گائے کا پیشاب پینے سے متعلق بیان پر سادھوی کو سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا، یوزرس کا نے دیئے مشورے
کرونا وباء کےدوران برسراقتدار بی جے پی کے کچھ لیڈران کے ایسے بیانات سامنے آئے جن کے سبب انہیں سوشل میڈیا پر زبردست تنقیدوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔بی جے پی رکن پارلیمنٹ سادھوی پرگیہ نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ وہ روز گائے کا پیشاب پیتی ہیں اسلئے کرونا سے بچنے کیلئے انہیں کسی دوا کی ضرورت نہیں پڑی اور نہ ہی وہ کرونا سے متاثر ہوئی۔فلم اداکارہ سوارا بھاسکرنے سادھوی کے اس بیان پر طنز کستے ہوئے کہا کہ جس کے دماغ میں گوبر بھرا ہو وہ ملک کو اس حالت میں ہی لائیں گے۔سوارا بھاسکر نے این ڈی ٹی وی کا ایک ٹوئیٹ ری ٹوئیٹ کیا ہے جس میں سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کسی پروگرام میں عوام سےخطاب کرتے ہوئے گائے کے پیشاب کے فائدے بتا رہی ہیں۔سوارا نے کہا کہ بھائی صاحب گوبر اور پیشاب کے علاوہ کچھ سوجھتا ہے ان کو؟ خیر جن کے دماغ میں گوبر بھرا ہو وہ ملک کا گڑ گوبر کریں ہی۔ویڈیو میں سادھوی کہہ رہی ہے کہ دیسی گائے کا پیشاب پینے سے ہماری بیماری دور ہوتی ہے، میں ہر روز گائے کا پیشاب پیتی ہوں اسلئے مجھے کرونا سے بچاؤ کیلئے کسی دوا کی ضرورت نہیں پڑی۔سادھوی کے اس بیان پر لوگوں کے ردعمل کا سلسلہ چل پڑا۔سید زبیر نام کے ایک یوزر نے کہا کہ پردھان منتری جی سواستھ منترالیہ کا نام بدل کر گئو متر منترالیہ کردیں اور سادھوی کو گئو متر منتری بنا دیں۔پیوش گوئل کو گئو متر ایکسپریس چلا کر ملک کے اسپتالوں میں گئو متر فراہم کرنے کی ذمہ داری دے دیں۔عمیق انصاری نامی ایک یوزر نے لکھا کہ گائے کا پیشاب ہی استعمال کیا جائے ویکسن کیوں برباد کی جارہی ہے؟راہل شکلا نے بھوپال کی رکن پارلیمان کے بیان پر سوارا کے ٹوئیٹ کے جواب میں لکھا کہ بھوپال کی ذہین عوام پر لعنت بھیجئے۔ایک یوزر نے یہ بھی لکھا کہ اگر سادھوی کو گئو متر والے تجربے پر اتنا ہی یقین ہے تو سیدھے وزیراعظم کو ہی کیوں نہیں سمجھا دیتیں۔پھر وزیراعظم خود لوگوں سے گائے کا پیشاب پینے کی اپیل کریں گے۔ایک رکن پارلیمان کو زیب نہیں دیتا کہ وہ ہوا میں باتیں کریں، حکومت ان کی پارٹی کی ہے۔واضح رہے کہ کچھ روز قبل اتراکھنڈ کے وزیراعلی تیرتھ سنگھ راوت نے بیان دیا تھا کہ کرونا بھی ایک جاندار ہے جسے جینے کا حق ہے۔


Post A Comment:
0 comments: