سال 2010 میں گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں نام درج کروانے والی ایلیف کا قد 2.5 فٹ تھا، جسم کے کئی اعضاء ناکارہ ہونے کے سبب موت
سال 2010 میں دنیا کی سب سے پستہ قد خواتین کے طور پر گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں اپنا نام درج کروانے والی ایلیف کوکامن کی جمعرات کے روز موت ہوگئی۔وہ محض 33 سال ہی تھیں، ان کے جسم کے اکثر اعضاء نے کام کرنا بند کردیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:۔۔۔اومیکرون موسمی سردی کے وائرس سے زیادہ کچھ نہیں: امریکی ڈاکٹر کا دعوی
میرر میں چھپی ایک خبر کے مطابق سال 2010 میں پورے ایک سال تک ایلیف کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج رہا۔منگل کے روز اچانک ایلیف کی طبعیت خراب ہوئی جس کے سبب انہیں اسپتال میں داخل کیا گیا۔ میڈیکل رپورٹس کے مطابق ایلیف کے کئی اعضاء بالکل خراب ہوگئے تھے اور کام کرنا بند کردیا تھا۔ اسپتال میں داخل کرنے کے بعد ان کی حالت مزید بگڑی اور جمعرات کو ان کی موت ہوگئی۔
ایلیف کی لمبائی 72.6 سینٹی میٹر یعنی 2.5 فٹ تھی۔ جب گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں ان کا نام درج یوا تھا اس وقت انہوں نے کہا تھا کہ مجھے ہمیشہ سے امید تھی کہ کسی نہ کسی دن دن دنیا مجھے پہچانے گی۔بچپن میں میرے قد کے سبب اسکول کے بچے میرا مزاق اڑاتے تھے۔لیکن اسی وجہ سے مجھے ایک الگ شناخت ملی۔اب مجھے میرے قد پر کافی فخر ہے

Post A Comment:
0 comments: