ملک میں کرونا کے حالات پر اویسی حکومت اور مودی پر برہم، مودی حقیقت سے دور ہیں، کرونا کو شکست دینے کے دعوے کی قلعی کھل گئی، دسمبر تک 75 کروڑ ویکسن کہاں سے لائیں گے مودی؟
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین سربراہ اسدالدین اویسی نے ملک میں کرونا کے سنگین حالات کے پیش نظر بی جے پی حکومت اور خاص طور پر وزیراعظم نریندر مودی پر سنگین الزامات عائد کئے ہیں۔ایک انٹرویو میں اویسی نے مودی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ جو شخص زمین سے اٹھ کر وزیراعظم بنا ہے اسے کے علاقے وارانسی میں گنگا ندی میں لاشیں تیر رہی ہیں اس سے برا اور کیا ہوسکتا ہے۔ایک ٹی وی چینل کے ساتھ بات چیت کے دوران حہدرآباد کے رکن پارلیمان اسدالدین اویسی نے حکومت پر کرونا کی دوسری لہر کیلئے تیاری نہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔اویسی نے کہا کہ حکومت کو پتہ تھا کہ کرونا کی دوسری لہر آئے گی لیکن حکومت نے اس کی تیاری نہیں کی اور اب حکومت جھوٹ پر جھوٹ بول رہی ہے۔جبکہ ملک میں لاشوں کا ڈھیر لگتا جارہا ہے۔انہوں نے کووڈ سے ہقنے والے اموات کے اعداد وشمار کو بھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق ملک بھر میں چار سے پانچ لاکھ اموات ہوئی ہیں۔یہ بات تو ان کے اخباروں نے لکھی ہے کہ صرف دو ہزار لاشیں تو اترپردیش میں ملی ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت پہلے تو سوتی رہی اور یہ کہتی رہی کہ ہم نے کرونا کو شکست دے دی ہے۔حتی کہ وزیراعظم نریندر مودی نے پارلیمنٹ میں خود یہ دعوی کیا تھا کہ حکومت کووڈ کے خلاف جنگ میں کامیاب ہوگئی ہے۔یہ کیسی کامیابی کا دعوی تھا۔حکومت نے بروقت ویکسن کی تیاری کا آرڈر بھی نہیں دیا تھا۔اسی لئے آج ملک میں ویکسن آسانی سے دستیاب نہیں ہے۔حد تو یہ ہے کہ حکومت نے سپریم کورٹ میں یہ کہہ دیا کہ امسال دسمبر تک ملک میں ویکسن کے 75 کروڑ ڈوز دستیاب ہوجائیں گے۔اویسی نے سوال کیا کہ حکومت یہ 75 کروڑ ڈوز کہاں سے لائے گی۔اویسی نے مزید کہا کہ حالات تشویشناک ہیں، ہمیں سنجیدگی سے غور وفکر کرنا ہوگا کہ اس وقت کیا اقدامات کئے جائیں۔حکومت کے ذریعے مثبت سوچ رکھنے کی اپیل پر اویسی نے کہا کہ حکومت ہمیں بتادے کہ ہم مثبت سوچ کہاں سے لائیں، جن لوگوں نے اپنوں کو کھویا ہے وہ کیوں کر مثبت رویہ اپنا پائیں گے۔آکسیجن ملتی نہیں، بلیک فنگس کی دوا دستیاب نہیں ہے،لوگ مر رہے ہیں۔حکو۔ت نے ہر چیز کو مزاق بنا دیا ہے۔اسدالدین اویسی نے مزید کہا کہ وزیراعظم حقیقت سے دور رہتے ہیں، ملک کے ساتھ اتنا بے ربط کسی کو نہیں دیکھا۔جس گنگا کی صفائی کیلئے پلانٹ لگائے ہیں اسی گنگا میں لاشیں بہہ رہی ہیں۔اویسی لاک ڈاؤن کے مخالف رہے ہیں اس سوال کے جواب میں اویسی نے کہا کہ لاک ڈاؤن سے ویکسن پیدا نہیں ہوسکتی اور نہ ہی آکسیجن مل سکتی ہے اور نہ بیڈ۔پھر لاک ڈاؤن سے کیا فائدہ؟ اویسی نے بتایا کہ سینٹر فار مانیٹرنگ آف انڈین ایکونومی کے مطابق لاک ڈاؤن کے سبب 2 کروڑ 70 لاکھ روزگار گھٹ گئے ہیں۔حکومت بار بار روپے کی دستیابی کی بات کرتی ہے تو غریبوں کے اکاؤنٹ میں دس دس ہزار روپے کیوں نہیں ڈال دیتی۔


Post A Comment:
0 comments: