Articles by "CBI"
Showing posts with label CBI. Show all posts

 

پنجاب نیشنل بینک گھوٹالہ کے مفرور ملزم کی ہندوستان واپسی کیلئے ایجنسیاں سرگرم

پنجاب نیشنل بینک(پی این بی)13500 کروڑ روپے لون فراڈ کیس میں مطلوب مفرور ملزم ہیروں کے تاجر میہول چوکسی کو بیلجیئم میں گرفتار کرلیا گیا ہے. ممبئی کورٹ کی جانب سے غیر ضمانتی وارنٹ جاری ہونے اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) مرکزی تفتیشی ایجنسی (سی بی آئی) کی درخواست پر میہول چوکسی کی گرفتاری عمل میں آئی ہے.

2018 سے فرار چوکسی کو 12اپریل کے روز بیلجیئم کے ایک اسپتال سے حراست میں لیا گیا تھا. ہندوستانی حکام کی جانب سے حوالگی کی کوششوں کے بعد چوکسی کو باقاعدہ طور پر گرفتار کیا گیا. ذرائع کے مطابق ہندوستانی ایجنسیوں کی جانب سے حوالگی کا مطالبہ کئے جانے کے بعد چوکسی نے خرابی صحت کا حوالہ دیتے ہوئے یورپ کا سفر کیا تھا. چوکسی بیلجیئم کے اسپتال میں زیر علاج تھا جہاں سے پولیس نے اسے حراست میں لیا.

ذرائع کے مطابق چوکسی گزشتہ 6 ماہ سے بیلجیئم میں مقیم ہے فی الحال اسے ڈیٹینشن سینٹر میں رکھا گیا ہے. اس کی طبعیت ناساز ہے کہا جاتا ہے کہ وہ بلڈ کینسر کے مرض میں مبتلا ہے. ذرائع نے مزید وضاحت کی کہ چوکسی علاج کیلئے سوئٹزرلینڈ جانے کی منصوبہ بندی کررہا تھا لیکن اس کے قبل ہی بیلجیئم پولیس نے اسے گرفتار کرلیا. واضح رہے کہ ستمبر 2024 میں ای ڈی اور سی بی آئی نے بیلجیئم حکام سے چوکسی کی حوالگی کی درخواست کی تھی جس کے بعد مزکورہ کارروائی کی گئی. چوکسی کے وکیل نے کہا کہ ان کا موکل بلڈ کینسر کے مرض میں مبتلا ہے اور وہ سفر کرنے کے قابل نہیں ہے. وہیں ہندوستانی افسران کا کہنا ہے کہ اگر چوکسی علاج کیلئے اینٹیگا سے بیلجیئم سفر کرسکتا ہے تو وہ ہندوستان بھی واپس آسکتا ہے یہاں بہتر علاج کی سہولیات دستیاب ہیں.

ہندوستانی ایجنسیاں اور حکام چوکسی کو ہندوستان واپس لانے کے کوشش کررہے ہیں حالانکہ یہ مرحلہ کافی طویل ہوسکتا ہے. ذرائع نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ چوکسی بیلجیئم کورٹ میں ہندوستان کے حوالے کئے جانے کے خلاف اپنے دفاع کی ہر ممکن کوشش کرے گا اور جلد ہی طبی بنیاد پر ضمانت کی درخواست بھی داخل کرے گا. اس کے باوجود ہندوستانی ایجنسیاں چوکسی کی حوالگی سے متعلق کافی پر امید ہیں.

شراب پالیسی معاملے میں سی بی آئی نے گرفتار کیا تھا، معاملے کی آئندہ سماعت 29 جون کو

دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کو ٹرائل کورٹ نے تین دنوں کی سی بی آئی تحویل میں دینے کا فیصلہ کیا ہے.  کورٹ نے انہیں اس بات کی اجازت دی ہے کہ وہ روزانہ اپنی بیوی اور اپنے وکیل سے تیس منٹ ملاقات کرسکتے ہیں .اس کے علاوہ وہ اپنی دوائیں اپنے پاس رکھ سکتے ہیں اور گھر سے ان کیلئے کھانا بھی آسکے گا. آج صبح سی بی آئی نے شراب پالیسی معاملے میں اروند کیجریوال کو گرفتار کیا تھا. سی بی آئی نے انہیں ٹرائل کورٹ میں پیش کرتے ہوئے پانچ دنوں کی تحویل مانگی تھی. کورٹ نے تقریباً 4 گھنٹے دلائل سننے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا، شام 7 بجے کورٹ نے فیصلہ سنایا اب اس معاملے کی آئندہ سماعت 29 جون کو ہوگی.

سماعت کے دوران کیجریوال نے کہا کہ میڈیا پر خبر دکھائی جارہی ہے کہ میں نے سسوڈیا پر شراب پالیسی کا الزام عائد کیا ہے، یہ غلط ہے. میں کہا تھا کہ کوئی قصور وار نہیں ہے.سسوڈیا بھی قصور وار نہیں ہیں. اس پر سی بی آئی کے وکیل نے کہا کہ جو میڈیا پر چل رہا ہے وہ سب سچ ہے سب کچھ حقائق پر مبنی ہے.

اس سے قبل شنوائی کے دوران کمرہ عدالت میں کیجریوال کی طبعیت خراب ہوگئی تھی، ان کا شوگر لیول کم ہونے کے سبب کچھ وقفہ کیلئے علیحدہ کمرہ میں منتقل کیا گیا تھا حالانکہ بعد میں وہ دوبارہ کمرہ عدالت میں حاضر ہوئے تھے.

واضح رہے کہ کے سی بی آئی نے 25 جون کو رات 9 بجے تہاڑ جاکر شراب پالیسی معاملے میں اروند کیجریوال سے تفتیش کی تھی. جبکہ شراب پالیسی معاملے میں منی لانڈرنگ کے الزام میں ای ڈی نے کیجریوال کو 21 مارچ کو حراست میں لیا تھا. 10 مئی سے  2 جون تک 21 دنوں کیلئے وہ پیرول پر تھے.

آرین خان کو کروز ڈرگز کیس میں ملوث نہ کرنے کے لیے 25 کروڑ رشوت طلب کرنے کا الزام

سی بی آئی نے آج  جمعہ کو ممبئی این سی بی کے سابق چیف سمیر وانکھیڈے کے گھر پر چھاپہ مارا،جنہوں نے شاہ رخ خان کے بیٹے آرین خان کو کروز ڈرگز کیس میں گرفتار کیا تھا۔  تفتیشی ایجنسی کے ذرائع نے بتایا کہ سمیر نے آرین خان کو کروز ڈرگز کیس میں ملوث نہ کرنے کے لیے 25 کروڑ کی رشوت طلب کی تھی۔  اس معاملے میں سمیر کے ایک ساتھی نے مبینہ طور پر 50 لاکھ روپے لیے تھے۔  اس معاملے میں سی بی آئی نے سمیر وانکھیڈے سمیت 4 لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔  ایجنسی نے ممبئی، دہلی، رانچی اور کانپور میں ان کے 29 مقامات پر چھاپے مارے۔

یہ بھی پڑھیں:..... این سی پی پینل نے شرد پوار کا استعفیٰ مسترد کردیا

واضح رہے کہ سمیر وانکھیڈے نے 2 اکتوبر 2021 کو ممبئی سے گوا جانے والی کورڈیلیا کروز میں ریو پارٹی کی اطلاع ملنے پر چھاپہ مارا تھا۔ آرین خان کو یہاں سے گرفتار کیا گیا۔ اس کے بعد آرین 26 دن تک پولیس کی حراست میں رہا، اس دوران اسے آرتھر روڈ جیل بھی بھیجا گیا۔ آرین کے خلاف ٹھوس ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے عدالت نے انہیں 28 اکتوبر کو ضمانت پر رہا کر دیا تھا۔اس معاملے میں گرفتار ارباز مرچنٹ نے عدالت میں گواہی دی تھی کہ آرین کے پاس منشیات نہیں تھی اور اس نے ارباز کو بھی منشیات لے جانے سے منع کیا تھا۔


سی بی آئی کا چھاپہ سسوڈیا کی اچھی کارکردگی کا نتیجہ ہے جس کی عالمی سطح پر تعریف ہورہی ہے: اروند کیجریوال 

دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسوڈیا کی رہائش گاہ پر سی بی آئی کے چھاپے کے بعد وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے کہا کہ سی بی آئی کا چھاپہ سسوڈیا کی اچھی کارکردگی کا نتیجہ ہے جس کی عالمی سطح پر تعریف ہورہی ہے. انہوں نے کہا کہ اس قبل بھی سی بی آئی کے چھاپے پڑتے تھے، سابقہ کی طرح اس بار بھی کچھ نہیں ملے گا.

واضح رہے کہ آج جمعہ کی صبح دہلی ایکسائز پالیسی کے سلسلے میں سی بی آئی نے دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسوڈیا کی رہائش گاہ سمیت 10 سے زائد مقامات پر چھاپے مارے۔

غورطلب ہے کہ جس دن دہلی کے تعلیمی ماڈل کو سراہا گیا اور منیش سسوڈیا کی تصویر امریکہ کے سب سے بڑے اخبار دی نیویارک ٹائمز کے صفحہ اول پر شائع ہوئی، مرکز نے منیش کی رہائش گاہ پر سی بی آئی بھیج دی. اروند کیجریوال نے ٹوئیٹ کرکے کہا کہ سی بی آئی کا خیرمقدم ہے، تفتیش میں مکمل تعاون کریں گے. اس سے قبل بھی چھاپے مارے گئے اور تفیش ہوئی لیکن کچھ نہیں ملا. اس مرتبہ بھی کچھ نہیں ملے گا.

بدقسمتی کی بات ہے کہ ہمارے ملک میں اچھے کام کرنے والوں کو اس طرح ہراساں کیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمارا ملک ابھی تک نمبر ون نہیں بن سکا: منیش سسوڈیا

آج بروز جمعہ سی بی آئی ٹیم دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسوڈیا کے گھر پہنچی۔ منیش سسوڈیا نے ٹویٹ کر کے کہا آپ کا استقبال ہے۔  انہوں نے کہا کہ اچھا کام کرنے والوں کو ہراساں کیا جاتا ہے۔ ہم ایماندار ہیں، تحقیقات میں مکمل تعاون کریں گے۔ غور طلب ہے کہ گزشتہ ماہ دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے دہلی میں نئی ​​ایکسائز پالیسی کی سی بی آئی انکوائری کی سفارش کی تھی۔ اس کے بعد ہی یہ کارروائی ہو رہی ہے۔ سسوڈیا نے ٹوئیٹ کیا کہ سی بی آئی آگئی ہے۔ ان کا استقبال ہے. ہم ایماندار ہیں. لاکھوں بچوں کا مستقبل بنانا۔ یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے کہ ہمارے ملک میں اچھے کام کرنے والوں کو اس طرح ہراساں کیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمارا ملک ابھی تک نمبر ون نہیں بن سکا۔ ہم سی بی آئی کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ تحقیقات میں مکمل تعاون کریں گے تاکہ جلد حقیقت سامنے آسکے۔ اب تک میرے خلاف کئی مقدمات درج ہوئے لیکن کچھ نہیں نکلا۔ اس سے بھی کچھ نہیں نکلے گا۔ ملک میں اچھی تعلیم کے لیے میرا کام نہیں روکا جا سکتا۔  یہ لوگ دہلی کی تعلیم اور صحت کے شاندار کام سے پریشان ہیں۔ اسی لیے دہلی کے وزیر صحت اور وزیر تعلیم کو گرفتار کیا گیا ہے تاکہ تعلیم اور صحت کے میدان میں اچھے کام کو روکا جا سکے۔ ہم دونوں پر جھوٹے الزامات ہیں۔ عدالت میں سچ سامنے آجائے گا۔

 

تین ماہ سے بنا ڈائریکٹر کے سرگرمیاں انجام دینے والی سی بی آئی کے نئے ڈائریکٹر کی حیثیت سے سبودھ کمار جیسوال نے عہدے کا چارج لیا۔

نئی دہلی: آئی پی ایس افسر سبودھ کمار جیسوال نے بدھ کے روز سی بی آئی کے نئے ڈائریکٹر کی حیثیت سے اپنے عہدے کا چارج لیا۔جیسوال مہاراشٹر کیڈر کے 1985 بیچ کے آئی پی ایس افسر ہیں۔اب تک وہ سی آئی ایس ایف چیف کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دے رہے تھے۔اس کے علاوہ ماضی میں انہوں نے مہاراشٹر کے جنرل آف پولیس کی حیثیت سے بھی فرائض انجام دیئے ہیں۔واضح رہے کہ سینٹرل بیورو آف انویسٹیگیشن(سی بی آئی) گذشتہ تین ماہ سے بنا چیف کے اپنی سرگرمیاں انجام دے رہی تھی۔3 فروری کو رشی کمار شکلا اپنے عہدے کی میعاد مکمل کر سبکدوش ہوئے تھے۔جس کے بعد گذشتہ دنوں ایک میٹنگ میں سبودھ کمار جیسوال کو سی بی آئی کا نیا ڈائریکٹر منتخب کیا گیا ہے۔


 

وزیراعظم نریندر مودی، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس این وی رمنا اور لوک سبھا اپوزیشن لیڈر ادھیر رنجن بھی میٹنگ میں شرکت کریں گے

ملک کی سب سے طاقتور تفتیشی ایجنسی سی بی آئی کے چیف کا عہدہ مارچ سے خالی ہے۔سی بی آئی چیف کے عہدہ سے رشی کمار شکلا کی سبکدوشی کے بعد سے ایجنسی کو اپنے نئے سربراہ کی تلاش ہے اور یہ تلاش جلد ہی ختم ہونے والی ہے۔سی بی آئی کے نئے چیف کا انتخاب کرنے کیلئے آج یعنی 24 مئی کو ایک اہم میٹنگ منعقد کی جارہی ہے۔اس میٹنگ میں وزیر اعظم نریندر مودی،سپریم کورٹ کے چیف جسٹس این وی رمنا اور لوک سبھا اپوزیشن لیڈرادھیر رنجن چودھری بھی شریک ہوں گے۔سی بی آئی چیف کا انتخاب کرنے کیلئے منعقد کی جانے والی اس میٹنگ میں ان ناموں پر غور کیا جائے گا جو اس عہدے کیلئے دوڑ میں ہیں۔

اطلاعات کے مطابق سی بی آئی کے کارگزار چیف، بی ایس ایف اور نارکوٹکس کنٹرول بیورو کے سربراہ راکیش استھانا اور این آئی اے سربراہ وائے سی مودی کا نام اس دوڑ میں سب سے آگے ہے۔اسکے علاوہ سنٹرل انڈسٹریل سیکیورٹی فورس (سی آئی ایس ایف) کے سربراہ سبودھ کانت جیسوال اور ہندوستان تبت بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) کے چیف ایس ایس دیسوال، کیرل کے ڈی جی پی لوک ناتھ بوہرا اور یوپی کے ڈی جی پی ایچ سی اوستھی کا نام بھی اس دوڑ میں شامل ہے۔واضح رہے کہ مارچ ماہ سے سی بی آئی چیف کا عہدہ خالی ہے، سی بی آئی کے بعد حکومت کو این آئی اے کے سربراہ کا انتخاب بھی کرنا ہے۔این آئی اے چیف وائی سی مودی رواں ماہ کے آخر میں سبکدوش ہونے والے ہیں۔آئندہ ماہ جون تک حکومت کو اپنی داخلی اور بیروبی خفیہ ایجنسیوں کے نئے سربراہان کا انتخاب کرنا ہوگا۔را چیف سامنت گوئل اور آئی بی چیف کے عہدے کی مدت بھی ختم ہونے کے قریب ہے۔بہار کیڈر کے 1986ء بیچ کے آئی پی ایس آفیسر شیل وردھن سنگھ آئی بی کے نئے سربراہ ہوسکتے ہیں۔  مغربی بنگال کیڈر کے آئی پی ایس آفیسر ایس بی ایس تومر اور تامل ناڈو کیڈر ایم کے جھا را چیف کی دوڑ میں ہیں۔

ہائی کورٹ نے سی بی آئی کو صرف پندرہ دنوں میں تفتیش مکمل کرنے کا حکم دیا

ممبئی: بدعنوانی اور رشوت کے الزامات عائد ہونے کے بعد وزیراعلی کے عہدے سے استعفی دینے والے انیل دیشمکھ کو سی بی آئی نے 14 اپریل کو پوچھ تاچھ کیلئے طلب کیا ہے۔ہائی کورٹ کے حکم کے بعد سی بی آئی نے انیل دیشمکھ کے خلاف تفتیش کا آغاز کیا تھا۔اس سے قبل اتوار کے روز سی بی آئی نے دیشمکھ کے پرسنل سکریٹری اور معاون سے بھی تفتیش کی تھی۔ممبئی پولیس کمشنر کے عہدے سے تبادلے کے بعد پرمبیر سنگھ نے وزیراعلی ادھو ٹھاکرے کو مکتوب لکھ کر الزام عائد کیا تھا کہ وزیرداخلہ انیل دیشمکھ نے پولیس افسر سچن وازے کو 100 کروڑ روپے وصولی کا ہدف دیا تھا۔پرمبیر کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات کے بعد مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل مچ گئی تھی۔ہنگامہ بڑھنے کے بعد انیل دیشمکھ کو اپنے عہدے سے استعفی دینا پڑا اور ہائی کورٹ نے اس معاملے میں سی بی آئی جانچ کا حکم جاری کردیا۔حالانکہ ہائی کورٹ نے سی بی آئی کو صرف پندرہ دنوں میں اس معاملے کی تفتیش مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔اس معاملے میں این آئی اے کی حراست میں ممبئی پولیس کے معطل پولیس افسر وازے کے دو ڈرائیوروں سے بحی پوچھ تاچھ کی تھی۔حالانکہ سی بی آئی پہلے ہی سچن وازے سے پوچھ تاچھ کرچکی ہے۔اس کے علاوہ انیل دیشمکھ پر رشوت کے الزامات عائد کرنے والے ممبئی پولیس کے سابق کمشنر پرمبیر سنگھ سے بھی تفتیش کی گئی تھی۔ممبئی پولیس نے سچن وازے کی اس ڈائری کو بھی قبضے میں لے لیا ہے جس کے متعلق بتاہا جارہا ہے کہ جس میں وصولی کا مکمل ریکارڈ ہے۔سی بی آئی نے یہ ڈائری سچن وازے کے کیبن سے برآمد کی تھی۔

 

اس معاملے میں پیش کئے جانے والے ثبوتوں سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ عشرت جہاں اور اس کے ساتھی دہشت گرد نہیں تھے: خصوصی سی بی آئی جج

عشرت جہاں انکاؤنٹر معاملے میں بدھ کے روز احمد آباد کی خصوصی سی بی آئی عدالت نے اہم فیصلہ صادر کرتے ہوئے اس معاملے کے ملزمین آئی پی ایس افسر جی ایل سنگھل،ترون باروٹ اور سب انسپکٹر اناجو چودھری کو بری کردیا ہے۔جون2004 میں کرائم برانچ نے احمد آباد کے ایک علاقے میں عشرت جہاں اور اسکے تین  ساتھیوں جاوید شیخ، امجد علی اور ذیشان جوہر کا انکاؤنٹر کردیا تھا۔جس کے بعد اس انکاؤنٹر پر سوالات اٹھنے لگے تھے۔اس انکاؤنٹر پر فرضی انکاؤنٹر کے شکوک و شبہات ظاہر کئے جارہے تھے۔عدالت نے کہا کہ کرائم برانچ افسران جی ایل سنگھل، ترون باروٹ اور اناجو چودھری نے آئی بی(انٹلیجنس بیورو) سے موصول اطلاعات کی بنا پر کارروائی کی تھی جس طرح انہیں کرنی چاہیے تھی۔عدالت نے یہ بھی کہا کہ عشرت جہاں کو دہشت گرد تسلیم نہ کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔پولیس افسران نے خو معاملہ انجام دیا وہ وقت کا تقاضہ تھا، ایسا نہیں لگتا کہ انہوں نے کچھ بھی جان بوجھ کر کیا تھا۔معاملے کی سماعت کرتے ہوئے خصوصی سی بی آئی جج وی آر راول نے کہا کہ اس معاملے میں جو بھی ثبوت پیش کیا گیا ہے اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ عشرت جہاں اور اس کے ساتھی دہشت گرد نہیں تھے۔واضح رہے کہ مذکورہ انکاؤنٹر معاملہ کی قیادت احمد آباد کے ڈٹیکشن آف کرائم برانچ یونٹ کے ونجارا نے کی تھی۔پولیس کا کہنا تھا کہ وہ عشرت اور اس کے ساتھی لکشرطیبہ سے منسلک تھے اور اس وقت کے گجرات کےوزیراعلی نریندر مودی کے قتل کی سازش رچ رہے تھے۔اس معاملے میں 2013 میں سی بی ائی نے فرد جرم عائد کی تھی اور اس میں سات پولیس افسران کو ملزم بتایا تھا۔اس میں ڈی جی ونجارا کے علاوہ گجرات کے سابق ڈائریکٹر جنرل آف پولیس پی پی پانڈےاور ڈپٹی چیف آف پولیس این کے امین پر بھی الزام عائد کئے گئے تھے،ان سب کو عدالت نے تمام الزامات سے بری کردیا تھا۔