Articles by "Amit Shah"
Showing posts with label Amit Shah. Show all posts

ایک غلطی اور آپ کو عدالت جانا پڑے گا, پیدائش اور موت کے ریکارڈ کو مرکزی ڈیجیٹل ڈیٹا بیس سے منسلک کیا جائے گا

نئی دہلی : (29 جولائی)حکومت ملک میں پیدائش اور اموات کے اندراج کے حوالے سے بڑی اور اہم تبدیلی کرنے جا رہی ہے۔ آج،مملکتی وزیر برائے داخلہ امور نتّیا نند رائے  لوک سبھا میں پیدائش اور موت کے رجسٹریشن ترمیمی بل 2026 کو پیش کریں گے۔اس ترمیمی بل کا مقصد پیدائش اور موت کے ریکارڈ کو ڈیجیٹائز کرنا اور جعلی دستاویزات کو روکنا ہے۔ نئے قانون کے نافذ ہونے کے بعد، پیدائش کا سرٹیفکیٹ آپ کی زندگی کا سب سے بڑا اور واحد اہم دستاویز ہوگا۔اگر آپ نے تاخیر کی تو آپ کو عدالتی مراحل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ہندوستان میں رشتہ دار پیدائش اور اموات کے اندراج میں تاخیر کرتے ہیں۔بعض صورتوں میں، یہ تاخیر دس سال تک ہو سکتی ہے۔ حکومت اب اس تاخیر کے حوالے سے سخت پالیسی اپنائے گی۔ تاخیر کی یہ عادت اس نئے ترمیمی بل میں ٹوٹ جائے گی۔نئے بل کے مطابق، اگر پیدائش یا موت کے اندراج میں ایک سے دو سال کی تاخیر ہوتی ہے، تو آپ کے لیے رجسٹریشن کے لیے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ، سب ڈویژنل مجسٹریٹ (ایس ڈی ایم) یا ایگزیکٹو مجسٹریٹ سے تحریری اجازت لینا لازمی ہوگا۔

اگر آپ نے دو سال سے زیادہ کا اندراج نہیں کیا ہے، تو مقامی حکام کو ایسے شخص کو رجسٹر کرنے کا حق نہیں ہوگا۔ کیس براہ راست عدالت میں جائے گا۔وہاں، آپ کو فرسٹ کلاس مجسٹریٹ کے حکم کے بعد ہی آپ کی پیدائش یا موت کا سرٹیفکیٹ ملے گا۔ اگر رجسٹریشن میں تاخیر ہوتی ہے تو حکام کو معاملے کی سنجیدگی سے تحقیقات کرنی ہوں گی۔

اس قانون کے مطابق اب ملک بھر میں پیدائش اور موت کے ریکارڈ کو مرکزی ڈیجیٹل ڈیٹا بیس سے منسلک کیا جائے گا۔جس کی وجہ سے ملک کے کسی بھی کونے سے ہونے والی پیدائش اور اموات کی معلومات ایک ہی جگہ پر آن لائن دستیاب ہوں گی۔ اس ڈیٹا بیس کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اسے ملک کے دیگر بڑے نظاموں جیسے ووٹر لسٹ، راشن کارڈ، پاسپورٹ اور آدھار سے منسلک کیا جائے گا۔ 

اس سے عوامے کے لیے 18 سال کا ہونے پر اپنا نام ووٹر لسٹ میں خود بخود شامل کرنا آسان ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ، اگر موت کا سرکاری ریکارڈ موجود ہے تو اس کا نام ووٹر لسٹ سے حذف کرنا آسان ہو جائے گا۔ اس سے سرکاری اسکیموں میں ابہام کو روکنے میں مدد ملے گی۔

اب تک اسکول میں داخلے اور ڈرائیونگ لائسنس کے لیے مختلف دستاویزات فراہم کیے جارہے تھے۔ تاہم، اس بل کی منظوری کے بعد، پیدائش کا سرٹیفکیٹ ایک بہت اہم اور واحد اہم دستاویز ہوگا۔ اسکول، کالج میں داخلہ لینے، ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے اور سرکاری ملازمتوں کے لیے درخواست دیتے وقت، عمر ثابت کرنے کے لیے پیدائشی سرٹیفکیٹ جیسے مضبوط ثبوت کی ضرورت ہوتی ہے۔حکومت کے مطابق سسٹم کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن کی وجہ سے عام شہریوں کو سرٹیفکیٹ کے لیے سرکاری دفاتر کے چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔ آپ آسانی سے گھر سے آن لائن سرٹیفکیٹ ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ اس سے کرپشن پر بھی قابو پایا جا سکے گا۔ اس سے عوام کا قیمتی وقت بھی بچ جائے گا۔

 


پہلگام دہشت گردانہ حملوں کے بعد سنجے راؤت کا امیت شاہ سے استعفیٰ کا مطالبہ

شیوسینا یو بی ٹی لیڈر سنجے راؤت نے وزیر داخلہ امیت شاہ کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ملک پر احسان کرنا چاہئے اور استعفیٰ دے دینا چاہئے۔ راؤت کی جانب سے استعفیٰ کا مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جموں و کشمیر کے پہلگام میں سیاحوں پر ہوئے غیر انسانی دہشت گردانہ حملے پر قوم غم و غصے کا شکار ہے، جس میں 28 سیاحوں کی موت ہو گئی تھی۔

سنجے راؤت نے ایکس پر اپنی تازہ ترین پوسٹ میں وزیر داخلہ امیت شاہ کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کا بنیادی کام حکومتیں بنانا اور تحلیل کرنا ہے، انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ وزیر داخلہ امت شاہ سال کا ہر ایک دن سیاسی مخالفین کو ختم کرنے کی حکمت عملی بنانے میں گزارتے ہیں۔ انہوں نے پوسٹ میں یہ بھی کہا کہ امیت شاہ کو ملک پر احسان کرنا چاہئے اور استعفیٰ دے دینا چاہئے۔

راؤت نے اپنے ایکس ہینڈل پر. لکھا کہ

"पुरा समय सरकारे बनाना और गिराने मे जाता है! राजनैतिक विरोधीयोंको खतम करनेकी साजिश मे 365 दिन दिमाख व्यस्त रहता है, लोगोंकी सुरक्षा राम भरोसे! अब राम भी ऊब चुका है इन लोगोंसे! इस्तीफा दो.देश पर मेहरबानी करो!"

(استعفیٰ دو! پورا وقت سرکاریں بنانے اور تحلیل کرنے میں جاتا ہے. دماغ سال کے 365 دن سیاسی مخالفین کو ختم کرنے کی حکمت عملی بنانے میں مصروف ہوتا ہے. استعفیٰ دو! ملک پر مہربانی کرو.)

جموں و کشمیر کے پہلگام شہر کے قریب دہشت گردوں کی فائرنگ سے کم از کم 28 سیاح ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے، جو 2019 میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سے سب سے مہلک حملہ ہے۔ یہ واقعہ 1990 کی دہائی میں کشمیر میں عسکریت پسندی کے آغاز کے بعد سیاحوں پر سب سے مہلک حملہ ہے۔ اس حملے سے مارچ 2000 میں ضلع اننت ناگ کے چٹی سنگھ پورہ میں ہوئے قتل عام کی یادیں تازہ ہو گئیں، جہاں امریکی صدر بل کلنٹن کے دورہ بھارت سے چند دن پہلے سکھ برادری کے 36 افراد مارے گئے تھے۔

بی جے پی علاقائی جماعتوں کو ختم کرنے کی سازش کررہی ہے، مخالفین کی آواز دبانے کیلئے طاقت کا استعمال کیا جارہا ہے، لیکن وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا، بی جے پی اور نڈا کو سوچنا چاہیے کہ جب وقت بدلے گا تب ان کا کیا ہوگا؟ :ٹھاکرے

مہاراشٹر کے گورنر بی ایس کوشیاری کے حالیہ متنازعہ بیان کے بعد پٹنہ میں بی جے پی کی ایک پارٹی میٹنگ میں پارٹی کے قومی صدر جے پی نڈا کا یہ بیان کہ ملک میں صرف بی جے پی باقی رہے گی جبکہ تمام سیاسی پارٹیاں ختم ہوجائیں گی، نے ایک بڑا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے. شیوسینا سربراہ ادھو ٹھاکرے نے جے پی نڈا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیان بی جے پی کے اصل چہرے اور آمریت کی طرف اس کی پیش قدمی کو ظاہر کرتا ہے. ٹھاکرے نے بی جے پی لیڈران پر علاقائی سیاسی جماعتوں کو ختم کرنے کی سازش کا الزام عائد کیا.

یہ بھی پڑھیں:...... ملک سے تمام پارٹیاں ختم ہوجائیں گی، رہے گی تو صرف بی جے پی: جے پی نڈا

دوسری طرف ٹھاکرے نے منی لانڈرنگ کیس میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے ذریعہ شیوسینا رکن پارلیمان سنجے راؤت کی گرفتاری پر بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ کو ایک سچے شیوسینک کے طور پر سراہا جو دباؤ کے سامنے نہیں جھکے۔

ایکناتھ شندے کی بغاوت کے بعد پارٹی کی بقا کی جنگ لڑرہے ادھو ٹھاکرے نے جے پی نڈا کو شیوسینا کو ختم کرنے کا چیلنج دیا. ٹھاکرے نے کہا کہ نڈا کا کہنا ہے کہ مہاراشٹر میں شیوسینا ختم ہونے کے دہانے پر ہے. نڈا کا دعویٰ ہے کہ این سی پی ایک خاندان کی پارٹی ہے. کانگریس بھائی اور بہن کی پارٹی ہے اور بی جے پی خاندانی سیاست اور حکمرانی کے خلاف لڑنا چاہتی ہے. لیکن اہم سوال یہ ہے کہ اصل میں بی جے پی کنبہ کی حقیقت کیا ہے جو کانگریس، این سی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے لیڈران بی جے پی میں شامل ہورہے ہیں.

ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ بی جے پی علاقائی سیاسی جماعتوں کو ختم کرنے کی سازش کررہی ہے. نقاب اتر چکا ہے, میں نے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کا شکریہ ادا کیا تھا انہوں نے نادانستہ طور پر مراٹھی عوام کو کچلنے کا خواب ہمارے سامنے لایا. بی جے پی کے قومی صدر نے بھی انکشاف کیا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ملک میں دوسری پارٹیاں موجود ہوں، وہ آمریت چاہتے ہیں. تاہم ادھو نے بی جے پی کو شیوسینا پارٹی کو ختم کرنے کا چیلنج دیا. نڈا کے بیان کو خطرناک اور سنگین قرار دیتے ہوئے ٹھاکرے نے کہا کہ ان کے تبصرے ملک کو آمریت کی طرف لے جانے کی جانب اشارہ کرتے ہیں. آج کی سیاست پریشان کن ہے. انہوں نے کہا کہ آج جس طرح سے بی جے پی اپنے بازو پھیلا رہی ہے وہ صرف طاقت کا استعمال کررہی ہے دماغ کا نہیں. ٹھاکرے نے خبردار کیا کہ اگر آپ دوسروں کو ختم کرنے کیلئے طاقت کا استعمال کررہے ہیں تو وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا بدل جاتا ہے. بی جے پی اور نڈا کو سوچنا چاہیے کہ جب وقت بدلے گا تو ان کا کیا ہوگا.

ٹھاکرے نے سنجے راؤت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی دباؤ میں نہیں آئے. سنجے راؤت ایک کٹر شیوسینک ہیں، مجھے سنجے راؤت پر فخر ہے جو میرے بہترین دوست ہیں. ٹھاکرے نے انتقامی سیاست کھیل کر مخالفین کی آواز کو دبانے پر بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور پوچھا کہ اگر مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کو مخالفین کے خلاف تعینات کیا جاتا ہے تو جمہوریت کہاں ہے؟ سنجے راؤت جہاز سے کود سکتے تھے لیکن انہوں نے صاف کہہ دیا کہ وہ مر جائیں گے لیکن ایسا نہیں کریں گے،ہتھیار نہیں ڈالیں گے. باغیوں پر تنقید کرتے ہوئے ٹھاکرے نے کہا کہ جن لوگوں نے راستہ بدلا ہے وہ حمام میں نہانے گئے ہیں، جب تک ان کے جسم پر اقتدار کا جھاگ ہوگا وہ ہم پر تنقید کرسکتے، لیکن انہیں مستقبل میں حالات کا احساس ہوگا.

 


 درانداز ہمارے غریبوں کی ملازمتیں چھین رہے ہیں، اگر ان پر قابو نہ پایا گیا تو خطرہ بن جائیں گے: وزیرداخلہ

کولکاتہ: وزیرداخلہ امیت شاہ نے ملک میں این آر سی نافذ کرنے سے متعلق ایک بیان میں واضح اشارہ دیا ہے کہ ملک سے دراندازوں کو باہر نکالنے کیلئے این آر سی نافذ کیا جاسکتا ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل امیت شاہ اور بی جے پی کے دیگر وزراء نے کہا تھا کہ فی الحال ملک میں این آر سی نافذ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔وزیرداخلہ نے کہا کہ دراندازوں کی وجہ سے ہمارے ملک کے نوجوان بے روزگار ہورہے ہیں، درانداز غریبوں کی ملازمتیں چھین رہے ہیں۔اگر بنگال میں ان گھس پیٹھوں پر قابو نہ پایا گیا تو یہ نہ صرف بنگال بلکہ پورے ملک کیلئے خطرہ بن جائیں گے۔شاہ نے شہریت کے معاملے پر بنگال کی وزیراعلی ممتا بنرجی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ممتا نہیں چاہتی کہ قبائیلی لوگوں کو شہریت ملے۔انہوں نے کہا کہ بنگال میں بی جے پی کی حکومت آتے ہی شہریت ترمیمی ایکٹ کا نفاذ عمل میں لایا جائے گا۔بنگال میں گذشتہ 70 سال سے مقیم کوگوں کو بھی شہریت نہیں ملی وہ مہاجرین کی طور پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ہم ایسے لوگوں کو شہریت دیں گے انہیں شناخت دینے کے علاوہ ان کی باز آباد کاری کیلئے خصوصی فنڈ مختص کیا جائے گا۔