Articles by "National News"
Showing posts with label National News. Show all posts

ایک غلطی اور آپ کو عدالت جانا پڑے گا, پیدائش اور موت کے ریکارڈ کو مرکزی ڈیجیٹل ڈیٹا بیس سے منسلک کیا جائے گا

نئی دہلی : (29 جولائی)حکومت ملک میں پیدائش اور اموات کے اندراج کے حوالے سے بڑی اور اہم تبدیلی کرنے جا رہی ہے۔ آج،مملکتی وزیر برائے داخلہ امور نتّیا نند رائے  لوک سبھا میں پیدائش اور موت کے رجسٹریشن ترمیمی بل 2026 کو پیش کریں گے۔اس ترمیمی بل کا مقصد پیدائش اور موت کے ریکارڈ کو ڈیجیٹائز کرنا اور جعلی دستاویزات کو روکنا ہے۔ نئے قانون کے نافذ ہونے کے بعد، پیدائش کا سرٹیفکیٹ آپ کی زندگی کا سب سے بڑا اور واحد اہم دستاویز ہوگا۔اگر آپ نے تاخیر کی تو آپ کو عدالتی مراحل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ہندوستان میں رشتہ دار پیدائش اور اموات کے اندراج میں تاخیر کرتے ہیں۔بعض صورتوں میں، یہ تاخیر دس سال تک ہو سکتی ہے۔ حکومت اب اس تاخیر کے حوالے سے سخت پالیسی اپنائے گی۔ تاخیر کی یہ عادت اس نئے ترمیمی بل میں ٹوٹ جائے گی۔نئے بل کے مطابق، اگر پیدائش یا موت کے اندراج میں ایک سے دو سال کی تاخیر ہوتی ہے، تو آپ کے لیے رجسٹریشن کے لیے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ، سب ڈویژنل مجسٹریٹ (ایس ڈی ایم) یا ایگزیکٹو مجسٹریٹ سے تحریری اجازت لینا لازمی ہوگا۔

اگر آپ نے دو سال سے زیادہ کا اندراج نہیں کیا ہے، تو مقامی حکام کو ایسے شخص کو رجسٹر کرنے کا حق نہیں ہوگا۔ کیس براہ راست عدالت میں جائے گا۔وہاں، آپ کو فرسٹ کلاس مجسٹریٹ کے حکم کے بعد ہی آپ کی پیدائش یا موت کا سرٹیفکیٹ ملے گا۔ اگر رجسٹریشن میں تاخیر ہوتی ہے تو حکام کو معاملے کی سنجیدگی سے تحقیقات کرنی ہوں گی۔

اس قانون کے مطابق اب ملک بھر میں پیدائش اور موت کے ریکارڈ کو مرکزی ڈیجیٹل ڈیٹا بیس سے منسلک کیا جائے گا۔جس کی وجہ سے ملک کے کسی بھی کونے سے ہونے والی پیدائش اور اموات کی معلومات ایک ہی جگہ پر آن لائن دستیاب ہوں گی۔ اس ڈیٹا بیس کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اسے ملک کے دیگر بڑے نظاموں جیسے ووٹر لسٹ، راشن کارڈ، پاسپورٹ اور آدھار سے منسلک کیا جائے گا۔ 

اس سے عوامے کے لیے 18 سال کا ہونے پر اپنا نام ووٹر لسٹ میں خود بخود شامل کرنا آسان ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ، اگر موت کا سرکاری ریکارڈ موجود ہے تو اس کا نام ووٹر لسٹ سے حذف کرنا آسان ہو جائے گا۔ اس سے سرکاری اسکیموں میں ابہام کو روکنے میں مدد ملے گی۔

اب تک اسکول میں داخلے اور ڈرائیونگ لائسنس کے لیے مختلف دستاویزات فراہم کیے جارہے تھے۔ تاہم، اس بل کی منظوری کے بعد، پیدائش کا سرٹیفکیٹ ایک بہت اہم اور واحد اہم دستاویز ہوگا۔ اسکول، کالج میں داخلہ لینے، ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے اور سرکاری ملازمتوں کے لیے درخواست دیتے وقت، عمر ثابت کرنے کے لیے پیدائشی سرٹیفکیٹ جیسے مضبوط ثبوت کی ضرورت ہوتی ہے۔حکومت کے مطابق سسٹم کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن کی وجہ سے عام شہریوں کو سرٹیفکیٹ کے لیے سرکاری دفاتر کے چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔ آپ آسانی سے گھر سے آن لائن سرٹیفکیٹ ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں۔ اس سے کرپشن پر بھی قابو پایا جا سکے گا۔ اس سے عوام کا قیمتی وقت بھی بچ جائے گا۔

دھرمیندر پردھان کے استعفی کے بعد بی جے پی حکومت نے نئے ایجوکیشن منسٹر کے نام کا اعلان کیا

نئی دہلی: مرکزی وزیر پرلہاد جوشی کو وزارتِ تعلیم کا اضافی چارج سونپ دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ سابق مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمندر پردھان کے استعفے کے بعد کیا گیا، جنہوں نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر جاری احتجاج کے دوران اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

صدرِ جمہوریہ کے دفتر نے دھرمندر پردھان کا استعفیٰ منظور کرتے ہوئے جاری کردہ اعلامیے میں پرلہاد جوشی کی وزارتِ تعلیم کے اضافی چارج پر تقرری کی تصدیق کی۔ پرلہاد جوشی اس وقت مرکزی وزیر برائے خوراک و صارفین امور بھی ہیں۔

تقرری کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پرلہاد جوشی نے کہا کہ وہ اس ذمہ داری کو فرض شناسی اور عاجزی کے ساتھ قبول کرتے ہیں اور وزیر اعظم نریندر مودی کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ان پر اعتماد ظاہر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ بارہ برسوں میں مودی حکومت نے کئی تاریخی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ چار سے پانچ برسوں کے دوران دھرمندر پردھان نے قومی تعلیمی پالیسی (NEP) کے نفاذ سمیت کئی اہم اقدامات کیے، جس سے ملک کے تعلیمی نظام میں نمایاں پیش رفت ہوئی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وزیر اعظم کی رہنمائی میں وہ پوری لگن اور ذمہ داری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیں گے۔

57 سالہ دھرمندر پردھان نے دہلی کے جنتر منتر پر امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے خلاف جاری احتجاج کے 35ویں دن اپنا استعفیٰ پیش کیا۔ اپنے استعفیٰ میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے یہ فیصلہ اس لیے کیا تاکہ ملک دشمن عناصر اس معاملے کا ناجائز فائدہ نہ اٹھا سکیں۔

انہوں نے اپنے استعفیٰ میں لکھا کہ گزشتہ چار دہائیوں سے وہ طلبہ، اساتذہ اور تعلیمی اصلاحات کے لیے کام کرتے رہے ہیں اور ان کا ہمیشہ یہ یقین رہا ہے کہ مضبوط، جامع اور دور اندیش تعلیمی نظام ہی ایک مضبوط قوم کی بنیاد ہوتا ہے۔

دھرمندر پردھان کے استعفے کے چند گھنٹوں بعد سی جے پی (CJP) کے ترجمان سوربھ داس اور آشوتوش رنکا نے مرکزی وزراء جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ حکومت کی جانب سے مطالبات پر غور کی یقین دہانی کے بعد انہوں نے احتجاج ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ دھرمندر پردھان کا استعفیٰ بوسٹن یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ ابھیجیت دپکے کی قیادت میں قائم گروپ کا اہم مطالبہ تھا، جو حال ہی میں بھارت واپس آکر امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے خلاف احتجاج کی قیادت کر رہے تھے۔

اس سے ایک روز قبل پرلہاد جوشی نے کہا تھا کہ مرکزی حکومت طلبہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے پوری طرح سنجیدہ ہے اور امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف سخت کارروائی کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا تھا کہ بعض سماج دشمن عناصر احتجاج کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لہٰذا طلبہ کو ہوشیار رہنا چاہیے تاکہ ان کے جائز مطالبات کا غلط استعمال نہ ہو۔



سان فرانسیسکو کے اسپتال میں 73 سال کی عمر میں آخری سانس لی

ہندوستان کے مشہور و معروف طبلہ نواز ذاکر حسین آج 73 سال کی عمر میں سان فرانسسکو کے ایک اسپتال

 انتقال کرگئے.

  اہل خانہ نے ایک بیان میں کہا کہ حسین کی موت آئیڈیوپیتھک پلمونری فائبروسس سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کی وجہ سے ہوئی، وہ 73 سال کے تھے۔

وہ گزشتہ دو ہفتوں سے اسپتال میں داخل تھے اور بعد میں ان کی حالت بگڑنے پر انہیں آئی سی یو میں منتقل کیا گیا تھا۔

حسین کو اپنی نسل کا سب سے بڑا طبلہ نواز مانا جاتا ہے، ان کے پسماندگان میں ان کی اہلیہ انتونیا منیکولا اور ان کی بیٹیاں انیسہ قریشی اور ازابیلا قریشی ہیں۔ 9 مارچ 1951 کو پیدا ہونے والے ذاکر حسین مشہور طبلہ نواز استاد اللہ رکھا کے بیٹے ہیں۔

محض سات سال کی عمر سے اپنے کرئیر کا آغاز کرنے والے ذاکر حسین نے روی شنکر ،علی اکبر خان اور شیو کمار شرما سمیت ہندوستان کے تقریباً تمام مشہور فنکاروں کے ساتھ کام کیا. یو یو ما، چارلس لائیڈ، بیلا فلیک، ایڈگر میئر، مکی ہارٹ اور جارج ہیریسن جیسے مغربی موسیقاروں کے ساتھ ان کے شاندار کام نے ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کو بین الاقوامی سامعین تک پہنچایا اور عالمی ثقافتی سفیر کے طور پر ان کی حیثیت کو مستحکم کیا۔

حسین نے اپنے کیریئر میں چار گریمی ایوارڈز حاصل کیے ہیں، جن میں سے تین اس سال کے اوائل میں 66 ویں گریمی ایوارڈز میں ملے تھے۔

ہندوستان کے سب سے مشہور کلاسیکی موسیقاروں میں سے ایک، انہیں 1988 میں پدم شری، 2002 میں پدم بھوشن اور 2023 میں پدم وبھوشن سے نوازا گیا تھا۔ حسین کے انتقال کی خبر پھیلتے ہی سوشل میڈیا پر تعزیتی پیغامات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

گریمی ایوارڈ یافتہ موسیقار رکی کیج نے حسین کو ان کی "بے حد عاجزی اور سادہ فطرت" کے لئے یاد کیا۔

ممبئی کے بریچ کینڈی اسپتال میں آخری سانس لی

ہندوستان کے مشہور و معروف بزنس مین رتن ٹاٹا آج بروز بدھ شام میں 86 سال کی عمر میں چل بسے . ممبئی کے بریچ کینڈی اسپتال میں رتن ٹاٹا نے آخری سانس لی.

دراصل آج شام میں یہ خبر سامنے آئی کہ ان کی طبعیت ناساز ہے اور اس کے کچھ گھنٹوں بعد ہی یہ خبر آئی کہ انہوں نے دنیا کو الوداع کہہ دیا ہے. ٹاٹا گروپ کو اونچائی پر پہنچانے میں رتن ٹاٹا نے اہم کردار دا کیا تھا. رتن ٹاٹا کی شناخت ایک دریا دل انسان کی تھی انہوں نے مشکل حالات میں ملک اور عوام کی ہمیشہ مدد کی تھی.

پیر کے روز بھی رتن ٹاٹا کی طبعیت خراب ہونے کی خبر سامنے آئی تھی لیکن اس وقت رتن ٹاٹا نے خود اپنے ایکس ہینڈل پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ میرے لئے فکر کرنے والے تمام لوگوں کا میں شکر گزار ہوں، میں بالکل ٹھیک ہوں فکر کرنے کی کوئی بات نہیں ہے. میں بڑھتی عمر کے ساتھ ہونے والی بیماریوں کے روٹین چیک اپ کیلئے اسپتال آیا تھا. رتن ٹاٹا 28 ستمبر 1937 کو پیدا ہوئے، 1991 سے 2012 تک وہ ٹاٹا گروپ کے چیئرمین رہے. اس عرصہ میں انہوں نے اپنی سوجھ بوجھ اور کڑی محنت سے ٹاٹا گروپ کو اونچائی تک پہنچایا.

افسران کے تبادلے اور تقرری سے متعلق مرکزی آرڈیننس آئین کے خلاف: نتیش کمار

آرڈیننس کی مخالفت میں اروند کیجریوال کا اپوزیشن جماعتوں کے لیڈران سے ملاقات کا سلسلہ جاری 

بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار نے آج اتوار کے روز ایک بار پھر دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال سے ملاقات کی. ایک ماہ میں دونوں وزرائے اعلیٰ کی یہ دوسری ملاقات ہے. نتیش کے ساتھ بہار کے نائب وزیر اعلیٰ آر جے ڈی سپریمو لالو پرساد یادو کے بیٹے تیجسوی یادو بھی تھے. نتیش کمار نے افسران کے تبادلے اور تقرری سے متعلق مرکزی آرڈیننس کو آئین کے خلاف بتایا. انہوں نے کہا کہ منتخب حکومت کو دیئے گئے اختیارات کیسے چھین سکتے ہیں؟ یہ آئین کے خلاف ہے. ہم اروند کیجریوال کے ساتھ کھڑے ہیں. ہم ملک کی تمام اپوزیشن جماعتوں کو متحد کرنے کی کوشش کررہے ہیں.

یہ بھی پڑھیں:.... دو ہزار کے نوٹ بند کرنے پر راج ٹھاکرے برہم

اروند کیجریوال نے کہا کہ اگر حکومت اس آرڈیننس کو قانون بنانے کیلئے راجیہ سبھا میں پیش کرتی ہے تو اپوزیشن کو ہمارا ساتھ دینا چاہیے. وہ اس آرڈیننس کی مخالفت میں ملک بھر کی اپوزیشن پارٹیوں سے تعاون حاصل کریں گے. انہوں نے مزید کہا کہ اگر اپوزیشن متحد ہے تو 2024 لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کا خاتمہ ہوجائے گا. واضح رہے کہ اروند کیجریوال 23 مئی کو کلکتہ میں ممتا بنرجی سے ملاقات کریں گے، 24 مئی کو ممبئی میں ادھو ٹھاکرے اور 25 مئی کو ممبئی میں شرد پوار سے ملاقات کریں گے. ذرائع کے مطابق اس کے بعد وہ دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے.

نیشنلسٹ کانگریس پارٹی سربراہ شرد پوار کی زیر قیادت جیوری نے 13 ممبران پارلیمنٹ (5 راجیہ سبھا اور 8 لوک سبھا) کو  نامزد کیا

 حیدرآباد: اے آئی ایم آئی ایم کے صدر اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے منگل کو نئی دہلی میں منعقدہ ایک تقریب میں 2022 کے شاندار پارلیمنٹرین کے زمرے میں ایوارڈ حاصل کیا۔اویسی نے ایک میڈیا ہاؤس کے ذریعہ منعقدہ ایک سالانہ تقریب میں صدر رام ناتھ کووند سے ایوارڈ وصول کیا۔  اویسی نے ایوارڈ کے لیے جیوری کا شکریہ ادا کیا۔

 اپنے ریمارکس میں انہوں نے امید ظاہر کی کہ پارلیمنٹ آزادانہ طور پر کام کرتی رہے گی۔  "طاقتوں کی علیحدگی کے اصول کے لیے ایک بڑا خطرہ باقی ہے۔  مجھے امید ہے کہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا آزاد رہیں گے۔  ارکان پارلیمنٹ اس سمت میں کام کرتے رہیں گے۔سینئر لیڈروں اے کے انٹونی اور اسد الدین اویسی سمیت آٹھ ارکان پارلیمنٹ کو پارلیمنٹ میں ان کی شراکت کے لئے لوک مت گروپ کے پارلیمانی ایوارڈز سے نوازا جائے گا۔

 آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اویسی اور ترنمول کانگریس کے ڈیرک اوبرائن کو این سی پی کے سربراہ شرد پوار کی سربراہی میں سرکردہ لیڈروں کی جیوری نے 2022 کے لوک مت پارلیمانی ایوارڈز کے لیے بہترین پارلیمنٹرین کے طور پر منتخب کیا ہے۔کانگریس کے سینئر لیڈران انٹونی اور بھرتری ہری مہتاب کو 'لائف ٹائم اچیومنٹ' ایوارڈ کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔  بی جے پی کی لوک سبھا ممبر لوکیٹ چٹرجی اور این سی پی کی راجیہ سبھا ممبر وندنا چوان کو بہترین خاتون پارلیمنٹرین کے زمرے میں منتخب کیا گیا ہے۔

 بی جے پی کے لوک سبھا ممبر تیجسوی سوریا اور آر جے ڈی کے راجیہ سبھا ممبر منوج کمار جھا کو بہترین ڈیبیوٹنٹ پارلیمنٹرین کے زمرے میں منتخب کیا گیا ہے۔  یہ ایوارڈ ہر سال شاندار پارلیمنٹرینز کو دیا جاتا ہے - چار لوک سبھا اور چار راجیہ سبھا سے۔  یہ ایوارڈز کا چوتھا ایڈیشن ہے۔ سینئر رہنماؤں کے ایک جیوری بورڈ نے فاتحین کے انتخاب کے لیے 2020 اور 2021 کے لیے تمام اراکین پارلیمنٹ کی پارلیمانی شراکت کا مطالعہ کیا۔  جیوری میں غلام نبی آزاد، سریش پربھو، این کے پریم چندرن اور راجیہ سبھا کے سابق سکریٹری جنرل یوگیندر نارائن شامل ہیں۔

 اس سے قبل یہ اعزازات سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ، سینئر لیڈر ایل کے اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، شرد پوار، ملائم سنگھ، شرد یادو اور دیگر کو پیش کیے جا چکے ہیں۔

سونیا اور راہل گاندھی سے متعلق بیباک تبصرہ، سونیا برائے نام صدر، راہل کے سیکورٹی اہلکار اور پی اے پارٹی کے فیصلے لے رہے ہیں: آزاد

کانگریس کے قدآور لیڈر غلام نبی آزاد نے آج بروز جمعہ کانگریس کی رکنیت اور تمام عہدوں سے استعفیٰ دے دیا. انہوں نے 5 صفحات پر مشتمل اپنا استعفیٰ نامہ عبوری صدر سونیا گاندھی کو بھیج دیا ہے. اس خط میں کئی حالات اور معاملات کا ذکر کیا گیا ہے جس میں راہل گاندھی سے متعلق سخت تبصرہ بھی شامل ہے. آزاد نے راہل کو کانگریس کی تباہی کی وجہ بتایا ہے.

آزاد نے سونیا سے متعلق کہا کہ بے شک بطور صدر آپ نے یو پی اے-1 اور یو پی اے-2 کی تشکیل میں اچھا کام کیا، اس کامیابی کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ آپ نے بطور صدر دانشمند مشیروں اور سینئر لیڈروں کے فیصلوں پر بھروسہ کیا، انہیں بااختیار بنایا اور ان کا خیال رکھا۔ بدقسمتی سے راہول گاندھی کی سیاست میں انٹری اور خاص طور پر جب آپ نے جنوری 2013 میں انہیں نائب صدر بنایا پھر راہل نے پارٹی کا طریقہ کار تبدیل کردیا. تمام سینئر اور تجربہ کار سیاستدان کو سائیڈ لائن کردیا گیا اور ناتجربہ کاروں کا ایک گروہ بنایا گیا جس نے پارٹی چلانا شروع کی.

غلام نبی آزاد نے مزید کہا کہ میں مسلسل 4 دہائیوں تک کانگریس ورکنگ کمیٹی کا رکن رہا۔ 35 سال تک میں ملک کی ہر ریاست اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں پارٹی کا جنرل سکریٹری انچارج بھی رہا۔  مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ کانگریس نے 90 فیصد ریاستوں میں کامیابی حاصل کی جہاں میں انچارج تھا۔ اب یو پی اے حکومت کی سالمیت کو تباہ کرنے والا ریموٹ کنٹرول سسٹم کانگریس پر لاگو کیا جا رہا ہے۔ تم صرف برائے نام اس پوزیشن پر بیٹھے ہو۔ راہل گاندھی تمام ضروری فیصلے لے رہے ہیں، اس سے بھی بری بات یہ ہے کہ ان کے سیکورٹی اہلکار اور پی اے یہ فیصلے لے رہے ہیں۔

ترنگے پرچم کی تیادی کا ٹھیکہ بنگال کی ایک کمپنی کو دیا گیا ہے جس کا مالک مسلمان ہے، اگر آپ مسلمانوں کو اس طرح پیسہ دیں گے تو اس کا استعمال ہندوؤں کے خلاف ہی ہوگا: یتی نرسمہانند 

مسلسل متنازعہ بیانات دینے والے یتی نرسمہا نند نے اب ملک کے قومی پرچم سے متعلق متنازعہ بیان دے کر حد کردی ہے. میرٹھ سے تعلق رکھنے والے جونا اکھاڑہ کے مہامنڈلیشور یتی نرسمہانند تعلیم یافتہ فرد ہیں، ماسکو سے انجینئرنگ کی اور لندن میں کیا ہے. 1997 میں ہندوستان واپس آئے۔ یہاں آکر سماج وادی پارٹی میں شامل ہوگئے۔ اپنی نوجوان لابی کو تربیت دی اور پھر کچھ ہندو تنظیموں میں شامل ہو کر سنت بن گئے۔ اس وقت وہ جونا اکھاڑہ سے وابستہ ہیں اور غازی آباد میں ڈاسنا دیوی مندر کے مہنت بھی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :...... ملعون سلمان رشدی پر چاقو سے جان لیوا حملہl.html

نرسمہانند کا کہنا ہے کہ گھر گھر ترنگا نہیں بھگوا پرچم لہرایا جانا چاہیے. مرکزی حکومت کی ہر گھر ترنگا مہم کا بائیکاٹ کیا جانا چاہئیے. کیونکہ جو ترنگے تقسیم کیے جا رہے ہیں ان کی تیاری کا ٹھیکہ بنگال کی ایک کمپنی کو دیا گیا ہے اور اس کمپنی کا مالک مسلمان ہے. نرسمہانند کا کہنا ہے کہ اگر آپ مسلمانوں کو اس طرح پیسہ دیں گے تو اس کا استعمال ہندوؤں کے خلاف ہی ہوگا۔ واضح رہے کہ نرسمہانند کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دینے سے متعلق کئی مقدمات درج ہیں. ایک بار جب دہلی پولیس نے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی تو انہوں نے کہا کہ دہلی پولیس مسلمانوں کے ساتھ ہے۔

اگر ترنگا کے خلاف کسی نے کچھ کہا تو اس کے خلاف فوری کارروائی کرنا ناگزیر ہے لیکن اب تک نرسمہانند پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے اور وہ آزاد ہے. جو کچھ ان کے ذہن میں آتا ہے وہ کہتے ہیں. نرسمہانند سب سے پہلے اس وقت سرخیوں میں آئے جب ڈاسنا دیوی مندر میں پانی پینے والے ایک مسلم نوجوان کی بے دردی سے پٹائی کی گئی۔

کانگریس 5 اگست کو "چلو راشٹریہ پتی بھون" کے نام سے ملک گیر احتجاج اور وزیراعظم کی رہائش گاہ کا گھیراؤ کرے گی

دہلی: کانگریس پارٹی بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری کے معاملے پر مودی حکومت کو گھیرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ کانگریس پارٹی اس معاملے پر 5 اگست کو ملک گیر سطح پر زبردست احتجاج کرے گی۔ دہلی میں پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ ان مسائل پر اپنا احتجاج درج کرائیں گے اور ’’چلو راشٹرپتی بھون‘‘ کے نام سے یہ احتجاج پارلیمنٹ سے شروع ہوگا۔اس دن سی ڈبلیو سی ممبران اور پارٹی کے سینئر لیڈر بھی وزیر اعظم کی رہائش گاہ کا گھیراؤ کریں گے۔ مہنگائی اور بے روزگاری کے مسئلہ پر کانگریس پارٹی زیادہ جارحانہ حکمت عملی اپناتے ہوئے حکومت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:...نڈا کے بیان نے بی جے پی کے چہرے سے نقاب اتار دیا، بی جے پی آمریت کی طرف بڑھ رہی ہے: ادھو ٹھاکرےmain-in-the-Country-and-All-Other-Political-Parties-will-be-Destroyed.html

5 اگست کو کانگریس پارٹی دارالحکومت میں راج بھون کا بھی گھیراؤ کرے گی۔ اس احتجاج کے دوران ایم ایل اے، ایم ایل سی، سابق ایم پی اور سینئر لیڈروں سے پارٹی کی جانب سے راج بھون کے گھیراؤ میں شامل ہونے کو کہا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے اراکین سے کہا گیا ہے کہ وہ چلو راشٹرپتی بھون کے نام پر مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف احتجاج کریں۔ ساتھ ہی اسی دن پی ایم کی رہائش گاہ کا گھیراؤ کرنے کا بھی منصوبہ ہے اور اس دوران کانگریس ورکنگ کمیٹی کے ساتھ پارٹی کے سینئر لیڈر بھی موجود رہیں گے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے کانگریس پارٹی مہنگائی اور بے روزگاری کا مسئلہ زور و شور سے اٹھا رہی ہے ۔

کانگریس لیڈر راہل گاندھی مہنگائی اور بے روزگاری کے معاملے پر اکثر پی ایم مودی اور بی جے پی کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔ دو دن پہلے بھی انہوں نے بی جے پی کو نشانہ بنایا تھا اور ٹوئیٹ کیا تھا، 22 کروڑ نوجوان، 8 سال میں سرکاری نوکریوں کے لیے قطار میں لگے ہوئے، 7.22 لاکھ کو نوکری ملی، یعنی 1000 میں سے صرف 3، راجہ سے جب بے روزگاری پر سوال پوچھا جاتا ہے، تو راجہ ناراض ہو جاتا ہے۔ سچ یہ ہے کہ روزگار فراہم کرنا ان کے بس کی بات نہیں۔

بی جے پی علاقائی جماعتوں کو ختم کرنے کی سازش کررہی ہے، مخالفین کی آواز دبانے کیلئے طاقت کا استعمال کیا جارہا ہے، لیکن وقت ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا، بی جے پی اور نڈا کو سوچنا چاہیے کہ جب وقت بدلے گا تب ان کا کیا ہوگا؟ :ٹھاکرے

مہاراشٹر کے گورنر بی ایس کوشیاری کے حالیہ متنازعہ بیان کے بعد پٹنہ میں بی جے پی کی ایک پارٹی میٹنگ میں پارٹی کے قومی صدر جے پی نڈا کا یہ بیان کہ ملک میں صرف بی جے پی باقی رہے گی جبکہ تمام سیاسی پارٹیاں ختم ہوجائیں گی، نے ایک بڑا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے. شیوسینا سربراہ ادھو ٹھاکرے نے جے پی نڈا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیان بی جے پی کے اصل چہرے اور آمریت کی طرف اس کی پیش قدمی کو ظاہر کرتا ہے. ٹھاکرے نے بی جے پی لیڈران پر علاقائی سیاسی جماعتوں کو ختم کرنے کی سازش کا الزام عائد کیا.

یہ بھی پڑھیں:...... ملک سے تمام پارٹیاں ختم ہوجائیں گی، رہے گی تو صرف بی جے پی: جے پی نڈا

دوسری طرف ٹھاکرے نے منی لانڈرنگ کیس میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے ذریعہ شیوسینا رکن پارلیمان سنجے راؤت کی گرفتاری پر بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ کو ایک سچے شیوسینک کے طور پر سراہا جو دباؤ کے سامنے نہیں جھکے۔

ایکناتھ شندے کی بغاوت کے بعد پارٹی کی بقا کی جنگ لڑرہے ادھو ٹھاکرے نے جے پی نڈا کو شیوسینا کو ختم کرنے کا چیلنج دیا. ٹھاکرے نے کہا کہ نڈا کا کہنا ہے کہ مہاراشٹر میں شیوسینا ختم ہونے کے دہانے پر ہے. نڈا کا دعویٰ ہے کہ این سی پی ایک خاندان کی پارٹی ہے. کانگریس بھائی اور بہن کی پارٹی ہے اور بی جے پی خاندانی سیاست اور حکمرانی کے خلاف لڑنا چاہتی ہے. لیکن اہم سوال یہ ہے کہ اصل میں بی جے پی کنبہ کی حقیقت کیا ہے جو کانگریس، این سی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے لیڈران بی جے پی میں شامل ہورہے ہیں.

ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ بی جے پی علاقائی سیاسی جماعتوں کو ختم کرنے کی سازش کررہی ہے. نقاب اتر چکا ہے, میں نے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کا شکریہ ادا کیا تھا انہوں نے نادانستہ طور پر مراٹھی عوام کو کچلنے کا خواب ہمارے سامنے لایا. بی جے پی کے قومی صدر نے بھی انکشاف کیا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ملک میں دوسری پارٹیاں موجود ہوں، وہ آمریت چاہتے ہیں. تاہم ادھو نے بی جے پی کو شیوسینا پارٹی کو ختم کرنے کا چیلنج دیا. نڈا کے بیان کو خطرناک اور سنگین قرار دیتے ہوئے ٹھاکرے نے کہا کہ ان کے تبصرے ملک کو آمریت کی طرف لے جانے کی جانب اشارہ کرتے ہیں. آج کی سیاست پریشان کن ہے. انہوں نے کہا کہ آج جس طرح سے بی جے پی اپنے بازو پھیلا رہی ہے وہ صرف طاقت کا استعمال کررہی ہے دماغ کا نہیں. ٹھاکرے نے خبردار کیا کہ اگر آپ دوسروں کو ختم کرنے کیلئے طاقت کا استعمال کررہے ہیں تو وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا بدل جاتا ہے. بی جے پی اور نڈا کو سوچنا چاہیے کہ جب وقت بدلے گا تو ان کا کیا ہوگا.

ٹھاکرے نے سنجے راؤت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی دباؤ میں نہیں آئے. سنجے راؤت ایک کٹر شیوسینک ہیں، مجھے سنجے راؤت پر فخر ہے جو میرے بہترین دوست ہیں. ٹھاکرے نے انتقامی سیاست کھیل کر مخالفین کی آواز کو دبانے پر بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور پوچھا کہ اگر مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں کو مخالفین کے خلاف تعینات کیا جاتا ہے تو جمہوریت کہاں ہے؟ سنجے راؤت جہاز سے کود سکتے تھے لیکن انہوں نے صاف کہہ دیا کہ وہ مر جائیں گے لیکن ایسا نہیں کریں گے،ہتھیار نہیں ڈالیں گے. باغیوں پر تنقید کرتے ہوئے ٹھاکرے نے کہا کہ جن لوگوں نے راستہ بدلا ہے وہ حمام میں نہانے گئے ہیں، جب تک ان کے جسم پر اقتدار کا جھاگ ہوگا وہ ہم پر تنقید کرسکتے، لیکن انہیں مستقبل میں حالات کا احساس ہوگا.

 


بجرنگ دل کے شرپسندوں نے 45 سالہ شخص کو پیٹا اور زبردستی نعرے لگوائے، سوشل میڈیا پر شدید ردعمل، خاطیوں پر سخت کارروائی کا مطالبہ

کانپور،لکھنئو: اترپردیش کے کانپور شہر میں ایک 45 سالہ شخص مسلم شخص کو بدھ کے روز سڑکوں پر گھمایا گیا، بجرنگ دل کارکنان نے اس شخص کے ساتھ مارپیٹ کی اور جے شری رام کے نعرے لگوائے۔بجرنگ دل کارکنان 45 سالہ شخص کو پیٹتے ہوئے سڑک پر گھماتے رہے اور نعرے لگاتے رہے۔اس کے بعد اسے پولیس کے حوالے کردیا گیا۔

مقامی افراد نے اس دردناک واردات کا ویڈیو بنایا۔ویڈیو میں متاثر کی بچی کو اس شخص سے لپٹے ہوئے رحم کی بھیک مانگتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ویڈیو میں یہ بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ شخص کو پولیس کی حراست میں بھی مارا جارہا ہے۔واضح رہے کہ متاثر شخص اس علاقے کے ایک مسلمان خاندان سے تعلق رکھتا ہے جن کا اپنے پڑوسی ہندو خاندان سے کوئی تنازعہ ہے۔

ویڈیو دیکھنے کیلئے یہاں کلک کریں

کانپور پولیس کے بیان میں کہا گیا کہ جولائی میں دونوں خاندانوں نے مقامی پولیس اسٹیشن میں معاملہ درج کروایا تھا۔اس معاملے میں بجرنگ دل والوں نے مداخلت کی۔ حیرت کی بات ہے کہ جس شخص کو زدوکوب کیا گیا اس کا اس سارے معاملے کوئی تعلق نہیں تھا اور نہ وہ ملزم تھا۔بدھ کے روز پیش آنے والے اس واقعے کا ویڈیو جمعرات کے روز سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔جس کے بعد سوشل میڈیا پر لوگوں نے اس واردات کو انجام دینے والوں ملزمین کے خلاف غصے کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔گھر چھوڑ کر گئی ناراض بیوی کو منانے کیلئے خطرناک منصوبہ بنانے والا شخص گرفتار

جمعرات کے روز ہی ڈی سی پی روینہ تیاگی متاثر خامدان سے ملنے پہنچیں۔انہوں نے اس بچی سے بھی ملاقات کی جو اپنے باپ کو بجرنگ دل کے غنڈوں سے بچانے کیلئے گڑگڑاتی رہی۔

سینئر صحافی اجیت انجم نے روینہ تیاگی کی اس پہل کی ستائش کرتے ہوئے ٹوئیٹ کیا کہ کانپور پولیس کی یہ پہل قابل تعریف ہے لیکن کیا تمام لفنگوں کو گرفتار کیا گیا؟ بجرنگ دل کے تمام رنگبازوں کے خلاف ایف آئی آر ہوئی؟ ویڈیو میں دکھ رہے تمام چہرے جب تک سلاخوں کے پیچھے نہیں جاتے تب تک مقصد پورا نہیں ہوتا۔وہیں صحافی وسیم اکرم تیاگی نے اس واقعہ کی تصویر ٹوئیٹ کرتے ہوئے لکھا کہ کانپور کی ڈی سی پی روینہ تیاگی اس بچی اور خاندان سے ملنے پہنچی جس بچی کے سامنے اس کے والد کو بجرنگ کے شرپسندوں نے مذہبی نعرے لگاتے ہوئے پیٹا تھا۔روینہ تیاگی کی کوشش زخم پر مرحم ضرور ہے۔لیکن یاد رہے ملزمین کو سخت سزا دلائے بنا اس مرحم کے کوئی معنی نہیں ہیں۔راشٹریہ علماء کونسل نے انسانیت کو شرمسار کرنے والے اس واقعہ کے خاطیوں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔علماء کونسل نے کہا کہ ڈی سی پی صاحبہ کی یہ کوشش واقعی قابل تعریف ہے، لیکن سب سے بڑا مرحم سخت قانونی کارروائی ہوگی۔خاطیوں کو گرفتار کرکے ان کے خلاف این ایس اے جیسی کارروائی ہونی چاہیے تب ہی انصاف ہوگا۔


مزید تین معاملات میں ضمانت ملنا باقی، حکومت نے انہیں جیل میں رکھنے کیلئے ایک ہی معاملے میں دو ایف آئی آر درج کی ہے: کپل سبّل

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے سماجوادی لیڈر اعظم خان اور ان کے بیٹے عبداللہ اعظم خان کی ایک معاملے میں ضمانت منظور کرلی ہے۔اعظم خان اور عبداللہ اعظم خان پر فرضی پین کارڈ بنانے کا الزام ہے۔سپریم کورٹ نے اس معاملے میں انہیں ضمانت دے دی ہے۔سپریم کورٹ نے نے ٹرائل کورٹ کو ہدایت دی ہے کہ اس معاملے میں چار ہفتوں کے اندر مخبر کا بیان درج کیا جائے۔بیان درج ہونے کے بعد اعظم خان اور انکے بیٹے کو ضمانت دی جائے۔

شنوائی کے دوران اترپردیش حکومت نے سپریم کورٹ میں سماجوادی لیڈر اعظم خان اور ان کے بیٹے کی درخواست ضمانت کی مخالفت کی۔اترپردیش کی جانب سے وکیل ایس وی راجو نے کہا کہ اعظم خان پر کئی انگین معاملات میں ایف آئی آر درج ہے۔اسلئے انہیں ضمانت نہیں دی جانی چاہیے۔واضح رہے کہ اعظم خان اور ان کے بیٹے پر الزام ہے کہ ایک پین کارڈ موجود ہونے کے بعد بھی انہوں نے دوسرا پین کارڈ بنوایا اور پہلے پین کارڈ کی معلومات کو مخفی رکھا۔اعظم خان کے وکیل سبّل نے کہا کہ سرکار پاسپورٹ اور پین کارڈ معاملے میں الگ الگ ایف آئی آر درج کی ہے جبکہ اس معاملے میں اعظم خان کو ضمانت مل چکی ہے۔ملزم کو جیل میں رکھنے کیلئے حکومت نے ایک معاملے میں دو ایف آئی آر درج کی ہے۔یہی حال عبداللہ اعظم خان کا بھی ہے۔اعظم خان کے وکیل کپل سبل نے ان کے موکل کو تین معاملات چھوڑ کر بقیہ تمام معاملات میں ضمانت مل گئی ہے۔آج کے حکم کے بعد اعظم اور ان کے بیٹے کو تھوڑی راحت ضرور ملی ہے لیکن وہ دونوں فی الحال جیل سے رہا نہیں ہو پائیں گے۔ابھی ان کے خلاف مزید تین معاملات ہیں جن میں ضمانت ملنا باقی ہے۔