Articles by "UP Election 2022"
Showing posts with label UP Election 2022. Show all posts

کرونا اور اومیکرون کے بڑھتے ہوئے معاملات کے پیش نظر اترپردیش انتخابات ملتوی کرنے پر غور کیا جائے: الہ آباد ہائی کورٹ

کرونا اور اومیکرون کے بڑھتے ہوئے معاملات کو مدنظر رکھتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ نے وزیراعظم نریندر مودی سے اپیل کی ہے کہ اترپردیش میں ریلیوں پر پابندی عائد کرنی چاہیے۔ اس کے علاوہ ہائی کورٹ نے کہا کہ حکومت کو اترپردیش اسمبلی انتخابات کو بھی کچھ وقت کیلئے ملتوی کرنے پر غور کرنا چاہیے۔ 

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔صحافت کا انسائیکلوپیڈیا صحیفئہ صحافت اردو کتاب میلہ میں دستیابeficial-Book-For-All.html

کرونا کی تیسری لہر کے پیش نظر الہ آباد ہائی کورٹ نے مذکورہ رائے دی ہے۔ دراصل جسٹس شیکھر کمار یادو کی یک رکنی بینچ میں درخواست ضمانت پر شنوائی کے دوران عدالت میں بھیڑ کو دیکھتے ہوئے جج نے وزیراعظم سے مذکورہ اپیل کی۔ 

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔شیخ محمد بن راشد اور ملکہ حیا کی طلاق، پچپن سو کروڑ بطور تصفیہ ادا کرنے کا حکم-554-Million-Pound-as-Settlement.html

ہائی کورٹ نے کہا کہ وزیراعظم مودی اور الیکشن کمیشن اترپردیش میں انتخابی ریلیوں اور اجلاس پر روک لگانے کیلئے سخت اقدامات کریں۔ کورٹ نے کہا کہ سیاسی جماعتوں سے کہا جائے کہ وہ ٹی وی اور اخبارات کے ذریعے انتخابی تشہیر کریں۔ جبکہ وزیراعظم انتخابات ملتوی کرنے پر بھی غور کریں کیونکہ جان ہے تو جہان ہے۔ وہیں بینچ نے ویکسینیشن مہم کیلئے وزیراعظم نریندر مودی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے وزیراعظم جنہوں نے کثیر آبادی والے ملک میں مفت ویکسینیشن مہم چلائی ہے جو قابل ستائش ہے۔ عدالت اس کی ستائش کرتی ہے اور یہ اپیل کرتی ہے کہ حالات کے پیش نظر سخت اقدامات کرتے ہوئے ریلیوں، اجلاس اور انتخابات کو روکنے اور ملتوی کرنے پر غور کیا جائے۔


اترپردیش میں چھتیس گڑھ پیٹرن کے تحت لائحۂ عمل تیار، 403 نشتوں پر امیدوار کھڑے کرنے کا منصوبہ

رائے پور: اترپردیش کانگریس پارٹی انچارج اور اے آئی سی سی کے نیشنل سکریٹری راجیش تیواری نے میڈیا نمائندوں سے بات چیت کے دوران کہا کہ آئندہ اترپردیش اسمبلی انتخابات میں پرینکا گاندھی کو وزیر اعلی کا دعویدار بنایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ کانگریس گذشتہ 15 سال سے اترپردیش میں اقتدار پر نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:۔۔۔محرم کے پیش نظر سوشل میڈیا پر پولیس کی نظر، افواہ پھیلانے والے واٹس ایپ گروپس پر سخت کارروائی ہوگی: ایڈیشنل ایس پی چندر کانت کھانڈوی

اس مرتبہ ہم لائحہ عمل تیار کیا ہے اور اس کے مطابق کارکنان کو بوتھ لیول پر تربیت دے کر انہیں ذمہ داری دی جائے گی۔جس طرح سے ہم نے چھتیس گڑھ میں اس حکمت عملی پر کام کیا تھا جو کارگر ثابت ہوئی تھی اور چھتیس گڑھ میں کانگریس نے اقتدار حاصل کیا۔اب اسی پیٹرن کے تحت اترپردیش میں کام کیا جائے گا۔یوپی میں زمینی سطح پر ہم زیادہ فعال نہیں ہیں اسلئے یہاں دوبارہ طاقت اور اقتدار حاصل کرنا ضروری ہے۔اس کے علاوہ عوام، پارٹی کارکنان اور لیڈران چاہتے ہیں کہ آئندہ اترپردیش اسمبلی انتخابات پرینکا گاندھی کی قیادت میں لڑا جائے اور حکومت بنائی جائے۔

 

رام مندر زمین گھوٹالہ معاملہ میں آدتیہ ناتھ نے حزب اختلاف پر عوام کو ورغلانے کا الزام عائد کیا، 2022 یوپی اسمبلی انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کرنے کا دعوی

اترپردیش کے وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں اس بات کا اقرار کیا کہ یوپی میں بلیک منی کا استعمال سرِعام ہورہا ہے۔رام مندر زمین تنازعہ سے متعلق انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگ زمین کی خرید وفروخت میں کالا دھن(بلیک منی) استعمال کرتے ہیں اسے زمین گھوٹالہ نہیں کہا جاسکتا۔آج تک کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران جب یوگی آدتیہ ناتھ سے عام مندر زمین تنازعہ سے متعلق ایک سوال پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ کلکٹریٹ قیمت اور بازار کی قیمت میں کافی فرق ہوتا ہے، اکثر لوگ خریدی تو ڈی سی ریٹ پر کروا لیتے ہیں لیکن اس کے علاوہ جو رقم بچتی ہے اسے بیک ڈور ادا کرتے ہیں۔یعنی ڈی سی ریٹ پر جو رقم دی جاتی ہے اس کے علاوہ زمین خرید و فروخت میں کالا دھن استعمال ہوتا ہے۔یوگی کا کہنا ہے کہ رام مندر معاملہ میں کسی طرح کی بدعنوانی نہیں ہوئی ہے حزب اختلاف لوگوں کو ورغلا رہا ہے۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مندر ٹرسٹ نے صحیح طریقے سے کام کیا ہے۔یوگی نے کہا کہ یوپی حکومت سنجیدگی سے ترقیاتی کام کررہی ہے۔انہوں نے دعوی کیا کہ 2022 میں دوبارہ ان کی حکومت بنے گی۔

 

اترپردیش انتخابات سے قبل سیاسی اتھل پتھل کے درمیان یوگی حکومت کا پاپولیشن کنٹرول قانون بنانے کا منصوبہ، ٹوئیٹر صارفین نے بی جے پی کو آڑے ہاتھ لیا

اترپردیش میں آئندہ سال اسمبلی انتخابات منعقد ہوں گے، جس کے پیش نظر تمام سیاسی جماعتوں کی سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔اتر پردیش کی یوگی حکومت نے اس دوران ایک ایسے قانون پر کام کرنا شروع کردیا ہے جس کے تحت دو سے زیادہ اولادہونےپر سرکاری سہولیات سے محروم کیا جاسکتا ہے۔اس مدعے پر اترپردیش میں کافی سیاسی گہما گہمی چل رہی ہے۔سبکدوش آئی اے ایس افسر سوریا پرتاب سنگھ نے اس پورے معاملے پر اپنی رائے ظاہر کرتے ہوئےیوگی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔انہوں نے کہا کہ سوال چاہے کچھ بھی ہو بی جے پی کا ایک ہی جواب ہوتا ہے کہ ہندو خطرے میں ہے۔سوریا پرتاپ سنگھ نے اپنے ٹوئیٹر ہینڈل سے ایک ٹوئیٹ کیا ہے جس میں انہوں نے زی نیوز کا ایک ٹوئیٹ بھی ری ٹوئیٹ کیا ہے۔زی نیوز کا ٹوئیٹ اس کے شو تال ٹھوک کر پر مبنی ہے جس میں لکھا ہے قدرت بہانا ہے مسلم آبادی بڑھانا ہے۔پاپولیشن پالیٹکس پر ٹوئیٹ کیجئے۔اسی ٹوئیٹ کو ری ٹوئیٹ کرتے ہوئے سوریا پرتاپ سنگھ نے لکھا کہ مغربی بنگال کے بعد اب اترپردیش میں بھی ہندو خطرے میں آگیا ہے۔سلیبس کوئی بھی ہو، سوال کیسا بھی ہو، بی جے پی ہر جگہ ایک ہی جواب لکھ کر آجاتی ہے۔اترپردیش انتخابات تک اب نفرت پھیلانے کا کاروبار عروج پر ہوگا۔دل تھام کر بیٹھئے اب بہت کچھ جھیلنا ہے۔

سوریا پرتاپ سنگھ کے اس ٹوئیٹ پر متعدد ٹوئیٹر صارفین نے بھی اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے۔ پنکج گور نامی ایک صارف نے لکھا کہ بالکل بی جے پی سے ہندو خطرے میں ہی ہیں، کبھی لڑکی رات میں جلا دی جاتی ہے، کبھی سڑک سے اٹھا لی جاتی ہے۔سرعام بے گناہوں کو مار دیا جاتا ہے، ایف آئی آر کرکے پھنسا دیا جاتا ہے۔رام کے نام پر چندہ مانگ کر اپنے محل بنائے جاتے ہیں۔بی جے پی سے صرف ہندو ہی نہیں بلکہ پورا ملک خطرے میں ہے۔روشن کمار نامی ایک صارف نے لکھا کہ مغربی بنگال انتخابات سے قبل ٹی ایم سی لیڈران کو توڑنے کا کھیل کھیلا گیا، بی جے پی اب وہی کھیل اترپردیش میں کھیل رہی ہے۔پون انگلے نامی ایک صارف لکھتے ہیں کہ اب تو آئی، را، ای ڈی، سی بی آئی اور ای سی آئی کا کوئی مقام ہی نہیں رہا یہ سارے سرکاری تفتیشی ادارے حکومت کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بن گئے ہیں۔بی جے پی کے دور اقتدار میں ان کی خودمختاری صفر ہوگئی ہے،ان سے شفافیت کی امید بے معنی ہوگئی ہے۔یہ تمام ادارے حکومت کے اشارے پر ناچتے ہیں۔ایس ایم ایس نام کے ایک ٹوئیٹر ہینڈل سے سابق ائی اے ایس کو جواب دیا گیا کہ پورا ملک ہی خطرے میں ہے، انتخاب کیلئے ہندو مسلم کو لڑانا ہے بس۔ نہ پہلے ہندو مسلم خطرے میں تھے نا اب خطرے میں ہیں۔کسی نہ کسی جملے بازی یا چال بازی سے انتخاب جیتنا ہے۔واضح رہے کہ یو پی اسٹیٹ لاء کمیشن پاپولیشن کنٹرول قانون کا مسودہ تیار کررہا ہے۔کمیشن کے چیئرمین آدتیہ ناتھ متل نے کہا کہ ریاست میں آبادی میں اضافے کے سبب بہت ساری مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔کمیشن کے ذریعہ تیار کردہ مسودہ آئندہ دو ماہ میں حکومت کے سپرد کیا جائے گا۔بہت سی سیاسی جماعتیں اس قانون کی مخالفت کررہی ہیں۔سماجوادی پارڑی کے رکن پارلیمان شفیق الرحمن برک نے اس قانون کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچے قدرت کا تحفہ ہیں، ہمیں قدرت کے طریقوں میں رکاوٹ ڈالنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

 

اترپردیش میں آئندہ سال ہونے والے اسمبلی انتخابات میں مجلس اتحاد المسلمین 100 نشستوں پر اپنے امیدوار اتارے گی

پارٹی لیڈر اکبرالدین اویسی نے ٹوئیٹ کے ذریعے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اتر پردیش، ہم آرہے ہیں۔اطلاعات کے مطابق مجلس اتحاد المسلمین کی جانب سے اتر پردیش کے مغربی، وسطی اور مشرقی علاقوں میں مسلم اکثریتی حلقوں میں امیدوار اتارے جانے کے امکانات ہیں۔پارٹی کے ریاستی صدر شوکت علی نے ایک بیان میں کہا کہ ہمارا ایک ہی ایجنڈا ہے، مسلمانوں کی ترقی۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم دوسروں کے خلاف ہیں۔ہم نے امیدواروں کی اسکریننگ شروع کردی ہے، ہمیں اچھے امیدوار چاہیے ضروری نہیں کہ امیدوار صرف مسلم ہوں۔ واضح رہے کہ 2017 یوپی اسمبلی انتخابات میں مجلس اتحاد المسلمین کو محض0.2 فیصد ووٹ ملے تھے، لیکن حال ہی میں ہونے والے یو پی پنچایتی انتخابات میں مجلس اتحاد المسلمین نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور پارٹی کے حمایت کردہ 24 امیدواروں نے کامیابی حاصل کی۔حالانکہ گذشتہ سال میں بہار اسمبلی انتخابات میں مجلس اتحاد المسلمین نے شاندار آغاز کیا، جس کے سبب پارٹی کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ایم ائی ایم نے مسلم اکثریتی علاقوں سمانچل اور دیگر علاقوں میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کی۔