Articles by "SIT"
Showing posts with label SIT. Show all posts

جنم داخلہ معاملہ صرف چند افراد کا نہیں بلکہ پورے مالیگاؤں کی عزت و ساکھ کا مسئلہ ہے :مستقیم ڈگنیٹی 

مالیگاؤں : مالیگاؤں شہر کے "جنم داخلہ" (برتھ سرٹیفکیٹ) مبینہ معاملہ کے مقدمات میں آج عدالت نے ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے تین ایجنٹوں کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ آج معزز جج اشون بھوبے صاحب کی عدالت کے روبرو ان مقدمات کی تفصیلی سماعت ہوئی۔ دفاعی ​وکلاء کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے تین مبینہ ایجنٹس صغیر ماسٹر، عتیق منا اور فیصل کی درخواستِ ضمانت منظور کر لی۔ واضح رہے کہ اس سے قبل کے کیسز میں بھی متعدد ایجنٹس کو عدالت کی جانب سے ضمانت مل چکی ہے۔اس طرح کی تفصیلات ممبئی ہائی کورٹ سے مائناریٹی ڈیفنس کمیٹی کے معاون کنوینر مستقیم ڈگنیٹی نے نمائندہ بیباک کو دی ۔انہوں نے بتایا کہ ​غزالہ پروین اور دیپالی دھارنکر کی درخواست کیلئے بھی ہماری کوشش جاری ہے، ​عدالتی کارروائی کے مطابق، اب سب کی نظریں خواتین ملزمان پر مرکوز ہیں۔ غزالہ پروین اور دیپالی دھارنکر کی ضمانت کی درخواستوں پر اب اگلی سماعت 22 جولائی کو شام 5:00 بجے ہوگی۔ مائناریٹی ڈیفینس کمیٹی کی جانب سے قوی امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ انسانی ہمدردی اور قانونی بنیادوں پر انہیں بھی جلد ہی ضمانت مل جائے گی۔مستقیم ڈگنیٹی نے کہا کہ مائناریٹی ڈیفینس کمیٹی آصف شیخ کی سرپرستی میں قانونی امداد فراہم کررہی ہے ۔

​انہوں نے مزید کہا کہ، اس مقدمے سے جڑے سرکاری ملازمین بشمول عبد التواب شیخ ،دھارنکر، مہاجن اور امبورے کے کیسز کی الگ الگ سماعت 27 جولائی کو مقرر کی گئی ہے۔مستقیم ڈگنیٹی نے کہا کہ ​متاثرین کی قانونی امداد کرنے والی مائنارٹی ڈیفنس کمیٹی آصف شیخ کی سربراہی میں اس معاملے میں اول روز سے متحرک ہے اور ​اب تک ہائی کورٹ کے ذریعے 8 افراد کی رہائی عمل میں آ چکی ہے۔

مائناریٹی ​کمیٹی غزالہ پروین، عبدالتواب اور دیگر تمام بے قصور افراد کے مقدمات کی پیروی پوری مضبوطی سے کر رہی ہے۔​کمیٹی کے سرگرم وکیل سدھانشو مہندر  نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ​"غزالہ پروین کے معصوم بچہ بھی آج عدالت میں موجود تھا، جن کی حالتِ زار کو دیکھتے ہوئے ہم امید کر رہے ہیں کہ اگلی سماعت پر عدالت انہیں فوری ضمانت کی راحت فراہم کرے گی۔"۔

 ​مائنارٹی ڈیفنس کمیٹی اور کارپوریٹر مستقیم ڈگنیٹی نے اس پورے معاملے کو شہر کی ساکھ پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ

 ابتدائی طور پر اس کیس کو بنگلہ دیشی اور روہنگیا دراندازوں سے جوڑ کر شہر کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (SIT) کی رپورٹ کو اب تک عام نہ کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ پولیس کو شہر میں کسی بھی قسم کے بنگلہ دیشی یا روہنگیا باشندے کا کوئی سراغ نہیں ملا۔کارپوریشن اور تحصیل انتظامیہ اور کلرکوں کی معمولی و تکنیکی غلطیوں کی سزا عام اور غریب شہریوں کو بھگتنی پڑ رہی ہے، جنہیں سنگین دفعات کے تحت جیلوں میں بند کیا گیا۔​مستقیم ڈگنیٹی نے آخر میں عزم ظاہر کیا کہ کمیٹی انصاف کی یہ جنگ آخری دم تک جاری رکھے گی اور ان شاء اللہ بہت جلد تمام بے گناہ شہری اس بحران سے سرخرو ہو کر باہر نکلیں گے۔ یہ مقدمات صرف چند افراد کے نہیں بلکہ پورے مالیگاؤں شہر کی عزت و ساکھ کا مسئلہ ہیں۔

जनआंदोलन तथा आमरण अनशन जैसे आंदोलनात्मक कदम उठाने की भी चेतावनी

मालेगांव, दि. 1 जून 2027 : दरेगांव स्थित गट क्रमांक 38/2, 83 व उपगटों में जमीन घोटाला, वन भूमि अतिक्रमण, राजस्व चोरी व अनधिकृत औद्योगिक निर्माण को लेकर भारतीय जनता पार्टी ने मा. अपर जिल्हाधिकारी, नाशिक के समक्ष एक बार फिर कड़ी कार्रवाई की मांग की है और इसे प्रशासन को दी गई “अंतिम चेतावनी” बताया है।

भाजपा पदाधिकारियों द्वारा दिए गए निवेदन में कहा गया है कि ‘फेयर एक्सपोर्ट्स’ कंपनी, स्थानीय भूमाफिया व कुछ भ्रष्ट राजस्व अधिकारियों की मिलीभगत से शासन के करोड़ों रुपये के राजस्व की हानि की गई है तथा आदिवासी व आरक्षित वन भूमि का अवैध हस्तांतरण किया गया है।

भाजपा ने प्रशासन के समक्ष निम्न प्रमुख मांगें रखी हैं :

• महाराष्ट्र जमीन राजस्व संहिता, 1966 की धारा 53 के अंतर्गत गट क्र. 83, 83/14, 83/15, 83/16 व 83/17 पर स्थित सभी अनधिकृत औद्योगिक निर्माणों पर तत्काल बुलडोजर कार्रवाई कर उन्हें ध्वस्त किया जाए।

• शासन का बकाया 83,04,000 रुपये नजराना तथा अनधिकृत उपयोग के लिए लगाए जाने वाले 40 गुना दंड संबंधितों की संपत्ति जब्त कर वसूला जाए।

• संबंधित जमीनों के 7/12 उतारे पर दर्ज निजी व कंपनी के नाम रद्द कर कब्जेदार के स्थान पर “महाराष्ट्र शासन (आरक्षित वन)” दर्ज किया जाए।

• आदिवासी वन भूमि के अवैध हस्तांतरण के मामले में संबंधित गैर-आवेदक तथा जिम्मेदार तलाठी व मंडल अधिकारियों पर मकोका (MCOCA) व अनुसूचित जाति-जनजाति अत्याचार निवारण अधिनियम के तहत मामले दर्ज किए जाएं।

भाजपा पदाधिकारियों ने यह भी कहा कि माननीय मुख्यमंत्री तथा राजस्व मंत्री के निर्देश पर जांच समिति गठित की गई है, लेकिन अब तक रिपोर्ट शासन को प्रस्तुत नहीं की गई है। इसलिए प्रशासन बिना किसी देरी के तत्काल सख्त कार्रवाई करे।

अन्यथा भारतीय जनता पार्टी लोकतांत्रिक तरीके से तीव्र जनआंदोलन शुरू करेगी तथा आमरण अनशन जैसे आंदोलनात्मक कदम उठाने की चेतावनी दी गई है।

इस अवसर पर भाजपा विधि प्रकोष्ठ शहर अध्यक्ष एड. योगेश निकम, इंजी. हर्षल पवार व प्रमोद गांगुर्डे उपस्थित थे।

ذات کی جانچ پڑتال کمیٹی نے وانکھیڈے کے ذات سرٹیفکیٹ کو برقرار رکھا،تین رکنی کمیٹی نے کہا وانکھیڈے پیدائشی طور پر مسلمان نہیں ہیں

ممبئی: مہاراشٹر حکومت کی ڈسٹرکٹ کاسٹ سرٹیفکیٹ تصدیق کمیٹی (ڈی سی سی وی سی) نے مبینہ جعلی ذات سرٹیفکیٹ کیس میں نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) کے سابق زونل افسر سمیر وانکھیڈے کو کلین چٹ دے دی ہے۔

جمعہ کو جاری کردہ ایک تفصیلی حکم میں ڈی سی سی وی سی نے وانکھیڈے کے سرٹیفکیٹ کو برقرار رکھا، جس میں کہا گیا تھا کہ وہ مہار-37 درج فہرست ذات سے تعلق رکھتے ہیں۔ تین رکنی کمیٹی نے یہ بھی کہا کہ وہ پیدائشی طور پر مسلمان نہیں ہیں۔ ذات کی جانچ پڑتال کمیٹی کی صدارت انیتا میشرم وانکھیڈے نے کی تھی اور اس میں سلیمہ تڈوی کو ممبر اور سنیتا ماٹے کو ممبر سکریٹری بنایا گیا تھا۔

وانکھیڈے نے اکتوبر 2021 میں بالی ووڈ اداکار شاہ رخ خان کے بیٹے آرین خان کو کورڈیلیا کروز پر منشیات کے ایک مبینہ کیس میں گرفتار کیا تھا۔  کئی تنازعات کے بعد کیس کو دہلی کے NCB افسران پر مشتمل ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) کے حوالے کر دیا گیا، جس نے بعد میں کیس سے آرین کا نام نکال دیا۔

انڈین ریونیو سروس (IRS) کے 2008 بیچ کے وانکھیڈے کو بعد میں NCB سے منتقل کر دیا گیا۔ وانکھیڈے کے خلاف اپنی ذات چھپانے کی شکایت ریاست کے سابق کابینی وزیر نواب ملک اور دیگر نے درج کرائی تھی۔ ڈی سی سی وی سی میں دائر کی گئی شکایت میں الزام لگایا گیا تھا کہ اس کے والد، دنیا ندیو نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ تاہم سرکاری نوکری حاصل کرنے کے فائدے کے لیے وانکھیڈے مہار ذات کا سرٹیفکیٹ استعمال کر رہے تھے۔

وانکھیڈے نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ معاملہ اس وقت اٹھایا جا رہا تھا، جب وہ این سی بی کی سربراہی کر رہے تھے،اور ان کی ٹیم نے ملک کے داماد سمیر خان کو منشیات کے ایک کیس میں گرفتار کیا تھا۔

ذات پات کی جانچ کمیٹی نے کہا کہ شکایت کنندگان، این سی پی لیڈر ملک اور دیگر، اپنے دعوے کو ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے، اور کہا کہ یہ ثابت نہیں ہوتا ہے کہ سمیر وانکھیڈے اور ان کے والد دنیا ندیو نے ہندو مذہب کو چھوڑ کر اسلام کو اپنایا تھا۔ کمیٹی کے سامنے شکایت کنندگان میں سے ایک کی نمائندگی کرنے والے ایڈوکیٹ نتن ستپوتے نے اس فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا۔  انہوں نے کہا کہ سمیر وانکھیڈے کی ذات کو رٹ پٹیشن نمبر WPL/26957/2021 

میں میرے ذریعہ پہلے ہی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ ہمیں ذات کی جانچ کمیٹی سے زیادہ امیدیں نہیں تھیں، لیکن ہائی کورٹ پر بھروسہ ہے۔