Articles by "Rajesh Tope"
Showing posts with label Rajesh Tope. Show all posts

ریاست میں کرونا کے بڑھتے معاملات تشویشناک، بھیڑ پر قابو پانے کیلئے پابندیاں عائد کرنے پر غور، وزیراعلی جلد ہی کووڈ ٹاسک فورس کے ساتھ میٹنگ کریں گے

مہاراشٹر کے وزیر صحت راجیش ٹوپے نے آج کہا کہ ریاستی حکومت 15 سے 18 سال کے بچوں کیلئے اسکولوں میں ویکسینیشن کا نظم کرنے کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔واٹس ایپ: گروپ سے پریشان صارفین کیلئے زبردست فیچر جلد ہی متعارف ہوگا

راجیش ٹوپے نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کو بتایا کہ ہمیں کووڈ-19 ویکسینیشن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ہم 15 سے 18 سال کے بچوں کو اسکولوں میں ویکسن کے انتظامات کرنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ ٹوپے نے کہا کہ اب تک مہاراشٹر میں اومیکرون کے 167 معاملات ہیں، جن میں سے 19 مریضوں کو رخصت دے دی گئی ہے۔ ان میں کسی بھی مریض کی حالت تشویشناک نہیں ہے۔ ہمیں عوامی نقل و حمل، شادی کی تقریبات وغیرہ میں بھیڑ کو کنٹرول کرنے کے لئے پابندیوں کو نافذ کرنے کے بارے میں سوچنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ریاست بھر میں تیزی سے بڑھتے معاملات دیکھ ہر تشویش ہورہی ہے۔ ممبئی میں مثبت شرح 4% ہے اگر یہ شرح 5% ہوجاتی ہے تو ہمیں پابندیاں عائد کرنے سے متعلق سوچنا ہوگا۔ وزیر اعلی جلد ہی کووڈ ٹاسک فورس کے ساتھ میٹنگ کریں گے۔


پیڈیاٹرک ٹاسک فورس کی سفارشات پر آج کابینی میٹنگ میں اہم فیصلے کا امکان، دسمبر میں کرونا کی تیسری لہر متوقع
کے جی سے ساتویں جماعت تک آف کلاسیں شروع کئے جانے سے متعلق پیڈیاٹرک ٹاسک فورس کی سفارشات پر عمل آوری کرتے ہوئے ریاستی وزیرِ صحت راجیش ٹوپے نے بدھ کے روز کہا کہ اول تا چہارم جماعت کیلئے جلد ہی آف لائن کلاسیس کا آغاز کیا جائے گا۔آج بروز جمعرات ریاستی کابینہ کی متوقع میٹنگ میں تجاویز پر فیصلہ لئے جانے کا امکان ہے۔
حالانکہ راجیش ٹوپے نے 12 سے 18 سال کی عمر کے بچوں کے ویکسینیشن پر زور دیا۔ انہوں نے صحت کارکنان اور فرنٹ لائن ورکرس کو بوسٹر ڈوز دینے سے متعلق مرکزی حکومت سے اپیل بھی کی۔حال ہی میں انہوں نے یونین ہیلتھ منسٹر منسکھ مندیویا اور دیگر افسران کے سامنے اس معاملہ کو اٹھایا تھا۔راجیش ٹوپے نے کہا کہ انہوں نے مجھے مطلع کیا تھا کہ وہ اس معاملے پر غور وخوض کررہے ہیں۔یہ مرکزی حکومت کا حکم ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے میں جلد ہی کوئی فیصلہ لیں گے۔
راجیش ٹوپے نے کہا کہ میں نے منگل کے روز ڈاکٹر سہاس پربھو کی زیرِ قیادت ریاستی پیڈیاٹرک ٹاسک فورس کے ساتھ میٹنگ کی تھی۔انہوں نے سفارش پیش کی کہ سوشل ڈسٹنسنگ اور دیگر احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے ہوئے اول تا چہارم جماعت کیلئے دوبارہ اسکولیں کھولی جاسکتی ہیں۔اس معاملے میں ڈاکٹر پربھو نے کہا کہ ٹاسک فورس نے تمام سخت پروٹوکول کی پاسداری کے ساتھ اسکولیں کھولنے کی سفارش پیش کی تھی۔ سفارشات محکمہ صحت اور محکمہ تعلیم میں داخل کردی گئی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں راجیش ٹوپے سے تفصیلی بات چیت ہوئی تھی۔ 18 سال سے کم عمر بچوں کو ویکسن لگانے سے متعلق ڈاکٹر پربھو نے کہا کہ ایسا اس وقت کیا جاسکتا ہے جب ویکسن کی قلت نہ ہو۔ حالانکہ انہوں نے واضح کیا کہ اسکولیں دوبارہ کھولنے کیلئے ویکسینیشن لازمی نہیں ہے۔ انہوں نے بچوں میں قوت مدافعت تیزی سے بڑھانے پر زور دیا۔
تیسری لہر:
راجیش ٹوپے نے حالانکہ کرونا کے نئے معاملات کافی کم ہوئے ہیں لیکن خطرہ اب بھی قائم ہے۔ دسمبر میں مہاراشٹر میں کرونا کی تیسری ہلکی لہر ہوگی۔راجیش ٹوپے نے کہا کہ مہاراشٹر میں 80 فیصد سے زائد لوگوں نے ویکسین لگوایا لیا ہے جو وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔انفیکشن کی شرح کافی کم ہوئی ہے جبکہ اموات تقریبا صفر کے قریب ہیں۔ دسمبر میں تیسری لہر کے امکانات ہیں لیکن ویکسینیشن کے سبب قوت مدافعت میں اضافہ ہوا ہے، اس بات کا یقین ہے کہ انفیکشن ہلکا ہوگا اور آئی سی یو اور آکسیجن کی ضرورت کم پڑے گی۔

 

وزیراعلی اور ٹاسک فورس لاک ڈاؤن نافذ کرنے کے حق میں، کل فائنانس اور دیگر متعلقہ محکموں میٹنگ متوقع

ممبئی: ریاستی وزیر برائے صحت عامہ راجیش ٹوپے نے آج کہا کہ مہارشٹر میں لاک نافذ کرنے سے متعلق 14 اپریل کے بعد کوئی فیصلہ لیا جائے گا۔راجیش ٹوپے نے وزیراعلی ادھو ٹھاکرے کی سربراہی میں منعقد کی گئی کووڈ-19 ٹاسک فورس کی میٹنگ کے بعد مذکورہ بیان دیا ہے۔اس میٹنگ میں کرونا کی موجودہ صورتحال، لاک ڈاؤن اور رہنما ہدایات پر غور وفکر کیا گیا۔اس کے علاوہ کتنے دنوں کا لاک ڈاؤن نافذ کیا جانا چاہیے اور دورانِ لاک ڈاؤن معیشت کو کس طرح متوازن کیا جائے گا ان موضوعات پر بھی بحث کی گئی۔ٹاسک فورس کا موقف ہے کہ ریاست میں کرونا کے حالات ایسے ہیں کہ لاک ڈاؤن نافذ کئے جانے کی ضرورت ہے۔وزیر اعلی کے دفتر کی جانب سے ایک ٹوئیٹ میں کہا گیا کہ ریاستی ٹاسک فورس کے ساتھ میٹنگ میں وزیراعلی نے آکسیجن اور بستروں کی دستیابی، ریمڈی سیوئیر کی فراہمی اور استعمال، علاج و معالجے میں سہولت، وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے عائد پابندیوں سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا۔میڈیکل ایجوکیشن منسٹر امیت دیشمکھ، ریاستی چیف سکریٹری سیتارام کنتے اور دیگر اعلی عہدیداروں نے بھی اس میٹنگ میں شرکت کی۔وزیراعلی ادھو ٹھاکرے پیرکے روز فائنانس محکمہ اور دیگر متعلقہ محکموں کے ساتھ ایک میٹنگ کریں گے اسکے علاوہ اسی ہفتے ایک کابینی میٹنگ کا انعقاد بھی کیا جائے گا جس میں کرونا کی موجودہ صورتحال، لاک ڈاؤن اور دیگر معاملات پر غور کیا جائے گا۔ٹوپے نے کہا کہ ٹاسک فورس کی میٹنگ کے دوران ریاست میں آکسیجن جنریشن پلانٹ کی تنصیب پر بھی غور کیا گیا ہے۔سنیچر کے روز ادھو ٹھاکرے نے ریاست میں کرونا کے بڑھتے ہوئے معاملات کے تناظر میں سخت لاک ڈاؤن کا اشارہ دیا تھا۔انہوں نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے آل پارٹی میٹنگ میں بھی ریاست کے حالات پر تبادلہ خیال کیا تھا۔گزشتہ ہفتے ریاستی حکومت مزید پابندیاں عائد کرتے ہوئے سنیچر اتوار کو لاک ڈاؤن،  نائٹ کرفیو اور سخت ہدایات جاری کی تھیں۔یہ تمام پابندیاں 30 اپریل تک رہیں گی۔

 

رکن اسمبلی مفتی محمد اسمعیل کے ساتھ سول اور سہارا اسپتال کا جائزہ لیا، آکسیجن سپلائیکو سینٹرلائز کرنے کا مطالبہ منظور

مالیگاؤں: بروز پیر رات تقریباً 9 بجے ریاستی وزیر برائے صحت عامہ راجیش ٹوپے نے مالیگاؤں سول اسپتال اور سہارا اسپتال کا ہنگامی دورہ کیا۔ریاست میں کرونا مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافے کے پیش نظر راجیش ٹوپے نے مالیگاؤں کے کووڈ سینٹرز کا جائزہ لیا۔اس موقع پر رکن اسمبلی مفتی محمد اسمعیل قاسمی بھی موجود تھے۔شہر میں آکایجن سلینڈر کی قلت سے متعلق رکن اسمبلی نے راجیش ٹوپے کو آگاہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ آکیسجن سلینڈر فراہمی کو سینٹرلائز کیا جائے، رکن اسمبلی کے اس مطالبے کو راجیش ٹوپے نے فوری طور پر منظور کرلیا۔واضح رہے کہ گذشتہ کچھ دنوں سے شہر کووڈ سینٹرز پر مریضوں کی تعداد میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، شہر میں آکسیجن سلینڈر کی قلت کے سبب مریضوں کو تکالیف کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ اس ضمن میں راجیش ٹوپے نے آکیسجن سلینڈر کی فراہمی کے بہتر انتظامات کا تیقن دیا۔

 

وزیر صحت راجیش ٹوپے نے کہا 2 اپریل کو لاک ڈاؤن کا اعلان نہیں بلکہ نئی گائیڈ لائن جاری کی جائے گی، عوام رہنما ہدایات پر سختی سے عمل کریں

مہاراشٹر: ریاستی وزیر برائے صحت عامہ راجیش ٹوپے نے جمعرات کے روز کہا کہ مہاراشٹر میں 2 اپریل کو لاک ڈاؤن نافذ کرنے کے اعلان سے متعلق افواہوں کا بازار گرم ہے لیکن 2 اپریل کو مہاراشٹر میں لاک ڈاؤن کا اعلان نہیں کیا جائے گا۔راجیش ٹوپے نے کہا کہ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کی بجائے ریاست میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے سخت قوانین نافذ کئے جائیں گے۔واضح رہے کہ ریاست میں 43 ہزار سے زائد، اور ممبئی میں 8 ہزار سے زائد نئے معاملات سامنے آنے کے بعد راجیش ٹوپے کا مذکورہ بیان سامنے آیا۔ٹوپے نے کہا کہ فی الحال حکومت ریاست میں دوبارہ  لاک ڈاؤن نافذ کرنے کے حق میں نہیں ہے بلکہ وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے کیلئے سخت اقدامات کئے جائیں گے اور مزید پابندیاں عائد کی جائیں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ عوام کو کووڈ-19 رہنما ہدایات پر سختی سے عمل کرنا ہوگا، ماسک لازمی لگانا ہوگا، سوشل ڈسٹنسنگ کا خیال رکھنا ہوگا اور بھیڑ بھاڑ کرنے سے احتیاط کرنا ہوگا۔ٹوپے نے گذشتہ ہفتے وزیراعلی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ ایک ہنگامی میٹنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ادھو ٹھاکرے نے واضح طور پر کہا تھا کہ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کے علاوہ کوئی متبادل نہیں ہے۔ٹوپے نے مزید کہا کہ اس میٹنگ میں اس نقطہ پر بھی غور کیا گیا تھا کہ اگر ریاست میں لاک ڈاؤن نافذ کیا جاتا ہے تو کون کون سے شعبے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں۔ٹوپے نے آج کہا کہ 2 اپریل سے مہاراشٹر میں دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ نہیں کیا جائے گا لیکن حکومت نئی اور سخت گائیڈ لائن جاری کرے گی۔ٹوپے نے اس بات کی وضاحت کی کہ ممبئی میں ایک یا دو اسپتالوں کے علاوہ کسی اسپتال میں بیڈ کی قلت نہیں ہے۔حکومت ویکسینیشن ڈرائیو پر زیادہ توجہ دے رہی ہے خاص کر 45 سے زیادہ عمر والوں کو ویکسن دیئے جانے پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ٹوپے نے پارٹی لیڈران سے کہا کہ وہ نوجوانوں کو اعتماد میں لیں اور جنہیں ویکسن کی ضرورت ہے انہیں ویکسن مہیا کرانے کے انتظامات کریں۔