Articles by "Accident"
Showing posts with label Accident. Show all posts

عوام کا بڑی گاڑیوں کی آمدورفت پر پابندی اور سڑکوں کی توسیع کا مطالبہ
مالیگاؤں: شہر کے بس اسٹینڈ کے قریب فلائی اوور پل کے نیچے اتوار کی صبح ایک دلخراش سڑک حادثہ پیش آیا، جس میں ایک 70 سالہ بزرگ خاتون کنٹینر گاڑی کی زد میں آکر جاں بحق ہوگئیں۔ حادثے کے بعد علاقے میں کچھ دیر کے لیے افرا تفری اور غم کی کیفیت پیدا ہوگئی۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق حادثہ صبح تقریباً 10 بجے بس اسٹینڈ کے قریب فلائی اوور کے نیچے پیش آیا۔ بتایا جاتا ہے کہ بزرگ خاتون سڑک عبور کررہی تھیں کہ اسی دوران وہاں سے گزرنے والے ایک کنٹینر کی زد میں آگئیں۔ حادثہ اتنا شدید تھا کہ خاتون کو شدید چوٹیں آئیں اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گئیں۔
سماجی کارکن شفیق اینٹی کرپشن کے مطابق حادثے کے فوری بعد پولیس اور امدادی عملہ موقع پر پہنچ گیا۔ پولیس نے جائے حادثہ کا جائزہ لیتے ہوئے ابتدائی تحقیقات شروع کردی ہیں، جبکہ متوفیہ کے اہل خانہ کو واقعے کی اطلاع دے دی گئی ہے۔
حادثے کے بعد مقامی شہریوں میں شدید تشویش پائی جارہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ کسمبا روڈ پر بڑی اور بھاری گاڑیوں کی آمدورفت سے حادثات کا خطرہ مسلسل بڑھ رہا ہے، اس لیے اس راستے پر بڑی گاڑیوں کی انٹری پر پابندی عائد کی جانی چاہیے۔
عوام نے مزید مطالبہ کیا ہے کہ آگرہ روڈ اور کسمبا روڈ کو فوری طور پر وسیع کیا جائے اور سڑکوں کے اطراف موجود تجاوزات (آتی کرمن) کو ہٹایا جائے تاکہ ٹریفک کا دباؤ کم ہو اور مستقبل میں ایسے جان لیوا حادثات کی روک تھام ممکن ہوسکے۔پولس کی جانب سے حادثے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔ حادثے میں جاں بحق ہونے والی بزرگ خاتون کی شناخت اور دیگر تفصیلات پولیس کارروائی مکمل ہونے کے بعد سامنے آنے کی توقع ہے۔

عازم حسین گرنا ڈیم میں غرقآب، 16سالہ انصاری عبد الرحمٰن دردناک سڑک حادثہ میں جاں بحق 

​مالیگاؤں: مالیگاؤں شہر اور اطراف کے علاقوں میں ایک ہی دن کے دوران چار مختلف اور دردناک حادثات پیش آئے، جن میں دو افراد اپنی جان کی بازی ہار گئے جبکہ دو افراد شدید زخمی ہو گئے جن کا نجی اسپتال میں علاج جاری ہے۔اس ضمن میں سماجی خدمتگار شفیق اینٹی کرپشن، خالد ایس کے عارف ایا اور شکیل تیراک نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ کہ ​پہلا افسوسناک واقعہ گرنا ڈیم (گرنا ندی) کے پاس پیش آیا، جہاں سیر و تفریح اور نہانے کی غرض سے گئے ہوئے رمضان پورہ کے رہائشی عازم حسین اجمل حیات (عمر 38 سال) پانی کے تیز بہاؤ اور گہرائی میں ڈوب کر جاں بحق ہوگئے۔ وہاں موجود ساتھیوں اور سماجی کارکنوں نے انہیں پانی سے باہر نکال کر سی پی آر (CPR) دیا اور فوری طور پر فاران اسپتال پہنچایا، لیکن ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔

​دوسرا حادثہ گرنا ڈیم فاٹے اور دیوڑ کے قریب قومی شاہراہ (ہائی وے) پر پیش آیا۔ مسلم نگر کے رہائشی انصاری عبد الرحمٰن افروز احمد (عمر 16 سال) اپنی موٹر سائیکل پر سوار ہوکر گرنا ڈیم چالیسگاؤں روڈ پر جارہے تھے کہ پیچھے سے ایک تیز رفتار موٹر سائیکل کی ٹکر کے نتیجے میں دردناک حادثہ پیش آیا اور ان کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ متوفی اپنی والدہ کا اکلوتا سہارا تھا۔

​اسی دن شہر کے دیگر علاقوں اور ہائی وے پر بھی مزید روڈ حادثات پیش آئے، جن میں دو افراد شدید طور پر زخمی ہو گئے۔زخمیوں کو فوری طور پر نجی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے ۔

ان افسوسناک ​واقعات کے بعد مالیگاؤں کے سماجی کارکنوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شہریوں اور بالخصوص نوجوانوں سے اپیل کی ہے کہ ڈیم اور ندی نالوں کے خطرناک حصوں پر سیر و تفریح کے دوران احتیاط برتیں اور بچوں کو پانی کے قریب جانے نہ دیں۔اس کے علاوہ شاہراہوں پر چھوٹی عمر کے بچوں کو گاڑی چلانے سے روکنے اور ہائی وے پر سیفٹی رولز پر عمل کرنے کی تاکید کی گئی ہے

دو جاں بحق، 15 سے 20 زخمی,بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک

مالیگاؤں: مالیگاؤں–چالیسگاؤں روڈ پر بدھ کی صبح ایک دل دہلا دینے والے سڑک حادثے میں دو افراد جاں بحق جبکہ 15 سے 20 افراد زخمی ہوگئے۔ یہ حادثہ مالیگاؤں تعلقہ پولیس اسٹیشن کی حدود میں دہیواڑ گاؤں کے قریب تقریباً ساڑھے دس بجے پیش آیا۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق مالیگاؤں سے چالیسگاؤں کی جانب جانے والی بس اور مخالف سمت سے آنے والے ایسر ٹرک کے درمیان سرِراہ زوردار تصادم ہوگیا۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ دونوں گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا اور بس تقریباً مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔

حادثے کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بس کا اسٹیئرنگ وہیل ڈرائیور کی سیٹ سے آگے بڑھ کر پہلی سیٹ تک جا پہنچا، جبکہ بس کے تقریباً تمام سیٹ اپنی جگہ سے اکھڑ گئے۔ حادثے کے بعد موقع پر چیخ و پکار مچ گئی اور مقامی افراد نے فوری طور پر امدادی کارروائی شروع کی۔

پولیس کے مطابق حادثے میں دو افراد کی موت واقع ہوئی ہے، جبکہ 15 سے 20 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔

حادثے کی اطلاع ملتے ہی مالیگاؤں تعلقہ پولیس موقع پر پہنچ گئی اور جائے حادثہ کا جائزہ لیتے ہوئے ضروری کارروائی شروع کردی۔ پولیس کی جانب سے حادثے کی اصل وجہ معلوم کرنے کے لیے تحقیقات کی جارہی ہیں۔ فی الحال یہ واضح نہیں ہوسکا ہے کہ حادثے کے لیے کس گاڑی کے ڈرائیور کی غفلت ذمہ دار تھی۔

پولیس حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ اگر ان کے کسی رشتہ دار یا عزیز کا اس بس میں سفر کرنا معلوم ہو تو وہ متعلقہ اسپتال پہنچ کر زخمیوں اور جاں بحق افراد کی شناخت میں تعاون کریں اور متاثرین کو ضروری طبی و دیگر مدد فراہم کریں۔

اس المناک حادثے کی خبر پھیلتے ہی مالیگاؤں اور اطراف کے علاقوں میں غم و تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ پولیس معاملے کی مزید تفتیش میں مصروف ہے اور حادثے سے متعلق مزید تفصیلات تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سامنے آنے کی توقع ہے۔

فائرمین شکیل تیراک و ٹیم کی شہریان سے اپیل, عوام سے ندیوں سے دور رہنے کی تلقین

مالیگاؤں : (27 جولائی) گِرنا ندی میں ڈوبنے والے نوجوان عادل کی لاش تین دن کی مسلسل تلاش کے بعد پیر کے روز تقریباً 25 سے 30 کلومیٹر دور گرنا ڈیم کے قریب سے برآمد کر لی گئی۔ فائر بریگیڈ کی ٹیم نے لاش کو باہر نکال کر سول ہسپتال منتقل کر دیا۔شکیل تیراک کے مطابق جمعہ 24 جولائی کو شام پانچ بجے کے قریب گرنا و موسم ندی کے سنگم پر واقع بھکن شاہ درگاہ کے قریب سے دو نوجوان پانی میں نہانے گئے تھے۔جس میں ایک نوجوان بہی گیا تھا ۔اسی دن سے فائر بریگیڈ کی ٹیم نے تلاش کا آپریشن شروع کر دیا تھا۔ فائر بریگیڈ کے اہلکار شکیل تیراک نے بتایا کہ وہ روزانہ صبح فجر کے بعد سے شام تک تلاش جاری رکھتے رہے اور یہ سلسلہ تین دن تک چلتا رہا۔27 جولائی کو صبح سوندگاؤں کے سامنے سے سرچ کا آپریشن دوبارہ شروع کیا گیا۔ ڈیم کے پانی کے بہاؤ کی وجہ سے لاش دور جا کر ٹھہر گئی تھی۔ مقامی افراد نے لاش دیکھی تو فائر بریگیڈ اور پولیس کو اطلاع دی گئی۔ کنسٹبل جادھو  اور مورے کو موقع پر بلایا گیا اور لاش کو باہر نکال کر ایمبولینس کے ذریعے سول ہسپتال بھیج دیا گیا۔

فائر بریگیڈ کے شکیل تیراک نے بتایا کہ اللہ کے فضل سے تین دن کی مسلسل محنت کے بعد کامیابی ملی۔ تلاش میں شامل ٹیم میں سنجے پوار، منوہر سیسگے، روی سیجواد، شبھم، کولپے اور ڈرائیور ذاکر وغیرہ شامل تھے۔ملیگاؤں عوام میں اس واقعے سے گہری تشویش پائی جا رہی تھی۔ کئی سماجی کارکنوں، وارڈ ممبران اور مقامی رہنماؤں نے مسلسل رابطہ رکھتے ہوئے سرچ آپریشن کی صورتحال معلوم کی۔اس موقع پر شفیق اینٹی کرپشن نے عوام اور بچوں کو مشورہ دیا کہ ندی اور ڈیم میں نہانے سے گریز کریں، خاص طور پر جب پانی زیادہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ دوستوں کے درمیان چیلنج لے کر پانی میں کودنے سے اکثر حادثات ہوتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مالیگاؤں میں بھی سیکشن 163 نافذ کیا جائے تاکہ گِرنا اور موسم ندی میں نہانے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہو سکے اور اس طرح کے حادثات روکے جا سکیں۔

الیکٹرک پول میں مبینہ کرنٹ دوڑنے سے پیش آیا سانحہ، شہریوں کا بجلی محکمہ کے خلاف کارروائی اور اہل خانہ کو معاوضہ دینے کا مطالبہ

مالیگاؤں (اسٹاف رپورٹر) گلشن معصوم، نئی تہذیب ہائی اسکول سے متصل بستی میں پیش آئے ایک افسوسناک حادثے میں 13 سالہ معصوم بچے محمد مزمل محمد آصف کی کرنٹ لگنے سے موت واقع ہوگئی، جس کے بعد علاقے میں غم و افسوس کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق، متوفی مغرب کی نماز ادا کرنے کے بعد لوہے کی سیڑھی کے ذریعے اپنے مکان پر جا رہا تھا۔ اسی دوران اس کا ہاتھ قریب موجود الیکٹرک پول سے چھو گیا، جس میں مبینہ طور پر کرنٹ دوڑ رہا تھا، اور وہ شدید کرنٹ لگنے سے موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔حادثے کی اطلاع ملتے ہی کارپوریٹر ڈاکٹر خالد پرویز، سماجی کارکن شفیق اینٹی کرپشن اور دیگر مقامی افراد موقع پر پہنچ گئے۔ واقعہ کے بعد شہریوں نے بجلی محکمہ کی مبینہ لاپرواہی پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور متوفی کے اہل خانہ کو مناسب معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس موقع پر کارپوریٹر ڈاکٹر خالد پرویز نے بتایا کہ متوفی بچے کے مکان کے سامنے سڑک کافی خستہ حال ہے، جہاں بارش کا پانی جمع تھا۔ بچہ اسی مقام سے لوہے کی سیڑھی کے ذریعے اپنے مکان پر جا رہا تھا کہ اچانک اس کا ہاتھ الیکٹرک پول سے ٹکرا گیا اور کرنٹ لگنے سے اس کی موت واقع ہوگئی۔ سماجی کارکن شفیق اینٹی کرپشن نے واقعے کی تفصیلات دیتے ہوئے بجلی محکمہ سے مطالبہ کیا کہ علاقے میں موجود خطرناک برقی کھمبوں اور تاروں کی فوری مرمت کی جائے تاکہ آئندہ ایسے المناک حادثات سے بچا جا سکے۔

ادھر پوار واڑی پولیس اسٹیشن کے اہلکار موقع پر پہنچ کر پنچنامہ کی کارروائی انجام دے رہے ہیں۔ تمام قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد نعش کو تدفین کے لیے اہل خانہ کے سپرد کر دیا جائے گا۔

ایک اندازے کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران مالیگاؤں میں کرنٹ لگنے کے مختلف واقعات میں 10 سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جن میں معصوم بچے بھی شامل ہیں۔ مسلسل احتجاج اور عوامی مطالبات کے باوجود ایسے حادثات کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ شہریوں نے بجلی محکمہ کی مبینہ غفلت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ شہر بھر میں برقی کھمبوں، تاروں اور ٹرانسفارمروں کا فوری معائنہ اور مرمت کی جائے تاکہ مزید قیمتی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔

بجلی کے تاروں، ٹرانسفارمر کو درست کرنے اور متوفی کے ورثاء کو 25 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا مطالبہ 

​مالیگاؤں : 23 جون: رمضان پورہ، امین آباد علاقے میں بجلی کمپنی کی مبینہ غفلت اور لاپرواہی کے باعث ایک دردناک حادثہ پیش آیا ہے، جہاں ہائی وولٹیج بجلی کے تار سے کرنٹ لگنے کے باعث ایک نوجوان جاں بحق ہو گیا۔ متوفی کی شناخت مزمل حسین عبدالقدوس کے نام سے ہوئی ہے جو کہ پیشے سے ایک سماجی کارکن (سوشل ورکر) تھے۔

​تفصیلات کے مطابق، مزمل حسین کے پڑوس میں ان کی پھوپھی کا انتقال ہو گیا تھا، جس کے بعد میت کی تدفین اور تعزیت کے لیے آنے والے لوگوں کے لیے بارش سے بچاؤ کی خاطر پنڈال یا پردہ لگانے کا انتظام کیا جا رہا تھا۔ اس دوران جب مزمل نے لوہے کا پائپ اٹھایا تو وہ اوپر سے گزرنے والی 11 ہزار یا 33 ہزار کلو واٹ کی ہائی وولٹیج لائن سے چھو گیا، جس کے نتیجے میں انہیں شدید کرنٹ لگا اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گئے۔اس حادثے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ مقامی لوگوں اور وارڈ کے نمائندوں میں کارپوریٹر صغیر احمد ،عبد الباقی، منا ممبر وغیرہ کا کہنا ہے کہ بجلی کمپنی کی نااہلی کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ علاقے میں بجلی کے تار انتہائی نیچے لٹک رہے ہیں اور ڈی پی (ٹرانسفارمر) بھی زمین سے محض 4 سے 5 فٹ کی اونچائی پر نصب ہے، جس سے ہر وقت معصوم بچوں اور راہگیروں کی جان کو خطرہ لاحق رہتا ہے، عوام کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی متعلقہ حکام بشمول انجینئرز اور افسران کو لٹکتے ہوئے تاروں کے حوالے سے متعدد بار تحریری اور زبانی شکایات کی گئیں اور موقع کا معائنہ بھی کروایا گیا، لیکن کمپنی کی جانب سے کوئی ٹھوس اقدام نہیں اٹھایا گیا، جس کا نتیجہ آج ایک قیمتی جان کے ضیاع کی صورت میں نکلا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جاں بحق ہونے والے مزمل اپنے گھر میں اکیلے کمانے والے تھے اور ان کے پسماندگان میں دو چھوٹی بیٹیاں شامل ہیں۔ مظاہرین اور ورثاء کا مطالبہ ہے کہ ​بجلی کمپنی کے اعلیٰ حکام فوری طور پر موقع پر پہنچ کر مظاہرین سے بات چیت کریں۔​متاثرہ خاندان کو فوری طور پر 25 لاکھ روپے کا معاوضہ دیا جائے کیونکہ متوفی کے علاوہ گھر کا کوئی کفیل نہیں ہے۔​لاپرواہی برتنے والے متعلقہ افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔​مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک معاوضے اور بجلی کے تاروں کو درست کرنے کا تحریری یقین دہانی نہیں کروائی جاتی، وہ میت کو نہیں اٹھائیں گے، اور اگر انتظامیہ نے زبردستی کی تو وہ میت کو پاور ہاؤس کے گیٹ پر لے جا کر دھرنا دینے پر مجبور ہوں گے۔اس واقعہ کی اطلاع ملنے کے بعد پاور کمپنی کے آفیسران و پولس انتظامیہ بھی موقع پر پہنچ کر مسائل کو حال کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں ۔


اینیمیشن کوچنگ سینٹر میں ہولناک آتشزدگی، متعدد طلباء کے پھنسے ہونے کا خدشہ، جاں بحق ہونے والے ہر فرد کے لواحقین کو 2 لاکھ روپے جبکہ زخمیوں کو 50 ہزار روپے دینے کا اعلان

لکھنؤ: اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ برجیش پاٹھک نے پی ٹی آئی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پیر کے روز لکھنؤ کے علی گنج علاقے میں واقع ایک کوچنگ سینٹر میں لگنے والی ہولناک آگ میں کم از کم 14 طلبہ کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے۔

اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ برجیش پاٹھک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "ابھی کل 13 بچوں کو باہر نکالا گیا ہے۔ انہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ ایک سنگین واقعہ ہے۔ اندر دھواں بھرا ہوا ہے۔ یہ ایک اینیمیشن سینٹر تھا جہاں اچانک آگ لگ گئی۔ بچے یہاں کارٹون بنانا سیکھنے آتے تھے۔ مجھے ابھی تک معلوم نہیں کہ یہ واقعہ کیسے پیش آیا۔ کے جی ایم سی ٹراما سینٹر میں زخمیوں کو داخل کیا جا رہا ہے۔ ان کی عمر 16 سے 17 سال کے درمیان تھی۔"

یہ آگ علی گنج کے پورنیا علاقے میں واقع ایک کوچنگ انسٹی ٹیوٹ میں بھڑکی، جس کے باعث آسمان میں گھنے دھوئیں کے بادل چھا گئے اور طلبہ کو اپنی جان بچانے کے لیے بھاگنا پڑا۔ مقامی افراد کے مطابق، کئی طلبہ نے تیزی سے پھیلتی آگ سے بچنے کے لیے عمارت سے چھلانگ لگا دی۔

پولیس ذرائع کے مطابق، عمارت کے بڑے حصے میں دھواں بھر جانے کے بعد متعدد طلبہ کو چھلانگ لگانے پر مجبور ہونا پڑا۔ ایک مقامی رہائشی نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ آگ لگنے کے چند ہی منٹوں میں افراتفری مچ گئی۔

انہوں نے کہا، "سات سے آٹھ طلبہ نے اپنی جان بچانے کے لیے عمارت سے چھلانگ لگائی، تاہم اب بھی تقریباً 20 سے 25 طلبہ کے اندر پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔"

علاقے سے موصول ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ بڑی تعداد میں لوگ عمارت کے باہر جمع ہو گئے جبکہ امدادی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کی آٹھ گاڑیاں کوچنگ سینٹر کی جانب روانہ کی گئیں۔ فائر فائٹرز نے آگ پر قابو پانے اور اندر پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے بھرپور آپریشن شروع کیا۔

حکام کے مطابق، آگ پر جزوی طور پر قابو پانے تک کم از کم 12 افراد کو عمارت سے بحفاظت نکال لیا گیا تھا۔ ریسکیو اہلکاروں نے آپریشن کے دوران ایک بلی کو بھی بچایا۔

آگ کی شدت اور گھنے دھوئیں کے باعث اندر پہنچنا مشکل ہو گیا تھا، جس کے باعث فائر فائٹرز کو عمارت کے مختلف حصوں تک رسائی کے لیے متبادل طریقے اختیار کرنے پڑے۔

ریسکیو آپریشن کے دوران اسٹریچر بردار عملہ ملحقہ عمارت کے ذریعے اندر داخل ہوا۔ آئی اے این ایس کی رپورٹ کے مطابق، امدادی ٹیم نے ایک دیوار میں سوراخ کر کے اسٹریچر اور دیگر ضروری سامان اندر پہنچایا۔

اگرچہ آگ پر قابو پا لیا گیا تھا، تاہم سرچ آپریشن جاری رہا کیونکہ خدشہ تھا کہ مزید چار سے پانچ افراد اب بھی عمارت میں پھنسے ہو سکتے ہیں۔

آگ لگنے کی اصل وجہ کی تفتیش جاری ہے، جبکہ ایک مقامی رہائشی نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ کسی چنگاری کے باعث آگ بھڑکی ہوگی، تاہم حکام نے اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے۔

جیسے ہی حادثے کی شدت واضح ہوئی، کئی اعلیٰ افسران موقع پر پہنچ گئے۔ اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ برجیش پاٹھک نے بھی جائے حادثہ کا دورہ کیا اور ضلعی و فائر محکمہ کے افسران کے ساتھ ریسکیو آپریشن کا جائزہ لیا۔

اس سانحے کی اطلاع ملنے پر وزیر اعظم نریندر مودی اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی۔

یوگی آدتیہ ناتھ نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں اس واقعے کو "انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا" قرار دیا۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی لکھنؤ آگ حادثے میں جانی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں انہوں نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے ہمدردی ظاہر کی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی تمنا کی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ریسکیو آپریشن جاری ہے اور حکام متاثرین کو ہر ممکن مدد فراہم کر رہے ہیں۔

وزیر اعظم کے دفتر نے وزیر اعظم قومی ریلیف فنڈ (PMNRF) سے مالی امداد کا اعلان بھی کیا۔ آگ میں جاں بحق ہونے والے ہر فرد کے لواحقین کو 2 لاکھ روپے جبکہ زخمیوں کو 50 ہزار روپے دیے جائیں گے۔

یہ اعلانات ایسے وقت میں کیے گئے جب ریسکیو ٹیمیں کوچنگ سینٹر میں سرچ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مزید افراد اب بھی عمارت میں پھنسے ہو سکتے ہیں۔

پانی میں بچوں کو ڈوبتا دیکھ سب سے پہلے مدد کو پہنچے عرفان، کنویں میں چھلانگ لگا کر بچائی کئی جانیں 

شولار پور : پنڈھر پور میں آج شام ایک دلخراش سڑک حادثہ پیش آیا جس میں تقریباً 9 لوگوں کی موت واقع ہوگئی ۔واقعہ کی جانچ کر رہے پولس حکام نے بتایا کہ شولاپور کے پنڈھر پور تعلقہ کے رنجانی گاؤں کے کل 14 لوگ آج ایک ٹیمپو میں مہسواد میں سدھناتھ مندر کے درشن کرنے گئے تھے۔ اسے کے بعد واپس آتے ہوئے ٹنڈو واڑی کے ایک کھیت میں عقیدت مندوں کا ٹیمپو کنویں میں گر گیا۔ اس حادثے میں اندوبائی دشرتھ باوچے (60)، پوجا امول ستورے (23)، پوجا بالاجی باوچے (27)، اشونی سندیپ باوچے (27)، اشونی سندیپ باوچے (14)، سنسکار سندیپ باوچے (14)، سنسکرتی سندیپ باوچے (14)، آراو باوچے (8 ماہ)، آراو امول ساتھول (6 ماہ) کی موت ہوگئی۔ جبکہ اس واقعے میں 6 افراد کو بچا لیا گیا ہے۔شولاپور کے ضلع کلکٹر ایس کارتیکی نے پنڈھار پور-مہسواڈ ہائی وے پر جائے حادثہ کا دورہ کر معائنہ کیا۔ اس بار انہوں نے حادثے کی تین سطحی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ شولاپور ضلع میں سڑک کے کنارے بہت سے کنویں ہیں۔ ضلع کلکٹر نے کہا کہ ان کنوؤں کا سروے کیا جائے گا اور ان کے لیے حفاظتی رکاوٹیں لگانے کی ہدایات دی جائیں گی۔

وزیراعلیٰ نے امداد کا اعلان کیا۔

وزیر اعلی دیویندر فڈنویس نے ٹویٹر (X) پر پوسٹ کیا اور کہا، "شولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں ٹنڈوواڑی کے کھیت میں ایک گاڑی کنویں میں گرنے کا حادثہ انتہائی افسوسناک ہے۔ میں مرنے والوں کو دلی خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔ ہم ان کے اہل خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔" اس حادثے میں چھ جانیں بچ گئیں اور ان کا علاج چل رہا ہے۔ ضلع کلکٹر اور پولس سپرنٹنڈنٹ فوراً موقع پر روانہ ہو گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ مقامی انتظامیہ سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ ریاستی حکومت مہلوکین کے ورثاء کو فی کس 5 لاکھ روپے کی مالی امداد فراہم کرے گی۔

 ایک پک اپ ٹرک جو عقیدت مندوں کو لے جا رہا تھا۔ایک پک اپ ٹرک جو عقیدت مندوں کو لے جا رہا تھا جو مہاسواڑ-پنڈھر پور روڈ پر ٹنڈوواڑی گاؤں کے قریب کنویں میں جا گرا۔ اس حادثے میں 8 عقیدت مندوں کی موقع پر ہی موت ہو گئی اور 6 دیگر شدید زخمی ہو گئے۔ حادثے کے عینی شاہد عرفان نے دل دہلا دینے والا حادثہ کیسے پیش آیا اس کی کہانی سنائی

عرفان نے کہا- 'گاڑی میری آنکھوں کے سامنے کنویں میں گر گئی'حادثے کا شکار ہونے والے پک اپ ٹرک کے عین پیچھے عرفان اپنی کار لا رہا تھا۔ اس لیے سارا حادثہ اس کی آنکھوں کے سامنے ہو گیا۔ حادثے کا ہولناک واقعہ سناتے ہوئے عرفان نے کہا کہ میں نے یہ حادثہ اپنی آنکھوں سے دیکھا، پک اپ ٹرک کے آگے کچھ نہیں تھا اور اس کے پیچھے بھی کچھ نہیں تھا، سڑک صاف تھی، لیکن اچانک پک اپ ٹرک تقریباً 200 فٹ دور سے زبردست ہلچل مچانے لگی جسے دیکھ کر ہم دور سے محسوس کر رہے تھے کہ ڈرائیور گاڑی سے بے قابو ہو گیا تھا۔

اگر کنواں بند ہوتا تو حادثے سے بچا جا سکتا تھا!

بے قابو پک اپ ٹرک سڑک کے کنارے ایک کھلے کنویں کی طرف بڑھ گیا۔ ڈرائیور نے یہ نہیں دیکھا کہ اس کے سامنے کوئی کنواں ہے یا کنٹرول کھو بیٹھا اور گاڑی سیدھی کنویں میں جا گری۔ کنویں میں سیمنٹ کا مضبوط باؤڈر ہوتا تو اتنی بڑی تباہی سے بچا جا سکتا تھا، عرفان نے بھی افسوس کا اظہار کیا۔

چار سالہ بچہ پانی میں تیرتا ہوا دیکھا تو میں نے سب سے پہلے چھلانگ لگائی!

گاڑی کے کنویں میں گرنے کے بعد چیخ و پکار شروع ہو گئی۔عرفان نے سوچے بغیر گاڑی روک دی۔ اس نے ایک چار پانچ سال کے بچے کو"جیسے ہی میں نے پانی میں دیکھا، میں نے بغیر کسی تاخیر کے کنویں میں چھلانگ لگا دی۔ ہم نے اس بچے اور چند دیگر کو بحفاظت پانی سے باہر نکال لیا۔ باقی دو خود تیر کر باہر نکل آئے،

 عرفان نے واقعے کی سنگینی کو بھانپ کر مدد کی، میں دل کی گہرائیوں سے آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

عرفان نے واقعے کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کردیا۔ پنڈھرپور کے سرپنچ پرنیت بھلکے نے دل کی گہرائیوں سے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ پانی میں چھلانگ لگانے اور لوگوں کو باہر نکالنے والا پہلا شخص تھا۔

عباس نگر مالیگاؤں کا شیخ سلطان شیخ حسین نامی شخص جاں بحق

مالیگاؤں : 13 جون: مالیگاؤں شہر کا نوجوان شیخ سلطان شیخ حسین ساکن عباس نگر کا درد ناک سڑک حادثے میں انتقال ہوگیا ۔تفصیلات کے مطابق شیخ سلطان اپنی بیوی بچوں کے ساتھ موٹر سائیکل پر اپنی بیٹی سے ملنے جارہے تھے۔چاندوڑ گھاٹ کے آگے پیپل گاؤں سے پہلے انکی موٹر سائیکل کو پیچھے سے آرہی تیز رفتار کار نے زور دار ٹکر دے ماری جس کے سبب شیخ سلطان زمین پر گرگئے اور سر میں شدید چوٹ لگنے سے کافی خون بہہ گیا اور شیخ سلطان تاب نہ لاتے ہوئے وہیں جاں بحق ہوگئے ۔اس طرح کی اطلاع عارف ایا ممبر، خالد ایس کے نے دی ۔انہوں نے بتایا کہ جیسے ہی ہمیں اسکی اطلاع ملی ہم شہباز بھائی ایمبولینس والے کو لیکر روانہ ہوئے اور لاش کو جائے حادثہ سے چاندوڑ سول ہسپتال لایا ۔اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ حادثہ کی اطلاع ملتے ہی خالد حاجی اور شفیق اینٹی کرپشن ہمارے رابطے میں رہے اور ہر ممکن قانونی معاونت کرتے رہے، انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مالیگاؤں کے نوجوان موٹر سائیکل کا استعمال ہائی وے پر نہ کریں، یہ حادثہ جس کار سے پیش آیا اس کار کو چاندوڑ پولس اسٹیشن نے ضبط کرلیا ہے اور مزید قانونی کارروائی جاری ہے ۔


نیاپورہ کے چار سالہ محمد روشان کی موت کی ذمہ دار بجلی کمپنی، پولس بجلی کمپنی پر مقدمہ درج کرے 

مالیگاؤں : 10 جون:  بجلی کمپنی کی لاپرواہی سے شہر میں ہر روز کئی حادثات پیش آرہے ہیں، کہیں کرنٹ لگنے سے بکری تو کہیں بچے زخمی ہورہے ہیں تو کہیں انسان موت کی آغوش میں نظر ہورہے ہیں لیکن بجلی کمپنی اپنا نظام درست کرنے کی کوشش نہیں کررہی ہے ۔ابھی چند روز پہلے بجلی کا کرنٹ لگنے سے ایک بچہ، زخمی ہوا تو ایک بکری کی موت واقع ہوگئی اور ایک نوجوان جو تین بچوں کا باپ تھا وہ بھی کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہ گیا ۔اتنے حادثات ہونے کے بعد بھی کمپنی اپنا کاروبار درست نہیں کررہی ہے ۔ابھی کرنٹ لگنے اور نوجوان کی موت کا معاملہ سرد بھی نہ ہوا تھا کہ پھر ایک بچے کی جان چلی گئی، تفصیلات کے مطابق نیا پورہ گلی نمبر دو کے ساکن چار سالہ محمد روشان خلیق الزمان بھی بجلی کا کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوگیا ۔اس حادثے کے تعلق سے موصول اطلاع کے مطابق معاون کارپوریٹر سہیل ماسٹر نے بتایا کہ یہ بچہ گلی میں کھیل رہا تھا کہ بجلی کے کمبھے میں کرنٹ آگیا اور اس کرنٹ کے سبب اسکی موت واقع ہوگئی ۔انہوں نے کہا کہ ہم بچے کے اہل خانہ کو انصاف دلانے کیلئے راستہ روک کر احتجاج کررہے ہیں ۔اس حادثے کی اطلاع جیسے ہی اہل محلہ کو ملی انہوں نے نورانی مسجد کے پاس راستہ روکو اندولن شروع کردیا ۔وہیں بچے کے چچا نے کہا کہ ہم نے بقرعید سے قبل اس کمبھے کے تعلق سے بجلی کمپنی کو شکایت کی تھی لیکن کمپنی نے کوئی توجہ نہیں اور آج ایک ہنستا کھیلتا بچہ موت کی آغوش میں چلا گیا ۔انہوں نے بتایا کہ ہمارے گھر میں شادی ہے، سب مہمان آئے ہوئے ہیں اور اس معصوم بچے کی موت سے اہل خانہ شدید غم میں مبتلا ہے۔

وہیں نیا پورہ کے معاون کارپوریٹر سہیل ماسٹر نے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی کمپنی اس حادثے میں جاں بحق ہونے والے محمد روشان کے اہل خانہ کو پندرہ لاکھ روپے معاوضہ دیں ۔جب تک معاوضہ نہیں ملیگا لاش اٹھائی نہیں جائےگی ۔اس حادثے کی اطلاع ملتے ہی آزاد نگر پولس عملہ موقع واردات پر پہنچا اور حالات کا جائزہ لیکر بجلی کمپنی کے افسران کو طلب کیا ۔

وہیں دوسری طرف اس تعلق سے سماجی خدمتگاروں میں خالد شیخ رشید و شفیق اینٹی کرپشن اور احسان شیخ نے بتایا کہ جیسے ہی انہیں اس حادثے کی اطلاع ملی، انہوں نے بجلی کمپنی کے آفیسر پریم سنگھ، ساحل سر کو شکایت کی اور بجلی کمپنی پر لاپروائی کا الزام عائد کرتے ہوئے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جلد از جلد متوفی کے اہل خانہ کو معاوضہ دیا جائے ۔انہوں نے بتایا کہ کرنٹ لگنے کے بعد ابتدائی طبی امداد کیلئے اقرا ہاسپٹل لے جایا گیا جہاں بچے کی موت واقع ہوگئی ۔اس کے بعد لاش کو سول ہاسپٹل لے جایا گیا، یہاں سول اسپتال کے باہر اہل محلہ اور سماجی خدمتگاروں نے سخت احتجاج شروع کردیا ہے اور لاش لیجانے سے انکار کردیا ہے ۔

وہیں اس حادثے کی خبر ملتے ہی سینئر کارپوریٹر کلیم دلاور، مستقیم ڈگنیٹی بھی سول اسپتال پہنچے انہوں نے بھی پولس اور بجلی کمپنی کی لاپرواہی پر سوال اٹھا کر آفیسران کو سخت سست کہا اور معاوضہ کا مطالبہ کیا ۔اتنا ہی نہیں رات دیر گئے اہل خانہ و اہل محلہ اور کارپوریٹرس مستقیم ڈگنیٹی ،کلیم دلاور، سہیل ماسٹر وغیرہ نیا پورہ نورانی مسجد کے پاس بجلی کمپنی کیخلاف احتجاج کررہے ہیں ناراض عوام نے راستہ روکو اندولن شروع کردیا ہے ۔تفصیلات یہ بھی ہے کہ بجلی کمپنی کی ٹیم وارڈ میں جس کمبھے میں کرنٹ آیا ہے اسے درست کرنے پہنچی لیکن ناراض عوام نے انہیں کام کرنے سے روک دیا ۔عوام شدید ناراض ہے اور بجلی کمپنی کیخلاف احتجاج کررہی ہے ۔مستقیم ڈگنیٹی نے کہا کہ ہم مالیگاؤں شہر کی عوام کی جانب سے پولس ڈپارٹمنٹ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ محمد روشان کی موت کی ذمہ دار بجلی کمپنی ہے اس لیے بجلی کمپنی کی لاپرواہی پر مقدمہ درج کیا جائے اور خاطی آفیسران پر سخت کارروائی کی جائے ۔

ایک ہی خاندان کے چار افراد کی پراسرار موت، تحقیقات جاری

ممبئی کے جنوبی علاقے پائیدھونی میں ایک چونکا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک مسلم خاندان کے چار افراد کی ہلاکت نے حکام کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ جاں بحق ہونے والوں کی شناخت عبداللہ دوکاڈیا (40)، ان کی اہلیہ نسرین دوکاڈیا (35) اور ان کی دو بیٹیاں عائشہ (16) اور زینب (13) کے طور پر ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:........راگھو چڈھا 6 راجیہ سبھا اراکین کے ساتھ بی جے پی میں شامل

ابتدائی اطلاعات کے مطابق، 25 اپریل کی رات تقریباً 10:30 بجے خاندان نے رشتہ داروں کے ساتھ کھانا کھایا، جس میں کل نو افراد شریک تھے۔ بعد ازاں رشتہ دار اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔ اطلاعات کے مطابق رات تقریباً 1:00 سے 1:30 بجے کے درمیان خاندان کے چاروں افراد نے تربوز کھایا، جس کے کچھ ہی گھنٹوں بعد ان کی طبیعت بگڑنے لگی۔

مقامی خبروں کے مطابق اتوار کی صبح دونوں بیٹیاں بے ہوش پائی گئیں، جس کے بعد فوری طور پر انہیں قریبی ڈاکٹر کے پاس لے جایا گیا۔ صبح تقریباً 5:30 سے 6:00 بجے کے درمیان چاروں افراد میں قے اور دست جیسی علامات ظاہر ہوئیں۔ حالت بگڑنے پر انہیں سر جے جے اسپتال منتقل کیا گیا۔

علاج کے دوران کم عمر بیٹی زینب کی صبح تقریباً 10:15 بجے موت واقع ہوئی، جبکہ خاندان کے سربراہ عبداللہ دوکاڈیا رات تقریباً 10:30 بجے دم توڑ گئے۔ اس سے قبل اہلیہ اور بڑی بیٹی بھی انتقال کر چکی تھیں۔

پڑوسیوں نے صورتحال بگڑنے پر فوری طور پر پولیس اور ایمرجنسی خدمات کو اطلاع دی، تاہم ڈاکٹروں کی تمام تر کوششوں کے باوجود چاروں افراد کو بچایا نہ جا سکا۔

پولیس نے سر جے جے مارگ تھانے میں حادثاتی موت کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ لاشوں کا پوسٹ مارٹم کر لیا گیا ہے جبکہ موت کی اصل وجہ کا تعین ہسٹوپیتھالوجی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔

سٹانہ ناکہ روڈ پر دیر رات 3 بجے حادثہ, پولیس کی تفتیش جاری

مالیگاؤں: شہر کی معروف سیاسی شخصیت عبدالباقی راشن والے کے جواں سال فرزند عمران عبدالباقی ایک حادثہ میں جاں بحق ہوگئے. اطلاعات کے مطابق جمعرات دیر شب تقریباًً رات 3 بجے عمران عبدالباقی سٹانہ ناکہ کے راستے سے آرہے تھے اسی دوران ان کی دوران ان کی گاڑی حادثہ کا شکار ہوگئی. چہرے پر شدید چوٹیں آئی انہیں زخمی حالت میں مالیگاؤں جنرل اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دیا.

اطلاعات کے مطابق دیر رات ہونے والے اس حادثہ کی اطلاع ملتے ہی مستقیم ڈگنٹی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ جائے حادثہ پر پہنچے اور زخمی حالت میں عمران کو سول اسپتال پہنچایا اور پولیس کو طلب کیا. 

اب تک حادثے کی اصل وجہ کا پتہ نہیں چل سکا ہے. مستقیم ڈگنٹی رات 4 بجے تک موقع پر موجود رہے. پولیس کی تفتیش جاری ہے اس بات کا پتہ لگانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ حادثہ کس طرح پیش آیا..یہ واقعی ایک حادثہ تھا یا کچھ اور...

متعلقین نے حادثہ کے فوراً بعد شدید زخمی عمران عبدالباقی کو اسپتال پہنچایا لیکن ابتدائی جانچ میں ہی ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دیا. واضح رہے کہ مرحوم عمران  کے والد عبدالباقی راشن والے سماجوادی پارٹی کے ایک فعال رکن ہیں اور کارپوریٹر بھی رہ چکے ہیں. مرحوم عمران عوامی و سماجی خدمات میں اپنے والد کے شانہ بشانہ رہتے تھے.

 

مہلوکین میں ایک نوجوان اور تین بچے شامل، ڈمپر ڈرائیور پولیس حراست میں

ممبئی(گوونڈی): آج بروز سنیچر شام میں گوونڈی علاقے میں دلخراش سڑک حادثہ پہش آیا جس میں ایک ہی فیملی کے چار افراد جاں بحق ہوگئے جن میں تین بچے شامل ہیں.

یہ بھی پڑھیں:..... شہر میں بڑھتے حادثات.... مولانا عمرین کی اہم اپیل

مذکورہ حادثہ شام تقریباً پونے چار 3:45 بجے گھاٹکوپر-مانخورد لنک روڈ لوٹس جنکشن کے پاس پیش آیا. تفصیلات کے مطابق برگ مین پر سوار چار لوگوں کو ایک تیز رفتار ڈمپر نے ٹکر ماردی. حادثہ کے بعد غصے سے بپھری عوام نے احتجاج کرتے ہوئے روڈ بلاک کردیا جس کے سبب ٹریفک نظام درہم برہم ہوگیا. حالات کو قابو کرنے کے لیے پولیس کو مجبوراً لاٹھی چارج کرکے عوام کو منتشر کرنا پڑا.

پولیس کے مطابق اس حادثہ میں جاں بحق ہونے والوں کی شناخت نور محمد غلام نبی خان(29)، محمد حسین غلام احمد خان(13)، عبدل غلام احمد خان(12)، اور محمد ایان غلام مصطفیٰ خان(7) کے طور پر ہوئی ہے. تمام مہلوکین اندھیری گھاٹکوپر لنک روڈ، ملّت نگر،ساکی ناکہ کے ساکن تھے جو بکرا خریدنے دیونار آئے تھے تبھی ان کی ٹووہیلر کو ایک ڈمپر نے زبردست ٹکر ماری اور ان کی موت ہوگئی.

حادثہ کے فوراً بعد عوام نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے ڈمپر کو نقصان پہنچایا اور روڈ بلاک کردیا. پولیس مستعدی دکھاتے ہوئے ڈمپر ڈرائیور کو نکالا اور مقامی دیونار پولیس اسٹیشن لے گئی. ساتھ ہی ساتھ مظاہرین بھی دیونار پولیس اسٹیشن کے باہر جمع ہوگئے. پولیس نور اور ایان کو شتابدی اسپتال جبکہ حسین اور عبدل کو راجاواڑی اسپتال لے گئی جہاں انہیں داخل کرنے سے قبل ہی مردہ قرار دیا گیا. پولیس تصدیق کی ہے کہ ڈمپر ڈرائیور پولیس کی حراست میں ہے، اس معاملے میں مقدمہ درج کرنے کی کارروائی جاری ہے.

 

سرپرست اپنے بچوں کی نگرانی کریں اور نوجوان احتیاط کریں، جان بہت قیمتی ہے: مولانا عمرین

مالیگاؤں: شہر مالیگاؤں میں گزشتہ چند روز میں کئ حاثات پیش آئے جن میں متعدد نوجوان جاں بحق ہوئے، اس سلالے میں سلسلے میں حضرت مولانا عمرین محفوظ رحمانی کا بیان سامنے آیا ہے. مولانا عمرین نے کہا کہ شہر مالیگاؤں میں حادثات کی کثرت (خصوصاً تہواروں کے موقع پر) تشویشناک ہے. مولانا نے کہا کہ ظاہر ہے کہ تقدیر کا لکھا کوئی ٹال نہیں سکتا لیکن احتیاط اور حفاظتی تدابیر کرنا ضروری ہے. ہمارے نوجوان جس طرح سے سیر و تفریح کیلئے جاتے ہیں اور جس طرح سے موٹرسائیکل چلاتے ہیں جس سے نقصان کا خدشہ ہوتا ہے اس سے احتیاط کرنا نہایت ضروری ہے. جان بہت قیمتی ہے، جس خاندان کا کوئی فرد یا نوجوان اس طرح کے حادثات کا شکار ہوکر جان گنوا دیتا ہے اس کے خاندان کیلئے ایک بڑے دکھ اور صدمے کا باعث ہوتا ہے. ایک مدت تک گھر کے لوگ سنبھل نہیں پاتے.

مولانا عمرین نے مزید کہا کہ گزشتہ دو تین روز میں ہمارے کچھ نوجوان سڑک حادثہ کا شکار ہوئے اور شہید ہوئے اور ان میں سب نوعمر تھے. ان سے انکے گھر والوں کو بہت امہدیں وابستہ رہی ہونگی. کہیں ایسا ہوتا ہے کہ گھر میں کمانے والا ایک ہی ہوتا ہے اور وہ حادثے میں اس طرح رخصت ہوگیا. یہ پورے گھر اور خاندان کیلئے حد درجہ دکھ، رنج اور صدمے کی مشکل اور پریشانی کی بات ہوتی ہے. اس صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے ہمارے عزیزوں اور نوجوانوں کو احتیاط برتنی چاہیے.

مولانا عمرین نے شہر کی عوام کو پیغام دیا کہ زیادہ وقت گھر پر گزاریں، شہر میں رہیں، بلا کسی ضرورت باہر نا جائیں اور باہر جائیں تو زیادہ رات تک باہر نہ رہیں  احتیاط کے ساتھ گاڑی چلائیں. تیز رفتاری سے اور ہنگامہ کرتے ہوئے گاڑی چلانے سے حادثات کی شرح اور اسکے امکانات بڑھ جاتے ہیں.

مولانا عمرین نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ اس معاملے میں احتیاط کریں. انہوں نے کہا کہ سرپرستوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولاد اور اپنے گھر کے بچوں کی نگرانی کریں اور انہیں تلقین کریں، ان کو پابند کریں ان پر نظر رکھیں. اگر گھر کے بڑے اس معاملے پر سنجیدگی سے توجہ دیں گے تو اس کے خاطرخواہ نتائج برآمد ہوں گے.

مولانا نے حادثات میں شہید ہونے والے بچوں کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے انہیں صبر کی تلقین بھی کی.

خراب موسم کے سبب رخ تبدیل کیا گیا، ایمرجنسی لینڈنگ کے وقت طیارہ تباہ

آذربائیجان کے شہر باکو سے روس کے گروزنی جانے والا ایک مسافر بردار طیارہ ایمبریر 190 ایمرجنسی لینڈنگ کے دوران حادثہ کا شکار ہوگیا. طیارہ میں کل 67 افراد سوار تھے جن میں سے 38 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ 

29 افراد زندہ بچ گئے. 

یہ بھی پڑھیں:... "جہاں نہیں چینا، وہاں نہیں رہنا" کابینہ میں جگہ نہ ملنے پر بھجبل ناراض

روسی خبر رساں ایجنسی انٹرفیکس کی رپورٹ کے مطابق قزاقستان کے نائب وزیر اعظم نے ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے. قزاقستان کے شہر اکتاؤ کے 3 کلو میٹر کی دوری پر جب طیارہ نے اپنا رخ تبدیل کیا اور ایمرجنسی لینڈنگ کی کوشش کے دوران طیارہ حادثہ کا شکار ہوگیا.

آذربائیجان کے صدر نے کہا کہ مجھے جو اطلاع دی گئی اس کے مطابق بکاؤ اور گروزنی کے درمیان موسم خراب ہونے کے سبب طیارہ نے اپنا رخ اکتاؤ کی جانب کیا جہاں لینڈنگ کے دوران طیارہ کریش ہوگیا. روسی ایوی ایشن واچ ڈاگ کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ حادثہ کی اصل وجہ کا اب تک پتہ نہیں چل سکا ہے تاہم ابتدائی معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ پرندوں کے ٹکرانے کے سبب طیارہ کا رخ اکتاؤ کی سمت موڑ دیا گیا تھا.

پولیس کو آرٹی او کی رپورٹ کا انتظار، اب تک عینی شاہدین سمیت 25 افراد کے بیانات قلمبند

کرلا ریلوے اسٹیشن(ویسٹ) کے باہر پیر کے روز ہونے والے بس حادثہ میں بس کے ڈرائیور سنجے مورے(54) اس دن پہلی مرتبہ الیکٹرک بس چلا رہے تھے. واضح رہے کہ اس حادثہ میں 7 افراد کی موت ہوئی جبکہ 42 افراد زخمی ہوئے.

حادثہ کی صبح ہی بیسٹ کو بس لیز پر دینے والی کمپنی ایوے ٹرانس نے کرلا اسٹیشن(ویسٹ) سے اگارکر چوک(اندھیری اسٹیشن) روٹ پر پر بس نمبر 332 آپریٹ کرنے سے قبل بس کا تین چکر لگانے کی ہدایت دی تھی. حیرت کی بات یہ ہے الیکٹرک بس چلانے کیلئے ایک بالکل ناتجربہ کار ڈرائیور کا انتخاب کرکے لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کیلئے پولیس نے کمپنی کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کی ہے. پولیس نے کہا کہ وہ روڈ ٹرانسپورٹ آرگنائزیشن (آر ٹی او) کی رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں، جسے یہ پتہ لگانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ آیا گاڑی میں کوئی خرابی تھی، جس کے بعد وہ کارروائی کریں گے۔ یہ بھی بیسٹ انتظامیہ کا کام تھا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ لیز والی بسوں کے ڈرائیوروں کو مناسب تربیت دی جائے۔

 پولیس کے مطابق مورے کو ڈیزل بسیں چلانے کا 30 سال کا تجربہ تھا۔ تاہم، یہ پہلا موقع تھا جب وہ الیکٹرک بس چلا رہا تھا۔ مورے نے پولیس کو بتایا کہ حادثے کے دوران بس بے قابو ہونے کی وجہ سے اس نے کنٹرول کھو دیا۔ حادثے کے وقت بس 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہاکرز اور آٹو رکشہ سے بھری ایک انتہائی گنجان سڑک پر چل رہی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گاڑی چلا رہا تھا جو اس کی جلد بازی کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک پیشہ ور ڈرائیور ایل روی نے کہا کہ 'کرلا اسٹیشن کے باہر سڑک کی گنجان نوعیت کو دیکھتے ہوئے، رفتار ۳۰ کلومیٹر فی گھنٹہ سے کم ہونی چاہیے تھی۔

پولیس یہ بھی پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے کہ کیا بس ڈرائیور مورے کسی جذباتی و ذہنی دباؤ میں تھا۔ پولیس نے اس زاویے کا پتہ لگانے کے لئے اس کے اہل خانہ کو طلب کیا ہے۔ اب تک پولیس نے عینی شاہدین سمیت 25 افراد کے بیانات قلمبند کیے ہیں۔

دریں اثناء بیسٹ ایمپلائز یونین کے جنرل سکریٹری ششانک راؤ نے ویٹ لیزنگ سسٹم کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انڈرٹیکنگ کو اپنی بسیں خریدنی چاہیئے اور انہیں تربیت یافتہ عملے کے ساتھ چلانا چاہئے۔ راؤ نے بیسٹ کے جنرل منیجر انیل ڈگگیکر سے ملاقات کی اور یونین کے مطالبات پر مشتمل ایک میمورنڈم سونپا۔

پانچ لوگوں کی موت، خواتین اور بچوں سمیت تقریباً 15 افراد کے ملبے میں دبے ہونے کا خدشہ، راحت رسانی کا کام جاری

بلندشہر: بلند شہر میں پیر کے روز گیس سلنڈر پھٹنے سے ایک مکان مکمل طور پر منہدم ہوگیا۔ ملبے تلے خواتین اور بچوں سمیت تقریباً 15 افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔ واقعے کے بعد کی ایک ویڈیو انٹرنیٹ پر سامنے آئی ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ واقعے کے بعد ملبے میں پھنسے لوگوں کو بچانے کے لیے لوگ جائے وقوع پر جمع ہوگئے ہیں۔

مذکورہ واقعہ پیر کی شام بلندشہر کے سکندرآباد کے آشاپوری علاقے میں پیش آیا۔ شام کے وقت گھر میں زوردار دھماکہ ہوا. اطلاعات کے مطابق جب یہ واقعہ پیش آیا اس وقت عمارت کے اندر تقریباً 15 افراد موجود تھے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور متعلقہ حکام موقع پر پہنچ گئے اور راحت رسانی کا کام بڑے پیمانے پر شروع کردیا گیا.

اس واقعے میں پانچ لوگوں کی موت کی خبر ہے۔ راحت رسانی ٹیم نے ملبے سے کچھ افراد کو بچایا اور زخمی ہونے پر انہیں علاج کے لئے اسپتال لے جایا گیا۔ مکان کے مالک کی شناخت ریاض الدین کے طور پر ہوئی ہے۔ دھماکہ رات آٹھ بجے کے قریب ہوا جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

تادم تحریر راحت رسانی کا کام جاری ہے، حکام موقع پر موجود ہیں۔ راحت رسانی کے لئے متعلقہ محکمہ کے افسران جے سی بی اور ایمبولینسوں کے ساتھ موقع پر موجود ہیں۔

फिरोज दिलावर, शफीक एंटी करप्शन और अब्दुल बाकी राशनवाला ने कानूनी कार्यवाही में सहायता की

मालेगांव : शहर के पूर्वी हिस्से में स्थित संगमेश्वर में एक निर्माणाधीन मकान की दीवार गिरने से मर्चेंट नगर के 32 वर्षीय शेख अजीम शेख रब्बानी की मौत हो गयी.  सामाजिक कार्यकर्ता शफीक एंटी करप्शन ने इस घटना का विवरण देते हुए बताया कि शेख अजीम मर्चेंट नगर का रहने वाला है, वह आज सुबह घर से निकला था और संगमेश्वर के एक निर्माणाधीन इमारत मे बेगारी का काम कर रहा था.  काम के दौरान दीवार शेख अजीम के ऊपर गिर गई और वह बुरी तरह जख्मी हो गया।  उसे तुरंत अस्पताल ले जाया गया जहां डॉक्टरों ने उसे मृत घोषित कर दिया।  इस दुर्घटना की सूचना मिलते ही मर्चेंट नगर नगरसेवक अब्दुल बाकी राशनवाला, फिरोज दिलावर और  शफीक एंटी करप्शन ने मौके पर पहुंचकर कानूनी कार्यवाही में सहयोग किया.  खबरों के मुताबिक मृतक के परिवार में दो बच्चे और  पत्नी शामिल है.  वह घर का इकलौता कमाने वाला था।  इस मामले में छावनी पुलिस ने आकस्मिक मौत दर्ज कर जांच शुरू कर दी है.

21 افراد جاں بحق، کئی زخمی، فلسطینی صدر محمود عباس نے قومی سانحہ قرار دیتے ہوئے ایک دن کے سوگ کا اعلان کیا

غزہ پٹی میں جمعرات کو دیر رات ایک رفیوجی کیمپ میں آگ بھڑک اٹھی۔  ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اس حادثے میں 21 افراد ہلاک ہوئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں 7 بچے بھی شامل ہیں۔ جبکہ کئی افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ ان میں تمام فلسطینی پناہ گزین بتائے جا رہے ہیں. کہا جا رہا ہے کہ گیسولین کے رساؤ کے باعث لگی۔ ایک پولس افسر نے کہا کہ آگ لگنے کی وجہ کا پتہ نہیں چل سکا ہے۔ تاہم ابتدائی تحقیقات کے مطابق عمارت میں رکھے ہوئے گیسولین کے رساؤکی وجہ سے آگ لگنے کا شبہ ہے۔ جس کی وجہ سے آگ تیزی سے پھیل گئی۔ ہم اس بات کا پتہ لگا رہے ہیں کہ عمارت میں گیسولین کیوں رکھا گیاتھا۔

ہیلتھ اینڈ سول ایمرجنسی افسر نے بتایا کہ آگ کافی خوفناک تھی، جاں بحق ہونے والوں میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں. کئی افراد زخمی ہیں جنہیں اسپتال میں داخل کیا گیا ہے. اطلاعات کے مطابق کئی لوگ شدید زخمی ہیں اسلئے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ کا خدشہ ہے. اسرائیلی حکومت نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جائے گی.

ایک فائر فائٹر نے بتایا کہ آگ بہت خوفناک تھی اطلاع ملتے ہی ہم فوراً جائے حادثہ پر پہنچ گئے۔  وہاں افراتفری مچ گئی۔ آگ پر قابو پانے میں تقریباً ایک گھنٹہ لگا۔  اس دوران لوگوں کو بچانے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری رہا۔ عمارت میں مقیم زیادہ تر لوگوں کو باہر نکال لیا گیا۔ ایک افسر نے بتایا کہ مرنے والوں میں ایک ہی خاندان کے کئی لوگ شامل ہیں۔ یہ سب اپنے ایک رشتہ دار کی بیرون ملک سے واپسی کا جشن منا رہے تھے۔ فلسطین کے صدر محمود عباس نے اس واقعے کو قومی سانحہ قرار دیتے ہوئے ایک دن کے سوگ کا اعلان کیا ہے۔

ملبے میں 14 سے 15 لوگوں کے دبے ہونے کا خدشہ، راحت رسانی کا کام جاری

ممبئی کے مغربی بوریولی میں جمعہ کو ایک بڑا حادثہ پیش آیا۔ سائی بابا نگر میں چار منزلہ عمارت منہدم ہوگئی۔ حادثہ کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کی ٹیم اور پولیس موقع پر پہنچ گئی۔ ملبے میں 14 سے 15 لوگوں کے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ معلومات کے مطابق، یہ حادثہ تقریباً 12:30 بجے اس وقت پیش آیا جب بہت لوگ اس عمارت کے آس پاس سے گزر رہے تھے اسی اثناء میں عمارت اچانک منہدم ہوگئی۔ عمارت کا نام گیتانجلی ہے۔ فائر بریگیڈ کی 8 گاڑیاں، دو ریسکیو وین اور تین ایمبولینس موقع پر موجود ہیں۔ ٹیم راحت اور بچاؤ کے کاموں میں مصروف ہے۔ حکام نے بتایا کہ یہ عمارت 40 سال پرانی ہے۔ بی ایم سی نے اسے خستہ حال قرار دیا تھا۔  اس کے بعد عمارت کو خالی بھی کروالیا گیا تھا.