Articles by "SHIVSENA"
Showing posts with label SHIVSENA. Show all posts

مہاراشٹر بلدیاتی انتخابات: 22 سالہ سدھی وسترے ریاست کی سب سے کم عمر صدر بلدیہ بن گئیں، شندے سینا نے بی جے پی کو چونکا دیا

سولاپور ضلع کی سیاست میں ایک بڑی اور غیر متوقع تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے۔ موہول میونسپل کونسل کے انتخابات میں شیوسینا (شندے گروپ) نے بی جے پی کو بڑا جھٹکا دیتے ہوئے اہم کامیابی حاصل کی ہے۔ اس انتخاب میں شیو سینا کی امیدوار سدھی وسترے نے بی جے پی کی امیدوار شیتل کھیرساگر کو شکست دے کر میونسپل صدر کا عہدہ اپنے نام کر لیا۔

یہ بھی پڑھیں:..مہاراشٹر سیاست میں طوفان! کانگریس ناراض، سنجے راوت نے کر دیا بڑا اشارہ

یہ کامیابی اس لیے بھی خاص مانی جا رہی ہے کیونکہ سدھی وسترے کی عمر صرف 22 سال ہے اور وہ مہاراشٹر کی تاریخ کی سب سے کم عمر میونسپل صدر بن گئی ہیں۔ موہول کو طویل عرصے سے بی جے پی کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا رہا ہے، جہاں سابق ایم ایل اے راجن پاٹل کا خاص اثر و رسوخ رہا ہے۔ ایسے میں شیو سینا کی یہ جیت بی جے پی کے لیے بڑا سیاسی دھچکا سمجھی جا رہی ہے۔

سرکاری نتائج کے مطابق سدھی وسترے نے یہ مقابلہ 170 ووٹوں کے فرق سے جیتا، جس کے بعد سولاپور ضلع میں بی جے پی حلقوں میں بے چینی دیکھی جا رہی ہے۔ دوسری جانب اس نتیجے سے شیو سینا کارکنوں اور قیادت کا حوصلہ کافی بلند ہوا ہے۔ 20 رکنی موہول میونسپل کونسل میں شیو سینا نے 9 نشستیں جیت کر سب سے بڑی پارٹی ہونے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔

سدھی وسترے کا تعلق موہول کے ایک متوسط طبقے کے سیاسی خاندان سے ہے۔ ان کے دادا، انجہانی وشوناتھ شِوراج وسترے، اپنے وقت کے معزز سماجی و سیاسی شخصیت تھے اور تقریباً 30 سال قبل موہول گرام پنچایت کے سرپنچ رہ چکے تھے۔ ان کا جھکاؤ کانگریس نظریے کی طرف تھا اور وہ کئی بار گرام پنچایت کے رکن منتخب ہوئے۔ سدھی کے والد راجو وسترے پہلے ایک نجی کوآپریٹو ادارے میں کام کر چکے ہیں اور اب کھیتی باڑی کرتے ہیں، جبکہ والدہ تیجشری گھریلو خاتون ہیں۔

تعلیم کے میدان میں بھی سدھی وسترے سرگرم رہی ہیں۔ انہوں نے بی کام کی تعلیم مکمل کی ہے اور اس وقت گراڈ کالج سے ایم کام کی پڑھائی کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ فرم میں بھی کام کر چکی ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سدھی کا شروع میں سیاست میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، لیکن میونسپل صدر کے عہدے پر ریزرویشن کے اعلان کے بعد خاندان اور مقامی شیوسینا لیڈروں کے مشورے سے ان کا نام سامنے آیا۔ سابق میونسپل صدر رمیش براسکر اور سینئر لیڈر پدم دیشمکھ کی رہنمائی میں ایک مضبوط انتخابی مہم چلائی گئی، جس کا عوام پر گہرا اثر پڑا۔

فتح کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے سدھی وسترے جذباتی ہو گئیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ جیت عوام کے اعتماد کی علامت ہے۔ انتخابی مہم کے دوران ان کی کم عمری پر سوال اٹھائے گئے، لیکن عوام نے ووٹ دے کر اس کا جواب دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی ترجیح موہول شہر کی بنیادی سہولتوں جیسے سڑکیں، پانی، بجلی، صحت اور مجموعی ترقی پر ہوگی اور وہ سب کو ساتھ لے کر کام کریں گی۔

बीजेपी शिवसेना को क्रूर तरीके से खत्म करने की कोशिश कर रही है, लेकिन सफल नहीं होगी:ठाकरे

शिवसेना (यूबीटी) के नेता उद्धव ठाकरे ने बागी धड़े को पार्टी का नाम और चुनाव चिह्न आवंटित करने को लेकर रविवार को चुनाव आयोग पर निशाना साधा और चुनाव आयोग को सत्ता में बैठे लोगों का 'गुलाम' करार दिया।

मुख्यमंत्री एकनाथ शिंदे के नेतृत्व वाले गुट के हाथों पार्टी का नाम और चुनाव चिह्न 'तीर कमान' गंवाने के हफ्तों बाद चुनाव आयोग को 'चुना लगाओ' आयोग करार देते हुए ठाकरे ने कहा कि चुनाव आयोग पार्टी को कभी नहीं छीन सकता, जिसकी स्थापना उनके दिवंगत पिता ने की थी।

उन्होंने कहा कि यह बाल ठाकरे ही थे, जो भारतीय जनता पार्टी के साथ खड़े थे, जब वह राजनीतिक रूप से "अछूत" थी, और पूर्व सहयोगी को महाराष्ट्र में बिना बाल ठाकरे का आह्वान किए केवल प्रधान मंत्री नरेंद्र मोदी के नाम पर वोट मांगने की चुनौती दी।

पूर्व मुख्यमंत्री ने एक रैली में इशारा करते हुए कहा, "आपने (चुनाव आयोग) हमसे पार्टी का नाम और चुनाव चिन्ह छीन लिया है, लेकिन आप शिवसेना को मुझसे नहीं छीन सकते।"आपके पास देने के लिए कुछ नहीं है। उन्होंने सभा को बताय मैं आपका आशीर्वाद और समर्थन लेने आया हूं," 

तटीय कोंकण क्षेत्र के रत्नागिरी जिले में खेड़ निर्वाचन क्षेत्र ठाकरे के पूर्व वफादार रामदास कदम का गृह क्षेत्र है, जिन्होंने शिंदे के नेतृत्व वाले गुट के प्रति निष्ठा बदल ली है।

उद्धव ठाकरे को एक बड़ा झटका देते हुए, चुनाव आयोग ने पिछले महीने शिंदे के नेतृत्व वाले समूह को 'शिवसेना' नाम और उसका चुनाव चिन्ह आवंटित किया था, जिसे शिवसेना के अधिकांश विधायकों का समर्थन प्राप्त है।

ठाकरे ने कहा कि उन्होंने चुनाव आयोग के फैसले को स्वीकार नहीं किया। अगर चुनाव आयोग मोतियाबिंद से पीड़ित नहीं है तो उसे आकर जमीनी स्थिति देखनी चाहिए। चुनाव आयोग एक 'चुना लगाव' आयोग है और सत्ता में बैठे लोगों का गुलाम है।  जिस सिद्धांत के आधार पर चुनाव आयोग ने यह फैसला लिया, वह गलत है।'ठाकरे ने कहा कि पार्टी ने उच्चतम न्यायालय में अपील की है।

उन्होंने कहा कि बीजेपी शिवसेना को क्रूर तरीके से खत्म करने की कोशिश कर रही है, लेकिन सफल नहीं होगी।उन्होंने कहा कि शिवसेना को नष्ट करने का कदम मराठी लोगों के साथ-साथ हिंदुओं की एकता पर हमले के समान है।जब बीजेपी राजनीति में अछूत थी, तब बालासाहेब ठाकरे उस पार्टी के साथ खड़े थे.

उन्होंने कहा कि पहले साधु-संत भाजपा का हिस्सा हुआ करते थे लेकिन अब पार्टी अवसरवादियों से भर गई है।उन्होंने कहा, "भ्रष्ट लोगों की सबसे बड़ी संख्या भाजपा में है। पहले, वे (भाजपा) विपक्ष के लोगों पर भ्रष्टाचार का आरोप लगाते हैं , फिर भ्रष्टाचार के आरोपी लोगों कोभाजपा में शामिल किया जाता है।"

इस आलोचना को खारिज करते हुए कि जब वह मुख्यमंत्री थे (नवंबर 2019-जून 2022) अपने घर से बाहर नहीं निकले थे, ठाकरे ने कहा, "मैं COVID महामारी के कारण बाहर नहीं गया था, लेकिन मैंने घर से काम किया, और महामारी के दौरान मेरे काम की सराहना की गई थी"।

उन्होंने कहा कि उनके समर्थक तय करेंगे कि वे उन्हें पार्टी अध्यक्ष बनाना चाहते हैं न कि चुनाव आयोग। "लोगों को यह तय करना होगा कि वे मुझे चाहते हैं या एकनाथ शिंदे। मैं लोगों के फैसले को स्वीकार करूंगा, लेकिन चुनाव आयोग के नहीं। अगर लोग कहते हैं कि वे मुझे नहीं चाहते हैं, तो मैं वैसे ही छोड़ दूंगा जैसे मैंने 'वर्षा' (मुख्यमंत्री का आधिकारिक निवास) को छोड़ा था।"

भाजपा पर निशाना साधते हुए उन्होंने कहा कि जिस तरह एकनाथ शिंदे ने मेरे (उद्धव ठाकरे के) पिता को ''चुरा लिया'', भाजपा ने ''सरदार वल्लभ भाई पटेल और सुभाष चंद्र बोस को चुरा लिया क्योंकि उस पार्टी के पास भरोसा करने के लिए कोई प्रतीक नहीं है।''क्या आप उन्हें (शिंदे के संदर्भ में) वोट देंगे?" उन्होंने दर्शकों से पूछा।

ठाकरे ने कहा, "पहले भाजपा का मंच साधुओं और संतों से भरा हुआ करता था, लेकिन अब यह अवसरवादियों से भरा हुआ है। मैं भाजपा को चुनौती देता हूं कि वह महाराष्ट्र में केवल प्रधानमंत्री नरेंद्र मोदी के नाम पर वोट मांगे न कि बालासाहेब ठाकरे के नाम पर।"उन्होंने अपने समर्थकों से महाराष्ट्र चुनाव में बीजेपी को धूल चटाने की अपील की.


جلد ہی اسپتال میں داخل کئے جانے کا امکان، شیوسینا یا مہاراشٹر حکومت کی جانب سے اب تک آفیشیل بیان سامنے نہیں آیا
مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کافی دنوں سے سروائیکل اور اسپائنل کورڈ کی تکلیف میں مبتلا ہے۔ اس تکلیف میں اب اضافہ ہو گیا ہے جس کی وجہ سے امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جلد ہی انھیں اسپتال میں داخل کیا جا سکتا ہے۔ شیوسینا یا مہاراشٹر حکومت کی جانب سے اس سلسلے میں کوئی آفیشیل بیان سامنے نہیں آیا ہے، لیکن ہندی نیوز پورٹل ’اے بی پی‘ نے ذرائع کے حوالے سے اس بات کی تصدیق کی ہے۔ غور طلب ہے کہ دیوالی کے وقت بھی وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے زیادہ لوگوں سے ملاقات کا پروگرام ملتوی کر دیا تھا۔
ویسے ادھو ٹھاکرے وزیر اعلیٰ سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھا رہے ہیں۔ انھوں نے ہفتہ کے روز مہاراشٹر کے احمد نگر میں ایک سرکاری اسپتال کے آئی سی یو وارڈ میں آگ لگنے سے 11 کووڈ مریضوں کی موت کے بعد جانچ کا حکم صادر کیا تھا۔ انھوں نے واقعہ پر اظہارِ غم کرتے ہوئے انتظامیہ کو واقعہ کے ذمہ دار اشخاص کے خلاف سخت کارروائی یقینی بنائے جانے کی ہدایت دی تھی۔


فریقین کی دلائل سننے کے بعد سول کورٹ کا فیصلہ، دن بھر کے ہنگامے کے بعد بالآخر نارائن رانے کی ضمانت منظور

مہاراشٹر کے وزیراعلی ادھو ٹھاکرے کے خلاف متنازعہ بیان بازی معاملے میں گرفتار کئے گئے مرکزی وزیر نارائن رانے کو عدالت نے ضمانت دے  دی۔رتناگری 

سے انہیں دوپہر میں گرفتار کیا گیا تھا۔گرفتاری کے بعد انہیں ضلع رائے گڑھ کی مہاڈ سول کورٹ میں پیش کیا گیا تھا۔پولیس نے عدالت سے نارائن رانے کی سات دن کی تحویل کی درخواست کی تھی۔حالانکہ دونوں فریقین کی دلائل سننے کے بعد عدالت نے رانے کو ضمانت دے دی۔شنوائی کے دوران نارائن رانے کی بیوی نیلم رانے بھی عدالت میں موجود تھیں۔اس سے قبل رانے کو گرفتار کرنے کے بعد انہیں کچھ وقت سنگمیشور پولیس اسٹیشن میں رکھا گیا بعد ازاں انہیں مہاڈ پولیس اسٹیشن منتقل کردیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: ۔۔۔ادھو ٹھاکرے کو طمانچہ رسید کرنے کا متنازعہ بیان دینے پر نارائن رانے گرفتار

واضح رہے کہ مہاڈ میں ان کے خلاف مقدمہ درج ہوا ہے۔گرفتاری سے بچنے کیلئے رانے کے رتناگری کی عدالت میں عبوری ضمانت کی درخواست داخل کی تھی جسے عدالت نے مسترد کردیا تھا۔واضح رہے کہ نارائن رانے نے جب سے مہاراشٹر میں جن آشیرواد یاترا کا آغاز کیا ہے، تب سے ان پر 49 ایف آئی آر درج ہوچکی ہے۔حالانکہ ان میں سے زیادہ تر معاملات کووڈ اصولوں کی خلاف ورزی پر درج ہوئے ہیں۔رانے کے خلاف تھانے نوپاڑہ پولیس اسٹیشن میں دفعہ 500، 505(2)، 153-B(1)(c) کے تحت ایک مقدمہ درج کیا گیا ہے۔اس سے قبل ان پر پونے، ناسک اور رائے گڑھ میں ایف آئی آر درج ہوچکی تھی۔شیوسینا نے منگل کے روز ریاست کے 17 مقامات پر رانے کے خلاف زبردست احتجاج کیا۔ناسک میں بی جے پی دفتر پر پتھر بازی کی گئی تو وہیں ممبئی میں رانے کی رہائش پر مظاہرہ کرنے والوں پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔


شیوسینا بی جے پی اراکین میں تصادم کے کئی واقعات،ناسک میں بی جے پی دفتر پر پتھراؤ، رانے کی ضمانت مسترد، جے پی نڈا نے مذمت کی

ادھو ٹھاکرے کو طمانچہ رسید کرنے کے بیان کے بعد نارائن رانے کو آج رتنا گری میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔مرکزی وزیر نارائن رانے کے ذریعے مہاراشٹر کے وزیراعلی ادھو ٹھاکرے کو طمانچہ رسید کرنے کے مبینہ بیان نے بڑے تنازعہ کی شکل اختیار کرلی ہے۔ٹھاکرے اور رانے کے درمیان لفظی جنگ آج دو سیاسی جماعتوں کے درمیان تصادم کی وجہ بن گئی۔ناراض شیوسینکوں نے ممبئی کے جوہو میں واقع نارائن رانے کی رہائش پر زبردست ہنگامہ کیا۔واضح رہے کہ اس سے صبح سے ہی وہاں بی جے پی کارکنان کی بھیڑ جمع تھی بعد میں شیوسینا کارکنان بھی وہاں پہنچنے لگے۔

حالات کو قابو کرنے کیلئے پورے علاقے میں بڑی تعداد میں پولیس تعینات کی گئی تھی اس کے باوجود دونوں جماعتوں کے کارکنان میں تصادم ہوا۔جس کے بعد پولیس کو معمولی لاٹھی چارج کرنا پڑا۔اس دوران پتھر بازی میں دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔اس کے علاوہ شیوسینا کارکنان نے ناسک بی جے پی کے دفتر پر پتھراؤ کردیا، وہیں ددر میں شیوسینکوں نے رانے کے مرغی چور والے پوسٹر آویزاں کئے۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔عین سالگرہ کے دن بارہویں منزل سے گرنے کے سبب بچے کی موت

واضح رہے کہ پانچ دہائی قبل رانے چیمبور میں پالیٹری کی دکان چلاتے تھے۔رانے کے خلاف شکایت درج ہونے کے بعد ناسک پولیس کمشنر دیپک پانڈے نے وزیراعلی ادھو ٹھاکرے کے خلاف متنازعہ بیان دینے پر مرکزی وزیر نارائن رانے کی فوری گرفتاری کا حکم جاری کیا تھا۔حالانکہ میڈیا نمائندوں سے بات چیت کے دوران نارائن رانے نے ادھو ٹھاکرے سے متعلق متنازعہ بیان کے بعد درج معاملات سے متعلق لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔انہوں نے کہا تھا کہ میں کوئی چھوٹا موٹا آدمی نہیں ہوں، مرکزی وزیر ہوں۔اس دوران شیوسینا رکن پارلیمان ونائیک راوت نے وزیراعظم نریندر مودی کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے اس سارے معاملے سے آگاہ کیا اور ادھو ٹھاکرے سے متعلق متنازعہ بیان دینے پر رانے کو مرکزی وزیر کے عہدے سے برخاست کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ نارائن رانے نے پیر کے روز رائے گڑھ ضلع میں جن آشیرواد یاترا کے دوران کہا تھا کہ یہ شرمناک ہے کہ وزیراعلی کو اس بات کا علم نہیں کہ آزادی کے کتنے سال ہوئے ہیں؟ تقریر کے دوران وہ پیچھے مڑ کر اس تعلق سے پوچھتے نظر آئے۔اگر میں وہاں ہوتا تو انہیں ایک زوردار تھپڑ لگاتا۔جس کے بعد آج  رتناگری پولیس سپریٹنڈنٹ رانے سے ملنے پہنچے، کاغذی کارروائی کے انہیں گرفتار کرلیا گیا۔واضح رہے کہ ان کی قبل از گرفتاری کی درخواست کو بھی مستدر کردیا گیا ہے۔بی جے پی سربراہ جے پی نڈا نے رانے کی گرفتاری کی مذمت کی ہے۔انہوں نے ٹوئیٹ کرکے کہا کہ مہاراشٹر حکومت کے ذریعے نارائن رانے کی گرفتاری آئینی اقدار کے منافی ہے۔

 

تالی بجاؤ، تھالی بجاؤ اور پھر گالیاں بھی کھانی پڑتی ہیں، آکسیجن کی کمی سے جان گنوانے والوں کے اہل خانہ کو چاہیے کہ وہ حکومت کو عدالت میں کھینچیں

راجیہ سبھا اجلاس میں کرونا کے مدعے پر حزب اختلاف جماعتوں نے مرکزی حکومت کو جم کر تنقید کا نشانہ بنایا۔شیوسینا لیڈر سنجے راوت نے کہا کہ تالیاں بجاؤ، تھالیاں بجاؤ، پھر گالیاں بھی کھانی پڑتی ہیں۔راوت نے مرکزی حکومت پر کرونا کے سبب ہلاک ہونے والوں کے اعداد و شمار چھپانے کا الزام عائد کیا ہے۔راوت نے کہا کہ ہم تمام لوگ کرونا سے متاثر ہوئے ہیں، سب نے کسی نہ کسی اپنے کو کھویا ہے۔حتی کہ ہم نے پارلیمنٹ میں ساتھ رہنے والے اپنے ساتھیوں کو بھی کھویا ہے۔عوام کی حالت تو بہت ہی بری تھی۔شمشان کے باہر لاشوں کے ڈھیر تھے، 24 گھنٹے ایمبولینس شمشان کے باہر کھڑی رہتی تھی۔گنگا کے کنارے کس طرح ہزاروں لوگوں کو دفنایا گیا یہ بھی سب نے دیکھا۔لاشوں کی بے حرمتی بھی کی گئی۔میں کسی مخصوص شخص کو موردِ الزام نہیں ٹھہراتا لیکن ہر سسٹم کے پس پشت ایک شخص ہوتا ہے۔انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ آپ اعداد وشمار کیوں چھپا رہے ہیں؟صحیح اعداد و شمار بتائیے۔راوت کے سوال پر چراغ پا بی جے پی اراکین نے کہا کہ مہاراشٹر میں کرونا کے سب سے زیادہ معاملات تھے۔اس پر راوت نے کہا کہ مہاراشٹر نے جس طرح کرونا وباء کے دوران کام کیا اور جو حکمت عملی اپنائی، سپریم کورٹ نے خود اس کی تعریف کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔۔راج کندرا کی گرفتاری پر کنگنا کا ردعمل، میں نے کہا تھا فلم انڈسٹری گٹر ہے

راوت نے میڈیا نمائندوں سے بات چیت کے دوران کہا کہ کرونا کی دوسری لہر میں آکسیجن کی کمی سے ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ کو مرکزی حکومت کو عدالت میں کھینچنا چاہیے۔غور طلب ہے کہ گذشتہ دنوں حکومت نے ایوان کے ایک سوال کے تحریری جواب میں کہا کہ کووڈ-19 کی دوسری لہر کے دوران مختلف ریاستوں اور مرکزی حکومت کے زیراثر علاقوں میں آکسیجن کی کمی سے کسی کی موت ہونے سے متعلق کوئی اطلاع نہیں دی گئی ہے۔راوت حکومت کے اس جواب پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی زیراقتدار ریاستوں میں آکسیجن کی کمی سے کئی لوگوں کی موت ہوئی ہے۔جن لوگوں نے آکسیجن کی کمی کے سبب اپنوں کو کھویا انہیں چاہیے کہ حکومت کو عدالت میں کھینچیں۔

 

مہاراشٹر بی جےپی کے ترجمان رام کدم کا طنز، چوہان یہ بھول گئے کہ ان کے لیڈر راہل گاندھی بھی وزیراعظم بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں

گذشتہ کچھ دنوں میں مہاراشٹر میں برسراقتدار مہاوکاس اگھاڑی حکومت میں شامل حلیف جماعتوں کے درمیان آپسی چپقلش کی خبریں منظر عام پر آئی تھیں۔مہاراشٹر لانگریس کے صدر نانا پٹولے کا آئندہ انتخابات میں کانگریس کے اکیلے انتخاب لڑنے سے متعلق بیان بھی سامنے آیا تھا۔نانا پٹولے کے اس بیان سے ناراض این سی پی سربراہ شرد پوار نے کانگریس اعلی کمان سے نانا پٹولے کی شکایت بھی کی تھی۔اسی درمیان کانگریس کے سینئر لیڈر پرتھوی راج چوہان نے کہا کہ ملک بھر میں ادھو ٹھاکرے کی مقبولیت میں اضافہ ہورہا ہے۔انہیں ملک کا وزیراعظم بننا چاہیے۔کانگریس لیڈر پرتھوی راج چوہان نے ادھو ٹھاکرے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ حال میں ایک سروے میں وزیراعلی ادھو ٹھاکرے کو ملک کا پسندیدہ وزیراعلی قرار دیا گیا تھا۔اسلئے ادھو کو ملک کا وزیراعظم بننا چاہیے۔اگر مہاراشٹر کا کوئی لیڈر ملک کا وزیراعظم بنتا ہے تو اس سے اچھی اور کیا بات ہوسکتی ہے؟ادھو ٹھاکرے نا صرف مہاراشٹر بلکہ پورے ملک میں مقبول ہیں۔ان کی انتظامی صلاحیت اور ان کے طریقہ کار کی بھی تعریف کی جاتی ہے۔پرتھوی راج چوہان نے ادھو ٹھاکرے کی ےعریف کرتے کرتے وزیراعظم نریندر مودی پر تنقید بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کی پوری توجہ تشہیر پر ہوتی ہے۔ویکسینیشن مہم سے متعلق انہوں نے کہا کہ مرکزی حکو۔ت نے مہاراشٹر کے ساتھ سوتیلا سلوک کیا ہے۔لیکن مہاراشٹر حکومت نے اپنی سطح پر ویکسینیشن مہم بحسن خوبی چلائی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔۔راج کندرا کی گرفتاری پر کنگنا کا ردعمل، میں نے کہا تھا فلم انڈسٹری گٹر ہے

پرتھوی راج چوہان نے یہ بھی کہا کہ نریندر مودی کا دھیان صرف ریکارڈ بنانے میں رہتا ہے۔ریکارڈ بنانے کیلئے 4 روز تک ویکسینیشن مہم کو روک دیا گیا اور 5 ویں دن ویکسینیشن کا ریکارڈ بنایا گیا۔کرونا وباء کے سبب متعدد لوگوں نے اپنی جانیں گنوائی لیکن مرکزی حکومت اب تک مہلوکین کے صحیح اعدادوشمار پیش نہیں کرسکی ہے۔کانگریس لیڈر کے مذکورہ بیان پر بی جے پی نے طنز کرتے ہوئے راہل گاندھی کو نشانہ بنایا۔مہاراشٹر بی جے پی کے ترجمان رام کدم نے کہا کہ پرتھوی راج چوہان یہ بھول گئے کہ ان کے لیڈر راہل گاندھی بھی وزیراعظم بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔اسلئے ادھو ٹھاکرے کو وزیراعظم کے عہدے کا دعویدار بنانا ان کی بھول ہے۔

برسراقتدار آؤٹر کے نمائندے کے دباؤ میں کام کررہی ہے، گنجان آبادی میں ایس ٹی پی پلانٹ کی تعمیر سے شہریان کی صحت کو شدید خطرہ لاحق ہوگا: ڈاکٹر خالد پرویز

مالیگاؤں: مجلس اتحاد المسلمین  کے شمالی مہاراشٹر کے صدر ڈاکٹر خالد پرویز نے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ٹریٹ مینٹ پلانٹ کی تعمیر سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اس پریس کانفرنس میں ڈاکٹر خالد پرویز نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن میں برسر اقتدار مالیگاؤں آؤٹر کے نمائندے کے دباؤ میں شہریان کا نقصان کررہا ہے۔معصوم شاہ درگاہ کے پاس جو ٹریٹ مینٹ پلانٹ (ایس ٹی پی) تعمیر کیا جارہا ہے وہ انسانی صحت کے لئے مضر ہے۔انہوں نے کہا کہ اس تعلق سے میونسپل کارپوریشن کمشنر کو ایک میمورنڈم دیا گیا تھا اور اس بات کی وضاحت کی گئی تھی کہ یہ پلانٹ گنجان آبادی میں بن رہا ہے جس سے انسانی صحت کو شدید خطرہ لاحق ہوگا اس لیے اسے یہاں نہ بنایا جائے۔  

ڈاکٹر خالد پرویز نے کہا کہ ابھی حال ہی میں جنرل بورڈ اجلاس میں اس عنوان کو لایا گیا تھا۔لیکن آن لائن جنرل بورڈ اجلاس میں ان کی تجویز کو نظر انداز کر دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ جو تجویز پیش کی گئی اس میں یہی مطالبہ کیا گیا تھا کہ مالدہ علاقے میں جہاں 63 ایم ایل ڈی کا پلانٹ میونسپل کارپوریشن بنا رہی ہے اسی جگہ پر اس پلانٹ کو اضافی قوت، جدید مشینری اور اضافی بجٹ کے ساتھ منتقل کر دیا جائے۔انہوں نے تنقید کی کہ کیا وجہ ہیکہ آؤٹر کی لیڈر شپ سے برسر اقتدار خوف زدہ ہے۔برسر اقتدار گروپ مالیگاؤں سینٹرل کے مفاد میں عوامی نمائندوں کی بات اور تجاویز پر کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ جب یہ تجویز منظور ہوئی اس وقت شیوسینا کے جی پی جناردھن اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین تھے اور جس وقت ابتدائی منظوری اسٹینڈنگ میں دی گئی اس وقت دو مقامات کا ذکر تھا لیکن جگہ کا نام متعین نہیں تھا۔ڈاکٹر خالد نے مزید کہا کہ برسراقتدار شیوسینا کانگریس نے ایس ٹی پی پلانٹ کی معصوم شاہ درگاہ کے پاس منظوری دے کر عوام کی صحت سے کھلواڑ کرنے کا کام کیا ہے۔ یہ اوپن سیوریج ٹریٹمینٹ پلانٹ ہوگا جس سے گندگی، بدبو اور جراثیم پیدا ہونگے جو عوامی صحت کیلئے مضر اور نقصان دہ ثابت ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ اس پلانٹ کو منتقل نہیں کیا گیا تو وہ عوامی تحریک کا راستہ اختیار کری  گےاور اس معاملے میں وزارت شہری ترقیات حکومت مہاراشٹر و مرکزی حکومت تک جدوجہد کریں گے۔

دادر میں واقع سینا بھون کے پاس بی جے پی، شیوسینا کارکنان میں تصادم، بی جے پی کے ذریعے شیوسینکوں پر غنڈہ گردی کا الزام عائد کئے جانے پر سنجے راؤت کا تیکھا ردعمل

ممبئی کے دادر علاقے میں واقع شیوسینا بھون کے سامنے ہونے والے تنازعہ پر شیوسینا لیڈر سنجے راؤت نے بی جے پی کو کرارا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہیں کسی سے سند لینے کی ضرورت نہیں ہے وہ خود اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ شیوسینک سند یافتہ غنڈے ہیں۔واضح رہے کہ سینا بھون کے پاس ایک تنازعہ کے بعد بی جے پی نے شیوسینکوں پر غنڈہ گردی کا الزام عائد کیا تھا جس کے بعد سنجے راؤت نے بی جے پی کو کرارا جواب دیا۔راؤت نے کہا کہ ممبئی میں واقع سینا بھون صرف ایک پارٹی کا دفتر ہی نہیں بلکہ مہاراشٹر کی ایک شناخت ہے۔کسی کو بھی اس کی طرف غلط نظر ڈالنے کی ہمت نہیں کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ جب بھی مراٹھی عوام اور ہندوتوا پر ضرب پڑے گی تو شیوسینک ایک غنڈے کی طرح ہی برتاؤ کریں گے۔اس کیلئے شیوسینا کو بی جے پی سے کسی سند کی ضرورت نہیں ہے اگر دوبارہ ایسا ہوا تو کرارا جواب دیا جائے گا۔واضح رہے کہ ایودھیا میں زمین معاملے پر شیوسینا کے ترجمان اخبار سامنا میں ایک اداریہ شائع ہوا تھا جس کے خلاف بی جے پی کی یوا اکائی نے بدھ کے روز ایک احتجاجی مظاہرہ کیا تھا، جس کے دوران ممبئی کے دادر علاقے میں سینا بھون کے پاس بی جے پی اور سینا کارکنان کے درمیان تصادم ہوا تھا۔بی جے پی لیڈر آشیش شیلار نے پی ٹی آئی سے کہا کہ شیوسینا سیاسی مفاد کی خاطر بھگوان رام پر کیچڑ اچھال رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ کبھی شیوسینا بابری مسجد انہدام پر فخر محسوس کرتی تھی لیکن اب وہ سونیا-واڈرا کی گود میں جا بیٹھی ہے۔شیوسینا رکن اسمبلی سدا سرونکر نے کہا کہ انہیں ایسی اطلاع موصول ہوئی تھی کہ بی جے پی کارکنان سینا بھون میں توڑ پھوڑ کرنے آرہے ہیں۔سنجے راؤت نے نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سینا بھون مراٹھی اور مہاراشٹر کی شناخت ہے۔وہاں پارٹی کے بانی بالا صاحب ٹھاکرے بیٹھتے تھے، وہ یہ کیسے برداشت کرلیں گے بالا صاحب ٹھاکرے کے مقام پر کوئی غنڈہ گردی کرے۔اسے منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی حملے کی کوشش کرے گا تو مراٹھا اور شیوسینک چپ رہیں گے؟بی جے پی اتنے تعیش میں کیوں آگئی؟ سامنا کے اداریہ میں ایسا کیا لکھا تھا؟اس میں تو صرف الزامات پر وضاحت مانگی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ اگر الزامات غلط ثابت ہوئے تو الزام لگانے والوں کو سزا دی جانی چاہیے۔اداریہ میں کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا کہ اس معاملے میں بی جے پی شامل ہے۔

ادھو ٹھاکرے اور مودی کی ملاقات پر سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیوں کا بازار گرم، کیا بی جے پی اور سینا دوبارہ متحد ہوں گے؟ سنجے راؤت نے نئے اتحاد کے امکانات کو مسترد کیا
ممبئی: منگل کے روز مہاراشٹر کے وزیراعلی ادھو ٹھاکرے نے وزیراعظم نریندر مودی سے خصوصی ملاقات کی۔30 منٹ کی اس ملاقات کے سبب جہاں شیوسینا کے مخالفین میں بے چینی دیکھی جارہی ہے وہیں مہاوکاس اگھاڑی حکومت میں شامل شیوسینا کی حلیف جماعتوں این سی پی اور شیوسینا میں بھی کھلبلی مچی ہوئی ہے۔2019 میں وزیراعلی کے عہدے کا حلف لینے کے بعد ادھو کی مودی سے دوسری ملاقات کے سبب شیوسینا اور بی جے پی کے درمیان دوبارہ اتحاد کی قیاس آرائیاں بھی کی جارہی ہیں۔حالانکہ سینا رکن پارلیمان سنجے راؤت نے کسی بھی نئے سیاسی اتحاد کے امکانات کو مسترد کردیا ہے۔ٹھاکرے نے کہا کہ وہ اپنے والد بال ٹھاکرے کی طرح ہیں جن کے ہر ہرگوشے اور شعبے میں ہر طرح کے دوست تھے۔نریندر مودی کے ساتھ خصوصی بات چیت کی تصدیق کرتے ہوئے ٹھاکرے نے کہا کہ حالانکہ ہم سیاسی طور پر ایک ساتھ نہیں ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہمارے تعلقات منقطع ہوگئے ہیں۔میں کوئی نواز شریف سے ملنے نہیں گیا تھا۔میں ملک کے وزیراعظم سے ملنے گیا تھا اس میں کچھ غلط نہیں ہے۔ٹھاکرے نے یاد دہانی کرائی کہ مودی سے ان کے تعلقات نئے نہیں ہیں بلکہ ان کے دیرینہ تعلقات ہیں۔ٹھاکرے اور مودی کی کلوزڈ ڈور میٹنگ کو مرکزی حکومت اور مہاوکاس اگھاڑی حکومت کے درمیان مختلف مسائل پر تناؤ کے تناظر میںن دیکھا جارہا ہے۔ شیوسینا کے وزراء اور کانگریس و این سی پی لیڈران مسلسل مرکزی حکومت کو نشانہ بنارہے ہیں۔منگل کے روز ہونے والی ٹھاکرے اور مودی کی ملاقات نے مرکزی حکومت اور مہاوکاس اگھاڑی حکومت کے درمیان خوشگوار تعلقات کے نئے راستے کھول دیئے ہیں۔
 

کانگریس کے خواہش کے آگے سرتسلیم خم کرکے ہم اپنی عوام کو ناراض نہیں کریں گے، کانگریس اپنا راستہ خود چننے کیلئے آزاد ہے

ممبئی: مہاراشٹر کے وزیراعلی ادھو ٹھاکرے نے جمعرات کے دن یہ واضح کیا کہ شیوسینا نے حکومت میں شامل اپنی حلیف جماعتوں کانگریس اور این سی پی کی خواہش کے مطابق

 Common Minimum Program 

میں سیکولر ازم کو شامل کرنے پراتفاق کیلئے ہندوتوا کو ترک نہیں کیا ہے۔ اورنگ آباد کا نام تبدیل کرکے سمبھاجی نگر کئے جانے کی مخالفت کرنے والی کانگریس کو اشارہ دیتے ہوئے ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ اورنگ زیب سکیولر نہیں تھے، ہمارا ایجنڈا لفظ سکیولر پر مشتمل ہے لیکن اورنگ زیب اس ایجنڈا میں فٹ نہیں ہوتے۔سمبھاجی نگر کا ذکر کوئی نیا نہیں ہے۔ٹھاکرے کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ معاملہ ان کے نزدیک پہلے ہی ختم ہوچکا ہے اور وہ اس معاملے کو لیکر کانگریس کے ساتھ کسی لفظی جنگ میں نہیں پڑنا چاہتے۔وزیراعلی ٹھاکرے نے مزید کہا کہ کانگریس اپنا راستہ خود چننے کیلئے آزاد ہے۔ ٹھاکرے نے یہ بھی اشارہ دیا کہ صرف اقتدار پر قائم رہنے کیلئے کانگریس کے آگے سرتسلیم خم کرکے اپنی زیراقتدار ریاست کے لوگوں کو ناراض نہیں کرے گی۔واضح رہے کہ چند روز قبل کانگریس لیڈر بالا صاحب تھورات اور دیگر پارٹی لیڈران کی جانب سے اورنگ آباد کا نام تبدیل کرکے سمبھاجی نگر کئے جانے کی مخالفت کرتے ہوئے یہ وجہ بتائی گئی تھی کہ شہروں کا نام تبدیل کرنا مہاوکاس اگھاڑی حکومت کے

 Common Minimum Program

 کا حصہ نہیں تھا۔ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ ہم اورنگ آباد کو سمبھاجی نگر کہتے آئے ہیں، حتی کہ شیوسینا سپریمو بال ٹھاکرے بھی اورنگ آباد کیلئے سمبھاجی نگر کا نام استعمال کرتے تھے۔اس میں کچھ نیا نہیں ہے۔ٹھاکرے نے اس معاملہ میں اب گیند کانگریس کے پالے میں ڈال دی ہے۔