Articles by "Delhi CM"
Showing posts with label Delhi CM. Show all posts

سی بی آئی کا چھاپہ سسوڈیا کی اچھی کارکردگی کا نتیجہ ہے جس کی عالمی سطح پر تعریف ہورہی ہے: اروند کیجریوال 

دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسوڈیا کی رہائش گاہ پر سی بی آئی کے چھاپے کے بعد وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے کہا کہ سی بی آئی کا چھاپہ سسوڈیا کی اچھی کارکردگی کا نتیجہ ہے جس کی عالمی سطح پر تعریف ہورہی ہے. انہوں نے کہا کہ اس قبل بھی سی بی آئی کے چھاپے پڑتے تھے، سابقہ کی طرح اس بار بھی کچھ نہیں ملے گا.

واضح رہے کہ آج جمعہ کی صبح دہلی ایکسائز پالیسی کے سلسلے میں سی بی آئی نے دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسوڈیا کی رہائش گاہ سمیت 10 سے زائد مقامات پر چھاپے مارے۔

غورطلب ہے کہ جس دن دہلی کے تعلیمی ماڈل کو سراہا گیا اور منیش سسوڈیا کی تصویر امریکہ کے سب سے بڑے اخبار دی نیویارک ٹائمز کے صفحہ اول پر شائع ہوئی، مرکز نے منیش کی رہائش گاہ پر سی بی آئی بھیج دی. اروند کیجریوال نے ٹوئیٹ کرکے کہا کہ سی بی آئی کا خیرمقدم ہے، تفتیش میں مکمل تعاون کریں گے. اس سے قبل بھی چھاپے مارے گئے اور تفیش ہوئی لیکن کچھ نہیں ملا. اس مرتبہ بھی کچھ نہیں ملے گا.

 

دہلی حکومت کے گھر گھر راشن پہنچانے کے منصوبے پر بی جے پی کے اعتراض پر کیجریوال حکومت کا تیکھا ردعمل، مرکز کو ریاستی حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے: کیجریوال

ریپبلک بھارت ٹی وی چینل پر ایک ڈبیٹ کے دوران عام آدمی پارٹی لیڈر آتشی نے کہا کہ بی جے پی لیڈر او پی شرما نے اروند کیجریوال پر راشن مافیا کے سربراہ ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔آتشی نے سوال کیا کہ کیا یوپی میں ہونے والے راشن گھوٹالے کے ذمہ دار بھی کیجریوال ہیں؟ بی جے پی کی زیر اقتدار ریاستوں میں راشن معاملے میں بدعنوانیوں کے ذمہ دار بھی کیجریوال ہیں؟ آتشی نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ صرف دہلی میں راشن معاملات ابتر ہیں جبکہ ملک کی دیگر ریاستوں میں راشن کے انتظامات اتنے اچھے ہیں کہ پوچھیئے مت۔آتشی نے ڈبیٹ میں شامل بی جے پی رکن اسمبلی سے کہا کہ ذرا ایک مرتبہ ملک کا دورہ کر آئیں اور دیکھیں کہ ملک کی غریب عوام کو کتنی مرتبہ راشن کی دکان پر جانا پڑتا ہے۔واضح رہے کہ دہلی میں ڈور ٹو ڈور راشن منصوبے پر بی جے پی اور عام آدمی پارٹی کے درمیان جنگ چھڑ گئی ہے۔دہلی کے وزیراعلی اروند کیجریوال نے کہا کہ مرکزی حکومت کو ریاستی حکومتوں سے لڑنے اور انہیں کوسنےکی بجائے ان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔کیجریوال نے ٹوئیٹر پر اس میڈیا رپورٹ کو ٹیگ کیا جس میں مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے کیجریوال حکومت کو لوگوں تک راشن اور آکسیجن پہنچانے میں ناکامی کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔اس کے جواب میں کیجریوال نے کہا کہ ملک اس وقت ترقی کرے گا جب ملک کی 130 کروڑ عوام، ریاستی حکومتیں اور مرکزی حکومت ملک کر ٹیم انڈیا کی طرح کام کریں گی۔

کیجریوال نے ٹوئیٹ کیا کہ آج لوگ ملک میں ایسی قیادت کے خواہاں ہیں جو پورا دن ریاستی حکومتوں کو گالی دینے اور ان سے لڑنے کی بجائے سب کو ساتھ لے کر چلے۔ملک اسی وقت ترقی کرے گا جب 130 کروڑ عوام، ریاستی و مرکزی حکومت ملک کر ٹیم انڈیا کی طرح کام کریں گے۔اتنا گالی گلوچ کرنا ٹھیک نہیں ہے۔دہلی کے نائب وزیراعلی منیش سسوڈیا نے الزام عائد کیا کہ مرکزی حکومت ان دنوں کچھ ریاستوں حکومتوں کو برا بھلا کہنے کے علاوہ اور کچھ نہیں کررہی ہے۔گھر گھر راشن منصوبے پر مرکزی حکومت کے اعتراض کے جواب میں سسوڈیا نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اب بھارتیہ جھگڑا پارٹی بن چکی ہے۔

 

اساتذہ کو کرونا وارئیرس کی فہرست میں شامل کرنے، موت ہوجانے کی صورت میں مالی اعانت، تمام اسپتالوں میں بیڈ مختص کرنے اور طبی سہولیات دینے کا مطالبہ

راجدھانی دہلی میں کرونا کے نئے معاملات میں کمی آئی ہے لیکن اموات کا سلسلہ جاری ہے۔مختلف اسپتالوں میں لاشوں کے بہتر مینجمنٹ کیلئے دہلی حکومت نےایک حکم نامہ جاری کرتے ہوئے اسپتالوں کے مردہ گھروں میں اساتذہ کی ڈیوٹی لگا دی ہے۔دہلی نگر نگم شکشک سنگھ نے مردہ گھروں میں اساتذہ کی ڈیوٹی لگائے جانے کی مخالفت کی ہے۔دہلی نگر نگم شکشک سنگھ نے حکومت کے اس اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے وزیراعلی، نائب وزیراعلی، ہیلتھ منسٹر، ڈپیٹی گورنر اور پرائم منسٹر آفس کو ٹیگ بھی کیا ہے۔شکشک سنگھ نے ٹوئیٹ میں لکھا کہ اساتذہ کی ڈیوٹی مردہ گھروں میں لگا دی گئی ہے اور وہ بھی رات میں، جہاں اساتذہ کی حالت قابل رحم ہوگئی ہے۔کبھی بھی ڈر اور خوف کے سبب کسی کو دل کا دورہ پڑ سکتا ہے۔اساتذہ کو ایسے مقامات پر خدمات پر مامور نہیں کرنے دیا جانا چاہیے۔کھانے اور راشن کی تقسیم، ڈسپنسری،آئسولیشن سینٹر،ویکسینیشن سینٹر، آئی ٹی-پی سی آر ٹیسٹ کرنا،شمان گھاٹ، ماسک نہ لگانے پر جرمانہ وصول کرنا جیسی خدمات انجام دینے کے بعد بھی اساتذہ کو مردہ گھروں میں ڈیوٹی پر لگایا گیا ہے جس سے انہیں شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔نگر نگم شکشک سنگھ نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام اسپتالوں میں اساتذہ کیلئے کچھ بیڈ مختص کئے جائیں، انہیں کرونا یودھا تسلیم کرتے ہوئے موت ہوجانے کی صورت میں تمام سہولیات فراہم کی جائیں۔گذشتہ سال کرونا کے وقت موت ہونے پر دہلی حکومت نے کچھ اساتذہ کو مالی اعانت فراہم کی تھی لیکن اس مرتبہ ایسا کچھ بھی نہیں کیا گیا۔

نگر نگم شکشک سنگھ کے سینئر نائب صدر ویبھا سنگھ نے کہا کہ اساتذہ دیڑھ سال سے بطور کرونا وارئیرس کووڈ کیلئے مختلف خدمات انجام دے رہے ہیں۔حالانکہ کسی قسم کی کوئی سہولیت فراہم نہیں کی گئی۔اسکے علاوہ انہیں روٹیشن بھی نہیں دیا جارہا ہے۔ویبھا نے مزید کہا کہ دہلی حکومت، میونسپل کارپوریشن اور مرکزی حکومت سے درخواست ہے کہ اساتذہ کو بھی کرونا وارئیرس کی فہرست میں شامل کیا جائے۔جس طرح کرونا یودھاؤں کو وقفہ وقفہ سے روٹیشن دیا جاتا ہے، ایک ماہ کام کرنے کے بعد ایک ماہ چھٹی دی جاتی ہے اسی طرح اساتذہ کو بھی سہولت دی جائے۔ایک ڈیوٹی سے ہٹا کر فوری طور پر دوسری ڈیوٹی پر مامور نہ کیا جائے۔جب کہ اساتذہ کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا جارہا ہے۔