کرنے کی بجائے ویکسن، آکسیجن اور دیگر طبی سہولیات پر توجہ مرکوز کی جائے۔آئندہ دنوں میں حالات مزید سنگین ہوسکتے ہیں۔اس سے نمٹنے کیلئے ملک کو تیار رہنا ہوگا۔ایک ٹوئٹ میں راہل گاندھی نے ٹیکہ مہم کا گراف شیئر کرتے ہوئے کہا کہ جھوٹ بولنے والی مشین ملک میں ٹیکہ مہم پر توجہ دیں۔واضح رہے کہ گزشتہ روز جاری کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں کرونا کے 3 لاکھ 46 ہزار 786 نئے معاملات درج کئے گئے ہیں۔ملک میں کرونا کے کل مریضوں کی تعداد 1،66،10،481 تک پہنچ گئی ہے۔دوسری جانب کرونا کے بڑھتے ہوئے معاملات کے پیش نظر مرکزی حکومت نے آئندہ تین ماہ کیلئے آکسیجن اور دیگر طبی لوازمات اور ادویات پر ہیلتھ سیس اور کسٹم ڈیوٹی معاف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

لوگوں کی مرضی پر منحصر ہے وہ چاہیں تو ٹیکہ لگوائیں اور نہ چاہیں تو کوئی حرج نہیں، لیکن حکومت نے ٹیکہ لگوانے کی صلاح دی ہے
مرکزی حکومت نے کہا کہ کووڈ-19 کا ٹیکہ(vaccine) لگوانا لازمی نہیں ہوگا،یہ ٹیکہ لگوانے والوں کی رضامندی پر منحصر ہوگا کہ وہ کووڈ-19 ٹیکہ لگوانا چاہتے ہیں یا نہیں۔حکومت نے کہا کہ ہندوستان میں متعارف کرائی جانے والی کووڈ ویکسن اتنی ہی اثردار ہوگی جتنی کہ کسی دوسرے ملک کی ویکسن اثردار ہوگی۔حکومت کا کہنا ہے کہ جو لوگ ویکسن لگوائیں گے وہ اس کھ تمام ڈوز(خوراک) لیں۔جس کے ذریعے ان کے جسم میں کرونا وائرس کے خلاف مطلوبہ قوتِ مدافعت پیدا ہو۔چاہے آپ کرونا سے متاثر ہوئے ہوں یا نہ ہوئے ہوں لیکن حکومت کی ہدایات کے مطابق ٹیکہ لگوائیں۔دراصل کرونا کے خلاف اینٹی باڈی ویکسن کا دوسرا ڈوز لینے کے بعد کی پیدا ہوتی ہے۔وزارت برائے صحت نے کرونا اور کرونا ویکسن کے متعلق تمام سوالات کے جوابات اپنی آفیشیل ویب سائٹ پر جاری کئے ہیں۔جس کے مطابق حکومت نے کہا کہ کرونا کا ٹیکہ لگوانا لازمی نہیں ہوگا۔حالانکہ حکومت نے صلاح دی ہے کہ جو لوگ کرونا کا ٹیکہ لگوائیں گے وہ اس کے تمام ڈوز لیں تاکہ کرونا کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہو اور کرونا کے پھیلاؤ پر قابو پایا جاسکے۔فی الحال ویکسن کی جانچ اپنے آخری مراحل میں ہے۔امید ہے کہ حکومت جلد ہی کرونا ویکسن جاری کرے گی۔بھارت بائیو ٹیک، ICMR کے اشتراک سے ایک کرونا ویکسن متعارف کروائے گا جبکہ زائڈس کوڈیلا نامی ایک دوسری ویکسن بھی دستیاب ہوگی۔سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا جینوا آکسفورڈ ویکسن کی جانچ کررہا ہے اس کے علاوہ مزید تین ویکسن کی بھی جانچ جاری ہے۔ویکسن کتنی پُراثر اور محفوظ ہے یہ جاننے کے بعد ویکسن ہندوستان میں مہیا کرائی جائے گی۔ویکسن اس وقت ہی جاری کی جائے گی جب اس بات کا یقین ہوجائے گا کہ وہ کتنی محفوظ اور اثردار ہے۔ویکسن کے منفی اثرات کی بات کی جائے تو ویکسن لگانے کے بعد ہلکا بخار یا ویکسن لگانے کی جگہ ہلکا درد ہونے کی شکایت ہوسکتی ہے۔مرکزی حکومت نے ریاستی حکومتوں کو ویکسن کے منفی اثرات سے نمٹنے کیلئے تیار رہنے اور ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت دی ہے۔واضح رہے کے 28 روز کے وقفہ میں کرونا ویکسن کے دو ڈوز دیئے جائیں گے۔حکومت نے کہا ہے کہ جو لوگ پہلے ہی کسی بیماری میں مبتلاء ہیں انہیں کرونا کا ٹیکہ لگوانا لازمی ہے کیونکہ انہیں کرونا وائرس سے زیادہ خطرات لاحق ہیں۔