Articles by "Jammu Kashmir"
Showing posts with label Jammu Kashmir. Show all posts

 


پہلگام دہشت گردانہ حملوں کے بعد سنجے راؤت کا امیت شاہ سے استعفیٰ کا مطالبہ

شیوسینا یو بی ٹی لیڈر سنجے راؤت نے وزیر داخلہ امیت شاہ کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ملک پر احسان کرنا چاہئے اور استعفیٰ دے دینا چاہئے۔ راؤت کی جانب سے استعفیٰ کا مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جموں و کشمیر کے پہلگام میں سیاحوں پر ہوئے غیر انسانی دہشت گردانہ حملے پر قوم غم و غصے کا شکار ہے، جس میں 28 سیاحوں کی موت ہو گئی تھی۔

سنجے راؤت نے ایکس پر اپنی تازہ ترین پوسٹ میں وزیر داخلہ امیت شاہ کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کا بنیادی کام حکومتیں بنانا اور تحلیل کرنا ہے، انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ وزیر داخلہ امت شاہ سال کا ہر ایک دن سیاسی مخالفین کو ختم کرنے کی حکمت عملی بنانے میں گزارتے ہیں۔ انہوں نے پوسٹ میں یہ بھی کہا کہ امیت شاہ کو ملک پر احسان کرنا چاہئے اور استعفیٰ دے دینا چاہئے۔

راؤت نے اپنے ایکس ہینڈل پر. لکھا کہ

"पुरा समय सरकारे बनाना और गिराने मे जाता है! राजनैतिक विरोधीयोंको खतम करनेकी साजिश मे 365 दिन दिमाख व्यस्त रहता है, लोगोंकी सुरक्षा राम भरोसे! अब राम भी ऊब चुका है इन लोगोंसे! इस्तीफा दो.देश पर मेहरबानी करो!"

(استعفیٰ دو! پورا وقت سرکاریں بنانے اور تحلیل کرنے میں جاتا ہے. دماغ سال کے 365 دن سیاسی مخالفین کو ختم کرنے کی حکمت عملی بنانے میں مصروف ہوتا ہے. استعفیٰ دو! ملک پر مہربانی کرو.)

جموں و کشمیر کے پہلگام شہر کے قریب دہشت گردوں کی فائرنگ سے کم از کم 28 سیاح ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے، جو 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سے سب سے مہلک حملہ ہے۔ یہ واقعہ 1990 کی دہائی میں کشمیر میں عسکریت پسندی کے آغاز کے بعد سیاحوں پر سب سے مہلک حملہ ہے۔ اس حملے سے مارچ 2000 میں ضلع اننت ناگ کے چٹی سنگھ پورہ میں ہوئے قتل عام کی یادیں تازہ ہو گئیں، جہاں امریکی صدر بل کلنٹن کے دورہ بھارت سے چند دن پہلے سکھ برادری کے 36 افراد مارے گئے تھے۔

آرٹیکل 370 عارضی تھا، مرکز کے ہر فیصلے کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا

جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 ہٹانے کا فیصلہ برقرار رہے گا۔ سی جے آئی چندر چوڑ نے پانچ ججوں کی بنچ کا فیصلہ پڑھتے ہوئے کہا  کی آرٹیکل 370 عارضی تھا۔ اسے ایک مقررہ مدت کے لیے لایا گیا تھا۔ مرکز کے ہر فیصلے کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھیں:....صوبائی جمعیت کے ارکان عاملہ نےتاریخِ اہل حدیث پر مقالے کی اشاعت کومنظوری دی

جسٹس چندر چوڑ نے کہا کہ اگر مرکزی حکومت کا کوئی فیصلہ پریشانی کا سبب بنتا ہے تو اسے چیلنج کیا جاسکتا ہے. عدالت نے کہا کہ آرٹیکل ٣٥٦ کے بعد یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ مرکز پارلیمنٹ کے ذریعے ہی قانون بنا سکتا ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا نے یہ بھی کہا کہ اس میں تین ججوں کا فیصلہ شامل ہے، ایک فیصلہ میرا، جسٹس گوئی اور جسٹس شری کانت کا ہے، دوسرا فیصلہ جسٹس کول کا ہے جبکہ جسٹس کھنہ دونوں فیصلوں سے متفق ہیں.

اس فیصلے سے جموں کشمیر میں سیاسی ہلچل بڑھ گئی ہے. پی ڈی پی نے الزام عائد کیا کہ فیصلے سے قبل پولیس نے ان کی لیڈر محبوبہ مفتی کو غیر قانونی طریقے سے نظربند کردیا. حالانکہ نائب گورنر نے کسی کو بھی نظر بند کئے جانے سے انکار کرتے ہوئے اسے افواہ پھیلانے کی کوشش قرار دیا ہے.

مودی حکومت نے اپنی دوسری میعاد میں 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 کو ختم کر دیا تھا۔ حکومتی فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں کل 23 درخواستیں دائر کی گئیں۔ پانچ ججوں کی بنچ نے تمام درخواستوں کی ایک ساتھ سماعت کی۔ 16 دن تک جاری رہنے والی سماعت 5 ستمبر کو ختم ہوئی۔  جس کے بعد سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

 

فوٹو جرنلسٹ نے ٹوئیٹ کے ذریعے کہا کہ وہ ایک کتاب کی رونمائی اور فوٹو گرافی کی نمائش میں شرکت کیلئے پیرس جارہی تھیں

پلٹزر ایوارڈ یافتہ کشمیری فوٹو جرنلسٹ کو سنیچر کے روز ایئر پورٹ پر امیگریشن حکام نے بیرون ملک سفر کرنے سے روک دیا اور کشمیر پولیس کی جانب سے عائد پابندی کا حوالہ دیا.

یہ بھی پڑھیں :... نپور شرما سے متعلق سپریم کورٹ کا ریماک قابل ستائش ہے: حافظ عنایت اللہ محمدی
ثناء ارشاد مٹو ایک کتاب کی رونمائی اور فوٹو گرافی کی نمائش میں شرکت کیلئے پیرس جارہی تھیں جب انہیں دہلی ایئرپورٹ پر امیگریشن حکام نے روک لیا. ثناء نے ٹوئیٹ کے ذریعے کیا کہ میں اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق کتاب کی رونمائی اور فوٹو گرافی کی نمائش میں شرکت کیلئے دہلی سے پیرس کے سفر پر نکلنے والی تھی. فرانسیسی ویزا حاصل کرنے کے باوجود مجھے امیگریشن حکام نے روک دیا.
ثناء مٹو نے مئی میں پلٹزر ایوارڈ حاصل کیا تھا، واضح رہے کہ ثناء یہ باوقار ایوارڈ حاصل کرنے والی کشمیر کی پہلی خاتون بن گئی ہیں. ثناء عدنان عابدی، امیت داوے اور مرحوم دانش صدیقی کے ساتھ رائٹرز ٹیم کا حصہ تھی جنہیں ہندوستان میں کورونا وباء کے کوریج کیلئے فیچر فوٹو گرافی زمرے میں 2022 میں پلٹزر ایوارڈ سے نوازا گیا تھا.

 

مودی صاحب بچوں کو اتنا کام کیوں کرنا پڑتا ہے، آن لائن کلاس اور ہوم ورک سے پریشان 6 سالہ معصوم بچی کا ویڈیو ٹوئٹر پر وائرل

کرونا کے سبب ملک بھر میں اسکولیں بند ہیں، طویل عرصے سے طلباء اسکولوں سے دور ہیں۔پڑھائی کا حرج نہ ہو اس لئے آن لائن کلاسیس کا سلسلہ جاری کیا گیا ہے۔لیکن آن لائن کلاسیس بچوں کیلئے پریشانی کا باعث بنتی جارہی ہیں۔حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک چھ سالہ بچی کا ویڈیو وائرل ہوا جس میں بچی ہوم ورک اور آن لائن کلاس سے متعلق وزیراعظم نریندر مودی سے شکایت کررہی ہے۔جموں کشمیر کے گورنر منوج سنگھ نے اس بچی کے ویڈیو پر توجہ بھی دی ہے۔جموں کشمیر کی رہنے والی ایک چھ سالہ بچی نے آن کلاسیس سے ناخوش ہوتے ہوئے ایک ویڈیو بنا کر شیئر کی ہے۔جس میں بچی نے اسکولوں سے ملنے والے ہوم ورک اور لمبی کلاسیس سے متعلق پریشانی اور ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔سوشل میڈیا پر وائرل اس ویڈیو کو جموں کشمیر کے گورنر منوج سنگھ نے ٹوئیٹر پر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ بہت ہی پیاری شکایت ہے۔انہوں نے اسکولی بچوں کو ہوم ورک کا بوجھ کم کرنے سے متعلق محکمہ تعلیم کو 48 گھنٹے کے اندر لائحہ عمل تیار کرنے کا حکم دیا ہے۔انہوں نے ٹوئیٹ میں مزید لکھا کہ بچپن کی معصومیت بھگوان کا تحفہ ہوتی ہے، بچوں کے دن خوشیوں سے بھرے ہونے چاہیے۔بچی کا شکایتی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد ایسی امید ہے کہ آن لائن کلاس میں بچوں پر پڑھائی کا بوجھ کم ہوسکتا ہے اور انہیں راحت مل سکتی ہے۔ویڈیو میں بچی کہہ رہی ہے کہ اس کی آن لائن کلاس دس بجے شروع ہوتی ہے اور دو بجے تک جاری رہتی ہے۔جس میں انگلش، میتھس، اردو اور ای وی ایس پڑھنا پڑتا ہے۔بچی نے وزیراعظم نریندر مودی سے درخواست کرتے ہوئے کہتی ہے کہ مودی صاحب بچوں کو آخر اتنا کام کیوں کرنا پڑتا ہے؟واضح رہے کہ ٹوئٹر پر شیئر ہونے والے اس ویڈیو کو اب تک لاکھوں لوگوں نے دیکھا ہے اور بچی کی معصومیت پر اپنے تاثرات بھی ظاہر کررہے ہیں۔

Click here to watch:

Video