Articles by "Raghav Chadha"
Showing posts with label Raghav Chadha. Show all posts

عام آدمی پارٹی کو بڑا جھٹکا، پارٹی بنیادی اقدار سے ہٹ کر ذاتی مفادات کو ترجیح دے رہی ہے: راگھو چڈھا کا الزام

نئی دہلی: اروند کیجریوال کی قیادت والی عام آدمی پارٹی کو ایک بڑے سیاسی بحران کا سامنا ہے، جہاں پارٹی کے سینئر رہنما راگھو چڈھا نے چھ دیگر راجیہ سبھا اراکین کے ساتھ استعفیٰ دے کر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ اس پیش رفت کو پارٹی کی پارلیمانی طاقت کیلئے ایک تاریخی دھچکہ قرار دیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:... عام آدمی پارٹی میں اندرونی خلفشار میں شدت، راگھو چڈھا پر مودی اور بی جے پی مخالف پوسٹس ڈیلیٹ کرنے کا الزام-Aadmi-Party-thereportersview.com-Political-News-National-India.html

اطلاعات کے مطابق راگھو چڈھا کے ساتھ مستعفی ہونے والے اراکین میں سندیپ پاٹھک، سواتی مالیوال، ہربھجن سنگھ، وکرم ساہنی، اشوک مِتّل اور راجندر گپتا شامل ہیں۔ ان تمام رہنماؤں کی اجتماعی علیحدگی نے راجیہ سبھا میں عام آدمی پارٹی کی پوزیشن کو شدید کمزور کر دیا ہے۔

راگھو چڈھا نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ محسوس کررہے تھے کہ "صحیح آدمی، غلط پارٹی میں" ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پارٹی اپنی بنیادی اقدار سے ہٹ کر ذاتی مفادات کو ترجیح دے رہی ہے، جو ان کے اصولوں کے خلاف ہے۔

گزشتہ برسوں میں مسلسل انحرافات

عام آدمی پارٹی کی تشکیل کے بعد سے ہی اسے وقتاً فوقتاً اہم رہنماؤں کی علیحدگی کا سامنا رہا ہے، جس نے پارٹی کی داخلی ساخت اور نظریاتی شناخت پر اثر ڈالا ہے۔

دہلی اسمبلی انتخابات سے قبل پارٹی میں اختلافات اس وقت کھل کر سامنے آئے جب کئی اراکین اسمبلی جیسے نریش یادو، بھاونا گور اور راجیش رشی نے ٹکٹ نہ ملنے پر استعفیٰ دے دیا۔

اسی دوران نومبر 2024 میں وزیر ٹرانسپورٹ و داخلہ کیلاش گہلوت نے بھی پارٹی چھوڑ دی، جبکہ سماجی بہبود کے وزیر راج کمار آنند نے بدعنوانی اور نمائندگی کے مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے استعفیٰ دیا۔

کمار وشواس، الکا لامبا، ایچ ایس پھولکا، آشوتوش اور آشیش کھیتان جیسے سرکردہ رہنما پارٹی سے الگ ہوگئے، جس سے پارٹی کی عوامی شبیہ متاثر ہوئی۔

پارٹی کی ابتدائی کامیابی کے بعد یوگیندر یادو اور پرشانت بھوشن کو نکال دیا گیا، جس کے بعد انہوں نے "سوراج انڈیا" کے نام سے نئی سیاسی جماعت قائم کی۔ اسی عرصے میں شازیہ علمی نے بھی پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق راگھو چڈھا اور دیگر اراکین کی حالیہ علیحدگی نہ صرف عام آدمی پارٹی کیلئے ایک بڑا تنظیمی نقصان ہے بلکہ یہ پارٹی کے اندرونی اختلافات اور نظریاتی بحران کی بھی عکاسی کرتی ہے۔

سوربھ بھاردواج اور بھگونت مان کی کھلی تنقید، چڈھا کی تردید، پارٹی میں بڑھتی خلیج پر سوالات اٹھنے لگے

ممبئی: عام آدمی پارٹی (عآپ) کے اندرونی حلقوں میں ایک نیا سیاسی طوفان کھڑا ہو گیا ہے، جہاں سینئر قائدین نے راگھو چڈھا کی حالیہ سوشل میڈیا سرگرمیوں اور پارٹی موقف سے ان کی ہم آہنگی پر کھل کر سوالات اٹھانا شروع کر دیے ہیں۔

मुंबई में बीएमसी का बड़ा अतिक्रमण हटाओ अभियान, फुटपाथ खाली कराने के लिए अवैध निर्माण और फेरीवालों पर सख्त कार्रवाई

یہ تنازعہ اس وقت سامنے آیا جب آپ کے سینئر لیڈر سوربھ بھاردواج نے الزام عائد کیا کہ راگھو چڈھا نے خاموشی کے ساتھ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے وزیر اعظم نریندر مودی اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر تنقید کرنے والی پرانی پوسٹس حذف کر دی ہیں۔ بھاردواج نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اسکرین شاٹس شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ چڈھا کی ٹائم لائن پر اب ایسی کوئی تنقیدی پوسٹس نظر نہیں آتیں۔

بھاردواج کے مطابق یہ تبدیلی محض اتفاقیہ نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا اقدام معلوم ہوتی ہے، جس کا مقصد چڈھا کی عوامی شبیہ کو ازسرِ نو تشکیل دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں ماضی کی بی جے پی مخالف پوسٹس غائب ہو چکی ہیں، وہیں مودی سے متعلق صرف چند مثبت حوالہ جات باقی رہ گئے ہیں، جو اس تبدیلی کو مزید مشکوک بناتے ہیں۔

یہ الزامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حال ہی میں عام آدھی پارٹی نے راگھو چڈھا کو راجیہ سبھا میں اپنے نائب لیڈر کے عہدے سے ہٹا کر اشوک متل کو نائب لیڈر مقرر کیا ہے۔ اس فیصلے نے سیاسی حلقوں میں پہلے ہی چہ مگوئیاں پیدا کر دی تھیں، اور اب یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔

پارٹی کے اندر اختلافات بھی کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے اشارہ دیا کہ چڈھا ممکنہ طور پر پارٹی کے اجتماعی فیصلوں پر پوری طرح عمل نہیں کر رہے تھے۔ انہوں نے اپوزیشن کی مشترکہ حکمت عملی، بشمول پارلیمنٹ میں واک آؤٹ جیسے اقدامات، میں اتحاد کی اہمیت پر زور دیا۔

اسی طرح سوربھ بھاردواج نے بھی چڈھا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ مرکزی حکومت کے خلاف سخت موقف اختیار کرنے سے گریز کر رہے ہیں، جس سے پارٹی کے اندر تقسیم کا تاثر مضبوط ہو رہا ہے۔

دوسری جانب سینئر لیڈر آتشی نے بیرونی سیاسی دباؤ کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی اکثر اپوزیشن لیڈروں کو مختلف طریقوں سے اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کرتی ہے، تاہم انہوں نے اس حوالے سے کوئی براہ راست الزام عائد نہیں کیا۔

ان الزامات کے جواب میں راگھو چڈھا نے سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ اپوزیشن کے ساتھ کھڑے ہو کر عوامی مسائل اٹھائے ہیں۔ انہوں نے اپنے ناقدین کو چیلنج دیا کہ اگر ان کے خلاف کوئی ثبوت ہے تو پیش کیا جائے۔

چیف الیکشن کمشنر کے مواخذے کی تحریک پر دستخط نہ کرنے کے معاملے پر وضاحت دیتے ہوئے چڈھا نے کہا کہ اس کے لیے محدود دستخط درکار تھے اور پارٹی کے کئی دیگر اراکین نے بھی اس پر دستخط نہیں کیے تھے۔

اپنے جارحانہ لہجے میں چڈھا نے خود کو "زخمی شیر" قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ناقدین کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

ادھر پارٹی سربراہ اروند کجریوال کی جانب سے اب تک کوئی عوامی بیان سامنے نہیں آیا، جس کے باعث پارٹی کے اندر بڑھتی ہوئی خلیج اور اس تنازعے کے مستقبل کے حوالے سے سوالات برقرار ہیں۔