Articles by "EDUCATION MINISTER"
Showing posts with label EDUCATION MINISTER. Show all posts

سیاست کے لیے ہم ذات اور برادری کے جھنڈے لے کر گھروں سے باہر نکلتے ہیں، اسی طرح ہمیں اپنے بچوں کے اسکولوں کے لیے بھی متحد ہوکر باہر نکلنا چاہیے

کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے کنوینر ابھجیت دِپکے نے جمعرات کو مہاراشٹر کے وزیر برائے اسکولی تعلیم دادا بھسے کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے ریاست کے سرکاری اسکولوں کی مبینہ خستہ حالی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ متعدد سرکاری اسکولوں میں طلبہ کو مناسب کلاس روم، بینچ، بیت الخلاء اور اسکول تک پہنچنے کے لیے محفوظ راستوں جیسی بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں ہیں۔

ابھجیت دپکے نے یہ مطالبہ لاتور کے ضلع کے اوسا تعلقہ کے اوجانی گاؤں میں واقع ضلع پریشد اسکول کے دورے کے دوران کیا۔ وہ اپنی تنظیم کی جانب سے گزشتہ ہفتے شروع کی گئی ’’اسکول ٹھیک کرو‘‘ مہم کے تحت اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اسکولوں کی حالت کے لیے وزراء اور منتخب نمائندوں کو جوابدہ بنایا جانا چاہیے اور عوام کو سیاسی قائدین پر تعلیم کو ترجیح دینے کے لیے دباؤ ڈالنا چاہیے۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دپکے نے کہا کہ ریاست کے کئی اسکولوں میں اب بھی مناسب کلاس روم، بیٹھنے کے لیے بینچ، بیت الخلاء اور محفوظ راستوں جیسی بنیادی سہولیات موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض اسکولوں میں طلبہ کے ساتھ ’’جانوروں سے بھی بدتر‘‘ سلوک کرنے جیسی صورتحال پیدا ہوچکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ طلبہ کی زندگی کا سوال ہے۔ جب سیاسی رہنما طلبہ کے لیے کچھ نہیں کررہے ہیں تو عوام انہیں ووٹ کیوں دیں؟ کیا عوام انہیں صرف اس لیے ووٹ دیتے ہیں کہ وہ ہیلی کاپٹروں میں سفر کریں؟ عوام کو یہ دیکھنا چاہیے کہ ان کے بچے کن حالات میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ انہوں نے سخت الفاظ میں کہا کہ ان وزراء کے کتوں کو بھی اس سے بہتر سہولیات حاصل ہیں۔

دپکے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں پر تعلیم کے لیے کام کرنے کا دباؤ ڈالیں۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی سیاسی رہنما ووٹ مانگنے کے لیے گاؤں میں آئے تو عوام اسے کہیں کہ جب تک وہ تعلیم کے لیے کام نہیں کرتا، وہ ووٹ مانگنے ان کے دروازے پر نہ آئے۔

انہوں نے کہا کہ سیاست کے لیے ہم ذات اور برادری کے جھنڈے لے کر گھروں سے باہر نکلتے ہیں، اسی طرح ہمیں اپنے بچوں کے اسکولوں کے لیے بھی متحد ہوکر باہر نکلنا چاہیے۔

مذہب کے نام پر کی جانے والی سیاسی بیان بازی کا حوالہ دیتے ہوئے ابھجیت دپکے نے کہا کہ یہ لوگ مسلسل کہتے ہیں کہ مذہب خطرے میں ہے۔ اتنے برسوں میں مذہب ختم نہیں ہوا تو کیا آپ کے دورِ اقتدار میں وہ ختم ہوجائے گا؟ مذہب کہیں نہیں جائے گا، لیکن بچوں کا مستقبل ضرور متاثر ہوسکتا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزراء اور اراکین اسمبلی اپنے بچوں کو بھی سرکاری اسکولوں میں پڑھائیں تاکہ انہیں ان اسکولوں میں زیرِ تعلیم طلبہ کو درپیش حقیقی مسائل کا اندازہ ہوسکے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا دادا بھسے کو وزیرِ اسکولی تعلیم کے عہدے پر برقرار رہنا چاہیے تو دپکے نے کہا کہ اسکولوں کی موجودہ حالت دیکھ کر انہیں محسوس ہوتا ہے کہ وزیرِ تعلیم کو اس عہدے پر برقرار نہیں رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت واقعی سرکاری اسکولوں کی بہتری کی فوری ضرورت کو سمجھنا چاہتی ہے تو وزراء اور منتخب نمائندوں کو اپنے بچوں کو انہی اسکولوں میں تعلیم دینی چاہیے۔

دپکے نے مزید الزام لگایا کہ برسوں سے اقتدار میں رہنے کے باوجود موجودہ حکومت سرکاری اسکولوں کی حالت میں خاطر خواہ تبدیلی لانے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی طلبہ ایسے اسکولوں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں جہاں ٹین کی چھتیں ٹوٹی ہوئی یا رسنے والی ہیں اور مناسب تعداد میں بینچ بھی دستیاب نہیں ہیں۔ اگر دس سال میں یہ بنیادی مسائل حل نہیں کیے جاسکے تو حکومت کو بتانا چاہیے کہ اس نے کیا حاصل کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ CJP اور مقامی شہری اسکولوں کے مسائل کے خلاف اجتماعی طور پر آواز اٹھائیں گے اور حکومت سے مطالبہ کریں گے کہ ان طلبہ کے لیے محفوظ آمدورفت کا انتظام کیا جائے جو کئی کئی کلومیٹر پیدل چل کر اسکول پہنچتے ہیں۔

اسکولوں میں سانپ کے کاٹنے سے بچوں کی مبینہ اموات کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے دپکے نے کہا کہ ایسے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حکام طلبہ کو محفوظ ماحول میں تعلیم فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے پہلے CJP ٹیم کی جانب سے معائنہ کیے گئے ایک اسکول کے غیر صحت بخش ماحول پر بھی تشویش ظاہر کی اور الزام لگایا کہ اسکول کے پیچھے جمع کباڑ اور گندگی کی وجہ سے سانپوں کی موجودگی کے لیے سازگار حالات پیدا ہوگئے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ CJP کی جانب سے کیے گئے معائنوں کے بعد بعض اسکولوں میں متعلقہ حکام نے کام شروع بھی کیا ہے۔

ابھجیت دپکے نے جمہوریت کو مضبوط بنانے کے لیے عوامی شمولیت کو ضروری قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے دوبارہ اپنی آواز بلند کرنا شروع کردی ہے۔ جمہوریت میں مزید تنظیمیں اور تحریکیں سامنے آنی چاہئیں۔ جتنے زیادہ لوگ آگے آکر اپنی بات کہیں گے، ہماری جمہوریت اتنی ہی مضبوط ہوگی۔

جین زی کے مسائل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2029 کے انتخابات تک نوجوان ایک بڑی انتخابی طاقت بن جائیں گے اور سیاسی جماعتوں کو ان کے مسائل پر توجہ دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو موجودہ وقت میں اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والی نوجوان نسل کے لیے بھی کام کرنا چاہیے اور خبردار کیا کہ اگر نوجوانوں کے مسائل کو نظرانداز کیا گیا تو آنے والے انتخابات میں وہ حکومتوں سے جواب طلب کریں گے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر حکومت نے سرکاری اسکولوں کی حالت بہتر نہیں کی تو احتجاج کی لہر گاؤں گاؤں تک پھیل سکتی ہے۔

لاتور میں NEET پیپر لیک معاملے کی CBI تحقیقات کے بارے میں دپکے نے الزام عائد کیا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تفتیش میں نچلی سطح کے ملزمین کو نشانہ بنایا جارہا ہے جبکہ بڑے لوگوں کو تحفظ فراہم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ اتنا بڑا معاملہ نظام میں اعلیٰ عہدیداروں کی مبینہ شمولیت کے بغیر پیش آیا ہوگا۔ صرف چند نچلی سطح کے لوگوں کو گرفتار کرکے کارروائی کا دعویٰ کرنا کافی نہیں ہے۔

مجموعی طور پر ابھجیت دپکے نے اسکول کے دورے کے ذریعے سرکاری اسکولوں میں فوری طور پر بنیادی سہولیات بہتر بنانے، وزراء اور منتخب نمائندوں کو جوابدہ بنانے اور بہتر تعلیمی سہولیات کے لیے عوامی دباؤ بڑھانے کا مطالبہ کیا۔

طالبات کیلئے معیاری کوچنگ کا آغاز،150 سے زائد داخلے، مستقبل میں NEET، TET، MPSC اور UPSC کی تیاری بھی کرائی جائے گی: آصف شیخ 

مالیگاؤں: مہاراشٹر کے وزیرِ تعلیم دادا بھسے نے بدھ کے روز مالیگاؤں میں سینٹرل اسمبلی حلقہ میں قائم شیخ رشید انسٹی ٹیوٹ آف لرننگ کا دورہ کیا اور مرحوم شیخ رشید کی یاد میں شروع کیے گئے اس فلاحی تعلیمی منصوبے کی ستائش کرتے ہوئے اسے شہر کے طلبہ، خصوصاً طالبات، کے روشن مستقبل کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔اس موقع پر آصف شیخ نے کہا کہ شیخ رشید صاحب کے انتقال کے بعد اہلِ خانہ اور رفقاء نے یہ فیصلہ کیا کہ مرحوم کی یاد کو زندہ رکھنے کے لیے کسی عمارت، چوک یا یادگار کے بجائے ایسا تعلیمی ادارہ قائم کیا جائے جو آنے والی نسلوں کے لیے مفید ثابت ہو۔ اسی سوچ کے تحت شیخ رشید انسٹی ٹیوٹ آف لرننگ کا قیام عمل میں لایا گیا، جہاں ابتدائی مرحلے میں پانچویں سے دسویں جماعت تک کی طالبات کے لیے معیاری کوچنگ کلاسز شروع کی گئی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ داخلہ مہم کے آغاز سے اب تک تقریباً 150 طالبات داخلہ لے چکی ہیں، جبکہ کلاسوں کا باقاعدہ تدریسی سلسلہ سے شروع ہوگا۔ مستقبل میں ادارے کے ذریعے نیٹ (NEET)، ٹی ای ٹی (TET)، ایم پی ایس سی (MPSC) اور یو پی ایس سی (UPSC) جیسے مسابقتی امتحانات کی تیاری کے لیے آن لائن لیکچرز اور خصوصی رہنمائی کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ طالبات کو مختلف ہنر اور روزگار سے متعلق تربیت فراہم کرنے کے منصوبے پر بھی کام جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ ادارہ مکمل طور پر طالبات کے لیے وقف ہے اور اس کے انتظام و انصرام کے لیے ایک غیر سرکاری تنظیم (این جی او) قائم کی گئی ہے۔ ادارے کی سرپرستی حفصہ شیخ کر رہی ہیں، جبکہ نمرہ شیخ چیئرپرسن اور عائشہ شیخ سیکریٹری کی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہیں۔

آصف شیخ کے مطابق ادارہ "نو پرافٹ، نو لاس" کی بنیاد پر چلایا جا رہا ہے۔ اسی مقصد کے پیش نظر سالانہ فیس صرف پانچ ہزار سے سات ہزار روپے مقرر کی گئی ہے تاکہ اساتذہ کی تنخواہوں اور عمارت کے بنیادی اخراجات پورے کیے جا سکیں، جبکہ کسی قسم کا تجارتی منافع حاصل کرنا ادارے کا مقصد نہیں ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ انسٹی ٹیوٹ میں طالبات کی حفاظت اور بہتر تعلیمی ماحول کو یقینی بنانے کے لیے جدید سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ پورے کیمپس میں چوبیس گھنٹے سی سی ٹی وی نگرانی، مکمل ایئر کنڈیشنڈ کلاس رومز، کینٹین اور خوبصورت باغ جیسی سہولیات موجود ہیں۔ اساتذہ کے تقرر کے لیے شہر کے ماہرین تعلیم پر مشتمل ایک خصوصی پینل تشکیل دیا گیا تاکہ تدریس کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔آصف شیخ نے والدین سے اپیل کی کہ وہ پانچویں سے دسویں جماعت تک زیرِ تعلیم اپنی بچیوں کو اس ادارے میں داخل کرائیں تاکہ وہ کم خرچ میں معیاری تعلیم حاصل کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم شیخ رشید ہمیشہ تعلیم اور سماجی خدمت کے فروغ کے خواہاں تھے اور یہ ادارہ انہی کے خواب کو عملی شکل دینے کی ایک کوشش ہے۔انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ مستقبل قریب میں مالیگاؤں میں ایک اور بڑے تعلیمی کیمپس کے قیام کا منصوبہ بھی عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا، جس سے شہر میں تعلیمی سہولیات میں مزید اضافہ ہوگا۔اس موقع پر وزیرِ تعلیم دادا بھسے نے شیخ رشید انسٹی ٹیوٹ آف لرننگ کے مختلف شعبوں کا معائنہ کیا اور انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ ادارہ مالیگاؤں کی طالبات کو معیاری تعلیم فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا اور شہر میں تعلیمی بیداری کے فروغ کا مؤثر ذریعہ ثابت ہوگا۔

 

उद्धव ठाकरे और राज ठाकरे ने संयुक्त पत्रकार परिषद,"आज मुंबई में अभिनंदन मोर्चा निकाला जाएगा

मुंबई: नीट पेपर लीक मामले को लेकर शिक्षा व्यवस्था में सुधार तथा केंद्रीय शिक्षा मंत्री धर्मेंद्र प्रधान के इस्तीफे की मांग को लेकर देशभर में छात्रों द्वारा आंदोलन, मोर्चे और प्रदर्शन किए जा रहे थे। इसी पृष्ठभूमि में मुंबई में उद्धव ठाकरे और राज ठाकरे की ओर से तिरंगा मार्च आयोजित किया गया था। हालांकि अब धर्मेंद्र प्रधान ने केंद्रीय शिक्षा मंत्री पद से इस्तीफा दे दिया है। ऐसे में यह सवाल उठ रहा था कि रविवार (26 जुलाई) को मुंबई में ठाकरे बंधुओं का प्रस्तावित मोर्चा होगा या नहीं। अब इस संबंध में विस्तृत जानकारी सामने आई है।

मनसे प्रमुख राज ठाकरे और शिवसेना (उद्धव ठाकरे गुट) के प्रमुख उद्धव ठाकरे ने छात्रों के अधिकार, न्याय और उनके उज्ज्वल भविष्य की मांग को लेकर रविवार, 26 जुलाई को मुंबई में एक भव्य तिरंगा मार्च आयोजित करने की घोषणा की थी। लेकिन पिछले एक महीने से जारी छात्र आंदोलन के बढ़ते दबाव के बीच धर्मेंद्र प्रधान ने केंद्रीय शिक्षा मंत्री पद से इस्तीफा दे दिया।

इसके बाद उद्धव ठाकरे और राज ठाकरे ने संयुक्त पत्रकार परिषद को संबोधित किया। इस दौरान राज ठाकरे ने कहा, "आज मुंबई में अभिनंदन मोर्चा निकाला जाएगा। शिवाजी पार्क मैदान में वीर सावरकर मार्ग पर मंच बनाया जाएगा और वहीं सभी लोग एकत्र होंगे। जेनजी (Gen Z) ने सरकार को झुकने पर मजबूर कर दिया है और उसे जमीन पर ला दिया है। युवाओं की इस बड़ी जीत में अभिजीत दीपके का बहुत बड़ा योगदान है। देशभर में इतना बड़ा आंदोलन खड़ा हुआ है, इसलिए इस जीत का जश्न मनाया जाना चाहिए।"

इस घोषणा के साथ स्पष्ट किया गया कि रविवार को मुंबई के शिवाजी पार्क में अभिनंदन मोर्चा आयोजित किया जाएगा।

دھرمیندر پردھان کے استعفی کے بعد بی جے پی حکومت نے نئے ایجوکیشن منسٹر کے نام کا اعلان کیا

نئی دہلی: مرکزی وزیر پرلہاد جوشی کو وزارتِ تعلیم کا اضافی چارج سونپ دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ سابق مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمندر پردھان کے استعفے کے بعد کیا گیا، جنہوں نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر جاری احتجاج کے دوران اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

صدرِ جمہوریہ کے دفتر نے دھرمندر پردھان کا استعفیٰ منظور کرتے ہوئے جاری کردہ اعلامیے میں پرلہاد جوشی کی وزارتِ تعلیم کے اضافی چارج پر تقرری کی تصدیق کی۔ پرلہاد جوشی اس وقت مرکزی وزیر برائے خوراک و صارفین امور بھی ہیں۔

تقرری کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پرلہاد جوشی نے کہا کہ وہ اس ذمہ داری کو فرض شناسی اور عاجزی کے ساتھ قبول کرتے ہیں اور وزیر اعظم نریندر مودی کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ان پر اعتماد ظاہر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ بارہ برسوں میں مودی حکومت نے کئی تاریخی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ چار سے پانچ برسوں کے دوران دھرمندر پردھان نے قومی تعلیمی پالیسی (NEP) کے نفاذ سمیت کئی اہم اقدامات کیے، جس سے ملک کے تعلیمی نظام میں نمایاں پیش رفت ہوئی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وزیر اعظم کی رہنمائی میں وہ پوری لگن اور ذمہ داری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیں گے۔

57 سالہ دھرمندر پردھان نے دہلی کے جنتر منتر پر امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے خلاف جاری احتجاج کے 35ویں دن اپنا استعفیٰ پیش کیا۔ اپنے استعفیٰ میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے یہ فیصلہ اس لیے کیا تاکہ ملک دشمن عناصر اس معاملے کا ناجائز فائدہ نہ اٹھا سکیں۔

انہوں نے اپنے استعفیٰ میں لکھا کہ گزشتہ چار دہائیوں سے وہ طلبہ، اساتذہ اور تعلیمی اصلاحات کے لیے کام کرتے رہے ہیں اور ان کا ہمیشہ یہ یقین رہا ہے کہ مضبوط، جامع اور دور اندیش تعلیمی نظام ہی ایک مضبوط قوم کی بنیاد ہوتا ہے۔

دھرمندر پردھان کے استعفے کے چند گھنٹوں بعد سی جے پی (CJP) کے ترجمان سوربھ داس اور آشوتوش رنکا نے مرکزی وزراء جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ حکومت کی جانب سے مطالبات پر غور کی یقین دہانی کے بعد انہوں نے احتجاج ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ دھرمندر پردھان کا استعفیٰ بوسٹن یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ ابھیجیت دپکے کی قیادت میں قائم گروپ کا اہم مطالبہ تھا، جو حال ہی میں بھارت واپس آکر امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے خلاف احتجاج کی قیادت کر رہے تھے۔

اس سے ایک روز قبل پرلہاد جوشی نے کہا تھا کہ مرکزی حکومت طلبہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے پوری طرح سنجیدہ ہے اور امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف سخت کارروائی کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا تھا کہ بعض سماج دشمن عناصر احتجاج کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لہٰذا طلبہ کو ہوشیار رہنا چاہیے تاکہ ان کے جائز مطالبات کا غلط استعمال نہ ہو۔

 


چوطرفہ مخالفت کے بعد ہندی کو لازمی قرار دینے کا فیصلہ واپس، وزیر برائے اسکولی تعلیم دادا بھُسے نے حکومت کا موقف واضح کیا

ممبئی: پہلی سے پانچویں جماعت تک ہندی کو لازمی بنانے کے فیصلے پر چوطرفہ مخالفت کے بعد ریاستی حکومت نے منگل کے روز کہ اعلان کیا کہ ہندی زبان اب لازمی نہیں بلکہ اختیاری ہوگی.

یہ بھی پڑھیں..... وقف قانون کی واپسی تک ملک گیر احتجاج جاری رہے گا: مولانا خالد سیف اللہ رحمانیmendment-Act-Is-Rolled-Back.html

وزیر برائے اسکولی تعلیم دادا بھُسے کو اس متنازعہ اقدام کے سلسلے میں منترالیہ میں صحافیوں کے سوالات کا سامنا کرنا پڑا. انہوں نے کہا کہ اس موضوع پر دیڑھ گھنٹے تک بحث ہوئی جس کے بعد "لازمی" اصطلاح کو واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا. وزیر دادا بھسے نے کہا کہ وسیع پیمانے پر مخالفت کے سبب اب ہندی مضمون اختیاری کردیا گیا ہے. جلد ہی ایک نظر ثانی شدہ حکومتی قرارداد جاری کی جائے گی، جس میں طلباء کو اپنی تیسری زبان کا انتخاب کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ بھسے نے کہا کہ ہندی، قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 کے تحت تین زبانوں کے فارمولے کا حصہ ہے، لیکن لازمی نہیں ہے۔

موجودہ ذو لسانی ڈھانچہ کی جگہ تین زبانوں کے ماڈل کے ساتھ ہندی کو انگریزی اور مراٹھی کے ساتھ لازمی قرار دئیے جانے کی ابتدائی تجویز کی سخت مخالفت کی گی. یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ مہاراشٹر کے اسکولوں میں ہندی کو لازمی بنانے کا اقدام مرکزی حکومت کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ مہاراشٹر کے اسکولوں میں ہندی کو لازمی بنانے کا اقدام مرکزی حکومت کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔ منترالیہ میں میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے دادا بھُسے نے کہا کہ مرکزی حکومت نے این ای پی کے تخت کسی بھی زبان کو لازمی نہیں بنایا لے. ہندی اختیاری ہے لازمی نہیں. ہم جی آر پر نثر ثانی کریں گے. حکومت کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے وزید برائے اسکولی تعلیم دادا بھُسے نے کہا کہ ہندی مراٹھی کے ساتھ مماثلت رکھتی ہے دونوں کا رسم الخط (دیوناگری) بھی ایک ہے. جس کے سبب طلباء کے لئے سیکھنا آسان ہوجاتا ہے. ہندی پہلے ہی پانچویں جماعت سے پڑھائی جاتی ہے. جماعت اول سے ہندی پڑھائے جانے کے خیال کا مقصد سیکھنے کے عمل کو آسان بنانا تھا. مراٹھی اور انگریزی لازمی مضمون ہوں گے، اگر طالب علم اپنے تیسرے متبادل کے طور پر کسی اور زبان کو ترجیح دیتے ہیں تو ہم دلچسپی اور اساتذہ کی دستیابی کا جائزہ لیں گے.

 دو روز قبل وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے ہندی کو لازمی بنانے کے فیصلے پر دوبارہ غور کرنے کا اشارہ دیا تھا۔ نئی تعلیمی پالیسی کے تحت اسکولوں میں تین زبانیں پڑھانا لازمی ہے اور ان میں سے دو کا ہندوستانی ہونا لازمی ہے۔ چونکہ ہمارے پاس پہلے ہی ریاست بھر میں ہندی اساتذہ کی کافی تعداد موجود ہے ، لہذا اسے تیسری لازمی زبان کے طور پر تجویز کیا گیا تھا۔ اگر ہم تمل، گجراتی، کنڑ یا ملیالم جیسی دیگر ہندوستانی زبانوں کا انتخاب کرتے ہیں، تو ہمارے پاس فی الحال کافی تدریسی عملہ نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے مزید کہا کہ حکومت جلد ہی ایک فیصلہ کرے گی جس میں طلباء کو اپنی تیسری زبان کے طور پر ہندی کے بجائے کسی اور ہندوستانی زبان کا انتخاب کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ 'اگر 20 سے زیادہ طالب علم متبادل زبان کا انتخاب کرتے ہیں، تو ایک وقف استاد مقرر کیا جا سکتا ہے۔ چھوٹے گروپوں کے لئے آن لائن کلاسوں جیسی سہولیات کا انتظام کیا جاسکتا ہے۔

16 اپریل کو جاری کیے گئے اصل جی آر میں پہلی کلاس سے ہندی کو لازمی قرار دیا گیا تھا، جس پر تمام سیاسی حلقوں میں سخت رد عمل سامنے آیا تھا۔ مہارشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) سربراہ راج ٹھاکرے نے متنبہ کیا کہ اس طرح کے اقدام کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 'مہاراشٹر میں پہلی کلاس سے ہندی کو لازمی کرنا ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے اسکول انتظامیہ سے توجہ دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ہندی کی درسی کتابوں کو دکانوں میں فروخت کرنے یا اسکولوں کے ذریعہ تقسیم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

کانگریس پارٹی نے بھی اس فیصلے کی مخالفت کی تھی۔وجے وڈیٹیوار نے کہا کہ اگر تیسری زبان کی ضرورت ہے تو اسے اختیاری ہونا چاہئے۔

جمعرات کو پھر کابینی میٹنگ کا تیقن، صرف یقین دہانی نہیں بلکہ اب فیصلے کا وقت، گرانٹ کا اعلان کرو ورنہ کرسی چھوڑو کا مطالبہ

ممبئی : (16 نومبر) مہاراشٹر راجیہ اگھوشت شکشک مہا سنگھ اور شکشک سمنوئے مہا سنگھ کے بینر تلے ریاست بھر کے دس ہزار سے زائد اساتذہ کرام خواتین و بچوں سمیت دھرنا اندولن جاری رکھے ہوئے ہیں اور گزشتہ یکم نومبر کو یقین دہانی کے مطابق پندرہ نومبر کو وزیر تعلیم و وزیر اعلیٰ نے مشورتی میٹنگ میں گرانٹ کا اعلان کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن پندرہ نومبر کو کابینی میٹنگ نہ ہونے سے اعلان نہیں ہوسکا اور حکومت کی جانب سے یہ کہا گیا کہ 16 نومبر کو کابینہ میٹنگ میں فیصلہ کیا جائے گا ۔

آج دن بھر اساتذہ کرام نے آزاد میدان میں پر امن دھرنا اندولن جاری رکھا لیکن جیسے ہی شکشک سمنوئے مہا سنگھ اور اگھوشت شکشک مہا سنگھ کے بینر تلے احتجاج کررہے مظاہرین کو خبر لگی کہ آج بھی  کابینہ کی میٹنگ نہیں ہوسکی تب اساتذہ آپے سے باہر ہوگئے لیکن ہوش کے ساتھ پرجوش مظاہرہ کرتے ہوئے نیشنل میڈیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی ۔اسطرح کی اطلاع ممبئی آزاد میدان سے مالیگاؤں ہائی اسکول کے ٹیچر شیخ زاہد سر نے دی۔انہوں نے بتایا کہ اساتذہ نے آزاد میدان میں سرکار مخالف نعرے بازی کرتے ہوئے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا اور گرانٹ کا مطالبہ کیا ۔گرانٹ دو گرانٹ دو ،نان گرانٹ اسکولوں کی فہرست جاری کرو، سو فیصد گرانٹ دو ورنہ کرسی چھوڑ دو کے نعرے لگائے ۔اساتذہ میں جوش و خروش، غصہ اور ہنگامہ آرائی دیکھ کر پولس کمشنر کو مداخلت کرنی پڑی اور بلا آخر شام دیر گئے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے اساتذہ کے نمائندہ وفد کو بات چیت کیلئے مدعو کیا ۔رات آٹھ بجے تک اساتذہ کرام آزاد میدان میں ڈٹے رہے ۔

اساتذہ کے نمائندوں سے بات چیت جاری ہے وزیر اعلیٰ کل بروز جمعرات کو گرانٹ سمیت نان گرانٹ اسکولوں کو گرانٹ دینے کا اعلان کریں گے اسطرح کی ایک بار پھر یقین دہانی کرائی جارہی ہے لیکن اساتذہ اپنے مطالبات پر قائم ہیں ۔اس موقع پر اگھوشت شکشک مہا سنگھ کے بھرت جامنک سر ، رنگاری سر، ببن ایولے سر ، منگیش مہاترے ، دیپک کلکرنی سر ،شیخ زاہد سر، سونتا گیالی میڈم ،وسیم سر، رفیق سر،قوسین سر باسط سر، مبشر سر، ظہور زمزم نے نان گرانٹ اگھوشت اساتذہ کو پر امن احتجاج کرنے اور اپنے حقوق کیلئے جوش و خروش کا مظاہرہ کرنے پر مبارکباد پیش کی اور اپیل کی ہے زیادہ سے زیادہ تعداد میں اساتذہ آزاد میدان پہنچیں ۔آج بھی مالیگاؤں سمیت مہاراشٹر کے مختلف اضلاع و شہر اور تعلقہ جات کے اساتذہ بالخصوص لیڈیز ٹیچرس سیکڑوں سینکڑوں کی تعداد میں حاضر تھے۔


دیہی علاقوں میں پانچویں سے آٹھویں جماعتوں کیلئے 17 اگست سے اسکولیں جاری کرنے کا فیصلہ، شہری علاقوں میں اسکولیں جاری کرنے پر جلد ہوگا فیصلہ

مہاراشٹر: ریاست میں کرونا لاک ڈاؤن سے راحت کی طرف ایک قدم بڑھاتے ہوئے مہاوکاس اگھاڑی حکومت نے دیہی علاقوں میں پانچویں تا آٹھویں جماعت کے لئے 17 اگست سے اسکولیں دوبارہ جاری کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔اس کے علاوہ شہری علاقوں میں کووڈ-19 پروٹوکول کی پاسداری کرتے ہوئے میں آٹھویں سے بارہویں جماعت کیلئے بھی اسکولیں جاری کردی جائیں گی۔فی الحال ایسے دیہی علاقے جن میں کرونا مریضوں کی تعداد کم ہے، ان علاقوں میں 8 ویں سے 12 ویں جماعت تک اسکولیں جاری کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
وزیر برائے اسکولی تعلیم ورشا گائیکواڑ نے کہا کہ ہم ریاست میں 17 اگست سے اسکولیں دوبارہ جاری کرنے کا فیصلہ کررہے ہیں۔ریاست کے ان دیہی علاقوں میں جہاں کرونا معاملات کم ہوئے ہیں، وہاں 5 ویں سے 8 ویں جماعت کے اسکول جاری کرنے کا منصوبہ ہے۔اس کے علاوہ حکومت شہری اور نیم شہری علاقوں(میونسپل کارپوریشن، نگر پالیکا اور نگر پنچایت) میں 8 ویں سے 12ویں کلاس کے اسکول شروع کرنے کا فیصلہ کرے گی۔اس کے لیے دیہی اور شہری علاقوں کے لیے دو کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی۔
دیہی علاقوں میں 5 ویں سے 8 ویں جماعت کے طلباء کی آف لائن کلاس کا سلسلہ جاری ہوگا۔جبکہ شہروں میں کووڈ پروٹوکول پر عمل کرتے ہوئے 8 ویں سے 12 ویں کے طلباء کی آف کلاسیں جاری کی جائیں گی۔واضح رہے کہ ریاست کے 22 اضلاع میں کووڈ سے متعلق پابندیوں میں راحت کے بعد ورشا گائیکواڑ کا مذکورہ بیان سامنے آیا ہے۔جبکہ 11 اضلاع میں لیول 3 کے تحت اقدامات کئے گئے ہیں۔محکمہ کے ایک افسر نے بتایا کہ دیہی علاقوں کے تقریبا 5،947 اسکولوں نے 12 جولائی سے 8 ویں سے 12 ویں کی آف لائن کلاسیس کا آغاز کیا ہے یہ اسکول اکثر ان علاقوں میں تھے جہاں کووڈ کے معاملات نہیں تھے، تاہم اسکولوں کے دوبارہ جاری ہونے کے بعد سولاپور ضلع میں 613 طلباء کووڈ مثبت پائے گئے۔

 


ویبسائٹ پر اب با آسانی اپنا رزلٹ دیکھا جاسکتا ہے


ممبئی/مہاراشٹر:وزیر برائے اسکولی تعلیم ورشا گائیکواڑ نے جمعرات کے روز اعلان کیا تھا کہ کل 16 جولائی جمعہ کے روز دوپہر ایک بجے سکینڈری اسکول سرٹیفکیٹ(ایس ایس سی) کے نتائج آن لائن ظاہر کردیئے جائیں گے۔ لیکن ویب سائٹ کے کریش ہونے کی وجہ سے طلباء کو رزلٹ دیکھنے میں دقتوں کا سامنا رہا۔ کئی جگہوں پر تو لوگ رزلٹ دیکھنے سے قاصر رہے ۔ اب جبکہ ویبسائٹ دوبارہ بحال ہوگئی ہے تو آپ اپنا رزلٹ درج ذیل لنک پر کلک کرکے دیکھ سکتے  ۔

رزلٹ کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں



 جمعہ دوپہر ایک بجے ایس ایس سی کے نتائج آن لائن ظاہر کر دیئے جائیں گے، طلباء ان ویب سائٹس پر اپنا رزلٹ دیکھ سکتے ہیں

ممبئی/مہاراشٹر:وزیر برائے اسکولی تعلیم ورشا گائیکواڑ نے جمعرات کے روز اعلان کیا کہ کل 16 جولائی جمعہ کے روز دوپہر ایک بجے سکینڈری اسکول سرٹیفکیٹ(ایس ایس سی) کے نتائج آن لائن ظاہر کردیئے جائیں گے۔ایس ایس ای نتائج کا انتظار کرنے والے طلباء http://result.mh-ssc.ac.in/ اور http://www.mahahsscboard.in

پر نتائج دیکھ سکتے ہیں۔ورشا گائیکواڑ نے کہا کہ مہاراشٹر اسٹیٹ بورڈ آف سکینڈری اینڈ ہائر سکینڈری ایجوکیشن نے تعلیمی سال 2021 کی داخلی تشخیص کی بنیاد پر طلباء کو نمبرات دیئے ہیں۔ ورشا گائیکواڑ نے دسویں کے طلباء کو نیک خواہشات بھی پیش کیں۔واضح رہے کہ امسال کل 16 لاکھ 58 ہزار 624 طلباء دسویں جماعت کے نتائج کے منتظر ہیں، ان میں 7 لاکھ 48 ہزار 693 طالبات اور 9 لاکھ 9 ہزار 931 طلباء شامل ہیں۔دسویں کے امتحانات 29 اپریل سے 20 مئی 2021 کے درمیان منعقد کئے جانے تھے لیکن ریاست میں کووڈ-19 کے حالات کے پیش نظر امتحانات رد کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

طلباء و طالبات اس لنک کے ذریعے دسویں( ایس ایس سی) کے نتائج دیکھ سکتے ہیں:

http://result.mh-ssc.ac.in/

http://www.mahahsscboard.in

 

ہنگولی میں تیز رفتار ٹیمپو نے کار کو عقب سے زبردست ٹکر ماری، وزیرتعلیم سمیت تمام مسافر محفوظ

مہاراشٹر کی وزیرِ برائے اسکولی تعلیم ورشا گائیکواڑ ہنگولی میں پیش آنے والے ایک کار حادثہ میں بال بال بچ گئیں۔ورشا گائیکواڑ کی کار کو ایک تیز رفتار ٹیمپو نے عقب سے زبردست ٹکر ماری۔ اطلاعات کے مطابق اس حادثہ میں کوئی بھی زخمی نہیں ہوا، ورشا گائیکواڑ اس حادثے میں بال بال بچ گئیں۔واضح رہے کہ ورشا ہنگولی کے دو روزہ دورے پر ہیں۔ورشا گائیکواڑ ہنگولی میں ایک آکیسجن پلانٹ کا افتتاح کرنے کے بعد رام لیلا میدان کا جائزہ لینے جارہی تھیں اسی دوران ایک تیز رفتار ٹیمپو نے ان کی کار کو پیچھے سے زبردست ٹکر مار دی۔جس کے سبب کار کو معمولی نقصان پہنچا ہے۔لیکن کار میں بیٹھی ورشا گائیکواڑ اور دیگر لوگوں کو چوٹ بھی نہیں آئی۔

 

ٹی ای ٹی کامیاب امیدواروں کیلئے خوشخبری, ٹی ای ٹی سرٹیفکیٹ کی ویلیڈٹی اب سات سال کی بجائے لائف ٹائم ہوگی, کابینی وزیر برائے تعلیم رمیش پوکھریال کا اعلان, تدریس کے پیشے میں اساتذہ کیلئے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی سمت ایک مثبت قدم

ممبئی: ٹیچر اہلیتی امتحان ٹی ای ٹی کے سرٹیفکیٹ کی ویلیڈٹی(مدت) کو سات سے بڑھا کر لائف ٹائم کردیا گیا ہے۔اس ضمن میں کابینی وزیر برائے تعلیم رمیش پوکھریال نے جمعرات کے روز کہا کہ اساتذہ کے لئے ملازمتوں کے مزید مواقع پیدا کرنے کیلئے ٹی ای ٹی امتحان کے سرٹیفکیٹ کی ویلیڈٹی سات سال سے بڑھا کر لائف ٹائم کردی گئی ہے۔پوکھریال نے مزید کہا کہ ویلیڈٹی کی مدت میں اضافہ کے بعد درس وتدریس کو بطور پیشہ اختیار کرنے والے خواہشمندوں کی حوصلہ افزائی ہوگی، ویلیڈٹی میں توسیع کے سبب مزید امیدواروں کو تدریس کو بطور پیشہ اپنانے کی ترغیب ملے گی۔انہوں نے کہا کہ سال 2011 سے اس اب تک ٹی ای ٹی کے تمام امیدواروں کے سرٹیفکیٹ کی ویلیڈٹی کی مدت میں توسیع کی جائے گی۔اس سلسلے میں ریاستیں اور مرکزی حکومت کے ماتحت علاقے ان امیدواروں کو نئے سرٹیفکیٹ جاری کرنے سے متعلق ضروری کارروائی کریں گے جن کی سات سال کی مدت پہلے ہی گذر چکی ہے۔تدریسی میدان میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں یہ ایک مثبت قدم ہے۔واضح رہے کہ ٹیچر اہلیتی امتحان ٹی ای ٹی کامیاب کرنے والے امیدواروں کو جاری کئے جانے والے سرٹیفکیٹ کی مدت صرف سات سال تھی، سات سال گزرنے کے بعد امیدوار کو دوبارہ امتحان کامیاب کرنا ضروری تھا لیکن اب ایک مرتبہ امتحان کامیاب کرنے کے بعد دیئے جانے والے سرٹیفکیٹ کی ویلیڈٹی لائف ٹائم ہوگی۔اس سے قبل جن امیدواروں نے ٹی ای ٹی امتحان میں کامیابی حاصل کی ہے انہیں بھی لائف ٹائم ویلیڈٹی کے ساتھ نئے سرٹیفکیٹ جاری کئے جائیں گے۔

 

نمبرات کس طرح دیئے جائیں گے؟ نتائج کب ظاہر کئے جائیں گے؟کس طرح گیارہویں جماعت میں داخلے ہوں گے؟ ورشا گائیکواڑ نے کئی اہم امور سے متعلق اہم اعلان کیا

ممبئی: مہاراشٹر کی وزیرتعلیم ورشا گائیکواڑ نے آج دسویں جماعت بورڈ امتحانات کے تشخیصی معیار کا اعلان کیا ہے۔واضح رہے کہ ایس ایس سی بورڈ کے امتحانات امسال کرونا وباء کے سبب منسوخ کردیئے گئے ہیں۔ورشا گائیکواڑ نے کہا کہ ایسے تمام طلباء جو امسال دسویں بورڈ امتحانات میں شرکت کرنے والے تھے انہیں ترقی دی جائے گی، اور اس سال اور جماعت نہم میں طلباء کی کارکردگی کی داخلی تشخیص کی بنیاد پر نمبرات دیئے جائیں گے۔وزیر تعلیم نے مزید کہا کہ دسویں جماعت کے طلباء کو اسکولی سطح کے جائزہ کی بنیاد پر نمبرات دینے کے خاکہ کو تمام اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت کے بعد حتمی شکل دے دی گئی ہے۔طلباء کو ہر مضمون کیلئے 100 نمبرات میں سے جانچا جائے گا۔گائیکواڑ نے کہا کہ مضامین کے لحاظ سے طلباء کے حاصل کردہ نمبرات کی بنیاد پر حتمی نتائج تیار کئے جائیں گے۔جن میں 

1) ایک سال کے دوران منعقد ہونے والے داخلی تحریری تشخیص(30 مارکس)

2) ہوم ورک، زبانی امتحان، پریکٹیکل، داخلی تشخیص(بورڈ پالیسی کے مطابق) 20 مارکس

نویں جماعت کا فائنل رزلٹ (50 مارکس)

ورشا گائیکواڑ نے واضح کیا کہ جو طالب علم دی جانے والے نمبرات سے مطمئن نہیں ہوگا اسے حالات سازگار ہونے کے بعد نمبرات میں بہتری کیلئے منعقد کئے جانے والے دو امتحانات میں شرکت کا موقع دیا جائے گا۔

:نتائج کو حتمی شکل دینے کی ذمہ داری

اس ضمن میں وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ نے بتایا کہ اسکول کے پرنسپل/ہیڈ ماسٹر اور چھ اساتذہ کی ایک زرلٹ کمیٹی نتائج کو حتمی شکل دینے کی ذمہ دار ہوگی۔یہ مشکل کام ہے لیکن مجھے امید ہے کہ ہمارے اسکول اور اساتذہ یہ کام بخوبی انجام دیں گے۔

نتائج کب ظاہر ہوں گے؟

گائیکواڑ نے کہا کہ جون کے اخیر میں نتائج کا اعلان کردیا جائے گا۔اسکولوں کو مختلف سرگرمیوں کے لئے متعینہ وقت دیا جائے گا۔بورڈ کے ذریعے ویبینار منعقد کئے جائیں گے۔اس کے علاوہ اسکولوں اور ٹیچرس کو تشخیص کے عمل کو بہتر طریقے سے سمجھنے کیلئے ہیلپ لائن نمبر جاری کئے جائیں گے۔

گیارہویں جماعت میں داخلے کس طرح ہوں گے؟:

ورشاگائیکواڑ نے بتایا کہ گیارہویں جماعت میں داخلے کیلئے ایک کامن انٹرنس ٹیسٹ(CET) کا انعقاد کیا جائے گا۔ممکن ہے کہ یہ ٹیسٹ آپشنل ہو اور اس امتحان میں شریک ہونے والے طلباء کو گیارہویں جماعت میں داخلے کیلئے ترجیح دی جائے گی۔دیگر بورڈ سے تعلق رکھنے والے طلباء بھی اس امتحان میں شریک ہوسکتے ہیں۔دو گھنٹے مدت کا یہ انٹرنس ٹیسٹ دسویں جماعت کے نصاب پر مبنی ہوگا۔

 


بارہویں بورڈ امتحانات کا انعقاد اپریل میں جبکہ دسویں بورڈ امتحانات کا انعقاد مارچ میں ہونا طے، جلد ہی حتمی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا

ممبئی: مہاراشٹر کی وزیرتعلیم ورشا گائیکواڑ نے آج اعلان کیا کہ ریاست میں ہائر سکنڈری سرٹیفیکیٹ امتحانات (ایچ ایس سی)اور سکنڈری اسکول سرٹیفیکیٹ امتحانات( ایس ایس سی) کا انعقاد بالترتیب اپریل اور مئی 2021ء میں ہوں کیا جائے گا۔واض رہے کہ طلباء اور اساتذہ کافی عرصے سے امتحانات سے متعلق حتمی تاریخ کے اعلان کا بے صبری سے انتظار کررہے تھے اور اس لئے وہ طویل عرصے سے آف لائن کلاسیس بھی اٹینڈ کررہے تھے۔اسٹیٹ بورڈ اسکول ممبئی نے کرونا وباء کے پیش نظر اب تک 9 ویں اور 12 ویں کی آف لائن کلاسیس شروع کرنے کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔عام طور پر HSC بورڈ امتحانات کا انعقاد فروری میں ہوتا ہے جبکہ SCC بورڈ امتحانات کا انعقاد مارچ میں کیا جاتا ہے۔ذرائع کے مطابق ریاستی محکمہ تعلیم نے کہا کہ مذکورہ دونوں امتحانات سے متعلق حتمی تاریخ کا اب تک فیصلہ نہیں ہوسکا ہے لیکن امتحانات کس ماہ میں ہوں گے اس کا فیصلہ کیا جاچکا ہے۔محکمہ تعلیم کے ایک سینئر افسر نے کہا کہ امتحانات کی حتمی تاریخ کا فیصلہ ریاست میں کرونا وباء کی صورتحال پر منحصر ہے۔ لیکن اب یہ طے ہوچکا ہے کہ HSC بورڈ امتحانات کا انعقاد اپریل اور SSC بورڈ امتحانات کا انعقاد مارچ 2021ءمیں کیا جائے گا۔برطانیہ میں کرونا وائرس کی نئی شکل کے سبب متوقع خطرات کے پیش نظر مہاراشٹر حکومت نے کہا کہ جماعت پنجم اور ہشتم کی آف لائن کاسیس کے آغاز کا فیصلہ ملتوی کردیا گیا ہے۔ورشا گائیکواڑ نے کہا کہ آئندہ مرحلہ میں پنجم اور ہشتم جماعت کی آف لائن کلاسیس شروع کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔فی الحال ریاستی حکومت نے مہاراشٹر میں 9 ویں اور 12 ویں جماعت کی آف لائن کلاسیس شروع کرنے کی اجازت دے دی ہے۔لیکن برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن کی ہدایت کے مطابق ممبئی میں 15 جنوری 2021ء سے قبل اسکولیں جاری نہیں ہوں گی۔