کانگریس کے اعتراض کے باوجود سنجے راوت کا بڑا دعویٰ, دو سے تین دن میں اعلان ممکن
ممبئی: مہاراشٹر کی سیاست میں ایک بڑی پیش رفت کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ شیو سینا (ادھو ٹھاکرے گروپ) کے سینئر لیڈر سنجے راوت نے دعویٰ کیا ہے کہ راج ٹھاکرے کی مہاراشٹر نونرمان سینا (MNS) اور مہا وکاس اگھاڑی (MVA) کے درمیان اتحاد پر بات چیت آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور اگلے دو سے تین دن میں اس کا باضابطہ اعلان کیا جا سکتا ہے۔
اتوار کے روز بلدیاتی انتخابات میں ووٹوں کی گنتی کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سنجے راوت نے کہا کہ MNS کے ساتھ اتحاد سے متعلق حالیہ میٹنگ حتمی ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق یہ اتحاد خاص طور پر ممبئی میونسپل کارپوریشن (BMC) سمیت آئندہ ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے لیے نہایت اہم مانا جا رہا ہے۔
سنجے راوت نے تاہم یہ بھی واضح کیا کہ مہا وکاس اگھاڑی کی اہم اتحادی جماعت کانگریس کو MNS کے ساتھ اتحاد پر اعتراض ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کو اس بات پر قائل کرنے کی کوششیں جاری ہیں کہ بی جے پی کو شکست دینے کے لیے تمام سیکولر اور اپوزیشن طاقتوں کا ایک ساتھ آنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری رائے میں اتوار کو ہوئی بات چیت آخری میٹنگ تھی۔ دو سے تین دن میں آفیشل اعلان ہو جائے گا۔”
سنجے راوت کے مطابق کانگریس نے راج ٹھاکرے کی MNS کو اتحاد میں شامل کرنے پر کھل کر اعتراض ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ کانگریس کو اعتراض ہے لیکن انہیں منانے کی کوششیں مسلسل کی جا رہی ہیں۔ راوت نے یہ بھی واضح کیا کہ ممبئی میں اتحاد نہ ہونے کے باوجود کانگریس اور شیو سینا (یو بی ٹی) کے تعلقات میں کوئی تلخی نہیں ہے۔
ادھر آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے جنرل سیکریٹری اور مہاراشٹر کے انچارج رمیش چنّیتھلا نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ پارٹی کارکنان کی خواہش ہے کہ بی ایم سی انتخابات کانگریس اکیلے لڑے۔ ان کے مطابق کانگریس ممبئی کے عوامی مسائل جیسے آلودگی، صحت خدمات اور بدعنوانی کو انتخابی ایجنڈا بنائے گی اور شہر کے سیکولر ڈھانچے کے تحفظ کے لیے تنہا میدان میں اترنے کیلئے تیار ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ آج اتوار کو سامنے آئے مختلف نگر پالیکاؤں کے انتخابی نتائج میں مہا وکاس اگھاڑی کو بڑا نقصان اٹھانا پڑا ہے، جبکہ مہایوتی نے واضح کامیابی حاصل کی ہے۔ وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے ان نتائج پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی آج بھی مہاراشٹر کی نمبر ون پارٹی ہے۔
فڈنویس نے بی ایم سی سمیت آئندہ بلدیاتی انتخابات پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ یہ نتائج بلدیاتی انتخابات کے "ٹریلر" ہیں اور اصل تصویر آگے سامنے آئے گی۔
سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر راج ٹھاکرے واقعی مہا وکاس اگھاڑی میں شامل ہوتے ہیں تو ممبئی اور مہاراشٹر کی شہری سیاست میں بڑا الٹ پھیر ممکن ہے، تاہم کانگریس کے موقف کی وجہ سے یہ اتحاد کس شکل میں سامنے آئے گا، اس پر سب کی نظریں ٹکی ہوئی ہیں۔


Post A Comment:
0 comments: