Articles by "Online Classes"
Showing posts with label Online Classes. Show all posts


آن لائن کلاس کے دوران پڑھائی پر توجہ نہ دینے پر ماں نے ساڑھے تین سال کے بیٹے کے منہ پر تکیہ رکھ کر قتل کردیا

آن لائن کلاس کے دوران پڑھائی پر توجہ نہیں دیئے جانے پر ناراض ایک ماں نے اپنے ساڑھے تین سالہ بیٹے کے منہ پر تکیہ رکھ اس کا قتل کردیا۔ اپنی غلطی کا احساس ہونے کے بعد اس نے خود بھی پھانسی لگا لی۔ناسک پولیس کے مطابق پاتھرڈی پھاٹا علاقے کے سائی سدھی اپارٹمنٹ میں مذکورہ واردات پیش آئی۔

پیر کی رات قریب 9:30 بجے 30 سالہ شکھا ساگر نامی خاتون کی لاش پھندے سے لٹکی ہوئی ملی۔

یہ بھی پڑھیں:---آٹھویں پاس میکینک نے تیار کیا ہیلی کاپٹر، پہلی ہی اڑان کے دوران ہیلی کاپٹر کریش، نوجوان کی موت

شکھا نے سوسائیڈ نوٹ میں لکھا کہ ان دونوں اموات کیلئے کسی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے۔خاتون نے خودکشی نوٹ میں یہ واضح طور پر نہیں لکھا کہ بیٹے کا قتل بھی اس نے ہی کیا ہے۔حالانکہ دونوں کی لاش کمرے کے اندر تھی۔کمرہ باہر سے بند تھا اور بچے کی ناک سے خون بہہ رہا تھا۔خاتون کے والدین نے بھی نواسے کو قتل کئے جانے کی تصدیق کی ہے۔واردات کے وقت شکھا اپنے والدین کے گھر تھی جبکہ اس کے والدین گھر پر موجود نہیں تھے۔معاملے کی تفتیش کررہے اے سی پی سہیل شیخ نے بتایا کہ پیر کے روز شام 5 بجے کے قریب شکھا نے تکیے سے منہ دبا کر اپنے بیٹے کا قتل کیا تھا۔اس معاملے میں قتل اور خودکشی کا معاملہ درج کرلیا گیا ہے۔


 آف لائن کلاسیس 17 اگست سے جاری کئے جانے سے متعلق اب تک مہاراشٹر اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کی جانب سے آفیشیل سرکیولر موصول نہیں ہوا

مہاراشٹر: ریاست کے مختلف شہروں میں جاری اسکولوں نے کہا کہ 17 اگست سے 8 ویں تک 12 ویں جماعت کی آف لائن کلاسیس جاری کرنے سے متعلق اب تک انہیں مہاراشٹر اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کی جانب سے کوئی آفیشیل سرکیولر موصول نہیں ہے۔اسکولوں کا کہنا ہے کہ کووڈ کے درمیان آف لائن کلاسیس جاسری کرنے کیلئے اسکولوں کی رضامندی اور کچھ ضروری شرائط پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

اسکول انتظامیہ نے کہا کہ انہیں اسکولیں دوبارہ جاری کرنے کیلئے کچھ اقدامات اور تیاریوں کیلئے کم از کم ہفتہ یا دس دن قبل نوٹس درکار ہے۔سینٹ اسٹینسلاس ہائی اسکول نادرا ویسٹ کے پرنسپل اروکیمل انتھونی نے کہا کہ ہمیں 8 ویں سے 12 ویں جماعت کی آف لائن کلاسیس جاری کرنے سے متعلق اب تک کوئی سرکاری سرکیولر نہیں ملا ہے۔ہمیں کم از کم ایک ہفتے کا وقت چاہیے۔تمام کلاس روم اور کیمپس کی صفائی کرنی ہوگی، اس کے علاوہ طلباء، فیکلٹی اور عملے کی باقاعدہ تھرمل چیکنگ کا اہتمام کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔راہل گاندھی کا ٹوئیٹر اکاؤنٹ عارضی طور پر سسپینڈ کئے جانے دعوی، ٹوئیٹر نے دعوے کو مسترد کیا

جنوبی ممبئی کی ایک کالج کے پرنسپل نے کہا کہ تیاری اور مختلف اقدامات کے علاوہ بہت ساری منصوبہ بندی کی ضرورت ہوگی جیسے طلباء کو بیچ وائز بلانا، آن لائن اور آف لائن کلاسیس جاری رکھنے کیلئے نظام الاوقات بنانا، انفیکشن کے پھیلاؤ روکنے کے کیلئے انتظامات کرنا وغیرہ۔اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کو کووڈ-19 کے خطرات کے تدارک کیلئے مناسب ہدایات فراہم کرنا چاہیے۔اسٹیٹ بورڈ اسکول کے ایک سینئر ٹیچر موہن داس شاہانے نے کہا کہ اگر حکومت دوبارہ اسکولیں جاری کرنے کی منصوبہ بندی کررہی ہے تو والدین کی رضامندی لازمی معیار ہونا چاہیے۔وادلین کو اعتماد میں لیا جانا چاہیےاور ان لوگوں کیلئے آن لائن لیکچر کا نظم کرنا چاہیے جو گھر سے حاضر ہونا چاہتے ہیں۔نیز اسکول کے اساتذہ اور عملے کو لوکل ٹرینوں کے ذریعے سفر کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔

 

مودی صاحب بچوں کو اتنا کام کیوں کرنا پڑتا ہے، آن لائن کلاس اور ہوم ورک سے پریشان 6 سالہ معصوم بچی کا ویڈیو ٹوئٹر پر وائرل

کرونا کے سبب ملک بھر میں اسکولیں بند ہیں، طویل عرصے سے طلباء اسکولوں سے دور ہیں۔پڑھائی کا حرج نہ ہو اس لئے آن لائن کلاسیس کا سلسلہ جاری کیا گیا ہے۔لیکن آن لائن کلاسیس بچوں کیلئے پریشانی کا باعث بنتی جارہی ہیں۔حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک چھ سالہ بچی کا ویڈیو وائرل ہوا جس میں بچی ہوم ورک اور آن لائن کلاس سے متعلق وزیراعظم نریندر مودی سے شکایت کررہی ہے۔جموں کشمیر کے گورنر منوج سنگھ نے اس بچی کے ویڈیو پر توجہ بھی دی ہے۔جموں کشمیر کی رہنے والی ایک چھ سالہ بچی نے آن کلاسیس سے ناخوش ہوتے ہوئے ایک ویڈیو بنا کر شیئر کی ہے۔جس میں بچی نے اسکولوں سے ملنے والے ہوم ورک اور لمبی کلاسیس سے متعلق پریشانی اور ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔سوشل میڈیا پر وائرل اس ویڈیو کو جموں کشمیر کے گورنر منوج سنگھ نے ٹوئیٹر پر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ بہت ہی پیاری شکایت ہے۔انہوں نے اسکولی بچوں کو ہوم ورک کا بوجھ کم کرنے سے متعلق محکمہ تعلیم کو 48 گھنٹے کے اندر لائحہ عمل تیار کرنے کا حکم دیا ہے۔انہوں نے ٹوئیٹ میں مزید لکھا کہ بچپن کی معصومیت بھگوان کا تحفہ ہوتی ہے، بچوں کے دن خوشیوں سے بھرے ہونے چاہیے۔بچی کا شکایتی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد ایسی امید ہے کہ آن لائن کلاس میں بچوں پر پڑھائی کا بوجھ کم ہوسکتا ہے اور انہیں راحت مل سکتی ہے۔ویڈیو میں بچی کہہ رہی ہے کہ اس کی آن لائن کلاس دس بجے شروع ہوتی ہے اور دو بجے تک جاری رہتی ہے۔جس میں انگلش، میتھس، اردو اور ای وی ایس پڑھنا پڑتا ہے۔بچی نے وزیراعظم نریندر مودی سے درخواست کرتے ہوئے کہتی ہے کہ مودی صاحب بچوں کو آخر اتنا کام کیوں کرنا پڑتا ہے؟واضح رہے کہ ٹوئٹر پر شیئر ہونے والے اس ویڈیو کو اب تک لاکھوں لوگوں نے دیکھا ہے اور بچی کی معصومیت پر اپنے تاثرات بھی ظاہر کررہے ہیں۔

Click here to watch:

Video