Articles by "Lockdown"
Showing posts with label Lockdown. Show all posts

ان جان داروں میں 14 بھنورے، 12  سی سلگ، نو اقسام کی چیونٹیاں، مچھلیوں کی چھ اقسام، چھ طرح کے بچھو، پانچ اقسام کے پھول دار پودے، چارمختلف شارک، تین مکڑیاں، ایک قسم کی سمندری گھاس اور دیگر جان دار شامل ہیں

سال 2021ء کا دور اگرچہ کووڈ 19 اور سیاسی افراتفری کی نذر ہوگیا لیکن بالخصوص برطانوی ماہرین نے لاک ڈاؤن میں بھی تحقیق کی اور 550 نئی انواع و اقسام کے جان دار دریافت کیے۔ اسی ضمن میں امریکی ماہرین نے 70 سے زائد نئے پودوں اور جانوروں کی نئی انواع کا اعلان بھی کیا۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔سیمسنگ کا ایک ٹی بی اسٹوریج والا موبائل متعارف کرانے کا منصوبہ

کیلی فورنیا اکادمی برائے سائنس کے ماہرین نے خوبصورت تارہ مچھلی، نیلے نشانات والی گٹار فِش اور پائپ ہارس سمیت 70 نئی انواع کا انکشاف کیا۔ اکادمی کے سربراہ شینن بینٹ کے مطابق ان دریافتوں سے حیاتیاتی درخت یا ٹری آف لائف کو مزید سمجھنے میں مدد ملے گی۔ ان کے مطابق نئی دریافتیں مڈغاسکر، میکسیکو اور ایسٹر جزائر سے ہوئی ہیں۔

ان جان داروں میں 14 بھنورے، 12 اقسام کی سی سلگ، نو اقسام کی چیونٹیاں، مچھلیوں کی چھ اقسام، چھ طرح کے بچھو، پانچ اقسام کے پھول دار پودے، چارمختلف شارک، تین مکڑیاں، ایک قسم کی سمندری گھاس اور دیگر جان دار شامل ہیں۔ واضح رہے کہ ایک خوبصورت تارہ مچھلی بھی دریافت ہوئی ہے۔دوسری جانب برطانوی ماہرین نے کووڈ لاک ڈاؤن میں اپنے اس خزانے کو کھنگالا جن میں لاتعداد رکازات (فاسلز) موجود تھے۔ سب سے پہلے انہوں نے دو نئے گوشت خور ڈائنوسار دریافت کیے جن میں سے ایک کو چیف ڈریگن کا نام دیا گیا ہے۔

میوزیم سے تعلق رکھنے والی سائنسداں سوسانا مینڈمنٹ نے کہا ہے کہ کووڈ 19 کی پابندیوں کی وجہ سے باہرنکلنا ممکن نہ تھا لیکن میوزیم کے اسٹاف نے دنیا کے ڈیٹا اور پہلے سے موجود نمونوں پر غور کیا۔

لندن میں واقع نیچرل ہسٹری میوزیم کے ماہرین نے اس تحقیق کو لاک ڈاؤن منصوبے کا نام بھی دیا ہے۔ اس پورے مرحلے میں نئے پودوں، جانوروں، حشرات اور ناپید ہوجانے والے کئی جاندار بھی سامنے آئے ہیں۔ مجموعی طور پر برطانوی ماہرین نے 550 سے زائد نئی انواع کا انکشاف کیا ہے۔

 

تعلیم جاری رکھنے کیلئے آم فروخت کرنے والی بچی کے علم کے شوق کو دیکھ کر ایک شخص نے صرف 12 آم ایک لاکھ بیس ہزار روپے میں خرید کر بچی کی مدد کی

سڑک کے کنارے بیٹھ کر آم فروخت کرنے والی ایک معصوم بچی کی کہانی اس قدر وائرل ہوئی کہ اس بچی کے خواب حقیقت میں تبدیل ہونے کے راستے کھل گئے۔ایک شخص نے اس لڑکی کو 12 آموں کے بدلے سوا لاکھ روپے ادا کئے۔حالانکہ آم کسی خاص قسم کے نہیں تھے جس کی اتنی قیمت ادا کی جاسکے۔لیکن تعلیم حاصل کرنے کے بچی کے جنون اور شوق کو دیکھ کر ایک شخص نے اس بچی سے اتنے مہنگے دام میں آم خرید لئے۔جھارکھنڈ میں اسٹریٹ مائلس روڈ کے بنگلہ نمبر 47 کے آؤٹ ہاؤس میں رہنے والی 11 سالہ تلسی پانچویں جماعت کی طالبہ ہے۔اس کے خاندان کی معاشی حالت ٹھیک نہیں ہے۔کسی طرح محنت مزدوری کرکے اس کے گھر والے اسے پڑھا رہے تھے لیکن کرونا وباء کے سبب اسکولیں بند ہوگئیں۔اسکولیں بند ہونے کے بعد آن لائن کلاسیس جاری ہوئیں تو تلسی کی پڑھائی کا سلسلہ منقطع ہوگیا کیونکہ آن لائن کلاس اٹینڈ کرنے کیلئے اس کے پاس اسمارٹ فون نہیں تھا۔اسلئے تلسی نے نئے اسمارٹ فون کیلئے پیسے جمع کرنے کی غرض سے آم بیچنے کا فیصلہ کیا۔تلسی روزانہ باغ میں لگے آم توڑ کر لاتی اور انہیں سڑک کے کنارے رکھ کر فروخت کرتی۔اس دوران تلسی کی یہ کہانی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔پڑھائی کیلئے مجبوری میں آم بیچنے والی تلسی کی کہانی جب ممبئی کے رہنے والے ویلیوایبل ایڈٹینمینٹ کمپنی کے وائس چیئرمین امویا ہوتے تک پہنچی تو انہوں نے اس بچی کی مدد کرنے کی ٹھان لی اور اس بڑے صنعت کار نے اس بچی سے محض 12 آم ایک لاکھ 20 ہزار روپے میں خرید کر اس کے خوابوں کو نئی اڑان دی۔جس کے بعد تلسی کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔اطلاعات کے مطابق تلسی نے اس رقم میں سے 13 ہزار روپے کا ایک اسمارٹ فون خریدا ہے جبکہ باقی کی رقم اس نے اپنے آگے کی پڑھائی کیلئے بچا کر رکھی ہے۔اس مدد کے بعد اب تلسی نے آم بیچنا بند کردیا ہے بلکہ وہ اپنے گھر میں رہ کر پڑھائی کررہی ہے۔

 

لاک ڈاؤن مرحلہ وار ختم کرنے کو اصولی طور پر منظوری لیکن حتمی فیصلہ وزیراعلی ادھو ٹھاکرے کریں گے: ویٹیوار کی وضاحت

مہاراشٹر: جمعرات کے روز مہاراشٹر حکومت کے وزیر برائے ریلیف اینڈ ری ہیبیلیٹیشن وجئے ویٹیوار کے ذریعے مہاراشٹر میں ان لاک کے مرحلہ وار لائحہ عمل کا اعلان کرنے کے کچھ ہی دیر بعد شیوسینا کی زیرقیادت مہا وکاس اگھاڑی حکومت نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں لاک ڈاؤن جاری رہے گا۔جمعہ کے روز سے 36 اضلاع میں سے 18 اضلاع میں لاک ڈاؤن کی پابندیاں ختم نہیں ہوں گی۔حکومت نے کہا کہ لاک ڈاؤن ختم نہیں کیا گیا ہے بلکہ تجویز پر غوروخوص جاری ہے۔مہاراشٹر اس تعلق سے آئندہ ایک دو روز میں تفصیلی ہدایات جاری کرے گی۔حکومت نے ان لاک سے متعلق وضاحت میں کہا کہ ہم نے اب تک کووڈ پر مکمل طور پر قابو نہیں پایا ہے، کچھ دیہی علاقوں میں وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔وائرس کی نئی اشکال اور خطرات کو مد نظر رکھتے ہوئے اس بات پر غور کرنا اہمیت کا حامل ہے کہ پابندیاں ختم کی جانی چاہیے یا نہیں۔فی الوقت ریاست میں پابندیاں ختم نہیں کی گئی ہیں۔بریک دی چین کے تحت حکومت نے کچھ راحت دینے کا آغاز کیا ہے۔اسٹیٹ ڈزاسٹر مینجمینٹ(SDMA) ہفتے وار پازیٹیوویٹی ریٹ اور آکیسجن بیڈ کی دستیابی کی بنیاد پر پانچ مراحل میں ان لاک کے لائحۂ عمل پر غور کررہی ہے۔ پابندیاں ختم کرنی ہیں یا سخت کرنی ہیں اس تعلق سے جلد ہی حکومت رہنما ہدایات جاری کرے گی۔وزیراعلی ادھو ٹھاکرے کی سربراہی میں منعقد ڈزاسٹر مینجمینٹ کی میٹنگ میں شرکت کرنے والے وجئے ویٹیوار نے اعلان کیا تھا کہ ریاست کے 36 اضلاع میں سے 18 اضلاع میں تمام سرگرمیاں جاری کی جائیں گی۔انہوں نے کہا تھا کہ حکومت نے ان لاک کیلئے پانچ مراحل میں درجہ بندی کی ہے۔پہلے مرحلے میں کووڈ-19 پازیٹیوویٹی ریٹ 5 فیصد اور آکیسجن کی دستیابی 25 فیصد ہونے پر ان لاک کیا جائے گا۔

پہلے مرحلے میں وہ اضلاع جہاں کووڈ-19 پازیٹیوویٹی کی شرح 5 فیصد ہے اور آکسیجن کی دستیابی 25 فیصد کے اندر ہے انلاک ہوجائے گا۔ ان اضلاع میں تھانہ، اورنگ آباد، لاتور، ناندیڑ، جالنہ، پربھنی، بلڈانہ، ناسک، جلگاؤں دھولیہ، ناگپور، بھنڈارا، گڈچرولی، چندر پور، گونڈیا، وردھا، واشم اور ایوت محل ان 18 اضلاع میں جم، سیلون، باغات، واکنگ ٹریک، ریستوران، مالز اور تھیٹر کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔ نجی، سرکاری دفاتر 100 فیصد حاضری کے ساتھ شروع ہوں گے۔عوامی تقریبات ، شادی کی تقریبات میں بھی 100 فی صد حاضری کی اجازت ہوگی۔اس کے علاوہ بسیں 100 فیصد کیپیسٹی کے ساتھ چل سکتی ہیں اور بین ضلعی سفر کی بھی اجازت دی گئی ہے۔  وزراء کے مطابق ای کامرس کمپنیاں فعال رہیں گی۔ نجی اور سرکاری دفاتر میں صدفیصد عملے کی موجودگی کے ساتھ کام کرنے کی اجازت ہوگی۔دفعہ 144 کے تحت کرفیو اور ممنوعہ آرڈر ختم کردیا گیا ہے۔ بین ضلعی سفر کی اجازت ہے لیکن دوسری ریاستوں سے آنے والے لوگوں پر پابندی ہوگی۔تاہم حکومت نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ریاست کو ان لاک کرنے کی تجویز ابھی زیر غور ہے اور اضلاع کے متعلقہ انتظامی یونٹوں کی طرف سے مکمل جائزہ لینے کے بعد اس پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ سی ایم او کی جانب سے وضاحت جاری کرنے کے بعد ویٹیوار نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ مثبت شرح اور آکسیجن بستروں کی دستیابی کی بنیاد پر لاک ڈاؤن مرحلہ وار ختم کرنے کو اصولی طور پر منظوری دی گئی تھی لیکن کوئی حتمی فیصلہ نہیں لیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس میٹنگ میں وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے اور نائب وزیر اعلی اجیت پوار بھی موجود تھے۔  ویٹیوار کے مطابق ان لاک سے متعلق حتمی فیصلہ وزیراعلی کریں گے۔

 

ریاست میں ان لاک کیلئے 5 مراحل پر مشتمل پروگرام تیار، ناسک سمیت 18 اضلاع کو لاک ڈاؤن سے راحت

مہاراشٹر: مہاراشٹر کے وزیر وجئے ویٹیوار نے اعلان کیا کہ جمعہ 4 جون سے میاراشٹر کے 36 میں 18 اضلاع میں لاک ڈاؤن مکمل طور پر ختم کردیا جائے گا۔ویٹیوار نے کہا کہ ادھو ٹھاکرے کی زیرقیادت مہا وکاس اگھاڑی حکومت نے کرونا معاملات کے مثبت معاملات کی شرح اور آکیسجن فراہمی کی بنیاد پر ایک ان لاک پروگرام ترتیب فیا ہے جو 5 مراحل پر مبنی ہے۔جن اضلاع میں مثبت مریضوں کی تعداد کم ہے ان اضلاع میں کوئی پابندیاں نہیں ہوں گی۔پہلے مرحلے میں جن اضلاع میں پازیٹیوویٹی ریٹ 5 فیصد اور آکیسجن کی دستیابی 25 فیصد تک ہوگی وہ علاقے ان لاک ہوں گے۔ان اضلاع میں تھانے، اورنگ آباد، لاتور، ناندیڑ، جالنہ، پربھنی، بلڈانہ، ناسک، جلگاؤں، دھولیہ، ناگپور، بھنڈارا، گڈچرولی، چندرپور، گونڈیا، وردھا، واشم اور ایوت محل شامل ہیں۔

ممبئی میں ان لاک سے متعلق وجئے ویٹیوار نے کہا کہ ابھی ممبئی میں ان لاک نہیں ہوگا۔دوسرے مرحلے میں ممبئی کو ان لاک کیا جائے گا۔ اگر ممبئی میں پازیٹیوویٹی ریٹ کم ہوتا ہے تو لوکل ٹرین شروع کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ممبئی لیول 2 پر ہے اگر لیول 1 پر آتا ہے تو لوکل ٹرین سروس کا آغاز کیا جائے گا۔

 

مودی صاحب بچوں کو اتنا کام کیوں کرنا پڑتا ہے، آن لائن کلاس اور ہوم ورک سے پریشان 6 سالہ معصوم بچی کا ویڈیو ٹوئٹر پر وائرل

کرونا کے سبب ملک بھر میں اسکولیں بند ہیں، طویل عرصے سے طلباء اسکولوں سے دور ہیں۔پڑھائی کا حرج نہ ہو اس لئے آن لائن کلاسیس کا سلسلہ جاری کیا گیا ہے۔لیکن آن لائن کلاسیس بچوں کیلئے پریشانی کا باعث بنتی جارہی ہیں۔حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک چھ سالہ بچی کا ویڈیو وائرل ہوا جس میں بچی ہوم ورک اور آن لائن کلاس سے متعلق وزیراعظم نریندر مودی سے شکایت کررہی ہے۔جموں کشمیر کے گورنر منوج سنگھ نے اس بچی کے ویڈیو پر توجہ بھی دی ہے۔جموں کشمیر کی رہنے والی ایک چھ سالہ بچی نے آن کلاسیس سے ناخوش ہوتے ہوئے ایک ویڈیو بنا کر شیئر کی ہے۔جس میں بچی نے اسکولوں سے ملنے والے ہوم ورک اور لمبی کلاسیس سے متعلق پریشانی اور ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔سوشل میڈیا پر وائرل اس ویڈیو کو جموں کشمیر کے گورنر منوج سنگھ نے ٹوئیٹر پر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ بہت ہی پیاری شکایت ہے۔انہوں نے اسکولی بچوں کو ہوم ورک کا بوجھ کم کرنے سے متعلق محکمہ تعلیم کو 48 گھنٹے کے اندر لائحہ عمل تیار کرنے کا حکم دیا ہے۔انہوں نے ٹوئیٹ میں مزید لکھا کہ بچپن کی معصومیت بھگوان کا تحفہ ہوتی ہے، بچوں کے دن خوشیوں سے بھرے ہونے چاہیے۔بچی کا شکایتی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد ایسی امید ہے کہ آن لائن کلاس میں بچوں پر پڑھائی کا بوجھ کم ہوسکتا ہے اور انہیں راحت مل سکتی ہے۔ویڈیو میں بچی کہہ رہی ہے کہ اس کی آن لائن کلاس دس بجے شروع ہوتی ہے اور دو بجے تک جاری رہتی ہے۔جس میں انگلش، میتھس، اردو اور ای وی ایس پڑھنا پڑتا ہے۔بچی نے وزیراعظم نریندر مودی سے درخواست کرتے ہوئے کہتی ہے کہ مودی صاحب بچوں کو آخر اتنا کام کیوں کرنا پڑتا ہے؟واضح رہے کہ ٹوئٹر پر شیئر ہونے والے اس ویڈیو کو اب تک لاکھوں لوگوں نے دیکھا ہے اور بچی کی معصومیت پر اپنے تاثرات بھی ظاہر کررہے ہیں۔

Click here to watch:

Video



 

ٹوئٹر پر خاتون کا دلچسپ ویڈیو وائرل، کوئی بھی ویکسن شراب کے برابر نہیں ہوسکتی، اسپتالوں کی بجائے شراب کی دکانیں کھولنی چاہیے

نئی دہلی: آج دہلی میں کرونا کے بڑھتے ہوئے معاملات کے پیش نظر وزیراعلی اروند کیجریوال 6 دنوں کے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے۔لاک ڈاؤن کا اعلان ہوتے ہی دہلی کے خان مارکیٹ علاقے میں واقع شراب کی دکان پر زبردست بھیڑ دیکھی گئی۔لوگ شراب خریدتے ہوئے نظر آئے۔ کیونکہ دہلی میں 6 دنوں کے سخت لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا ہے اور اس عرصہ میں تمام دکانیں بند رہیں گی۔اس کے پیش نظر لوگ اپنی ضروریات کی چیزیں خریدنے لگے ہیں لیکن شراب کی دکانوں کے باہر زبردست بھیڑ دیکھی گئی۔اروند کیجریوال نے کہا کہ حکومت نے بہت غور وفکر کرنے کے بعد 6 دن کا لاک ڈاؤن لگانے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ اگر دہلی کو کسی بڑی مصیبت سے بچانا ہے تو لاک ڈاؤن ناگزیر ہے۔لاک ڈاؤن کا اعلان ہوتے ہیں سوشل میڈیا پر بھی ایسی کئی تصاویر وائرل ہوئیں جس میں لوگوں کو شراب کی دکانوں پر لمبی لائن میں میں کھڑا دیکھا گیا۔اس سلسلےمیں ایک ٹوئٹر پر ایک دلچسپ ویڈیو وائرل کیا گیا جس میں شارب کی دکان کے قریب کھڑی ایک خاتون نے کہا کہ کوئی بھی ویکسن شراب کے برابر نہیں ہوسکتی کیونکہ شراب ہی اصل دوا ہے۔

https://twitter.com/ANI/status/1384058199976792064?s=19

اس خاتون نے کہا کہ وہ گذشتہ 35 سال سے شراب پی رہی ہے اور اسے کبھی کسی دوا کی ضرورت نہیں پڑی۔حتی کہ اس نے یہ بھی کہہ دیا کہ اسپتالوں کی بجائے مزید ٹھیکا یعنی شراب کی دکانیں کھولنی چاہیے۔

 

مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ، آئی سی یو بیڈ، طبی سہولیات اور ادویات کی شدید قلت کے پیش نظر دہلی حکومت کا فیصلہ

دہلی: راجدھانی میں کرونا کے بڑھتے ہوئے معاملات کے بعد آج اروند کیجریوال نے ایک پریس کانفرنس کے دہلی میں 6 روزہ لاک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے۔کیجریوال نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ آج رات 10 بجے سے اگلے پیر کی صبح 5 بجے تک  6 روزہ لاک ڈاؤن ہوگا۔ا ہوں نے دہلی کے بگڑتے حالات سے متعلق کہا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں 23500 نئے معاملات سامنے آئے ہیں۔انفیکشن کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔دہلی کے اسپتالوں میں بیڈ کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔آئی سی ہو بیڈ ختم ہونے کے قریب ہیں، بمشکل 100 بیڈ باقی بچے ہیں۔اس کے علاوہ مریضوں کے علاج کیلئے طبی سہولیات اور ادویات کی کمی محسوس ہورہی ہے۔ان تمام حالات کے تناظر میں دہلی میں منی لاک نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔کیجریوال نے دہلی کی عوام کے نام پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب کو مل کر دہلی کو کسی بڑے سانحہ سے بچانا ہے۔آج رات 10 بجے سے پیر کی صبح 5 بجے تک لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا فیصلہ ہم نے بڑی مشکل سے لیا ہے۔ان 6 دنوں میں اسپتالوں میں بیڈ کے انتظامات پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ اس کے علاوہ کیجریوال نے دیگر ریاستوں کے مزدوروں سے اپیل کی ہے کہ وہ دہلی چھوڑ کر نہ جائیں۔یہ ایک چھوٹا سا لاک ڈاؤن ہے اور اسے مزید طول نہیں دیا جائے گا۔


 شہر کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جانے والی صنعت سے متعلق سنگھرش سمیتی کے مطالبات پر اعلی حکام کا فیصلہ مژدہ جاں فزا سے کم نہیں

مالیگاؤں: لاک ڈاؤن کے سبب جہاں ریاست بھر میں تمام کاروبار اور صنعتیں بند ہیں وہیں شہر مالیگاؤں کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جانے والی پاورلوم صنعت کو جاری رکھنے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔مالیگاؤں پاورلوم سنگھرش سمیتی نے گذشتہ دنوں پاولوم لوم صنعت اور اس سے منسلک مزدوروں کے مفاد میں وزیرداخلہ، وزیر ٹیکسٹائل اسلم شیخ اور چیف سکریٹری کو مکتوب روانہ کیا تھا۔جس میں سمیتی نے اعلی حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ لاک ڈاؤن میں پاورلوم صنعت کو جاری رکھنے کی اجازت دی جائے کیونکہ شہر کا ایک بڑا طبقہ اس صنعت سے وابستہ ہے، پاورلوم غریب مزدوروں کی روزی روٹی کا واحد ذریعہ ہے۔مکتوب میں اس بات کی یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ مزدور اور بنکر احتیاطی تدابیر اور حکومتی گائیڈ لائن پر عمل کرتے ہوئے صنعت کو جاری رکھیں گے اس لئے اس صنعت کو بند نہ کیا جائے۔اعلی حکام نے غور وخوض کے بعد ان مطالبات کو منظور کرتے ہوئے نائٹ کرفیو اور لاک ڈاؤن کے دوران پاورلوم صنعت کو جاری رکھنے کی اجازت دی ہے۔کرونا اور لاک ڈاؤن کے سبب جہاں ملک کی معیشت تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے شہر کی پاورلوم صنعت بھی گذشتہ سال سے لاک ڈاؤن اور کساد بازاری کے سبب برے حالات سے گزر رہی تھی ایسے میں لاک ڈاؤن کے دوران احتیاطی تدابیر کے ساتھ صنعت کو جاری رکھنے کی اجازت ملنا کسی مژدہ جاں فزا سے کم نہیں ہے۔


لاک ڈاؤن گائیڈ لائن اور دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہجوم جمع کرنے کی پاداش میں 70 خواتین پر بھی مقدمہ

مالیگاؤں: لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے پر جنتادل سیکولر کے 81 کارکنان پر مقدمہ درج کیا گیا۔ پولیس کنٹرول روم سے ملی تفصیلات کے مطابق ریاستی حکومت نے کورونا وائرس کے چلتے ریاست بھر میں لاک ڈاؤن اور دفعہ 144 نافذ کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔حکومت کی نئی گائیڈ لائن کے تناظر میں پولیس انتظامیہ سختی سے عمل کرتے ہوئے کارروائی کررہی ہے۔جس کی وجہ سے شہر کی معاشی حالت دن بہ دن بگڑتی جا رہی ہیں۔اس سلسلے میں گزشتہ روز جنتادل سیکولر کی کار گزار صدر شان ہند نہال احمد کی قیادت میں خواتین نے قدوائی روڈ بازار علاقے میں لاک ڈاؤن کی مخالفت کرتے ہوئے احتجاج کیا اور ہاتھوں میں نو لاک ڈاؤن کے بینر لے کر حکومت اور انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کی۔اس تعلق سے سٹی پولیس اسٹیشن میں فریادی پولیس سپاہی بلہ نمبر 1955 ویلاس رمش سوریہ ونشی نے شکایت کی کہ ملزمین ساجدہ نہال احمد, شان ہند نہال احمد، محمد مستقیم ڈگنیٹی، پروفيسر رضوان امان اللہ وغیرہ گیارہ مرد اور 70 خواتین نے غیر قانونی طور سے جماؤ بندی کی اور لاک ڈاؤن کے خلاف ورزی کرتے ہوئے لوگوں کا ہجوم جمع کیا اس پر پولیس نے تمام ملزمین کے خلاف قلم  219 / 2021 / 188 / 269 / 270/ 135 / 37 / 1 / 3 /3 / 4 /5 / کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔

 

نبی کریمؐ کی ذات مبارکہ پر نازیبا الفاظ کہنے والے مہنت نرسنگھانند سوامی کے خلاف احتجاج کے دوران لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے پرمقدمہ درج

مالیگاؤں: پولیس کنٹرول روم سے موصول تفصیلات کے مطابق ریاستی حکومت نے کورونا وائرس کے چلتے ریاست بھر میں لاک ڈاؤن اور دفعہ 144 نافذ کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ایسے میں مسلم اکثریتی شہر مالیگاؤں میں سنی تنظیموں سے وابستہ افراد نے آگرہ روڈ پر نبی کریمؐ کی ذات مبارکہ پر نازیبا الفاظ کہنے والے مہنت نرسنگھانند سوامی کے خلاف احتجاج کیا۔ اس احتجاج میں شامل لوگوں کا مطالبہ تھا کہ ملکی آئین کی خلاف ورزی کرنے پر نرسنگھانند سرسوتی کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔لاک ڈاؤن کے خلاف ورزی کرنے پر سٹی پولیس عملہ کے رکن پولیس سپاہی بلہ نمبر 1955 ویلاس رمش سورونشی کی شکایت پر سنی جمعیت علماء کے ذمہ دار یوسف الیاس, ڈاکٹر رئیس رضوی, عمران رضوی سمیت 25 افراد پر دفعہ 188 / 269 / 270 / 56 / 3 / 4 / 5/ 218 / 2021 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔


 پولیس کنٹرول روم میں اہم میٹنگ، مساجد میں نماز کی ادائیگی، بازار میں خریداری اور دیگر امور پر غوروخوص

مالیگاؤں: رمضان المبارک کے پیش نظر مقامی پولیس انتظامیہ کی جانب سے آج پولیس کنٹرول روم میں ایک پریس کانفرنس منعقد کی گئی۔ریاست بھر میں کرونا کے بڑھتے معاملات کے پیشِ نظر ریاستی حکومت اور انتظامیہ نے ایک جی آر جاری کرتے ہوئے رمضان المبارک میں عوامی تقریبات پر وقتی طور پر پابندی عائد کردی ہے کیونکہ ریاست میں کرونا کے معاملات میں تیزی سے اضافہ ہوا رہا ہے۔اس کے پس منظر میں حکومت مہاراشٹر نے رمضان المبارک اور سبھی عوامی تقریبات کے لئے نئی گائیڈ مرتب کی ہے۔واضح رہے کہ رمضان کے موقع پر مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد عبادت و تراویح کیلئے مساجد کا رخ کرتی ہے۔ اس تعلق سے مقامی پولیس انتظامیہ کے ایڈیشنل ایس پی چندر کانت کھانڈوی نے پریس کانفرنس میں صحافیوں سے مختلف امور پر بات کی، مسائل دریافت کئے اور متعلقہ محکموں کے ذمہ داران سے بات کرکے ان مسائل کو حل کرنے کا تیقن دیا۔انہوں نے بتایا کہ ملک اور ریاست مہاراشٹر میں کورونا کے معاملات میں ایک بار پھر اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ایسے میں رمضان المبارک کے موقع پر حفاظتی انتظامات اور کورونا گائیڈ لائن پر عمل کرنا نہایت ضروری ہے۔شہریان اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کریں کہ مساجد میں ایک وقت میں زیادہ بھیڑ نہ جمع ہو، اور افطاری کی خریداری کے وقت سوشل ڈسٹنسنگ کا خیال رکھیں، ماسک پہنیں اور اپنے اپنے گھروں میں ہی عبادت کریں۔

منگل کو شان ہند کی قیادت میں تالی، تھالی اور ڈبّا بجاکر خواتین کا احتجاج

مالیگاؤں: اپوزیشن لیڈر اور مہاگٹھ بندھن کی گٹ نیتا شان ہند نے مہاراشٹر میں لاک ڈاؤن نافذ کرنے کے خلاف 13 اپریل بروز منگل دوپہر 3 بجے اے ٹی ٹی ہائی اسکول کے پاس خواتین کے ذریعے تالی، تھالی اور ڈبہ بجا کر احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔رمضان المبارک قریب ہے اور ریاست بھر میں دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ ہونے کے امکانات ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتے جارہے ہیں۔مالیگاؤں میں گزشتہ ایک ہفتے میں مجلس اتحاد المسلمین، کانگریس اور جنتا دل کی جانب سے لاک ڈاؤن مختلف طریقوں سے احتجاج کیا گیا۔گزشتہ سال بھر سے کرونا مہاماری کے چلتے کبھی لاک ڈاؤن کبھی کرفیو تو کبھی دیگر پابندیوں کے سبب روز کھانے کمانے والے غریبوں اور مزدوروں کا برا حال ہے. چھوٹی موٹی دکانیں لگا کر دھندہ بیوپار کرنے والوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے. درمیانی درجہ کے بیوپاری اپنی ساری پونجی گنواکر پریشان حال ہے۔ایسے حالات میں غریبوں، مزدوروں، چھوٹے دکانداروں اور مڈل کلاس بیوپاریوں کو راحت دینے کی بجائے مہاراشٹر سرکار مزید پابندیاں لگا رہی ہے اور لاوک ڈاون کا اعلان کر رہی ہے.یہ سراسر ظلم ہے اور عوام کے جمہوری حقوق کا گلا گھونٹنے کے مترادف ہے۔اس لیے جمہوری طرز قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے احتجاج کرنا اور اپنے حق کی لڑائی لڑنا ضروری ہوگیا ہے۔اس لیے سنّی تعزیہ کمیٹی نے شان ِ ہند صاحبہ کو لیٹر دے کر منگل کو ہونے والے خواتین کے احتجاج کی تائید و حمایت کا اعلان کیا ہے اور شہر کی خواتین سے احتجاج میں شامل ہونے کی گزارش کی ہے. اسی طرح شہر کے انصاف پسند لوگوں سے بھی گزارش کی گئی ہیکہ سیاست کو بالائے طاق رکھ کر عوام کے حق کی اس لڑائی میں ساتھ دینے کے لئے اپنے گھر کی خواتین کو باپردہ تحریک میں شامل ہونے کے لئے بھیجیں.

 

وزیراعلی اور ٹاسک فورس لاک ڈاؤن نافذ کرنے کے حق میں، کل فائنانس اور دیگر متعلقہ محکموں میٹنگ متوقع

ممبئی: ریاستی وزیر برائے صحت عامہ راجیش ٹوپے نے آج کہا کہ مہارشٹر میں لاک نافذ کرنے سے متعلق 14 اپریل کے بعد کوئی فیصلہ لیا جائے گا۔راجیش ٹوپے نے وزیراعلی ادھو ٹھاکرے کی سربراہی میں منعقد کی گئی کووڈ-19 ٹاسک فورس کی میٹنگ کے بعد مذکورہ بیان دیا ہے۔اس میٹنگ میں کرونا کی موجودہ صورتحال، لاک ڈاؤن اور رہنما ہدایات پر غور وفکر کیا گیا۔اس کے علاوہ کتنے دنوں کا لاک ڈاؤن نافذ کیا جانا چاہیے اور دورانِ لاک ڈاؤن معیشت کو کس طرح متوازن کیا جائے گا ان موضوعات پر بھی بحث کی گئی۔ٹاسک فورس کا موقف ہے کہ ریاست میں کرونا کے حالات ایسے ہیں کہ لاک ڈاؤن نافذ کئے جانے کی ضرورت ہے۔وزیر اعلی کے دفتر کی جانب سے ایک ٹوئیٹ میں کہا گیا کہ ریاستی ٹاسک فورس کے ساتھ میٹنگ میں وزیراعلی نے آکسیجن اور بستروں کی دستیابی، ریمڈی سیوئیر کی فراہمی اور استعمال، علاج و معالجے میں سہولت، وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے عائد پابندیوں سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔میڈیکل ایجوکیشن منسٹر امیت دیشمکھ، ریاستی چیف سکریٹری سیتارام کنتے اور دیگر اعلی عہدیداروں نے بھی اس میٹنگ میں شرکت کی۔وزیراعلی ادھو ٹھاکرے پیرکے روز فائنانس محکمہ اور دیگر متعلقہ محکموں کے ساتھ ایک میٹنگ کریں گے اسکے علاوہ اسی ہفتے ایک کابینی میٹنگ کا انعقاد بھی کیا جائے گا جس میں کرونا کی موجودہ صورتحال، لاک ڈاؤن اور دیگر معاملات پر غور کیا جائے گا۔ٹوپے نے کہا کہ ٹاسک فورس کی میٹنگ کے دوران ریاست میں آکسیجن جنریشن پلانٹ کی تنصیب پر بھی غور کیا گیا ہے۔سنیچر کے روز ادھو ٹھاکرے نے ریاست میں کرونا کے بڑھتے ہوئے معاملات کے تناظر میں سخت لاک ڈاؤن کا اشارہ دیا تھا۔انہوں نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے آل پارٹی میٹنگ میں بھی ریاست کے حالات پر تبادلہ خیال کیا تھا۔گزشتہ ہفتے ریاستی حکومت مزید پابندیاں عائد کرتے ہوئے سنیچر اتوار کو لاک ڈاؤن،  نائٹ کرفیو اور سخت ہدایات جاری کی تھیں۔یہ تمام پابندیاں 30 اپریل تک رہیں گی۔

لاک ڈاؤن کے خلاف علامتی احتجاج کے دوران کووڈ رہنما ہدایات کی خلاف ورزی کرنے پر سٹی پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج
مالیگاؤں: پولیس کنٹرول روم سے ملی تفصیلات کے مطابق ریاستی حکومت نے کورونا وائرس کے چلتے ریاست بھر میں لاک ڈاؤن اور دفعہ 144 کے احکامات جاری کیے ہیں۔حکومت کی نئی گائیڈ لائن کے تناظر میں پولیس انتظامیہ سختی سے عمل کرتے ہوئے چھوٹا موٹا کاروبار کرنے والوں کی دکانیں بند کر رہی ہے۔جس کی وجہ سے شہر کی معاشی حالت دن بہ دن بگڑتے جا رہی ہیں۔اس سلسلے میں گزشتہ دنوں مجلس اتحاد المسلمین کے شمالی مہاراشٹر کے صدر و کارپوریٹر خالد پرویز اور وارڈ نمبر 18 کے کارپوریٹر ماجد حاجی کی جانب سے رکن اسمبلی کی قیادت میں علامتی طور پر احتجاج کیا گیا۔اس معاملے میں سٹی پولیس اسٹیشن میں فریادی پولیس سپاہی ویلاس رمیش سورونشی نے شکایت کی کہ مقامی مجلس اتحاد المسلمین کے کارکنان نے لاک ڈاؤن اور دفعہ 144 کے خلاف ورزی کی اور منہ پر ماسک نہیں لگایا اس کے ساتھ ہی سماجی فاصلے کی خلاف ورزی کے مرتکب ہونے کی صورت حال پر جملہ کل 8 ملزمان کے خلاف قلم 188 / 269 / 270 / 3 / 4 / 5 / 2021 / 197 کے تحت مقدمہ داخل درج کیا ہے۔

 

مالیگاؤں میں لاک ڈاؤن کے خلاف ورزی کرنے پر بڑے لیڈران سمیت 135 افراد پر مقدمہ درج ، نئی گائیڈ لائن کے تناظر میں پولیس انتظامیہ کا رویہ سخت

مسلم اکثریتی شہر کی شناخت رکھنے والے شہر مالیگاؤں میں پولیس کنٹرول روم سے ملی تفصیلات کے مطابق ریاستی حکومت نے کورونا وائرس کے چلتے ریاست بھر میں لاک ڈاؤن نافذ اور دفعہ 144 کے احکامات جاری کیے ہیں۔حکومت کی نئی گائیڈ لائن کے تناظر میں پولیس انتظامیہ سختی سے عمل کرتے ہوئے چھوٹا موٹا کاروبار کرنے والوں کی دکانیں بند کر رہی ہے۔ جس کی وجہ سے شہر کی معاشی حالت دن بہ دن بگڑتے جا رہی ہیں۔ایسے حالات کو دیکھتے ہوئے مقامی کانگریس پارٹی کے صدر شیخ رشید اور جنتادل سیکولر کے جنرل سیکریٹری محمد مستقیم کی جانب سے لاک ڈاؤن کے خلاف احتجاج کیا گیا۔حکومت کی گائیڈ لائن کے خلاف ورزی کرنے پر سٹی پولیس نے سپاہی ویلاس رمیش سوریہ ونشی کی شکایت پر مقامی کانگریس پارٹی کے صدر شیخ رشید اور جنتادل سیکولر کے جنرل سیکریٹری محمد مستقیم سمیت کل 135 لوگوں کے خلاف قلم 166/188/270/269 کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے۔

 

حکومت لاک ڈاؤن سے متعلق محتاط اور سہولت والا رویہ اپنائے، عوام کا ردعمل شدید ہوسکتا ہے ،جس پر قابوپانا مشکل ہوجائے گا، مساجد میں نماز با جماعت پر کلی یا جزوی پابندی بھی قبول نہیں: مولانا عبدالحمید ازہری

مالیگاؤں: 8 اپریل بروز پیر دوپہر 2 بجے کل جماعتی تنظیم کے ارکان نے سبھی مسالک کے علماء کرام کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ سٹی پولیس اسٹیشن مالیگاؤں میں پہنچ کر شہر اے ایس پی چندرکانت کھانڈوی کو لاک ڈاؤن کے خلاف ایک میمورنڈم دیا اور روبرو بات کی۔ اس موقع پر کل جماعتی تنظیم کے ترجمان حضرت مولانا عبد الحمید ازہری صاحب نے کل جماعتی تنظیم کا موقف بہت واضح انداز میں رکھا کہ ملک کے انتہائی ابتر اقتصادی حالات میں لاک ڈاؤن اب عوام کے لئے نا قابل برداشت ہے۔ مولانا نے کہا کہ شہر میں محمد علی روڈ،  قدوائی روڈ، مچھلی بازار، بڑی بازار جیسے علاقوں میں چھوٹا موٹا کاروبار کرنے والوں کو بھی حکومت اگر کاروبار سے روکتی ہے تو اس کا رد عمل عوام کی جانب سے بہت شدید ہوگا جس پر قابو پانا مشکل ہو جائے گا۔ روز کمانے روز کھانے والوں کو بھی کاروبار سے روک دینا دراصل انہیں موت کے منہ میں ڈھکیلنا ہے جو کسی ظالم و سفاک حکومت ہی کا شیوہ ہو سکتا ہے۔ کل جماعتی تنظیم کا یہ احساس ہے کہ اس مرتبہ لاک ڈاؤن میں اب اصحاب خیر اور متوسط طبقہ گذشتہ کی طرح عوام کہ امداد بھی نہیں کر سکے گا کہ مسلسل ایک سال سے ان کے کاروباری حالات بھی خراب ہیں۔ اسلئے حکومت لاک ڈاؤن کے بارے میں محتاط اور سہولت والا رویا اپنائے۔ نیز مولانا نے کہا کہ مساجد میں نماز با جماعت پر کلی یا جزوی پابندی بھی قبول نہیں اسلئے کہ مسجدیں اللہ کے لئے وقف ہوتی ہیں جہاں عبادت کے لئے آنے والوں کو روکا نہیں جا سکتا۔ رمضان المبارک میں پنج وقتہ نمازوں کے علاوہ مساجد میں تراویح اور اعتکاف کا بھی اہتمام ہوتا ہے جس سے مسلمان دست بردار نہیں ہو سکتے۔ اسلئے مساجد کو نوٹس دینا بند کیا جائے۔ اگر لاک ڈاؤن ضروری ہو تو صرف رات دس بجے سے صبح پانچ بجے تک لگایا جائے۔ یوسف الیاس نے کہا کہ مالیگاؤں کے علماء کرام نے ہمیشہ حالات کو قابو میں رکھنے میں پالیس کی معاونت کی ہے بلکہ بعض موقعوں پر پولس کو پبلک کے عتاب سے بچایا ہے۔ لیکن آج پولس لاک ڈاؤن کے نام پر بے جا سختیاں شروع کر رہی ہے۔ کاروبار بند کرایا جا رہا ہے۔ رمضان کی آمد کی مناسبت سے بیوپاریوں نے بہت کچھ مال جمع کیا ہے۔ اب اگر کاروبار بند کارایا جائے گا تو آپ بتائیے کہ ان کا کیا ہوگا۔ شہر مالیگاؤں حساس شہر ہے۔ پبلک اگر مشتعل ہو گئی تو سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔یوسف سیٹھ نیشل والے نے کہا کہ گورنمنٹ کی گائڈ لائن میں weak lockdown کا ذکر ہے لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہاں تو strong lockdown ہے۔ لوگوں کا جینا مشکل ہو گیا ہے۔

دوسری جانب کل جماعتی تنظیم عوام سے یہ بھی اپیل کرتی ہے کہ کورونا کی اس مہاماری میں بلا ضروت گھروں سے باہر نکل کر بھیڑ بھاڑ کرنے سے پرہیز کریں، ماسک لگا کر ہی باہر نکلیں، سوشل ڈسٹینسنگ کا حتی الامکان اہتمام کریں۔ دیگر احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ نیز سماجی خدمت کے میدان میں پیش پیش رہیں۔کل جماعتی تنظیم عام ائمہ کرام سے یہ اپیل کرتی ہے کہ مساجد میں قنوت نازلہ کا اہتمام کریں نیز مسلمان اپنے گھروں میں دعاؤں کا، سورہ یس شریف کے ختم کا اور آیت کریمہ کے ورد کا اہتمام کریں۔ آج کی اس ملاقات میں کل جماعتی تنظیم کے اراکین و علماء کی ایک بڑی تعداد شریک رہی۔


رمضان المبارک کے پیش نظر کاروباری افراد اور دکاندار لاک ڈاؤن کی مخالفت پر آمادہ، سیاسی لیڈران میدان میں

مالیگاؤں: ریاست مہاراشٹر کے ناسک ضلع کے لیے نئی گائیڈ لائن جاری کی گئی جس کے تحت 6 اپریل کی صبح پولیس انتظامیہ شہر مالیگاؤں کے کاروباری علاقوں کو اچانک بند کروانے میں مصروف نظر آئی۔بعد ازاں دکانوں کے مالکان نے سیاسی لیڈران اور سماجی کارکن سے رابطہ کیا۔اور اس بات کی اطلاع دی کہ پولیس اچانک تمام دکانیں کو بند کررہی ہے۔اس سلسلے میں شہر کی سماجی, سیاسی, ملی تنظیموں کی جانب سے لاک ڈاؤن کی سخت الفاظ میں مخالفت کرتے ہوئے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی گئی اور زبردست احتجاج بھی کیا گیا۔ مجلس اتحاد المسلمین لیڈران نے مقامی سطح پر شہر کی صورتحال کو انتظامیہ کے روبرو رکھ لاک ڈاؤن میں نرمی برتنے کی اپیل کی تھی۔جس پر انتظامیہ نے مثبت رویہ نہیں اپنایا اور اپنی روش برقرار رکھی۔اس ضمن میں مجلس اتحاد المسلمین نے چھوٹا موٹا کاروبار کرنے والوں کے حق میں جمہوری انداز میں رکن اسمبلی مفتی محمد اسماعیل کی قیادت میں آج بروز جمعرات صبح 11 بجے امبیڈکر مجسمہ کے پاس ایک علامتی احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔جس میں حافظ عبداللہ، ڈاکٹر خالد پرویز اور مجلس کے تمام کارپوریٹر شرکت کریں گے۔مجلس اتحاد المسلمین کے کارپوریٹر خالد پرویز نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اس احتجاج میں شرکت کرنے والے ماسک و شوشل ڈیشٹنس کا خیال رکھیں۔

 

حالات قابو میں نہیں رہے تو حکومت 15 روزہ لاک ڈاؤن نافذ کرے گی،ماہرین سے صلاح و مشورہ کے بعد حتمی فیصلہ کا اعلان،لاک ڈاؤن کے امکانات معدوم نہیں ہوئے

ممبئی: وزیراعلی ادھو ٹھاکرے نے مکمل لاک ڈاؤن کا انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ ریاست کیلئے آئندہ دو روز کافی اہم ہیں۔اگر ریاست میں کرونا کے نئے معاملات میں اضافہ ہوتا رہا اور حالات قابو میں نہیں آئے تو مکمل لاک ڈاؤن کا نفاذ ہوگا۔جمعہ کے روز ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے عوام سے خطاب کے دوران ادھو ڑھاکرے نے اعادہ کیا کہ وہ دوبارہ لاک ڈاؤن کے نفاذ کے حق میں نہیں تھے لیکن موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ سخت پابندیاں عائد کی جائیں کیونکہ عوام کرونا رہنما ہدایات کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔ٹھاکرے نے کہا کہ وہ ان مسائل سے متعلق ماہرین سے مشورہ کریں گے اور آئندہ چند روز میں حتمی فیصلے کا اعلان کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ کرونا کے بڑھتے ہوئے معاملات پر قابو پانے کیلئے ہم آئندہ دو روز میں سخت ہدایات جاری کریں گے۔کیا ہم لاک ڈاؤن نافذ کرنے والے ہیں؟ اس سوال کا ابھی کوئی جواب نہیں دوں گا۔لیکن لاک ڈاؤن کے امکانات ابھی معدوم نہیں ہوئے ہیں۔ٹھاکرے کے مطابق ماہرین مختلف سفارشات پیش کی ہیں۔کچھ نے کہا کہ لاک ڈاؤن نافذ کیا جائے۔جب کہ کچھ کے مطابق لاک ڈاؤن مسئلہ کا حل نہیں ہے۔لاک ڈاؤن میں ملازمت سے محروم ہونے والوں کی مالی معاونت کی جائے۔ایک صنعت کار نے کہا کہ حکو۔ت لاک ڈاؤن نافذ کرنے کی بجائے طبّی سہولیات کو بہتر بنانے پر غور کیوں کرتی؟ ٹھاکرے نے ان سفارشات کے جواب میں ان سے کہا کہ ایسے ڈاکٹرس اور افراد لائیں جو ان سہولیات کی فراہمی کیلئے کام کریں۔ٹھاکرے نے کہا کہ اس مسئلے میں سیاست نہ کریں۔اگر حالات اسی طرح رہے تو آئندہ چند روز میں تمام اسپتال بھر جائیں گے۔میں تمام سیاسی جماعتوں سے التماس کرتا ہوں کہ وہ سیاست سے باز آجائیں، کیونکہ عوام کی زندگیوں سے کھلینے کے مترادف ہے۔تمام لوگ آگے آئیں لیکن لاک ڈاؤن کی مخالفت کرنے کیلئے نہیں بلکہ کرونا وباء کے خلاف سہولیات مہیا کرنے کیلئے کام کریں۔وزیراعلی نے عوامی مقامات، شادی بیاہ کی تقریبات، سیاسی سماجی تقریبات اور ٹرینوں میں بھیڑ کرنے پر تشویش ظاہر کی۔موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ آئندہ 15 روز میں اسپتال، ڈاکٹرس، نرسیس، اسٹاف اور طبی لوازمات کی قلت ہوسکتی ہے۔ایک سینئر وزیر نے کہا کہ اگر حالات قابو میں نہیں آئے تو حکومت کم از کم پندرہ روزہ لاک ڈاؤن نافذ کرے گی۔

 

وزیر صحت راجیش ٹوپے نے کہا 2 اپریل کو لاک ڈاؤن کا اعلان نہیں بلکہ نئی گائیڈ لائن جاری کی جائے گی، عوام رہنما ہدایات پر سختی سے عمل کریں

مہاراشٹر: ریاستی وزیر برائے صحت عامہ راجیش ٹوپے نے جمعرات کے روز کہا کہ مہاراشٹر میں 2 اپریل کو لاک ڈاؤن نافذ کرنے کے اعلان سے متعلق افواہوں کا بازار گرم ہے لیکن 2 اپریل کو مہاراشٹر میں لاک ڈاؤن کا اعلان نہیں کیا جائے گا۔راجیش ٹوپے نے کہا کہ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کی بجائے ریاست میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے سخت قوانین نافذ کئے جائیں گے۔واضح رہے کہ ریاست میں 43 ہزار سے زائد، اور ممبئی میں 8 ہزار سے زائد نئے معاملات سامنے آنے کے بعد راجیش ٹوپے کا مذکورہ بیان سامنے آیا۔ٹوپے نے کہا کہ فی الحال حکومت ریاست میں دوبارہ  لاک ڈاؤن نافذ کرنے کے حق میں نہیں ہے بلکہ وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے کیلئے سخت اقدامات کئے جائیں گے اور مزید پابندیاں عائد کی جائیں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ عوام کو کووڈ-19 رہنما ہدایات پر سختی سے عمل کرنا ہوگا، ماسک لازمی لگانا ہوگا، سوشل ڈسٹنسنگ کا خیال رکھنا ہوگا اور بھیڑ بھاڑ کرنے سے احتیاط کرنا ہوگا۔ٹوپے نے گذشتہ ہفتے وزیراعلی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ ایک ہنگامی میٹنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ادھو ٹھاکرے نے واضح طور پر کہا تھا کہ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کے علاوہ کوئی متبادل نہیں ہے۔ٹوپے نے مزید کہا کہ اس میٹنگ میں اس نقطہ پر بھی غور کیا گیا تھا کہ اگر ریاست میں لاک ڈاؤن نافذ کیا جاتا ہے تو کون کون سے شعبے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں۔ٹوپے نے آج کہا کہ 2 اپریل سے مہاراشٹر میں دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ نہیں کیا جائے گا لیکن حکومت نئی اور سخت گائیڈ لائن جاری کرے گی۔ٹوپے نے اس بات کی وضاحت کی کہ ممبئی میں ایک یا دو اسپتالوں کے علاوہ کسی اسپتال میں بیڈ کی قلت نہیں ہے۔حکومت ویکسینیشن ڈرائیو پر زیادہ توجہ دے رہی ہے خاص کر 45 سے زیادہ عمر والوں کو ویکسن دیئے جانے پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ٹوپے نے پارٹی لیڈران سے کہا کہ وہ نوجوانوں کو اعتماد میں لیں اور جنہیں ویکسن کی ضرورت ہے انہیں ویکسن مہیا کرانے کے انتظامات کریں۔


 رضوان بیٹری والا نے اسکولوں کا دروہ کیا، بدعنوانی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا انتباہ

مالیگاؤں: کرونا وباء اور لاک ڈاؤن کے سبب شہر کی غریب عوام بے حال و پریشان ہے۔مفلسی کے سبب متعدد خاندان فاقہ کشی کا شکار ہیں۔ اسکولوں میں حکومت کی جانب سے دئے جانے والے چنا اور دال تقسیم کا سلسلہ جاری ہے۔جس میں بدعنوانی کی جارہی ہے۔اطلاعات کے مطابق رضوان بیٹری والا نے اس معاملے میں خلیل ہائی اسکول، نشاط پرائمری اسکول اور دیگر اسکولوں کا اچانک دورہ کیا اور اسکول انتظامیہ کی لوٹ مار اور بدعنوانی کے خلاف قانونی کارروائی کا انتباہ دیا ہے۔خلیل ہائی اسکول کا دورہ کرتے ہوئے رضوان بیٹری والا نے اسکول کے پیڈ ماسٹر سے تفصیل طلب کی انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ابھی نصف اناج ہی فراہم کیا گیا ہے۔جبکہ بقیہ اناج آئندہ دو چار روز میں آنے والی ہیں۔جب اس معاملے میں اے او چوہان کا کہنا ہے کہ شہر کی تمام اسکولوں میں پورا اناج مہیا کیا گیا ہے۔بیٹری والا کے اس اقدام کے سبب اسکول انتظامیہ حرکت میں آئی اور بچوں کو پورا اناج تقسیم کرنے کا سلسلہ جاری ہوا۔اس موقع پر بیٹری والا نے سابق اور موجودہ اراکین اسمبلی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آج مالیگاؤں میں صرف الزام تراشیوں کا سلسلہ جاری ہے، کسی کوغریب عوام کی فکر نہیں ہے۔موجودہ رکن اسمبلی مفتی محمد اسمعیل سے متعلق بیٹری والا نے کہا کہ بحیثیت مفتی انہیں عوامی خدمت کے ساتھ ساتھ بطوں کو اعلی تعلیم سے روشناس کراتے ہوئے اعلی تعلیم کے مواقع پیدا کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایک حمام میں سب ننگے ہیں۔ کیا بدعنوانی کرکے ان کا گھر بار چلتا ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو کوئی لیڈر بدعنوانی کے معالات پر لب کشائی کیوں نہیں کرتا؟آخر کیا وجہ ہے کہ برسراقتدار اور اپوزیشن خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے؟