Articles by "Schools to Reopen"
Showing posts with label Schools to Reopen. Show all posts

پیڈیاٹرک ٹاسک فورس کی سفارشات پر آج کابینی میٹنگ میں اہم فیصلے کا امکان، دسمبر میں کرونا کی تیسری لہر متوقع
کے جی سے ساتویں جماعت تک آف کلاسیں شروع کئے جانے سے متعلق پیڈیاٹرک ٹاسک فورس کی سفارشات پر عمل آوری کرتے ہوئے ریاستی وزیرِ صحت راجیش ٹوپے نے بدھ کے روز کہا کہ اول تا چہارم جماعت کیلئے جلد ہی آف لائن کلاسیس کا آغاز کیا جائے گا۔آج بروز جمعرات ریاستی کابینہ کی متوقع میٹنگ میں تجاویز پر فیصلہ لئے جانے کا امکان ہے۔
حالانکہ راجیش ٹوپے نے 12 سے 18 سال کی عمر کے بچوں کے ویکسینیشن پر زور دیا۔ انہوں نے صحت کارکنان اور فرنٹ لائن ورکرس کو بوسٹر ڈوز دینے سے متعلق مرکزی حکومت سے اپیل بھی کی۔حال ہی میں انہوں نے یونین ہیلتھ منسٹر منسکھ مندیویا اور دیگر افسران کے سامنے اس معاملہ کو اٹھایا تھا۔راجیش ٹوپے نے کہا کہ انہوں نے مجھے مطلع کیا تھا کہ وہ اس معاملے پر غور وخوض کررہے ہیں۔یہ مرکزی حکومت کا حکم ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے میں جلد ہی کوئی فیصلہ لیں گے۔
راجیش ٹوپے نے کہا کہ میں نے منگل کے روز ڈاکٹر سہاس پربھو کی زیرِ قیادت ریاستی پیڈیاٹرک ٹاسک فورس کے ساتھ میٹنگ کی تھی۔انہوں نے سفارش پیش کی کہ سوشل ڈسٹنسنگ اور دیگر احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے ہوئے اول تا چہارم جماعت کیلئے دوبارہ اسکولیں کھولی جاسکتی ہیں۔اس معاملے میں ڈاکٹر پربھو نے کہا کہ ٹاسک فورس نے تمام سخت پروٹوکول کی پاسداری کے ساتھ اسکولیں کھولنے کی سفارش پیش کی تھی۔ سفارشات محکمہ صحت اور محکمہ تعلیم میں داخل کردی گئی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں راجیش ٹوپے سے تفصیلی بات چیت ہوئی تھی۔ 18 سال سے کم عمر بچوں کو ویکسن لگانے سے متعلق ڈاکٹر پربھو نے کہا کہ ایسا اس وقت کیا جاسکتا ہے جب ویکسن کی قلت نہ ہو۔ حالانکہ انہوں نے واضح کیا کہ اسکولیں دوبارہ کھولنے کیلئے ویکسینیشن لازمی نہیں ہے۔ انہوں نے بچوں میں قوت مدافعت تیزی سے بڑھانے پر زور دیا۔
تیسری لہر:
راجیش ٹوپے نے حالانکہ کرونا کے نئے معاملات کافی کم ہوئے ہیں لیکن خطرہ اب بھی قائم ہے۔ دسمبر میں مہاراشٹر میں کرونا کی تیسری ہلکی لہر ہوگی۔راجیش ٹوپے نے کہا کہ مہاراشٹر میں 80 فیصد سے زائد لوگوں نے ویکسین لگوایا لیا ہے جو وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔انفیکشن کی شرح کافی کم ہوئی ہے جبکہ اموات تقریبا صفر کے قریب ہیں۔ دسمبر میں تیسری لہر کے امکانات ہیں لیکن ویکسینیشن کے سبب قوت مدافعت میں اضافہ ہوا ہے، اس بات کا یقین ہے کہ انفیکشن ہلکا ہوگا اور آئی سی یو اور آکسیجن کی ضرورت کم پڑے گی۔


 آف لائن کلاسیس 17 اگست سے جاری کئے جانے سے متعلق اب تک مہاراشٹر اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کی جانب سے آفیشیل سرکیولر موصول نہیں ہوا

مہاراشٹر: ریاست کے مختلف شہروں میں جاری اسکولوں نے کہا کہ 17 اگست سے 8 ویں تک 12 ویں جماعت کی آف لائن کلاسیس جاری کرنے سے متعلق اب تک انہیں مہاراشٹر اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کی جانب سے کوئی آفیشیل سرکیولر موصول نہیں ہے۔اسکولوں کا کہنا ہے کہ کووڈ کے درمیان آف لائن کلاسیس جاسری کرنے کیلئے اسکولوں کی رضامندی اور کچھ ضروری شرائط پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

اسکول انتظامیہ نے کہا کہ انہیں اسکولیں دوبارہ جاری کرنے کیلئے کچھ اقدامات اور تیاریوں کیلئے کم از کم ہفتہ یا دس دن قبل نوٹس درکار ہے۔سینٹ اسٹینسلاس ہائی اسکول نادرا ویسٹ کے پرنسپل اروکیمل انتھونی نے کہا کہ ہمیں 8 ویں سے 12 ویں جماعت کی آف لائن کلاسیس جاری کرنے سے متعلق اب تک کوئی سرکاری سرکیولر نہیں ملا ہے۔ہمیں کم از کم ایک ہفتے کا وقت چاہیے۔تمام کلاس روم اور کیمپس کی صفائی کرنی ہوگی، اس کے علاوہ طلباء، فیکلٹی اور عملے کی باقاعدہ تھرمل چیکنگ کا اہتمام کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔راہل گاندھی کا ٹوئیٹر اکاؤنٹ عارضی طور پر سسپینڈ کئے جانے دعوی، ٹوئیٹر نے دعوے کو مسترد کیا

جنوبی ممبئی کی ایک کالج کے پرنسپل نے کہا کہ تیاری اور مختلف اقدامات کے علاوہ بہت ساری منصوبہ بندی کی ضرورت ہوگی جیسے طلباء کو بیچ وائز بلانا، آن لائن اور آف لائن کلاسیس جاری رکھنے کیلئے نظام الاوقات بنانا، انفیکشن کے پھیلاؤ روکنے کے کیلئے انتظامات کرنا وغیرہ۔اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کو کووڈ-19 کے خطرات کے تدارک کیلئے مناسب ہدایات فراہم کرنا چاہیے۔اسٹیٹ بورڈ اسکول کے ایک سینئر ٹیچر موہن داس شاہانے نے کہا کہ اگر حکومت دوبارہ اسکولیں جاری کرنے کی منصوبہ بندی کررہی ہے تو والدین کی رضامندی لازمی معیار ہونا چاہیے۔وادلین کو اعتماد میں لیا جانا چاہیےاور ان لوگوں کیلئے آن لائن لیکچر کا نظم کرنا چاہیے جو گھر سے حاضر ہونا چاہتے ہیں۔نیز اسکول کے اساتذہ اور عملے کو لوکل ٹرینوں کے ذریعے سفر کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔


دیہی علاقوں میں پانچویں سے آٹھویں جماعتوں کیلئے 17 اگست سے اسکولیں جاری کرنے کا فیصلہ، شہری علاقوں میں اسکولیں جاری کرنے پر جلد ہوگا فیصلہ

مہاراشٹر: ریاست میں کرونا لاک ڈاؤن سے راحت کی طرف ایک قدم بڑھاتے ہوئے مہاوکاس اگھاڑی حکومت نے دیہی علاقوں میں پانچویں تا آٹھویں جماعت کے لئے 17 اگست سے اسکولیں دوبارہ جاری کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔اس کے علاوہ شہری علاقوں میں کووڈ-19 پروٹوکول کی پاسداری کرتے ہوئے میں آٹھویں سے بارہویں جماعت کیلئے بھی اسکولیں جاری کردی جائیں گی۔فی الحال ایسے دیہی علاقے جن میں کرونا مریضوں کی تعداد کم ہے، ان علاقوں میں 8 ویں سے 12 ویں جماعت تک اسکولیں جاری کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
وزیر برائے اسکولی تعلیم ورشا گائیکواڑ نے کہا کہ ہم ریاست میں 17 اگست سے اسکولیں دوبارہ جاری کرنے کا فیصلہ کررہے ہیں۔ریاست کے ان دیہی علاقوں میں جہاں کرونا معاملات کم ہوئے ہیں، وہاں 5 ویں سے 8 ویں جماعت کے اسکول جاری کرنے کا منصوبہ ہے۔اس کے علاوہ حکومت شہری اور نیم شہری علاقوں(میونسپل کارپوریشن، نگر پالیکا اور نگر پنچایت) میں 8 ویں سے 12ویں کلاس کے اسکول شروع کرنے کا فیصلہ کرے گی۔اس کے لیے دیہی اور شہری علاقوں کے لیے دو کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی۔
دیہی علاقوں میں 5 ویں سے 8 ویں جماعت کے طلباء کی آف لائن کلاس کا سلسلہ جاری ہوگا۔جبکہ شہروں میں کووڈ پروٹوکول پر عمل کرتے ہوئے 8 ویں سے 12 ویں کے طلباء کی آف کلاسیں جاری کی جائیں گی۔واضح رہے کہ ریاست کے 22 اضلاع میں کووڈ سے متعلق پابندیوں میں راحت کے بعد ورشا گائیکواڑ کا مذکورہ بیان سامنے آیا ہے۔جبکہ 11 اضلاع میں لیول 3 کے تحت اقدامات کئے گئے ہیں۔محکمہ کے ایک افسر نے بتایا کہ دیہی علاقوں کے تقریبا 5،947 اسکولوں نے 12 جولائی سے 8 ویں سے 12 ویں کی آف لائن کلاسیس کا آغاز کیا ہے یہ اسکول اکثر ان علاقوں میں تھے جہاں کووڈ کے معاملات نہیں تھے، تاہم اسکولوں کے دوبارہ جاری ہونے کے بعد سولاپور ضلع میں 613 طلباء کووڈ مثبت پائے گئے۔