مختلف مقامات پر ای وی ایم میں ایک جیسے نمبرات آنا محض اتفاق نہیں, الیکشن کمیشن سے غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ
ممبئی: شیو سینا (ادھو ٹھاکرے گروپ) کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا رکن سنجے راوت نے مہاراشٹر کے حالیہ بلدیاتی و نگر پریشد انتخابات کے نتائج پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مختلف مقامات پر ایک ہی مشین سے ایک جیسے نمبرز آنا شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے اور پورے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالیہ نشان لگا دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:.....مہاراشٹر نگر پریشد انتخابات: بی جے پی سب سے بڑی پارٹی بنیion-blames-EC.html
سنجے راوت نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایک ہی الیکٹرانک ووٹنگ مشین (EVM) سے مختلف علاقوں میں ایک جیسے نتائج سامنے آ رہے ہیں تو یہ محض اتفاق نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا، "نمبر ایک جیسے ہیں، مشین ایک جیسی ہے، مگر منطق الگ الگ بتائی جا رہی ہے، یہ کیسے ممکن ہے؟"
انہوں نے واضح طور پر الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ ان معاملات کی غیر جانبدارانہ اور شفاف جانچ کرے تاکہ عوام کا جمہوری نظام پر اعتماد برقرار رہے۔ راوت کے مطابق اگر وقت رہتے وضاحت نہیں کی گئی تو عوام کے ذہنوں میں شکوک مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔
شیو سینا (یو بی ٹی) لیڈر نے یہ بھی کہا کہ اپوزیشن کی آواز کو دبانے کے بجائے، انتخابی عمل پر اٹھنے والے سوالات کا منطقی اور ٹھوس جواب دیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق جمہوریت میں سوال اٹھانا جرم نہیں بلکہ عوام کا حق ہے۔
دوسری جانب حکمراں جماعتوں کی طرف سے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ انتخابی نتائج مکمل طور پر شفاف اور ضابطوں کے مطابق ہیں۔
واضح رہے کہ مہاراشٹر کے بلدیاتی انتخابات کے بعد سیاسی ماحول گرم ہے اور نتائج کو لے کر حکمراں اتحاد اور اپوزیشن کے درمیان لفظی جنگ تیز ہو گئی ہے۔ سنجے راوت کے اس بیان سے ریاستی سیاست میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے، جو آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔


Post A Comment:
0 comments: