Articles by "2024 Lok Sabha Elections"
Showing posts with label 2024 Lok Sabha Elections. Show all posts

کوئی نہیں جانتا 15 دن میں کیا ہوگا، 400 نشستوں کا دعویٰ کرنے والے اپنے بل بوتے پر اکثریت بھی حاصل نہیں کر سکے

مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے اشارہ دیا کہ انڈیا اتحاد کسی بھی وقت مرکزی حکومت کی باگ ڈور سنبھال سکتا ہے. بی جے پی پر طنز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 400 سیٹوں کا دعویٰ کرنے والے اپنے بل بوتے پر اکثریت بھی حاصل نہیں کر سکے. انہوں نے کہا کہ یہ مت سوچیں کہ اگر انڈیا اتحاد نے ابھی حکومت سازی کا دعویٰ نہیں کیا ہے تو وہ ایسا کبھی کرے گا ہم حالات بدلنے کا انتظار کررہے ہیں. 

آخر کار انڈیا اتحاد کی حکومت بنے گی. لیکن این ڈی اے کو کچھ حکومت چلانے دیں.کئی بار حکومت صرف ایک دن کیلئے بنتی ہے. کچھ بھی ہوسکتا ہے ، کوئی ن جانتا ہے یہ حکومت صرف 15 دن چلے ؟؟؟ ترنمول کانگریس پارلیمانی کمیٹی کی میٹنگ سے خطاب کے دوران ممتا بنرجی نے کہا کہ وہ نئی حکومت کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت نہیں کریں گی.انہوں نے کہا کہ بی جے پی غیر جمہوری اور غیر قانونی طریقے سے حکومت بنارہی ہے.ان کی پارٹی این ڈی اے حکومت کی تشکیل دیکھے گی اور اپنی باری کا انتظار کرے گی.

نومنتخب ترنمول ممبران پارلیمنٹ کے ساتھ میٹنگ کرنے کے بعد ممتا نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ اگر بی جے پی کی زیر قیادت کمزور اور غیر مستحکم این ڈی اے حکومت کو اقتدار سے باہر کردیا جاتا ہے تو انہیں بہت خوشی ہوگی. ملک میں تبدیلی کی ضرورت ہے . عوام میں نریندر مودی کے خلاف ماحول تھا اسلئے انہیں دوبارہ وزیراعظم نہ بناتے ہوئے کسی اور کو موقع دیا جانا چاہیے تھا.

واضح رہے کہ حالیہ لوک سبھا انتخابات میں انڈیا بلاک کو 234 سیٹیں ملی ہیں۔ اس میں کانگریس کی 99 سیٹیں، ترنمول کانگریس کی 29 سیٹیں اور سماج وادی پارٹی کی 37 سیٹیں شامل ہیں۔ اکثریت کیلئے 272 سیٹیں درکار ہیں. لہٰذا انڈیا اتحاد کو مزید 38 نشستیں درکار ہیں. چندرابابو نائیڈو کی ٹی ڈی پی نے 16 سیٹیں جیتی ہیں، جب کہ نتیش کمار کی جے ڈی یو نے 12 سیٹیں جیتی ہیں۔ فی الحال دونوں پارٹیاں این ڈی اے میں شامل ہیں لیکن اگر آنے والے وقت میں یہ پارٹیاں انڈیا اتحاد میں شامل ہوجاتی ہیں تو انڈیا اتحاد کی نشستیں بڑھ کر 262 ہو جائیں گی۔ اس کے باوجود بھی اکثریت کے لیے 10 سیٹیں کم ہوں گی۔

 

اویسی کو مسلم ووٹ تقسیم کرنے کیلئے پیسہ کہا سے ملتا ہے، بی جے ہندوؤں کو اور اویسی مسلمانوں کو اکساتے ہیں: سنگھ

بھوپال مدھیہ پردیش: کانگریس کے سینئر لیڈر دگ وجئے سنگھ نے مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) اور بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) میں اتحاد کا الزام عائد کیا کرتے ہوئے ایم آئی ایم لیڈر اسدالدین اویسی کے فنڈنگ کے ذرائع معلوم کرنے کا مطالبہ کیا ہے. انہوں نے مزید الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی ہندوں کو اکساتی ہے جبکہ اسدالدین اویسی کی زیر صدارت ایم آئی ایم مسلمانوں کو اکساتی ہے. لیکن یہ دونوں ساتھ ہیں اور مل کر کام کرتے ہیں.

واضح رہے کہ دگ وجئے سنگھ نے راجگڑھ لوک سبھا سیٹ کے ماتحت اگار مالواضلع کے سسنیر میں ایک عوامی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے مذکورہ الزامات عائد کئے.

سنگھ نے مزید کہا کہ اویسی حیدرآباد میں کھل کر مسلمانوں کو بھڑکاتے ہیں، بی جے پی یہاں ہندوؤں کو بھڑکاتی ہے اور دونوں ایکدوسرے کی مدد کرتے ہیں.میں سوال کرتا ہوں اویسی کو مسلمانوں کے ووٹ تقسیم کرنے کیلئے پیسہ کہا سے ملتا ہے. سنگھ نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کا قتل ہورہا ہے لوگوں کو جیل بھیجا جارہا ہے.انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے صحیح کہا تھا کہ بی جے پی ایک واشنگ مشین بن گئی ہے جہاں ہر داغدار سیاستداں کے داغ دھل جاتے ہیں. اپنے آپ کو حقیقی سناتنی کہتے ہوئے دگ وجئے سنگھ نے کہا کہ ان کی پارٹی نے ہمیشہ سناتن دھرم کو سپورٹ کیا ہے وہ اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ ہر مذہب برابر ہے. انہوں نے مزید کہا کہ وہ ایک مذہبی ہندو اور گئو سیوک ہیں لیکن مذہب کے نام پر ووٹ نہیں مانگتے.

 

کانگریس لیڈران سے ملاقات کے بعد قیاس آرائیوں کا بازار گرم، سونیا کو کانگریس صدر بنائے جانے کا امکان،2024 انتخابات میں پرشانت اہم کردار ادا کرسکتے ہیں

انتخابی حکمت عملی ساز پرشانت کشور کی کانگریس لیڈران سے ملاقات کے بعد سیاسی حلقوں میں ایسی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ پی کے کانگریس میں شامل ہوں گے۔وہیں کانگریس ذرائع سے ایسے اشارے بھی مل رہے ہیں کہ سونیا گاندھی پارٹی کی مستقل صدر بھی بن سکتی ہیں۔منگل کے روز راہل گاندھی اور پرشانت کشور کی ملاقات ہوئی تھی، اس ملاقات میں پرینکا گاندھی بھی موجود تھیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اس میٹنگ میں آن لائن شرکت کی تھی۔حالانکہ دیڑھ گھنٹے تک جاری رہنے والی اس میٹنگ سے متعلق کانگریس کی جانب سے کوئی وضاحت نہیں دی گئی ہے۔اس ملاقات کو اس نظریہ سے بھی کافی اہم مانا جارہا ہے کہ راشٹر وادی کانگریس سربراہ شرد پوار قومی سطح پر بی جے پی مخالف اتحاد بنانے کی کوشش کررہے ہیں، اسی سلسلے میں انہوں نے گذشتہ ہفتے پرشانت کشور سے ملاقات کی تھی۔سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ مذکورہ میٹنگ پنجاب اور اترپردیش اسمبلی انتخابات کے سلسلے میں نہیں تھی۔بلکہ اس میٹنگ کا مقصد اس سے کہیں بڑا تھا۔ایسے امکانات بھی ہیں کہ 2024 لوک سبھا انتخابات میں پرشانت کانگریس کی سیاسی حکمت عملی بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ذرائع کے مطابق راہل گاندھی کو 2024 اسمبلی انتخابات میں اپوزیشن لیڈر بنائے جانے کے قوی امکانات ہیں۔جمعرات کو اس سلسلے میں سونیا گاندھی کی جانب سے ایک اہم میٹنگ منعقد کی جائے گی۔