مودی صاحب بچوں کو اتنا کام کیوں کرنا پڑتا ہے، آن لائن کلاس اور ہوم ورک سے پریشان 6 سالہ معصوم بچی کا ویڈیو ٹوئٹر پر وائرل
کرونا کے سبب ملک بھر میں اسکولیں بند ہیں، طویل عرصے سے طلباء اسکولوں سے دور ہیں۔پڑھائی کا حرج نہ ہو اس لئے آن لائن کلاسیس کا سلسلہ جاری کیا گیا ہے۔لیکن آن لائن کلاسیس بچوں کیلئے پریشانی کا باعث بنتی جارہی ہیں۔حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک چھ سالہ بچی کا ویڈیو وائرل ہوا جس میں بچی ہوم ورک اور آن لائن کلاس سے متعلق وزیراعظم نریندر مودی سے شکایت کررہی ہے۔جموں کشمیر کے گورنر منوج سنگھ نے اس بچی کے ویڈیو پر توجہ بھی دی ہے۔جموں کشمیر کی رہنے والی ایک چھ سالہ بچی نے آن کلاسیس سے ناخوش ہوتے ہوئے ایک ویڈیو بنا کر شیئر کی ہے۔جس میں بچی نے اسکولوں سے ملنے والے ہوم ورک اور لمبی کلاسیس سے متعلق پریشانی اور ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔سوشل میڈیا پر وائرل اس ویڈیو کو جموں کشمیر کے گورنر منوج سنگھ نے ٹوئیٹر پر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ بہت ہی پیاری شکایت ہے۔انہوں نے اسکولی بچوں کو ہوم ورک کا بوجھ کم کرنے سے متعلق محکمہ تعلیم کو 48 گھنٹے کے اندر لائحہ عمل تیار کرنے کا حکم دیا ہے۔انہوں نے ٹوئیٹ میں مزید لکھا کہ بچپن کی معصومیت بھگوان کا تحفہ ہوتی ہے، بچوں کے دن خوشیوں سے بھرے ہونے چاہیے۔بچی کا شکایتی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد ایسی امید ہے کہ آن لائن کلاس میں بچوں پر پڑھائی کا بوجھ کم ہوسکتا ہے اور انہیں راحت مل سکتی ہے۔ویڈیو میں بچی کہہ رہی ہے کہ اس کی آن لائن کلاس دس بجے شروع ہوتی ہے اور دو بجے تک جاری رہتی ہے۔جس میں انگلش، میتھس، اردو اور ای وی ایس پڑھنا پڑتا ہے۔بچی نے وزیراعظم نریندر مودی سے درخواست کرتے ہوئے کہتی ہے کہ مودی صاحب بچوں کو آخر اتنا کام کیوں کرنا پڑتا ہے؟واضح رہے کہ ٹوئٹر پر شیئر ہونے والے اس ویڈیو کو اب تک لاکھوں لوگوں نے دیکھا ہے اور بچی کی معصومیت پر اپنے تاثرات بھی ظاہر کررہے ہیں۔
Click here to watch:



Post A Comment:
0 comments: