دھرمیندر پردھان کے استعفی کے بعد بی جے پی حکومت نے نئے ایجوکیشن منسٹر کے نام کا اعلان کیا

نئی دہلی: مرکزی وزیر پرلہاد جوشی کو وزارتِ تعلیم کا اضافی چارج سونپ دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ سابق مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمندر پردھان کے استعفے کے بعد کیا گیا، جنہوں نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر جاری احتجاج کے دوران اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

صدرِ جمہوریہ کے دفتر نے دھرمندر پردھان کا استعفیٰ منظور کرتے ہوئے جاری کردہ اعلامیے میں پرلہاد جوشی کی وزارتِ تعلیم کے اضافی چارج پر تقرری کی تصدیق کی۔ پرلہاد جوشی اس وقت مرکزی وزیر برائے خوراک و صارفین امور بھی ہیں۔

تقرری کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پرلہاد جوشی نے کہا کہ وہ اس ذمہ داری کو فرض شناسی اور عاجزی کے ساتھ قبول کرتے ہیں اور وزیر اعظم نریندر مودی کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ان پر اعتماد ظاہر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ بارہ برسوں میں مودی حکومت نے کئی تاریخی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ چار سے پانچ برسوں کے دوران دھرمندر پردھان نے قومی تعلیمی پالیسی (NEP) کے نفاذ سمیت کئی اہم اقدامات کیے، جس سے ملک کے تعلیمی نظام میں نمایاں پیش رفت ہوئی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وزیر اعظم کی رہنمائی میں وہ پوری لگن اور ذمہ داری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیں گے۔

57 سالہ دھرمندر پردھان نے دہلی کے جنتر منتر پر امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے خلاف جاری احتجاج کے 35ویں دن اپنا استعفیٰ پیش کیا۔ اپنے استعفیٰ میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے یہ فیصلہ اس لیے کیا تاکہ ملک دشمن عناصر اس معاملے کا ناجائز فائدہ نہ اٹھا سکیں۔

انہوں نے اپنے استعفیٰ میں لکھا کہ گزشتہ چار دہائیوں سے وہ طلبہ، اساتذہ اور تعلیمی اصلاحات کے لیے کام کرتے رہے ہیں اور ان کا ہمیشہ یہ یقین رہا ہے کہ مضبوط، جامع اور دور اندیش تعلیمی نظام ہی ایک مضبوط قوم کی بنیاد ہوتا ہے۔

دھرمندر پردھان کے استعفے کے چند گھنٹوں بعد سی جے پی (CJP) کے ترجمان سوربھ داس اور آشوتوش رنکا نے مرکزی وزراء جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ حکومت کی جانب سے مطالبات پر غور کی یقین دہانی کے بعد انہوں نے احتجاج ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ دھرمندر پردھان کا استعفیٰ بوسٹن یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ ابھیجیت دپکے کی قیادت میں قائم گروپ کا اہم مطالبہ تھا، جو حال ہی میں بھارت واپس آکر امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے خلاف احتجاج کی قیادت کر رہے تھے۔

اس سے ایک روز قبل پرلہاد جوشی نے کہا تھا کہ مرکزی حکومت طلبہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے پوری طرح سنجیدہ ہے اور امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف سخت کارروائی کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا تھا کہ بعض سماج دشمن عناصر احتجاج کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لہٰذا طلبہ کو ہوشیار رہنا چاہیے تاکہ ان کے جائز مطالبات کا غلط استعمال نہ ہو۔

Axact

TRV

The Name you Know the News you Need

Post A Comment:

0 comments: