سوربھ بھاردواج اور بھگونت مان کی کھلی تنقید، چڈھا کی تردید، پارٹی میں بڑھتی خلیج پر سوالات اٹھنے لگے
ممبئی: عام آدمی پارٹی (عآپ) کے اندرونی حلقوں میں ایک نیا سیاسی طوفان کھڑا ہو گیا ہے، جہاں سینئر قائدین نے راگھو چڈھا کی حالیہ سوشل میڈیا سرگرمیوں اور پارٹی موقف سے ان کی ہم آہنگی پر کھل کر سوالات اٹھانا شروع کر دیے ہیں۔
یہ تنازعہ اس وقت سامنے آیا جب آپ کے سینئر لیڈر سوربھ بھاردواج نے الزام عائد کیا کہ راگھو چڈھا نے خاموشی کے ساتھ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے وزیر اعظم نریندر مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر تنقید کرنے والی پرانی پوسٹس حذف کر دی ہیں۔ بھاردواج نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اسکرین شاٹس شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ چڈھا کی ٹائم لائن پر اب ایسی کوئی تنقیدی پوسٹس نظر نہیں آتیں۔
بھاردواج کے مطابق یہ تبدیلی محض اتفاقیہ نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا اقدام معلوم ہوتی ہے، جس کا مقصد چڈھا کی عوامی شبیہ کو ازسرِ نو تشکیل دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں ماضی کی بی جے پی مخالف پوسٹس غائب ہو چکی ہیں، وہیں مودی سے متعلق صرف چند مثبت حوالہ جات باقی رہ گئے ہیں، جو اس تبدیلی کو مزید مشکوک بناتے ہیں۔
یہ الزامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حال ہی میں عام آدھی پارٹی نے راگھو چڈھا کو راجیہ سبھا میں اپنے نائب لیڈر کے عہدے سے ہٹا کر اشوک متل کو نائب لیڈر مقرر کیا ہے۔ اس فیصلے نے سیاسی حلقوں میں پہلے ہی چہ مگوئیاں پیدا کر دی تھیں، اور اب یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔
پارٹی کے اندر اختلافات بھی کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے اشارہ دیا کہ چڈھا ممکنہ طور پر پارٹی کے اجتماعی فیصلوں پر پوری طرح عمل نہیں کر رہے تھے۔ انہوں نے اپوزیشن کی مشترکہ حکمت عملی، بشمول پارلیمنٹ میں واک آؤٹ جیسے اقدامات، میں اتحاد کی اہمیت پر زور دیا۔
اسی طرح سوربھ بھاردواج نے بھی چڈھا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ مرکزی حکومت کے خلاف سخت موقف اختیار کرنے سے گریز کر رہے ہیں، جس سے پارٹی کے اندر تقسیم کا تاثر مضبوط ہو رہا ہے۔
دوسری جانب سینئر لیڈر آتشی نے بیرونی سیاسی دباؤ کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی اکثر اپوزیشن لیڈروں کو مختلف طریقوں سے اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کرتی ہے، تاہم انہوں نے اس حوالے سے کوئی براہ راست الزام عائد نہیں کیا۔
ان الزامات کے جواب میں راگھو چڈھا نے سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ اپوزیشن کے ساتھ کھڑے ہو کر عوامی مسائل اٹھائے ہیں۔ انہوں نے اپنے ناقدین کو چیلنج دیا کہ اگر ان کے خلاف کوئی ثبوت ہے تو پیش کیا جائے۔
چیف الیکشن کمشنر کے مواخذے کی تحریک پر دستخط نہ کرنے کے معاملے پر وضاحت دیتے ہوئے چڈھا نے کہا کہ اس کے لیے محدود دستخط درکار تھے اور پارٹی کے کئی دیگر اراکین نے بھی اس پر دستخط نہیں کیے تھے۔
اپنے جارحانہ لہجے میں چڈھا نے خود کو "زخمی شیر" قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ناقدین کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔
ادھر پارٹی سربراہ اروند کجریوال کی جانب سے اب تک کوئی عوامی بیان سامنے نہیں آیا، جس کے باعث پارٹی کے اندر بڑھتی ہوئی خلیج اور اس تنازعے کے مستقبل کے حوالے سے سوالات برقرار ہیں۔


Post A Comment:
0 comments: