اگر مفتی اسمٰعیل بغیر سوچے سمجھے گمراہ کن بیان نہیں دیتے تو آج شہر کی تین سو سے زائد مساجد و مدارس میں سولار سسٹم لگانے کی منظوری حاصل کرلیتے: آصف شیخ
مالیگاؤں (پریس ریلیز) شہر کی 110 مساجد و مدارس میں سولار سسٹم نصب کرنے کی منظوری اور پانچ کروڑ روپے فنڈ دستیاب کروانے والے آصف شیخ رشید کی کامیاب جدوجہد پر آج محوی نگر میں واقع مسجد عبد العزیز بیچئی کے ٹرسٹیان و ذمہ داران نے آصف شیخ کا استقبال کرتے ہوئے انکا شکریہ ادا کیا اور مستقبل میں نیک خواہشات پیش کی ۔اس موقع پر مولانا افتخار سالک نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مسجد عبد العزیز بیچئی کے پاور بل کی ادائیگی کی ذمہ داری حاجی عبد العزیز بیچئی کے خاندان نے اپنے ذمہ لی ہے اور اب تک مسجد کا بل انکے فرزند عتیق احمد ہی ادا کرتے آرہے ہیں لیکن جولائی کے مہینے میں جیسے ہی آصف شیخ نے اعلان کیا تھا کہ ہم مسجد و مدرسہ میں سولار سسٹم کی منظوری مہاراشٹر سرکار سے لاکر دینگے، عتیق احمد نے مسجد کے ذمہ داران سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں آصف شیخ کی اپیل پر توجہ دیکر اس اسکیم کا فائدہ حاصل کرنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے بس یوں ہی خانہ پری سمجھ کر آصف شیخ کو مسجد کے پاور بل کا زیراکس دے دیا تھا اور ہم بھول گئے تھے کہ یہ کام اتنی آسانی سے ہوگا ۔لیکن ہماری توقع کیخلاف آصف شیخ نے چند دنوں میں ہی شہر کی 110 مسجد و مدرسہ میں سولار پینل کی منظوری اجیت پوار سے بات چیت کرتے ہوئے جی آر میں ترمیم کر کے حاصل کرلی ۔اس پر ہمیں بہت خوشی و حیرانی ہوئی اور اب مسجد میں سولار سسٹم نصب کرنے کیلئے پی ڈبلیو ڈی کے انجینئر جائزہ لینے بھی پہنچ گئے ہیں ۔مولانا افتخار سالک نے کہا کہ مسجد اللہ کا گھر ہوتا ہے اور مسجد کے کسی بھی کار خیر میں حصہ لینے والے کو اللہ تعالیٰ اجر عظیم عطا فرماتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ شیخ آصف کے والد اور انکی والدہ بھی نیک فعال تھیں ۔انہوں نے بھی مسجد و مدرسہ کے کار خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا ہم ان کیلئے دعائے مغفرت کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے مرحومین کے حق میں دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انکے درجات کو بلند فرمائے ۔مولانا افتخار سالک نے مسجد عبد العزیز بیچئی کے ذمہ داران کی جانب سے آصف شیخ رشید کا شکریہ ادا کیا ۔اس موقع پر آصف شیخ رشید نے کہا کہ ہم نے اجیت دادا پوار سے ملاقات کرتے ہوئے بات چیت کی کہ ہمیں ڈاکٹر ذاکر حسین مدرسہ بورڈ کے کئی نقاط سے ہٹ کر جس طرح مائناریٹی و پلاننگ ڈپارٹمنٹ سے فنڈ دستیاب ہوتا ہے اسی طرح سادہ سادہ فنڈ فراہم کریں تاکہ مستقبل میں مسجد و مدرسہ کو کسی بھی طرح کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔اس پر اجیت پوار نے جی آر میں ترمیم کیا اور ہمیں مسجد و مدرسہ کیلئے سولار نصب کرنے کی منظوری دیتے ہوئے پانچ کروڑ روپے کا خطیر فنڈ بھی فراہم کیا ۔آصف شیخ نے کہا کہ ہم نے ابھی دوسری یادی میں 80 مساجد و مدارس کا عریضہ اجیت پوار کو دیا ہے اور ابھی مزید سو سے زائد عریضے بھی موصول ہوگئے ہیں ہم ان عریضوں کو بھی اجیت پوار کے سامنے رکھ کر منظوری حاصل کرنے کی کوشش کرینگے ۔آصف شیخ نے کہا کہ اگر الیکشن ڈکلیئر نہیں ہوا تو ان سب کی منظوری حاصل کی جائے گی ورنہ ان عریضوں کو الیکشن بعد منظور کروا کر دیا جائے گا ان شاء اللہ ۔آصف شیخ نے کہا کہ جس دن ہم نے اعلان کیا تھا اگر اسی درمیان مفتی اسمٰعیل بغیر سوچے سمجھے گمراہ کن بیان نہیں دیتے تو آج شہر کی تقریباً تین سو سے زائد مساجد و مدارس میں سولار سسٹم لگانے کی منظوری حاصل کرلیتے ۔آصف شیخ نے اس موقع پر مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کا بھی شکریہ ادا کیا ۔آصف شیخ نے مستقبل میں مزید کاموں کو انجام دینے کا عزم ظاہر کیا ہے ۔یہاں مسجد عبد العزیز بیچئی کے ٹرسٹیان کے علاوہ مصلیان مسجد و محلہ کے سرکردہ افراد موجود تھے ۔
مہاراشٹر اسٹیٹ بورڈ آف سکینڈری اینڈ ہائر سکنڈری ایجوکیشن نے آج اعلان کیا کہ کل بروز منگل شام چار بجے 12 ویں جماعت کے نتائج کا اعلان کردیا جائے گا, وزیربرائے اسکولی تعلیم ورشا گائیکواڑ نے اس کی تصدیق کی ہے۔بورڈ نے اس تعلق سے چند ویب سائٹس کا ذکر کیا ہے جس پر بارہویں کے طلباء اپنے نتائج دیکھ سکتے ہیں۔واضح رہے کہ 16 جولائی کو ایس ایس سی بورڈ کے نتائج ظاہر کئے گئے تھے۔ویب سائٹ کریش ہونے کے سبب طلباء کو کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔اب کل یعنی 3 اگست بروز منگل بارہویں جماعت کے نتائج ظاہر کئے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔طلباء شام چار بجے مندرجہ ذیل ویب سائٹس پر اپنے نتائج دیکھ سکیں گے۔
شہر کےصحافتی معیار میں گراوٹ، صحافیوں پر اکثر و بیشتر ہونے والی تنقیدوں کا ذمہ دار کون؟ صحافیوں کو سر جوڑ کر بیٹھنے کی ضرورت
شہر مالیگاؤں میں ادبی و صحافتی ذوق رکھنے والوں کی کمی نہیں ہے۔ان میں سے ایک اے ٹی ٹی ہائی اسکول کے مدرس نعیم سلیم سر کی ایک تحریر "پریس" نظر سے گزری۔جس میں انہوں نے لفظ پریس کے مختلف معنی وقت کے ساتھ ساتھ ان کے ادراک کا ذکر بڑے ہی مزاحیہ انداز میں کیا ہے۔
بے شک صحافت جمہوریت کا چوتھا ستون ہے لیکن آج صحافتی اقدار کی جس قدر دھجیاں اڑائی جارہی ہیں صحافت اور صحافیوں کی قدر و منزلت میں بتدریج کمی آتی جارہی ہے۔صحافی رعب اور دبدبہ ضرور ہوا کرتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ وہ صحافی ہو۔جس طرح نعیم سر نے اپنی تحریر میں ایک مخصوص طبقہ پر طنز کیا ہے جو موٹر سائیکلوں پر پریس لکھوانے اور پریس کارڈ یافتہ ہونے کے سبب ایسا محسوس کرنے لگتا ہے جیسے اسے سرخاب کے پر لگ گئے ہوں، اب نہ تو اسے کوئی روک ٹوک سکتا ہے نا پولیس اس کا کچھ بگاڑ سکتی۔آج باکل ایسا ہی دیکھا جارہا ہے۔صحافت کے حروف تہجی سے بھی ناواقف کچھ لوگ اپنی گاڑیوں پر پریس لکھوا کر، پریس کارڈ لے کر اس طرح شہر بھر میں دندناتے پھر رہے ہیں جیسے ان سے بڑا صحافی کوئی نہ ہو۔لیکن صاحب حقیقت تو یہ ہے کہ صرف گاڑی پر پریس لکھوانے اور کارڈ رکھنے سے کوئی صحافی نہیں بن جاتا۔آپ کسی درجہ میں صحافت سے ضرور منسلک ہوسکتے ہیں لیکن صحافی بننا اور بطور صحافی ذمہ داریاں نبھانا منہ کا کھیل نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں :۔۔۔۔۔مالیگاؤں کے موجودہ حالات،عوام اور میڈیا کا کردار
نعیم سر کی تحریر حقیقت پر مبنی ہے، انہوں نے موجودہ حالات اور صحافیوں کے کردار پر بڑے ہی خوبصورت انداز میں خفیف سا طنز کیا ہے۔ لیکن سنجیدگی سے غور کیا جائے تو ان کی تحریر اصل صحافیوں کو جھنجوڑنے والی ہے۔ آج جعلی پریس کارڈ جاری کرنا کوئی مشکل کام نہیں رہا، ایک بڑی رقم کے عوض کارڈ جاری کئے جارہے ہیں۔ لیکن شاید ایسا کرنے والوں کو علم نہیں ہے کہ یہ کتنا خطرناک ہوسکتا ہے۔
لاک ڈاؤن کے بعد ایسا لگتا ہے شہر میں رپورٹرز (دانشتہ طور پر صحافی کی اصطلاح استعمال نہیں کی گئی ہے) کا سیلاب آگیا ہے۔حتی کہ سیاسی لیڈران کی جانب سے آئے دن بیانات بھی سامنے آرہے ہیں کہ کتے کو پتھر مارو تو یوٹیوبر کو لگتا ہے۔صحافت کا نام کیوں اس قدر بدنام ہوگیا ہے؟ نعیم سر کی تحریر حالانکہ ہلکا سا طنز ہے لیکن ایسے بہت سے لوگ ہیں جو صحافیوں اور شہر کی صحافت پر طنز کستے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور اس کی ذمہ داری بہرحال صحافت سے وابستہ افراد پر عائد ہوتی ہے۔سنجیدہ صحافیوں کو اس تعلق سے فکر کرنے اور ضروری اصلاحات کرنے کی اشد ضرورت ہے۔کم از کم صحافت سے وابستہ افراد کو بنیادی اصول، زبان، صحافتی اقدار اور اسلوب سے واقفیت پر زور دینا چاہیے۔آج شہر میں صحافیوں کا جو مقام ہے وہ واقعی قابل تشویش ہے، صحافت سے وابستہ اہل علم حضرات کو اس جانب خصوصی توجہ دینی چاہیے۔
مالیگاؤں: 17 جولائی(پریس ریلیز ) جئے مہاراشٹر نیوز چینل پر ایک ویڈیو چلا کر مالیگاؤں گاندھی کپڑا مارکیٹ کو بدنام کرنے کی مذموم کوشش کی گئی۔سابق رکن اسمبلی آصف شیخ نے مالیگاؤں ایڈیشنل ایس پی چندر کانت کھانڈوی سے مطالبہ کیا کہ ویڈیو کو مالیگاؤں کے نام سے منسوب کرکے اسے وائرل کرنے اور نشر کرنے والے نیوز چینل پر فوری کرروائی کی جائے۔واضح رہے کہ گذشتہ دو روز سے جئے مہاراشٹر نیوز چینل پر ایک ویڈیو وائرل ہورہی ہے اس ویڈیو کو مالیگاؤں کی گاندھی کپڑا مارکیٹ سے منسوب کر کے مالیگاؤں اور گاندھی مارکیٹ کو بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔اس پر فوری طور پر روک لگانے اور خاطی افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔این سی پی لیڈر آصف شیخ نے کہا کہ ویڈیو میں دکھائی جانے والی نازیبا حرکات کی ہم پرزور مذمت کرتے ہیں، یہ واقعہ چاہے جہاں کا بھی ہو لیکن یہ گاندھی مارکیٹ مالیگاؤں کا نہیں ہے۔اسے گاندھی کپڑا مارکیٹ کے نام سے منسوب کرکے ہندو مسلم سماج میں تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مالیگاؤں شہر میں ہندو مسلم ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی، محبت اور باہمی تعاون کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں۔اس ویڈیو کے وائرل ہونے کی ہم پرزور مذمت کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد شیخ آصف نے گاندھی کپڑا مارکیٹ کے تاجروں کے ساتھ ایڈیشنل ایس پی چندر کانت کھانڈوی سے ملاقات کی اور مذکورہ واقعہ کی تفتیش اور خاطی افراد و نیوز چینل جئے مہاراشٹر پر سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
دنیا کرونا کی تیسری لہر کی سمت تیزی سے بڑھ رہی ہے، ہندوستان کیلئے آئندہ 125 دن نہایت اہم، تیسری لہر ایک بڑا چیلنج ثابت ہوسکتی ہے
کرونا کے نئے معاملات میں تیزی کے ساتھ کمی ہونے کے باعث لوگوں میں لاپرواہی بڑھتی جارہی ہے۔اس درمیان جمعہ کے روز مرکزی حکومت نے کہا کہ ہندوستان اب تک کووڈ-19 کے خلاف ہرڈ امیونٹی حاصل نہیں کرسکا ہے اس لئے وائرل انفیکشن اور کرونا کی تیسری لہر کے امکانات سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔اس وباء پر قابو پانے کیلئے آئندہ 125 روز بہت اہم ہیں۔نیتی آیوگ کے رکن ڈاکٹر وی کے پال نے کہا کہ ہمیں اب وائرس کو پھیلنے سے روکنے کی ضرورت ہے، اور یہ کووڈ کے خلاف احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کرکے ہی ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم اب تک کرونا کے خلاف ہرڈ امیونٹی تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔ہم اس وائرس کے پھیلاؤ کی نئی شکل کے طور پر اس کی تباہ کاریاں دیکھ سکتے ہیں لیکن اب اس کے پھیلاؤ کو روکنا ہوگا اور یہ تب ہی ممکن ہے جب ہم محفوظ زون میں رہنے کیلئے کرونا کے خلاف گائیڈ لائن پر سختی سے عمل پیرا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ کرونا کے خلاف لڑائی میں آئندہ 125 دن نہایت اہم ہوں گے۔تیسری لہر سے متعلق ڈاکٹر وی کے پال نے کہا کہ اکثر علاقوں میں صورتحال بد سے بدتر ہوگئی ہے۔کل ملاکر دنیا تیسری لہر کی طرف بڑھ رہی ہے۔ڈبلیو ایچ او نے کرونا کی تیسری لہر سے متعلق انتباہ دیا ہے کہ اسے غیر سنجیدگی سے نہیں لیا جاسکتا، تیسری لہر ایک بڑا چیلنج ہوگی۔کرونا معاملات میں کمی کے بعد کئی طرح کی راحت دی گئی ہے، عام زندگی کو دوبارہ معمول پر لانے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن ان لاک کے دوران بڑی تعداد میں لوگ کرونا اصولوں اور قوانین کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔ماسک کے استعمال میں کمی آئی ہے۔مرکزی محکمہ صحت کے سکریٹری لو اگروال نے کہا کہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ زندگی معمول پر آنے اور بہت سے سرگرمیاں جاری ہونے کے بعد لوگوں نے ماسک کا استعمال ترک کردیا ہے۔ہمیں اپنی روزمرہ زندگی میں ماسک کے استعمال کو لازمی طور پر شامل کرلینا چاہیے۔لو اگروال نے کہا کہ کرونا کے معاملات میں دوبارہ اضافہ ہورہا ہے۔ میانمار، انڈونیشیا، ملیشیا اور بنگلہ دیش میں کرونا کی تیسری لہر کا انتباہ جاری کردیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاورلوم صنعت سے متعلق مفتی اسمعیل کی نمائندگی پر سوال، رکن اسمبلی کی وضاحت
وزارت صحت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نے آج 6 ریاستوں (کیرالہ، کرناٹک، مہاراشٹر، آندھراپردیش، تمل ناڈو اور اڈیشہ) کے وزرائے اعلی سے بات کی۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ ابھی بھی کچھ ریاستوں میں مزید نئے معاملات درج کئے جارہے ہیں۔ وزیر اعظم نے کوویڈ کی حکمت عملی پر زور دیا ہے۔پی ایم مودی نے ان ریاستوں کو بتایا ہے کہ پی ایم کیئرز نے پی ایس اے پلانٹس کو منظوری دے دی ہے۔ اس کام کی نگرانی کے لئے نوڈل آفیسر مقرر کئے جائیں گے اور انہیں اگلے 15 دن میں مقرر کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ بچے بھی تیسری لہر میں متاثر ہوسکتے ہیں، ان کی حفاظت کے لئے مناسب منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر وی کے پال نے کہا کہ ویکسین کی خوراک سے اموات کی شرح میں 82 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔جبکہ دوسری لہر کے دوران ویکسین کی دو خوراک سے کرونا کی وجہ سے ہونے والی 95فیصد اموات کو روکنے میں کامیاب ملی ہے۔
عیدِ قرباں کے پیش نظر شہر کی تمام عید گاہوں پر سخت پولیس بندوبست، نماز عیدالضحی گھروں پر ہی ادا کرنے کی ہدایت
مالیگاؤں: عیدالضحی کے پیش نظر 16 جولائی بروز جمعہ شہر ایڈیشنل ایس پی چندر کانت کھانڈوی نے ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے شہریان کو عیدالضحی کی مبارکباد پیش کی اور اپیل کی کہ عیدالضحی کی نماز اپنے گھروں پر ہی ادا کریں۔کوئی بھی شخص عید گاہوں کی سمت جانے کی کوشش نہ کرے۔واضح رہے کہ مسلمانوں کے دوسرے سب سے بڑے تہوار عیدالضحی کی آمد آمد ہے، اس موقع پر قانون کی بالادستی قائم رکھتے ہوئے شہر کے امن وامان اور سلامتی کے نقطۂ نظر سے محکمہ پولیس پوری طرح مستعد ہے۔شہر کے امن وامان کو برقرار رکھنے کیلئے دفعہ 110 کے تحت 24 افراد پر کارروائی کی گئی ہے، وہیں 6 جرائم پیشہ افراد کو شہر بدر کرنے کی تجویز بھی روانہ کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
پاورلوم صنعت سے متعلق مفتی اسمعیل کی نمائندگی پر سوال، رکن اسمبلی کی وضاحت
اس کے علاوہ دفعہ 107 کے تحت قریب 5 سو افراد پر کارروائی کی گئی ہے۔ پولیس انتظامیہ نے متنبہ کیا کہ شہر میں اسی طرح قانونی کارروائی کا سلسلہ جاری رہے گا۔شہر کے امن وامان کو خراب کرنے کی کوشش کرنے والے، جرائم پیشہ و شرپسند افراد، عوام کو دھمکانے والے افراد اور زمین پلاٹ کے معاملے میں غنڈہ گردی کرنے والے افراد سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ایسے افراد کے خلاف شکایت درج کروانے کیلئے ایک ہیلپ لائن نمبر جاری کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ صبح 11 بجے سے دوپہر 2 بجے تک، اور شام میں 3 سے 5 بجے کے درمیان براہ راست ایڈیشنل ایس پی آفس پر شکایت درج کروائی جاسکتی ہے۔پولیس انتظامیہ نے کہا کہ کسی بھی معاملے میں شکایت درج کروانے کیلئے 8010735413 پر رابطہ کریں اور شکایت درج کروائیں، پولیس انتظامیہ سخت سے سخت کارروائی کرے گی۔










